فیملی کیسز میں اپیل

فیملی کیسز میں اپیل


اپیل سے مراد ہے بالاتر عدالت سے فریاد کرنا، التجا کرنا، درخواست کرنا وغیرہ۔ قانون کی اصطلاح میں اپیل سے مراد وہ چارہ جوئی ہے جس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ نچلی عدالت کے فیصلہ یا ڈگری میں جو نقص رہ گیا ہو اس کی زیریں عدالت سے بڑی عدالت میں دور کیا جائے۔ مختصراً یوں کہا جا سکتا ہے کہ اپیل دراصل اپیل کنندہ کی ان شکایتوں کی صورت ہوتی ہے جو اسے زیریں عدالت کے فیصلہ یا ڈگری کے خلاف پیدا ہوتی ہے۔ ویسے تو اپیل کی سہولت ہر طرح کی عدالتی کاروائی میں موجود ہے چاہے وہ مجموعہ ضابطہ دیوانی ہو یا مجموعہ ضابطہ فوجداری، ہر طرح کے مقدمات میں اپیل کا حق موجود ہے مگر یہاں ہم عائلی معاملات میں اپیل کی کاوروائی کے بارے میں بات کریں گے۔ فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کی دفعہ 14 اپیل سے متعلق ہے۔عائلی معاملات میں کچھ مقدمے ایسے ہیں جہاں اپیل پر قدغن ہے اس کے علاوہ کچھ قواعد و ضوابط بھی ہیں جن کے تحت ہی مقدمات کی نوعیت کے اعتبار سے اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔

فیملی کورٹس ایکٹ1964 کی دفعہ14 کے تحت مروجہ قانون میں کسی امر کی موجودگی سے قطع نظر عائلی عدالت کے صادر کئے گئے فیصلے یا ڈگری کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔ مگر فیملی کورٹ کی جاری کردہ اس ڈگری کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی جا سکے گی جو خلع کی بابت ہو اور اس کے علاوہ تنسیخ نکاح کی ڈگری کی بھی اپیل نہیں ہو سکتی ما سوائے اس صورت کے کہ جب تنسیخ نکاح، مسلم تنسیخ نکاح ایکٹ 1939 کی دفعہ2 کی شق(اے)کی مد (viii) (item) میں مذکورہ وجوہات کی بناء پر کی گئی ہو۔ اپیل کا حق محدود نوعیت کا ہے۔ عائلی عدالت کے کسی بھی عبوری حکم کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی جا سکتی۔ حق مہر کے ان مقدمات میں جس میں ڈگری کی جانے والی رقم 30,000 روپے یا اس سے کم ہو اپیل نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ نان و نفقہ کے معاملات میں بھی جب نان و نفقہ 5 ہزار تک ہو تو اپیل نہیں ہو سکے گی۔

فیصلہ یا ڈگری پر اپیل

فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ14 میں واضح درج ہے کہ اپیل صرف عائلی عدالت کے جاری کردہ فیصلے یا ڈگری پر کی جا سکتی ہے۔ اگر قطعی آنے سے قبل عدالت کوئی درمیانی فیصلہ جاری کرتی ہے تو اس پر اپیل نہیں ہو سکتی۔ اپیل دراصل دعویٰ کا قطعی فیصلہ آنے کے بعد کی جانے والی کاروائی ہے۔ اپیل دعویٰ کا تسلسل ہے۔ (2015-SCMR-1403)
اپیل قطعی فیصلہ پر ہو سکتی ہے، عبوری حکم نامہ پر اپیل نہیں ہو سکتی۔ (2016-MLD-618)

اپیل کہاں دائر کی جائے؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپیل کہاں دائر کی جائے۔ دفعہ 14 میں واضح ہے کہ جب عائلی عدالت کی صدارت کسی ڈسٹرکٹ جج، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج یا کسی ایسے دیگر شخص نے کی ہو جسے حکومت کی جانب سے ڈسٹرکٹ جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کا عہدہ یا رتبہ تفویض کیا گیا ہو تو اپیل ہائی کورٹ میں کی جائے گی اور کسی بھی دیگر صورت میں ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل ہو گی۔ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ کے تحت عائلی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل صرف ڈسٹرکٹ کورٹ میں ہو سکے گی اور اس کے بعد ہائی کورٹ میں کی جا سکے گی۔ 2014 میں کوئٹہ کی عدالت نے اپیل کے فورم پر بہت تفصیل سے فیصلہ دیا۔ اپیل کے اختیار سماعت کے متعلق عدالت نے کہا کہ:
گارڈین اینڈوارڈز ایکٹ 1890 کے تحت بچے کی تحویل اور دیگر ایسے معاملات کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اسکو فیملی کورٹ ایکٹ 1964 سے جدا کرکے نہیں بلکہ یکجا کرکے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ عائلی عدالت ان معاملات میں فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کے تحت خاص اختیارسماعت رکھتی ہے۔ فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ5 عائلی عدالت کے اختیار سماعت کی حدود بیان کرتی ہے۔ بچوں کی تحویل اور والدین کی بچوں سے ملاقات کے شیڈول فیملی کورٹ کے مخصوص اختیار سماعت میں آتے ہیں۔ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کی دفعہ4(5) کو الگ پڑھنے کی بجائے فیملی کورٹ ایکٹ کی دفعہ25 کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے تحت آنے والے معاملوں کو طے کرنے کیلئے عدالت کو اس ضابطہ کار پر چلنا ہوگا جو کہ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 میں بیان کئے گئے ہیں۔ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 47 میں بیان کردہ قانون کے تحت فیصلہ شدہ معاملات کی اپیل کا فورم ہائی کورٹ ہوگا۔ فیملی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ کوئی بھی آرڈر جو کہ بچوں کی تحویل سے متعلق ہو وہ کسی بھی طرح ڈسٹرکٹ کورٹ کے آرڈرکے ہم وزن نہ ہوگا اور نہ ہی ہائی کورٹ میں اس کے دیئے گئے فیصلے کے خلاف اپیل مہیا ہوگی جبتکہ اس کے خلاف اپیل فیملی کورٹ ایکٹ کی دفعہ 14 میں مہیا نہ کی گئی ہو۔ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے تحت آنے والے معاملات کے خلاف اپیل ڈسٹرکٹ جج کے پاس دائر ہوگی ماسوائے کہ جب عائلی عدالت کی صدارت کسی ڈسٹرکٹ جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج یا کسی ایسے دیگر شخص نے کی ہو جسے حکومت کی جانب سے ڈسٹرکٹ جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کا عہدہ یا رتبہ تفویض کیا گیا ہو تو اپیل ہائی کورٹ میں دائر کی جائے گی۔ اگر نابالغ کی تحویل کی درخواست کی سماعت و فیصلہ فیملی جج نے کیا ہو جو کہ ڈسٹرکٹ جج نہ ہو، اس فیصلے کے خلاف اپیل ڈسٹرکٹ جج کو کی جائے گی۔ ایپلسٹ کورٹ نے غلط سمجھا اور غلطی کا ارتکاب کیا۔ آئینی درخواست منظور کر لی گئی اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے آرڈر کو منسوخ کر دیا گیا اور ایپلسٹ کورٹ کو ہدایت کی گئی کہ مقدمے کا فیصلہ میرٹ پر کر لے۔
(2014-PLD-39-Quetta)

کب اپیل دائر نہیں ہو سکتی

کچھ ایسی خاص صورتیں ہیں کہ اپیل دائر نہیں ہو سکتی۔ فیملی معاملات میں خلع کی ڈگری کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ درمیانی حکم یا فیصلے پر بھی اپیل نہیں ہو سکتی۔ مندرجہ ذیل میں وہ صورتیں ہیں جہاں اپیل کی اجازت نہیں دی جاتی۔

راضی نامہ پر فیصلہ شدہ دعویٰ

) ایسے عدالتی آرڈر یا ڈگری کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی جو کہ مخالف فریق کی رضامندی سے پاس کیا گیا ہو۔ (2018-CLC-Lahore-75)
) جب حکم یا ڈگری دونوں فریقین کی رضامندی پر صادر کی گئی ہو تو پھر اس کے خلاف اپیل نہیں بنتی۔
) کسی فیملی دعویٰ کا اگر فیصلہ بذریعہ حلف ہو تو اس کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی۔ (2010-YLR-218)
) راضی نامہ کی شرائط یا راضی نامہ کی بنیاد پر ڈگری کے خلاف اپیل دائر نہیں ہو سکتی۔ (2010-YLR-218 / 449)

خلع کے دعویٰ کے خلاف اپیل

دفعہ14(2) کے تحت شادی کی منسوخی کے بارے میں کسی قسم کا کوئی حق اپیل نہیں دیا۔ خلع اگر بلا شرط ہو تو اپیل ممکن نہیں مگر جہاں تنسیخ نکاح اس شرط پر ہو کہ ایک خاص رقم بدل خلع میں ہوگی اور جب تک وہ رقم ادا نہ ہو خلع قطعی نہیں ہو گی تو ایسی ڈگری دفعہ (a)(2)14 کے تحت نہیں آئے گی۔ خاتون کو حق حاصل ہے کہ وہ ایپلٹ کورٹ میں ان شرائط کو صحیح کر سکے جو کہ ڈگری میں خاوند کو مفادات کی واپسی کے سلسلے میں منسوب ہوں۔ اگر حکم بطور فیصلہ نہ ہو تو اس کی اپیل نہیں کی جا سکتی۔ فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کا مقصد گھریلو تنازعات کو جلدی حل کرنا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ خلع کے معاملات میں اپیل نہیں ہوتی۔ مگر 2018 میں عدالت نے ایک فیصلہ دیا جس کے بعد اس معاملہ میں استثنائی صورت نکل آئی۔ مقدمہ اس طرح تھا کہ ایک خاتون کو خلع کی ڈگری بدل خلع کی ادائیگی کی شرط پر عطا کی گئی یعنی جب تک کہ بدل خلع ادا نہ کیا جاتا خلع مکمل نہیں ہوتی، خاتون نے اس کے خلاف اپیل کردی،درخواست گزار نے یہ عذر لیا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ نے یہ کہہ کہ اس کی اپیل کی سماعت نہیں کی کہ یہ قبل سماعت نہیں ہے۔ ریسانڈنٹ کا کہنا تھا کہ فیملی لاء کے تحت تنسیخ نکاح بر بنائے خلع میں اپیل ہو نہیں سکتی عدالت نے اس ضمن میں کہا کہ یہ درست ہے کہ تنسیخ نکاح کی ڈگری کو ویسے تو اپیل کے ذریعے سے فسخ نہیں کیا جاسکتا ماسوائے چند معاملوں کے مگر موجودہ مقدمے میں خلع کی ڈگری ابھی قطعیت کی شکل اختیار نہیں کر سکی تھی کیونکہ بدل خلع کے طور پر مخصوص رقم شوہر کو دینے کی شرط تھی جبتکہ شوہر کو بدل خلع ادا نہ کردیا جاتا تنسیخ نکاح اپنی حتمی شکل کو نہ پہنچتی، ایسی تنسیخ نکاح بر بنائے خلع حتمی نہیں ہوتی تھی اور فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ (a)(2)14 کے دائرہ کار میں نہیں آتی تھی اور بیوی کے پاس ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی داد رسی موجود ہے۔ تنسیخ نکاح کے مقدموں میں اپیل کا حق نہ دینے کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ بیوی کو مہنگے اور لمبے مقدموں سے محفوظ رکھا جا سکے۔ بیوی فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف تب اپیل دائر نہیں کر سکتی جب اس کا مقدمہ ظلم یا دیگر عائلی قوانین میں بیان کردہ وجوہات حتیٰ کہ خلع کی بنیاد پر ہی ڈگری ہوا ہو۔ موجودہ مقدمے میں اپیل جو کہ بیوی کی طرف سے دائر ہے قابل سماعت ہے کیونکہ اس نے بدل خلع کی شرط کو بذریعہ اپیل چیلنج کیا ہے۔ ایپلسٹ کورٹ درخواست گزار کی اپیل سننے کی مجاز ہے۔ ہائی کورٹ نے ہدایات جاری کی کہ فریقین کی سماعت کے بعد فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ فریقین کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایپلٹ کورٹ کے سامنے پیش ہوں آئینی درخواست نمٹاد ی گئی۔
(2018-MLD-146-Peshawar)
) خلع کی ڈگری کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی ہے۔
(PLD-2010-Lah-308)
) خلع کی بنیاد پر دعویٰ ڈگری ہوگا البتہ جو فائدہ حاصل کیا ہے وہ بیوی واپس کرنے کی مجاز ہے لیکن خلع کا دعویٰ حق مہر کی واپسی سے مشروط نہ ہوگا۔ البتہ خاوند حق مہر کی واپسی کیلئے اپیل کر سکتا ہے۔
(2014-CLC-60)
) خلع کی ڈگری کی کوئی اپیل نہیں۔
(2001-ALJ-106-Karachi)
) دفعہ14(2) کے تحت کسی قسم کا کوئی حق شادی کی تنسیخ جو کہ خلع کی بنیاد پر ہو نہیں دیا جائے گا۔
(2001-CLC-507) (2000-CLC-2012)
) جہاں تنسیخ نکاح اس شرط پر ہو کہ ایک خاص رقم خلع کے عوض دی جائے گی اور جب تک رقم خاوند کو ادا نہ کی جائے تنسیخ قطعی نہیں ہو گی تو ایسی ڈگری مکمل نہ ہونے کی وجہ سے دفعہ14(2)(a) کے تحت نہیں آئے گی۔
(1999-MLD-3090)
) جہاں شادی خلع کی بنیاد پر عائلی عدالت کی جانب سے تحلیل ہونی ہو وہاں خاتون کو حق حاصل ہے کہ وہ ایپلٹ کورٹ میں ان شرائط کو چیلنج کرے جو ڈگری کے ساتھ منسوب ہیں۔ وہ شرائط جو کہ خاوند کو مفادات واپس کرنے سے متعلق ہوں۔ (1989-MLD-3888)
) خلع کی بنیاد پر دی گئی تنسیخ نکاح کی ڈگری قابل اپیل نہیں ہے جہاں تک جہیز کے فیصلے کا تعلق ہے وہ قابل اپیل ہے۔
(PLD-1976-Lahore-1327)
) فیملی کورٹ نے تنسیخ نکاح بر بنائے خلع کی ڈگری اس بناء پر مشروط کردی کہ بیوی خاوند کو اس کا معاوضہ ادا کرے۔ ایسی ڈگری قابل اپیل نہیں تھی۔
(1989-MLD-311)
) کوئی ڈگری صرف اس وجہ سے چیلنج نہیں کی جا سکتی کہ خاوند نے خلع کے بارے میں اتفاق نہیں کیا ہے۔ لیکن جب اسی ڈگری کو مشروط کردیا جائے کہ خاوند کو خلع کے بدلے میں ایک مخصوص رقم دی جائے تو پھر ایسا فیصلہ قابل اپیل ہوگا۔
(1982-CLC-2026) (1982-CLC-2057)

در میانی احکامات کے خلاف اپیل

فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ 14 میں واضح درج ہے کہ اپیل صرف عدالت کے فیصلے یا ڈگری پر ہی ہو سکتی ہے اور یہ فیصلہ قطعی ہی شمار ہوگا درمیانی حکم کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی کیونکہ اپیل دراصل دعویٰ کا تسلسل ہے۔
(2015-SCMR-1403)
درمیانی احکامات کے خلاف اپیل کے بارے میں عدالتوں نے یوں بیان کیا ہے کہ:
) فائنل فیصلہ جات کے خلاف اپیل ہو سکتی ہے مگر درمیانی احکامات کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی۔
(2014-CLC-330)
) فیملی کورٹ کا حکم برائے ادخال عبوری خرچہ قابل اپیل ہے۔
(2015-MLD-265)
) باپ خرچہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہے اس بنیاد پر اپیل نہیں کی جا سکتی۔ باپ قانونی طور پر بچے کو نفقہ ادا کرنے کا پابند ہے۔
(PLD-2011-Lahore-242)
) درمیانی حکم آخری فیصلہ پر اثر انداز نہ ہوگا۔
(2008-CLC-585)
) خرچہ نان و نفقہ کے دعویٰ میں اگر مدعا علیہ دعویٰ میں پیش ہونا چاہتا ہے تو اسے درمیانی حکم پر عمل کرنا ضروری ہے۔
(2016-MLD-742)
) اگر تنقیحات وضع ہونے کے بعد کوئی حکم فیملی عدالت کرتی ہے تو وہ درمیانی حکم نہ ہوگا۔ (2012-CLC-24)
) فیملی مقدمات میں درمیانی حکم کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی ہے۔
(2006-MLD-135)
) ہائی کورٹ میں عارضی خرچہ مقرر کرنے کے خلاف پٹیشن نہ ہو سکتی ہے۔
(2011-YLR-3034) (2011-YLR-1276)
(2011-YLR-4)
) فیملی عدالت کے درمیانی حکم کے خلاف رٹ پٹیشن نہ ہو سکتی ہے۔
(2010-PLJ-LHC-400) (2010-MLD-692)
) فیملی مقدماجات کے درمیانی حکم کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی۔
(2008-CLC-607)
) درمیانی حکم کے خلاف آئینی درخواست نہیں دی جا سکتی۔
(2010-CLC-797-Lahore)
) ماتحت عدالت نے ریکارڈ پر موجود مواد کے پیش نظر رد کفالت نان نفقہ مقرر کیا۔ عبوری حکم نامہ ایک ڈگری یا فیصلہ کی تعریف میں نہیں آتا۔ ایسی اپیل کی شنوائی نہیں ہے۔
(2016-MLD-618)
) عبوری حکم نامہ کے خلاف اپیل قابل پیش رفت نہیں۔
(2016-MLD-618)
) فیملی کورٹ کے جاری کردہ عبوری حکم نامہ کے خلاف کوئی اپیل نگرانی یا نظر ثانی عطا نہیں کی گئی۔
(PLD-2016-Lahore-73)

بدل خلع

بدل خلع وہ رقم یا مفادات ہیں جو کہ بیوی خلع کے بدلے میں شوہر کو دیتی ہے اور اسکے بدلے میں عدالت اس کو طلاق/ خلع کی ڈگری جاری کرتی ہے۔ بعض اوقات عدالت خلع کیلئے یہ شرط عائد کر دیتی ہے کہ بیوی زرخلع ادا کرے گی تو اسکی خلع مکمل ہوگی۔ خلع کی ڈگری کے خلاف اپیل نہیں ہو سکتی مگر ایسی کوئی بھی شرط جو کہ بیوی کو لگے کہ اس سے اسکے حق پر قدغن لگی ہے وہ اپیل کر سکتی ہے۔ 2018 کے ایک مقدمہ میں جسکا پچھلے صفحات پر ذکر بھی کیا گیا ہے یہی عدالت نے کہا کہ:
”ویسے تو اپیل کے ذریعہ تنسیخ نکاح کی ڈگری کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا ماسوائے چند معاملوں کے مگر موجودہ مقدمے میں خلع کی ڈگری ابھی قطعیت اختیار نہیں کر سکتی تھی کیونکہ بدل خلع کے طور پر مخصوص رقم شوہر کو دینے کی شرط تھی جب تک کہ شوہر کو بدل خلع ادا نہ کر دیا جاتا۔ تنسیخ نکاح اپنی حتمی شکل کو نہ پہنچتی، ایسی تنسیخ نکاح بر بنائے خلع حتمی نہیں ہوئی تھی اور فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ(a)(2)14 کے دائر کار میں نہیں آئی تھی اور بیوی کے پاس ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی دادرسی موجود ہے“۔
(2018-MLD-146-Peshawar)
) تنسیخ نکاح کی ڈگری قائم رہے گی۔ حق مہر کی حد تک خاوند کی طرف سے اپیل ہو سکتی ہے۔
(2014-CLC-60) (2011-YLR-2399)
) درخواست کی واپسی کی حد تک بیوی اپیل کر سکتی ہے۔
(2015-MLD-210)
) خلع کی ڈگری کی بابت زر خلع کی واپسی کی بابت اپیل خارج۔
(2016-MLD-1802)
) مدعیہ کا تنسیخ نکاح اور سامان جہیز کا دعویٰ ڈگری ہوا اور مدعا علیہ نے اپیل کی اور استدعا کی کہ مدعیہ اس کے زیورات واپس کردے اور زمین واپس کردے، اپیل خارج۔مدعا علیہ نے دیوانی دعویٰ کیا وہ زیر دفعہ7/11 ض د خارج۔ مدعا علیہ نے پھر فیملی کورٹ میں دعویٰ کیا وہ بھی زیر دفعہ 11 ض د فیملی کورٹ ایکٹ کی دفعہ 17 کے تحت خارج ہو گیا۔
(2012-CLC-329)
) گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ کے تحت دیا گیا فیملی کورٹ کا فیصلہ جب اسکا افسر جلیں ڈسٹرکٹ جج نہ ہو تو اس فیصلے کے خلاف اپیل ڈسٹرکٹ کورٹ میں ہوگی نہ کہ ہائی کورٹ میں۔
(1989-ALD-390)
) جب ڈسٹرکٹ جج نے اس بناء پر اپیل خارج کردی کہ اپیل نہیں کی جا سکتی تھی تو یہ عمل اپیل سننے کے اختیارات استعمال کرنے کے انکار کے مترادف تھا۔ ایسا حکم بلااختیار قانونی قرار دے کر منسوخ کردیا گیا۔
(PLD-1978-Lahore-85)
) اگر فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل نہ کی گئی ہو تو آئینی درخواست کی دائری قابل اخراج ہوگی۔
(PLJ-1989-lahore-514)

خرچہ نان و نفقہ کے دعویٰ کے خلاف اپیل

اپیل کا فورم مہیا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ متاثرہ فریق کو ماتحت فورم کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق مل سکے۔ اگر فیملی کورٹ بیوی یا بچوں کا نان و نفقہ جاری کرے جو کہ موجودہ دور کے حساب سے نہ ہو تو پھربیوی اور نابالغوں کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپیلٹ کورٹ میں جا کر ازلہ کی فریاد کریں۔ اپیل کے دائر ہونے پر معاملہ دوبارہ سے کھل جاتا ہے اور زیر غور لایا جا تا ہے تاکہ رائج کردہ قانون کے مطابق فیصلہ کیا جا ئے۔ بہت سارے عدالتی فیصلے ایسے ہیں جن میں اپیلسٹ کورٹ سے نان و نفقہ کو بڑھا دیا اور نابالغ کے مفاد کو اولین ترجیح دی۔ 2018 میں ایک مقدمہ پشاور کی عدالت میں سامنے آیا جس میں شوہر نے بیوی کو سابقہ 6 سال کا نان و نفقہ ادا کرنے کا حکم آنے کے خلاف اپیل کردی، عدالت نے جب حالات و واقعات کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ اس شخص نے گزشتہ 30 سال سے اپنی بیوی کو گھر سے نکالا ہوا تھا اور اپنی بیٹی کو نفقہ کے نام پر ایک روپیہ بھی ادا نہ کیا تھا، عدالت نے کہا کہ شادی کے دن سے بیوی اور پیدائش کے دن سے بیٹی بھی باپ ہی سے نان و نفقہ وصول کرنے کی حقدار تھی۔ شوہر نے ان دونوں پر ظلم عظیم کیا ہے، اپیلسٹ کورٹ نے صرف 6 سال کا نان ونفقہ ادا کرکے درست فیصلہ نہیں کیا، ہائی کورٹ نے اپنے آئینی اختیار سماعت کو استعمال کرتے ہوئے بیوی اور بیٹی کو گزشتہ 30 سال کا نان و نفقہ جاری کرنے کا حکم دیا۔
(2018-YLR-128-Peshawar)
) باپ اس بات پر اپیل نہیں کر سکتا کہ وہ خرچہ نان و نفقہ ادا کرنے کے قابل نہیں کیونکہ باپ قانونی طور پر بچوں کو نفقہ ادا کرنے کا پابند ہے۔
(PLD-2011-Lah-242)
) خرچہ کم کرنے اور خرچہ بڑھانے کے لئے اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
(2011-PLD-Lahore-242) (2010-CLC-110)
) کل زر کفالت کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت مرافعہ کے مالیاتی دائرہ اختیار کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔
(2016-CLC-81)
) لوئر اپیلسٹ کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے خرچہ نان و نفقہ میں اضافہ کیا ہائی کورٹ نے فیصلہ برقرار رکھا۔
(PLD-2008-Lahore-560)
) اپیلسٹ کورٹ نے غلط طور پر نان و نفقہ کی رقم 2000 سے کم کرکے 1500 کردی۔
(2015-MLD-1623-Peshawar)
) ٹرائل کورٹ کا فیصلہ عارضی تھا۔ فیصلہ عبوری ہونے کی بناء پر فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ14(3) کے تحت چیلنج نہیں کیا جا سکتاتھا۔ ایسا قانونی عذر جو کہ اپیلٹ کورٹ میں نہ اُٹھایا گیا ہو تو وہ ہائی کورٹ میں نہیں اُٹھایا جا سکتا۔ اپیلٹ کورٹ کا زیر اعتراض فیصلہ منسوخ کردیا گیا۔
(2017-MLD-485)
) اپیلسٹ کورٹ نے درست طور پر کہا کہ ترمیمی نوٹیفکیشن کے بعد نان و نفقہ دعویٰ قابل اپیل نہیں۔
(2017-YLR-802-Lahore)

نابالغ کی تحویل کے مقدمات

سرپرستی یا تحویل کے مقدمات میں اپیل کا حق مغربی پاکستان عائلی عدالتوں کے قانون 1964 کی دفعہ14 کے تحت آتا ہے۔ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 47 بھی قابل اپیل آرڈر کے بارے میں ہے۔ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ کے آرڈرز کے خلاف نابالغ کی تحویل کیلئے ایک اپیل اہل ہوتی ہے۔
ایک سول کورٹ جو کہ گارڈین کورٹ کے طور پر عمل کررہی ہو اس کے آرڈر کے خلاف دفعہ 14(1)(b) کے تحت اپیل ڈسٹرکٹ کورٹ کے روبرو دائر کی جائے گی۔ ڈسٹرکٹ جج کسی بھی مقدمے کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو ٹرانسفر کر سکتاہے جو کہ وہی اختیارات رکھتا ہے۔جب ڈسٹرکٹ جج کی جانب سے بھی اپیل خارج ہو جائے تو اگر اسکی دوسری اپیل بنتی ہو تو پھر آگے کے فورم پر جایا جا سکتا ہے۔گارڈین جج کے کسی بھی فیصلے پر اپیل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ وہ فیصلہ قطعی ہو عارضی فیصلے پر اپیل نہیں کی جا سکتی۔
) ریکارڈ سے ظاہر ہورہا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے ماں کو بچے کی عارضی تحویل دس دن کیلئے دی تھی۔ ایسی عارضی تحویل کو غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا۔ زیر اعتراض فیصلہ قطعی نہیں اور اس وجہ سے فیملی کورٹ ایکٹ کی دفعہ14(3) کے تحت اس پر اپیل نہیں کی جا سکتی جب تک کہ یہ ثابت نہ ہوجائے کہ بیان کردہ فیصلہ بچے کے مفاد میں نہیں ہے۔
(2018-CLC-50-karachi)
) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے اپیل کو اختیار سماعت نہ ہونے پر خارج کردیا۔ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کی دفعہ 47 کے تحت بیان کردہ قانون کے تحت فیصلہ شدہ معاملات کی اپیل کا فورم ہائی کورٹ ہوگا۔ فیملی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ کوئی بھی آرڈر جو کہ بچوں کی تحویل سے متعلق ہو وہ کسی بھی طرح ڈسٹرکٹ کورٹ کے آرڈر کے ہم وزن نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسکی اپیل ہائی کورٹ میں ہو سکتی ہے۔ اس اپیل کا ضابطہ کار فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ14 میں بیان کی گئی ہے۔ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے تحت آنے والے سارے معاملات کے خلاف اپیل ڈسٹرکٹ جج کے پاس دائر ہوگی ماسوائے کہ جب عائلی عدالت کی صدارت کسی ڈسٹرکٹ جج، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج یا کسی دیگر شخص نے کی ہو جسے حکومت کی جانب سے ڈسٹرکٹ جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کا رتبہ تفویض کیا گیا ہو تو ہائی کورٹ کو دی جائے گی۔ اگر نابالغ بچے کی تحویل کی درخواست کی سماعت و فیصلہ فیملی جج نے کیا ہو جو کہ ڈسٹرکٹ جج نہ ہو تو اس فیصلے کے خلاف اپیل ڈسٹرکٹ جج کو کی جائے گی۔ اپیلسٹ کورٹ نے غلط سمجھا اور غلطی کا ارتکاب کیا۔ آئینی درخواست منظور کر لی گئی اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے آرڈر کو منسوخ کرتے ہوئے اپیلسٹ کورٹ کو ہدایت دی گئی کہ مقدمے کا فیصلہ میرٹ پر کر لے۔
(2014-PLD-39-Quetta)
) عدالت نے نابالغ کی بہتری اور مفاد کو دیکھتے ہوئے عارضی حکم جاری کیا تھا جس کے خلاف اپیل، نظر ثانی اور نگرانی کی داد رسی موجود نہیں ہوتی۔
(2017-MLD-485-karachi-HC)

جہیز کے مقدمات میں اپیل

اپیل کے معاملات میں عدالت اپنا ذہن استعمال کرتی ہے کیونکہ ٹرائل نچلی عدالت کر چکی ہوتی ہے۔ اب انہی ریکارڈز کو سامنے رکھتے ہوئے اپیلسٹ کورٹ حالات و واقعات کے مطابق فیصلہ کرتی ہے۔ جہیز کے معاملات عدالت شادی کے عرصہ، لسٹ سامان، جہیز، رسیدات، عورت و اسکے والدین کے معاشی حالات سب سامنے رکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔ اب عموماً جہیز کے دعویٰ جات میں رقم سے خاتون مطمئن نہیں ہوتی جس کی بناء پر وہ اپیلسٹ کورٹ سے رجوع کرتی ہے جو کہ اس میں اضافہ یا کمی کا فیصلہ دیتی ہے۔
) مدعیہ کا دعویٰ سامان جہیز جو کہ فیملی کورٹ نے لسٹ کے مطابق ڈگری کردیا اپیلانٹ عدالت نے فیصلہ دیا کہ زیورات عورتوں کو پیارے ہوتے ہیں اور کپڑے جو استعمال ہو چکے ہیں لسٹ سے نکال دیئے جو کہ درست فیصلہ تھا۔
(2014-PLD-Lahore-131)
) مدعیہ نے 700,000 روپے کا سامان جہیز کا دعویٰ کیا۔ مزید کہا کہ اسکو کار بھی ملی۔ مدعا علیہ کا بیان تھا کہ اس نے 700,000 روپے مدعیہ کو دیئے جو کہ اس نے ناجائز استعمال کر لئے۔ مدعا علیہ نے گاڑی کی بابت کہا کہ صرف ٹرانسفر لیٹر مدعیہ کے ریکارڈ پر ہے اصل کار نہ ملی تھی۔ ماتحت عدالت نے 350,000 کا دعویٰ ڈگری کیا، دونوں فریقین کی اپیل عدالت نے خارج کردی۔ مدعیہ نے جو دستاویز شہادت میں پیش کی اس پر مدعا علیہ نے اعتراض نہ کیا ہے عدالت عالیہ نے قرار دیا ہے کہ دعویٰ درست ڈگری ہوا ہے۔
(PLD-2010-803-Lahore)
) مدعیہ کا سامان جہیز کا دعویٰ 220,000 روپے ڈگری کیا مدعا علیہ کی رٹ پٹیشن میں فیصلہ ہوا کہ ٹرائل کورٹ اور اپیلانٹ کورٹ کا فیصلہ درست ہے۔
(2010-MLD-88-Lahore)
) مدعیہ نے 235,000 کے سامان جہیز کا دعویٰ کیا جبکہ فیملی کورٹ نے صرف 20,000 روپے کی مالیت کا ڈگری کیا۔ عدالت اپیل نے اپنے حکم میں اشیاء کی قیمت 20,000 سے 100,000 کردی۔ مدعا علیہ اپنی دستاویزی شہادت میں ثابت نہ کر سکا کہ وہ غریب کاشتکار ہے اور وہ عدالت اپیل کے فیصلے میں کوئی غیر قانونی بات ثابت نہ کر سکا، آئینی درخواست خارج۔
(2010-CLC-1108-Lahore)
) سامان جہیز کے دعویٰ پر کورٹ فیس چسپاں نہ تھی اس بناء پر اپیل خارج۔
(2004-NLR-Civil-373)
) سامان جہیز کی رسیدات پیش کرنا اتنا اہم نہ ہے کیونکہ دیہاتی لوگ خریداری کے وقت رسیدیں نہیں مانگتے، مدعیہ کی رٹ منظور۔
(2010-CLC-1938)

اپیل یا رٹ

فیملی کورٹ یا گارڈین کورٹ کی جانب سے جب کوئی قطعی فیصلہ جاری کیا جاتا ہے تو پھر اس کے خلاف اگر اپیل بنتی ہو تو فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ14 کے تحت اپیلسٹ کورٹ جو کہ ڈسٹرکٹ جج پر مشتمل ہو گی اپیل کی جائے گی۔ڈسٹرکٹ جج اپیل کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی طرف منتقل کر سکتا ہے۔جب اپیلسٹ کورٹ کسی اپیل کو خارج کردے تو پھر ہائی کورٹ میں اس کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے۔ جبکہ رٹ آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت تب کی جاتی ہے جہاں کوئی دیگر داد رسی موجود نہ ہو۔ اگر داد رسی کیلئے فورم ہو تو پھر رٹ پٹیشن عدالت عالیہ خارج کر دیتی ہے۔ اصل میں اپیل دعویٰ کا تسلسل ہے۔
(2015-SCMR-1403)
) اگر کوئی فریق مقدمہ مناسب فورم چنے بغیر سیدھا رِٹ کی جانب آتا ہے تو اسکی رِٹ خارج کردی جاتی ہے۔
) فیملی عدالت کے حکم کے خلاف صرف اپیل ہو سکتی ہے ڈائریکٹ رٹ نہیں ہو سکتی۔
(2014-CLC-1038)
) فیملی مقدمات میں اپیلانٹ عدالت ڈسٹرکٹ کورٹ سے نہ کہ ہائی کورٹ۔
(2003-CLC-1492)
) اگر فیملی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی بجائے سیدھا ہائی کورٹ میں پٹیشن کردی گئی ہو تو وہ درست نہ ہے۔
(2012-MLD-1675)
) ہائی کورٹ میں عارضی خرچہ مقرر کرنے کے خلاف پٹیشن نہ ہو سکتی ہے۔
(2011-YLR-3034) (2011-YLR-1276)
(2011-YLR-4)
) فیملی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل یا ریوژن جو کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں دائر ہو سکتی ہے ہائی کورٹ میں ڈائریکٹ پٹیشن نہیں ہو سکتی۔
(2013-CLC-470)

اپیلٹ کورٹ

عائلی معاملات میں مقدموں کے فیصلوں کے خلاف اپیل ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کی جاتی ہے اور اس کو ہی اپیلسٹ کورٹ کہا جاتا ہے جہاں اپیل کا فورم دستیاب ہو۔ فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ 14 میں واضح درج ہے کہ فیملی کورٹ کے صادر کئے گئے فیصلے یا جاری کردہ ڈگری کے خلاف اپیل ہو سکتی ہے جبکہ فیملی کورٹ کی مسندپر ڈسٹرکٹ جج، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج یا کوئی دیگر شخص جسے حکومت کی جانب سے ڈسٹرکٹ جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کا عہدہ یا رتبہ تفویض کیا گیا ہو اس پر فائز ہو تو پھر ہائی کورٹ میں اپیل دائر ہوگی۔
) اپیل ایسے مہر یا جہیز کی بابت ہوں جو کہ ایک لاکھ سے زائد نہ ہو۔ ایک لاکھ روپے کی ترمیم 2015 میں ہوئی اس سے قبل 20,000 روپے مقرر تھے۔ اسکے علاوہ خرچہ نان و نفقہ کی بابت ہو جوکہ پانچ ہزار روپے ماہانہ تک ہو۔
اس کے علاوہ دفعہ 14(3) میں درج ہے کہ فیملی کورٹ کے عبوری (درمیانی حکم) کے خلاف کوئی اپیل یا نگرانی قابل پیش رفت نہ ہو گی۔ اپیل کے فیصلے کی معیاد بھی دفعہ(4)14 میں واضح بیان کردی ہے کہ اپیلسٹ کورٹ اپیل کا فیصلہ 4 ماہ کی مدت کے اندر کردے گی۔ اپیل کا حق محدود نوعیت کا ہے۔ دفعہ ہذاعائلی عدالتوں کے فیصلے اور ڈگریوں کے خلاف اپیل سے متعلق ہے۔ اپیل بر خلاف ڈگری / فیصلہ فیملی کورٹ زیر گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ1890 جب اس عدالت کا جج خود ڈسٹرکٹ جج نہ ہو تو پھر اپیل ڈسٹرکٹ جج کے پاس ہو سکتی ہے نہ کہ ہائی کورٹ میں۔ سول جج کی صدارت میں فیملی کورٹ یا دفعہ14 کے تحت ڈسٹرکٹ کورٹ کی صدارت میں عدالت اپیل کی جانب سے صادر کردہ احکام ضابطہ دیوانی کی دفعہ 115 کے تحت ہائی کورٹ کے نظر ثانی کے اختیار کے دائرہ میں نہیں آتے۔
) اپیلانٹ کورٹ نے صرف فنی خرابیوں کو درست کرنا ہوتا ہے۔
(2002-CLC-1754)
) اپیلانٹ کورٹ فیملی دعویٰ جات کیلئے ڈسٹرکٹ کورٹ ہے نہ کہ ہائی کورٹ۔
(2003-MLD-1046)
) فیملی عدالت اور اپیلانٹ عدالت نے آمدہ شہادت کا بغور نظر سے جائزہ لیکر فیصلہ کرنا ہے۔
(2003-MLD-1945)
) فیملی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ کوئی بھی آرڈر ڈسٹرکٹ جج کے آرڈر کے برابر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کے خلاف اپیل ڈائریکٹ ہائی کورٹ میں دائر ہو سکتی ہے۔ اپیل فیملی کورٹ ایکٹ 1964 میں دیئے گئے طریقہ کار کے مطابق ہی کی جائے گی۔
(2014-PLD-39-Quetta)

اپیل دائر کرنے کی معیاد

فیملی دعویٰ جات میں اپیل دائر کرنے کی معیاد 30 دن ہے۔ ان میں وہ دن شامل نہیں ہوں گے جو کہ دستاویزات نکلوانے میں شمار ہوں گے۔ ڈگری شیٹ مکمل ہونے پر اپیل کی معیاد شروع ہو جائے گی۔ اگر اپیلسٹ اپیل دائر کرنے میں دیری کرتا ہے تو اسے ایک ایک دن کی تاخیر کی وجہ بھی بیان کرنا ہوگی مگر یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ فنی نکات کی وجہ سے کسی کو بھی انصاف سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور اگر اپیل مقرری معیاد میں دائر ہو تو وہ قابل سماعت قرار دی جائے گی۔
) فیملی دعویٰ جات میں اپیل کا وقت 30 دن ہے۔
(2015-PLJ-Lahore)
) جب ڈگری کے خلاف اپیل ہو گی تو وہ ڈگری شیٹ مکمل ہونے پر اپیل کی معیاد سماعت شروع ہوگی۔
(2008-NLR-Civil-Sc-606 / 608)
) اپیل میں اپیلانٹ کو حکم ہوا کہ کورٹ فیس ادا کی جائے اور ڈگری شدہ رقم عدالت میں جمع کروائے۔ اپیلانٹ کی اپیل اس وجہ سے خارج نہ ہوگی کہ یہ فنی نکات ہیں اور فنی نکات کی وجہ سے کسی کو انصاف سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
(2005-YLR-136) (2008-NLR-Civil-127)
) فیملی کورٹ ایکٹ1964 کی دفعہ14 کے تحت اپیل کو 30 دن کے اندردائر کر دینا چاہئے۔ اس میں وہ وقت شمار نہیں ہوگا جو کہ دستاویز کی کاپی نکلوانے میں صرف ہوگا۔ بہر حال اپیلسٹ کورٹ مناسب وجوہات کی بناء پر اس مدت کو بڑھا سکتی ہے۔
(2015-CLC-632-Lahore)
) آئینی درخواست اس مدت میں دائر ہوئی جب خاوند زیر اعتراض فیصلے کو اپیل میں صلح کر سکتا تھا۔ خاوند کی ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کرنے کو بد نیتی شمار نہیں کیا جائے گا عدالت اسی صورتحال میں پٹیشن کو اپیل یا ریوژن یا اپیل کو پٹیشن میں بدل سکتی ہے اس کا انحصار معیاد پر ہوگا۔
(2015-CLC-1306-Karachi)
) عائلی عدالت کی جانب سے جاری کردہ فیصلے اور ڈگری کے خلاف اپیل مذکوری بیان کردہ فیصلے کے جاری ہونے کے 30 دن کے اندر کی جا سکتی ہے۔ اسی بیان کردہ معیاد ڈگری کے جاری ہونے کے بعد سے شمار ہوگی اور فیصلے اور ڈگری جاری ہونے کے دن کو نکال دیا جائے گا۔
(2017-YLR-275-Quetta)

عرضداشت اپیل۔ Memorandum of Appeal

عرضداشت اپیل سے مراد استدعا ہے جو کہ متاثرہ فریق اعلیٰ عدالت سے اس صورت میں بطور ادا رسی مانگتا ہے کہ اسے ماتحت عدالت کے فیصلے پر اعتراض ہے۔ اپیل کنندہ جن نکات پر اپیل دائر کرتا ہے اس کو موجبات کہا جاتا ہے۔ موجبات اپیل انتہائی احتیاط اور وضاحت سے تحریر کئے جاتے ہیں۔ انہیں نمبروار لکھنا ضروری ہے کیونکہ اپیل کنندہ یا اسک وکیل انہی موجبات پر بحث کرتا ہے جس پر اس نے اپنی عرضداشت اپیل میں انحصار کیا ہے البتہ عدالت پابند نہیں کہ اسی نکات پر فیصلہ کرے۔ اپیل دائر ہونے کے بعد عدالت اپیل فریق ثانی کو اضالتاً یا وکالتاً حاضر ہونے کا نوٹس دیتی ہے اور مقررہ تاریخ پر کھلے عام اجلاس میں بحث سننے کے بعد عدالت اپیل، اپیل پر اپنا فیصلہ صادر کرتی ہے۔

چند اہم نکات برائے عرضداشت اپیل یوں ہیں:
1۔ عرضداشت اپیل پر اپیل کنندہ ازخود یا بذریعہ وکیل دائر کر سکتا ہے۔
2۔ عرضداشت اپیل پر اپیل کنندہ اور اسکے وکیل کے دستخط ضروری ہیں۔
3۔ عرضداشت اپیل اسی عدالت کے روبرو پیش کی جاتی ہے جو با اختیار اور مجاز ہو۔
4۔ عرضداشت اپیل کیساتھ ماتحت عدالت کے حکم یا ڈگری کی نقل مصدقہ لف کرنا ضروری ہے۔

پہلی اپیل

پہلی اپیل ایک قابل قدر حق ہے اس وجہ سے عدالت کا فرض ہے کہ وہ اپنے عدالتی ذہن کا استعمال کرے۔ عائلی مقدمات میں بہت سارے ایسے معاملے ہیں جہاں پر پہلی اپیل ہی نہیں ہو سکتی اور بعض ایسے معاملات ہیں جہاں دوسری اپیل کا حق نہیں ہوتا۔
اپیل کا حق اگر استعمال نہ کیا جائے تو ستم رسید فریق ماتحت فورم کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا حق کھو دیتا ہے۔ پہلی عدالت اپیل قانون و واقعات کی عدالت ہے۔ فریقین کا مکمل مقدمہ اپیل فورم کے آگے واضح رہتا ہے۔ اپیل دائر کرنے کے بعد معاملہ دوبارہ کھل جاتا ہے اور زیر غور لایا جاتا ہے تاکہ اس وقت کے رائج کردہ قانون کے مطابق فیصلہ ہو سکے۔ اپیل کا حق نہ صرف ضابطہ کا معاملہ ہے بلکہ ایک مستقل وہ بنیادی حق ہے۔ نالش کا دائر کرنا اپنے ساتھ اس چیز کی نشاندہی رکھتا ہے کہ اس پر اپیل کے تمام حقوق فریقین کے پاس محفوظ ہیں عدالت کی اگلی روش تک محفوظ ہیں۔

لوئر اپیلٹ کورٹ

لوئر اپیلٹ کورٹ یا نچلی عدالت اپیل ابتدائی اختیار سماعت رکھنے والی عدالت کے ابتدائی حکم یا ڈگری کے خلاف دوسرے مرحلے کی قانونی چارہ جوئی ہے۔ اپیل کے ذریعہ متاثرہ فریق اعلیٰ عدالت سے اس وجہ سے دار رسی چاہتا ہے کہ ماتحت عدالت کا فیصلہ قانون اور واقعات کے برعکس ہے اور اسکے حکم یا ڈگری میں جو نقص ہے اسے دور کیا جائے۔ کسی با اختیار اعلیٰ عدالت کے سامنے ایسی عرضداشت اپیل کہلاتی ہے۔ اپیلٹ کورٹ ڈسٹرکٹ جج یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج پر مبنی ہوتی ہے۔

پہلی اپیل کے اہم نکات

پہلی اپیل کے بارے میں چند اہم نکات یوں ہیں کہ:
1۔ پہلی اپیل ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر ہوتی ہے۔
2۔ پہلی اپیل قانونی نکات اور واقعات دونوں پر ہو سکتی ہے۔
3۔ پہلی اپیل میں کسی قسم کا نقطہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔
4۔ پہلی اپیل تمام جھوٹے مقدمات کے بارے میں ہو سکتی ہے۔
5۔ پہلی اپیل حق کی بناء پر دائر کی جاتی ہے۔
6۔ پہلی اپیل میں مقدمے کے تمام واقعات کا از سر نو جائزہ لیا جاتا ہے۔
7۔ پہلی اپیل اس عدالت ہائے سماعت ابتدائی میں ہو سکے گی جو اپیل سننے کی مجاز عدالت ہے۔
8۔ ایسی ڈگری ابتدائی کی بھی اپیل ہو سکتی ہے جو یکطرفہ ہے۔
9۔ ایسی ڈگری منظور شدہ کی اپیل نہ ہوگی جسکو فریقی نے باہمی رضامندی سے قبول کرلیا ہو۔
10۔ اپیل ڈگری یا حکم کے خلاف دوسرے مرحلے کی چارہ جوئی ہوتی ہے۔
11۔ ماتحت عدالت کے نقص کو پہلی اپیل کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے۔
12۔ احکام کے خلاف اپیل بھی اسی عدالت میں کی جا سکتی ہے جس عدالت میں ڈگری کی اپیل کی جاتی ہے۔

پہلی اپیل کی صورتیں

پہلی اپیل کی دو صورتیں ہیں۔
1۔ ڈگری کے خلاف اپیل
2۔ حکم کے خلاف اپیل

دوسری اپیل کے اہم نکات

دوسری اپیل کے چند اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ دوسری اپیل ہائی کورٹ میں دائر ہوتی ہے۔
2۔ دوسری اپیل قانونی نکات پر ہوتی ہے یا پھر اختیار سماعت کی غلطی پر۔
3۔ دوسری اپیل میں کسی قسم کا نقطہ نہیں اُٹھایا جا سکتا۔
4۔ دوسری اپیل ایک رقم جو کہ مقرر کردہ ہو اس سے زائد کیلئے ہو سکتی ہے۔
5۔ دوسری اپیل کسی قانونی نقطہ یا حقائق میں کسی غلطی کی بناء پر دائر کی جاسکتی ہے۔
6۔ دوسری اپیل میں واقعات کا سرسری جائزہ لیا جاتا ہے۔
7۔ دوسری اپیل ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں دائرکی جاتی ہے۔

دوسری اپیل کی وجوہات

دوسری اپیل عموماً مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر کی جا سکتی ہے۔
1۔ جب فیصلہ رواج کے خلاف ہو جسے قانونی حیثیت حاصل ہو۔
2۔ جب غلطی یا نقص قانون جو کہ فی الوقت نافذ العمل ہے اس میں پایا جائے جس سے فیصلہ متاثر ہوتا ہے۔
3۔ جب ڈسٹرکٹ جج اپیل سننے سے انکار کردے۔

دوسری اپیل

عائلی معاملات میں دوسری اپیل بہت کم ہوتی ہے یہ عموماً قانون یا ضابطے میں غلطی کی بناء پر دائر کی جاتی ہے۔ دوسری اپیل ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر کی جاتی ہے۔
اپیل ایک اصل حق ہے اور اصل حق سے کسی کو بھی محروم نہیں کیا جا سکتا ماسوائے کہ رائج الوقت قانون میں اس کی مخالفت نہ کی گئی ہو۔

اپراپیلٹ کورٹ

اپر اپیلٹ کورٹ ہائی کورٹ کو کہا جاتا ہے۔ عائلی عدالت کے کسی بھی فیصلے کے خلاف اپیل کا مناسب فورم ڈسٹرکٹ کورٹ ہے۔ اگر وہاں کے فیصلے سے بھی اطمینان نہ ہو تو پھر ہائی کورٹ میں آیا جا سکتا ہے مگر جب تک کہ لوئر اپیلٹ کورٹ کا فورم استعمال نہ کیا سو ہائی کورٹ میں اپیل نہیں کی جا سکتی۔
) اپیلٹ کورٹ درخواست گزار کی اپیل سننے کی مجاز ہے ہائی کورٹ نے ہدایت کی کہ فریقین اپیلٹ کورٹ کے سامنے پیش ہوں۔
(2018-MLD-146-Peshawar)
) فیملی مقدمات میں اپیلانٹ کورٹ ڈسٹرکٹ کورٹ ہے نہ کہ ہائی کورٹ۔
(2003-CLC-1492)
) ہائی کورٹ میں عارضی نان و نفقہ مقرر کرنے کے خلاف پٹیشن نہیں ہو سکتی۔
(2011-YLR-3034) (2011-YLR-1276)

اپیلٹ کورٹ کے اختیارات

عدالت اپیل اختیارات برائے سماعت اپیل و تصفیہ استعمال کرتے ہوئے اپیل کے بارے میں مندرجہ ذیل احکامات صادر کر سکتی ہے۔
1۔ اپیل کو خارج کر سکتی ہے۔
2۔ اپیل کو منظور کر سکتی ہے۔
3۔ اپیل کو جزواً منظور اور جزواً خارج کر سکتی ہے۔
4۔ بغرض سماعت از سرنو ماتحت عدالت کو واپس کر سکتی ہے۔
5۔ مزید تجویز کیلئے تنصیحات وضع کر کے عدالت ماتحت کو بھجوا سکتی ہے۔
6۔ مزید شہادت لے سکتی ہے۔
7۔ ماتحت عدالت کو مزید شہادت لینے کا حکم دے سکتی ہے۔
ہائی کورٹ کے پاس یہ اختیارہے کہ وہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پٹیشن کو اپیل یا ریوژن یا اپیل کو پٹیشن میں بدل سکتی ہے۔ اس کا انحصار معیاد پر ہوگا۔ (2015-CLC-1306-Karachi)
عدالت ِ اپیل کو اپیل کا فیصلہ کرتے ہوئے وہی اختیار حاصل ہوتے ہیں جو کسی معاملہ تصفیہ طلب میں عدالت اختیار سماعت ابتدائی کو حاصل ہوتے ہیں۔ عدالت اپیل کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ بوقت ضرورت اپیل کنندہ کو فوراً اپیل میں ترمیم کرنے کا حکم دے۔وہ یہ حکم بھی دے سکتی ہے کہ اپیل کنندہ کو فوراً اپیل میں ترمیم کرنے کا حکم دے۔ وہ یہ حکم بھی دے سکتی ہے کہ اپیل کنندہ مناسب ترمیم کرنے کے بعد دوبارہ سے اپیل دائر کرے۔ عدالت ِ اپیل، اپیل کنندہ کی درخواست پر حکم التواء (Stay Order) بھی جاری کر سکتی ہے جس کے ذریعے اپیل کے فیصلے تک ماتحت عدالت کے فیصلے کو معطل کردیا جاتا ہے البتہ ایسا اختیار عدالتِ اپیل مندرجہ ذیل صورتوں میں استعمال کرتی ہے۔
1۔ ایسا حکم صادر نہ کرنے کی صورت میں اپیل کنندہ کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
2۔ اپیل کنندہ کے بغیر کسی غیر معقول تاخیر کے درخواست حکم التواء پیش کی ہے۔
3۔ اپیل کنندہ نے معقول ضمانت فراہم کی ہے۔

اپیل اور قانون معیاد سماعت

فیملی اپیل دائر کرنے کی معیاد ہے اور معیاد کا تعین قانونِ معیاد سماعت کے تحت ہوتا ہے البتہ اگر معقول وجوہات بیان کردی جائیں تو پھر عدالت اپنی صوابدید پر تاخیر کو معاف کر سکتی ہے۔ مگر اس کے لئے مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔
1۔ درخواست زیر دفعہ 5 قانونِ معیاد سماعت گزاری گئی ہو۔
2۔ تاخیر کی معقول وجوہات ہوں۔
3۔ تاخیر کی مکمل وضاحت کی گئی ہو۔
4۔ عدالت مناسب سمجھے کہ تاخیر میں معانی قرین انصاف ہو۔

اپیل کی سماعت کیلئے منظوری

اپیل قابل سماعت ہے یا نہیں اس کا فیصلہ عدالت اپیل کرتی ہے۔ اگر عدالت اپیل یہ محسوس کرے کہ پیش ہونے والی اپیل قابل پیش رفت ہے کہ نہیں۔ عدالت اپیل اگر ابتدائی بحث سننے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ بظاہر کافی وجوہات ہیں کہ اپیل کا باقاعدہ سننا ضروری ہے تو وہ اپیل کو باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے فریق ثانی کو نوٹس حاضری جاری کر سکتی ہے۔ اگر عدالت اپیل ابتدائی بحث کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ اپیل بلا جواز ہے اور اُٹھائے نکات معقول نہیں کہ اپیل کو باقاعدہ سننا جائے تو ابتدائی بحث کے بعد بغیر طلبی فریق ثانی بھی اپیل خارج کر سکتی ہے۔ عام حالات میں دوران سماعت اپیل مزید شہادت نہیں گزاری جا سکتی۔
) اپیلٹ کورٹ نے اپیل کو اختیار سماعت نہ ہونے پر خارج کردیا جبکہ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اپیلٹ کورٹ نے غلط سمجھا اور غلطی کا ارتکاب کیا۔ آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے آرڈر کو منسوخ کیا اور اپیلٹ کورٹ کو ہدایت کی کہ میرٹ کے مطابق فیصلہ کرے۔ (PLD-2014-39-Quetta)
) اپیلٹ کورٹ نے درست طور پر کہا کہ ترمیمی نوٹیفکیشن کے بعد نان و نفقہ کا دعویٰ قابل اپیل نہیں۔ (2017-YLR-802-Lahore)
) نا مکمل تنسیخ نکاح بر بنائے خلع کی ڈگری پر اپیل ہو سکتی ہے۔بیوی کے پاس ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی دادرسی موجود ہے۔ (2018-MLD-146-Peshawar)

1۔ عائلی عدالتیں اور اپیل

عائلی مقدمات میں مندرجہ ذیل وہ دعویٰ جات ہیں جہاں اپیل ہو سکتی ہے اور وہ دعویٰ جات جن میں دوسری اپیل دائر کی جا سکتی ہے ان کو ذیل میں مختصراً بیان کیا جارہا ہے۔

تنسیخ نکاح وغیرہ

خلع کے دعویٰ کی اپیل نہیں ہوتی مگر زر خلع یا ایسی خلع جو کہ مشروط ہو وہ فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعہ14 کے دائرہ کار میں نہیں آتی۔ ایسے دعویٰ کا فیصلہ اگر سول جج یا فیملی جج نے کیا ہو تو ڈسٹرکٹ جج کو اپیل کی جا سکتی ہے اور اگر فیصلہ ڈسٹرکٹ جج نے کیا ہو تو پھر اپیل ہائی کورٹ میں دائر کی جائے گی۔

معیاد اپیل

تنسیخ نکاح کے دعویٰ جات کی اپیل کی مدت 30 دن ہے اور اس میں وہ وقت شامل نہیں جو کہ فیصلے کی تصدیق شدہ کاپیاں اور ڈگری حاصل کرنے میں صَرف ہو۔

دوسری اپیل

اس مقدمے کی دوسری اپیل نہیں کی جا سکتی۔ دوسری اپیل ہائر اپیلٹ کورٹ یعنی ہائی کورٹ میں کی جاتی ہے تاہم اگر ہائی کورٹ محسوس کرے کہ ماتحت عدالت نے مناسب طریقے سے مقدمے کی کاروائی کیئے بغیر فیصلہ سنا دیا ہے تو وہ تکنیکی بنیاد پر اپیل سن سکتی ہے۔

2۔ نان و نفقہ

اگر مقدمے کا فیصلہ سول جج یا فیملی جج نے کیا ہو تو ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں اپیل ہو گی اور اگر ڈسٹرکٹ جج نے کیا ہو تو ہائی کورٹ میں اپیل دائر ہو گی۔

اپیل کی معیاد

ڈگری حاصل کرنے کے بعد 30 دن کے اندر اندر (اس میں کاپیوں کے حصول کا وقت شام نہیں)کی جا سکتی ہے۔

اپیل کیلئے عدالت کی فیس

خرچے کی رقم کے حساب سے اگر مستقبل کے خرچے کا بھی عدالت نے حکم دیا ہو تو دس سال کے کل خرچے کا ساڑھے7 فیصد کورٹ فیس ایکٹ میں زیادہ سے زیادہ فیس کی حد15 ہزار روپے تک رکھی گئی ہے۔

دوسری اپیل

اس مقدمے میں دوسری اپیل نہیں کی جا سکتی مگر ہائی کورٹ تکنیکی بنیاد پر اپیل سن سکتی ہے۔

3۔ حقوق زوجیت کی بحالی کے مقدمے

اگر فیصلہ فیملی جج نے کیا ہو تو ڈسٹرکٹ جج اور اگر ڈسٹرکٹ جج نے فیصلہ کیا ہو تو ہائی کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

اپیل کی معیاد

ڈگری حاصل کرنے کے بعد 30 دن (اس میں فیصلے کی تصدیق شدہ کاپیاں اور ڈگری حاصل کرنے کا وقت شامل نہیں)میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

اپیل کی فیس

اپیل کی فیس 15 روپے مقرر ہے۔

دوسری اپیل

اس کی دوسری اپیل دائر نہیں ہو سکتی مگر ہائی کورٹ چاہے تو تکنیکی بنیاد پر اپیل سن سکتی ہے۔

4۔ حق مہر اور جہیز کے مقدمے

اس قسم کے دعویٰ جات کا فیصلہ فیملی جج نے کیا ہو تو ڈسٹرکٹ جج اور ڈسٹرکٹ جج نے کیا ہو تو ہائی کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

معیادِ اپیل

معیاد 30 دن بعد از حصول ڈگری حذف شد وقت برائے حصول نقول فیصلہ۔

دوسری اپیل

مہر کے مقدمے کی دوسری اپیل نہیں ہوتی لیکن اگر سامانِ جہیز کے دعویٰ کی مالیت مقررہ مقدار سے کم ہو تو ہائی کورٹ فنی بنیاد پر اپیل سن سکتی ہے۔ اکتوبر2002 میں کی جانے والی ترامیم کی بدولت شادی کی منسوخی کے دعویٰ میں جہیز، نفقہ، حق مہر، بیوی کی ذاتی ملکیت کی اشیاء، بچوں کی تحویل اور والدین کا بچوں سے ملنے کے حق میں سے کوئی سا بھی دعویٰ یا سارے دعوے دائر کئے جا سکتے ہیں۔

5۔ بچوں کی تحویل یا سرپرستی

بچوں کی تحویل کے دعویٰ جات کو ڈسٹرکٹ جج یا گارڈین جج اور ہر وہ سول جج جس کے پاس گارڈین جج کے اختیار ہوں وہ یہ مقدمہ سماعت کر سکتا ہے۔ اگر ان مقدمات کا فیصلہ ایسے سول جج نے کیا ہو جس کے پاس گارڈین جج کے اختیارات ہوں تو پھر ڈسٹرکٹ جج کو اپیل کی جائے گی اور اگر فیصلہ ڈسٹرکٹ جج نے کیا ہو تو پھر ہائی کورٹ میں اپیل کی جائے گی۔

اپیل کی معیاد

ڈگری حاصل کرنے کے 30 دن کے اندر اندر اپیل کی جا سکتی ہے۔ اس میں وہ وقت شامل نہیں جو فیصلے کی تصدیق شدہ کاپیاں اور ڈگری حاصل کرنے میں صرف ہو۔

اپیل کی فیس

اپیل کی فیس قانونی طور پر 15 روپے ہی مقرر ہے۔

دوسری اپیل

ان مقد ماجات کی بھی دوسری اپیل نہیں ہوتی لیکن اگر ہائی کورٹ محسوس کرے کہ ماتحت عدالت نے مناسب طریقے سے سماعت نہیں کی تو پھر تکنیکی طور پر اپیل سن سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں