وقف اور اسکی تکمیل کا طریقہ کار

وقف اور اسکی تکمیل کا طریقہ کار


وقف سے مرادکسی مسلمان کا کسی جائیداد کو دائمی طور پر ایسی غرض کیلئے جو بروئے شرعی محمدی ؐ صالح یا خیراتی تسلیم کی جاتی ہو، فی سبیل اللہ نذر کر دینا ہے۔ تاکہ اس سے بندگان خدا مفاد اُٹھا سکیں مثلاًمسجد کی تعمیر اور اس کے انتظام کی غرض سے وقف کرنا، کسی اسلامی تعلیم کے ادارے کا قیام اور اسکے جملہ اخراجات کی غرض سے وقف، غرباء اور مساکین کے اخراجات کی غرض سے وقف وغیرہ۔اسی طرح سڑکیں، پل، تالاب، سرائے، کنواں تعمیر کرانا یا پانی کا نلکا لگوادینا یا کوئی دیگر کام جو رفاہ عامہ کیلئے ہو۔
وقف کے لفظی معنی روک لینے یا رکھنے کے ہیں۔ امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کے بقول شرعی وقف کسی مخصوص شے کی ملکیت کو وقف کے حق میں روک رکھنے اور اسکے منافع کو محتاجوں پر خیرات میں او ر دوسرے حسنات میں صرف کرنے کو کہتے ہیں۔ امام ابو یوسفؒ اور امام محمد ؒ کی رائے میں وقف کے معنی شے موقوفہ سے واقف کی ملکیت کا زائل ہو کر معنوی طریقہ سے خدا کی ملکیت میں اس طرح آجانا ہے کہ اسکا منافع مخلوق خدا کی طرف رجوع کرے اور اسکے کام آئے۔ وقف کرنے والے شخص کو واقف (Dedicator) کہا جاتا ہے اور وقف جس فرد یا جماعت کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا جائے اس فرد یا جماعت کو موقوف علیہ (Benificiary) کہا جاتا ہے اور جو چیز یا جائیداد وقف کی گئی ہو اسے جائیداد موقوفہ (Subject of Dedication) کہا جاتا ہے اور جس تحریر کے ذریعے وقف کا اعلان کیا جائے اسکو وقف نامہ کہا جاتا ہے اور جو شخص جائیداد یا شے موقوفہ کی نگرانی اور انتظام و انعرام کرنے پر مامور ہو اسے متولی وقف کہا جاتا ہے۔ قانون جواز اوقاف مسلمانان ایکٹ 1913 ء کی دفعہ 2 میں وقف کی تعریف یوں کی گئی ہے: وقف سے مراد کسی ایسے شخص کی طرف سے جو مسلم عقیدہ رکھتا ہو کی جائیداد کی کسی ایسے مقصد کیلئے مستقل منتقلی جسے مسلم قانون مذہبی، خیراتی یا صالح تسلیم کرتا ہو،یعنی جائیداد کو کسی مذہبی مقصد مثلاً خیراتی کاموں کیلئے مختص کرنا وقف ہے۔ اس طرح ایک مسلمان کا اپنی جائیداد کو اپنی ملکیت سے خارج کرکے نیک مقاصد کیلئے مصنوعی طور پر اللہ تبارک وتعالیٰ کی ملکیت میں دے دینا تاکہ اس سے بندگان خدا فائدہ اُٹھائیں، وقف ہے۔ مصنوعی طریقہ سے اس طرح کی جائیداد پر کنٹرول تو بند گان خدا کا ہی رہتا ہے لیکن ان کی حیثیت امین کی سی ہوتی ہے جبکہ اس جائیداد کا منافع نیک کاموں پر صرف ہوتا ہے گویا ملکیت اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے اور کوئی شخص ذاتی طور پر مفاد نہیں اُٹھا سکتا۔
محمڈن لاء کی دفعہ 182 کے تحت ہر شخص وقف کر سکتا ہے جو:
(i) صحیح الدماغ ہو، پاگل، دیوانہ اور مجنوں نہ ہو۔
(ii) بالغ ہو، نابالغ وقف نہیں کر سکتا۔

وقف کا طریقہ

وقف کے وقوع میں لانے کیلئے لفظ وقف کا کہنا لازمی نہیں ہے بلکہ ایسے کلمات جو وقف کی تشکیل کے سلسلے میں شرعاً مستعمل ہوتے ہیں وہ بھی کہے جا سکتے ہیں۔وقف کے جواز کیلئے اصلی بات واقف کا ارادہ اور نیت ہے۔دفعہ 183 محمڈن لاء کے تحت وقف تحریری بھی ہو سکتا ہے اور زبانی بھی۔
) کسی جائیداد کے ایک طویل عرصہ سے بطور نیک اور خیراتی کام اسکا وقف ہونا ثابت کیا جا سکتا ہے۔ (PLD 1961 Lahore 993)
لیکن مصر میں قانون تنظیم اوقت کی رو سے وقف کا تحریری ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اگر کسی وقف کیلئے چند شرائط ضبط تحریر میں لائی جائیں تو پھر انہیں ثابت کرنے کیلئے وہی دستاویز شہادت ہوگی۔وقف بحالت زندگی یا بصورت وصیت کیا جا سکتا ہے۔ وقف مرض الموت میں بھی ہو سکتا ہے۔ وصیت کے ذریعے وقف میں موصی یہ شرط عائد کر سکتا ہے کہ اگر اسکی اولاد پیدا ہو گئی تو وقف موقوف ہو جائے گا۔ وصیت میں تبدیلی کا اختیار چونکہ موصی کو ہوتا ہے لہذا وہ وقف بھی منسوخ کر سکتا ہے۔جو وقف بطور وصیت یا بوقت مرض الموت کیا جائے وہ ایک تہائی جائیداد سے زیادہ پر مؤثر نہ ہوگا، البتہ وارثان کی رضامندی سے ایک تہائی جائیداد سے زیادہ پر مؤثر ہو سکتا ہے۔

وقف کی شرائط Conditions of Waqf

1۔ واقف کو آزاد ہونا چاہئے، غلام وقف نہیں کر سکتا۔
2۔ وقف ہمیشہ کارِ خیر کیلئے ہونا چاہئے۔
3۔ شے موقوفہ واقف کی ملکیت ہونا چاہئے۔
4۔ اگر واقف اسقدر مقروض ہو کہ ساری جائیداد فروخت کرکے بھی وہ اپنا قرض نہ اتار سکے تو ایسی جائیداد کا وقف ناجائز ہے۔
5۔ ایسا وقف جو قرض خواہوں سے بچنے کیلئے کیا جائے وہ قرض خواہوں کے مطالبہ پر باطل ہو سکتا ہے۔
6۔ وقف مشروط نہیں ہونا چاہئے۔
7۔ وقف بذریعہ وصیت، وصیت ہی کی طرح قابل تنسیخ ہے۔
8۔ وقف کا اعلان نیک نیتی اور حقیقی ارادے پر مبنی ہونا چاہئے۔
9۔ وقف کیلئے لازم ہے کہ وہ فوری ہو اور کوئی ایسی شرط نہ لگائی گئی ہو جس سے وقف کی نفی ہوتی ہو۔
10۔ وقف دوامی ہونا چاہئے۔
11۔ وقف کے ساتھ بیع یا ہبہ کی شرط نہ لگائی گئی ہو۔

وقف کا دوامی ہونا

مسلمانوں کے تمام فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ وقف کا دوامی ہونا ضروری ہے لہذا اگر کوئی جائیداد ایک خاص مدت کیلئے وقف کی گئی ہو خواہ وہ مدت کتنی ہی زائد کیوں نہ ہو ایسا وقف صحیح اور جائز نہیں ہوگا۔ اہل سنت کے نزدیک واقف کیلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ وقف کرتے وقت ”دائمی“ کا لفظ بھی استعمال کرے۔ وقف کے لفظ سے یا اسکے ہم معنی الفاظ سے شرعاً وقف دوام ہی سمجھا جاتا ہے۔ دوسری بات جو وقف کیلئے اہم ہے وہ یہ کہ جس مقصد کیلئے وقف کیا جائے اسکی نوعیت بھی دوامی یا مستقل ہونی چاہئے لیکن اگر کسی وقت موقوف علیہ کا وجود باقی نہ رہے یا کسی وجہ سے وقف منقطع ہو جائے تو جائیداد موقوفہ دوبارہ واقف یا اسکے ورثاء کو منتقل نہیں ہوتی بلکہ غرباء اور مساکین کو منتقل ہوجاتی ہے۔ خواہ اسکا ذکر وقف کے موقع پر واقف نے کیا ہو یا نہ کیا ہو۔

اقرار وقف بحالتِ صحت و مرض الموت

1۔ اگر کوئی مسلمان اپنی مملوکہ اور مقبوضہ جائیداد کو بحالتِ صحت و درستی عقل وقف کرنے کا اقرار کرلے تو اسکا یہ اقرار صحیح ہوگا اور ایسی جائیداد ”شے موقوفہ“ سمجھی جائے گی۔
2۔ لیکن بحالتِ مرض الموت کسی مسلمان کا اقرار وقف صرف ایک تہائی جائیداد کی حد تک صحیح تصور ہوگا۔
وضاحت: جب کوئی شخص بحالتِ صحت اور درستی عقل و فہم اپنی کسی جائیداد کو وقف کرنے کا اقرار کرے تو ایسا اقرار صحیح ہوگا اور جائیداد موقوفہ فقراء اور مساکین کیلئے وقف سمجھی جائے گی۔ جب کوئی مسلمان بحالتِ مرض الموت اپنی جائیداد کو وقف کردینے کا اقرار کرے لیکن نہ متولی کا اور نہ موقوف علیہم کا تعین کیا ہو اسکی مقبوضہ اور مملوکہ جائیداد میں صرف ایک تہائی کی حد تک اقرار صحیح ہوگا۔ایسی ھالت میں ایک تہائی سے زائد یا سالم جائیداد کے وقف کا اقرار اسی صورت میں درست ہو سکے گا جب اسکی وفات کے بعد اسکے ورثاء ایک تہائی سے زائد جائیداد پر رضامندی کا اظہار کردیں یا کوئی وارث موجود ہی نہ ہو۔

وقف کے مقاصد

وقف کے مقاصد جائز ہونا لازمی ہیں۔ ایسے مقاصد خیراتی اور مذہبی ہو سکتے ہیں۔ مختلف اعلیٰ عدالتوں نے مندرجہ ذیل مقاصد کو وقف کے لئے جائز قرار دیا ہے۔
1۔ مساجد اور نماز پڑھانے کیلئے، امام کے معاش کے لئے۔
2۔ کالجوں اور ان پڑھ لوگوں کو پڑھانے کیلئے پروفیسروں کے معاش کیلئے۔
3۔ سراؤں کے قیام اور پانی کے ذرائع بہتر بنانے کیلئے۔
4۔ محتاجوں اور غریبوں کی امداد کے لئے۔
5۔ حضرت علی ؓ کا جشن ولادت منانے کے لئے۔
6۔ خانقاہ وغیرہ کی مرمت و دیکھ بھال کے لئے۔
7۔ واقف اور اسکے خاندان کے مرحومین کی برسی منانے کے لئے۔
8۔ قرآن خوانی اور مساجد میں روشنی کے لئے۔
9۔ کسی خاص مذہبی مقام پر مفت رہائش گاہ کے قیام کے لئے۔
10۔ فقیروں، ضرورتمندوں، یتیموں اور مساکین کو نقد امداد دینے کے لئے۔
11۔ ضرورتمند بیماروں کے علاج کے لئے۔
12۔ حاجیوں کیلئے بورڈنگ ہاؤس وغیرہ کی مکہ مکرمہ میں تعمیر کے لئے۔
13۔ غریب رشتہ داروں اور زیر کفالت لوگوں کی دیکھ بھال اور نان و نفقہ۔
14۔ عید گاہ کو عطیہ دینے کے لئے۔
اگر مقصد وقف شرع اسلام کے خلاف ہو تو ایسا وقف جائز نہیں سمجھا جاتا۔

مقصد وقف کا جزوی طور پر ناجائز ہونا

جب وقف ایک سے زیادہ مقاصد کیلئے کیا جائے جن میں سے بعض جائز اور بعض ناجائز ہوں تو جائز مقاصد کی حد تک وقف صحیح اور ناجائز مقاصد کیلئے غیر صحیح سمجھا جائے گا اور اگر واقف نے جائز اور ناجائز مقاصد کیلئے علیحدہ علیحدہ رقوم کا تعین بھی کردیا ہو تو ایسی صورت میں بھی وہ جائیداد جو ناجائز وقف کیلئے وقف کی گئی ہو وہ ”جائیداد موقوفہ“شمار نہ ہوگی بلکہ واقف کی ملکیت شمار ہو گی اور اگر تمام مقاصد وقف کے ناجائز ہوں تو کل موقوفہ جائیداد واقف کی ملکیت تصور ہوگی۔

عدم تعین کی بناء پر وقف کالعدم ہونا

دفعہ 179 محمڈن لاء کے مطابق جب وقف کے مقاصد کی نشاندہی معقول صاحت سے نہ کی گئی ہو تو غیر یقینی کی وجہ سے وقف باطل ہوگا۔ (2001 Clc 628)
انگریزی قانون کے مطابق ٹرسٹ کا مقصد خواہ وہ پرائیویٹ ہو یا پبلک اسے لازمی طور پر یقینی ہونا چاہئے وگرنہ غیر یقینی کی وجہ سے ٹرسٹ باطل ہو جائے گا۔

اصولِ تعبیر Doctrine of Cypres

جب وقف نامہ سے مقصد وقف اور واقف کی نیت کا علم ہو جائے اور مقصد وقف کے حصول میں کوئی دشواری پیش آرہی ہو یا ناقابل حصول ہو تو وقف اسلئے باطل نہ ہوگا کہ اصل مقصد حاصل نہیں ہو رہا ہے بلکہ واقف کی نیت کے مطابق موقوفہ جائیداد کی آمدنی ایسے مقاصد پر صرف کی جا سکے گی جو ناقابل حصول مقاصد کے قریب قریب یا ان سے ملتے جلتے ہوں۔ مثلا ً ایک شخص نے اسلامی یونیورسٹی کیلئے ایک کروڑ کی رقم وقف کردی مگر تخمینہ کے بعد اندازہ لگایا گیا کہ موقوفہ رقم سے اسلامی یونیورسٹی کا قیام ناممکن ہے تو ایسی صورت میں یا تو دیگر لوگ بقایا رقم برائے قیام یونیورسٹی خو د جمع کرلیں اور اگر یہ ممکن نہ ہوسکے تو بجائے یونیورسٹی کے اس رقم سے اگر اسلامیہ کالج بن سکتا ہے تو وہ بنا دیا جائے اور وہ بھی نہ ہو تو اسلامیہ اسکول بنا دیا جائے کیونکہ واقف کا اصل مقصد مسلمانوں کو دین کی تعلیم دلانا ہے۔ انگریزی اصطلاح میں وقف کی اس صورت کو (Ductrine of Cypres) کہتے ہیں۔
) جہاں کسی مشنری یونیورسٹی کے قیام کے مقصد کیلئے فنڈ اکٹھا کیا جائے لیکن فنڈ اس مقصد کیلئے کافی و مناسب نہ ہو تو ایسی صورت میں قرار دیا گیا کہ وقف ناکام نہیں ہو سکتا کیونکہ مقصد کو حاصل نہیں کیا جاتا۔ (PLD 1958 Lahore 824)
وقف زبانی یا تحریری ہو سکتاہے۔ یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ ٹرسٹ ایکٹ 1882 ء کی شرائط کا اطلاق وقف پر نہیں ہوتا۔

وقف کی تکمیل کا طریق کار

دفعہ 186 محمڈن لاء وقف کی تکمیل سے متعلق ہے جس کے مطابق بحالت زندگی کیا جانے والاوقف، واقف کے اعلانِ وقف سے مکمل ہو جاتا ہے۔ یہی قول امام ابو یوسفؓ کا ہے۔ کلکتہ، رنگون، پٹنہ، لاہور، مدارس اور بمبئی کی اعلیٰ عدالتوں نے اس سے اتفاق کیا ہے۔ امام محمد ؒ کے بقول وقف کی تکمیل کے لئے اعلان وقف کے ساتھ متولی کی تقرری ضروری ہے۔ وقف کو جائز قرار دینے کیلئے واقف کا اعلان کافی ہے۔کوئی وقف محض متولی کی بددیانتی، بدعنوانی اور غلط افعال کی وجہ سے ناجائز قرار نہیں پاتا۔ وقف کیلئے نیت کا ہونا بہت ضروری ہے۔اگر وقف کا اعلان نہ کیا گیا ہو، قبضہ بھی نہ دیا گیا ہو صرف جائیداد کو خیرات کیلئے علیحدہ کر دینے کی نیت ہو تو وقف قائم نہیں ہوتا۔ اگرچہ ایسی جائیداد کی آمدنی خیراتی کاموں پر صرف ہو سکتی ہے۔ محمڈن لاء کی دفعہ 187 کے مطابق ایسی دستاویز جو وقف نامہ ہو کو پاکستان کے قانون رجسٹری 1908 ء کے تحت رجسٹری کرانا لازمی ہے بشرطیہ جائیداد موقوفہ کی مالیت سو روپے یا اس سے زائد ہو۔ وقف کی نیت کے ساتھ اگر وقف کا لفظ استعمال نہ بھی کیا جائے اور ملتے جلتے الفاظ استعمال کئے جائیں جنہیں عرف عام میں وقف ہی سمجھا جائے، وقف کو قائم کرنے کیلئے کافی ہیں۔ قبضہ کی منتقلی بھی ضروری ہے۔ بعض حالات میں متولی کی تقرری بھی ضروری ہے اگر واقف خود متولی ہو تو قبضہ کیی منتقلی غیر اہم ہے۔

متولی کون ہو سکتا ہے؟

دفعہ 202 محمڈن لاء کے تحت وقف کی جانے والی جائیداد کے لئے متولی کی تقرری ضروری ہے۔ جائیداد کا انعرام و انتظام وہی کرتا ہے۔ متولی چاہے تو بذریعہ عدالت جائیداد موقوفہ کا قبضہ حاصل کر سکتا ہے۔ مندرجہ ذیل اشخاص متولی بن سکتے ہیں۔
1۔ واقف خود متولی بن سکتا ہے۔
2۔ اپنی اولاد یا اپنے نسب میں سے کسی دوسرے کو متولی بنا سکتا ہے۔
3۔ اگر ذمہ داریاں امامت، روحانی تربیت یا سجادہ نشینی کی نہ ہو ں تو عورت متولی بن سکتی ہے۔
4۔ اگر مذہبی ذمہ داریاں نہ ہوں تو غیر مسلم متولی بن سکتا ہے۔
5۔ مجنوط الحواس یا پاگل متولی نہیں بن سکتا۔
6۔ اگر تولیت موروثی ہو تو نابالغ متولی بن سکتا ہے۔ ایسی صورت میں عدالت کسی دوسرے شخص کو نابالغ کا عارضی ولی مقرر کر سکتی ہے۔ (PLD 1957 Lahore 803)

متولی کے اختیارات

محمڈن لاء میں متولی کے اختیارات کا تعین کیا گیا ہے۔ یہ اختیارات منفی اور مثبت دونوں صورتوں میں ہیں۔
1۔ اگر متولی کی دستاویز وقف نامہ میں اختیار دیا گیا ہو تو وہ جائیداد موقوفہ کو عارضی یا مستقل طور پر منتقل کر سکتا ہے۔ اگر ایسا اختیار نہ دیا گیا ہو تو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔
2۔ ایک متولی اپنا جانشین مقرر کر سکتا ہے۔ اگر ایک سے زائد متولی ہوں تو اختیارات تمام متولیوں کو منتقل ہو جائیں گے۔
3۔ متولی مرض الموت میں اپنا جانشین مقرر کر سکتا ہے۔ البتہ اپنے اختیارات کسی دوسرے شخص کو منتقل نہیں کر سکتا۔
4۔ اگر دستاویز وقف نامہ میں اختیار دیا گیا ہو تو متولی جائیداد موقوفہ کو فروخت کر سکتا ہے یا رہن رکھ سکتا ہے۔ اگر ایسا اختیار نہ ہو تو وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ اختیار ہونے کی صورت میں متولی عدالت میں مقدمہ دائر کرے گا۔
5۔ جائیداد موقوفہ کو متولی کرایہ پر دے سکتا ہے۔

متولی کی علیحدگی

متولی کو مندرجہ ذیل صورتوں میں برطرف کیا جا سکتا ہے۔
1۔ وقف کے برعکس ناجائز افعال کی وجہ سے۔
2۔ خیانت یا سنگین بددیانتی کی وجہ سے۔
3۔ وقف نامہ کی ہدایات کے مطابق مذہبی فرائض سر انجام نہ دینے سے۔
4۔ متولی اگر دیوالیہ ہوگیا ہو۔
متولی کی برطرفی بذریعہ عدالت ہوتی ہے، بیان کردہ وجوہات کی بناء پر عدالت متولی کو بر طرف کر سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں