Introduction

 تعارف

ماہنامہ القانون اسلام آباد


پاکستان میں جہاں شرح تعلیم انتہائی کم، ادارے کمزور اور انصاف بے انصاف ہے وہاں عوام کے حقوق کا تحفظ ممکن ہی نہیں ہے۔ عوام کو قانونی شعور نہ ہونے، کرپشن، جانبداری اور اقربا پروری کی بدولت ظلم و جبر اور استحصال ایک عمومی فعل ہے۔ نہ ملک میں سیاسی استحکام ہے، نہ قانون کی حکمرانی ہے، نہ سستا اور فوری انصاف ہے، نہ شفافیت ہے اور نہ ہی عوام کو کوئی آگاہی ہے۔ اس صورت حال میں ایک عام آدمی جن مشکلات سے دوچار ہو سکتا ہے اسکا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔
تھانہ کچہری ایک عام آدمی کیلئے کسی بھوت اور عفریت سے کم نہیں۔ عوام کو قانون سے آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے جن مشکلات و مصائب سے گزرنا پڑتا ہے، جس طرح ظلم سہنا پڑتا ہے اور جس طرح ان کو لوٹا جاتا ہے اس کے متعلق شعور پیدا کرنے اور حقوق سے آگاہی کیلئے قومی سطح پر حکومت اور نہ ہی کوئی ادارہ اپنا کردار ادا کررہا ہے جبکہ یہ بنیادی طور پر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں شعور و آگہی کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔
اس خلاء کو پر کرنے کیلئے انسانی حقوق کی تنظیم شارپ نے ماہنامہ القانون کے زریعے قانون کی تعلیم اور حقوق سے آگاہی کا بیڑہ اٹھایا اور سال 2000 ء سے 2009 ء تک باقاعدگی سے القانون کا اجراء کیا۔ 2009 میں بوجوہ القانون بند کردیا گیا جو الحمداللہ جنوری 2017 سے دوبارہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ اور باقاعدگی کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ القانون میں قومی امور پر تبصروں کے علاوہ قانون سے متعلق آگاہی کے ساتھ انسانی حقوق سے متعلق رپورٹس اور عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم و جبر استحصال اور نا انصافی پر بھی آواز اٹھانا مقصود ہے۔
القانون تمام لکھاریوں اور تمام قارئین کا مشکور ہے جو اس مشن میں القانون کے ساتھ ہیں اور امید ہے کہ یہ قافلہ مزید بڑھے گا، یہ آواز مزید توانا ہوگی اور القانون تمام طبقات کا ترجمان ہوگا۔آپ کی Contribution کا شکریہ۔