اداریہ

اداریہ۔  اکتوبر 2018


پاکستان کی تبدیلی کے نام پر معرض وجودمیں آنے والی نئی جمہوری حکومت عمران خان کی قیادت میں اپنے سو روزہ ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ ایک طبقہ روزانہ کی بنیاد پر ان کا جائزہ لیکر اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی بے لگام تنقیدوں کا سلسلہ جاری ہے۔جبکہ قوم کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ کوئی بھی حکومت جو سو دن کا پلان دیتی ہے اس کیلئے پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پہلی بار قائم ہوئی ہے۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان نے بطور اپوزیشن لیڈر عوام کی توقعات کو ہوا میں پہنچایا اور ایک ایسا تاثر دیا کہ جونہی عمران خان حکمران بنیں گے دودھ اور شہد کی نہریں جاری ہو جائیں گی،مراد سعید کے مطابق 200 ملین ڈالر دوسرے دن ہی آجائیں گے،100 ملین امریکہ کے منہ پر مارے جائیں گے اور ایک سو عوام پر خرچ ہوجائیں گے۔ اسد عمر کی تقریریں اور تنقیدیں بھی اب انہی کیلئے مسئلہ بنی ہوئی ہیں اور جو پچھلی حکومت کو ٹیکس پر طعنے دیتے تھے اب اس سے زیادہ ٹیکس لگا دیئے لیکن یہ سب تصویر کا اصل رُخ ہے،کنٹینر پر کھڑے ہو کر گالی دینا، الزام لگانا، کسی کو چور کسی کو ڈاکو کہنا، روزانہ چھ ارب چوری کا کہنا اور پھر حکومت میں آکر مختلف رویہ رکھنا دراصل معاملات سے بے خبری کی وجہ سے ہے۔

اگر عمران خان صاحب پختونخواہ میں حکومت کے معاملات میں دلچسپی لیتے، مرکز میں کمیٹیوں میں شامل ہو کر معاملات سے آگاہی حاصل کرتے، اسمبلی میں دلچسپی لیتے تو ان کیلئے حکومتی امور کو سمجھنے میں آسانی ہوتی۔ حکومت سازی کا عمل صدر مملکت کے انتخاب کے بعد مکمل ہوا ہے، اسلئے حکومت کا وقت اب شروع ہوا ہے، سو دن میں بھی کوئی بڑے تیر نہیں مارے جا سکیں گے۔ لیکن کم از کم حکومت کی ڈائریکشن کا اندازہ ضرور لگ جائیگا۔اگر حکومت ان سو دنوں میں اگلے 5 سال کیلئے کوئی مؤثر پلاننگ کرلے تو یہی ایک بڑا کارنامہ ہو سکتا ہے۔نہ 100 دن میں کوئی گھر بن سکتا ہے اور نہ ہی اتنی جلدی نوکریوں کا بندوبست ہو سکتا ہے۔ ان سب کاموں کیلئے ایک مناسب وقت چاہئے اور وہ دینا چاہئے۔

موجودہ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ خیرات کی بجائے سعودی عرب کو سی پیک میں شامل کرکے اقتصادی فائدہ حاصل کرنا ہے اور ملک میں بنگالیوں اور افغان بچوں کیلئے انسانی ہمدردی کے تحت سہولیات فراہم کرنا ہے جو کہ بہت ہی قابل تحسین اقدام ہیں۔ قوم کو چاہئے کہ تھوڑا صبر کرے اور تنقید کا عمل 100 دن مکمل ہونے کے بعد شروع کرے تو زیادہ مناسب ہوگا۔

کیٹاگری میں : Idarya

اپنا تبصرہ بھیجیں