اداریہ

اداریہ۔  اپریل 2018


ملک میں قومی انتخابات جیسے ہی قریب آتے جارہے ہیں حالات میں نمایاں تبدیلی اور مستقبل کی صف بندی اور پیش بندی کے آثار بھی نمایاں ہوتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں۔مئی کے مہینے میں موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرکے تحلیل ہو جائے گی اور کیئر ٹیکر ز اقتدار سنبھالیں گے۔ یہ سب سے مشکل مرحلہ ہوگا کیونکہ آئین کے مطابق عبوری حکومت کا فیصلہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کی مرضی سے ہوگا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے موجود ہے۔ مگر پاکستان تحریک انصاف بھی اپنی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ بنیادی طور پر اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری ہے کہ وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں سے بھی رابطہ کرکے ایک متفقہ اور غیر متنازعہ عبوری حکومت قائم کریں ورنہ مستقبل میں اپنی سیاسی ناکامی کا بدلہ عوام کو ایک بار پھر احتجاج اور دھرنوں کی صورت میں لئے جانے کا قوی امکان ہے۔

پانامہ فیصلے کے بعد سابق وزیر اعظم کی طرف سے بھر پور احتجاج اور تنقید کا سلسلہ اب مفاہمت کی طرف نظر آتا ہے۔ شاید میاں نواز شریف کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ ان کے خلاف ذیادہ سختی ان کے سخت رویے کی وجہ سے ہے۔ حسین حقانی کے معاملہ میں اپنی غلطی تسلیم کرنا، مقتدر قوتوں سے بات کرنا اور اپنی تنقید کے نشتروں کو زیر نگوں کرنا اس امر کا اظہار ہے کہ میاں صاحب اپنے نابالغ شیروں کے نرغے سے باہر آکر سوچنے لگے ہیں۔ اس مفاہمتی سوچ کا نتیجہ سامنے آیا ہے اور عدالت عظمیٰ نے ان کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواستیں رد کرکے بڑے پن کا ثبوت دیا ہے۔ میاں صاحب اگر اپنی دختر نیک اختر اور خواجگان کے نرغے سے باہر نکل کر زمینی حقائق کو تسلیم کریں، چوہدری نثار علی خان اور دیگر سینئر ارکان پارٹی جو پارٹی کے مفاد کیلئے بہت بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں ان سے ذاتی کدورتوں کو دور کرکے مشاورت کریں تو ابھی بھی کافی موقع ہے، معاملات درست ہو سکتے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان کی ملاقات سے ایک عندیہ یہ بھی ملا ہے کہ مسئلہ ذاتیات کا نہیں ہے اور فریقین محض شکوک و شبہات کا شکار ہیں، جو دور اندیشی کے مظاہرے سے دور کی جا سکتی ہیں۔ میاں نواز شریف کے خلاف جو فیصلہ آیا تھا وہ کرپشن پر نہیں تھا بلکہ صرف غلط بیانی پر تھا کہ اقامہ بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔ کرپشن کا مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے اور واجد ضیاء کے بیان کے بعد میاں نواز شریف کی ذات کو ریلیف ملنے کا امکان موجود ہے۔ مگر اسکے لئے میاں نواز شریف کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی۔ایک بہتر لیڈر وہ ہوتا ہے جو حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرے اور یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب لیڈر مخصوص گروہ یا گروپ کے ہاتھوں میں یرغمال نہ ہو۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تمام سیاستدان کسی نہ کسی کے ہاتھوں میں یر غمال ہیں، اسکی وجہ یا تو انکی کمزوری ہے یا اعتماد میں کمی۔

ہم امید رکھتے ہیں کہ تمام سیاسی لیڈر عبوری حکومت کے معاملات خوش اسلوبی سے طے کرکے سیاسی عمل کو آگے بڑھائیں گے اور انتخابی عمل کے التواء کے لئے یا کسی ایسی تجویز کو قبول نہیں کریں گے جو انتخابات کے عمل کو متاثر کرے، یہ ملک اور قوم کیلئے بہت نقصان دہ ہوگا۔ عوام امید رکھتی ہے کہ ہمارے سیاستدان تمام سازشوں کو ناکام بنا کر انتخابات کو یقینی بنائیں گے۔ اللہ پاکستان کو ہمیشہ قائم و سلامت رکھے۔ آمین۔

کیٹاگری میں : Idarya

اپنا تبصرہ بھیجیں