اداریہ

اداریہ۔  اپریل 2018


قارئین کرام! ماہ مئی موجودہ حکومت کے اختتام کا مہینہ ہے۔ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرکے ختم ہو جائے گی جس کے بعد کیئر ٹیکر ز آجائیں گے جو انتخابات کے عمل کو مکمل کرکے عوام کے نو منتخب نمائندگان کو عنان حکومت حوالے کرکے سیاسی عمل کو مکمل کریں گے۔ موجودہ حکومت تاریخ کی تیسری خوش قسمت حکومت ہے جو اپنی آئینی مدت پوری کررہی ہے جبکہ تاریخ کی تیسری بدقسمت حکومت بھی ہے جو تسلسل کے ساتھ تین سالوں میں چھٹے وزیر اعظم کے ساتھ اختتام پذیر ہورہی ہے۔

2002 ء کے بعد مارشل لاء کی چھتری تلے بننے والی ق لیگ کی حکومت کے تا بعدار ترین وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی صاحب سے لیکر میاں نواز شریف تک کوئی بھی وزیر اعظم اپنی آئینی مدت کے اختتام تک وزیر اعظم نہیں رہ سکا۔ جمالی صاحب خود اپنے مربی پرویز مشرف کے ہاتھوں کوچہ اقتدار سے رخصت ہوئے جبکہ ماضی میں فوجی ڈنڈوں سے رخصت کئے جانے کی روایت کے برعکس گیلانی اور نوازشریف کی رخصتی کیلئے عدلیہ استعمال ہوئی،یوسف رضا گیلانی کیلئے سوئس حکومت کو خط کا بہانہ تراشا گیا اور نواز شریف کیلئے اقامہ بر آمد کیا گیا۔

مسئلہ نہ اقامے کا ہے، نہ سوئس حکام کو خط کا ہے اور نہ ہی جمالی صاحب کی رخصتی کے پیچھے کار فرما عوامل کا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جمہور قابو میں ہے، جمہور کی سوچ کو محدود اور پابند رکھا ہوا ہے۔ جمہور تعلیم کی کمی اور وسائل کی عدم دستیابی کی بدولت فرسٹیٹڈ ہے اسلئے جمہور کے آگے جو بھی راگ الاپا جاتا ہے جمہور اسکو یقین کر لیتا ہے۔ جمہور کو یہ احساس تک نہیں ہے کہ ان کے ووٹ کے تقدس کو پامال کرکے کبھی جمہوری اداروں اور کبھی جمہوری حکمرانوں کا بستہ گول کردیا جاتا ہے اور جب غیر جمہوری قوتیں ڈنڈے کے زور کے ساتھ آن براجمان ہو جاتی ہیں تو ان کو قانونی تحفظ کے ساتھ ساتھ بن مانگے آئینی ترامیم کی اجازت بھی عطا کردی جاتی ہے اور جب جمہوری دور آتا ہے تو اپنے گریبان میں جھانکنے کی بجائے دوسروں کے گریبانوں میں ہاتھ ڈال کر خود کو جمہوریت نواز ہمدرد اور خیر خواہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کی بدولت نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی دنیا میں بھی ہم نہ کوئی اہمیت رکھتے ہیں اور نہ ہی کوئی پذیرائی نصیب ہوتی ہے۔

یہ کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ قوم اور قوم کے مستند ادارے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرکے، غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کے ذریعے ملک میں عدم استحکام اور بیرونی دنیا میں جگ ہنسائی کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ قوم کی خدمت ہے یا قوم کے ساتھ بھیانک مذاق، اسکو نہ تو کبھی سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے اور نہ ہی اس پر لب کشائی کی اجازت ہے کیونکہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد سے ذیادہ اداروں کی عزت و حرمت مقدم ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ سچ بولنا بس ایک جرم ہے، جھوٹ بولنے والوں کی فیکٹریاں بڑھ رہی ہیں۔ نفرتیں، عداوتیں اورکدورتیں بھرنے والے عناصر کبھی کسی ٹی وی اسکرین پر کبھی کسی چوک کبھی کسی سڑک اور کبھی کسی پل پر بیٹھ کر عزائم کی تکمیل کیلئے استعمال ہورہے ہیں۔ ان سب کاموں کا فائدہ کس کو ہورہا ہے اور بہر حال نقصان کس کا ہے، تو یہ کوئی پوشیدہ راز نہیں کہ فائدہ مند چند لوگ اور نقصان بیس کروڑ عوام کا ہورہا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ عوام کو کب شعور آئے گا، عوام کب اپنی طاقت اپنے ہاتھ میں رکھ کر اپنی حق تلفی کے خلاف آواز اٹھائیں گے، عوام کب ایسے کوگوں کو منتخب کریں گے جو عوام سے ہوں اور عوام کے لئے ہوں۔ جو چور، ٹھگ، بدکردار اور بد دیانت نہ ہوں، جن کے ماتھوں پر جائز ناجائز کے سرٹیفکیٹ آویزاں نہ ہوں بلکہ کردار کے مالک ہوں جن کو سرٹیفکیٹوں کی سرے سے ضرورت ہی نہ ہو۔ ہو سکتا ہے ایک ایسا دن آ بھی جائے۔ اگر جمہوری عمل کو اسی طرح چلتا رہنے دیا گیا تو ممکن ہے آنے والے سالوں میں یہ سب کچھ نہ ہو جو ہورہا ہے۔ ہوسکتا ہے آنے والے سالوں میں جمہور سمجھ دارہو جائے اور اپنے حق کو تسلیم کرنے کے اہل بھی ہو جائیں۔دعا ہے اللہ وہ وقت جلدی لائے۔

کیٹاگری میں : Idarya

اپنا تبصرہ بھیجیں