اقوام متحدہ… موم کی ناک

اقوام متحدہ…. موم کی ناک


دوسری جنگ عظیم کے آغاز سے جب مجلس اقوام عالم امن و امان کے قیام میں بری طرح ناکام رہی اور جنگ کے دوران تباہی اپنے عروج پر پہنچ گئی تو دنیا کے ذی ہوش مدبرین نے کسی ایسے عالمی ادارے کی بنیاد کیلئے کوششیں شروع کردیں جو نہ صرف مجلس اقوام کے اغراص و مقاصدکی تکمیل کرے بلکہ اتنا مؤثر و مضبوط ہو کہ وہ عالمی امن و بقاء اور تعاون و اتحاد کا بہترین ذریعہ ثابت ہو۔ طویل غورو غوض کے بعد 24 اکتوبر 1945 کو اقوام متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا اور اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 1 کے تحت مندرجہ ذیل مقاصد طے ہوئے۔

1۔ بین الاقوامی امن و سلامتی کی برقراری اور اس مقصد کے حصول کیلئے تمام اجتماعی مؤثر تدابیر کا اختیار کرنا تاکہ امن کو لاحق ہونے والے خطرات کا انسداد کیا جائے اور جارحانہ حملوں اور دیگر امن شکن افعال کو روکا جائے اور پر امن طریقوں سے انصاف و بین الاقوامی قانون کے مطابق ان بین الاقوامی تنازعات اور صورتحال کا جو امن شکنی کی طرف لے جائیں مفاہمت یا تصفیہ کیا جائے۔مساویانہ حقوق اور اقوام کے حق خود ارادیت کے اصول کے احترام کی اساس پر اقوام کے مابین دوستانہ تعلقات کو ترقی دینا اور عالمگیر امن و امان کی تقویت کیلئے دیگر مناسب تدابیر اختیار کرنا۔

2۔ معاشی، سماجی، ثقافتی یا انسانیت دوستی کی نوعیت کے بین الاقوامی مسائل طے کرنے کیلئے بین الاقوامی تعاون حاصل کرنا اور نسل و جنس، زبان اور مذہب کے امتیاز کے بغیر انسانی حقوق کے احترام نیز تمام انسانوں کے بنیادی آزادی کے جذبے کو ابھارنا اور تقویت دینا۔

3۔ اس مشترکہ مقصد کے حصول کیلئے اقوام متحدہ و ممالک کی سرگرمیوں میں ہم آہنگی اور ربط پیدا کرنے والے مرکزکی حیثیت اختیار کرنا۔

اقوام متحدہ بظاہر ایک جمہوری عالمی ادارہ ہے جو دنیا کو تباہ کن عالمگیرجنگ سے بچانے کیلئے سر گرم عمل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اوپر بیان کردہ بنیادی مقاصد کے حصول میں اقوام متحدہ کس حد تک کامیاب رہی ہے۔ بین الاقوامی قانون اور سیاسیات کے مصنفین نے اقوام متحدہ کو نہایت مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔ بعض ناقدین نے یہ نقطہ اُٹھا یا ہے کہ اقوام متحدہ بھی مجلس اقوام عالم کی طرح فاتحین کی انجمن ہے اور دوسری جنگ عظیم میں فتح حاصل کرنے والی مملکتوں کی نمائندہ ہے۔ بعض ناقدین نے اقوام متحدہ کے نام کو ہی بدف تنقید بنایا ہے، اُن کا خیال ہے کہ یہ ادارہ بکھری ہوئی اقوام کا ایک گٹھ جوڑ ہے۔ بنیڈچ اور مارٹن کی رائے ہے کہ اقوام متحدہ وہ ہتھیار ہے جسے عالمی امن اور بقاء کے لئے ایجاد کیا گیا مگر عملاً یہ عالمی تنازعات کا باعث بنا ہے۔ آرتھرمور کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ ایسی راہ پر گامزن ہے جس پر مجلس اقوام عالم گامزن تھی اور مسائل نے جو صورت پیدا کردی ہے وہ پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے اسلئے اس ادارہ کو بہت جلد ختم ہو جانا چاہئے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی نمائندہ پطرس بخاری نے اپنی ایک تقریر میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا۔

When there is a problem between two nations, The problem disappears. If the problem is between one big nation and one small nation, the small nation disappears and if the problem is between two big nations then the U.N.O disappear.

اقوام متحدہ کے خاتمے کی باتیں صرف تنقید کرنے سے ہی ختم نہیں ہو جاتیں بلکہ 1965 کی افریشائی کانفرنس کے انعقاد کی کوشش دراصل بعض ممالک کی طرف سے دوسری اقوام متحدہ کے قیام کی کوشش تھی جو عالمی امن کے ٹھیکیداروں کی سازش کی وجہ سے عملی شکل اختیار نہ کر سکی لیکن اس قسم کی آئندہ کسی کوشش کو قطعی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایشیاء اور مشرق بعید میں سامراجیوں کے حاشیہ بردار ملکوں کی ریشہ دوانیاں دوسری انجمن اقوام عالم کے قیام کی ضرورت کو زیادہ اہم بتارہی ہیں اس سلسلہ میں بھارت کا کردار سب سے زیادہ مکروہ اور گھناؤنا ہے۔

اقوام متحدہ میں برابری،مساوات اور قوموں کے حق خود ارادیت کی بات تقریر اورنعرہ کی حد تک تو درست ہے مگر عملی طور پر اقوام متحدہ میں غریب ممالک کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اقوام متحدہ طاقتور ممالک کے ہاتھوں یر غمال بن چکی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس نے اقوام متحدہ کے سب سے اہم اور طاقتور ادارے سلامتی کونسل میں آمریت قائم کررکھی ہے اسی لئے یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ اقوام متحدہ ملکوں اور اقوام کے درمیان جھگڑوں کے تصفیہ کی بجائے ان میں اضافہ کا باعث بن رہی ہے۔
اقوام متحدہ کا سب سے طاقتور ادارہ سیکیورٹی کونسل15 ارکان پر مشتمل ہے جس میں پانچ ممبران مستقل (ویٹو پاور کے حامل ممالک) اور باقی ممبران کا انتخاب 2 سال کیلئے کیا جاتا ہے۔ سلامتی کونسل ہر وقت حالتِ اجلاس میں رہتی ہے اسکے ممبران ممالک کے نمائندے صدر دفتر میں موجود ہوتے ہیں۔ سیکیورٹی کونسل جنرل اسمبلی کی طرح بڑا ادارہ تو نہیں مگر بہت طاقتور ہے۔ جنگ کے دنوں میں یہ اور زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ سلامتی کونسل امن و امان کے قیام کی ذمہ دار ہے۔ یہ دو ملکوں میں جنگ بندی کروا کر اسکی تحقیقات کروا سکتی ہے اور اگر کوئی فریق جارحیت کا مرتکب ہوا ہو اور اقوام متحدہ کے منصوبوں کو تسلیم نہ کرے تو اسکی معاشی ناکہ بندی اور اسکے خلاف اعلان جنگ کر سکتی ہے جسکی واضح مثال عراق کی ہے۔1991 ء میں جب عراق نے کویت پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا (یا اس سے کروا دیا گیا)تو امریکہ کو اپنے تیل پر قبضہ کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا موقع مل گیا، امریکہ نے سعودی عرب کے دفاع اور کویت کی آزادی کی خاطر دھڑا دھڑ اپنی افواج سعودی عرب میں بھیج کر اپنی دیرینہ خواہش کی تکمیل کرلی اور اپنا ناکارہ اسلحہ جو اسے ضائع کرنے کیلئے بھی کافی خرچ اُٹھانا پڑتا وہ عراق پر اتحادی ملکوں کی افواج کے حملوں میں گرا کر اسکی بھاری قیمت کویت و سعودی عرب سے وصول کی اور خلیج جنگ کی آڑ میں امریکہ اپنے تمام قرضے اتارنے کے بعد بھی منافع میں رہا۔ امریکہ نے جس طرح اقوام متحدہ کو استعمال کرکے لیبیا اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجائی اور افغانستان پر قبضہ کرکے بھارت سے مل کر دہشت گردی شروع کر رکھی ہے یہ امریکی تھانیداری کی بد ترین مثال ہے۔ اقوام متحدہ کو فلسطین پر اسرائیلی ظلم و ستم نظر نہیں آئے کیونکہ اسرائیل امریکہ کی ناجائز اولاد ہے۔ کوئی بھی اہم نوعیت کا مسئلہ سلامتی کونسل کے مستقل ممبران کی رضامندی کے بغیر قابل عمل نہیں ہو سکتا۔ اقوام متحدہ اپنے اغراض و مقاصد میں کتنی کامیاب رہی ہے اسکی مثال کشمیر کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ سلامتی کونسل یکم جنوری 1949 کو کشمیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کروانے میں کامیاب ہوگئی مگر کشمیر کے مسئلے کا کوئی حل نہ ڈھونڈا جا سکا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965 میں دوبارہ جنگ چھڑ گئی۔ 1965 میں بھی سلامتی کونسل کی قرار داد وں پر پاک بھارت لڑائی بند کردی گئی مگر کشمیر کا سیاسی حل نہ ہو سکا۔ نہ بھارتی افواج اقوام متحدہ کے توسط سے کشمیر سے نکلیں اور نہ ہی استصواب رائے ہوا۔ 1965 کی جنگ اس مسئلے کا منصفانہ حل ثابت ہو سکتی تھی کیونکہ پاکستانی بہادر افواج جذبہ شہادت سے سرشار ہر قسم کے حالات برداشت کرنے کو تیار تھیں اور وہ کشمیر کے اہم حصوں چھمب جوڑیاں اور قلعہ کلیڈ تک پہنچ چکی تھیں اور کافی علاقہ بھارت کے تسلط سے آزاد کروا چکی تھیں، ایک دو دن تک کشمیر کی قسمت کا فیصلہ یقینی تھا۔ کشمیر کے معاملے میں سلامتی کونسل کی کمزوری، نا اہلی اور پھر روس کی مسلسل ویٹو نے بھارت کو کشمیری عوام پر ظلم و ستم کی کھلم کھلا اجازت دی۔ وہی بھارت جو 1949 میں خود استصواب رائے کا خواہاں تھا اور اس نے مجاہدین کی پے درپے کامیابیوں سے خائف ہو کرخود بھاگ کر اقوام متحدہ کی گود میں پناہ لیکر وعدہ کیا تھا کہ وہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام حق خود ارادیت دے گا مگر امریکہ روس ایسے عالمی غنڈوں کی آشیر باد سے بھارت اب ”کشمیرہمارا اٹوٹ انگ ہے“کا راگ الاپنے لگا ہے۔
جمہوریت اور عالمی امن کے ٹھیکیدار جنہیں عراق کی طرف سے اپنے ہی علاقے میں بغاوت کیلئے فوج کو بھیجنے پر مروڑ اُٹھنے لگے ہیں مگر کشمیر میں بغاوت کے پچاس سال سے روا رکھے جانے والے بد ترین مظالم اور ساڑھے چھ لاکھ فوج کے ذریعے کشمیر کے نہتے عوام کو ظم و ستم کا نشانہ بنا کر محکوم رکھنے کی ناکام کوششوں پر امن کے ٹھیکیدار عالمی غنڈوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیلی یہودیوں کے ظم و ستم کو براہ راست امریکہ اور نام نہاد اقوام متحدہ کی آشیر باد حاصل رہی ہے۔

وہ قتل بھی کردیں تو چرچا نہیں ہوتا
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

کے مصداق یہو دو ہندو کی کھلم کھلا غنڈہ گردی کو تو ہر ممکن طریقہ سے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی آڑ میں مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اور مسلسل چشم پوشی سے کام کیا جارہا ہے مگر اسلامی ممالک کو بات بات پر دہشت گرد قرار دیئے جانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جب تک افغانستان کے معاملے میں امریکہ کا مفاد شامل رہا تب تک افغانستان سب سے بڑا مسئلہ تھا مگر جب امریکہ مسلمانوں کو استعمال کرتے ہوئے سوویت یونین کے خاتمہ میں کامیاب ہوگیا تو اس نے افغانستان کے مسئلہ کو حل کرنا تو کیا اس مسئلے کو ہر ممکن طریقہ سے الجھانے کی کوشش ہی کی ہے اور افغانستان پر قبضہ کرکے خطے کا امن تباہ کررکھا ہے۔ اقوام متحدہ اس وقت امریکہ کے ہاتھوں موم کی ناک بن چکی ہے۔ جہاں امریکی مفاد وابستہ ہو تو امریکہ اقوام متحدہ کی ناک کو اس طرف موڑ لیتا ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ واحد سپر پاور کی حیثیت سے سامنے آیا ہے اور اس کو سب سے بڑا خطرہ اسلام سے ہے اور اس خطرے کے پیش نظر وہ ہر ممکن طریقے سے اسلامی ممالک کو کمزور کرنے اور ان کی معیشت کو تباہ و برباد کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اس سلسلے کی ایک کڑی بھارت ہے جسکو ہر ممکن طریقے سے امریکہ ایشیائی غنڈہ بنانے کی کوشش کررہا ہے تاکہ پاکستان، چین، ایران، افغانستان اور بنگلہ دیش کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔

اس صورت حال میں مسلم ممالک جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں کو امریکہ اور اقوام متحدہ کا دستِ نگر بنے رہنے کی بجائے ایک مسلم اقوام متحدہ کے قیام کے سلسلہ میں غور کرنا چاہئے کیونکہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ مسلم ممالک کے مسائل کے حل میں مغربی ممالک اور اقوام متحدہ دلچسپی نہیں رکھتے۔ اپنے مسائل کے حل کیلئے مسلمان ممالک کو اپنا علیحدہ پلیٹ فارم قائم کرنا ہوگا اور اپنے مسائل خود بیٹھ کر حل کرنے ہوں گے ورنہ اقوام متحدہ کی آڑ میں امریکی غنڈہ گردی جاری رہے گی اور مسلمانوں کو ہر ممکن طریقے سے کچلنے کی کوشش جاری و ساری رہے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں