اداریہ

اداریہ۔  جولائی 2018


ماہ جولائی پاکستان میں انتخابات کا مہینہ ہے مگر شاید یہ پہلا الیکشن ہے جسمیں اعتماد کم اور بے یقینی زیادہ ہے۔ لوگوں کی جسقدر دلچسپی متوقع تھی، وہ نظر نہیں آرہی۔پیپلزپارٹی نے جس طرح پچھلے پانچ سال اپنے تعلقات بحال کرنے پر توجہ دی، اسکے نتائج کہیں واضح نظر نہیں آرہے۔ مسلم لیگ عتاب کا شکار ہے، اس وقت صرف پی ٹی آئی ہے جو تمام اداروں کی مکمل حمایت کے ساتھ میدان میں ہے۔تاہم پارٹی کارکن ٹکٹوں کی غیر منصفانہ تقسیم اور ورکرز پر لوٹوں کی ترجیح پر ناراض ہونے کی وجہ سے جنون میں بھی جنونیت نہیں رہی۔

یہ الیکشن قوم کا امتحان ہے، قوم نعروں کی حد تک تو کرپشن کے خلاف ہے مگر دراصل یہ قوم ہی ہے جسکے غلط فیصلوں کی بدولت قوم کی حالت نہیں سدھری۔ پاکستان کی سیاست میں تبدیلی کے نعرے روایتی سیاست اور الیکٹبلز کے خلاف ہر وقت آواز بلند کرنے والے عمران خان کو آج محض اس وجہ سے اپنے مخلص با صلاحیت اور جانثار کارکنوں کو نظر انداز کرکے تمام کچرا اکٹھا کرکے پیش کرنا پڑا، کیونکہ اس کچرے کے پاس ووٹ بینک ہے، وہ ووٹ ہمارے ہیں، جو ہم ان کو دیتے ہیں، ہم لیڈروں کو اور لیڈر ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ یہ گندگی اٹھائیں۔ اگر آج قوم ایک بار فیصلہ کرلے کہ ہم کچرے کو لوٹے کو مطلب پرست اور دھوکے باز کو بدعنوان اور بد کردار کو ووٹ نہیں دیں گے، تو اگلی بار نہ لیڈر انکے محتاج ہوں گے، نہ وہ مسلط کریں گے۔ ایک اچھے سے اچھا لیڈر 200 بدعنوانوں کے ساتھ کیا اچھائی کر سکتا تھا، لیکن 200 اچھے بد عنوان نہیں ہوں گے، تو پھر سب ہی اچھا ہوگا۔

ہم پارٹی اور لیڈر کو ووٹ دیتے ہیں۔ یہ ایک مسلمہ جمہوری طریقہ ہے مگر ہم اپنے ووٹ سے اپنی پارٹیوں کو یہ پیغام تو دے سکتے ہیں کہ ہم آپ کے تمام اچھے نمائندگان کو ووٹ دیں گے، بروں کو بالکل نہیں۔ 2018 کا الیکشن واضح طور پر نظر آرہا ہے کہ آگے کیا ہونا ہے، کس طرح کی حکومت ہوگی اور کس طرح کے حالات ہوں گے۔ جو کلچر بنایا گیا ہے وہ جاری رہے گا۔ ہم اپنی اپنے ملک اور قوم، اپنے بچوں اور مستقبل کے بغیر اسی طرح زندہ باد اور مردہ باد کرتے رہیں گے۔ ہم یہ کبھی نہیں سوچیں گے،ہم اس سے اپنے ملک کی معیشت کے ساتھ کیا کھلواڑ کررہے ہیں اور اسکا نقصان بالآخر کس کو ہورہا ہے۔ کیونکہ یہی ہماری قومی تربیت ہے۔ ہم کل نئے حکمرانوں کے خلاف بھی اسی طرح صف آراء ہوں گے اور نئے والے پرانے والوں پر الزام دھر رہے ہوں گے۔ ہمیں ایک چیز ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہمیں اپنی محبتوں اور نفرتوں میں اعتدال رکھنا ہوگا، ہمیں قومی سوچ اپنانی ہوگی اور ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کر بہترین نمائندوں کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ہمیں ذہنی غلامی کے خول سے نکل کر سیاسی کچرا باہر پھینکنا ہوگا۔ جب تک ہماری پہلی ترجیح لیڈر نہیں بلکہ لیڈر کا مقامی سطح پر انتخاب نہیں ہوگا، جب تک غنڈے موالیوں کے ہاتھ سے طاقت چھین کر نیک پڑھے لکھے اور ایماندار ہاتھوں میں نہیں دیں گے نہ ہم تبدیل ہوں گے نہ کرپشن ختم ہوگی۔ ہم اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے دوسروں کو چور ڈاکو ثابت کرتے رہیں گے۔ چوروں ڈاکوؤں کی صحت پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا، ہم مزید دلدل میں دھنستے رہیں گے۔ یہ الیکشن ہمارے لئے سنہری موقع ہے، ووٹ پارٹیوں کو نہ دیں، ووٹ پاکستان کو دیں، آنے والی نسلوں کو دیں، اپنے مستقبل کو دیں۔تمام لوٹوں تمام بدکردار تمام مافیا کو مسترد کرکے اپنے محفوظ اور تابناک مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
اللہ ہم سب کو درست فیصلہ کرنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

کیٹاگری میں : Idarya

اپنا تبصرہ بھیجیں