صدر مملکت کا انتخاب

صدر مملکت کا انتخاب


جناب ڈاکٹر عارف الرحمان علوی بہ آسانی پاکستان کے تیرہویں صدر منتخب ہو گئے ہیں اور اسطرح انتخابی عمل مکمل ہوگیا ہے۔ڈاکٹر عارف علوی ایک نہایت کمٹڈ سیاسی کارکن ہیں، پاکستان تحریک انصاف کے بانی اراکین میں شمار ہوتے ہیں، گزشتہ اسمبلی میں ممبر قومی اسمبلی رہے۔ متحرک، سنجیدہ، تعلیم یافتہ اور معاملہ فہم شخصیت ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی جہاں عمران خان کے دستِ راست کی حیثیت رکھتے ہیں وہیں کراچی کے عوام ان کو بہت پسند کرتے ہیں اور اپنی پارٹی میں بھی قدر و منزلت کا درجہ حاصل ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی پی ٹی آئی کلچر سے قطعاً مختلف دھیمے مزاج اور دلیل کے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص ہیں۔ انکا بطور صدر انتخاب پاکستان تحریک انصاف کا ایک بہترین فیصلہ تھا اور انکے انتخاب سے صدر ہاؤس کو ایک ذہین اور متین شخصیت نصیب ہوئی۔ امید ہے کہ اہالیانِ پاکستان کیلئے بھی ان کا انتخاب باعث خیرو برکت ہوگا۔ہر چند کہ صدر مملکت کا عہدہ نمائشی ہوتا ہے مگر آئینی طور پر وہ ریاست کا سربراہ اور افواج پاکستان کاسپریم کمانڈر ہوتا ہے۔ وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتا ہے، اسکا عہدہ نمائشی تو نہیں ہوتا مگر کانچ کی طرح بہت نازک ہوتا ہے جو کسی جرنیلی پتھر کی زد میں آجائے تو لمحوں میں کرچی کرچی ہو جاتا ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی صاحب نے الیکشن سے قبل کہا تھا کہ وہ کوشش کریں گے کہ وہ پریزیڈنٹ ہاؤس میں نہ رہیں، صدر کا اضافی پروٹوکول نہ لیں، لیکن چونکہ ان کو عمران خان کی طرح یہ علم نہیں تھا کہ صدر اور وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد وہ قومی ذمہ داری بن جاتے ہیں اور قوانین و ضابطے ان کی بطور سر براہ حکومت و ریاست تحفظ کی ذمہ داری لیتے ہیں۔چنانچہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ان کی سیکیورٹی حکومت کا اولین فرض ہے۔ لیکن قوانین و ضابطوں سے عدم آگاہی کی وجہ سے تحریک انصاف نے سابقہ وزیر اعظم کی ذات کو پروٹوکول پر سخت تنقید کا نشانہ بنائے رکھا اور سادگی کے بھاشن دیئے جاتے رہے اور اب جب حکومت میں آئے ہیں تو خود ان کے اپنے ورکرز پریشان ہیں کہ وہ اپنے لیڈروں کا دفاع کیسے کریں۔ یہ دراصل نظام سے عدم واقفیت کی وجہ سے ہے اور اسکا تعلق حکمرانوں کی ذاتی پسند یا نہ پسند سے نہیں بلکہ ملکی سلامتی کے اداروں کی پالیسیوں پر منحصر ہے۔ لیڈر ہمیشہ عوامی مسائل پر بات کرتے ہیں، عوام کی بہتری کیلئے اپنی ترجیحات بیاں کرتے ہیں جبکہ تحریک انصاف کی تمام تر جدو جہد ون پوائنٹ ایجنڈا رہی اور وہ ون پوائنٹ نوازشریف کی ذات تھی۔ اب جبکہ حکومت آئی ہے تو حالات مختلف ہیں اور یہ سطور لکھتے ہوئے یہ خبر آئی ہے کہ کراچی میں صدر پاکستان کے پروٹوکول پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے۔ جن لوگوں نے احتجاج کیا وہ دراصل عمران خان صاحب ہی کے وعدے کو نبھا رہے تھے اور چاہئے تو یہ تھا کہ عمران خان کے وعدے کی پاسداری کرانے کی کوشش کرنے والوں کو نوازا جاتا، ان کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا اور اب تحریک انصاف کے اپنے لوگ پریشان ہیں کہ انہوں نے جس بات پر نوازشریف کے لتے لئے، اب اسکو کس طرح قبول کریں۔عمران خان صاحب اور انکی اہلیہ کے دوروں کے موقع پر جو سیکیورٹی اور پروٹوکول دیا جارہا ہے یہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو نواز شریف کو ملتا تھا۔بہر حال یہ کوئی ایسی باتیں نہیں ہیں جن کو موضوع بحث بنا کر توانائیاں خرچ کی جائیں بلکہ بہتر ہوگا کہ تمام تر توجہ عوامی، قومی اور بین الاقوامی مسائل پر مرکوز کی جائے اور عوام نے تبدیلی کا جو خواب دیکھا اسکو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔ اسکے لئے تمام قوم کو متحد ہو کر حکومت کے ساتھ چلنا ہوگا اور قوم کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

القانون صدر مملکت کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے یہ امید رکھتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوامی امنگوں پر پورا اترے گی اور بطور صدر مملکت وہ پی ٹی آئی حکومت کی بہترین رہنمائی کرتے ہوئے ملک میں قانون اور انصاف کی سر بلندی، بہتر نظام حکومت اور شفافیت کے عمل کو ہر ممکن طور پر ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

بیگم کلثوم نواز کی رحلت

سابقہ خاتونِ اول اور سابقہ ممبر اسمبلی محترمہ کلثوم نواز طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں لندن میں انتقال کر گئیں۔ مرحومہ کافی عرصہ سے شدید علیل تھیں اور لندن کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔ میاں نوازشریف سیاسی مقدمات کی بدولت اپنی زوجہ کی تیمار داری کیلئے ایک دو بار لندن گئے، مگر جب احتساب عدالت نے انہیں انکی بیٹی اور داماد کے ساتھ سزائیں سنائیں تو اس وقت دونوں باپ بیٹی لندن میں تھے، دونوں کے پاس یہ آپشن تھا کہ وہ وہیں رُک جاتے اور پاکستان نہ آتے، کیونکہ ان کو دو چیزوں کا بخوبی علم تھا، ایک یہ کہ ان کو جیل میں ڈالا جائے گا اور دوسرا کسی بھی صورت انکی پارٹی کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا، مگر مریم نواز کے مشورے پر دونوں باپ بیٹی نے پاکستان آکر خود کو گرفتاری کیلئے پیش کرنے اور سزا بھگتنے کا فیصلہ کرکے بہت سے لوگوں کو حیران و پریشان کردیا۔ اسمیں کوئی شبہ نہیں کہ اس وقت مرحومہ کلثوم نواز کو ان کی موجودگی کی شدید ضرورت تھی مگر اپنی ذاتی مجبوریوں کا بہانہ بنا کر راہِ فرار اختیار کرنے کی بجائے وہ پاکستان آئے اور ان کو اڈیالہ میں بند کردیا گیا، جبکہ ان کی اڈیالہ میں قید کے دوران ہی محترمہ کلثوم نواز نے اپنی آخری سانسیں پوری کیں۔

حکومت پاکستان نے انسانی ہمدردی کے تحت دونوں باپ بیٹی کو پیرول پر رہا کرکے ایک اچھا اقدام کیا اور نواز شریف اور انکی صاحبزادی نے اس موقعہ کو کسی سیاسی مقصد کیلئے قطعاً استعمال نہ کرکے بردباری کا ثبوت دیا، جسکی وجہ سے حکومت کی طرف سے انکی پیرول کیلئے توسیع پر کوئی اعتراض نہیں تھا مگر دونوں باپ بیٹی نے مزید توسیع سے انکار کرکے واپس خود کو حکام کے حوالے کیا اور بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سزا معطلی کے بعد رہائی ملی۔ محترمہ کلثوم نواز ایک مکمل پابند صلوٰۃ ایک گھریلو خاتون تھیں۔ان کو تین مرتبہ خاتونِ اول ہونے کا اعزاز ملا مگر کبھی کوئی ان کی ذات یا کردار پر انگلی نہ اُٹھا سکا،انہوں نے ہمیشہ نہایت غیر جانبدارانہ اور غیر سیاسیانہ رویہ رکھا۔ جب پرویز مشرف نے نواز شریف اور اسکے خاندان کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر اقتدار پر غیر قانونی قبضہ کیا تو اس وقت تمام پارٹی قائدین پس پردہ چلے گئے تھے اور یہاں تک کہ پرویز مشرف کی بغاوت کے خلاف کئی روز بعد محض افسوس کے اظہار پر مبنی بیان جاری کیا گیا جسمیں مذمت نہیں کی گئی تھی۔ اس کٹھن گھڑی میں محترمہ کلثوم نواز صاحبہ گھر سے باہر نکلیں اور ڈکٹیٹر کو چیلنج کیا، کئی گھنٹوں تک گاڑی میں محبوس رکھے جانے کا واقعہ ایک تاریخی واقعہ تھاجس سے محترمہ کے مضبوط اعصاب کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ اس بے خوفی سے میدان میں اتریں اور رہنمائی کی کہ پرویز مشرف جیسا طاقتور شخص بھی لرز گیا اور بالآخر ان کو جلا وطن کرکے امان پائی۔ محترمہ کلثوم نواز کی بیماری کے دوران پاکستان کے کچھ ایسے چھوٹے لوگ جو بڑی جگہوں پر بٹھا دیئے گئے، نے کئی نازیبا الفاظ ادا کئے، بیماری کا مذاق اُڑایا، ٹی وی مباحثوں میں ان کی علالت کو سیاست قرار دیا، یہاں تک کہا گیا کہ جب نواز شریف اور مریم دوبئی پہنچیں گے تو انکی وفات کی خبر نشر کی جائے گی، کسی نے کہا کہ وہ تو کب کی ختم ہیں، کسی نے کچھ کہااور کسی نے کچھ مگر وقت نے ثابت کیا کہ بے ضمیر لوگوں کے اس معاشرے میں اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کیلئے مرنا پڑتا ہے۔ جناب اعتزاز احسن واحد لیڈر تھے جنہوں نے محترمہ کے بارے میں اپنے الفاظ پر فوری طور پر معذرت کا اظہار کیا، جبکہ دیگر لوگوں کو اتنی اخلاقی جرأت نہیں ہوئی کہ وہ اپنے الفاظ پر معذرت کر لیتے۔ اعتزاز احسن جب صدارتی امیدوار نامزد ہوئے تو ان کے محترمہ کلثوم نواز بارے ادا کئے گئے الفاظ پر معذرت کی صورت میں ن لیگ نے اپنی حمایت کا بھی اعلان کیا تھا مگر اعتزاز احسن نے اس وقت انکار کرتے ہوئے اسے بچکانہ قرار دیا۔کیونکہ ان کے خیال میں انہوں نے جو کچھ کہا تھا وہ درست تھا۔ اگر اعتزاز احسن اس وقت دل بڑا کرتے اور معذرت کر لیتے تو شاید آج وہ صدر کے عہدہ جلیلہ پر فائز بھی ہوتے مگر ضد، اناء اور سیاست نے ان سے ایک سنہری موقع چھین لیا اور پاکستان کا ایک نامور وکیل صدارتی انتخابات میں مولانا فضل الرحمان سے بھی پیچھے رہے۔ محترمہ کلثوم نواز اب ہم میں نہیں ہیں۔ ان کی وفات شریف خاندان کیلئے ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور پوری قوم اس محترم خاتون کے انتقال پر افسردہ ہے بلکہ ان کا جنازہ اور عوام کی محبت ان کے مقام و مرتبے کی مثال ہے۔ وہ غیر سیاسی خاتون تھیں، انہوں نے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی،کبھی کسی کے ساتھ توہین آمیز سلوک نہیں کیا، وہ درد دل رکھنے والی ایک عظیم خاتون تھیں جو اب ہم میں نہیں رہیں۔ ان کی وفات سے ہمیں ایک سبق ضرور سیکھنا چاہئے کہ انسان کی ذات فانی ہے اور اگر کبھی دوسرے کے ساتھ دکھ درد بانٹنے کی توفیق نہ ملے تو کم از کم اسکی تضحیک اور مذاق سے گریز کیا جائے، ورنہ کبھی نہ کبھی یہ ضمیر پر بوجھ بن سکتا ہے۔

ماہنامہ القانون محترمہ کلثوم نواز کی وفات پر شریف خاندان سے دلی ہمدردی کرتے ہوئے مرحومہ کیلئے بلند درجات کی دعا کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ شریف خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ القانون یہ بھی دعا کرتا ہے کہ شریف خاندان جن سیاسی اور قانونی مشکلات کا شکار ہے ان سے عہدہ برا ہونے کی بھی توفیق دے۔ اللہ پاک اس ملک اور اس قوم کو نیک اور صالح قیادت نصیب کرے تاکہ قوم کی تکالیف کا ازالہ ہو سکے۔ آمین

این جی اوز کیلئے جامع پالیسی۔ ایک اہم ضرورت

ماہنامہ القانون نے اپنے گزشتہ شمارے میں بھی محترم چیف جسٹس کی خدمت میں این جی اوز کے حوالے سے درخواست کی تھی اور اب دوبارہ یہ معاملہ حکومت پاکستان کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے سخت اضطراب کی صورتحال ہے، جس سے دنیا بھر میں پاکستان کا امیج بلا وجہ خراب ہورہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خود عمران خان صاحب پاکستان کے ایک بڑے سوشل ورکر ہیں اور انکا شوکت خانم ٹرسٹ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے جو ملک میں صحت اور تعلیم کیلئے شاندار خدمات انجام دے رہا ہے۔پاکستان میں ہزارہا غیر سرکاری تنظیمیں ہیں جو قومی اور مقامی سطح پر خدمت خلق کا کام سر انجام دے کر حکومت کا ہاتھ بٹا رہی ہیں۔ یہ پاکستان کی تنظیمیں ہیں، ان کو چلانے والے محب وطن اور خداداد صلاحیتوں سے مالا مال پاکستانی چلا رہے ہیں، جو اپنی ساکھ، تجربے اور قابلیت سے فنڈز اکٹھے کرتے ہیں اور عوام پر خرچ کرتے ہیں۔ اگر این جی اوز کی کار کردگی کا حکومتی کار کردگی سے مقابلہ کیا جائے تو یہ کئی زیادہ مؤثر اور شفاف ہیں کیونکہ این جی اوز کے اوپر ڈونر کی نگرانی ہوتی ہے، سخت ترین آڈٹ ہوتا ہے اور اگر زرا سی بھی کرپشن سامنے آئے تو ڈونر فوراً ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔ وقت کی پابندی اور مطلوبہ نتائج نہ دینے پر پراجیکٹ کی توسیع نہیں ہوتی، اسلئے وہاں پر کار کردگی کا معیار کہیں زیادہ بہتر ہے،اسلئے بین الاقوامی ادارے حکومت کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کو بھی شریک سفر رکھتے ہیں تاکہ ایک تو انکی صلاحیت اور تجربے میں اضافہ ہو، دوسرا وہ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرکے اپنی ساکھ کر بہتر بنا سکیں، اگر حکومت سر پرستی کرے تو ہمارے یہاں کے کئی ادارے مثالی خدمات سر انجام دیں۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں غیر سرکاری اداروں کو آزادانہ طور پر پنپنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ سابقہ حکومت میں خصوصی طور پر بلا وجہ این جی اوز کو نشانہ بنایا گیا، ایک شخص کی ذاتی اناء کی بدولت تمام داروں کو اسقدر پریشان کی گیا کہ بالآخر سپریم کورٹ کو نوٹس لینا پڑا، مگر سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد متفقہ جامع قومی پالیسی ترتیب دیئے جانے کی بجائے رپورٹیں جمع کرنے پر ہی سارا زور لگایا جارہا ہے اور ابھی تک کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے۔

القانون کی جانب سے کئی بار اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اب بھی گزارش ہے کہ پاکستان میں سوشل ویلفیئر کا ادارہ موجود ہے، کیٹگریز بنائی جاسکتی ہیں کہ کونسی این جی او سوشل ویلفیئر کے پاس رجسٹر ڈہو کر کیا کام کر سکتی ہے۔ غیر ملکی ایجنسیاں اکنامک افیئر ڈویژن کے ساتھ پہلے بھی رجسٹر ڈہوتی تھیں، اب بھی ہورہی ہیں اور اکنامک افیئر ڈویژن کی استعداد موجود ہونے کی وجہ سے یہ ادارے وزارت کی براہ راست نگرانی میں کام کررہے ہیں۔ ان کی مؤثر مانیٹرنگ کا نظام موجود ہے اسلئے اگر کوئی ادارہ کسی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے تو فوراً ایکشن بھی لیا جاتا ہے۔ یہ کارکردگی قابل مثال ہے، اسی تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے دیگر این جی اوز کو ان کے Objectives کے مطابق وزارت داخلہ میں رجسٹریشن کا پابند کیاجا سکتا ہے۔ اس پالیسی سے ابہام بھی ختم ہو جائے گا اور این جی اوز کے مسائل بھی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اگر کوئی ادارہ رجسٹریشن کی درخواست دے تو ایک مخصوص وقت کے اندر فیصلہ کرنے کی پابندی ہو۔یہاں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سالہا سال تک ایک درخواست ایک میز سے دوسری میز پر سفر طے کرتی ہے، لوگ دروازوں پر دستکیں دیتے رہتے ہیں مگر جواب نہیں ملتا۔ یہ رویہ اس تاثر کو جنم دیتا ہے کہ پیسے لگائے بغیر فائل حرکت نہیں کرتی جو کہ انتہائی غلط تاثر ہے۔ضروری نہیں کہ ہر فائل صرف کرپشن کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہو بلکہ کام کی زیادتی، عدم توجہی اور استعداد کار میں کمی کی وجہ بھی ہو سکتی ہے لیکن اگر ٹائم فریم سیٹ ہو جائے تو ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس مسئلہ پر بار بار قلم اُٹھانے کا مقصد حکومت کو یہ باور کرانا ہے کہ پالیسی کی عدم موجودگی اور سست روی کا شکار نظام غیر سرکاری تنظیموں کی Existance اور کارکردگی دونوں کو بہت برے طریقے سے متاثر کررہا ہے۔

جناب چیف جسٹس صاحب کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ بہت سے ادارے سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ چونکہ سپریم کورٹ نے نوٹس لیا ہوا ہے اور سپریم کورٹ سے توقعات بھی وابستہ ہیں کہ وہ کوئی مؤثر اور عملی احکامات جاری کرے گی۔ دوسری طرف حکومتی ادارے بھی اسی انتظار میں ہیں کہ عدالت عظمیٰ کے احکامات کی روشنی میں پالیسی ترتیب دی جائے، ایسا نہ ہو کہ حکومت پالیسی بنائے اور عدالت عظمیٰ کوئی اور ڈائریکشن دے دے۔ چنانچہ القانون غیر سرکاری تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان اور حکومت پاکستان سے یہ اپیل کرتا ہے کہ اس مسئلے کیلئے فوری اور مؤثر پالیسی ترتیب دی جائے تاکہ غیر سرکاری تنظیموں کی رجسٹریشن سے متعلق ابہام کو ختم کیا جائے اور تنظیمیں عوام کی خدمت اور حکومت کی معاونت جاری رکھ سکیں۔

عمران خان کی جانب سے افغان مہاجرین اور بنگالیوں کیلئے زبردست خوشخبری

وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان نے کراچی میں کئی دہائیوں سے مقیم بنگالیوں اور پاکستان میں چار دہائیوں سے موجود افغان مہاجرین کے ان بچوں کے لئے جو پاکستان میں پیدا ہوئے شہریت کا اعلان کرکے کئی مردہ چہروں پر زندگی کی رونق بکھیر دی ہے۔بنگالی ہمارے بھائی ہیں، انہوں نے پاکستان کیلئے قربانیاں دیں، آج بھی پنتالیس سال گزرنے کے باوجود بنگلہ دیش میں پاکستان سے محبت کے جرم میں لوگوں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں۔آج بھی بنگلہ دیش میں ایک طبقہ ایسا ہے جو بنگلہ دیش میں رہ کر بھی Stateless ہے کیونکہ نہ ہم ان کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ وہ کرتے ہیں اور ایسی ہی ایک بڑی تعداد ہمارے ہاں موجود ہے جنکو بنگلہ دیش قبول نہیں کرتا اور ہم نے بھی شہریت نہیں دی۔ لاکھوں کی تعداد میں یہ بے گھر لوگ آج بھی اپنی شناخت سے محروم ہیں، چار دھائیوں سے زائد گزر جانے کے بعد بنگالی ہوں یا افغانی ان کی پاکستان میں پیدا ہونے والی نسلیں پاکستانی ہیں، دوسری اور تیسری جنریشن پیداہو چکی ہے جو پاکستانی ہیں، جو ہماری زبان بولتے ہیں، ہماری ثقافت اپنائے ہوئے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کے پاس زندہ رہنے اورمحفوظ زندگی گزارنے کے بنیادی حق کو استعمال کرنے کے لئے نہ تو مواقع ہیں اور نہ ہی سہولیات۔ باعزت زندگی گزارنے کیلئے جن بنیادی ضرویات کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان دونوں کمیونٹیز کے پاس نہیں ہیں، یہ صرف زندہ ہیں اور زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر ان کی طرز زندگی کو دیکھا جائے تو اپنی زندگی پر رشک آتا ہے۔

یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہئے کہ دنیا میں کوئی بھی شخص بلاوجہ اپنا گھر بار، اپنی زمین جائیداد، اپنا کاروبار چھوڑ چھاڑ کر اپنے خاندان کے ساتھ تکلیفیں برداشت کرکے کسی دوسرے ملک میں تکلیف دہ زندگی کا کسی کو بھی شوق نہیں ہے۔ انسان بہت مجبور اور لاچار ہو کر اپنا گھر بار چھوڑتا ہے۔ جو لوگ افغانیوں کے پاکستان میں رہنے پر تنقید کرتے ہیں وہ اگر کسی دن مہاجروں کی بستی میں جاکر ان کی حالت زار دیکھ لیں، ان سے انکا بیک گراؤنڈ پوچھ لیں، ان سے ان وجوہات کا پوچھ لیں جن کی بدولت وہ ہجرت پر مجبور ہوئے اور پھر ان سے یہ پوچھ لیں کہ وہ واپس کیوں نہیں جارہے ہیں تو ان کو سب سوالوں کا جواب مل جائے گا اور ان کے حقوق کیلئے وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے۔ یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے بلکہ خالصتاً انسانی مسئلہ ہے مگر بد قسمتی سے اسکو سیاسی رنگ دے کر الجھا دیا گیا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ جو مہاجر پاکستان میں 1979ء میں ہجرت کرکے آئے یہ خانہ جنگی کی وجہ سے آئے اور جب زرا حالات اچھے ہوئے اور ان میں امن و امان اور زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہوئی، وہاں کے لوگ واپس چلے گئے، تقریباً پنتالیس لاکھ سے زائد لوگ اب تک ملک سے جا چکے ہیں، جبکہ ایسے علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد جہاں ابھی بھی امن و امان کا مسئلہ ہے، بنیادی سہولیات موجود نہیں، ان کے گھر بار جنگ میں تباہ ہو چکے ہیں، وہاں کوئی معاشی سر گرمی، اسکول، ہسپتال اور کام کاج کی سہولت نہیں ہے وہاں کے عوام بہ امر مجبوری پاکستان میں مقیم ہیں۔ اگر ان کو زبردستی نکالا جائے تو اسکے دو طرح کے برے اثرات پیدا ہو سکتے ہیں، ایک تو انکی اپنی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، دوسرا اتنی بڑی تعداد کو اگر فوراً واپس بھیجا جائے تو افغانستان کی حکومت انکو سنبھالنے اور آباد کرنے کے قابل نہیں ہے جسکی وجہ سے امن و امان کے مسائل بڑھ سکتے ہیں اور اگر ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوئی تو بالآخر بوجھ پاکستان پر بھی پڑھ سکتا ہے اور بڑھ بھی سکتا ہے اسلئے اسکا دائمی حل ڈھونڈنا ضروری ہے۔ مہاجرت کے جہاں بنیادی اصول ہیں کہ کون مہاجر کہلایا جائے گا، وہاں مہاجرین کے مسئلہ کے حل کیلئے بھی تین بنیادی اصول ہیں۔ان میں پہلا بنیادی اصول Repatriation ہے کہ مہاجر اپنی مرضی اور رضاکارانہ طور پر واپس اپنے ملک جائے، اس اصول کے تحت اب تک تین چوتھائی افغان مہاجرین اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔ دوسرا مقامی آبا دکاری (Local Integration) ہے اور تیسرا کسی تیسرے ملک میں آباد ہونا (Resettlement) ہے۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی برادری نے لاکھوں کی تعدادمیں مہاجرین کو اپنے ملک میں اپنی استعداد کے مطابق آباد کیا اور ان میں سے بڑی تعداد پاکستان میں مقیم اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی مالی معاونت کرتے ہیں جسکی وجہ سے پاکستان کے قومی خزانے کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ہماری درآمدات میں ایک بڑا حصہ قالین بافی اور ڈرائی فروٹس کا ہے۔ورلڈ بینک کے ایک ڈائریکٹر نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں افغان مہاجرین کے پاکستان کی اکانومی میں حصہ ادا کرنے کے اعدادو شمار پیش کرکے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔بلکہ ان کے لئے آنے والی بین الاقوامی امداد بھی پاکستان کے معاشی استحکام میں اپنا حصہ ادا کررہی ہے۔ پاکستان کے مختلف اداروں کو دیئے جانے والے عطیات جن میں حال ہی میں شوکت خانم ہسپتال پشاور کیلئے 62 لاکھ ڈالر، پنجاب کے ٹیکنیکل بورڈ کی معاونت کے علاوہ افغان مہاجرین کے رہائشی علاقوں میں متاثرہ انفرا سٹرکچر کیلئے اب تک 200 ملین ڈالر سے زائد خرچ کئے جا چکے ہیں اور مزید 300 ملین ڈالر کی امداد بھی متوقع ہے۔ اس میں اسکولوں کی اپ گریڈیشن، واٹر سپلائی کی اسکیمیں اور دیگر ترقیاتی کام شامل ہیں۔ یہ سب امدا د اِن مہاجرین کی وجہ سے آبھی رہی ہے اور استعمال بھی ہورہی ہے۔

اب آتے ہیں اس عوامی تنقید پر جو کہ حقائق سے نا آشنا طبقہ مہاجرین کے خلاف متواتر کرتا رہتا ہے کہ یہ دہشت گرد ہیں، تو انکی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ اسمیں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ملک ہے اور اس دہشت گردی کے پیچھے افغانستان اور بھارت ملوث ہیں مگر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ وہی دہشت گرد طبقہ ہے کہ جس نے افغانستان کو یر غمال بنایا ہوا ہے اور انہی کی دہشت گردی کا خوف ان مہاجرین کی وطن واپسی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آج تک کوئی بھی مہاجر کسی بھی دہشت گردی میں ملوث نہیں پایا گیا، کچھ لوگ سہولت کار ہو سکتے ہیں مگر براہ راست دہشت گردی میں ملوث نہیں پائے گئے جبکہ ریکارڈ بتاتا ہے کہ خود ہمارے پاکستانی بھائی ہی سہولت کار بنتے ہیں۔ اگر مقامی لوگوں کا تعاون نہ ہو تو دہشت گردی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ افغان مہاجرین کی تعداد کے تناسب سے اگر ان کے جرائم کا چارٹ بنایا جائے تو وہ مقامی لوگوں کی نسبت نہایت کم ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ انتہائی نا مساعد حالات کا شکار اپنے نان نفقے کے دائرے سے ہی باہر نہیں آتے ہیں، ان کو احساس ہے کہ اگر وہ کسی مشکل کا شکار ہوئے تو ان کے پیچھے ان کا خاندان مزید مسائل اور عدم تحفظ کا شکار ہو جائے گا، وہ کم معاوضے پر خدمات سرانجام دے کر اپنی زندگی کا پہیہ چلاتے ہیں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ انہوں نے محنت مزدوری کرکے اور اپنی جانفشانی سے روزگار کو ترقی دی اور بہت سے لوگ اچھے کاروبار بھی کررہے ہیں اور انکے کاروبار انکی سستی مزدوری سے مقامی لوگ بھی مستفید ہورہے ہیں، اسلئے ان کے خلاف ایسے الزامات عائد کرنا مناسب نہیں ہے۔ دنیا بھر میں پھیلے افغانی پاکستان سے محبت کرتے ہیں، چند گندے انڈے اگر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں تو یہ سوچنا چاہئے کہ ہمارے اپنے ملک میں کتنے گندے انڈے ہیں، تو کیا ان کی وجہ سے ہم سب مورد الزام ٹھہرائے جا سکتے ہیں، ہر گز نہیں، افغان مہاجرین پر امن لوگ ہیں، حکومت اور ہمارے سیکیورٹی ادارے مسلسل نگرانی کرتے ہیں،حکومتی عمائدین کو ہر چیز کا بخوبی علم ہے اور اگر کوئی زرا سی بھی خلاف ورزی کا مرتکب ہو تو سخت ترین قدم اُٹھایا جاتا ہے،ہماری انتہائی مستعد ایجنسیاں موجود ہیں جن کی موجودگی میں کسی خوف و خطر کی ضرورت نہیں۔ اب وزیر اعظم عمران خان کے بیان کی طرف آتے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کا بیان انتہائی اہم اور دانشمندانہ ہے۔ انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو قانون اور ضابطے کے خلاف ہو۔ پاکستان کے شہریت کے قانون مجریہ 1951 کی شق 11 بچوں کی رجسٹریشن کے متعلق ہے جسکی ذیل شق 2 میں درج ہے:

11-(2) The Federal Govt. may in such circumstances as it thinks fit,
register any minor, as citizen of pakistan.

اس شق کے تناظر میں وزیر اعظم پاکستان نے افغان بچوں کی شہریت کا اعلان کیا ہے۔اس کے دو فوائد ہیں، ایک تو یہ کہ ایک مناسب تعدا د کو شہریت مل جائے گی جو پاکستان میں پیدا ہوئے، یہیں تعلیم حاصل کررہے ہیں، اسی ثقافت کا حصہ ہیں اور ان کی شہریت سے کوئی تضاد پیدا نہیں ہوگا۔ دوسرا پاکستان بین الاقوامی برادری سے یہ مطالبہ کر سکے گا کہ پاکستان نے بین الاقوامی قانون کے ایک حصہ پر اسی طرح رضاکارانہ عمل کیا ہے جس طرح دستخط نہ کرنے اور کوئی بین الاقوامی ذمہ داری نہ ہونے کے باوجود انسانی ہمدردی کے تحت گزشتہ چالیس سالوں سے رضاکارانہ طور پر میز بانی کے فرائض ادا کررہا ہے۔ اسلئے اس مسئلہ کے دائمی حل میں اپنا مزید حصہ ڈال کر باقی مہاجرین کیلئے ایک مناسب ٹائم فریم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ جسکی بدولت اسی حکومت کی مدت کے دوران یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکتا ہے اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ موجودہ حکومت کا ایک تاریخی کارنامہ ہوگا اور اس تاریخی کارنامے کا سہرا وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے سر سجے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں