پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ڈرگس کا بڑھتا ہوا رحجان

پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ڈرگس کا بڑھتا ہوا رحجان


والدین کی جانب سے اولاد کیلئے دیکھئے گئے بہت سے خواب تب چکنا چور ہوجاتے ہیں جب اُنکی اولاد ماں باپ کے خوابوں کو روندتے ہوئے ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہوجائے جہاں اُنکا کردار کسی زہریلی اور جان لیوا چیز کا شکار ہوچکاہواور وہ اپنا اصل مقصد کھو چکے ہوں۔پاکستان میں موجودہائی کلاس پرائیویٹ اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے ہر دس بچوں میں سے ایک بچہ ڈرگس(منشیات) کا عادی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت تقریباً 70 لاکھ لوگ منشیات کی لعنت میں مبتلا ہیں۔ لاہور، اسلام آباد،راولپنڈی، ملتان، جہلم، ساہیوال، فیصل آباد، گجرانوالہ اور شیخو پورہ کے پوش ترین علاقوں میں واقع اسکول، کالجز اور ان کی انتظامیہ پولیس کی ملی بھگت سے یہ مکروہ دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کئی تعلیمی اداروں کے اندر موجود گارڈز اور عملہ باآسانی اور بغیر کسی روک ٹوک کے منشیات فروخت کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے ہوسٹلز کا عملہ شراب فروخت کرتا ہے اور باقاعدہ کف سیرپ کی بوتلوں اور کولڈرنکس کی بوتلوں میں شراب بھر کر فروخت کی جاتی ہے۔نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ کچھ بڑے اور پوش ایریاز میں واقع اسکولوں کے بچے بھی نشے کے انجکشن لگا رہے ہیں اور میڈیکل کالجز میں خود ڈاکٹرزبھی اس منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں۔

پاکستان میں منشیات کا دھندہ ایک سوچی سمجھی عالمی سازش اور منصوبہ بندی کے تحت کیا جارہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کالعدم تنظیموں کیجانب سے لاہور، اسلام آباد سمیت پنجاب بھر کے 105 تعلیمی اداروں میں طلباء اور طالبات کو منشیات سپلائی کرنے کا انکشاف ہو چکا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں منشیات کی آن لائن فروخت کی جارہی ہے۔فیس بک، ٹوئیٹر اور دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے آرڈرز لیکر مہلک ترین نشہ آورکوکین، ہیروئن، چرس، گھانجہ اور آئیس سمیت ہر قسم کی منشیات سپلائی کی جارہی ہیں۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ جو بچے اور نوجوان نشے کی قیمت ادا نہیں کر پاتے انہیں نشے کی مارکیٹنگ پر لگا دیا جاتا ہے اور طالبات بچیاں جسم فروشی کے ذریعے نشے کا خرچہ پورا کرتی ہیں۔ پاکستان میں اس قسم کے ایشوز اور واقعات بہت ہی کم میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں یا انہیں صحیح طریقے سے مکمل طور پر رپورٹ ہونے ہی نہیں دیا جاتا کیونکہ بہت سے میڈیاوچینلز کے مالکان ہی اصل میں مختلف بڑے اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں کے مالکان ہیں اور ان کو یہ اچھا نہیں لگتا کہ انہی کے چینلز میں، انہی کے اخبارات میں انہی کی اصل کیش کمائی کو برا کہا جائے۔

پاکستان کی مایہ ناز تجزیہ کار ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق اسلام آباد کے اسکولوں میں 53 فیصد لڑکے اور تقریباً 48 فیصد لڑکیاں اس مہلک نشے کی بیماری کا شکارہیں۔ اس میں ہم نے چھ Category کی ڈرگس چیک کی تھیں جن میں آئس، ہیروئن، کوکین، شراب، چرس اور نیند آنے والی گولیاں شام ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر ماریہ سلطان نے اس بات کا احاطہ کیا کہ یہ منشیات طلباء اور طالبات تک کیسے پہنچ رہی ہیں اور زیادہ تر پرائیوٹ اسکولز اور یونیورسٹیز اس میں ملوث ہیں،اس کے اندر ہمارے ہسپتال اور ہماری فارمیسیز ملوث ہیں اسی وجہ سے بچوں تک ان منشیات کی بہت آسانی سے رسائی ہے بلکہ وہ ڈرگس گھر پر Deliver کردیتے ہیں اوراس نشے یا ڈرگس میں سگریٹ شامل نہیں ہے۔ ہم نے اپنی یہ ریسرچ دو سال میں مکمل کی۔ ہم نے سینیٹ اور پارلیمنٹ کمیٹی میں بھی کہا کہ اسوقت اس پر ایک نیشنل ایمرجنسی ڈکلیئر کرنا ضروری ہے کیونکہ جس تیزی سے نئی نسل کو اسکا عادی بنایا جارہا ہے تو ایک خیال سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو 5th جنریشن وارفیئرہے اُس کے اند ر ہماری ایک پوری نسل بیکار ہو جائے گی اور یہ صرف ہمارے ہائیر اسکولوں ا ور دیگر ہائیر تعلیمی اداروں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے اور ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد لوگ ایک اسکول کے ارد گرد منشیات فروخت کررہے تھے۔ ڈرگس کی اقسام میں آئس اور کوکین جیسے ڈرگس کا استعمال بہت زیادہ تھا اور کئی جگہوں پر خود اساتذہ اور ہیلپنگ اسٹاف اس کو Facilitate کررہے تھے اور ہر جگہ پرڈیڑھ سو سے زائد افراد کا ایک باقاعدہ نیٹ ورک موجود تھا۔ ہم نے اس کی روک تھام کے بارے میں چند اہم تجاویز دی تھیں جو پنجاب میں تو Implement ہو گئیں لیکن باقی جگہوں یا صوبوں میں ابھی تک ایکشن کمیٹی کے تحت رسپونس آگے نہیں بڑھ سکا کیونکہ ابھی ہمارے پاس صرف ساڑھے تین ہزار لوگ ہیں جو کہ ANF کی رسپونس فورس میں ہیں۔ پاکستان میں جو منشیات آرہی ہیں اس کے خلاف ہمارے پاس کوئی واضح Strategy نہیں ہے،ہمارے پاس کوئی سسٹم نہیں ہے کوئی طریقہ کار نہیں ہے جس کے تحت ہم اس کے خلاف کوئی Effective ایکشن لے سکیں۔ ہماری تمام تر Strategy صرف یہ ہے کہ جو افغانستان سے منشیات آرہی ہیں وہ یورپ یا امریکہ تک نہ جائیں لیکن جو پاکستان کے اندر آرہی ہیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔ اس وقت افغانستان دنیا کا سب سے بڑا منشیات کا گڑھ ہے۔ افغانستان سے نکلنے والی یا Export ہونے والی ڈرگس میں سے سالانہ 40 فیصد پاکستان میں لائی جاتی ہیں اور اس میں سے 25 فیصد صرف خیبر پختونخواہ میں استعمال ہورہی ہیں۔ پھر ہماریMarines آب دوزیں امریکہ سے کوکین لانے کیلئے استعمال ہورہی ہیں اور اس میں کچھ باہر کی ایجنسیز ملوث ہیں کیونکہ کوکین پاکستان میں نہیں ہوتی۔ ہمارے گورنمنٹ اسکولز ابھی تک اس سے بچے ہوئے ہیں لیکن ہمارے پرائیویٹ اسکولز اور یونیورسٹیز میں اس کا رحجان بڑھ رہا ہے۔

سماجی کارکن یوسف صلاح الدین نے اس بارے میں بتایا کہ ہماری ایلیٹ کلاس طبقے میں بہت خطرناک کیمیکل اورہوریبل قسم کی ڈرگس کا استعمال جاری ہے اور میں ذاتی طور پر بہت سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جن کے بچوں کے ساتھ یہ حادثے ہوئے۔ اسکولوں میں نشے کے عادی بیشتر طلباء کا تعلق امیر گھرانوں سے ہے اور ڈرگس کے استعمال کو آج کل فیشن سمجھا جاتا ہے اور ہماری ینگ جنریشن ڈرگس کے بارے ایسے بات کرتی ہے جیسے کہ یہ کوئی اچھا کام کررہے ہیں، ان کے مطابق ڈرگس لینا گلیمر س ہے، ڈرگس لینا Cool ہے، ان کو کوئی یہ بتانے اورسمجھانے والا ہی نہیں ہے کہ یہ چیزیں کتنی خطرناک اور کتنی بُری ہیں۔ نئی نسل کو منشیات سے بچانے کیلئے والدین کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔چونکہ یہ تمام ڈرگس کوئی سستی ڈرگس نہیں ہوتیں اسلئے پرائیوٹ اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کو اتنا کھلا خرچ نہ دیں تاکہ بچے ان چیزوں میں Involve نہ ہوں۔

پاکستان کی ایک فیمس اداکارہ اور ڈرامہ آرٹسٹ نادیہ جمیل کے مطابق ایسے بچے اور بچیاں جو Grade-A حاصل کررہے ہیں وہ بھی ڈرگس جیسی بیماری سے خود کو بچا نہیں سکے۔انہوں نے بتایا کہ ان کا اپنا Teen Ager بیٹا بھی ڈرگس لیتا تھا لیکن وہ جلدی Expose ہوگیا اور وہ ایک عقل مند بچہ ہے وہ اپنی حدود کو پہچانتا تھا اور دوسری بات یہ کہ ہمارے گھر میں اس موضوع پر ایک دوسرے سے بات چیت رہتی تھی۔ کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جو خود مختار ہوتے ہیں اور انکو پرواہ نہیں ہوتی کہ میرے اردگرد کوئی کیا کررہا ہے وہ بس پڑھائی میں لگے رہتے ہیں لیکن کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جن کی خود اعتمادی دوسرے بچوں سے اور گروپس سے ہی ان کی شناخت بنتی ہے اور وہی بچے ٹارگٹ بنتے ہیں۔ والدین کو پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کے بچے کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں، آج کل کے ماں باپ اپنے بچوں سے بہت ڈرنے لگے ہیں۔ مجھے بے حد پڑھی لکھی ماؤں کا فون آتا ہے کہ میں کیا کروں، میرا بچہ ڈرگس میں لگ گیا ہے میں اسکوروک نہیں سکتی یہ لڑ پڑتا ہے چیختا چلاتا ہے۔

پاکستان کے مشہور ایڈیکشن سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر صداقت علی نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو بہت ذیادہ لاڈ پیار کرنے لگے ہیں اور جب وہ بچے اسکول کالج اور یونیورسٹی میں جاتے ہیں تو اُن کو وہ آسائشیں ملتی ہیں جو اُن کو اپنی زندگی میں آگے جاکے اپنی ایجوکیشن کی بنیاد پر نہیں مل سکتیں، اُن کو قبل از وقت ہی ہر چیز کا Exposure ملتا ہے۔ بچوں کو سہولیات بالکل ملنی چاہئیں لیکن والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں سے اس بارے میں بات کریں، اُنہیں ڈرگس کے نقصانات کے بارے میں بتائیں۔پولیس، حکومت اور والدین کو اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے ڈرگس کے ناسور کو لگام دی جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں