اداریہ

اداریہ۔  نومبر 2018


پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہے اورحکومت اس بحران سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک نہیں ہے جو اس معاشی بحران کا شکار ہے بلکہ خطے کے بیشتر ممالک کی یہی حالت ہے۔ معاشیات اور سیاست کا گہرا تعلق ہے۔ اگر قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہلچل نہ ہو تو معاملات درست رہتے ہیں مگر کوئی ایک معمولی سا واقعہ بھی معاشی بنیادوں کو ہلا سکتا ہے۔ پاکستان میں ایک نئی حکومت آئی ہے، اس نئی حکومت کے تمام اراکین تقریباً نئے ہیں۔100 دن کا ہدف بنیادی طور پر اسی لئے دیا جاتا ہے کہ نئی حکومت سنبھل جائے اور اپنی ترجیحات ترتیب دے سکے۔ لیکن اگر معاشی حالت بگڑی ہوئی ہو تو ترجیحات کا تعین ممکن نہیں ہو سکتا۔ حکومت اپنے طور پر ہر طرح سے اس بحران سے نکلنے کی کوشش میں ہے اور تمام آپشن کھلے رکھے ہوئے ہیں۔

حکومت کی جانب سے کچھ اقدامات مثلاً 50 لاکھ گھروں کا اعلان شاید بروقت نہیں ہے، ایسے اقدامات جن کیلئے بہت ساری پلاننگ اور سرمایہ کی ضرورت ہے، محض عوام کو خوش رکھنے کیلئے ایسے اعلانات سے گریز کی ضرورت ہے اور تمام تر توجہ اقتصادیات پر ہی دینی چاہئے۔ موجودہ حکومت کو دراصل زمینی حقائق کا علم نہیں تھا اور ذیادہ تر خوش فہمی کا شکار تھی کہ ان کے آتے ہی ملک میں ڈالروں کی بارش شروع ہو جائے گی، لیکن ایسا نہ ہو سکا بلکہ وزیر اعظم عمران خان جن کی ایک آواز پر شوکت خانم ہسپتال کے لئے کروڑہا روپے فنڈز آجاتے تھے، ڈیم فنڈ میں ان کی اپیل پر خاطر خواہ جواب نہیں آیا جسکی وجہ سے حکومت ان تمام خوش فہمیوں سے باہر نکلنے اور اپنے بیانات اور دعوؤں کی نفی کرتے ہوئے ہر دروازے پر دستک دینے پر مجبور ہو گئی ہے۔

فنڈ لینا نہ کوئی جرم ہے اور نہ ہی کوئی نئی بات، تمام دنیا ایک دوسرے کے تعاون سے چل رہی ہے۔ایک امریکی شہری کی نسبت ایک پاکستانی نہایت ہی کم قرضدار ہے، مگر امریکی اپنی حکومت پر اعتماد کرتے ہیں اور سیاسی اختلافات کو ذاتیات تک نہیں لے جاتے، اسلئے وہاں وہ رد عمل نہیں ہے۔ ترکی میں پچھلے 6 ماہ میں قریباً دو سو روپے کرنسی گری ہے مگر وہاں کوئی بھونچال نہیں آیا، ہمارے یہاں عوام کی بے جا مداخلت حکومتوں کو پریشان کرتی رہتی ہے۔

حکومت کو بھی چاہئے کہ سیاسی تنازعات سے پرہیز کرے اور مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیوں سے گریز کے ساتھ متنازع شخصیات کو نوازنے سے ایک طرف بلا وجہ اشتعال پیدا ہو سکتا ہے اور دوسری طرف عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ اسلئے بہتر ہے کہ امن و امان کے ساتھ ساتھ افہام و تفہیم کے ساتھ سیاسی بلڈ پریشر کو قابو میں رکھے تاکہ یکسوئی کے ساتھ تمام تر توجہ اپنے وعدوں کی تکمیل تک محدود رکھ سکے۔ اس وقت حکومت کو تمام قوتوں کو ساتھ رکھنے اور سیاسی ہم آہنگی کی ضرورت ہے تاکہ بہتر کار کردگی کا مظاہرہ ہو۔ پاکستان کو آج معاشی بحران سے نکالنے کیلئے سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے اور حکومت کو اس طرف اولین توجہ دینی چاہئے۔

اسلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پر اعتماد کیا جانا چاہئے اور آزادی سے کام کرنے دینا چاہئے، اگر 6 ماہ میں بھی اپنے مسائل پر قابو نہ پا سکی تو تنقید کی کوئی گنجائش ہوگی، اس وقت ہر گز نہیں۔

کیٹاگری میں : Idarya

اپنا تبصرہ بھیجیں