ہاف ٹائم کے بعد……!!

ہاف ٹائم کے بعد……!!


ہاف ٹائم کے بعد کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔ ٹیموں نے گول پوسٹ تبدیل کر لئے ہیں۔ تھوڑی دیر پہلے مخالف ٹیمیں جن گول پوسٹس کا دفاع کررہی تھیں اب اُسی پر تابڑ توڑ حملے شروع کر چکی ہیں اور جن پر پہلے حملے کررہی تھیں اب اُس کا دفاع کررہی ہیں۔ سیاست کھیل ہی ایسا ہے!!

سیاست مڈل کلاس اور پڑھے لکھے لوگوں کا کھیل نہیں ہے لیکن بد قسمتی سے یہی لوگ سیاست کو زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں لیکن پھر جلد ہی انہیں مایوسی ہوتی ہے۔ مجھے ہمیشہ اُن پر ترس آتا ہے۔مثلاًانہیں سمجھ ہی نہیں آرہی کہ ہر مرتبہ انتخابات کیوں متنازعہ ہو جاتے ہیں۔ وہ اب سوال کررہے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے وہ کیا بھر پور اقدامات کئے تھے جس کا وہ ڈھنڈورا پیٹتی تھی۔ وہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ غریب قوم کی طرف سے الیکشن کمیشن کو پہلے سے تین چار گنا زیادہ عملہ اور 5 گنا زیادہ بجٹ دینے کے باوجود گنتی کا عمل چار دنوں میں مکمل کیوں نہ ہو سکا۔رزلٹ ٹرانسمشن سسٹم (RTS) کیوں نہ صبح خراب ہوا، نہ شام کو بلکہ عین موقع پر 11:47 منٹ پر خراب ہوا۔ خراب ہونے کے بعد الیکشن کمشنر نے یہ تسلی بھی نہ دی کہ اگر RTS خراب ہوگیا ہے تو اسکا متبادل سسٹم موجود ہے جیسا کہ ہونا چاہئے تھا۔ حتیٰ کہ انہوں نے میڈیا پر آکر یہ معذرت بھی نہ کی کہ سسٹم خراب ہو چکا ہے لیکن پرانا Manual سسٹم بروئے کار لا کر گزشتہ الیکشنوں کی طرز پر رزلٹ فراہم کئے جائیں گے اور رات دو بجے کے بجائے پہلے کی طرح صبح پانچ بجے تک نتائج آچکے ہوں گے اور ہاں ری کاؤنٹنگ میں ہر بارپی ٹی آئی کیوں ہاری اور مسلسل ہارتی چلی جارہی ہے۔ عوام یہ بھی سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اگر پولنگ ایجنٹس کو گنتی کے عمل سے خارج کرنے پر محترم چیف جسٹس نوٹس نہیں لے سکتے تھے تو کیا RTS کی خرابی پر بھی نوٹس نہیں بنتا تھا۔ ٹھیک ہے محترم چیف جسٹس کو دودھ، گوشت اور ڈیم بنانے میں فطری دلچسپی ہے کیونکہ بقول اُن کے یہ عوام الناس (Public interest) سے متعلق ہیں لیکن کیا 25 جولائی کو گیارہ بج کر 47 منٹ پر 20 کروڑ عوام کو جنہیں 5 سال بعد اپنے نمائندے اور حکومت کے انتخاب کا حق ملا تھا کو نتائج میں اس قسم کی رکاوٹ پر نوٹس نہیں لینا چاہئے تھا۔ اب جبکہ محترم چیف جسٹس نے نوٹس نہیں لیا بلکہ یہ فرمایا کہ انہوں نے الیکشن کی رات چیف الیکشن کمشنر کو فون کیا تھا مگر اٹینڈ نہیں کیا گیا، انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ بحیثیت چیف جسٹس انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو کیوں فون کیا اور ان سے کیا معلو مات لینا یا کیا ہدایات دینا چاہتے تھے تو عوام 5 سال تک یہ سوال کرتے رہیں گے کہ ان کے وسائل کے بے دریغ استعمال کے باوجود عوام کے ساتھ یہ ہاتھ کس نے کیا۔ جو ہونا تھا وہ ہو چکا۔ RTS کی خرابی کا یہ دلخراش واقعہ پاکستان کے الیکشن کی تاریخ میں اُس ناقابل فراموش واقعے کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس میں ایک بطخ نے 10 سالہ بچے پر حملہ کیا تھا اور اُس کی دوڑیں لگوا دی تھیں۔
اب آتے ہیں الیکشن کے مجموعی نتیجے (Outcome) پر۔ سیاست میں ”ہر کش، دل کش“ہوتا ہے یا پھر دل جلا دینے والا۔ توقع کے عین مطابق مسلم لیگ ن نہ تو مرکز اور نہ ہی کسی صوبے میں اپنے طور پر حکومت بنا پائے گی، جبکہ PPP ملک کے دوسرے بڑے صوبے یعنی سندھ میں اور پی ٹی آئی خیبر پختونخواہ میں حکومتیں بنانے کی پوزیشن میں آچکی ہیں۔ زرداری کی قیادت میں PPP نے نہ صرف مرکز میں 43 ایم این ایز (MNAs) کے ساتھ اپنی پوزیشن بہتر بنالی ہے بلکہ صوبہ سندھ میں اپنے خلاف بننے والے تاریخ کے سب سے بڑے اتحاد گرینڈ ڈیمو کریٹک ایلائنس (GDA) کو شکست سے دوچار کردیا اور ثابت کردیا کہ اگر زرداری بھاری نہیں تو ہلکا بھی نہیں۔

PTI پہلے راؤنڈ میں اپنی پوزیشن بہتر تو بنا سکی ہے لیکن وہ نتائج حاصل نہیں کر سکی جس کی توقع اس کے کارکن لگائے بیٹھے تھے۔ سوائے KPK کے، پی ٹی آئی کو ہر جگہ حکومت کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہے گا خصوصاً جب عوام نے ان سے بڑی بڑی توقعات وابستہ کررکھی ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ حکومت بنانے کے حق سے محروم رہی ہے لیکن مرکز اور پنجاب میں بطور اپوزیشن انتہائی اچھی پوزیشن پر آگئی ہے۔ 80 کی دہائی سے سیاست سے وابستہ تجزیہ نگاروں کے خیال میں نوازشریف کو پولیٹکس آف ڈیفائنس (Politics of defince) میں یدطولیٰ حاصل ہے۔ ان کے خیال میں نوازشریف میں ایک ہی خامی ہے اوریہی خامی ان کی خوبی بھی ہے۔ وہ اسی خامی یا خوبی کی وجہ سے اس مقام پر پہنچے ہیں۔ بتائیں تو بھلا یہ خوبی یا خامی کیا ہے؟ یہ خوبی یا خامی (آپ اسکو الٹا کرکے خامی یا خوبی بھی پڑھ سکتے ہیں) یہ ہے کہ نواز شریف سیاسی معاملات میں انتہائی ضدی اور ہٹ دھرم (Stuburn) واقع ہوئے ہیں اور اسی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہی انہیں کئی مرتبہ اپنا عروج اور پھر زوال دیکھنا پڑا۔ ایک مرتبہ پھر انہیں اسی ہٹ دھرمی نے گزند (Infliction) پہنچائی ہے جس کے بڑے اسباب میں مشرف کے خلاف غداری کا کیس اور ڈان لیکس ہیں لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مقتدر قوتوں کو نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد ایزی ٹائم یعنی مکمل اطمینان مل گیا ہے بلکہ خدشہ ہے کہ ان کیلئے مزاحمت اب مزید بڑھ سکتی ہے، کیسے؟ اس کا جواب سادہ ہے۔ اولاً یہ کہ سوشل میڈیا کے توسط سے پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ سیاسی عمل میں غیر سیاسی عناصر اپنے وقتی فائدے کیلئے ہمیشہ اپنا ایجنڈا آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ اس شعور کی وجہ سے سیاسی تقسیم (Political divide) اب Pro-estb اورAnti establishment کی بنیاد واضح اور گہری ہوتی جارہی ہے۔ ملکی سیاست میں یہ Dynamics پہلے سے موجود تھا لیکن مسلم لیگ ن کے پوسٹ جولائی 2017 کے انداز سیاست نے اس کو طشت ازبام کردیا ہے۔ یہ منظر تشویش ناک ہے کیونکہ انہیں عوام الناس کی بھر پور تائید حمایت اور احترام حاصل ہونا ضروری ہوتا ہے کیونکہ انہی اداروں کی بدولت ریاست اور پھر حکومت ِوقت مسائل سے بھرپور اور احسن طریقے سے نپٹتی ہے۔ موجودہ حالات ساری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے اور ہر قسم کی غلط فہمیوں کا ازالہ جلد از جلد ہونا چاہئے۔ سنجیدہ حلقے اور شخصیات اس جانب دو سالوں سے اشارہ کرتے آرہے ہیں۔

دوئم یہ کہ اب نوازشریف کا ذاتی Stake (فائدہ اور نقصان) نہیں رہا۔ میں نے معنوی اعتبار سے ذاتی فائدے اور نقصان کی بات کی ہے۔مثلاً اگر نوازشریف قانونی لحاظ سے آئندہ پارلیمنٹ میں پہنچنے کے اہل نہ ہوں یا وہ خود اس میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں تو یہ عمل میرے نزدیک خطر ناک ہو سکتا ہے کیونکہ وہ ہر لحاظ سے اب بھی سیاسی ہیوی ویٹ ہیں اور وہ نئے انداز سے خود اپنے رول کا تعین کر سکتے ہیں۔ اس میں انکا واحد نقصان یہ ہو سکتا ہے کہ اسکے لئے جواباً انہیں زیادہ سے زیادہ جیل میں رکھا جا سکتا ہے لیکن اس سے ان کی سیاسی اہمیت گھٹ نہیں سکتی بلکہ بڑھتی چلی جائے گی لیکن یہ بات حتمی بھی نہیں۔ مثلاً اگر PTI کی حکومت آئندہ پانچ برسوں میں اتنے ترقیاتی کام کرتی ہے کہ مسلم لیگ ن کی کارکردگی گہنا دے تو عوام مسلم لیگ ن کو بھول سکتے ہیں ورنہ مسلم لیگ کی کارکردگی کو دو تین عشروں تک یاد رکھے گی۔

سوئم یہ کہ الیکشن 2018 کے نتیجے میں ساری جماعتیں مسلم لیگ کے ساتھ اتحاد میں ہم رکاب بنتی نظر آرہی ہیں۔ جب تک پی ٹی آئی کی حکومت رہتی ہے (ممکنہ طور پر پانچ سال کیلئے) تو اپوزیشن کا یہ اتحاد بنتا اور ٹوٹتا ہوا کسی نہ کسی شکل میں جاری رہے گا کیونکہ اس اتحاد میں تمام جماعتوں خصوصاً JUI(F)،ANP، PKMAP اور JI کو ایک جیسے حالات کا سامنا ہے۔

چہارم PMLN اور اپوزیشن کا اتحاد ایک طرف PTI کی حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرنے کاکوئی موقع ضائع نہیں کرے گا لیکن اگر کبھی پی ٹی آئی کو Establishment کے خلاف کسی حمایت کی ضرورت پڑی تو در پردہ اس حمایت کی جائے گی۔ مندرجہ بالا عوامل کی وجہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ Establishment کو ماضی کی نسبت زیادہ مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

اب تک جن نکات کا ذکر کیا گیا ہے وہ تمام خدشات ہیں لیکن کیا ہم نے بحیثیت قوم خود کو سدھار نا نہیں تاکہ تمام Stake-Holder اپنے مفادات کی بجائے عوام کی بہتری کیلئے سوچیں اور مل جل کر ملک کو مضبوط بنائیں۔ اسلئے ہمیں یہ توقع بھی رکھنی چاہئے کہ حالات بہتر رخ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اپوزیشن خصوصاً مسلم لیگ ن کی یہ شکایت جائز ہے کہ پی ٹی آئی نے انکے گزشتہ پانچ سالوں میں Disruption کی سیاست کی اور ان کیلئے ہر ممکن طریقے سے مشکلات پیدا کیں لیکن کیا اب مسلم لیگ ن اور پی پی پی کو اس بات کا ادراک آئے گا کہ ان کی جانب سے PTI حکومت کیلئے ملکی مفاد میں غیر ضروری رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں۔ اگر انہیں یہ ادراک ہو جائے کہ PTI نے جو بلند بانگ دعوے کئے تھے وہ حاصل کرنا ممکن نہیں ہے لیکن پھر بھی اسے ایک فیئر چانس ضرور ملنا چاہئے تاکہ وہ دیکھیں کہ وہ کس طرح اپنے منشور مثلاً ایک کروڑ نوکریاں، 50 لاکھ گھر، بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور IMF یا کسی بھی دیگر ذرائع سے قرض نہ لینے کا وعدہ اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرکے مالدار لوگوں پر ٹیکس عائد کرنا کس حد تک پورا کر پاتی ہے۔ سیاست میں بہر طور ملکی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔ اسلئے اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ پی ٹی آئی کے راستے میں روڑے نہ اٹکائیں اور دیکھیں کہ وہ اپنے منشور پر کیسے عمل کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو پاکستان کے بیس کروڑ عوام سکھ اور چین کا سانس لیں گے اور اپوزیشن یہ ثابت کر سکتی ہے کہ اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی عوام کی خدمت کی جا سکتی ہے جیسا کہ دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔ وہ سینے پر بھاری پتھر رکھ کر عمران خان کے برعکس اچھے طرز عمل کا مظاہرہ کرسکتے ہیں، ویسے بھی PTI کا طرز عمل بطور اپوزیشن کسی بھی لحاظ سے نہ تو مثالی تھا اور نہ ہی قابل تقلید۔ اسی طرح ہماری قابل احترام اعلیٰ عدلیہ کو خود کو قابل بھروسہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ اس پر عوام کا اعتماد بحال ہو، اسکے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے رول، ٹاسک اور فیصلوں میں تسلسل لائے اور کم گوئی کی طرف مائل ہو۔ عوام عدلیہ کے موجودہ رول سے بالکل مطمئن نہیں ہیں بلکہ سخت قسم کی Confusion میں مبتلا ہیں۔ سیاسی Cases سے جس قدر ممکن ہو اجتناب کرے، اسی طرح محترم چیف جسٹس کو چاہئے کہ عوام سے براہ راست درخواستیں وصول کرنے کی موجودہ رسم سے اجتناب برت کر ماتحت عدلیہ کے ذریعے فوری اور سستے انصاف دلانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ ماتحت عدلیہ کی ہر ممکن مدد کی جائے تاکہ جلد سے جلد مقدمات کا فیصلہ انصاف کی روشنی میں کیا جا سکے۔

جہاں تک Establishment کا تعلق ہے ان سے یہ توقع بے جا نہ ہوگی کہ وہ نیک نیتی سے خود کو سویلین حکومت کے ماتحت رکھنے کی روش اپنائیں کیونکہ جمہوریت اور عوام کی حاکمیت کے تصور سے روگردانی کی صورت میں مسائل کم نہیں ہوں گے۔ اگر ایسا ممکن ہو جائے تو مشکلات کے باوجود ہماری سمت درست ہو سکتی ہے۔ دنیا بھر میں الیکشن کے مرحلے سے گزر کر قومیں استحکام Stability حاصل کرتی ہیں لیکن پاکستان میں ہر الیکشن عوام کے ذہنی خلفشار میں اضافہ کرتا ہے اور ہم سیاسی استحکام کے حصول سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ ہر کوئی بیچ سے سڑک پار کرنے کی کوشش میں ٹریفک روک رہا ہے۔ ہمارے دشمن ہمارے متعلق کیا خطرناک منصوبے بنا رہے ہیں اسکا شاید ہمیں علم نہ ہو سکے لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس قوم کا اپنا طرز عمل بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔قوموں کی زندگی میں 70 سال کا عرصہ سنِ بلوغت کی منزل گنا جاتا ہے، اب ہم بلوغت کے قریب ہیں شاید ہمارا قد چھوٹا رہ گیا ہے۔ہمین بحیثیت قوم اپنا قد کاٹھ بڑھانے کی ضرورت ہے اور اسکا وقت آن پہنچا ہے اور ہاں وقت نے اپنی سیٹی بجا دی ہے اور ہاف ٹائم کے بعد کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔ 20 کروڑ عوام اپنے لیڈران اور کرتا دھر تاؤں سے اچھے طرز عمل کی توقع رکھتے ہیں۔

ایک چاہت کا طلبگار ہوں میں
اور مانگوں تو گنہگار ہوں میں

سیاسی منظر نامہ

وطن عزیز میں الیکشن 2018 کے انعقاد کے بعد سیاسی منظر نامے کے خدوخال آہستہ آہستہ واضح ہونے لگے ہیں۔ ایک طرف وفاق میں ”جیسے تیسے“ کر کے PTI نے حکومت بنا لی ہے جسمیں انہیں تاد م تحریر MQM،PML-Q، GDA،PAP اور آزاد ارکان کی حمایت مل چکی ہے جبکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی انہوں نے اپنے حریف PML-N کو سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود اپنی حکومت قائم کرلی ہے۔ آئندہ ہفتے منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھی PTI کے امیدوار کے جیتنے کے واضح امکانات ہیں۔ اسطرح کہا جا سکتا ہے کہ عنانِ اقتدار اب عمران خان کی PTI کے پاس ہے جسکے لئے انہوں نے گزشتہ دس سال تک سیاست کا ہر گُر استعمال کیا۔

کتنا آسان تھا تیرے عشق میں مرنا جاناں
پھر بھی ایک عمر لگی جان سے جاتے جاتے

سیاست گری ایک جاری لیکن مشکل کام ہے۔ اس میں ایک طرف ذہانت، انتھک محنت اور عوام کی نبص سے با خبر رہنا ہوتا ہے تو دوسری طرف اپنے حریفوں کی چالوں (Moves) پر بھی نظر رکھنی ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے PTI کو آئندہ دنوں میں مشکلات کا سامنا رہے گا کیونکہ عمران خان نے اپنے حامیوں کو گزشتہ دس سالوں میں یہ باور کروانے کی کوششیں کیں کہ اس کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک Receipe موجود ہے۔ یہ بیانیہ وہ اتنے شّدو مد کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کرتے رہے جس کے سبب انکی سیاست بہت ہی آہستہ لیکن آگے بڑھتی رہی۔ دوسری طرف PML-N کی گزشتہ پانچ سالوں کے دوران شاندار کارکردگی کی وجہ سے نوازشریف کی مقبولیت میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی لیکن Establishment واضح طور پر اُسکی مخالف نظر آئی۔یاد رہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاح بہت دقیق و عمیق ہے اور اس مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کا جھکاؤ واضح طور پر ایک ہی پارٹی کی طرف تھا۔ اس سارے تناظر کو سامنے رکھ کر الیکشن 2018 کے نتائج کو سمجھنا ہر گز مشکل نہیں۔

کہتے ہیں کہ نوازشریف کا اصل جوہر حکمرانی کرنا نہیں بلکہ Politics of defiance ہے۔ یہ بات وہ اسی اور نوے کی دہائی میں ثابت کر چکے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خوبی اور خامی یہی ہے کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹتے۔ گزشتہ کئی برسوں سے نوازشریف کا نقطہ نظر کافی واضح تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک اقتدار کُلی طور پر سول حکومت کو منتقل نہیں ہوتا پاکستان کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ اس نقطہ نظر کی وجہ سے ہی انکو سیاسی مشکلات کا سامنا رہا لیکن وہ آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نوازشریف کے بیانئے کو شکست ہوئی یا اسکا بیانیہ بتدریج آگے بڑھتا جارہا ہے جو کہ کسی مرحلہ پر کامیابی سے ہمکنار ہوگا، ظاہر ہے اس پر آراء مختلف ہو سکتی ہیں۔

نوازشریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنی کشمکش کو آگے بڑھاتے ہیں یا نہیں لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ حلقے جو Establishment کو کھل کر چیلنج نہیں کر سکتے تھے اب کھل کر ایسا کررہے ہیں۔جسکی وجہ سے شدت سے عوام یہ سوچنے پر مجبور ہورہی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیلئے بھی ریاست میں جوابدہی کا نظام موجود ہونا چاہئے۔ بہر طور آج پاکستانی سیاست کا سب سے مشکل سوال یہی ہے کہ سیاستدانوں اور Establishment کے درمیان آئندہ کے تعلقات میں ایک عمومی Consenses ہو سکے گا یا پھر یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔ یہ بھی امید ہے کہ آئندہ کچھ عرصہ میں تجزیہ کار اس نکتہ پر بھی کھل کر اظہار خیال کر سکیں گے کہ پانامہ اسکینڈل میں نوازشریف کی برطرفی سے ملک کو مالی، انتظامی اور اخلاقی لحاظ سے کتنا فائدہ پہنچا، یااس سے ریاست پاکستان کو الٹا نقصان ہوا۔

PTI کی نوزائیدہ حکومت سے عوام کو فوری تبدیلی کی امیدیں وابستہ ہیں لیکن ایسا ہونا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ فوری طور پر PTI کی قیادت کو ذیل تین امور پر بڑے چیلنجزدرپیش ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا عمران خان کے نقاد ان میں ایک Statesman والی خصوصیات پا سکیں گے جو معاشرے میں برق رفتارتبدیلی کا سبب بن سکے۔ ان کی ابتدائی دو ہفتوں کی کار کردگی سے عوام کو قطعاً یہ تاثر نہیں ملا۔ دوئم یہ کہ عمران خان کی ٹیم چوائس پر مسلسل تنقید ہورہی ہے۔ ان کو ثابت کرنا ہوگا کہ نہ صرف وہ مردم شناس ہیں بلکہ اپنی ٹیم سے کام بھی لے سکتے ہیں۔ ابتدائی دس دنوں میں ان کی ٹیم پر بھر پور اعتراضات سامنے آئے ہیں۔تیسرا یہ کہ کیا عمران خان اپنے سو دجوں کے پلان کو عملی جامہ پہنا سکیں گے جس کا وعدہ انہوں نے عوام سے کیا تھا۔ دعا ہے کہ عمران خان اس ملک میں وہ تبدیلی لا سکیں جس کا انہوں نے وعدہ کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں