انصاف کی بے انصافی

انصاف کی بے انصافی


پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ عدالتی تاریخ مرتب کرنے میں ثانی نہیں رکھتی۔ دنیا کی تاریخ میں پاکستان کی عدلیہ انوکھے اور متنازعہ فیصلوں کی وجہ سے ایک شاندار مقام کی حامل ہے۔ یہ پاکستان کی عدلیہ ہے جس نے نظریہ ضرورت ایجاد کیا، یہ پاکستان کی عدلیہ ہے جسکے ماتھے پر ذوالفقار علی بھٹو کا کیس ایک دھبے کی صورت موجود ہے، یہ ہماری عدلیہ ہی ہے جس نے ہمیشہ آمروں کی ذاتی وفاداری کا حلف اُٹھایا، یہ ہماری عدلیہ ہے کہ جس نے بن مانگے آئینی ترامیم کی اجازت دی اور یہ ہماری ہی عدلیہ ہے جس نے الزام پانامہ سزا اقامہ کے علاوہ انصاف کی کتابوں میں افسانوی کرداروں گارڈ فادر اور سسلین مافیا کو شامل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی اور سب سے دلچسپ اور حیران کن فیصلہ شاہد اورکزئی کے خلاف آیا۔
شاہد اورکزئی ایک صحافی ہیں اور خلاف آئین اور خلاف قانون اقدامات پر ہمیشہ آواز بلند کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی کئی آئینی درخواستیں عدالت میں زیر تجویز ہیں۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ سے حال ہی میں سپریم کورٹ تقرری پانے والے سابق چیف جسٹس منصور علی شاہ کے خلاف کوئی آئینی درخواست دائر کی جسمیں فاضل جج کو تا فیصلہ کام سے روکنے کی درخواست بھی تھی۔ عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ جس طرح سیاسی لوگوں کی درخواستیں مسترد کر دی جاتی ہیں، انصاف اور قانون کی مروجہ اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے فاضل عدالت درخواست خارج کرتی، کسی مناسب فورم کی نشاندہی کرتی، اگر عدالت کے نزدیک درخواست جھوٹ اور الزامات پر مبنی ہے تو عدالت درخواست کے اخراج کے ساتھ جرمانہ بھی عائد کر سکتی ہے مگر عدالت نے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک درخواست گزار کی سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی عائد کردی اور اسکو یہ تنبیہ کی گئی کہ آئندہ کسی بھی رجسٹری میں داخل نہ ہو،ان کو یہ تنبیہ بھی کی گئی کہ وہ جج صاحبان کی کردار کشی نہ کریں جس کے جواب میں شاہداورکزئی نے عرض کی کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں عدالت ملاحظہ کرے۔ مگر عدالت عظمیٰ نے شاہد اورکزئی کی بات سننے سے انکار کرتے ہوئے بغیر کسی بحث ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کو عدالت عظمیٰ یا کسی بھی رجسٹری میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔یہ فیصلہ البتہ ابھی ہونا ہے کہ یہ پابندی عارضی ہے یا تا حیات ہے، اس کے اوپر شاید ایک اور بنچ تشکیل دیا جائے جسمیں یہ دیکھا جائے کہ جج صاحبان جیسی مقدس ترین گایوں پر کسی شخص کو کسی آئینی ادارے میں اعتراض کا حق ہے یا نہیں، یہ ریمارکس بھی شاید آجائیں کہ جج صاحبان کی شان میں گستاخی کا مرتکب کوئی بھی شخص درخواست گزار نہیں ہو سکتا۔اسکے بنیادی حقوق سلب کرنے کا اختیار صرف اسی ادارے کو حاصل ہے جو بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس ملک میں عزت اور احترام صرف دو اداروں تک ہی محدود رہ گیا ہے۔اسکے علاوہ نہ اس ملک میں کسی کی عزت ہے اور نہ کوئی مقام۔جج صاحبان انصاف کے اونچے ایوانوں میں بیٹھ کر جو بھی الفاظ ادا کریں وہ انتہائی معتبر اور قابل تعظیم ہیں، جو بھی الفاظ تحریر کریں وہ پتھر پہ لکیر ہیں۔ وہ جب چاہیں جے آئی ٹی بنادیں، اسکی تشکیل بھی خود کریں، اسکی نگرانی بھی خود کریں، اسکو مخصوص وقت میں فیصلہ کا وقت بھی خود دیں، اس رپورٹ کی روشنی میں مقدمہ احتساب عدالت بھیج کر اسکی بھی مدت اور نگرانی کا تعین خود کریں اور رپورٹ کے اندھیرے حصے کے تحت وزیر اعظم کو نا اہل بھی کردیں تو یہ انصاف کا اعلیٰ ترین تقاضہ سمجھا جائے۔ لیکن اگر سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت مقدمات کی بات کی جائے، اگر یہ مطالبہ کیا جائے کہ شفافیت کیلئے جلد از جلد فیصلہ کیا جائے تو وہ توہین کے زمرے میں آتا ہے۔
پاکستان کی عدلیہ کا تاریخی کردار نوازشریف کے خلاف کھل کر سامنے آگیا ہے۔ نوازشریف کی سزا سے لیکر Revision، عمران خان کیس اور نہال ہاشمی کیس میں تواتر کے ساتھ نوازشریف کے تذکرے کے بعد نوازشریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے مقدمہ میں
عمران خان کی زبان کا استعمال ایک افسوسناک ترین تبصرہ جس کا جواب آنے پر چیف صاحب کو وضاحت کرنی پڑی، یہ ایسا افسوسناک رویہ ہے جس پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے نوازشریف کووزارت عظمیٰ سے فارغ کیا۔ فیصلہ صحیح یا غلط، مگر سب نے سر تسلیم خم کیا۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف کو صدارت سے علیحدہ کیا، سپریم کورٹ کا اختیار ہے، غلط یا صحیح، سب نے تسلیم کیا مگر کسی کو چور ڈاکو گارڈ فادریا سسلین مافیا کہنا کسی بھی عدالت کا نہ اختیار ہے اور نہ ہی حق۔ اسلئے ان الفاظ پر تبصرے بھی ہورہے ہیں، تنقید بھی ہورہی ہے اور آخر میں عدلیہ سارا ملبہ میڈیا پر ڈال دیتی ہے کہ ان کی غلط رپورٹنگ ہے دوسری طرف سے جواب آتا ہے عدلیہ غلط رپورٹنگ پر فوراً ایکشن کیوں نہیں لیتی، کیا عدلیہ صرف نوازشریف کی حد تک ہی انصاف کرنے کی پابند ہے، کوئی بھی عدلیہ کو غلط رپورٹ کرتا ہے اس پر سخت ایکشن لینا چاہئے۔ بہر حال اسمیں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اختیار کے استعمال میں عدلیہ احتیاط کا دامن چھوڑ کر خود عدلیہ کے تقدس کو داؤ پر لگا رہی ہے جو کسی بھی طور پر درست نہیں۔
نواز شریف چور بھی ہو سکتا ہے، بد عنوان بھی ہو سکتا ہے اور سزاوار بھی ہو سکتا ہے۔ عمران خان صادق بھی ہو سکتا ہے، امین بھی ہو سکتا ہے، فرشتہ سیرت اور فرشتہ صفت بھی ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں عدلیہ اور فوج ہی بس دو ایسے مستند اور مقدس ادارے ہیں جہاں صرف اور صرف فرشتے ہیں۔ نہ انکے ماضی پر کوئی داغ ہے اور نہ انکا حال بد حال ہے اور نہ ہی ان کے مستقبل کو کوئی خطرہ ہے اسلئے ان کے بارے میں لب کشائی توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے اور توہین عدالت میں غیر مشروط طور پر معافی مانگنے اور خود کو عدالت کے رحم وکرم پر چھوڑنے کے باوجود سزا کا نیا تصور اور اس سزا کے تحت نا اہلی کی شمولیت جوڈیشل ایکٹوازم کا نیا دور ہے۔
القانون عدلیہ اور معزز جج صاحبان کے ادب و احترام کا حامی ہے اور جج صاحبان کی توہین کو کسی بھی صورت سپورٹ نہیں کرسکتا۔ جسٹس منصور علی شاہ اور ملتان بار کے تنازعے میں بھی القانون کا واضح مؤقف تھا کہ اختلاف اور احتجاج رواداری اور حدود کے اندر رہتے ہوئے کرنا چاہئے اور آج بھی اس مؤقف پر قائم ہے مگر القانون کا یہ بھی مؤقف ہے کہ جج صاحبان اسی معاشرے کا حصہ ہیں، ہماری طرح انسان ہیں ان سے غلطیاں اور کوتاہیاں سرزد ہو سکتی ہیں۔ ان کے خلاف احتساب کیلئے جوڈیشل کمیشن موجود ہے مگر جوڈیشل کمیشن کی کارکردگی کیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن کام نہ کرے، سپریم کورٹ جج صاحبان کے خلاف درخواست نہ سنے تو عوام کے پاس کیا راستہ رہ جاتا ہے۔
ہم بڑے ادب و احترام کے ساتھ اپنے معزز فاضل جج صاحبان سے یہ عرض کرنے میں قطعاً حق بجانب ہیں کہ عدالت میں بیٹھے جج صاحبان کو پہلے خود وہ معیار اختیار کرنے ہوتے ہیں جن کے تحت وہ دوسروں کو تولتے اور پرکھتے ہیں۔ اگر عدلیہ کے ماتھے پر کوئی داغ ہوگا تو وہ دوسروں کے داغ نہیں دھو سکے گی۔اسلئے محترم جج صاحبان سے یہ دست بستہ عرض ہے کہ پابندیا ں لگا کر انصاف کا گلا گھونٹنے کی بجائے انصاف کی اعلیٰ ترین روایات کے پیش نظر اگر درخواست گزار کو ثبوت پیش کرنے کا موقع دیتی تو وہ زیادہ مناسب ہوتا۔ تاہم اس سمیت کسی بھی شخص پر پابندی آئین پاکستان میں موجود بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ فیصلہ تاریخ کے صفات میں ہمیشہ چمکتا رہے گا۔ عدلیہ سے یہ بھی گزارش ہے کہ جوڈیشل کونسل میں زیر سماعت مقدمات کا جلد فیصلہ کرکے عدلیہ میں تطہیر کے عمل کو تیز کرتے ہوئے انصاف کی اعلیٰ قدروں کا تحفظ کریں تاکہ انصاف اور منصفوں کا بول بالا ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں