انٹرویو: سید قلب حسن۔ سابقہ وزیرخیبرپختونخواہ

انٹرویو: سید قلب حسن۔ سابقہ وزیرخیبرپختونخواہ


میزبان: نور بنگش

دھیمے دھیمے لہجے اور دلیل سے گفتگو کرنے والے سید قلب حسن کا نام یقیناً کسی تعارف کا محتاج نہیں 2003 ء میں عوامی نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کر کے ممبر صوبائی اسمبلی بنے۔2008 ء میں آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کی اور پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور دو سال تک صوبائی وزیر مال بھی رہے۔ 2013 ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے جھنڈے تلے الیکشن میں حصہ لیا مگر اپنی ہی پارٹی کے کچھ سینئر رہنماؤں نے ان کے خلاف مہم چلائی دوسری جانب تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف بھی آسمانوں کو چھونے کی وجہ سے وہ الیکشن میں غیر متوقع طور پر شکست سے دوچار ہوئے۔ اپنے دس سالہ دور میں انہوں نے عوام کی خدمت کس طرح کی؟ آئندہ آنے والے انتخابات میں ان کا کیا پروگرام ہے؟ اس حوالے سے ان سے ایک غیر رسمی نشست میں گفتگو کی گئی جو قارئین القانون کی نظر ہے۔


القانون : سب سے پہلے تو آپ پر یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ آپ گزشتہ پانچ سال سے عوام سے دور رہے اس حوالے سے کیا کہیں گے۔
قلب حسن: الیکشن 2013 میں ناکامی کے بعد میں کافی عرصہ حلقے میں رہا جس کے بعد اپنے کاروبار کے سلسلے میں بیرون ملک چلا گیا اس دوران میں کئی بار کوھاٹ آیا ساتھیوں سے ملتا رہا اور اب تو گزشتہ ڈیڑھ سالوں سے کوھاٹ میں ہی ہوں اور پورے حلقے میں عوام سے انفرادی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

القانون: آپ دس سال تک صوبائی اسمبلی کے ممبر اور وزیر رہے حلقہ کی عوام کے لیے آپ نے کیا کام کیے؟
قلب حسن: پہلے پانچ سالہ دور میں چونکہ ہم اپوزیشن میں بیٹھے رہے لہٰذا جتنا فنڈ ایم پی اے کو ملتا تھا اس میں کوئی بڑا میگا پراجیکٹ نہیں ہو سکتا تھا مگر الحمد اللہ اس دور میں بھی کوھاٹ گرلز ڈگری کالج کو پوسٹ گریجویٹ کا درجہ دلوایا البتہ دوسرے دور میں عوام کی بھرپور خدمت کی اس کی تفصیل میں آپ کو اربن وائز بتایا ہوں ہم نے اپنے دور میں اربنI- میں گلیوں‘ نالیوں‘ سڑکوں کی تعمیر اور سکولوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن پر 14 کروڑ 53 لاکھ روپے خرچ کیے گئے جن میں اربنI کی مختلف علاقوں میں گلیوں‘ نالیوں کی تعمیر پر 2 کروڑ 80 لاکھ‘ سڑکوں کی تعمیر پر 10 کروڑ 82 لاکھ‘ کٹھہ جھنگ وغیرہ کی صفائی پر 90 لاکھ روپے خرچ ہوئے اسی طرح گرلز ہائی سکول بہزادی چکرکوٹ کی عمارت کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ دلوا کر اس کی عمارت کی تعمیر پر 1 کروڑ 83 لاکھ روپے لگائے گئے گرلز ہائی سکول نمبر1 میں نئے بلاک کی تعمیر پر 55 لاکھ 87 ہزار جبکہ اربنI کے مختلف سکولوں میں کمروں کی تعمیر پر 33 لاکھ 69 ہزار خرچ کیے گئے اربن3 اور چار میں تعلیمی اداروں کی تعمیر پر زیادہ توجہ دی اس علاقے کے عوام نے ہمیشہ عزت دی اپنے پانچ سالہ دور میں ان دو یونین کونسلز میں 31 کروڑ سے زائد فنڈ خرچ کیا سابقہ صوبائی وزیر نے کہا کہ جب کے ڈی اے میں گرلز کالج کا افتتاح کر رہا تھا اس وقت میں بتا نہیں سکتا تھا کہ میری کیا کیفیت تھی کیوں کہ کالجز کی کمی کی وجہ سے ہمیشہ کوھاٹ کی بچیاں داخلوں سے محروم رہ جاتی تھیں جس کا مستقل حل شہر میں کالجز کی تعداد کو بڑھانا تھا اس طرح اربن3 اور چار میں 93 لاکھ 57 ہزار کی لاگت سے گرلز مڈل جنگل خیل کو ہائی کا درجہ دلوایا گورنمنٹ پرائمری سکول جنگل خیل نمبر5 میں دو اضافی کمروں کی تعمیر کروائی گرلز ہائیر سیکنڈری سکول جنگل خیل میں تعمیراتی کام کروایا بائی پاس روڈ کر پر ڈگری کالج نمبر2 میں دو کروڑ 8 لاکھ سے کام کیا طلباء کے لیے کالج میں سائیکل سٹینڈ کی تعمیر کی کالج کے باہر چار دیواری اور گراؤنڈ کی تعمیر پر 92 لاکھ سے زیادہ کے فنڈ خرچ کیے گرلز کالج کے ڈی اے جو کہ کام کے معیار اور خوب صورتی میں ایک ماڈل بلڈنگ کی حیثیت رکھتا ہے اس کی تعمیر پر ساڑھے 13 کروڑ سے زائد رقم خرچ ہوئی کے ڈی اے میں نوجوانوں اور بزرگ شہریوں کے لیے ایک جدید لیبارٹری کا افتتاح کیا اور اس کے لیے 9 کروڑ کا فنڈ مختص کیا لائبریری کی تعمیر کے لیے زمین وزیر اعلیٰ کی مہربانی سے بالکل فری حاصل کی سید قلب حسن کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک حقیقی ترقی کا معیار اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مواقع اپنے بچوں کو فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح کوھاٹ شہر کے دل اربن2 کے حوالے سے بتایا کہ ہم نے سب سے زیادہ توجہ تعلیمی اداروں پر دی اور گرلز ڈگری کالج کو پوسٹ گریجویٹ کا درجہ دلوایا اس کالج میں سائنس بلاک کی تعمیر کی پوسٹ گریجویٹ کی کلاسز کے لیے الگ بلڈنگ تعمیر کی سائنس لیبارٹریز تعمیر کروائیں طالبات اور سٹاف کی درخواست پر پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے دس ہزار گیلن واٹر ٹینک تعمیر کیا اور کالج میں ٹیوب ویل لگایا گیا اس کے علاوہ اساتذہ کے بچوں کے لیے ڈے کیئر سینٹر اور ہوم اکنامکس لیبارٹری تعمیر کی کالج کی طالبات کے لیے نئی بس حوالے کی فرنیچر اور کتابوں کے لیے گرانٹ دینے کے علاوہ بی ایس پروگرام میں اساتذہ کے لیے فنڈز مختص کیے اسی طرح کوھاٹ کے تاریخی سکول گورنمنٹ ہائی سکول نمبر2 میں نئی عمارت تعمیر کروائی ان تمام منصوبوں پر مجموعی طور پر پانچ کروڑ 69 لاکھ سے زائد خرچ کی گئی اسی طرح اربن2 میں خصوصاً حافظ آباد میں گلیوں نالیوں اور سڑکوں کی تعمیر پر 60 لاکھ سے زائد رقم خرچ کی جبکہ مجموعی طور پر اربن 2 کے مختلف علاقوں جن میں میاں گان کالونی‘ تیراہ بازار روڈ‘ پشاور چوک سے زرگران بازار چوک تک سوا لاکھ قبرستان روڈ وغیرہ شامل ہیں کی تعمیر مکمل کی جبکہ گڑھی جات بائی پاس روڈ کو مکمل کرنے کا بھی اعزاز حاصل کیا ان تمام سڑکوں اور گلیوں نالیوں پر مجموعی طور پر پانچ سالوں میں 9 کروڑ 89 لاکھ سے زائد رقم خرچ کی گئی جبکہ مجموعی طور پر اربن2 کی تعمیر و ترقی پر 19 کروڑ 36 لاکھ اور 26 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔
اربن پانچ کے مسائل کے حل کے لیے پانچ سالوں میں عوامی نشان دہی پر 30 کروڑ سے زائد خرچ کی یہاں پر بھی تعلیم کو ترجیح دی گئی سکول کالجز کی اپ گریڈیشن پر خطیر رقم خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی تعمیر اور آبنوشی کی سکیموں پر بھی کروڑوں روپے خرچ کیے گئے قلب حسن کا کہنا تھا کہ اربن پانچ میں صرف گورنمنٹ کالج آف کامرس‘ گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی اور پوسٹ گریجویٹ کی اپ گریڈیشن اور حالت بہتر بنانے پر 23 کروڑ 33 لاکھ روپے خرچ کیے گئے تاکہ کوھاٹ کے نوجوانوں کو عام تعلیم کے ساتھ ساتھ کامرس اور ٹیکنیکل تعلیم کے حصول میں بھی آسانی ہو اور گھر بیٹھے کوھاٹ کے نوجوان فنی تعلیم حاصل کر سکیں اس کے علاوہ حیات شہید کالونی کی تقریباً تمام گلیوں میں پینے کے صاف پانی کی نئی پائپ لائن بچھائی اور ٹیوب ویل تعمیر کیا جس پر 2 کروڑ 16 لاکھ کی رقم خرچ ہوئی کالج ٹاؤن کے رہائشیوں کے مطالبے پر گرلز پرائمری سکول کو اپ گریڈ کر کے مڈل کا درجہ دیا اسی طرح میر احمد خیل روڈ‘ حیات شہید کالونی روڈ‘ تعمیر روڈ مدینہ ٹاؤن‘ خواجہ آباد روڈ‘ گنر لائن سڑک کی تعمیر سمیت دیگر مقامات پر گلیوں نالیوں اور سڑکوں کی تعمیر پر چار کروڑ سے زائد فنڈ خرچ کیا گیا تاکہ عوام کو آمدورفت میں سہولت میسر ہو سکے سید قلب حسن کا کہنا تھا کہ ہم نے پوسٹ گریجویٹ کالج پنڈی رود میں کروڑوں روپے کا کام کر کے وہاں پر نشستوں میں اضافہ کیا تاکہ میرے کوھاٹ کے زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ہو سکیں مگر بدقسمتی سے میرے جانے کے بعد اس کالج نے طلباء کے لیے داخلوں کا کوٹہ نہایت کم کر دیا ہے اور سال بھر میں بمشکل فرسٹ ائیر میں 100 طلباء کا داخلہ ہوتا ہے جو کہ سنجیدہ اور باعث تشویش امر ہے انہوں نے کہا کہ اگر خدا نے موقع دیا اور عوام نے ساتھ دیا تو منتخب ہونے کے بعد کوھاٹ کے زنانہ مردانہ کالجز میں ایک بار پھر پہلے کی طرح سیٹوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں اور بچیوں کا کالجز میں داخلے مل سکیں کیوں کہ گلیاں نالیاں اور پریشر پمپس کی اہمیت اور ضرورت اپنی جگہ پر مگر بہترین انوسٹمنٹ یہ ہے کہ آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے سکولوں اور کالجز کی حالت بہتر کی جائے گی کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیم کے مواقع میسر آ سکیں۔
اربن6 میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے سابقہ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ 2008 سے 2013 تک اربن6 میں ترقیاتی منصوبوں پر 8 کروڑ کے لگ بھگ فنڈز خرچ کیے جن میں زنانہ سکول میروزئی کو ہائی کا درجہ دیا گیا میروزئی کے پاس کازوے کی تعمیر کی گئی تعمیر کینال روڈ آفریدی بانڈہ مکمل کیا میروزئی اور تپی میں سڑکوں کی تعمیر کی جبکہ گلیوں نالیوں کی تعمیر پر بھی ڈیڑھ کروڑ کے فنڈز خرچ کیے گئے سید قلب حسن کا کہنا تھا کہ اربن6 وسیع رقبہ پر پھیلا علاقہ ہے جس میں غیور اور مہمان نواز لوگ رہائش پذیر ہیں اس علاقے میں دو گرلز ہائی سکولوں کا سہرا ہمارے سر ہے اگر اللہ نے موقع دیا تو 2018 کے انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی تو تپی اور میروزئی کے زنانہ سکولوں کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ دینے کے لیے کام کروں گا تاکہ اس علاقے کے بچوں اور بچیوں کو گھروں کے نزدیک ایف اے ایف ایس سی تک تعلیم کے حصول کے مواقع مل سکیں۔
دیہی علاقوں پر مشتمل یونین کونسل محمد زئی کے حوالے سے سید قلب حسن نے بتایا کہ محمد زئی کی عوام نے ہمیشہ میرا بھرپور ساتھ دیا ہے اپنے پانچ سالہ دور میں کم و بیش چار کروڑ تک کے ترقیاتی کام عوام کی نشاندہی پر مکمل کیے جس میں سب سے بڑا منصوبہ محمد زئی کے نوجوانوں کے لیے ہائیر سیکنڈری سکول کا قیام تھا جہاں پر آج بھی نوجوانوں کو گھروں کے نزدیک انٹر تک تعلیم حاصل کرنے کے مواقع مل رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اگر اللہ نے موقع دیا اور دوبارہ منتخب ہوا تو محمد زئی میں طالبات کے لیے ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکول کا قیام میری اولین ترجیح ہو گی کیوں کہ تعلیم کے بغیر کسی علاقے میں ترقی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا انہوں نے کہا کہ محمد زئی سکول کی پرانی عمارت کی جگہ 85 لاکھ 74 لاکھ کی لاگت سے نئی بلڈنگ تعمیر کی جس کے بعد 1 کروڑ 82 لاکھ کی مزید لاگت سے ہائی سکول کو اپ گریڈ کر کے ہائیر سیکنڈری کا درجہ دے دیا گیا جس کی وجہ سے آج بھی محمد زئی اور ارد گرد کے سینکڑوں نوجوان آرام سے انٹر تک تعلیم حاصل کر رہے ہیں اسی طرح محمد زئی میں گرلز پرائمری سکول میں دو اضافی کمرے تعمیر کر کے اس کو مڈل کلاسز کے لیے تیار کیا سید قلب حسن کا کہنا تھا کہ محمد زئی تنظیم کی نشاندہی پر یونین کونسل میں 1 کروڑ 30 لاکھ گلیوں نالیوں کی تعمیر پر خرچ کیے جس کی نگرانی علاقہ عوام نے خود کی محمد زئی کی عوام کے حوالے سے سید قلب حسن کا کہنا تھا کہ اس علاقے کی عوام نے ہمیشہ مجھے محبت دی ہے میرا محمد زئی کی عوام کے ساتھ پیار اور خلوص کا رشتہ ہے یہی وجہ ہے کہ آج میں نہ تو ایم پی اے ہوں اور نہ وزیر مگر اس کے باوجود بھی اس علاقے کی عوام خصوصاً علاقہ مشران میری قدر کرتے ہیں۔
یونین کونسل نصرت خیل کے حوالے سے سابقہ صوبائی وزیر نے بتایا کہ نصرت خیل یونین کونسل میں پہلے مردانہ ہائی سکول کے قیام کا اعزاز مجھے حاصل ہوا اپنے پانچ سالہ دور میں نصرت خیل میں چار کروڑ سے زائد فنڈ سے عوام کی مشاورت سے مختلف ترقیاتی سکیموں کو مکمل کیا امبار بانڈہ میں طالبات کے لیے پہلا مڈل سکول بھی ہمارے دور میں مکمل ہوا جہاں آج بھی سینکڑوں طالبات زیر تعلیم ہیں سابقہ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے دور میں تمام یونین کونسلز میں تعلیمی اداروں کے قیام یا اپ گریڈیشن پر زیادہ توجہ دی جس کی مثال نصرت خیل میں بوائز مڈل سکول کو کو ہائی کا درجہ جبکہ پرائمری سکول امبار بانڈہ کو مڈل سکول کا درجہ دلوانے کے ساتھ ساتھ اضافی کمرے بھی تعمیر کیے جن پر ایک کروڑ 35 لاکھ کا خرچہ ہوا س کے علاوہ ڈاکٹر بانڈہ میں سڑک کی تعمیر پر 20 لاکھ خرچ کیے گئے جبکہ یونین کونسل کی سطح پر گلیوں نالیوں اور دیگر کاموں پر 2 کروڑ 40 لاکھ کی رقم خرچ کی گئی سید قلب حسن کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ انتخابات میں عوام نے اعتماد کیا تو میری اولین ترجیح نصرت خیل بوائز سکول کو ہائر سیکنڈری اور طالبات کے لیے ہائی سکول کا قیام عملی میری اولین ترجیح ہو گی تاکہ اس علاقے کے ہونہار نوجوان طلباء اور طالبات اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے علاقے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کر سکیں کیوں کہ تعلیم ہی سے ترقی اور انقلاب آ سکتا ہے۔
شیرکوٹ یونین کونسل میں ترقیاتی کاموں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یونین کونسل شیرکوٹ کی پسماندگی کے خاتمے کے لیے 9 کروڑ سے زائد کی ترقیاتی سکیمیں مکمل کیں صحت اور تعلیم کے شعبے میں ماضی میں اس یونین کونسل کی عوام کو ہمیشہ کم ترجیح دی گئی اگر آئندہ اقتدار میں آنے کا موقع ملا تو BHU شیرکوٹ کی اپ گریڈیشن اور لڑکوں کے لیے ہائیر سیکنڈری سکول کا قیام میری اولین ترجیح ہو گی سابقہ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ حلقہ 38 میں شیرکوٹ یونین کونسل میں صحت اور تعلیم کے مسائل بہت زیادہ تھے میں نے اپنے دور اقتدار میں یونین کونسل شیرکوٹ کی سطح پر سات سکولوں کے قیام اپ گریڈیشن اور اضافی کمروں کی تعمیر پر 4 کروڑ 60 لاکھ 22 ہزار روپے خرچ کیے اسی طرح گلیوں نالیوں اور سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر پانچ سالوں میں 9 کروڑ 78 لاکھ 91 ہزار خرچ کیے پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر 2 کروڑ 30 لاکھ 85 ہزار‘ مختلف مقامات پر کازوے بنانے پر 25 لاکھ 40 ہزار جبکہ صحت کی سہولیات کی فراہمی پر 26 لاکھ 14 ہزار تک خرچ کیے سید قلب حسن کا کہنا تھا کہ یونین کونسل شیرکوٹ کی عوام کو درپیش مسائل کے مقابلے میں یہ فنڈز نہایت کم تھے مگر ہماری کوشش تھی کہ یہاں کی عوام کے مسائل میں کمی لائی جا سکے مستقبل کے حوالے سے سید قلب حسن کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے اعتماد کیا اور اللہ نے موقع دیا تو آئندہ انتخابات میں کامیابی کی صورت میں میری اولین ترجیح لڑکوں کے لیے ہائیر سیکنڈری سکول کے قیام کے ساتھ ساتھ BHU شیرکوٹ کو RHC کا درجہ جبکہ BHU مرائی کی نئی عمارت کی تعمیر شامل ہو گی کیوں کہ صحت اور تعلیم بنیادی ضروریات میں شامل ہیں آج بھی بدقسمتی سے مرائی‘ کچئی اور اس طرح کے دیگر علاقوں میں صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں انشاء اللہ ان ایریاز میں دیگر کاموں کے ساتھ ساتھ ترجیحاً صحت کی سہولیات کی فراہمی ہمارا منشور ہو گا۔
علی زئی یونین کونسل میں ہونے والے کاموں کی تفصیلات بتاتے ہوئے سید قلب حسن نے کہا کہ حلقہ 38 کی سب سے پسماندہ یونین کونسل علی زئی کی عوام کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے اور عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنے پانچ سالہ دور میں 17 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ کیے متعدد سکولوں کی اپ گریڈیشن کے ساتھ ساتھ نئی سکولوں کا قیام‘ اضافی کمرے‘ آبنوشی اور سڑکوں کی تعمیر کے درجنوں منصوبوں کو اختتام تک پہنچایا تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے انہوں نے کہا کہ یونین کونسل علی زئی دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ پسماندہ تھا ہم نے ہنگامی بنیادوں پر اس علاقے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے مختلف منصوبے بنائے اور ان پر نہ صرف کام کا آغاز کیا بلکہ ان منصوبوں کو مکمل بھی کیا سید قلب ھسن کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کی طرح اس یونین کونسل میں بھی میری توجہ زیادہ تعلیم پر رہی اور مختلف سکولوں کی اپ گریڈیشن نئے سکولوں کی تعمیر اور اضافی کلاس رومز کی تعمیر پر 5 کروڑ 84 لاکھ 63 ہزار روپے خرچ کیے گلیوں نالیوں کو پختہ کیا تاکہ عوام کو آمدورفت میں سہولت میسر آ سکے اس کام پر 5 کروڑ 80 لاکھ کے فنڈز استعمال ہوئے ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی مرمت اور نئی سڑکوں کی تعمیر پر 3 کروڑ 98 لاکھ 44 ہزار خرچ کیے جبکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی پر 2 لاکھ 25 لاکھ 67 ہزار خرچ کیا گیا۔
اپنی آبائی یونین کونسل استرزئی میں ترقیاتی کاموں کے بارے میں قلب حسن کا کہنا تھا کہ یونین کونسل استرزئی میں کروڑوں کے ترقیاتی منصوبے مکمل کروا کر عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کی کوشش کی اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں استرزئی کونسل میں مختلف منصوبوں کے آغاز اور پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے مجموعی طور پر 43 کروڑ 76 لاکھ کا فنڈ مختص کیا انہوں نے کہا کہ یونین کونسل استرزئی کی عوام نے ہمیشہ ہماری کامیابی میں اہم کردار ادا کیا میرے بڑے بھائی سید مہتاب الحسن نے اس یونین کونسل سے کامیابیوں کی ہیٹ ٹرک مکمل کی ترقیاتی کاموں کے حوالے سے سید قلب حسن نے بتایا کہ ہمارے خاندان نے اپنی انتہائی قیمتی زمین طالبات کے کالج کے قیام کے لیے مفت فراہم کی اور ہم نے استرزئی گرلز کالج کا سنگ بنیاد رکھا اور 20 کروڑ کا فنڈ مختص کر دیا کہ اس علاقے کی طالبات کے ساتھ ساتھ علاقہ بنگش‘ جوزارہ‘ رئیسان‘ محمد زئی اور نصرت خیل کی طالبات کو بھی اعلیٰ تعلیم کے مواقع میسر ہو سکیں مگر افسوس کہ پانچ سالوں میں یہ کالج مکمل نہ ہو سکا اور نہ ہی اس میں کلاسز کا اجراء کیا جا سکا اس کے علاوہ ہم نے گرلز ہائی سکول کو ہائیر سیکنڈری کا درجہ دلوایا ہائی سکول استرزئی کو از سر نو تعمیر کیا مسجد پرائمری سکول کو ریگولر کیا گرلز مڈل سکول کچئی کو ہائی کا درجہ دیا گرلز مڈل سکول موسیٰ خیل کچئی کو ہائی کا درجہ دیا ان تمام تعلیمی منصوبوں پر تقریباً ساڑھے 24 کروڑ فنڈ خرچ ہوا اس طرح گلیوں نالیوں کی تعمیر اور مرمت پر 11 کروڑ سے زائد رقم خرچ کی گئی پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور آبنوشی کے منصوبوں پر 3 کروڑ 30 لاکھ جبکہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر تقریباً 1 کروڑ روپیہ خرچ کیا گیا صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے 30 لاکھ تک خرچ کیے نوجوانوں کے لیے کھیل کا میدان بنانے پر 1 کروڑ 10 لاکھ سے زائد رقم خرچ کی گئی جبکہ یونین کونسل استرزئی کے آفس کی تعمیر پر 30 لاکھ کی رقم خرچ کی گئی اس موقع پر سابقہ صوبائی وزیر سید قلب حسن کا کہنا تھا کہ ہمارے بعض منصوبوں کو اگر بروقت مکمل کر لیا جاتا تو آج عوام کو کافی فائدہ ہوتا۔

القانون: ٹیکنیکل تعلیم کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں آپ نے اپنے پانچ سالہ دور میں اس حوالے سے کیا خدمات انجام دیں:
سید قلب حسن: ٹیکنیکل تعلیم کے حصول کے ذریعے ہی ہمارے نوجوان ترقی کی منزلیں طے کر سکتے ہیں فنی تعلیم حاصل کرنے والے ڈپلومہ ہولڈرز آج مختلف محکموں میں اپنی خدمات انجام دے کر ملک و قوم کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے شہر کی خوبصورتی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں انہوں نے بتایا کہ اپنے دور حکومت میں سکولوں اور کالجز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا تاکہ کوئی بھی بچہ یا بچی زیور تعلیم سے محروم نہ رہے فنی تعلیم کے حوالے سے سید قلب حسن نے بتایا کہ انہوں نے طلباء کے مطالبے پر 2012-13 میں پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ کو گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کا درجہ دیا اور بلڈنگ کی تعمیر کے لیے پانچ کروڑ 61 لاکھ‘ فرنیچر اور دیگر آلات کے لیے 12 کروڑ 78 کروڑ کا فنڈ مختص کیا تاکہ ہمارے نوجوانوں کو کام سیکھنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر ہو سکیں سید قلب حسن نے بتایا کہ گورنمنٹ کامرس کالج میں طلباء اور سٹاف کی ضرورت کے مطابق ہاسٹل کی تعمیر کی جس پر 1 کروڑ 26 لاکھ کا فنڈ استعمال کیا گیا سابقہ صوبائی وزیر نے کہا کہ کوھاٹ کے نوجوانوں کو ترقی کے مواقع بہت کم ملتے ہیں اگر انہیں صحیح معنوں میں مواقع ملیں تو یہ صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں۔

القانون: صحت کی سہولیات عوام تک پہنچانے کے لیے کوئی منصوبہ آپ نے بنایا اور اس سیکٹر میں کتنا فنڈ استعمال کیا؟
سید قلب حسن: کوھاٹ ڈسٹرکٹ ہسپتال یعنی کے ڈی اے کو A کلاس کا درجہ دینے اور مختلف وارڈز اور سہولیات کی فراہمی کے لیے مالی سال 2012-13 میں 17 کروڑ کا فنڈ منظور کیا تھا اس کے ساتھ ساتھ ہسپتال میں نئے ایمرجنسی بلاک کی تعمیر‘ گاڑیوں کے لیے شیڈ اور فٹ پاتھ وغیرہ بنانے کے لیے 4 کروڑ 78 لاکھ کا فنڈ فراہم کیا تھا مجموعی طور پر 21 کروڑ سے زائد ان منصوبوں کا افتتاح سابقہ صوبائی وزیر سید ظاہر علی کے ہاتھوں کروایا تھا کیوں کہ ترقی کا سفر طے کرنے کے لیے صحت کا ہونا ضروری ہے ہم نے عوام کو گھر کی دہلیز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے تھے جو کہ ریکارڈ پر ہیں سابقہ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ کوھاٹ کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اور باہر سے لوگ آ کر آباد ہو رہے ہیں تو ہمیں ہسپتالوں کی تعداد بڑھانا ہو گی اگر اللہ نے موقع دیا تو استرزئی میں موجود ہسپتال کو اپ گریڈ کر کے اس میں تمام سہولیات فراہم کریں گے جبکہ تمام بی ایچ یو اور ڈسپنسریوں میں مزید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے تاکہ ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کو گھر کے نزدیک طبعی سہولیات میسر ہو سکیں۔

القانون: ذرائع آمدورفت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے کیا کام کیا:
سید قلب حسن: کسی بھی علاقے میں سڑکوں کی تعمیر اور کشادگی سے عوام کو آمدورفت میں یقینا سہولت میسر ہوتی ہے سید قلب حسن نے بتایا کہ انہوں نے بھی اپنے پانچ سالہ دور میں سڑکوں کی تعمیر اور کشادگی پر کافی توجہ دی اور دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے 1 ارب 6 کروڑ 59 لاکھ کی لاگت سے چار بڑے منصوبے مکمل کیے جن میں 20 کروڑ 38 لاکھ کی لاگت سے کچہ پکہ مرائی روڈ‘ 76 کروڑ کی لاگت سے کوھاٹ تا کچہ پکہ سڑک کو کشادہ اور ڈبل کیا 2 کروڑ 41 لاکھ کی لاگت سے ISSB روڈ کو ڈبل کیا گیا جبکہ 7 کروڑ 80 لاکھ سے پشاور چوک تا میری کالونی سڑک کو ڈبل اور کشادہ کیا سید قلب حسن کا کہنا تھا کہ کوھاٹ شہر میں سڑکوں کی حالت دو سال سے پہلے بہتر ہو جاتی مگر افسوس محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے اس کام کو سنجیدگی سے نہیں لیا یا پھر فنڈز کی کمی کا مسئلہ تھا۔

القانون: آپ نے اپنے دور میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کیمپس کا سنگ بنیاد رکھا تھا وہ منصوبہ کیوں ختم ہوا؟
سید قلب حسن: یہ منصوبہ کیوں ختم ہوا اس کا جواب تو موجودہ صوبائی حکومت آپ کو دے سکتی ہے ہم نے 2012 میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کوھاٹ کیمپس کا جرما کے مقام پر باقاعدہ سنگ بنیاد رکھا گیا تھا جس میں اوپن یونیورسٹی کے اعلیٰ افسران نے خصوصی طور پر اسلام آباد سے آ کر شرکت کی تھی اس تقریب میں اوپن یونیورسٹی کے صوبائی اور مقامی ذمہ داروں کے علاقہ اساتذہ کرام کی بھی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے اس منصوبے کو نہ صرف کوھاٹ ڈویژن بلکہ جنوبی اضلاع کے ہزاروں طلباء اور طالبات کے لیے نہایت اہم قرار دیا تھا مگر افسوس کے اس اہم منصوبے کو سردخانے کی نظر کر دیا گیا حالانکہ کیمپس کے تعمیراتی کام کے لیے چھ کروڑ روپے فنڈ بھی مختص کیا گیا تھا انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت نہ صرف ضلع کوھاٹ بلکہ کوھاٹ ڈویژن میں اوپن یونیورسٹی کے ہزاروں سٹوڈنٹس مختلف امتحانات میں شریک ہوتے ہیں جن کے لیے کوھاٹ کیمپس کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا تھا انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر انہیں اللہ تعالیٰ نے دوبارہ موقع دیا اور وہ الیکشن میں کامیاب ہوئے تو کوھاٹ میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا جدید کیمپس تعمیر کروانے کا منصوبہ مکمل کروائیں گے تاکہ طلباء و طالبات کے ساتھ ساتھ اساتذہ کرام اور اوپن یونیورسٹی کے ملازمین کو بھی تمام سہولیات میسر ہو سکیں۔ سید قلب حسن نے انکشاف کیا کہ انہوں نے کوھاٹ میں جرما کے مقام پر اٹامک انرجی کے لیے بھی زمین فراہم کی تھی جبک اٹامک انرجی کی اعلیٰ قیادت نے کوھاٹ میں جدید ہسپتال بنانے کا بھی وعدہ کیا تھا مگر افسوس ہمارے بعد اس منصوبے کا بھی کچھ پتہ نہ چل سکا۔

القانون: موجودہ صوبائی حکومت کے کسی اچھے کام کی نشاندہی کریں گے؟
سید قلب حسن: جی ہاں رائٹ ٹو انفارمیشن کا اچھا قانون ہے اسفالٹ سسٹم کے تحت شہر بھر میں سڑکوں کی تعمیر کا اچھا کام ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر ممبر صوبائی اسمبلی چاہتا ہے کہ وہ منتخب ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ عوام کی خدمت کرے مگر بعض اوقات فنڈز کی کمی یا دیگر مسائل آڑے آ جاتے ہیں ان پانچ سالوں میں کوھاٹ میں کئی اچھے کام ہوئے ہیں۔

القانون: سیاست میں آج کل ہر اچھے کام میں بھی کیڑے نکالے جاتے ہیں آپ نے کبھی اس طرح نہیں کیا اس کی کیا وجہ ہے؟
سید قلب حسن: بلاجواز تنقید میرے مزاج کا حصہ نہیں ہے واحد ممبر اسمبلی تھا جس نے الیکشن مین ناکامی کے بعد اپنے مخالف امیدوار کو مبارک باد پیش کی اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی بلاجواز تنقید سے کچھ فائدہ نہیں عوام بہترین منصف ہیں ان کا کہنا تھا کہ اپنے دس سالہ دور میں کبھی میڈیا پر کسی قسم کی تنقید نہیں کی سب کا احترام کیا اور سب نے مجھے بھی عزت دی اگر میرے خلاف کبھی کوئی خبر لگ بھی جاتی تھی تو میں ہمیشہ یہی کہتا کہ عوام ہر چیز سے باخبر ہیں۔

القانون: آنے والے انتخابات کے حوالے سے کیا تیاری کر رہے ہیں اور آپ کا مقابلہ کسی سے پڑ سکتا ہے؟
سید قلب حسن: جی ہاں گزشتہ ایک سال سے مسلسل عوامی رابطہ مہم میں ہوں ہر جگہ دوستوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں زیادہ شور شرابہ کرنے کے بجائے خاموشی سے اپنا کام کر رہا ہوں۔ عوام کا اور دوستوں کا بہت اچھا رسپانس بھی مل رہا ہے۔ انشاء اللہ 2018 کے انتخابات میں بھرپور تیاری سے میدان میں اتریں گے جہاں تک مقابلے کی بات ہے تو جو بھی حلقہ۔۔۔۔۔ سے انتخابات میں حصہ لے گا میرا ان سے مقابلہ ہو گا۔

القانون: عوام کو کیا پیغام دیں گے؟
سید قلب حسن: آج کی عوام 2013 اور 2013 سے زیادہ باشعور ہو چکی ہے سوشل میڈیا کے ذریعے اب کسی بات کا چھپنا یا چھپانا مشکل ہو چکا ہے میں اپنی عوام سے اتنی درخواست کروں گا کہ ووٹ دینے کے لیے ضرور گھروں سے باہر نکلں کیوں کہ آپ ہی کے ووٹ سے آئندہ پانچ سالوں کے لیے لوگ منتخب ہوں گے لہٰذا اپنے لیے امیدوار کا انتخاب نہایت سوچ سمجھ کر کریں۔

القانون: اگر آپ کو کامیابی ملی تو آپ کی ترجیحات کیا ہوں گی؟
سید قلب حسن: تعلیم اور صحت میری اولین ترجیح ہوں گی میں نے اپنے آخری دور میں بھی تعلیم کے میدان میں 87 کروڑ سے زائد رقم خرچ کی طالبات کے لیے اضافی سیٹوں کی ہر سال منظوری لیتا رہا ہوں آئندہ بھی میری اولین ترجیح تعلیم ہو گی کیوں کہ تعیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے ہماری قوم ترقی کی منازل طے کر سکتی ہے اسی طرح کوھاٹ میں نئے ہسپتال کا سنگ بنیاد تو خٹک صاحب نے رکھ دیا ہے اس کو مکمل کروانا ہم سب کی ذمہ داری ہے جبکہ دور دراز کے علاقوں کے بنیادی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن ہماری ترجیحات ہوں گی۔

القانون: آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے اتنا زیادہ ٹائم دیا۔
سید قلب حسن: میں آپ کا اور القانون کا بھی نہایت مشکور ہوں جنہوں نے میرے خیالات اور کارکردگی عوام تک پہنچانے کے لیے اہتمام کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں