انٹرویو: جنید خان بنگش۔ معروف بزنس مین اسلام آباد

انٹرویو: جنید خان بنگش۔ معروف بزنس مین اسلام آباد


انٹرویو: چوہدری جمشید

  پاکستان میں رئیل سٹیٹ (پراپرٹی) انڈسٹری کو حکومت کی ناقص پالیسیوں اور حد سے زیادہ ٹیکسوں کی وجہ سے نقصان پہنچ رہا ہے، حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے رئیل سٹیٹ انڈسٹری تباہ ہو رہی ہے، جس کے نتیجہ میں انوسٹرز بیرون ملک اپنا سرمایا لے کر جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار جنید انٹرپرائزز کے مالک اور فیڈریشن آف پاکستان فور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے چیئرمین فور فورن انوسٹرز خیبر پختونخوا، جنید خان بنگش نے القانون کی ٹیم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

جنید خان بنگش نے بتایا کہ ان کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ سے سے ہے، بنیادی تعلیم کوہاٹ سے ہی حاصل کی جبکہ میٹرک سے گریجو یشن تک اسلام آباد میں پڑھا۔ جس کے بعد باقاعدہ بزنس میں آئے۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے بچپن سے ہی بزنس کا شوق تھا اسی لئے کبھی نوکری کے بارے میں نہیں سوچا تھا اور پھر بزنس میں ہی اللہ نے آگے بڑھایا۔ جنید خان بنگش نے بتایا ہے کہ مجھے اسلام آباد میں 10سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے کہ بطور بلڈر اور رئیل سٹیٹ میں کام کر رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ میرا زیادہ واسطہ CDAکے ساتھ رہا لیکن ہمیشہ انتہائی افسوس ہوا کہ نیچے سے اوپر تک کرپٹ مافیہ کا قبضہ ہے۔ CDAمیں کچھ خاص نااہل، کرپٹ افسران اور لینڈ مافیہ ہے جس کی وجہ سے سارا اسلام آباد پرائیویٹ کمپنیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ ٹرانسفر اور وراثت کے معاملات میں کرپشن بھری پڑی ہے جو کہ اس ادارے کی بنیادیں کھوکھلی کر رہا ہے، اگر ایسے کرپٹ پٹواری اورافسران کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا تو پورا CDAپرائیویٹ کمپنیوں کے حوالے ہو جائے گا۔اسلام آباد کی گرین بیلٹ بھی دھڑا دھڑ اب نیلام کی جا رہی ہے اور پلازے بنائے جا رہے ہیں۔

ہاوسنگ سوسائٹیوں کے حوالے سے جنید خان بنگش نے کہا کہ عوام کا اعتبار اٹھتا جا رہے کیونکہ حکومت کنٹرول نہیں کر پا رہی ہے اور اسی آڑ میں غیر قانونی اور 2نمبر لوگ مختلف اسلام آباد ہاوسنگ سوسائٹییز کے نام سے دھوکے کر رہے ہیں۔ حکومت اس حوالے سے ناکام دیکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان میں اور پاکستان سے باہر لاکھوں پاکستانی غیر قانونی اور فیک سوسائیٹوں میں اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ اکثرہاوسنگ سوسائیٹز والے منظور شدہ پلان کچھ عرصہ بعد تبدیل کر دیتے ہیں، شروع میں عوام کو بے وقوف بنا یا جاتا ہے، جہاں پارک اور چڑیا گھر وغیرہ دیکھائے جاتے ہیں لیکن جب سوسائیٹی کامیباب ہو جاتی ہے تو پھر پارک اور چڑیا گھر میں بھی کمرشل کرکے بیچ دیئے جاتے ہیں اور پھر پلازے بنا دیئے جاتے ہیں حکومت کو اس حوالے سے بھی سخت نظر رکھنی چاہیئے۔ جنید خان نے کہا کہ ہاوسنگ سوسائٹیوں کے حوالے سے حکومت کو اپنے قوانین اور سزائیں سخت کرنی ہونگی۔اسلام آباد دنیا کے خوبصورت ترین دارالخلافوں میں سے دوسرے نمبر پر ہے مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دن بہ دن برباد ہوتا جا رہا ہے، صدر ایوب خان کے وژن کو CDAکے نااہل افسران غلط پالیسیوں کی وجہ سے پرانے شہروں کی طرح بنا رہے ہیں۔ پیسے کی خاطر کچھ جگہوں پر ضرورت سے زیادہ انوسٹمنٹ کی جاتی ہے جبکہ عوامی علاقوں کو یتیم چھوڑ دیا جاتا ہے۔جس کی وجہ سے شہر کی خوبصورتی ماند پڑ رہی ہے۔ CDAوالوں نے آگے دوڑ پیچھے چھوڑکی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔
جنید خان نے کہا کہ رئیل سٹیٹ پر حکومت کے ناروا ٹیکسز سے سرمایہ کاری کم ہوتی جا رہی ہے، لوگ دبئی اور یورپ میں پراپرٹی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کوبے انتہا نقصان پہنچ رہا ہے۔رئیل سٹیٹ واحد انڈسٹری ہے جس کو حکومت کی طرف سے کوئی خاص سپورٹ نہیں مل رہی اور نا کوئی سود مند فیصلے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جنید خان بنگش نے کہا کہ بغیر لائسنس کے ڈیلر ان کے خلاف بھی سخت قانون بنانے کی ضرورت ہے، ہر کوئی آج کل پراپرٹی ڈیلر بنا ہوا ہے جس کی وجہ سے اکثر معاملات اور معاہدے پائے تکمیل تک نہیں پہنچتے جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد خراب ہوتا ہے اور بدنامی پراپرٹی ڈیلرز کی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ کوئی ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت کوئی بھی پراپرٹی حکومت کے تصدیق شدہ ڈیلر کے بغیر نہ سیل ہو سکے۔

بوگس چیکوں کے حوالے سے جنید خان نے کہا کہ چیکس کی لین دین پر حکومت قوانین اور سزائیں مزید سخت کرے تاکہ نوسر باز اور دھوکے باز لوگوں سے شریف لوگوں کی حق حلال کمائی محفوظ رہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ آج بھی اربوں روپے کے بوگس چیکوں کے کیس عدالتوں میں لگے ہیں۔

جنید خان بنگش نے کہا ہے کہ یہ دور ٹیکنالوجی کا دور ہے اس لئے رئیل سٹیٹ میں بھی اس کا استعمال بہت ضروری ہو گیا ہے۔ جنید خان بنگش نے کہا کہ اس وقت ایک ہی کمپنی آن لائن رئیل سٹیٹ پورٹل چلا رہی ہے جبکہ اس دور کے مطابق سینکڑوں پورٹل ہونے چاہیئے تھے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ بہت جلد کیپٹل پراپرٹی کے نام سے ایک جدید نوعیت کا ویب پورٹل شروع کیا جائے گا جہاں پورے اسلام آباد کی پراپرٹی معلومات اور انوسٹرز کے لئے بلاگز اورپراپرٹی گائیڈ لائنز فراہم کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اکتوبر 2018میں اسلام آباد کی تاریخ کی سب سے بڑی پراپرٹی ایکسپو کرانے کا منصوبہ ہے، جس میں اورسیزپاکستانیوں کو خاص طور پر دعوت دی جائے گی تاکہ وہ اپنا سرمایا پاکستان لائیں اور یہاں کی رئیل سٹیٹ انڈسٹری اور پاکستان کو بھی فائدہ پہنچے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں