انٹرویو: ممتاز قانون دان اور سماجی کارکن سلیم الطاف ایڈووکیٹ

انٹرویو: ممتاز قانون دان اور سماجی کارکن سلیم الطاف ایڈووکیٹ


میزبان: سید فیضان بنوری 


کاروان عمل میری 30 سالہ سماجی زندگی کا حاصل ہے میں نے اپنی سماجی زندگی کا آغاز 1986 میں ینگ بلڈ ڈونر ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم سے کیا، وکالت کی ڈگری لینے کے بعد فری لیگل ایڈ کمیٹی بنائی جس کے پلیٹ فارم سے غریب‘ مجبور اور بے سہارا لوگوں کی قانونی مسائل میں مدد کی اس کے بعد ایک اور فلاحی تنظیم بنائی ”Development Association for Whole Nation“ اس پلیٹ فارم سے بہت زیادہ فلاحی کام کیے۔ جن میں سرفہرست مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر آئے ہوئے مسلمان بھائیوں کی آباد کاری میں اہم کردار تھا جس پر سابقہ وزیر اعظم ممتاز حسین راٹھور (مرحوم) نے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا کہ کشمیر کی عوام کوھاٹ کے لوگوں کو اس مشکل وقت میں مدد کرنے پر ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز قانون دان اور سماجی شخصیت سلیم الطاف ایڈووکیٹ نے القانون سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ کاروان عمل کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2012 میں ایک نئی سوچ لے کر تمام سماجی تنظیموں کو ختم کر کے کاروان عمل کی داغ بیل ڈالی اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ہمیں بحیثیت قوم ترقی حاصل کرنے کے لیے تین باتوں پر عمل کرنا چاہئے جن میں پاکستان سے سچی محبت‘ غیر ضروری تنقید سے مکمل پرہیز اور ہر شہری کا پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا۔ اس سوچ پر تنظیم دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتی گئی۔

تنظیم نے پانچ سالوں سے ہر رمضان المبارک میں ”رمضان دستر خوان“ کے نام سے اللہ کی مخلوق کے لیے اللہ کا دستر خوان سجایا‘ کئی بچوں کے دل کے آپریشن کروائے‘ کینسر کے مریضوں کے لیے فنڈ ریزنگ کی اور علاج کروایا‘ سینکڑوں مریضوں کے لیے خون کے عطیات حاصل کئے، کئی بے سہارا بچیوں کی شادیاں کروائیں۔ 2016 میں کوھاٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی شجرکاری مہم کر کے 7500 پودے لگائے‘ متعدد مظلوموں کی مفت قانونی امداد کی‘ کوھاٹ میں صفائی کی مہم شروع کی‘ ضلع ھنگو کے تمام ہائیر سیکنڈری سکولوں میں بچوں کی کیرئیر کونسلنگ کی تاکہ بچوں کو اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد مل سکے۔  کوھاٹ میں ریل سروس کی بحالی کے لیے دنیا کی تاریخ کا طویل ترین پرامن احتجاج ریکارڈ کروایا جو چار سال کا احتجاج تھا اور یہ احتجاج ہر جمعتہ المبارک کو ریلوے سٹیشن پر ہوتا تھا اور آخر اللہ نے کامیابی دی اور کوھاٹ سے روالپنڈی ریل سروس بحال کی گئی‘ اس کے علاوہ کاروان عمل کے پلیٹ فارم سے کئی مرتبہ میڈیکل کیمپس کروائے‘ ریل کار سروس کی بحالی کے بعد 21 اگست 2017 سے کاروان عمل کوھاٹ نے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوکیٹگری A کی تمام سہولتیں جس میں سٹاف اور مشینری ٹراما سینٹر کی بحالی‘ برن سینٹر کا قیام شامل ہے جبکہ کوھاٹ میڈیکل کالج کو وزارت صحت خیبر پختونخواہ کے زیر انتظام لانا شامل ہے کے لیے گزشتہ ایک سال سے سراپا احتجاج ہیں اور انشاء اللہ یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کوھاٹ کی عوام کو صحت کی تمام سہولیات جو کہ ان کا حق ہے فراہم نہیں کر دی جاتیں۔

کوھاٹ کے مسائل کے حوالے سے سلیم الطاف کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوھاٹ کی عوام کو اس وقت متعدد مسائل کا سامنا ہے اور یہ صرف کوھاٹ نہیں بلکہ اسکو قومی المیہ کہا جائے کہ سارا پاکستان مسائل سے دوچار ہے لیکن ہمارا یہ یقین ہے کہ ایک ہی وقت میں تین چار مسائل میں یا تو ڈالنے والوں کو کامیابی نہیں ملتی اور ایسے لوگ ایک بھی کام نہیں کر پاتے۔  کاروان عمل کے نزدیک عوام کو جب تک اپنے بنیادی حقوق کی آگاہی نہیں ہو گی اور عوام خود اپنی مدد آپ کے تحت اپنے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے نہیں اٹھ کھڑی ہو گی اور جب تک ہم یہ سوچ کر انتظار میں بیٹھے رہیں گے کہ ہم نے تو سیاسی لوگوں کو ووٹ دے دیا ہے اور اب بحیثیت شہری ہماری ذمہ داری ختم ہو چکی ہے تو آپ یقین کریں کہ مسائل کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ لوگوں کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے خود کھڑا ہونا ہو گا اور ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا تب ہی ان مسائل سے ہماری جان چھوٹ سکتی ہے۔ عوام کو پیغام دیتے ہوئے سلیم الطاف ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کاروان عمل نے پرامن رہ کر ایک طویل ترین جدوجہد کر کے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اگر شہری اپنے حق کو حاصل کرنا چاہیں تو ناممکن ہو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے کیوں کہ دنیا میں کوئی بھی کام ناممکن نہیں بس آپ کی لگن سچی اور ارادے مضبوط ہونے چاہئیں سلیم الطاف ایڈووکیٹ نے بتایا کہ کاروان عمل کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے میرا نام پاکستان سول ایوارڈ برائے 2017 کے لیے نامزد کیا گیا ضلعی حکومت نے 14 اگست 2017 میں بہترین کارکردگی کا ایوارڈ دیا جبکہ 14 اگست 2018 کو ایک بار پھر سماجی خدمات پر ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے ایوارڈ سے نوازا۔

سلیم الطاف ایڈووکیٹ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہر کام اور ہر مسئلے کے حل کے لیے حکومتی نمائندوں کی جانب نہ دیکھیں کیوں کہ بہت سارے ایسے کام ہیں جن کو ہم مل کر اپنی مدد آپ کے تحت کر سکتے ہیں اس موقع پر انہوں نے القانون کی ٹیم کو بھی خراج تحسین پیش کیا جو مسلسل عوامی مسائل کو حکومتی ایوانوں تک پہنچانے میں اپنا بھرپور اور مثبت کردار نہایت خوبصورتی سے ادا کر رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ یہ کوھاٹ ہم سب کا ہے اس کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنا بھی بحیثیت قوم ہماری مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے لہٰذا آئیے مل کر اپنے شہر کو خوب صورت بنائیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک خوب صورت مثال قائم کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں