اسلامی میراث کی تاریخ (تاریخِ وراثت)

اسلامی میراث کی تاریخ (تاریخِ وراثت)


وراثت کو احکام شریعت اور تعلیمات اسلامی میں خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ کتاب اللہ میں تواتر سے یہ بات دیکھنے کو ملتی ہے کہ وراثت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی حدود میں شمار کیا ہے اور نہ صرف ان حدود کی حفاظت کی تاکید کی ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ اگر یہ حدود توڑی گئیں تو وہ تمام اور اچھے اور نیک اعمال کو برباد کر سکتی ہیں۔

اگر تاریخ وراثت کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ میت کے مال متروکہ کی تقسیم کا رواج دور جاہلیت میں بھی تھا لیکن اسکی تقسیم حقدار کے حق کے مطابق نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ اسکا دارومدار مرنے والے کے لا ابالی مزاج پر تھا۔ وہ تمدن جسمیں شراب خوری اور قمار بازی باعث فخرو صباحات تھیں اور جن کے نزدیک معصوم بچیوں کو زندہ درگور کردینا عزت و شرف کا نشان سمجھا جاتا تھا۔اسی طرح ان میں یہ قاعدہ بھی تھا کہ مرتے وقت اپنے مال کی وصیت ایسے لوگوں کے نام کر جاتے تھے جن کے ساتھ انکا دور کا واسطہ بھی نہ ہوتا تھا اور اس کو وہ اپنے زعم باطل میں سخاوت شمار کرتے تھے۔ اگر مرنے والا اپنے مال متروکہ (Estate) کے متعلق کوئی وصیت نہ کر جاتا تو پھر انکے مال وراثت کا یہ قانون رائج تھا کہ مال متروکہ اولاد (فقط جوان بیٹوں) اور بیوی میں تقسیم کردیا جاتا۔ والدین اور دوسرے قریبی رشتہ دار بالکل محروم رہتے۔ یہ طریقہ چونکہ حق و انصاف کے بالکل خلاف تھا کہ مرنے والا بیگانوں کے لئے تو اپنے تمام مال کی وصیت کر جائے اور اپنوں کو محروم کردے یا اولاد اور بیوی تو وارث ہوں جبکہ بوڑھے ماں باپ کو کچھ بھی نہ ملے۔ اسلئے اللہ پاک نے اپنی حکمت بالغہ کے مطابق نظام وراثت نازل فرمایا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے وراثت کو اپنی حدود میں شمار کیا ہے لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں وراثت کا معاملہ بلا خوف وخطر توڑا جاتا ہے۔

میراث کو نصف علم قرار دیا گیا ہے۔ حدیث نبویﷺ ہے کہ تم فرائض (میراث) سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ کہ وہ نصف علم ہے بلا شبہ وہ بھلا دیا جائے گا اور میری امت میں سے یہی علم سب سے پہلے سلب کیا جائے گا۔میراث کو علم الفرائض کا نام بھی دیا گیا ہے۔ علم الفرائض علم فقہ اور علم حساب کے ان قواعد کو جاننے کا نام ہے جن کے ذریعے میت کا ترکہ اسکے ورثاء کے درمیان تقسیم کرنے کا طریقہ معلوم کیا جائے۔ علم الفرائض کا مقصد میت کے مال میں سے ہر وارث کو اسکا متعین حق دینا ہے۔ اللہ پاک نے نظام وراثت کو نازل فرمانے سے پیشتر وصیت کے متعلق آیات نازل فرمائیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
”جس وقت موت قریب آجائے تو تم پر فرض ہے کہ تم اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کیلئے انصاف کے ساتھ وصیت کرو اور یہ متقین پر فرض ہے، اور جس نے (حاضرین میں سے یا گواہوں میں سے) سننے کے بعد وصیت میں تغیرو تبدل کیا تو اسکا گناہ اسے بدلنے والوں پر ہوگا بیشک اللہ سننے والا، جاننے والا ہے“
(سورۃ البقرہ)

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
”مردوں کا حصہ ہے اس مال میں جو والدین اور اقرباء چھوڑیں اسی طرح عورتوں کا حصہ ہے اس مال میں جو والدین اور اقرباء چھوڑیں، خواہ مال متروکہ کم ہو یا ذیادہ (آخر میں فرمایا کہ ہر ایک کا حصہ مقرر شدہ ہے)“
(سورۃ النساء)

یعنی پہلے تمہیں آزادی تھی کہ ازروئے انصاف جو حصہ تم جسکا مقرر کرو وہی اسے دیا جائے لیکن اب تمام وارث مردوں اوار وارث عورتوں کے حصے مشیت ایزدی کے مطابق مقرر کئے جاتے ہیں اور ان میں کمی بیشی کا تمہیں حق نہیں پہنچتا۔
بعد ازاں حصے مقرر کرتے وقت یوں آغاز کلام فرمایا:
”وصیت کرتا ہے تمہیں اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے بارے میں۔مرد کیلئے دو عورتوں کے حصے کے برابر ہو“
(سورۃ النساء)

یعنی پہلے تم اپنی وصیت کے مطابق تقسیم کیا کرتے تھے اب اللہ تعالیٰ کی وصیت کے مطابق تقسیم کرو۔ وصیت خداوندی یقینا مقدم ہوگی۔تو واضح ہوا کہ پہلے والدین اور اقرباء کے جو حصص ازروئے وصیت مقرر کئے جاتے تھے اب انکے قائم مقام انہیں وہ حصے دیئے جائیں گے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں۔

اسلام کا فلسفہ وراثت
(Islamic Philosophy of Inheritance)

اسلام نے صحت مند معاشرہ کو معرض وجود میں لانے کیلئے کنبہ کو بڑی اہمیت دی ہے اور اسکے افراد کے مفاد کو یوں ایک دوسرے سے وابستہ کردیا ہے کہ محبت و قرابت کا باہمی رشتہ کبھی ٹوٹنے نہ پائے۔ اسکے لئے جو وسائل اختیار کئے ہیں انہی میں سے ایک نظام میراث ہے۔ زندگی میں اگر کنبہ کا کوئی فرد افلاس و غربت کا شکار ہو جائے تو دوسرے افراد پر اسکے نفقہ کو فرض قرار دیا۔اسی طرح موت کے بعد متوفی کے قریبی رشتہ داروں میں اسکی جائیداد کو تقسیم کرنے کا حکم دیا تاکہ زندگی اور موت میں کنبہ کا مفاد یوں باہم پیوستہ رہے کہ جدائی کا خیال ہی ان میں راہ نہ پا سکے۔ کنبہ کے اتحاد کو برقرار رکھنے کیلئے نظام وراثت میں قرابت کا اصول پیش نظر رکھا گیا۔ میراث میں حصہ کے ملنے یا نہ ملنے اور حصے کے کم یا ذیادہ ہونے میں رشتہ کی نزدیکی اور دوری کا بہت بڑا دخل ہے۔

دوسرا اصول ضرورت ہے یعنی قریبی رشتہ داروں میں حصہ کی کمی بیشی کا مدار ضروریات (Necessity) کو قرار دیا۔جتنی کسی کی ضروریات ذیادہ اور ذمہ داریاں کثیر ہونگی اسی لحاظ سے اسکا حصہ مقرر کیا جائے گا۔ مثلاً متوفی کے والدین اور اسکی اولاد کی قرابت بالکل مساوی نوعیت کی ہے لیکن اولاد جو زندگی کے سفر کا اب آغاز کررہی ہے اسکی ضروریات والدین کی ضروریات سے کہیں ذیادہ ہوتی ہیں جو اس طویل سفر کی آخری منزل میں قدم رکھ چکے ہوں۔ نیز والدین کے پاس تو زندگی بھر کا کچھ نہ کچھ اندوختہ ہوتا ہی ہے اور اولاد بالکل خالی ہاتھ ہے۔ یہی فرق لڑکی اور لڑکے میں ہے،لڑکی پر کسی قسم کی ذمہ داری نہیں، شادی سے پہلے اسکے والدین اسکی تمام ضروریات کے کفیل ہیں اور شادی کے بعد اسکی رہائش، لباس اور خوردونوش کی تمام تر ذمہ داری خاوند پر ہے۔ اسکی اولاد کی تعلیم و تربیت کے جملہ مصارف بھی اسکے خاوند کے ذمہ ہیں۔ مزید بر آں عملی زندگی کی سر گر میاں جس سرمایہ کی محتاج ہیں اسکا مہیا کرنا بھی مرد کی ذمہ داری ہے۔ یہ حقائق ہیں جن کے پیش نظر اسلام نے والدین اور اولاد، عورت اور مرد کے حصوں میں فرق کیا ہے اور یہ فرق ہی عین عدل ہے۔ ان امتیازات کی موجودگی میں انکے حصوں کو مساوی رکھنا مساوات تو ہوگی لیکن کھوکھلی اور ظالمانہ اور اسلام صرف اس مساوات کا علمبردار ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہو۔

تیسرا اصول تقسیم وراثت یہ ہے کہ اسلام چاہتا ہے کہ دولت سمٹ کر چند ہاتھوں میں جمع نہ ہوجائے اور وراثت کی تقسیم میں بھی اس اصول کو ملحوظ رکھا۔ اسلئے صرف بڑے لڑکے یا صرف لڑکوں کو ہی وارث تسلیم نہیں کیا بلکہ تمام اولاد، لڑکے اور لڑکیاں اور انکے علاوہ کئی اور رشتہ داروں کو وارث قرار دیا تاکہ ذیادہ سے ذیادہ افراد میں یہ دولت تقسیم ہو۔ یہ وہ تین اصول ہیں (قرابت، ضرورت اور تقسیم دولت) جن پر اسلام کا یہ بے نظیر نظام وراثت قائم ہے۔

اسلام کا فلسفہ وصیت
(ISlamic Philosophy of Will)

آدمی کو اپنے کل مال کے ایک تہائی حصہ کی حد تک وصیت (Will) کرنے کا اختیار ہے اور وصیت کا یہ قاعدہ اسلئے مقرر کیا گیا ہے تاکہ قانون وراثت کی رو سے جن عزیزوں کو میراث میں سے حق نہیں پہنچتا ان میں سے جس کو آدمی مدد کا مستحق پاتا ہو اپنے اختیار تمیزی سے اسکا حصہ مقرر کردے۔مثلاً کوئی یتیم پوتا یا پوتی (بیٹے کے ہوتے ہوئے)موجود ہے یا کسی بیٹے کی بیوہ مصیبت، تکلیف کے دن کاٹ رہی ہے یا کوئی بہن، بھائی، بھاوج، بھتیجا، بھانجا یا کوئی عزیز ایسا ہے جو سہارے کا مہتاج نظر آتا ہے تو اسکے حق میں وصیت کے ذریعے سے حصہ مقرر کیا جا سکتا ہے اور اگر رشتہ داروں میں کوئی ایسا نہیں ہے تو دوسرے مستحقین کیلئے یا
رفاہ عامہ میں صرف کرنے کی وصیت کی جا سکتی ہے۔
نوٹ: (یتیم پوتے کی وراثت کے حوالے سے یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ مسلم عائلی قانون 1961 ء کی دفعہ4 کے ذریعے یتیم پوتے پوتیاں میراث (وراثت) کے حقدار ہیں)۔ یعنی اگر کوئی شخص مرجائے اور اپنے پیچھے ایسے لڑکے یا لڑکی کی اولاد چھوڑ جائے جو اسکی زندگی میں فوت ہو چکا ہو تو مرحوم کی اولاد اس حصے وراثت کو حاصل کرنے کی مستحق ہو گی جو انکے ماں یا باپ کو ملتا اگر وہ اس شخص کی وفات کے وقت موجود ہوتے۔

اس بابت اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے بھی موجود ہیں۔

٭ پوتے اور پوتی کا والد، دادا کی وفات سے قبل وفات پاگیا ہو تو بھی دادا کی جائیداد سے 2/3 حصہ ملے گا جبکہ بقیہ جائیداد 1/3 حصہ دیگر ورثاء کو ملے گا۔
(PLD 1998 Karachi 446)
٭ بیٹی جو اپنے والد کی وفات سے پہلے فوت ہو جائے تو اسکے بچے نانا کی وراثت سے حصہ لینے کے حقدار ہیں۔
(1997 SCMR 281)
٭ متوفی بیٹے کے بچوں کو حصہ وراثت سے اسی قدر ملے گا جیسا کہ اگر باپ زندہ ہوتا تو ملتا۔
(PLD 2011 lahore 23)

خلاصہ یہ کہ آدمی کی کل ملکیت میں سے دو تہائی یا اس سے کچھ زائد کے متعلق شریعت نے میراث کا ضابطہ بنا دیا ہے جس میں سے شریعت کے نامزد کردہ وارثوں کو مقررہ حصہ ملے گا اور ایک تہائی یا اس سے کچھ کم کو خود اسکی صوابدید (Discretion) پر چھوڑ دیا گیا ہے تاکہ وہ مخصوص خاندانی حالات کے لحاظ سے جس طرح مناسب سمجھے تقسیم کرنے کی وصیت کردے۔ پھر اگر کوئی شخص اپنی وصیت میں ظلم کرے یا بالفاظ دیگر اپنے اختیار تمیزی کو غلط طور پر اس طرح استعمال کرے جس سے کسی کے جائز حقوق متاثر ہوتے ہوں تو اسکے لئے یہ چارہ کار رکھ دیا گیا ہے کہ خاندانی لوگ باہمی رضامندی سے اسکی اصلاح کرلیں یا قاضی شرع کو مداخلت کی درخواست کی جائے اور وہ وصیت کو درست کردے۔

مختلف مذاہب اور ممالک میں تقسیم وراثت کا طریقہ کار کیا ہے؟اور انکے مقابلے میں اسلام کے قانون وراثت کو کیا فوقیت حاصل ہے؟ یقینا یہ ایک دلچسپ مطالعہ ہے۔تمام مذاہب کے سر کردہ اور اسکالر زحضرات اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جس طرح دین اسلام میں وراثت کا ہر مسئلہ مکمل طور پر اظہر من الشمس ہے اسطرح دنیا کے کسی بھی دوسرے دین میں واضح نہیں ہے۔ ہندوؤں کی وید، سکھوں کی گرنتھ، عیسائیوں کی بائبل اور یہودیوں کی تالمود اور تورات میں وراثت کے قوانین کا قطعاً کوئی تذکرہ نہیں ملتا ماسوائے اسکے کہ چند اشارات کا سہارا لیا جائے۔ جبکہ اسکے برعکس اسلامی قانون وراثت کے حوالے سے متعدد کتب بھی عام ملتی ہیں اور تسلی بخش جواب دینے والے مفتیان اکرام بھی با آسانی ہر بندے کی پہنچ میں ہیں۔

دی بائبل اسکول راولپنڈی کی ایک کتاب جو کہ (Laws of Christians) کے نام سے ہے اس کتاب میں عیسائیوں کے چند قوانین وراثت کا نامکمل تذکرہ کیا گیا ہے اور یہ کتاب کسی طرح سے بھی اسلامی قانون وراثت کی جامعیت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ نیز وہ قوانین بھی مختلف عدالتی فیصلوں کی روشنی میں مرتب کئے گئے ہیں۔ دین مسیحیت کے حوالے سے انکی کوئی بنیاد نہیں ہے، اسی طرح سکھوں کے ہاں بھی اس حوالے سے کوئی کام نہیں ہے۔

وراثت کے تین ارکان ہیں:
(مورث، وارث، ترکہ)

(۱)مورث: مورث یعنی وہ شخص جو ترکہ چھوڑ کر وفات پا گیا ہو۔
(۲) وارث: وہ افراد جو شرعی طور پر مرنے والے کے ترکے میں حصہ دار ہیں۔
(۳)ترکہ: کسی شخص کی وفات کے وقت اسکی تمام جائیداد منقولہ و غیر منقولہ جو شرعاً اسکی ملکیت ہو، مرنے والے کی تمام منقولہ جائیداد یعنی گاڑیاں، نقد رقوم، گھریلو سامان وغیرہ یا غیر منقولہ جائیداد یعنی زرعی زمین، رہائشی مکان، فیکٹری وغیرہ ترکہ میں شامل ہیں جو اسکی موت کے وقت اسکی ملکیت میں تھیں۔خواہ وہ اسکے قبضہ میں تھیں یا دوسروں کے ذمہ واجب الادا تھیں۔ترکہ میں علمی ورثہ یعنی کتابوں، فارمولوں اور ایجادات وغیرہ کی رائلٹی بھی شامل ہے۔ اسی طرح گھریلو سامان بھی ترکہ میں شامل ہوگا اور تمام شرعی وارثوں کا اسمیں حق ہوگا۔

اسمیں اصول یہ ہے کہ سب سے پہلے ترکہ میت کی تجہیز و تکفین پر خرچ کیا جائے گا اسکے بعد جو مال بچے گا وہ میت کے ذمہ واجب الادا قرض کی ادائیگی میں استعمال ہوگا۔ اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو تجہیزو تکفین اور قرض کی ادائیگی کے بعد جو کچھ ترکہ میں سے بچے گا اس سے میت کی وصیت پوری کی جائے گی۔اسکے بعد ترکہ میت کے ورثاء میں شرعی احکام کے مطابق تقسیم ہوگا۔
٭ قانون وراثت میں قانون میعاد سماعت لاگو نہ ہوتا ہے۔
(2016 YLR 1270 Sindh)
٭ وراثت کی صورت میں شرعی قانون کو عائلی قانون پر بر تری حاصل ہے اسی کے مطابق حصہ وراثت دیا جائے گا۔
(2016 YLR 383-d)
٭ وراثت میں قانون میعاد سماعت لاگو نہ ہوگا۔
(2013 Clc 52 lahore)
(2017 Clc 66)
٭ وصیت کل جائیداد کے 1/3 حصہ پر لاگو ہوتی ہے۔
(2017 Clc 666 lahore)
٭ مدعا علیہ اپنے دادا کی جائیداد سے حصہ وراثت لینے کا حقدار ہے۔
(2002 Clc 285)

خواتین دشمن روایات کا امتناع ایکٹ 2011 ء

خواتین دشمن روایات کا امتناع ایکٹ 2011 ء کی رو سے دفعہ 498A(ppc) عورت کو جائیداد اور وراثت سے محروم کرنے پر دس سال ذیادہ سے ذیادہ اور پانچ سال کم سے کم سزا، جرمانہ بھی عائد ہوگا جو دس لاکھ روپے تک ہو سکتا ہے یا دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکتی ہیں۔

احادیث 

میراث کی شرعی تقسیم میں کوتاہی سے اجتناب لازم ہے کیونکہ قرآن و احادیث میں اس بابت سخت وعید آئی ہے۔
٭ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس نے کسی وارث کے حصہ میراث کو روکا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اسکے حصے کو روکے گا۔

٭ ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ بعض لوگ تمام عمر اطاعت خداوندی میں مشغول رہتے ہیں لیکن موت کے وقت میراث میں وارثوں کو ضرر پہنچاتے ہیں ایسے اشخاص کو اللہ تعالیٰ سیدھا دوزخ میں پہنچا دیتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں