ماہِ اگست کی خوشیاں

ماہِ اگست کی خوشیاں


اگست کا مہینہ اپنے دامن میں بہت سی خوشیاں، بہت سی تبدیلیاں اور بہت سی کہانیاں سمیٹ کر گزر گیا۔ اگست کا مہینہ اہالیان پاکستان کیلئے ہمیشہ سے خوشی اور فخر کا مہینہ ہے جسمیں آج سے 71 سال قبل قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں مسلمانان برصغیر کی ایک عظیم جدوجہد کے بعد دنیا کے نقشے پرپاکستان کے نام سے ایک اسلامی اور جمہوری مملکت نمودار ہوئی، جسکی اساس لاَاِلہٰ اِلاَللہ تھی، جسکی منزل امن، ترقی اور خوشحالی تھی، جسکا کردار امتہ مسلمہ کی قیادت تھی اور جہاں سے اسلام کا پیغام اور جمہوریت کے سائے اپنی تمام تر خوشبوؤں کے ساتھ دنیا میں پھیلنے تھے اور جس کی قیادت میں مظلوم اور محروم طبقات کی ایک مؤثر اور توانا آواز بننا تھا، مگر بدقسمتی سے خالق پاکستان اپنی تخلیق کردہ ریاست کو پوری طرح اپنی منزل پر گامزن کرنے سے قبل ہی ہم سے جدا ہو گئے اور نیا معرض وجود میں آنے والا ملک کھوٹے سکوں کے ہاتھ چڑھتے ہی بین الاقوامی سازشوں کے آگے اپنے وجود کو بچانے کیلئے لرزنے لگا اور پھر لیڈر بکتے گئے اور قوم جھکتی گئی اور جس ملک جس ریاست اور جس قوم نے دنیا کی قیادت کرنی تھی، مسلمانوں کی آواز بننا تھی، جمہوریت کی مثال بننا تھی وہ محلاتی سازشوں، جرنیلوں کی اقتدار پرستی، مارشل لاء کے تسلسل اور عوام کو مسلسل نظر انداز کرکے ایک ایسے مقام کی طرف رواں دواں ہوئی کہ ملک دولخت ہوگیا، قوم تقسیم ہوگئی، جمہوریت جرنیلوں کے گھر کی باندی بن گئی،جج جرنیلوں کی ذات کی وفا داری کا حلف اُٹھا کر ان کے ماؤتھ پیس بن گئے، میڈیا پوری پابندی کے ساتھ محدود کام کرنے پر مجبور ہوا۔ عوام بے چاری یہ سمجھ ہی نہیں پائی کہ اس قوم کی آزادی کا مقصد کیا تھا اور یہ مقصد کس خوش اسلوبی سے دفن کرکے قوم کے شعور پر ایسے پہرے لگا دیئے گئے کہ قوم ہر آنے والے پر بھی مٹھائیاں بانٹتی ہے اور جانے والے پر بھی۔

یہ سلسلہ جو کہ 1948 ء سے شروع ہوا۔ 70 سال کے بعد 2018 میں بھی اسی طرح جاری و ساری ہے۔ قوم کو آج بھی یہ علم نہیں ہے کہ وہ جو کچھ کررہی ہے اسکا کوئی مطلب کوئی مقصدیا کوئی منزل ہے یا نہیں۔قوم ایک مخصوص ماحول میں ذہنی طور پر اسقدر مفلوج کردی گئی ہے کہ اپنے سینکڑوں بچوں کے ہولناک قتل عام کے بعد دشمن کے بچوں کو پڑھانے پر سر دھن رہی ہے، جسکی سوچ کو اسقدر محدود اور مسدور کردیا گیا ہے کہ عقل و شعور کا استعمال کرنے والے جاہل گنوارلفافیئے اور غدار کے القابات سے نوازے جانے لگے ہیں۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ قوم سچ سننا نہیں چاہتی، سچ بولنا نہیں چاہتی، سچ جاننا نہیں چاہتی، اسکی تربیت کے منبع نے ان کی سوچوں پر ایسے پہرے لگا دیئے ہیں کہ اس سے دور دیکھنے کی صلاحیتوں سے ہی محروم کردیا گیا ہے۔جھوٹ، کردار کشی اورالزام تراشی قومی سوچ بن گئی ہے۔

ان تمام حالات سے گزر کر اگست 2018 میں قوم نے انتخابی عمل میں حصہ لینے کے بعد نئی حکومت کا قیام دیکھا اور جوش و خروش سے یوم آزاد ی منانے کے ساتھ ساتھ اگست کے مہینہ میں قوم نے عید الاضحی بھی منائی۔ یوں اگست 2018 اپنے ساتھ اہالیان پاکستان کے لئے کئی خوشیاں لایا۔ یوم آزادی اور عید الاضحی کے ساتھ ساتھ ملک میں عمران خان کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوگئی اور تبدیلی کے نعرے کے ساتھ معرض وجود میں آنے والی اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور دیگر تمام سٹیک ہولڈرز کی متفقہ اور پسندیدہ حکومت بالآخر قائم کردی گئی۔ نئی حکومت کے قیام میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی کاوشوں کو قطعاًنظر انداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے پی ٹی آئی کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور کیں اور بر ملا اظہار کرتے رہے کہ وہ ایک صادق اور امین حکومت کے خواہشمند ہیں۔ عمران خان کو صادق اور امین قرار دینا ہماری عدلیہ کا شاندار کارنامہ ہے اور جب 130 دن بعد چیف جسٹس صاحب بھاشا ڈیم اپنے عہدہ جلیلہ سے فارغ ہو کر تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے تب تاریخ جسٹس ثاقب نثار کے عہد کا احتساب کرے گی اور یہ فیصلہ کرے گی کہ ان کے عہد میں انصاف کا بول بالا ہوا، یا سیاسی انصاف ہوا، یہ فیصلہ بھی کرے گی کہ انصا ف ہوا، یا توہین انصاف۔

اقتدار اور اختیار ایسا نشہ ہے جس میں انسان اپنے آپ کو کنٹرول نہیں رکھ سکتا۔ پھر جب یہ بھی علم ہو کہ میں جس مرتبے اور مقام پر ہوں اسکی وجہ میری اہلیت یا قابلیت نہیں ہے بلکہ کسی کی مہربانی اور فیور ہے۔ قابلیت اور اہلیت والا شخص ہمیشہ اپ رائیٹ رہتا ہے لیکن جس کو یہ علم ہو کہ اسکی اس مقام پر موجودگی کسی کی مرہون منت ہے تو پھر زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر احساس کمتری کا شکار ہو کر وہ ایسی حرکتیں ضرور کرتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی اہمیت جتانے کی کوشش کرتا ہے مگر درحقیقت وہ اپنی ان حرکتوں سے خود کو مزید متنازعہ بنا رہا ہوتا ہے جسکا ادراک اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی محفل میں کسی کونے میں تن تنہا کھڑا ہوتا ہے اور اسکے قریب سے گزرنے والے اسکو نظر انداز کرکے چلے جاتے ہیں۔ تب اسکا ضمیر اسکو یاد کراتا ہے کہ عہدہ اور مرتبہ آنی جانی چیز ہے، اصل چیز اخلاق، کردار، انسانیت، انصاف اور ایمانداری ہے۔ اگر وقت پر احساس نہ کیا جائے تو وقتی فرعونیت ازلی اذیت بن کر ساتھ رہتی ہے۔ اپنے معاشرے میں اپنے ارد گرد ایسے بے شمار کردار انتہائی کسمپرسی میں بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں۔

بہر حال بات ہورہی تھی نئی حکومت کی۔بلند وبانگ دعوؤں کے ساتھ نئی حکومت نے اقتدار سنبھال لیا ہے اور 26 جولائی کی تقریر کے برعکس اپنے بیان سے انحراف کرتے ہوئے دو ایسے اقدامات کئے ہیں جس سے مستقبل کے خدو خال کے ساتھ پی ٹی آئی کی سیاسی اور عمران خان کی ذہنی پختگی بارے میں واضح اشارے ملے ہیں۔ عمران خان صاحب نے اپنی پہلی تقریر میں دیگر باتوں کے ساتھ دو باتوں کا خصوصی اعادہ کیا کہ اپوزیشن جتنے حلقے کہے گی ان کی حکومت کھولے گی۔ دوسرا وہ وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہیں گے، مگرجب ان کی سیٹ پر دوبارہ گنتی کا مرحلہ آیا تو وہ فوراً دوڑے دوڑے چیف جسٹس کے دروازے پر پہنچے اور محترم چیف جسٹس نے عمران خان کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے قوم سے خطاب کو سیاسی بیان قراردیکر حکم امتناعی جاری کردیا، جس پر سوشل میڈیا پر ایک کارٹون وائرل ہوا، جو کہ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے اقدامات اور پی ٹی آئی کیلئے ان کے سافٹ کارنر کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسرا فیصلہ پرائم منسٹر ہاؤس میں نہ رہنے کا تھا جسکا وسیع پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا کیونکہ پی ٹی آئی سے قبل شاہد خاقان عباسی نے بطور وزیر اعظم پاکستان وزیر اعظم ہاؤس بھی استعمال نہیں کیا، وہ اپنے ذاتی گھر میں ہی رہائش پذیر ہوئے اور سادگی کی انتہائی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔ عوام کا خیال تھا کہ عمران خان بھی شاہد خاقان عباسی کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے پی ایم ہاؤس استعمال کرنے کی بجائے بنی گالہ میں ہی مسکن رکھیں گے مگر سپیکر ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز، ملٹری سیکرٹری اور پتہ نہیں کہاں کہاں سے سفر کرتے کرتے حلف اٹھاتے ہی پرائم منسٹر ہاؤس منتقل ہو گئے ہیں۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آئندہ کی طرز حکمرانی اور وعدوں وعیدوں کی کیا صورت حال ہوگی۔ مگر ہمیشہ کی طرح مثبت پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ 22 سال اپوزیشن کرنے اور کاروبار مملکت سے عدم آگاہی کی بدولت عمران خان کو رعایت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے 100 دن کا ایجنڈا بتایا ہے اور 100 دن کے بعد ہی کوئی اس قابل ہوگا کہ وہ تنقید یا تعریف کر سکے۔

فی الحال پہلے 10 دنوں میں وفاقی کابینہ نے جو دو تاریخی فیصلے کئے ہیں ان کی گونج پوری دنیا میں سنی جارہی ہے۔ پہلی میٹنگ میں اڈیالہ جیل میں قید نواز شریف خاندان کا نام ای سی ایل میں ڈالنا ان کی ذاتی مخاصمت کا بر ملا اظہار ہے۔ حالانکہ یہ کام نیب کی درخواست پر وزارت داخلہ کر سکتی تھی مگر وفاقی کابینہ کا فورم اور اسکی پہلی میٹنگ کا فیصلہ یقینا ایک مخصوص سوچ کی عکاس ہے۔نوازشریف اور ان کی بیٹی پر جو بھی الزامات ہیں، حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ سزا سے بچنے کیلئے اکثر لوگ فرار ہوتے ہیں۔ آج بھی پرویز مشرف اسکی واضح مثال ہے۔نوازشریف اور اسکی بیٹی نے سزا کے بعد بیرون ملک سے وطن واپس آکر خود کو گرفتاری کیلئے پیش کیا، ان کو بخوبی علم تھا کہ ان کو انصاف نہیں ملے گا، ان کے ساتھ معاندانہ سلوک رکھا جائیگا مگر اس کے باوجود وہ واپس آئے اور اپنی پارٹی اور ووٹروں کو سرخرو کیا۔ ان کی اس جرأت مندی پر ملک کے ایک کروڑ چالیس لاکھ ووٹروں نے ان پر اعتماد کیا اور اگر سسٹم ڈاؤن نہ ہوتا تو ن لیگ یقینا اَپ ہوتی۔ مگر93 سیٹوں سے پی ٹی آئی کی دال نہیں گلتی تھی اسلئے سسٹم ڈاؤن ہوا اور پی ٹی آئی اَپ ہوگئی۔ ہو سکتا ہے یہ باتیں اب تلخ محسوس ہوں مگر یہ حقیقت کبھی نہ کبھی منظر عام پرضرور آئے گی۔ گزشتہ انتخابات میں بھی دھاندلی ہوئی تھی اور انہی دھاندلی کرنے والوں نے اس بار بھی دھاندلی کی، مگر فرق یہ تھا کہ اس بار فرمائشی دھاندلی ہوئی کہ ہمیں اتنی سیٹیں چاہئیں، جو کہ دے دی گئیں۔ تاہم یہ احتمال رکھا گیا کہ مکمل آزادی نہ دی جائے تاکہ جادو سر چڑھ کر نہ بولے، اسلئے احتیاط رکھی گئی کہ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکواور سندھ میں قتل و غارت کے سرخیلوں پر انحصار کی گنجائش رکھی جائے، نیز آزاد نمائندوں کے ہاتھوں میں بھی بلیک میلنگ کا پتہ رکھا گیا کیونکہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ عمران خان Strong headed آدمی ہے، وہ اپنی سوچ کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور کسی کو خاطر میں نہیں لاتا، اسکی طرز زندگی، اسکی عوامی مقبولیت، اسکا بین الاقوامی امیج اسکو ممتاز بناتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہ کبھی کسی کی پرواہ نہیں کرتا، اسلئے اسکو تھوڑا بہت کنٹرول رکھنے کے اسباب رکھے گئے ہیں اور دوسرا بڑا عوامی فیصلہ جس میں دفتری اوقات کار 8 سے 4 کی بجائے، 9 سے 5 کردیئے گئے۔ وفاقی حکومت کے اس دانشورانہ فیصلے پر سوشل میڈیا میں جو تبصرے آرہے ہیں وہ بہت دلچسپ ہیں کہ امریکہ اور انڈیا میں اس فیصلے سے صف ماتم بچھ گئی ہے کہ اس قدر دور اندیشانہ فیصلہ ان کی حکومتیں کیوں نہیں کر سکیں۔ قومی مفاد میں یہ فیصلے کس قدر اہم کردار ادا کریں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر یہ حقیقت ہے کہ پچھلے چار سال سے عمران خان نے جو طوفان برپا قرار رکھا تھا اب اس طوفان کو قابو کرنا عمران خان کے بس کی بات نظر نہیں آتی۔ عمران خان کی سب سے بڑی کمزوری اس کے دائیں بائیں کھڑے وہ کھوٹے سکے ہیں جن کی تمام تر توجہ اپنا ذاتی مفاد ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ تبدیلی نا ممکنات میں سے ہے مگر کوئی پتہ نہیں کہ مضبوط اعصاب کا حامل عمران خان کچھ کر گزرے۔

جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے عمران خان کے اطمینان کیلئے یہی کافی ہے کہ عمران خان کے مد مقابل اپوزیشن لیڈر نواز شریف جیسا قد آور، خواجہ آصف جیسا منہ پھٹ شخص نہیں ہے بلکہ ن لیگ کا ایک منیجر شہباز شریف مد مقابل ہے، جسکی باتوں کو خود اسکی اپنی پارٹی میں بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اس نے مرکز میں خود کو اور صوبے میں بیٹے کو نامزد کرکے اپنی سیاسی نا اہلیت اور وراثتی سیاست کا جو جواء کھیلا، وہ بری طرح ناکام ہوا اور وہ ایک فرینڈلی بلکہ ڈس ایبل اپو زیشن لیڈر کے طور پر عمران خان کی تسکین کا ذریعہ ہوں گے۔ البتہ بلاول کی موجودگی عمران خان کیلئے پریشان کن ہو گی کیونکہ اپنی پہلی تقریر میں بلاول نے عمران اور شہباز پر اپنی برتری دکھا دی اور وزیر اعظم سیلیکٹ پر عمران خان کی جانب سے میز تھپتھپا کر داد دینے سے اپنے اور بلاول کے درمیان فرق کو بھی واضح کردیا ہے۔ بلاول کے سر سے زرداری کی چھتری ہٹ جائے تو آنے والے وقتوں میں بلاول ایک سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔ قومی اسمبلی میں اس کے خطاب پر جس طرح ملک بھر سے مخالفین نے بھی اسکو داد دی، یہ اسکی کامیابی اور مستقبل میں اسکی Acceptance کا عندیہ بھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں