انٹرویو۔ علی احمد پلھ ایڈووکیٹ۔ ہیومن رائٹس ڈیفنڈرحیدرآباد

انٹرویو۔ علی احمدپلھ ایڈووکیٹ۔ ہیومن رائٹس ڈیفنڈرحیدرآباد سندھ


میزبان: سید لیاقت بنوری ایڈووکیٹ

القانون: اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟
علی احمد صاحب: میرا نام علی احمد پلھ ہے۔میں نے حیدر آباد لاء کالج سے Bachelors کیا ہوا ہے۔اس کے بعد میں نے Mahidol University Bangkok سیہیومن رائٹس میں ماسٹرز کیاجہاں ان کا ہیومن رائٹس اینڈ پیس ڈیپارٹمنٹ ہے۔اس کے بعد میں نے بہت سارے ملکوں میں ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز اور ہیومن رائٹس پروٹیکشن پر کام کیا جس میں سری لنکا، نیپال اور بہت سے دوسرے ممالک پائے جاتے ہیں اور میرا اپنا Thesis انٹرنیشنل کرمنل کورٹ پہ ہے جو ایک ایسی کورٹ ہے جو Immunity تسلیم نہیں کرتی۔
اس کے بعد میں نے L.L.M کیا ہے Fletcher School of Law and Diplomacy-Tufts University سے اور اس میں ایک چھوٹا سا کورس Law of Crimesکا تھا جو میں نے Howon University سے کیا ہوا ہے۔ اس وقت میں حیدرآباد سندھ میں ڈیفنڈر آف ہیومن رائٹس کو Lead کررہاہوں اورمیں پڑھا رہا ہوں Institute of Law میں جو یونیورسٹی آف جامشورو سے منسلک ہے۔اس کے علاوہ میں ایشیا پیسفک رفیوجی رائٹس نیٹ ورک کے ساتھ بھی کام کرتا ہوں جس میں ہمیں شارپ پاکستان Lead کررہی ہے کیونکہ اس وقت رفیوجی رائٹس کا نیٹ ورکSHARP-Pakistan کے پاس ہے۔

القانون: ہیومن رائٹس ڈیفنڈرزکیا ہے اور اسمیں آپ کا کیا رول اور کردار ہے؟
علی احمد صاحب: دیکھیں جی! یہ جو Individuals ہوتے ہیں یا آرگنائزیشنز ہوتی ہیں جو ہیومن رائٹس کوسوسائٹی میں پروموٹ کرتی ہیں تو انکو ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کہا جاتا ہے۔جسکے لئے جو پہلے لفظ استعمال کرتے تھے کہ یہ Activist ہے اب یہ جو UN Deploys in 1998ہے وہ ہیومن رائٹس ڈیفنڈرزپہ particularly آیا ہوا ہے اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ Individuals جو ہیومن رائٹس کیلئے کام کرتے ہیں ان کو ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کہا جائے کیونکہ وہ ہیومن رائٹس Situations کوڈیفینڈ کرتے ہیں۔ لوگوں میں بہت سی کنفیوژن ہے کہ وہ ہیومن رائٹس پروٹیکشن اور ہیومن رائٹس ڈیفنڈرپروٹیکشن کوایک ہی سمجھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اگر ہمارے لوگ ہیومن رائٹس پر کام کررہے ہیں کہ کہیں پر Disappearance ہورہی ہے یا دوسری چیزیں ہورہی ہیں توان کو ہم کہیں گے Human Rights Violations لیکن اگر کسی ہیومن رائٹس ڈیفنڈر کو کوئی Threatآجاتی ہے،ہیومن رائٹس ڈیفنڈر پہ کوئی False Case ہو جاتا ہے اسکی کوئی Stigmatization ہو جاتی ہے اور اسکو اغواء کرلیا جاتا ہے یا Disappear کردیا جاتا ہے تو وہ ہیومن رائٹس ڈیفنڈرزکی پروٹیکشن کی Violation میں آتا ہے اور یہ UN کا ڈکلیریشن ہے اسلئے اس کی ان سارے ملکوں میں Moral Obligation ہے جو UN کے ممبران ہیں اور اس میں پاکستان کا Concern شامل ہے۔ پہلے جتنے بھی ملکUN Decleration کے آنے کے مخالف تھے تو پاکستان بھی ان میں سے ایک تھاتو International لیول پر support شونہیں کی تھی جسکو تمام ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز نے پاکستان میں Condemn کیا تھا کہ پاکستان کو As a state ہیومن رائٹس ڈیفنڈرزکے اس کنونشن کی سپورٹ کرنی چاہئے۔ ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز جوہوتے ہیں وہEducation پر کام کرنے والے بھی ہو سکتے ہیں اور Disappears پر کام کرنے والے بھی ہو سکتے ہیں، جیل پر جو کام کررہے ہیں وہ بھی ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز ہی ہوتے ہیں۔ UN کا جو ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کا کنونشن ہے یہ ہمیں Liberty دیتا ہے کہ ہماراFreedom of Expression ایک حق ہے لیکن جب ہم ہیومن رائٹس ڈیفنڈر ہیں اور سب لوگوں کے رائٹس کو پروٹیکٹ کررہے ہوتے ہیں تو اسکے رائٹ کو تحفظ دیتاہے کہ as a protector ہمیں شو کیا جاتا ہے۔
جب ڈیفنڈر مختلف موضو عات پر کام کرنا شروع کردیتا ہے تو انکی مشکلات بھی بڑھ جاتی ہیں،ان کے سامنے چیلنجزبھی آجاتے ہیں۔ ان چیلنجز میں سب سے پہلی بات یہ ہوتی ہے کہ State or non-state actors کی طرف سے ان کو دھمکیاں آنی شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ تھریٹس Known بھی ہوتی ہیں اور Unknown بھی ہوتی ہیں، فون کالز کے زریعے بھی ہوتی ہیں یا آفس میں Physically بھی ان کو دی جاتی ہیں اور False Cases میں Implication بھی ہوتی ہیں اوران کو اٹھا بھی لیا جاتا ہے۔ہم نے سندھ میں Disappearance کی پوری لسٹ بنائی تھی کہ کتنے لوگ Disappear ہیں اس میں ہم نے پوائنٹ آؤٹ اور ہائی لائٹ کیا تھا کہ بیس لوگ ہیں جو Famous ہیں جو سندھ کے مختلف زونز میں کام کررہے تھے ان کو اٹھالیا گیا تھا تو اسلئے ہم نے سندھ میں موجود جو ادارے تھے جس میں سندھ یورنیورس کمیشن ہے، نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس ہے، ڈساپیرنس کمیشن ہے اور یواین کا جو ورکنگ گروپ ہے ان کو بھی ہم نے رپورٹ کیا،وزارت داخلہ کو ہم نے رپورٹ کیا۔ Disappearance کا مسئلہ پورے پاکستان میں ہے لیکن صرف سندھ میں اگست کے مہینے میں 83 Disappearances رپورٹ ہوئی ہیں۔اس وقت پاکستان میں ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کا ایک نیٹ ورک بھی ہے اور میں سندھ میں ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کے اس نیٹ ورک کو Co-ordinate کررہا ہوں۔سندھ میں جتنے بھی ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز ہیں یا انسانی حقوق پر کام کرنے والے لوگ ہیں ان کو ہم نے ایک جگہ پر اکٹھا کیا ہے اور ہم نے کہا کہ ایک نیٹ ورک کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اس سے یہ ہوگا کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ انفارمیشن بھی شیئر کریں گے، ہمیں پتہ چلے گا کہ جیکب آباد میں کیا ہورہا ہے، کراچی، میر پور خاص اور تھرپارکر میں کیا ہورہا ہے اور ایک دوسرے کو سپورٹ بھی ہم ایکسٹینڈ کریں گے۔ اس کے ساتھ ہماری دوسری ڈویلپمنٹ یہ ہوئی ہے کہ ہم نے ڈسٹرکٹ Chapters بنا لئے ہیں اور وہاں ہم نے ڈسٹرکٹ کمیٹی بنا لیں ہیں۔ جیسا کہ Freedom of Expression پر کوئی جرنلسٹ کام کرتا ہے تو وہ بھی اس گروپ میں ہے، Women Rights پر جو کام کرتے ہیں وہ بھی اس گروپ میں ہیں، لیبر پر جو کام کرتے ہیں وہ بھی اس گروپ میں ہیں۔ایک اور بہت اہم ڈویلپمنٹ جو سندھ میں ہوئی ہے کہ آئی جی سندھ نے ہیومن رائٹس کیلئے ایک ڈی آئی جی فکس کر لیا ہے جن کی ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کی اسٹیرنگ کمیٹی کے ساتھ Quaterly + Monthly میٹنگز ہوتی ہیں اور انہوں نے ہر ضلع میں ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کا ایک فوکل پرسن فکس کردیا ہے۔ جس سے یہ ہوا کہ ہم اپنی ڈسٹرکٹ کمیٹیز سے شیئر کرتے ہیں کہ جناب ان کی F.I.R نہیں کٹ رہی یا یہاں Threat Level بڑھ رہا ہے اس کو Defuse کیا جائے تو وہ ہمارے ساتھ ایک تو تعاون کرتے ہیں اور ایک یہ میگنزم ہمارے لئے ایک ہارڈ لائن کی صورت بھی اختیار کرگیا ہے کہ جو بھی ایشو ہوا تووہ ہم ڈسٹرکٹ میں بتا دیتے ہیں۔ یہ اسٹیٹ کی طرف سے ہمارے لئے بہت اچھا رسپونس ہے اور دوسرا رسپونس یہ ہے کہ سندھ ہیومن رائٹس منسٹری کی طرف سے جو ڈائریکٹوریٹ ہے انہوں نے سندھ ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کیلئے ایک آؤٹ لائن Establish کی ہے۔

القانون: یہ جو ساری کارکردگی ہے وہ صرف سندھ میں ہے یا پورے پاکستان میں بھی ہے؟
علی احمد صاحب: میں سندھ میں ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کو Coordinate کرتا ہوں اور پورے ملک میں بھی یہی کارکردگی ہے اور کل ہماری اسلام آباد میں ایک میٹنگ بھی ہوئی تھی جسکوپاکستان ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز نیٹ ورک کی نیشنل کوآرڈینیٹرتنویر جہاں جن کا تعلق DCHD سے ہے وہ ہیڈ کررہی تھیں۔وہاں پورے ملک کی Situation بھی شیئر ہوئی جس میں ہمیں پتہ چلا کہ ہیومن رائٹس ڈیفنڈرزجو سدرن پنجاب میں کام کررہے ہیں ان کے چیلنجزکچھ مختلف ہیں اور زیادہ ہیں اس پر ایکشن لیا جائے، اسٹیٹ اس پر نوٹس لے۔ دوسرا یہ کہ بلوچستان کے کچھ علاقے ہیں وہاں سے انفارمیشن فلو نہیں ہورہا، ہیومن رائٹس ڈیفنڈزر کے جو Freedom of Expression ہے اس پہ زیادہ نومینیشن ہورہی ہے، کچھ علاقوں میں نیوز پیپر بند ہو گئے ہیں تو انفارمیشن پہ اٹیک ہورہا ہے۔ ہماری نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس سے میٹنگ ہوئی جس میں ایک بڑی ڈویلپمنٹ یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے ایک فوکل پرسن رکھا ہے کہ یہ ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کو ڈیل کرے گا تو اب ہم انفارمیشن شیئر کریں گے نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس کے ساتھ اوروہاں پاکستا ن نیشنل ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز نے ایک اور چیز پیش کی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی گائیڈ لائنز دی ہیں۔ جس طرح ریفیوجی پہ گائیڈ لائنز ہوتی ہیں یا آئی ڈی پیز پہ گائیڈ لائینز ہوتی ہیں تو اسی طرح ہم نے ایک ڈرافٹ پیش کیا ہے کہ ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کیلئے یہ گائیڈ لائنز ہونی چاہئیں۔ اب ان پہ عملدرآمد ایسے ہوگا کہ نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس ہر صوبے میں چیپٹر وائس Discussions کروائے گا، Consultations کروائے گا، اس میں Improvement/Amendment کی اگر ضرورت ہوگی تو وہ کروائے گااورFinally یہ گائیڈ لائینزApproved کرائے گا۔

القانون: آپ سندھ کی سیاست کے حوالے سے کچھ بتائیں، ابھی آپ لوگوں نے گنے کے کاشتکاروں کیلئے جو مہم چلائی تھی وہ ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کے طور پر تھی یا پولیٹیکل ایکٹیوسٹ کے طور پر تھی؟
علی احمد صاحب: دیکھیں! میں خود بھی ایک Small Grower ہوں تو جب میں نے دیکھا کہ اس میں ان کے ساتھ بھی بہت Injustice ہورہا ہے تو ہم نے چھوٹے چھوٹے ڈسٹرکٹ وائس گروپس بنالئے اور ہم نے ایک آرگنائزیشن stablish Eکی جس کا نام ہے سندھ ایگریکلچر ریسرچ کونسل ہے۔سوسائٹی میں جتنے بھی لوگ ہوتے ہیں Citizens ہوتے ہیں ان کے رائٹس ہوتے ہیں وہ جب Violate ہوتے ہیں تو ان کیلئے ہمیں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔اسلئے ہم نے یہ Chapters بنا کر ریسرچ کی کہ کیا کیا مسائل ہیں۔ایک تو یہ کہ ان کو گنے کے فیئر ریٹس نہیں مل رہے تھے اور جس میں سندھ گورنمنٹ اور ملز مالکان تھے یہ سب مل گئے۔تو ہمیں پتہ چلا کہ جب یہ Rural Businessman بن جائے تو کیا ہوتا ہے۔ گنے کے پرائسز کے حوالے سے بالکل سنی نہیں جارہی تھی۔دوسرا یہ کہ procurement policies کے حوالے سے ہمارے ساتھ مسائل تھے، کرپشن بہت تھی اس کو ہم نے take up کیا۔تیسرا مسئلہ یہ تھا کہ جو ہمارےTanks ہیں ان میں بالکل پانی اس وقت نہیں ہے اور وہاں جو Growers ہیں وہ بالکل فقیر بن گئے ہیں اور لکڑیاں کاٹ رہے ہیں اس وقت۔ تویہ صورتحال جب تھی وہاں پر تو ہم نے کہا کہ یہ سارے مسائل جو ہیں انکا حل کیا ہے۔ ہم نے Approach کیا سندھ گورنمنٹ کو، سیکرٹریز کو، منسٹرز کو لیکن گنے کے حوالے سے خاص طور پر یہ ساری چیزیں رکی ہوئی تھیں۔ ہمیں پتہ چلا کہ بلاول ہاؤس ہی Decision Making اس میں کر سکتا ہے تو پھر ہم نے دھرنا دیاجس میں کسی ایک پارٹی کا کوئی Grower نہیں تھا بلکہ اس میں مختلفGrowers مختلف پارٹیوں سے تھے اور کچھ آزاد Growers بھی تھے۔ اس دھرنے میں ہمارے تقریباًاٹھانوےGrowers گرفتار ہوئے جس کو میں Lead کررہا تھا۔چار بجے ہم Arrest ہوئے تھے اوررات کو گیارہ بجے ہمیں ریلیز کیا گیا تھا۔ میں یہ کہنا نہیں چاہتا مگریہ کریڈٹ ہمیں ہی جاتا ہے کہ گنے کے ایشو کو internationalise issueہم نے ہی کیا ہے ورنہ یہ ایشو کسی کونے میں ڈسکس ہورہا ہوتا، ہم نے اسے ہائی لائٹ کیا یہ پاکستان کا نیشنل ایشو بن گیا اس کے بعد نیشنل میڈیا کا میں شکر گزار ہوں کہ پہلی مرتبہ نیشنل لیول پر Farmers کا ایشو آیا ہے، میں اس میں سول سوسائٹی کا بھی شکر گزار ہوں کہ پہلی مرتبہ انہوں نے Growers کے ایشو میں دلچسپی لی ہے اور اس وقت میں آپ کو بتاتا جاؤں کہ ہم نے Growers کا کنونشن رکھا ہے اور کراچی میں سول سوسائٹی اور Growers کی ایک جوائنٹ میٹنگ رکھی ہے۔ ہمیں لگ رہا ہے کہ بہت سارے دسٹرکٹس میں جہاں جہاں Growers کے چیپٹرس ہیں یہ بھی سول سوسائٹی میں انکے ہیومن رائٹس کیلئے کام کریں گے اور ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز کو سپورٹ کریں گے۔

القانون: آپ رفیوجی پر کوئی کام کرتے ہیں؟
علی احمد صاحب: دیکھیں جب رفیوجی پروٹیکشن کا ایشو آتا ہے تو میں اس میں دو چیزیں بہت اہم سمجھتا ہوں کہ رفیوجی کے حوالے سے افغان رفیوجی کی تعداد بہت بڑی ہے پاکستان میں اور کافی دیر سے یہ ایشو چل رہا ہے لیکن اس حوالے سے کوئی Serious Steps نہیں لئے گئے۔ اس میں جو چیزیں میں شیئر کرنا چاہوں گا وہ یہ ہیں کہ ایک تو رفیوجی کے حوالے سے افغان رفیوجی کا محدود رول رکھنا چاہئے۔ برمیز اور بنگلہ دیشی رفیوجیزکی بھی بڑی تعداد ہے ان کو بھی Includeکر لینا چاہئے اور دوسرا بڑا ایشو اس میں اسٹیٹ لیس کا ہے۔جو لوگ دوسرے ملکوں سے ہمارے ملک میں رہ رہے ہیں ان کے پاس پاکستانی شہریت بھی نہیں ہے اور انکے اپنے ملکوں کی بھی نہیں ہے۔ ان کا پروٹیکشن لیول بہت کمزور ہے اور کراچی میں ان کی تعداد 2 ملین کے قریب ہے۔ جن کیلئے میں آپ کو بتاؤں کہ اگر کسی بچہ یا بچی نے 8thکلاس پاس کی ہے تو میٹرک میں اسکو پڑھنے کیلئے باپ کے یا ماں کے شناختی کارڈکی ضرورت ہے جو بلاک ہے یا نہیں ہے تو اسلئے ایجوکیشن نہیں ہورہی۔ Livelihood کے ایشوز ان کیلئے ہیں، روز ہولیس ہراسمنٹ ہورہی ہے۔ رفیوجیز کے حوالے سے یہ ہے کہ رفیوجی ہراسمنٹ اور ان کے Freedom of Movement کے رائٹس یہ بھی متاثر ہورہے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس کا حل یہ ہوگا کہ اسمیں ایران، پاکستان اور افغانستان تینوں Actors کو مل کر سول سوسائٹی کا جو ہمارا رفیوجی رائٹس نیٹ ورک ہے اسکو Lead کرنا پڑے گا اور UNHCR کو اسکا حصہ بننا پڑے گا اور اسکا ہمیں کوئی Solution ڈھونڈنا پڑے گا اور اس کا ایک سولوشن یہ ہے کہ ہمیں Voluntary کرنا پڑے گا کہ وہ ہو۔ 2 سے 5 سال کا Period فکس ہونا چاہئے اور ان تینوں ملکوں، UNHCR اور رفیوجی رائٹس نیٹ ورک ان سب کو مل بیٹھ کر حل نکالنا چاہئے۔

القانون: آپ کا تعلق لاء سے ہے ہمیں بتائیں کہ جوڈیشری کی جو Situation ہے،انصاف کا جو میعار ہے اور عدالتوں کا جو طریقہ کار ہے اس پر آپ کیا کہیں گے؟
علی احمد صاحب: دیکھیں اس حوالے سے میں دیکھ رہا ہوں کہ جسٹس بالکل نہیں مل رہا اور Delay ہورہی ہے اور پچیس پچیس سال اپیل پروسس ہے،ریویژن پروسس ہے۔ اسمیں جو Complainant ہیں وہ بالکل تھک جاتے ہیں، لوگ مایوس ہورہے ہیں اور کورٹس کی طرف نہیں آرہے وہ دوسری جگہوں کی طرف جارہے ہیں اور جو Traditional Machanisum ہیں وہ استعمال کررہے ہیں۔تو اس حوالے سے میں دیکھ رہا ہوں کہ ان کی جو Hopes تھیں وہ ختم ہوگئیں اور سیشن کورٹ مجسٹریٹ سے لیکر جوhighest Court تک جو فیصلہ جات آرہے ہیں اس وقت اس میں مجھے لاء کا عمل دخل بہت کم نظر آرہا ہے اور پالیسیز زیادہ Prevail کررہی ہیں اور یہ نہیں ہونا چاہئے۔دوسری بات ہے کہ اس میں ایک عنصرRule of Law جو ہے وہ بھی مسنگ ہے اورتیسرا Factor جو مجھے اس میں نظر آرہا ہے وہ یہ کہ جوExcludedلوگ ہیں ان کو Access نہیں ہے اور جو پیسے والے ہیں وہ اپنا فیصلہ لے رہے ہیں۔اس وقت پاکستان میں ہماری جوڈیشری کا امیج بہتر کرنا ہوگا۔

القانون: نہال ہاشمی کوتوہین عدالت پر معافی مانگنے کے بعد بھی سزا ہوئی تو اس توہین عدالت کے قانون کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
علی احمد صاحب: میں سمجھتا ہوں کہ اس میں Selective justice نہیں ہونا چاہئے۔ جوڈیشری کا امیج تب ہی Improve ہوگا جب وہ آنکھیں بند کرکے اپنی Judgment دے فیصلے دے اور کسی خاص گروپ کسی خاص شہری کوٹارگٹ نہ کرے۔ Across the board کرے اور اگرکسی کو چھوڑدے کسی کو punish کرے تو اس سے یہ ہوگا کہ جوڈیشری کا امیج بالکل ختم ہو جائے گا اسلئے یہ نہیں ہونا چاہئے۔توہین عدالت کے بارے میں یہ کہوں گاکہ یہ ساری چیزیں اٹھی ہی اس لئے ہیں کہ میڈیا میں ریمارکس آجاتے ہیں پھر اس کے جواب میں ریمارکس آتے ہیں تو یہ سارا Trend یہاں سے ہی آیا ہے اور یہ بالکل نہیں ہونا چاہئے۔جب جوڈیشری ریمارکس دینا شروع کرے گی تو لوگ بھی دینا شروع کریں گے اور اس حوالے سے یہEndless circle بن جائے گاجس سے جوڈیشری کی ویلیو ختم ہو جائے گی۔

القانون: آپ نے ہیومین رائٹس پڑھا ہوا ہے آپ یہ بتائیں کہ یہ جو ججز فیصلوں میں ناولوں اور کریکٹرز کے ذکر کرتے ہیں تو قانون کی رو سے اور ہیومن رائٹس کے حوالے سے یہ Justified ہے یا نہیں ہے؟
علی احمد صاحب: دیکھیں ججز اچھی اور بیسٹ پریکٹسز کا ذکر کر سکتے ہیں، اچھی ججمنٹ کا ذکر کر سکتے ہیں لیکن Notorious words استعمال کرکے اور اس سے Plaintiff / Respondent کو لنک کرنے سے یہ ہوتا ہے کہ معاملہ پوری طرح Prejudice ہو جاتا ہے اور لوگ سوچتے ہیں کہ جوڈیشری کس طرف ہے رائٹ ہے یا رونگ ہے اور اس سے بری طرح امیج خراب ہوتا ہے۔ اب اس سلسلے میں مافیا والا جو لفظ آیا تھا اور اس سے کسی کو لنک کیا گیا تھا اس پر میں کہوں گا کہ کسی بھی گورنمنٹ کی پرفارمنس پر بھی اس طرح ڈائریکٹ تنقید نہیں ہونی چاہئے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں