قیدیوں کے حقوق اور ذمہ داریاں

قیدیوں کے حقوق اور ذمہ داریاں


جیلوں میں قیدیوں کے انسانی حقوق کی تلفی اور جیلوں کا غیر انسانی ماحول ہمارے نظام تعزیر کی ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔ قیدیوں کی بڑی اکثریت جیل میں اپنے قانونی حقوق سے بے خبر ہے۔حالانکہ جیل قواعد کے تحت قیدیوں کو ان کے حقوق و فرائض سے آگاہ کرنا جیل انتظا میہ کی ذمہ داری ہے۔ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے قیدیوں کی بے خبری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اردو زبان میں جیل قواعد کا کوئی ایسا خلاصہ/ کتابچہ قیدیوں کی دسترس میں نہیں جسے پڑھ کر قیدی اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہو سکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جیل قواعد کا آسان اردو زبان میں خلاصہ یا کتابچہ ترتیب دیا جائے۔ اس مقصد کیلئے اس میں قیدیوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ ان کے فرائض اور جیل میں دی جانے والی سزاؤں کو بھی اختصار کے ساتھ بیان کیا جائے اور اسے جیلوں میں مناسب مقام پر لٹکایا جائے تاکہ شعور و آگہی حاصل ہو سکے۔ 1996 ء کے آغاز میں سرحد اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے جیل قواعد کی اصلاح کے لئے کچھ سفارشات منظور کی تھیں جن کی روشنی میں جیل کے قواعد میں ترامیم بھی تجویز کی گئیں۔ صوبہ سرحد سمیت ملک کے تمام صوبوں میں جیلوں کی صورتحال کم وبیش ایک جیسی ہے۔ ان سفارشات کو ذیل میں بیا کیا جارہا ہے۔

1۔ قیدیوں کے لئے غذا کا موجودہ اسکیل ناکافی ہے اس میں اضافہ کیا جائے۔
2۔ سیاسی قیدیوں کو بھی اعلیٰ درجے (Superior Class) کے قیدیوں میں شامل کیا جائے۔
3۔ اعلیٰ درجے کے قیدیوں کے لئے روزانہ ورزش کا وقت نصف گھنٹے سے بڑھا کر صبح اور شام دونوں اوقات میں دو گھنٹے کیا جائے۔
4۔ قیدیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کو روکنے کے لئے سپرنٹنڈنٹ جیل کے صوابدیدی اختیارات ختم کئے جائیں۔
5۔ خواتین قیدیوں کو سوتی دری کے ساتھ پانچ سینٹی میٹر موٹا فوم کا گدا بھی مہیا کیا جائے۔
6۔ قیدیوں کو مطالعہ کے لئے بازار میں قانونی طور پر فروخت ہونے والا مطبوعہ مواد حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔
7۔ اعلیٰ درجے کے قیدیوں کے لئے نہانے کا صابن اورصفائی کے دیگر سامان کی مقدار بڑھائی جائے۔
8۔ اعلیٰ درجے کے قیدیوں کو جیل حکام کے علم میں لاکر خوراک، لباس اور بستر سے متعلق اشیاء باہر سے حاصل کرنے کی اجازت دی جائے۔
9۔ ہفتے بھر میں خط لکھنے اور ملا قاتیں کرنے کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور رات کوروشنی کا وقت بھی دس سے بڑھا کر بارہ بجے تک کیا جائے۔
10۔ ہر جیل میں قیدیوں کو فراہم کی جانے والی خوراک کا معیار پرکھنے کے لئے سینئر اور سمجھدار قیدیوں پر مشتمل”فوڈ کمیٹی“بنائی جائے۔
11۔ قصاص اور دیت آرڈیننس کی روشنی میں تجویز کیا جاتا ہے کہ مظلوم کا ولی خواہش ظاہر کرے تو اسے مجرم کو سزا دیتے وقت موقع پر موجود رہنے کی اجازت دی جائے۔
12۔ شدیدبیماری یا کسی ہنگامی صورتحال میں قیدی کے رشتہ داروں یا دوستوں کو ٹیلی فون یا ٹیلی گرام کے ذریعے سے بلوایا جائے۔
13۔ قیدی کو بھی خط لکھنے اور ملاقات کی اجازت دی جائے۔
14۔ ملاقات کرنے والا نابالغ ہو یا کسی اور وجہ سے اس کے پاس قومی شناختی کارڈ نہ ہو تو ایسی صورت میں اسے شناختی کارڈ کی بجائے اپنی شناخت کے لئے کوئی دوسرا ذریعہ استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔
15۔ قیدی کو اپنی ضروریات کا سامان خریدنے کے لئے اپنے پاس 250 روپے تک کی رقم رکھنے کی اجازت دی جائے۔
16۔ باہر سے وصول کئے جانے والے سامان کی مقدار کی حد بڑھائی جائے۔
17۔ کوڑوں کی سزا، بیڑیاں لگانے کی سزا اور انسانی حقوق سے متصادم دیگر سزائیں ختم کی جائیں۔ اسی طرح نو آبادیاتی دور کی یادگار ان دفعات اور طور طریقوں کو بھی ختم کیا جائے یا تبدیل کیا جائے جو انسانی شرف و وقار کے منافی ہیں۔
18۔ خاتون قیدیوں کو اجازت دی جائے کہ وہ آٹھ سال کی عمر تک کے چھوٹے بچوں کو اپنے ساتھ رکھ سکیں۔ لڑکی کے بالغ ہونے کے بعدمجاز حکام اس کی شادی کا بندوبست کرے اگر قیدی عورت کے رشتہ دار یا احباب اس پر تیار نہ ہوں کہ وہ آٹھ سال سے زائد عمر کی لڑکی کو اپنے پاس رکھیں تو آٹھ سال سے زیادہ عمر کی بچیوں کو بھی اپنی قیدی ماؤں کے پاس رہنے کی اجازت دی جائے۔
19۔ انسپکٹر جنرل جیل کی طرف سے جیل ملازمین کو انعام دینے کی حد سو روپیہ بہت معمولی ہے۔ اس حد میں اضافہ کرکے ہزاروں روپیہ تک کیا جائے اسی طرح قواعد کے مطابق انسپکٹر جنرل کو تعریفی اسناد بھی جاری کرنی چاہئیں۔ سپرنٹنڈنٹ جیل کو قواعد کے مطابق چیف وارڈر، ہیڈ وارڈر اور وارڈر کو انکی اعلیٰ خدمات کی تعریفی اسناد کے ساتھ پانچ سو روپیہ تک انعام دینے کا اختیار دیا جائے۔ جیل ملازمین کے علاوہ بھی انسپکٹر جنرل جیل کی طرف سے دیگر افراد کو انعام دینے کی حد بڑھا کر ہزار روپے تک کی جائے۔
20۔ تحفظ کی خاطر کسی قیدی کو بیڑیاں پہنانے کی ذیادہ سے ذیادہ مدت چھ ماہ سے گھٹا کر دو ما ہ کی جائے اگر سپرنٹنڈنٹ جیل اس مدت کے بعد بھی بیڑیاں لگانا ضروری سمجھے تو وہ انسپکٹر جنرل کو تمام صورتحال سے آگاہ کرکے اس سے منظوری حاصل کرے۔
21۔ صوبائی اسمبلی کے ارکان کو جیل کا معائنہ کرنے کا جو استحقاق دیا گیا ہے اسے جیل قواعد کا حصہ بنایا جائے۔
22۔ سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ سمیت جیل کا تمام عملہ یونیفارم میں ہونا چاہئے۔

یہ وہ سفارشات تھیں جو سرحد اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے 22 جنوری1996ء کو جیلوں کی اصلاح کے لئے منظور کیں۔ جن کی روشنی میں جیل کے قواعد میں ترامیم بھی تجویز کی گئیں۔ اب ہم جیل قواعد (Prison Rules) کو بیان کرتے ہیں۔

حصہ اول۔ (قیدیوں کے حقوق)
1۔ خوراک کا حق:۔

(الف) ناشتہ عام قیدی فی کس (قاعدہ۔472)چائے پتی 23 گرام۔ دودھ58 گرام۔گڑ29 گرام یا 15 گرام چینی۔گندم کا آٹا58 گرام۔
اگر بعض قیدی چائے پسند نہ کریں تو جیل سپرنٹنڈنٹ کو موزوں نعم البدل فراہم کرنے کا اختیار ہے۔

حکومت کی ترامیم

سوموار۔ بدھ۔ جمعہ۔ ہفتہ۔
روٹی58 گرام گندم کے آٹے کی۔ چائے پتی2 گرام۔ چینی15 گرام۔ دودھ 58 گرام۔
اتوار۔ منگل۔ جمعرات۔
گندم کا دلیہ58 گرام۔ دودھ29 گرام۔ چینی29 گرام۔ چائے پتی2 گرام۔
(ب) عام قیدی کے لئے دوپہر وشام کا کھانہ:۔
(قاعدہ۔ 473)
گندم کا آٹا291 گرام۔ مشقتی قیدی 232 گرام۔ حوالاتی اور غیر مشقتی قیدی دال36 گرام۔ سبزیاں 58 گرام۔ نمک7 گرام۔ روغن و بناسپتی 9 گرام۔ مرچ1.16 گرام۔ ہلدی 0.58 گرام۔ لہسن وپیاز1.16 گرام۔
یہ واضح رہے کہ ایک ہی قسم کی دال متواتر دو کھانوں میں مہیا نہیں کی جائے گی۔ سبزی کاٹ کر پکے گی اور ہفتے میں دو مرتبہ 58 گرام فی کس کے حساب سے گائے کا گوشت مہیا کیا جائے گا۔ ہندو اور سکھ قیدیوں کو گوشت کی بجائے آلو دیئے جائیں گے۔
ہر ماہ کی پہلی جمعرات کو 233 گرام چاول فی قیدی کے حساب سے پلاؤ یا زردہ کے طور پر پکائے جائیں گے۔چاولوں میں گائے کا گوشت پلاؤ پکانے کے لئے استعمال کیا جائے۔ جب گوشت پکایا جائے تو کسی کھانے میں دال مہیا نہیں کی جائے گی۔ پلاؤ اور زردہ میں 12 گرام گھی فی قیدی کے حساب سے دالا جائے گا اور گرم مصالحہ بھی۔
پلاؤ کے لئے مصالحہ جات:۔
الائچی بڑی1.16 گرام۔ زیرہ1.16 گرام۔ دال چینی1.16 گرام۔ زردہ کیلئے گڑ117 گرام فی کس۔
(ج) بہتر کلاس کے قیدیوں کی خوراک کا پیمانہ:۔
(قاعدہ نمبر 260)
آٹا 583 گرام۔ دال117 گرام۔ چھوٹا گوشت175 گرام۔ دودھ233 گرام۔ بناسپتی گھی29 گرام۔ چینی58 گرام۔ چائے کی پتی 7 گرام۔ دودھ چائے کیلئے117 گرام۔ سبزی و آلو117 گرام۔ نمک 15 گرام۔ مصالحہ جات15 گرام۔ (سبزی کھانے والوں کو چھوٹا گوشت نہیں دیا جائے گا اور ان کو سبزی 233 گرام اور دودھ583 گرام دیا جائیگا)۔
i۔ انسپکٹر جنرل(جیل)حکومت کی منظوری سے خوراک کے درج بالا پیمانے میں مقامی حالات کی مناسبت سے ترمیم و اصلاح کر سکتا ہے۔
ii۔ گوشت کھانے والے 175 گرام گوشت کی قیمت کے برابر انڈے،مچھلی، کلیجی، گردے اور مغز وغیرہ بھی لے سکتے ہیں اگر یہ اشیاء مہیا ہوں۔
iii۔ غیر ملکی قیدیوں یا ان پاکستانی قیدیوں کو جو مغربی انداز کی غذا کھانے کے عادی ہوں گندم کے آٹے کی جگہ 467 گرام ڈبل روٹی مہیا کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح چاول کھانے والوں کو 583 گرام آٹے کی جگہ 467 گرام چاول بھی مہیا کئے جا سکتے ہیں۔
iv۔ اے کلاس کے قیدی اپنے خرچ پر اپنی غذاء میں سادہ قسم کی اضافی اشیاء شامل کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے انہیں رقم سپرنٹنڈنٹ کے پاس جمع کروانی ہوگی۔
v۔ سپرنٹنڈنٹ جیل اعلیٰ کلاس کے قیدیوں کو رشتہ داروں اور دوستوں سے وقتاً فوقتاً پھولوں کے تحفے وصول کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء اور سامان تعیش وصول کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
vi۔ خوراک کے منظور شدہ پیمانے کی فہرست قیدیوں کے کمروں اور بیرکوں میں آویزاں کی جائیں گی
vii۔ بیمار قیدیوں اور حاملہ خواتین کے لئے زائد خوراک مہیا کی جائے گی۔

2۔ پینے کے صاف پانی کا حق:۔

(قاعدہ 802,769,765,504)
تمام قیدیوں کو خالص کلورین ملا پانی وافر مقدار میں مہیا کیا جائے گا۔

 3۔ رمضان المبارک میں خوراک:۔

(قاعدہ۔477)
وہ قیدی جو رمضان کے مہینے میں روزے رکھتے ہیں انہیں رمضان المبارک میں فی قیدی اضافی خوراک مندرجہ ذیل پیمانے پر دی جائے گی۔
موسم گرما:۔ دودھ233 گرام۔ برف233 گرام۔ گڑ58 گرام۔ (یہ اجزاء شربت میں تبدیل کئے جا سکیں گے)
موسم سرما:۔ دودھ117 گرام۔ گڑ58 گرام۔ چائے کی پتی2.3 گرام
(سحری کرنے والے قیدیوں کو صبح ناشتہ نہیں دیا جائے گا)۔

4۔ عیدین پر خوراک:۔

(قاعدہ۔ 475)
قیدیوں کو عید الفطر اور عید الاضحی کے موقعوں پر خصوصی خوراک مہیا کی جائے گی۔
عید الفطر:۔ صبح:سویاں، دودھ اور چینی کے ساتھ۔ دوپہر: گائے کا گوشت اور سبزی روٹی۔ شام: پلاؤ، گائے کا گوشت اور سبزی۔
عید الاضحی:۔ صبح:حلوہ۔ دوپہر: گائے کا گوشت اور سبزی روٹی۔ شام: پلاؤ گائے کا گوشت اور سبزی۔
یہ خصوصی خوراک فی قیدی درج ذیل حساب سے دی جائے گی۔
صبح: سویاں 58 گرام۔ چینی58 گرام۔ دودھ233 گرام۔ گندم کا آٹا87 گرام۔ بناسپتی گھی29 گرام۔
دوپہر: گائے کا گوشت58 گرام۔ بناسپتی گھی12 گرام۔ سبزیاں 58 گرام۔
شام: گائے کا گوشت58 گرام۔ چاول233 گرام۔ بناسپتی گھی29 گرام۔ گائے کا گوشت سبزی کیلئے58 گرام۔ گھی12 گرام۔ سبزیاں 58 گرام۔
(ہندو، سکھ اور عیسائی قیدیوں کو بھی ان کے اسی قسم کے تہواروں پر خصوصی خوراک دی جا سکے گی(۔

5۔ کپڑے، بسترو دیگر اشیاء کا حق:۔

(قاعدہ۔ 518)
عام قیدی کے لئے کپڑے۔
مرد قیدی: دو سوتی کرتے، دو سوتی شلواریں، ایک سوتی ٹوپی، ایک جانگیہ، ایک چادراور ایک تولیہ۔
عورت قیدی: دو عدد نرم و ملائم قمیض، دو نرم شلواریں، دو ملائم گاڑھے دوپٹے، ایک تولیہ، دو آزار بند، دو رومال برائے حفظان صحت، بستر کی چادر، گرمیوں میں دوعدد اور سردیوں میں ایک عدداگر شیر خوار بچے ہمراہ ہوں تو فیڈر چھ ماہ میں ایک، نپل ایک ماہ میں ایک، پاؤڈر اور صابن وغیرہ۔

بستر مرد قیدیوں کے لئے:۔
ایک دری، ایک کمبل، ایک منج کی چٹائی، دوکمبل(موسم سرما)۔

بستر عورت قیدیوں کے لئے:۔
ایک چارپائی، ایک دری،ایک اور دری ایک گدا، ایک تکیہ اور غلاف دو کمبل(سرما)۔
نوٹ: (جیکٹ اور جرسی یکم اکتوبر کو دی جائیں گی اور14-15 اپریل کو واپس ہوں گی)۔
برتن:۔ ایک ایلومینیم کپ، ایک ایلومینیم پلیٹ، ایک ایلو مینیم مگ(مردوعورت قیدیوں کے لئے)۔

دیگر اشیاء:  مرد قیدیوں کے لئے۔
کپڑے دھونے کا ایک صابن، ٹائلٹ صابن 115 گرام، کڑوا تیل22 گرام ہفتہ کے لئے۔

عورت قیدیوں کے لئے:۔
کپڑے دھونے کا صابن ہفتہ کے لئے ایک،ٹائلٹ صابن117 گرام پندرہ دن کے لئے، 120 گرام تیل دو پراندے، دو عدد کنگھی اور دو عدد بنیان۔

بہتر کلاس قیدیوں کے کپڑے:۔ (قاعدہ۔ 261) کپڑے / بستر
مرد قیدی:۔ دو کرتا دو شلواریں یا پاجامے، دو آزاد بند، دو ٹوپیاں، دو سوتی غلاف، تکیہ بستر کی دو چادریں، ایک کمبل اورایک سوتی دری۔
عورت قیدی:۔ ایک قمیض، دو شلواریں، دوپٹے، دو سوتی غلاف، تکیہ، بسترکی چادریں، ایک کمبل ایک موٹی دری+ ایک عدد رومال+ ایک عدد تولیہ (اونی جرسی اور کمبل موسم سرما میں ملیں گے)۔

رہائش کا حق

(قاعدہ۔745 تا775)
1۔ ہر قیدی کو درجہ کے لحاظ سے جگہ ملے گی۔
2۔ نئے تعمیر شدہ وارڈیا کوٹھڑی / بیرک کوجیل میڈیکل افسرقابل استعمال قرار دیں تو قیدیوں کے تصرف میں لایا جائے گا۔
3۔ گنجائش سے زائد قیدی نہ بھرے جائیں گے۔
4۔ عمومی صفائی کے ساتھ برتن، باتھ رومز کی صفائی کا خاص اہتمام ہوگا۔
5۔ کوٹھڑیوں اور صحن کی خصوصی صفائی روزانہ ہوگی۔

تعلیم و تربیت کا حق

(قاعدہ۔679)
تمام ناخواندہ قیدیوں کو ایک تنخواہ دار استاد کے ذریعے پرائمری تک روزانہ ایک گھنٹہ تعلیم دی جائے گی۔ جنہیں پڑھے لکھے قیدیوں کا بھی تعاون حاصل ہوگا۔ مذہبی تعلیم سب قیدیوں کے لئے ضروری ہوگی۔ جو قیدی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہیں انہیں سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ پنجاب کی جیلوں میں روزانہ دو گھنٹے تعلیم ہوگی۔

اپیل کا حق

(قاعدہ۔91 90-)
سپرنٹنڈنٹ جیل ہر سزا یاب قیدی کو اپیل دائر کرنے کی مقررہ مدت سے آگاہ کرے گا اس مقصد کیلئے اسے ہر سہولت دی جائے گی۔
اپیلوں کیلئے درج ذیل معیادیں مقرر ہیں۔
1۔ کسی مجسٹریٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل 30 دن۔
2۔ سیشن جج کو اپیل 30 دن۔
3۔ سزائے موت کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل 7 دن۔
4۔ تمام دیگر مقدمات میں ہائیکورٹ میں اپیل 7 دن۔
5۔ سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت سے عرضداشت 30 دن۔
6۔ اپیل کی درخواست جیل سپرنٹنڈنٹ کو پیش کرنے کیلئے قانون میعاد 1908 کی پیروی کی جائے گی۔
7۔ جیل سپرنٹنڈنٹ کسی سزا یاب قیدی کی اپیل کو نہیں روکے گا خواہ یہ ذائد المیعاد ہی کیوں نہ ہو۔

طبی علاج کا حق

(قاعدہ۔ 788 تا800)
بیماری کی شکایت کرنے والے ہر قیدی کو جیل میڈیکل افسر کے پاس لایا جائے گا جو اس کا معائنہ کرے گا اور اس امر کا فیصلہ کرے گا کہ آیا بیرونی مریض کے طور پر اس کا علاج کیا جائے یا اسے جیل کے ہسپتال میں داخل کیا جائے۔
ہر مریض قیدی کو ایک آہنی پلنگ، روئی بھرا گدا اور ایک تکیہ، ایک غلاف، دو بستر کی چادریں،ایک سوتی کرتا، ایک پاجامہ، ایک تولیہ،سردیوں میں ایک اونی جیکٹ اور اتنے کمبل ملیں گے جتنے میڈیکل افسرضروری سمجھے۔کمبلوں کی صفائی کا خاص اہتمام کیا جائے گا۔خوراک تیار کرنے کیلئے ہسپتال کے احاطہ میں ایک الگ باورچی خانہ ہوگا۔

عزت نفس برقرار رکھنے کا حق

(قاعدہ۔ 1065)
قید خانے کا ہر افسر ہمہ وقت ایسے رویے سے اجتناب کرے گا جو کسی قیدی کیلئے غیر ضروری اشتعال اور پریشانی کا موجب ہو اور ہر قیدی سے انسانی،دانشمندانہ، شائستہ اور انتہائی غیر جانبدارانہ سلوک روا رکھے گا۔

مذہبی معاملات کا حق

(قاعدہ۔ 681)
1۔ کسی قیدی کے مذہب میں غیر ضروری مداخلت کی اجازت نہ ہوگی۔
2۔ ہر قیدی کو اپنے عقیدے کے مطابق خاموشی اور نظم و ضبط کے ساتھ عبادت کرنے کی اجازت ہوگی۔
3۔ قیدیوں کو با جماعت نماز پڑھنے کی اجازت ہوگی بشرطیکہ وہ اس بات کا ذمہ لیں کہ جماعت کے دوران ان کا طرز عمل مناسب رہے گا۔ باجماعت نماز کا اہتمام بالعوم قید خانے کے صحن یا احاطوں میں کیا جائے گا۔ سزائے موت کے قیدیوں اور بطور سزا کوٹھڑیوں میں بند کے سوا تمام قیدیوں کو نماز جمعہ اور عیدین پڑھنے کی اجازت ہوگی۔ امامت کیلئے باہر سے مولوی صاحب بلانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
4۔ مسلمان قیدیوں سے ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کی توقع کی جائے گی۔ سحری رات کے وقت پکائی جائے گی اور قیدیوں کو تازہ اور گرم گرم فراہم کی جائے گی انہیں باسی کھانہ نہیں دیا جائے گا۔

قیدیوں کی اصلاح

(قاعدہ۔1065)
قیدیوں کی اصلاح کی جائے گی کہ وہ دوبارہ معاشرے کے مفید و شریف شہری بن سکیں۔ ان کے ساتھ کوئی ایسا رویہ نہیں رکھا جائے گا کہ جس سے انہیں اشتعال ملے یا وہ بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی غلط اقدام کریں۔

حصہ دوم۔ (قیدیوں کیلئے رعایتیں جو جیل کے حکام دے سکتے ہیں)
سزا میں معافی

(قاعدہ۔198 تا223)
سزا یاب قیدی جس کی سزا چار ماہ یا زائد ہو کام کرنے اور نیک چلن رہنے پر کل سزا کی ایک تہائی معافی حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح سزائے محض کے قیدی بھی یہ معافی حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ رضاکارانہ طور پر کام کرنے کی خواہش ظاہر کریں اور ایک ماہ لگاتار کام کریں اس کے علاوہ قیدیوں کا سالانہ خصوصی معافی بھی جیل افسران و حکومت سے سکتے ہیں جسکا پیمانہ درج ذیل ہے۔
سپرنٹنڈنٹ جیل:۔ 30 دن، آئی جی جیل خانہ جات60 دن،صوبائی حکومت وفاقی حکومت60 دن۔
علاوہ ازیں مقررہ عرصوں میں ہر بار خون کا عطیہ دینے پر قیدی 30 دن کی معافی حاصل کر سکتا ہے۔

پنجاب میں ترمیم

سال میں مڈل تا ایم اے یا ایل ایل بی یا ناظرہ قرآن پڑھنے یا اسلامی تعلیم حاصل کرنے پر قیدی سزا کے تناسب سے دو ماہ سے چھ ماہ تک (سال میں ایک امتحان پاس کرنے پر)خصوصی معافی حاصل کر سکتے ہیں۔
صوبہ پنجاب میں قاعدہ نمبر 215 میں خصوصی ترمیم کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے والے قیدیوں کو سزا میں تخفیف کی خصوصٰ رعایتیں دی گئی ہیں۔ ابتدائی کلمات اور نماز کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی معافی سے لیکر قرآن پاک حفظ کرنے اور دیگر تعلیمی امتحانات پاس کرنے والوں کو قواعد کے مطابق پندرہ دن سے لیکر تین سال تک سزا میں تخفیف حاصل ہو سکتی ہے۔ قاعدہ نمبر215 کے تحت مختلف امتحانات کیلئے ایک کمیٹی بنائی جاتی ہے سزا میں تخفیف آئی جی جیل کے خصوصی حکم سے ملتی ہے اس اصلاحی قدم کی دوسرے صوبوں کو بھی پیروی کرنی چاہئے۔

ملاقات کی رعایت

(قاعدہ۔554 تا563)
1۔ سزا یاب قیدی کو اپیل کی تیاری،نگرانی یا ضمانت کیلئے رشتہ داروں،دوستوں اور قانونی مشیر سے ملاقات کی سہولت مل سکتی ہے۔
2۔ جائیداد کے انتظام یا گھریلو معاملات کو نمٹانے کیلئے رشتہ داروں اور دوستوں سے خصوصی ملاقات کی اجازت مل سکتی ہے۔
3۔ ہر سزا یاب قیدی کو اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ہفتہ میں ایک دن ملاقات کی اجازت ہوگی۔
4۔ قیدیوں کو ملاقات کے وقت اپنے استعمال کیلئے مندرجہ ذیل اشیاء مہینے میں ایک مرتبہ وصول کرنے کی اجازت ہوگی۔؎
i۔ گڑ،شکر، چینی ایک کلو866 گرام۔
ii۔ سگریٹ،پندرہ ڈبیاں (دس سگریٹ کی ایک ڈبی)
iii۔ گھی ایک کلو866 گرام۔
iv۔ سرسوں کا تیل933 گرام۔
v۔ نہانے کا صابن دوٹکیاں۔
vi۔ کپڑے دھونے کا صابن 932 گرام۔
vii۔ بیڑا(نسوار)233 گرام۔
viii۔ گڑ،شکر اور تیل رکھنے کیلئے ایک ٹین رکھنے کی اجازت ہوگی۔
حوالاتی، سیاسی اور دیوانی قیدیوں کو مناسب اوقات پر مناسب پابندیوں کے تحت اپنے رشتہ داروں اور قانونی مشیروں سے ملاقات یا تحریری رابطہ کرنے کی معقول اجازت دی جائے گی۔

خطوط کی رعایت

(قاعدہ۔538 تا565)
ہر قیدی کو اپنے عزیزو اقارب کو خط لکھنے کی اجازت دی جائے گی۔ سزائے موت کے قیدیوں کو ہفتے میں ایک خط کی اجازت ہوگی۔

نجی حسابات سے خریداری

(قاعدہ۔478)
زیر سماعت قیدیوں (حوالاتی)کو قواعد کے تحت اشیاء خریدنے کیلئے اپنے دوستوں یا رشتہ داروں سے رقم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔

سگریٹ نوشی کی رعایت

(قاعدہ۔683)
قیدی اپنے خرچے سے سگریٹ پی سکتے ہیں مگر سگریٹ نوشی جیل فیکٹری میں اوقات کار کے دوران منع ہے نمبردار، مقدم وغیرہ دوران ڈیوٹی سگریٹ نہیں لائیں گے قیدی ماچس رکھ سکتے ہیں۔

حجامت کی سہولت

(قاعدہ۔ 682)
ہر غیر سزا یافتہ قیدی (حوالاتی)سزا یافتہ یا سزائے محض کے قیدیوں کی حجامت یا صفائی جتنے عرصے کے بعد مناسب ہو جیل کے حجام خانے میں کی جائے گی۔جو قیدی پہلے سے شیو کے عادی ہوں جیل میں ان کی شیو حجام خانہ میں ہوگی۔شیو کرتے وقت اسیران کو ہتھکڑی نہیں پہنائی جائے گی البتہ جن کا کردار ٹھیک نہیں ان کیلئے اس کا استعمال احتیاط سے ہوگا۔قیدیوں کو بلیڈ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی البتہ زیریں بال صاف کرنے کیلئے پاؤڈر مہیا کیا جائے گا۔

تعلیم کی رعایت

(قاعدہ۔679)
تمام ناخواندہ قیدیوں کو تنخواہ دار استاد تعلیم دیں گے جس میں انکی اعانت تعلیم یافتہ قیدی بھی کریں گے مذہبی تعلیم تمام قیدیوں کیلئے لازمی ہوگی۔اعلیٰ تعلیم کی خواہش رکھنے ولے قیدیوں کو سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔ہر قید خانے میں ایک اچھا مناسب کتاب خانہ ہوگا۔قیدی کو کتاب لینے کی اجازت ہوگی۔قیدیوں کو اپنے خرچے پر ایسے اخبار و رسائل لینے کی اجازت ہوگی جو منظور شدہ فہرست میں درج ہیں۔قیدیوں کو سرکاری خرچ پر مہیا کردہ روزنامے پڑھنے کی بھی اجازت ہوگی۔

کھیلوں کی رعایت

(قاعدہ۔678)
قیدیوں کو پارکوں کے اندر کیرم،لڈو، شطرنج جیسے اندرون خانہ کھیل کھیلنے کی اجازت ہوگی اگرحالات اجازت دیں تو مناسب نگرانی میں انہیں قید خانے کے کھیل کے میدان میں کبڈی، کُشتی، والی بال اور فٹبال جیسے بیرونی کھیل بھی شام کے وقت ایک گھنٹہ کھیلنے کی اجازت ہوگی۔

ریڈیو اور ٹی وی کی سہولت

(قاعدہ۔678)
قیدیوں کو ذاتی ریڈیو ٹرانزسٹر رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔انسپکٹر جنرل انفرادی صورتوں میں اسکی خصوصی منظوری دے سکتے ہیں۔قیدیوں کے استفادے کیلئے کسی مرکزی مقام پر ایک ریڈیو نصب کیا جا سکتا ہے جسکے لاؤڈ اسپیکر مختلف احاطوں میں لگے ہوں اسے 9 بجے رات تک قید خانے کا کوئی اہلکار چلائے گا اگر کوئی رفاعی انجمن عطیہ دے تو ٹیلی ویژن سیٹ بھی نصب کئے جا سکتے ہیں۔

نجی ذرائع سے اشیاء کی فراہمی کی اجازت

(قاعدہ۔980)
مندرجہ ذیل شرائط پر سپرنٹنڈنٹ کسی حوالاتی کو خوراک، کپڑے اور دیگر ضروری اشیاء نجی ذرائع سے حاصل کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔
1۔ قید خانے میں اشیاء لے جانے سے قبل اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ اور میڈیکل افسران معائنہ کریں گے۔
2۔ اگر سپرنٹنڈنٹ کسی چیز کو مضر صحت غیر ضروری یا غیر موزوں سمجھے تو اس کو روک دے گا۔نشہ آور ادویہ اور سپرٹ آمیز مائعات ممنوع ہوں گے۔
3۔ نئے داخل ہونے والے مشکوک صحت کے حامل سزا یاب قیدیوں یا حوالاتیوں کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔
4۔ وبائی امراض کے پھیلنے کی صورت میں میڈیل افسر کی ہدایت پر نجی ذرائع سے خوراک روک دی جائے گی۔
5۔ کمزور وقیدیوں کو میڈیکل افسر کی موجودگی میں مقررہ خوراک ملے گی۔

اپنا کھانا پکانے کی اجازت

(قاعدہ۔378)
حوالاتی و قیدی کو اپنا کھانا پکانے کا کوئی حق نہیں تاہم سپرنٹنڈنٹ اپنی صوابدید پر حوالاتیوں کو یہ رعایت دے سکتے ہیں۔

ذاتی اشیاء رکھنے کی رعایت

(قاعدہ۔75)
جیل میں قیدیوں کو استعمال کیلئے درج ذیل اشیاء رکھنے کی اجازت ہوگی۔
جرسی ایک عدد، ٹوتھ برش ایک عدد،بنیان دو عدد، چھوٹا آئینہ ایک عدد،تولیہ دو عدد، گلاس(دھات کا)ایک عدد، چمچہ ایک عدد، لوٹا ایک عدد،کمبل ایک عدد، کنگھا ایک عدد، بالوں کا تیل ایک بوتل،، جرابیں دو جوڑے،ٹوتھ پاؤڈر پیسٹ ایک عدد، چائے پینے کیلئے مگ یا پرچ پیالی پلاسٹک یا چینی کی ایک عدد، پلیٹ پلاسٹک یا چینی ایک عدد، ڈسپوزبل شیونگ ریزر ایک عدد، شیونگ کریم ایک عدد، شیونگ برش ایک عدد، جام اور اچار ایک بوتل، بسکٹ اسٹینڈرڈ سائز دو ڈبے، شربت یا اسکواش ایک بوتل، سردی میں نیچے پہننے کیلئے سوئیٹر ایک عدد، زیر پاجامہ(انڈرویئر) ایک عدد، جائے نماز اور تسبیح ایک عدد، نظر کی عینک ایک عدد، مطالعے کا مواد کتابیں رسالے (مذہبی کتب و رسائل کو ترجیح دی جائے گی)ماچس اور لائیٹر ایک عدد، جوتے چپل دو جوڑے، ذاتی استعمال کی اشیاء رکھنے کیلئے ایک چار گیلن کا کنستر رکھنے کی اجازت ہوگی۔

زنانہ قیدیوں کی ذاتی استعمال کی اشیاء

(قاعدہ۔75)
زنانہ قیدیوں کو چند ایک معمولی زیورات مثلاً انگوٹھی،ناک کی کیل اور چوڑیاں جو سونے چاندی کی نہ ہوں رکھنے کی اجازت ہوگی۔ زنانہ قیدیوں پر ان اشیاء کو بحفاظت رکھنے کی ذمہ داری ہوگی جن کا اندراج سپرنٹنڈنٹ کے مختصر دستخطوں کے ساتھ ان کے اعمال ناموں (ہسٹری ٹکٹوں)میں کیا جائے گا۔

قیدیوں کی درجہ بندی

(قاعدہ۔225)
”سزایاب قیدیوں کو تین کلاسوں میں تقسیم کیا جائے گا“یعنی اے، بی اور سی کلاس۔
کلاس اے میں وہ قیدی ہوں گے جو اچھے کردار کے قیدی ہوں،معاشری حیثیت، تعلیم اور اچھی عادات کی وجہ سے اعلیٰ معیارِ زندگی کے عادی ہوں جو کسی اخلاقی پستی، ذاتی حرس اور سنگین جرم میں ملوث نہ ہوں یا جن کے قبضے سے کوئی دھماکہ خیز مواد، آتشیں اسلحہ اور دیگر خطرناک ہتھیار جو کسی جرم کے ارتکاب کے سلسلے میں ترغیب تحریک یا جرائم میں سزا یاب نہ رہے ہوں۔
کلاس بی میں ایسے قیدی شامل ہوں گے جو معاشرتی حیثیت تنظیم اور اچھی عادات کی بناء پر اعلیٰ معیار زندگی کے حامل ہوں گے۔
کلاس سی ایسے تمام قیدیوں پر مشتمل ہوگی جن کی بطور اے اور بی درجہ بندی نہ کی گئی ہو ہوگی۔

بہتر درجہ قیدی کیلئے فرنیچر کی رعایت

(قاعدہ۔255)
1۔ کمروں میں مندرجہ ذیل اشیاء مہیا کی جائیں گی۔
ایک نواری چارپائی، ایک کرسی، ایک ٹیبل لیمپ / لالٹین(برقی روشنی نہ ہونے کی صورت میں)ایک شیلف، ایک ایش ٹرے، لکڑی کا ریک اور منہ ہاتھ دھونے اور بیت الخلا کیلئے ضروری سہولت۔
2۔ مشترکہ بارکوں میں مندرجہ ذیل اشیاء فراہم کی جائیں گی۔
ایک نواری چارپائی فی قیدی، ایک بڑی میزبنچ کے ساتھ تاکہ لیمپ سے میز پر بیٹھ کر پڑھا جا سکے، رات کے وقت رفع حاجت کیلئے ضروری برتن س، احاطہ بند بیت الخلا اور غسل خانے۔
3۔ ان تمام قیدیوں کو کموڈکی سہولت بھی فراہم کی جائے گی جو انکے استعمال کے
عادی ہیں۔
4۔ انہیں پڑھنے کیلئے دس بجے رات تک لیمپ یا روشنی کی اجازت ہوگی۔
5۔ اے کلاس کے قیدی سپرنٹنڈنٹ کی اجازت سے اپنے خرچ پر دیگر اشیاء کی علاوہ مناسب مقدار میں فرنیچر بھی منگوا سکتے ہیں۔
6۔ ہر کوٹھری میں ایک ردی کاغذ ڈالنے کی ٹوکری بھی مہیا کی جائے گی۔ مشترکہ بیرکوں میں ذیادہ ٹوکریاں بھی فراہم کی جا سکتی ہیں۔

گرمیوں میں باہر سونے کی سہولت

(قاعدہ۔672)
اچھے کردار کے قیدی جنہوں نے اپنی حقیقی سزا کا تیسرا حصہ گزار لیا ہو انہیں گرمیوں میں باہر سونے کی سہولت فراہم کی جا سکے گی۔ وہ قیدی جن کی عمر بارہ سال سے کم اور ساٹھ سال سے زائد ہو انہیں یہ سہولت بغیر کسی وجہ کے بھی دی جا سکے گی تاہم جن قیدیوں کو جیل جرائم میں سزا دی گئی ہو کم از کم آخری تین مہینوں میں اس سہولت سے مستثنیٰ ہوں گے۔

نماز با جماعت کی ادائیگی

(قاعدہ۔681)
تمام قیدیوں کو نماز باجماعت کی ادائیگی کی سہولت میسر ہوگی بشرطیکہ وہ اجتماعی طور پر نظم وضبط کا مظاہرہ کریں۔

دینی تہوار برائے غیر مسلم

(قاعدہ۔475)
عیسائی قیدیوں کو کرسمس منانے کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح ہندو دو سہرے اور سکھ قیدی گرو نانک کے جنم دن کا تہوار منائیں گے۔ انہیں ان ایام میں خصوصی خوراک فراہم کی جائے گی۔تمام غیر مسلم قیدیوں کو حکومت کی اجازت سے اپنے مذہبی پیشواؤں سے اپنے مذہب کی تعلیم حاصل کرنے کی رعایت دی جا سکتی ہے۔تمام غیر ملکی غیر مسلم قیدیوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام ایسے تعلیمی نصاب کے تحت کیا جا سکتا ہے جو حکومت ان کے ملک کے سفارتکاروں کے ذریعے مقرر کرے۔

مسلم مذہبی تقاریب

(قاعدہ۔681)
مسلمان قیدیوں کو اپنی مذہبی تقاریب جن میں عیدین، شب ِ برأت، شب ِ معراج، یوم عاشور، عید میلادالنبیﷺ اور اس طرح کی دیگر تقاریب کے موقع پر خصوصی اجازت سے تبلیغی اجتماع جیل عملے کی خصوصی نگرانی میں کرنے کی سہولت مل سکتی ہے۔
اسی طرح قومی تہواروں جیسے یوم آزادی، یوم قائد اعظم، یوم جمہوریہ، یوم اقبال وغیرہ پر جیل انتظامیہ کی طرف سے خصوصی بندوبست کیا جا سکتا ہے جس میں قیدی جوق در جوق حصہ لیں تاکہ ان میں قومی شعور پیدا ہو۔

حصہ سوم۔ قیدیوں کے بنیادی فرائض

1۔ نظم و ضبط قائم رکھنے کا فرض

(قاعدہ۔ 657 تا664)
ہر قیدی دن رات سخت نظم و ضبط اور نگرانی کا پابند ہوگا۔اس کی تمام نقل و حرکت پر کڑی نگرانی ہوگی۔ جیل کے ہر افسر کے جاری کردہ ہر جائز حکم کی تعمیل قیدی پر واجب ہوگی۔ ہر قیدی مقررہ طریقے پر حکم کی پیروی میں اُٹھے بیٹھے گا، کام کاج کرے گا،کھائے پیئے گااور آرام کرے گا۔ ہر قیدی شائستگی سے قید خانے کے افسران اور معائنہ کنندگان کے احترام کا پابند ہوگا۔

2۔ پریڈ میں قیدیوں کا نظم و ضبط

(قاعدہ۔673)
سپرنٹنڈنٹ جیل کے ہفتہ وار معائنہ کے موقع پر قیدی ایک ایک کی قطار میں بیٹھیں گے۔
معائنہ پر ہر قیدی بیٹھے ہوئے اپنا بستر اپنی چٹائی بالکل صاف ستھرے طور پر سامنے رکھ کر دکھائے گا۔
وہ اپنا کمبل، چادر، فالتو جوڑا، تولیہ اور زیر پاجامہ بھی ترتیب سے معائنہ کیلئے رکھے گا۔
قیدی اپنا مگ، پیالہ اور رکابی بھی معائنہ کیلئے اپنے سامنے کنارے پر رکھے گا۔ ہر قیدی اپنا اعمال نامہ (ہسٹری ٹکٹ)اس کٹ کے اوپر رکھے گا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ صاحب کی آمد کے موقع پر اگر قیدی کوئی درخواست کرنا چاہے تو وہ اپنی باری آنے پر ایسا کر سکتا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب ایسی درخواست کو توجہ اور تحمل سے سنیں گے اور معاملہ کو حق کے مطابق نمٹائیں گے۔

3۔ شکایت پیش کرنے میں احتیاط

(قاعدہ۔674 تا677)
i۔ کوئی قیدی سپرنٹنڈنٹ یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب کو عرضداشت پیش کرنے کیلئے کسی وقت بھی اپنی جگہ نہیں چھوڑے گا۔
ii۔ شکایات اور درخواستوں کیلئے بموجب قاعدہ سپرنٹنڈنٹ صاحب کی ہفتہ وار پریڈ کا انتطار کیا جائے گا۔
iii۔ قید خانے میں داخل ہونے پر ہر ایک قیدی کو (الف)متنبہ کیا جائے گا کہ وہ ممنوعہ افعال سے باز رہے ورنہ قید خانے میں ان کے ارتکاب پر سزا ملے گی۔ (ب) ہدایت دی جائے گی کہ دنگا فساد گڑبڑ یا خطرے کی گھنٹی بجنے پر اسے کیا طرز عمل اختیار کرنا ہوگا۔(ج)اس عمل سے مطلع کیا جائے گا کہ اگر وہ دنگا فساد یا گڑ بڑ میں شامل ہوگا یا فرار ہونے کی کوشش کرے گا یا اس طرز عمل کو اختیار کرنے سے انکار یا انحراف کرے گا جس کی اسے ہدایت کی گئی ہے تو اسے گولی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
جمعہ اور تعطیل کے دنوں میں ان قیدیوں کو اپنی بارکوں اور کوٹھڑیوں کے صحنوں میں آزادانہ لیکن خاموشی سے بیٹھنے، لیٹنے کی اجازت ہوگی۔جنہیں عام طور پر کسی خاص پارک یا صحن میں بند کیا جاتا ہے۔قیدی سہہ پہر کے وقت اپنے کمروں / بیرکوں کے صحن میں چل پھر سکتے ہیں یا ایسے کھیل کھیل سکتے ہیں جن کی قواعد کے تحت اجازت ہو اوراپنی مقررہ بیرکوں میں ہی ایک دوسرے سے میل ملاپ کر سکتے ہیں۔

4۔ مقررہ مشقت کی تکمیل

(قاعدہ۔810 تا823)
سپرنٹنڈنٹ جیل سزا پانے والے ہر درجے کے قیدیوں کو مناسب مشقتی یا غیر مشقتی نوعیت کے کام سونپیں گے۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اپنے سپرنٹنڈنٹ صاحب کے زیر اختیار ہر سزا یاب قیدی کو اس کے درجہ مشقت کے مطابق کام پر مامور کرے گا۔
جو میڈیکل افسر اس کے داخلے کے وقت سفارش کرے۔داخلے کے وقت مقرر کردہ مشقت اور اس کے ما بعد تبدیلیاں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے مختصر دستخطوں کے تحت احوال نامے میں قلمبند کی جائیں گی۔ میڈیکل افسر ایسی مشقت کے تعین یا تبدیلی کے وقت قیدی کا ذاتی طور پر معائنہ کرے گا۔
بالغ مرد سزا یاب قیدیوں کیلئے مقرر کردہ کام کسی آزاد مزدور کے کام سے کم نہیں ہوگا۔
عورتوں اور نو عمر قیدیوں کا کام بالغ مرد سزا یاب قیدی کے کام کے دو تہائی سے زائد نہیں ہوگا۔
وضو، نماز، فجر، ناشتہ اور گرمیوں میں ٹولیوں کی تقسیم کا عمل مکمل ہوتے ہی قیدی اپنا کام شروع کر دیں گے۔ سردیوں میں تین بجے کے بعد دوپہر اور گرمیوں میں چار بجے کے بعد دوپہر کام بند کیا جائیگا۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ موزوں قیدیوں کو بطور ہنر مند قیدی استاد دوسروں کی تربیت کیلئے تیار رکھے گا تاکہ کاریگر قیدیوں کی رہائی کی صورت میں ان کی جگہ دوسروں کو تربیت سے کر متبادل انتظام کرسکے۔ قیدیوں کو مشقت کی غرض سے جیل سے باہر بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

5۔ کھانے کی تقسیم کے وقت نظم و ضبط

(قاعدہ۔668)
جس وقت جیل میں کھانہ تقسیم کیا جائے گا اس وقت ہر قسم کے نظم و ضبط کی پابندی ہر قیدی کا بنیادی فریضہ ہوگا۔ انہیں اس سلسلے میں چیزوں کی ترتیب قائم رکھنے کی بھی پابندی کرنا ہوگی۔

6۔ جیل میں کپڑے دھونے، غسل اور ذاتی صفائی میں احتیاطیں

(قاعدہ۔676)
ہر قیدی ہفتہ میں ایک دفعہ یعنی چھٹی کے روز جیل میں کپڑے دھو سکے گا۔ وہ صرف وقت مقررہ پر غسل اور ذاتی صفائی کرے گا مگر ہر وقت اسے اپنی صحت اور تندرستی کیلئے احتیاط کرنا ہوگی۔

7۔ عزیزو اقارب سے سامان وغیرہ لینا

(قاعدہ۔563)
جیل میں قیدیوں سے ملاقات کے دوران صرف اس قدر سامان حاصل کرنے کی اجازت ہوگی جس کی قانون و قواعد میں اجازت موجود ہے۔ قیدیوں کو بغیر منظوری کے راشن حاصل کرنے کی اجازت نہیں۔ اس کے علاوہ ممنوعہ اشیاء کو جیل میں کسی طور بھی لانا جیل جرائم میں شامل ہے جس کی واضح سزا مقرر ہے۔

8۔ جیل میں پانی کا استعمال

(قاعدہ۔765 تا769)
ہر قیدی پابند ہوگا کہ جیل میں پانی کا استعمال احتیاط سے کرے اور پانی کو کسی طور پر بھی ضائع نہ ہونے دے۔

9۔ کھانے پکانے، تڑکا لگانے کے احکام

(قاعدہ۔378)
قیدی سالن کو تڑکا لگا سکیں گے مگر جیل میں تمام قیدی لنگر سے تیار کردہ کھانہ حاصل کریں گے انہیں اپنے طور پر کھانا پکانے کی اجازت ہر گز نہیں ہوگی۔

حصہ چھارم۔ قیدیوں کیلئے لازمی پابندیاں
ملاحظے کی پابندی پہلی پیشی پر

(قاعدہ۔25 تا27)
ہر قیدی کو جیل میں بطور حوالاتی / سزایاب قیدی آمد پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور پھر سپرنٹنڈنٹ کے روبرو پیش کیا جائیگا جو اسکا نام ولدیت اور وارنٹ کے مطابق دیگر کوائف کی تصدیق کرکے درجہ بندی اور بیرک بندی کے احکامات صادر کریں گے اور اندراجات وغیرہ متعلقہ رجسٹرات میں تیار کرکے ان کے ہسٹری ٹکٹ کا اجراء کریں گے۔

ڈاکٹری ضابطے کی پابندی

(قاعدہ۔198)
جیل میں ہر قیدی کا ڈاکٹری معائنہ کیا جائے گا اسمیں ڈاکٹر اسکا وزن، قد اور صحت کی کیفیت اور شناختی نشان تحریر کرے گا۔

قرنطینہ

(قاعدہ۔800)
اگر ڈاکٹر مناسب سمجھے تو معائنہ کے بعد حکم دے کہ متعلقہ نو واردیا پہلے سے موجود کسی بھی قیدی کو کوئی ایسی بیماری لاحق ہے جو کہ دوسرے قیدیوں کیلئے مضر ہے تو وہ اسے علیحدہ کرکے قرنطینہ میں بغرض علاج رکھنے کا حکم دے گا۔

بارک بندی

(قاعدہ۔704)
ہر قیدی جیل کے اندر جیل انتطامیہ کے مقرر کردہ نظم و ضبط کے مطابق مقررہ بارک میں رہنے سہنے اور صرف مخصوص جگہ پر موجود رہنے کا پابند ہوگا وہ اپنی مرضی سے کہیں اور نہیں جا سکے گا۔

قیدیوں کی درجہ بندی

(قاعدہ۔224 تا232)
حوالاتی کو دوسرے قیدیوں سے علیحدہ بند کیا جائیگا۔ عمر قید والے قیدی کو دیگر قیدیوں سے جدا رکھا جائیگا اسی طرح مرد قیدیوں کو عورت قیدیوں سے الگ بند کیا جائیگا۔ بچہ قیدیوں کو بالغ قیدیوں سے علیحدہ رکھا جائے گا۔ بہتر کلاس کے قیدیوں کو عام قیدیوں سے علیحدہ رکھا جائیگا۔پاگل قیدیوں کو صحت مند قیدیوں سے علیحدہ رلھا جائے گا۔ بیمار قیدیوں کو دیگر قیدیوں سے الگ رکھا جائیگا۔

قیدیوں کا طرز عمل

(قاعدہ۔659)
قیدیوں کو جیل کے اندر اپنی زندگی جیل کے قواعد و ضوابط کی پابندی کے ساتھ گزارنی ہوگی۔ کسی قسم کے جیل قواعد کی خلاف ورزی یا جیل جرائم جیل قوانین کے تحت قابل سزا اور سخت تادیبی کاروائی کا موجب بن سکتے ہیں۔

وقت کی پابندی

(قاعدہ۔656 تا657)
تمام قیدیوں کو وقت مقررہ پر لاک اپ اور لاک آؤٹ ہونا ہوگا۔ اسی طرح وقت مقررہ پر انہیں جیل فیکٹری میں کام پر تعینات ہونا ہوگا۔ وہ نماز کی پابندی پر وقت مقررہ پر مقررہ طریقہ سے کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ افسران کی جانب سے دیئے گئے کام کو وقت مقررہ پر ہی ختم کریں گے۔

ملاقات کی پابندی

(قاعدہ۔538)
تمام قیدی ملاقات کے قواعد کی پابندی کریں گے۔حوالاتیوں میں ملاقات ہفتہ میں ایک مرتبہ اور سزا یافتہ قیدیوں کی ملاقات پندرہ دن میں ایک دفعہ ہوگی۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب کی اجازت کے ساتھ اس میں رعایت ممکن ہے۔

مذہبی اقدار کی پابندی

(قاعدہ۔679،681)
تمام قیدیوں کو مذہبی اقدار کی مکمل پابندی کرنی ہوگی جس میں نماز باجماعت پڑھنا، قرآن شریف کی تلاوت اور مذہبی اساتذہ کی جانب سے فراہم کی گئی تعلیمات پر عمل در آمد لازم ہوگا۔

سازشوں کو ناکام بنانے میں تعاون

(قاعدہ۔572)
ہر قیدی پر لازم ہے کہ وہ ہر قسم کی سازش یا فرار کو روکے۔ جیل عملہ پر حملہ کی سازش، بھوک ہڑتال اور قیدیوں کے دیگر غیر قانونی کام کو روکنے کیلئے اس بات کا پابند ہوگا کہ ایسے تمام واقعات کا اطلاع بروقت جیل حکام کو دے۔

روزانہ معائنہ کی ذمہ داری

(قاعدہ۔663)
ہر سزا یافتہ قیدی اور حوالاتی کیلئے لازم ہوگا کہ وہ ہر روز افسران کے معائنہ اور سپرنٹنڈنٹ صاحب کے ملاحظہ یا معائنہ کو نظم و ضبط کے تابع، حسب الحکم افسران پورا کرے۔

روزانہ صفائی ستھرائی کی پابندی

(قاعدہ۔ 661،762)
جیل میں تمام قیدی روزانہ صفائی ستھرائی کے پابند ہوں گے۔ وہ روزانہ نہ صرف اپنی رہائشی جگہوں کے قریب صفائی ملحوظ خاطر رکھنے کے پابند ہوں گے بلکہ وہ جیل کے اندر اور باہر جیل سے ملحقہ تمام حصوں کی صفائی کے ذمہ دار بھی ہوں گے۔

گھر سے کھانا منگوانے کے احکام کی پابندی

(قاعدہ۔375)
جیل میں تمام قیدی گھر سے تیار شدہ کھانا حاصل نہیں کر سکیں گے۔صرف وہی قیدی اپنے گھروں سے کھانا حاصل کر سکیں گے جنہیں سپرنٹنڈنٹ جیل نے اجازت دی ہو۔

جیل سے عدالت جانے اور عدالت سے جیل میں واپس آنے کے احکام کی پابندی

(قاعدہ۔389)
جیل سے حوالاتی جب بھی پیشی کیلئے جائیں گے تو وہ تمام احکامات کی پابندی کریں گے وہ اس دوران کوئی ممنوعہ شے اپنے ساتھ باہر سے جیل کے اندر نہیں لا سکیں گے۔

داخلہ کے وقت اور روزانہ و ہفتہ وار تلاشی کے احکام کی پابندی

(قاعدہ۔1166)
جیل میں تمام قیدیوں کو تلاشی دینا ہوگی۔ وہ جیل میں داخلہ کے وقت یا بیرکوں میں یا ملاقات کے وقت روزانہ و ہفتہ وار تلاشی کے احکامات کی پابندی کریں گے۔

بھوک ہڑتال پر پابندی

(قاعدہ۔684 تا686)
جیل میں بھوک ہڑتال کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ کوئی قیدی جیل میں بھوک ہڑتال کرے گا تو قانون کے مطابق اس کے خلاف سخت تادیبی کاروائی کی جائے گی۔ تمام امور کی اطلاع اعلیٰ جیل حکام کو دی جائے گی۔ میڈیکل افسر جیل بھی تمام امور کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہوگا۔

جیل احکامات کی خلاف ورزی اور جیل جرائم میں ملوث ہونے والوں کے بارے میں اطلاعات

(قاعدہ۔ 497 اور571 تا578)
جیل میں تمام قیدی ہر قسم کے جیل احکامات کی پابندی کریں گے اور جیل جرائم میں ملوث شخص کی رپورٹ کریں گے اور جیل احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کی طرفداری نہیں کریں گے۔ وہ خود بھی جیل احکامات کی کوئی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔

حصہ پنجم۔  جیل میں ممنوع افعال اور انکی سزائیں

جیل ایکٹ مجریہ1894 کی دفعہ45 اور قواعد جیل خانہ جات مجریہ 1978 کے قواعد571 تا591 کے تحت قیدیوں کو مندرجہ ذیل جرائم یا ممنوع افعال میں ملوث ہونے کی صورت میں چھوٹی اور بڑی سزائیں دی جائیں گی جو ہر جرم یا ممنوعہ فعل کے سامنے درج ذیل ہیں۔

جیل کے جرائم اور ممنوع افعال

1۔ دانستہ جیل قوانین کی نافرمانی و خلاف ورزی کرنا۔
2۔ جیل ملازم یا کسی قیدی پر حملہ کرنا یا ان کے خلاف مجرمانہ طاقت کا استعمال۔
3۔ توہین نمااور دھمکی آمیز زبان استعمال کرنا۔
4۔ غیر اخلاقی اور دھمکی آمیز رویہ۔
5۔ دانستہ طور پر مشقت سے انکار کرنا۔
6۔ بیماری کی بہانے بازی کرنا۔
7۔ ہتھکڑیوں یا بیڑیوں کو ہٹانے یا اتارنے کی کوشش کرنا۔
8۔ دانستہ بد نظمی کرنا۔
9۔ کام میں رکاوٹ ڈالنا۔
10۔ املاک کو نقصان پہنچانا۔
11۔ ریکارڈ اور ہسٹری ٹکٹ کے کوائف کو زائل کرنا یا تحریر کرنا۔
12۔ ممنوعہ اشیاء پر پاؤں رکھنا، چھپانا یا دوسرے قیدیوں کو پہنچانا۔
13۔ جیل عملہ اور افسران کے خلاف غلط الزامات لگانا۔
14۔ آگ لگنے کے کسی واقعہ کی افسران کو رپورٹ نہ کرنا۔
15۔ جیل عملہ پر کسی قیدی کی طرف سے کسی بھی حملے کے منصوبے سے انتظامیہ کو مطلع نہ کرنا۔
16۔ فرار کیلئے منصوبہ بندی یا ملی بھگت کرنا۔
17۔ قیدی ساتھیوں کے ساتھ مل کر کوئی سازش کرنا۔
18۔ دوسرے قیدیوں کی فرار کی سازش کو جان بوجھ کر چھپانا۔
19۔ کھانا کھانے سے انکار کرنا، بھوک ہڑتال کرنا اور تخریب کاری کرنا۔
20۔ جیل میں بد نظمی پھیلانا، ہنگامے کرنا یا جیل میں کام کرنے والے عملہ پرکسی قسم کا حملہ کرنا۔

جیل میں دی جانے والی سزائیں

1۔ سپرنٹنڈنٹ جیل کی جانب سے ملوث قیدی کو تحریری، رسمی تنبیہ۔
2۔ بیرک تبدیلی بطور انضباطی کاروائی۔
3۔ قیدی کی عام مشقت کو سخت مشقت میں تبدیل کرنا۔
4۔ بہتر کلاس کی رعایت اور دوسری سہولتیں ضبط کرنا۔
5۔ معافی کے حق سے محروم کرنا۔
6۔ عطا کردہ جملہ یا کچھ معافی سے محروم کرنا۔
7۔ گھر کے کھانے اور دیگر مراعات سے محروم کرنا۔
8۔ بہترکلاس اور قیدی کے عہدے میں تنزلی کرنا۔
9۔ تنہائی میں بند کرنا۔
10۔ چین بیڑیاں لگا کر علیحدہ بند کرنا۔
11۔ چین بیڑیاں لگا کر سزا کوٹھی میں بند کرنا۔
12۔ بیڑیاں ہتھکڑیاں لگانا۔
13۔ بوری کا لباس پہنایا جا سکتا ہے۔
14۔ قید تنہائی کی سزا۔
15۔ قید تنہائی میں کھانے پر پابندی سزاواری کھانا دینا۔
16۔ کڑا، بیڑیاں و ہتھکڑیاں لگانا۔
17۔ کوڑوں کی سزا دینا۔
18۔ بطور سزا دور دراز کی جیل میں پھینکنا۔
19۔ مجرمانہ معاملات میں عدالت سے سزا دلوانا۔
20۔ کسی دور کی جیل میں منتقل کرنا، مجرمانہ معاملات میں عدالت سے سزا دلوا کر کسی دور کی جیل میں بیڑیاں لگا کر بھجوانا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں