انٹرویو: سیف الرحمن محسود۔ سینئر نائب صدر پی ٹی آئی کراچی

انٹرویو: سیف الرحمن محسود۔ سینئر نائب صدر پی ٹی آئی کراچی


میزبان: طاہر راجپوت، محمد انور خان

ماہنامہ’القانون“: سیف الرحمن صاحب سب سے پہلے ہم آپ کا تعارف چاہتے ہیں تعلیم کہاں تک حاصل کی، عملی زندگی میں کب قدم رکھا، سیاسی میدان میں کب آئے؟
سیف الرحمن محسود: میں 1971 کوکراچی میں پیدا ہوا اور ابتدائی تعلیم پی آئی بی کالونی کے ایک اسکول سے حاصل کی، انٹر کی تعلیم کراچی کے مشہور نیشنل کالج سے حاصل کی دوران تعلیم طلباء سیاست میں بھی حصہ لیا اس کے بعد جامعہ کراچی چلے گئے اور وہاں سے ایم اے سیاسیات تک تعلیم حاصل کرکے اپنے خاندانی کاروبار سے وابستہ ہوگیا۔ جہاں تک میرے خاندان کا تعلق ہے تو ہم جنوبی وزیر ستان کے محسود قبائل سے تعلق رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے روز اول سے پاکستان کے ساتھ ہیں میرے دادا حنیف خان اور نانا سردار سخی جان نے 1948ء میں جب بھارت نے کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ کیا تو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نواب لیاقت علی خان نے فاٹا کے قبائل سے پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑنے کی اپیل کی تو فاٹا سے سب سے پہلے میرے دادا حنیف خان اور نانا سردار سخی جان اور دیگر قبائلی رہنماوں نے قبائل کے قافلے تیار کرکے پاک فوج کو پیش کئے ان تمام قبائل نے پاک فوج کے شانہ بشانہ جنگ کی یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نواب لیاقت علی خان نے حکومتی سطح پر میرے دادا حنیف خان کو ”شیر جنگ“، میرے نانا ملک اَمر خان کو”فخر کشمیر“کا خطاب دیا گیا تھا اور میرے نانا کے چھوٹے بھائی سردار سخی جان کو”شیر کشمیر“ کے لقب سے نوازا تھااسی طرح دیگر قبائل کے عمائدین کو بھی حکومت کی جانب سے مختلف اعزازات سے نوازا گیا تھا،میرے چھوٹے نانا 1962 ء میں کراچی سے BDممبر منتخب ہوئے، 1984 ء میں کراچی سے مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہوئے، میرے چھوٹے نانا کی کراچی کے حوالے سے خدمات کے صلہ میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے پیر الٰہی بخش کالونی میں ایک سڑک کا نام منسوب کیا گیا ہے جسے آج تک ”سردار سخی جان لین“ کے نام سے جانا جاتا ہے، میرے ماموں ملک عبدالقیوم خان فاٹا سے سیفران کے وزیر مملکت رہے۔ میں کالج کے زمانے سے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ پاکستان تحریک انصاف سے وابستگی کے حوالے سے بتانا چاہوں گا کہ میں نے 2009ء میں تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم میری سیاسی جدوجہد اتنی زیادہ تھی کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی موجودگی میں تحریک انصاف میں میری شمولیت کا اعلان کرایا،تحریک انصاف میں ابتدائی طور پر ایک کارکن کی حیثیت سے کام کیا لیکن تنظیم نے میری صلاحیتوں اور کارکردگی کو دیکھتے ہوئے 2010ء میں مجھے پاکستان تحریک انصاف سندھ کا جوائنٹ سیکریٹری بنادیا، اسی طرح 2011ء میں سندھ کا ڈپٹی جنرل سیکریٹری نامزد کیا گیا، سندھ میں عمران خان کا چیف سیکورٹی افسر بھی رہا،میرے لئے یہ اعزاز کی بات بھی ہے کہ میں 2013ء میں پارٹی انتخابات میں میں ان چار لوگوں میں شامل تھا جو پاکستان بھر سے بلامقابلہ منتخب ہوئے جن میں سب سے پہلے نمبر پر پارٹی سربراہ عمران خان تھے،دوسرے نمبر پر سینئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی، بلوچستان سے نظر بلوچ اور کراچی سے میں سیف الرحمن محسود نائب صدر پاکستان منتخب ہوا، اس کے بعد پارٹی نے مجھے دو مرتبہ کراچی کا سینئر نائب صدر منتخب کیا اور اس وقت بھی سینئر نائب صدر کراچی ہوں۔قومی انتخابات 2013 ء میں پی ایس 126سے الیکشن لڑا اور 24ہزار ووٹ لئے اس کے علاوہ تقریباً 6ہزار ووٹ ایسے تھے جوتحریک انصاف کے انتخابی نشان”بَلے“کو ملے تھے لیکن انہیں پان کی پیک لگاکر خراب کردیا گیا تھا جنہیں مسترد کردیا گیا اتنی بڑی تعداد میں ووٹ مسترد ہونے اور الیکشن رزلٹ تبدیل کئے جانے کے خلاف میں الیکشن ٹریبونل میں گیا وہاں سے یہ کیس ہوتا ہوا پانچ سال کے عرصے میں سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے میں ابھی تک فیصلے کا منتظر ہوں۔ آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا جہاں تک تعلق ہے تو اس سلسلے میں یہ کہوں گا کہ پاکستان تحریک انصاف اور قیادت کی جانب حکم ملا اور حلقہ کے لوگوں کی خواہش ہوئی تو دوبارہ اسی حلقے سے الیکشن لڑوں گا۔

ماہنامہ ’القانون“: قومی انتخابات 2013ء میں پاکستان تحریک انصاف کو کراچی کے عوام نے دس لاکھ ووٹ دیئے لیکن بلدیاتی انتخابات میں نظر انداز کیا اس سلسلے میں آپ کی سیاسی رائے کیا ہے کیونکہ مخالفین کہتے ہیں کہ تحریک انصاف نے دس لاکھ ووٹ ملنے کے باوجود کراچی والوں کا آج تک شکریہ ادا نہیں کیا؟
سیف الرحمن محسود: آپ نے مجھ سے کراچی کے حوالے سے سوال کیا ہے لیکن میں آپ کو مجموعی طور پر بھی بتانا چاہتا ہوں اور کراچی کے حوالے سے بھی بتاؤں گا دیکھیں جی بات یہ ہے کہ قومی انتخابات 2013ء میں پاکستان کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وژن، تبدیلی کے نعرے اور ان کی 20سالہ جدوجہد سے متاثر ہوکر انہیں زبردست مینڈیٹ دیاتھا لیکن پنجاب اور سندھ میں تحریک انصاف کے مینڈیٹ کو چوری کرلیا گیاتھا اگر ہمارا مینڈیٹ چوری نہ ہوتا تو وفاق اور پنجاب میں بھی ہماری حکومت ہوتی اور کراچی سے ہمارے پاس قومی اسمبلی کی 16 سیٹیں ہوتیں اور صوبائی اسمبلی کی 35 کے قریب سیٹیں ہوتیں لیکن مخالف قوتوں نے ہمارے مینڈیٹ پر شب خون مارا۔آپ کو تو معلوم ہے کہ 2013ء کے الیکشن ڈے پر تحریک انصاف کے ووٹرز نے NA250پر کس طرح اپنے ووٹ کی حفاظت کی اور یہ بات حقیقت ہے کہ اگر ڈیفنس اور کلفٹن سے ووٹرز باہر نہ نکلتے تو یہاں کی نشستیں بھی دھاندلی کرکے چوری کرلی جاتیں۔ پاکستان تحریک انصاف کراچی کے عوام کی ممنون ہے کہ انہوں نے تین دہائیوں کے بعد کسی دوسری جماعت کو اتنی بڑی تعداد میں ووٹ دیا۔ کراچی سے دس لاکھ کے قریب ووٹ لینا تحریک انصاف کیلئے اعزاز کی بات ہے۔ کراچی کے عوام نے ہم پر اعتماد کیا اور پہلی مرتبہ تحریک انصاف کو کراچی سے بھاری مینڈیٹ دیا گیا لیکن ہمارے سیاسی حریفوں نے ہمارا مینڈیٹ چوری کرلیا۔جہاں تک بلدیاتی انتخابات کا تعلق ہے اس حوالے سے میں کہوں گا کہ چونکہ ہمارا مینڈیٹ چوری کرلیا گیا تھا تو ہم قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے مینڈیٹ کی چوری کے معاملات میں مصروف رہے اس کے علاوہ ہماری نوجوان قیادت کی زندگیوں کو محفوظ رکھنے کیلئے ہم نے بہت سے ایسے اقدامات کئے جن سے کراچی کی سیاسی فضا خراب نہ ہو۔ ایسی بات نہیں ہے کہ تحریک انصاف نے یا عمران خان نے کراچی کے عوام کا شکریہ ادا نہیں کیا عمران خان کراچی کے عوام سے بہت پیار کرتے ہیں جس کی دلیل ان کے کراچی کے دورے ہیں اور ان کے سماجی نیٹ ورک شوکت خانم اسپتال کا کراچی میں قیام ہے جس پر ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہے۔میں چونکہ اس وقت فیلڈ میں ہوں اور کراچی کے عوام سے مل رہا ہوں تو میں یہ بات پورے اعتماد سے کہوں گا کہ پاکستان تحریک انصاف آج بھی کراچی کے عوام کی امیدوں کا محور ہے اور انشاء اللہ 2018ء کے انتخابات تحریک انصاف کراچی سے بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔

ماہنامہ ’القانون“: قومی انتخابات 2018ء کیلئے تحریک انصاف کراچی کے عوام کو کوئی خصوصی منشور دینے کا ارادہ رکھتی ہے؟
سیف الرحمن محسود: پاکستان تحریک انصاف کا کراچی کیلئے یہی منشور ہے کہ شہر میں مکمل امن و امان ہو، گلی گلی ترقیاتی کام ہوں، پارک، اسپورٹس گراؤنڈ، تفریحی گاہیں، بہترین اسکول، سہولیات سے آراستہ اسپتال ہوں اور ہر شہری کو برابری کی سطح پر سہولیات دی جائیں۔ کراچی ایک گلدستہ کی ماند ہے جسے تحریک انصاف نے دوبارہ سے سنوار اہے، کراچی شہر میں بلاشبہ پاکستان کے کونے کونے سے لوگ آکر بسے ہوئے ہیں لیکن ہم بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ 2018ء کے کراچی میں صرف پاکستانی بستے ہیں زبان، رنگ، نسل، فرقہ و مذہب کی کوئی تفریق نہیں پاکستان میں اب عصبیت کی کوئی گنجائش نہیں،ہم صرف پاکستانی ہیں اور اپنے پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ 2018 ء کے قومی انتخابات میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کی صور ت میں کراچی کیلئے فوری طور پرانشاء اللہ تعالیٰ 300ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا جائے گا اور ترقیاتی کاموں کیلئے صبح ہونے کا انتظار نہیں ہوگا بلکہ 24گھنٹے کام کرکے کراچی میں سڑکیں، برجز، انڈرپاسز، سیوریج لائن، واٹر لائن، پارک، اسکول، اسپتال، میٹرو ٹرانسپورٹ سسٹم اور عام شہری کی ضروریات زندگی کی ہز چیز مہیا کرنے کیلئے دن رات کام کیا جائے گا، کراچی کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے فوری مواقع پیدا کئے جائیں گے، کراچی کی صنعتوں کو خصوصی مراعات دے کر عام شہریوں کیلئے نجی شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرائے جائیں گے۔ کراچی کے عوام نے بہت مشکل حالات دیکھے ہیں پاکستان تحریک انصاف اب کراچی کے عوام کے ساتھ زیادتی ہونے نہیں دی گی۔ آپ دیکھ لیں انتظامی امور عدالتوں میں پہنچے ہوئے ہیں اور پینے کے پانی تک کے مسائل ایسے سنگین ہیں کہ عدالتیں بھی حیران و پریشان ہیں کہ یہ کراچی کے ساتھ ہوکیا رہا ہے۔ جو شہر روشنیوں کا شہر، صاف ستھرا شہر ہونا چاہئے اس کی حالت دیکھ کر ہر محب وطن پاکستانی دکھی ہوتا ہے کہ دنیا کے اہم ترین شہروں میں شمار ہونے والے اس شہر کے ساتھ اتنی زیادہ زیادتیاں کی گئی ہیں۔

ماہنامہ ’القانون“: کراچی میں بسنے والے شہریوں کو قومی شناختی کارڈ کے حصول میں بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس حوالے سے تحریک انصاف کے اقدامات سے آگاہ کریں؟
سیف الرحمن محسود: میں سمجھتا ہوں کہ نادرا سے شناختی کارڈ کے حصول میں تمام قومیتوں کے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں تحریک انصاف حکومت میں آکر نادرا کے نظام کو درست کرے گی اور نادرا میں موجود عوام دشمن افسران اور عملے کو برطرف کرکے ایسے لوگوں کو لائے گی جو اپنے آپ کو افسر نہ سمجھیں بلکہ عوام کا ملازم اور خادم سمجھیں۔ شناختی کارڈ کا حصول ہر پاکستانی شہری کا حق ہے اور ہم یہ حق دلواکر رہیں گے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ مردم شماری میں پاکستان بھر سے 40لاکھ کے قریب ایسی خواتین کا ڈیتا جمع ہوا ہے جن کے پاس قومی شناختی کارڈ ہی نہیں ہے اس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نادرا کو حکم دیا ہے کہ وہ ایسی خواتین تک خود پہنچے اور ان کو شناختی کارڈ بنا کر دے تاکہ وہ بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں۔پاکستان تحریک انصاف انتخابات میں کامیابی کے بعد کراچی میں کم سے کم ہر ضلع کی سطح پر میگا سینٹر قائم کرے گی۔اس وقت ضلع جنوبی میں ڈیفنس میں ایک میگا سینٹر ہے اور دوسرا حیدری پر ضلع وسطی میں ایک میگا سینٹر ہے لیکن وہاں سے اتنی زیادہ شکایات موصول ہوتی ہیں کہ پچھلے دنوں چیئرمین نادارعثمان مبین کو خود سائل بن کر حالات معلوم کرنے پڑے اور ان کیلئے یہ حیران کن تھا کہ میگا سینٹر کے اسٹاف نے انہیں بھی نہ چھوڑا ان کے ساتھ بھی وہی کیا جو وہ بے چارے عام شہریوں کے ساتھ کرتے ہیں میرے حساب سے تو ایسے لوگوں کو نوکری کرنے کا حق ہی نہیں ہونا چاہئے جو عوام کو رسواء کرتے ہیں۔ ڈیفنس کے میگا سینٹر سے تو FIAکو مسلسل شکایات مل رہی تھیں جس پر ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے چار ملازمین کو گرفتار کیا جن میں سپروائزر نظام الدین،سینئر ایگزیکٹوقیصر خان، سرفراز احمد اور جونیئر ایگزیکٹو اظہر اقبال شامل ہیں کتنے افسوس کی بات ہے کہ عام شہری قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لئے رسواء ہوں اورغیر ملکی لوگ رشوت دے کر جب چاہیں اپنا کام کرا لیں۔ پاکستان تحریک انصاف اداروں سے ناانصافی کو ختم کرے گی اور حقیقی معنوں میں سرکاری ملازمین کو عوام کا خادم بنائے گی، یہاں میں چیئرمین نادرا عثمان مبین کے نادرا سندھ کے حوالے سے حالیہ اقدامات کی ضرور تعریف کروں گا کہ انہوں نے جس طرح کراچی کے نادرا دفاتر میں عوام کے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں کو خود محسوس کیا اور اس پر سخت ایکشن لیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل نادرا سندھ انیس کیانی کو تبدیل کرکے میر عجم کو نیا ڈائریکٹر جنرل نادرا سندھ مقرر کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنے دفتر میں بیٹھنے کی بجائے نادرا سینٹر کے دورے کریں اور شہریوں کو مسائل سے نجات دلائیں یہ اقدامات قابل تعریف ہیں سرکاری ملازمین کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ وہ عوام کے حاکم نہیں ہیں بلکہ اصل میں سرکاری ملازمین عوام کے خادم ہوتے ہیں سیاست دان تو انہیں خدمت کرنے کا وژن دیتے ہیں۔میں ماہنامہ”القانون“ کے توسط سے نادرا سندھ کے نئے ڈائریکٹر جنرل لیفٹنٹ کرنل (ر) میر عجم خان درانی کو نئی ذمہ داری ملنے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور اُمید ظاہر کرتا ہوں کہ وہ نادرا ملازمین کو حقیقی معنوں میں عوام کی مشکلات دور کرنے والا بنائیں گے اور شہریوں کو غیرضروری معاملات میں الجھانے جیسے عمل سے نجات دلائیں گے۔ ہم نئے ڈی جی کو یہ تجویز بھی دیں گے کہ چیئرمین عثمان مبین کی طرح سرپرائز وزٹ کیا کریں تاکہ مسائل کو درست اتدارک ہوسکے اسی طرح اگر نگرانی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کیلئے ہر سینٹر میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کردئے جائیں جن کا کنٹرول روم ڈائریکٹر جنرل آفس میں ہوتو ادارے کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔

ماہنامہ ’القانون“: کراچی میں بلدیاتی اختیارت نہ ہونے کے برابر ہیں کیا تحریک انصاف اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کرے گی؟
سیف الرحمن محسود: آپ کو یاد ہوگا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی کے ساتھ بہت زیادتی ہے کہ کراچی کے منتخب میئر کے پاس اختیارات ہی نہیں ہیں اور کئی ادارے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن سے علیحدہ کردیئے گئے ہیں، تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات نہ دے کر کراچی کو سہولیات سے محروم رکھا جارہا بلدیاتی امور میں صرف گلی محلے کی صفائی یا سڑکوں اور پارکوں کو بنانے کی ذمہ داری نہیں ہوتی بلکہ بلدیہ سے مراد ہر وہ معاملہ ہے جو زندگی کی بنیادی ضروریات میں آتا ہے مثلاً پینے کے پانی اور سیوریج کا ادارہ لازمی طور پر بلدیاتی نظام کے ماتحت ہونا چاہئے لیکن سندھ حکومت نے اس محکمہ کو صوبائی حکومت کے ماتحت کیا ہوا ہے، اسی طرح سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کا جو ادارہ ہے یہ بھی خالصتاً بلدیاتی ادارہ ہے لیکن اسے بھی سندھ حکومت نے صوبائی کنٹرول میں رکھا ہوا ہے جس کا نقصان عام شہریوں کو زیادہ ہورہا ہے اور کرپشن عام ہورہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اس طرح کے غاصبانہ نظام کو ختم کرے گی جب 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو خودمختار بناکر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی جاسکتی ہے تو ضلعی یا ڈویژن کی سطح پر اختیارات کیوں منتقل نہیں کئے جاسکتے۔ سندھ حکومت نے کراچی کے لوگوں کے ساتھ یہ ظلم کیا ہے کہ اداروں کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے جس سے بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات تقسیم ہوکر رہے گئے ہیں ہم کراچی کے عوام اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ ہونے والے ان مظالم کا خاتمہ کریں گے۔

ماہنامہ ’القانون“: نقیب اللہ محسود کے بے گناہ قتل نے پورے نظام کو ہلاکر رکھ دیا اب راؤانوار نے اپنے آپ کو سپریم کورٹ میں پیش کردیا ہے اور سپریم کورٹ نے ایک نئی جے آئی ٹی بھی بنادی ہے آپ سمجھتے ہیں اب کیس کو جلد سے جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا؟
سیف الرحمن محسود: اس سلسلے میں ہم نے قانون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے، ہم امن پسند اور قانون پسند شہری ہیں ہم چاہتے ہیں کہ قانون اپنے مجرموں کو خود پکڑے اور کٹہرے میں کھڑا کرے ہم صرف انصاف کے متمنی و منتظر ہیں،سپریم کورٹ میں نقیب اللہ محسود قتل کیس کی سماعت مسلسل جاری ہے ہمیں اُمید ہے کہ اس سماعت میں سپریم کورٹ اہم احکامات صادر کرے گی میں یہاں ایک ضمنی بات کرنا چاہتا ہوں کہ راولپنڈی کے ایک نوجوان سلیم جعفر نے قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے راؤانوار کے سر کی قیمت مقرر کی ہم اس عمل کی حمایت نہیں کرتے کیونکہ آئین یہ اختیار کسی فرد کو نہیں دیتا بلکہ یہ کام عدالتوں اور حکومتوں کا ہوتا ہے لیکن اگر اس نوجوان نے یہ غلطی کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس نوجوان کو دو دن میں گرفتار کرلیا لیکن راؤ انوار کو گرفتار کرنے میں ریاست کے تمام ادارے ناکام ہوگئے اگر سپریم کورٹ راؤانوار کے سہولت کاروں اور پناہ دینے والوں کے گرد گھیرا تنگ نہ کرتی تو راؤ انوار ساری زندگی گرفتار نہیں ہوتا تحریک انصاف پاکستان میں کمزور اور طاقت ور سب کیلئے ایک جیسا انصاف چاہتی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس نوجوان کو بھی انصاف دیا جائے اس نے یقینا قانون سے لاعلمی میں ایسا کیا اگر اسے معلوم ہوتا کہ کسی مفرور کے سر کی قیمت صرف حکومت کا اختیار ہے تو وہ یہ غلطی نہیں کرتا۔ میں آپ کو یہ بات بتانا چاہتا ہوں کہ گرینڈ جرگہ کا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ سپریم کورٹ اب سخت احکامات صادر کرے گی اور نقیب اللہ محسود سمیت درجنوں بے گناہ لوگوں کے قاتل راؤانوار اور اس کی پوری گینگ کو کیفرکردار تک پہنچائے گی۔ اگر گرینڈ جرگہ کسی وقت یہ محسوس کرے گا کہ عوام کو انصاف کے حصول کیلئے سڑکوں پر لایا جائے یا کوئی احتجاجی کیمپ لگایا جائے تو ہم ایسا ضرور کریں گے کیونکہ اب کسی ظالم کو ظلم کرنے نہیں دیا جائے گا کراچی کے سیکڑوں بے گناہ نوجوانوں کو دولت کی خاطر نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا گیاہم ایسا نہیں ہونے دیں گے کہ اگر کسی نوجوان کو یا کسی معصوم شہری کو بے گناہ قتل کیا گیا ہے تو اس کے قتل کا بدلہ پولیس والوں کو قتل کرکے لیا جائے اس سے معاشرے میں انارکی پھیلتی ہے اور دشمن خوش ہوتا ہے ہم چاہتے ہیں کہ پولیس کو غیرسیاسی کیا جائے اور اس سے اصل کام عوام کی حفاظت کرنا اور شہر میں امن و امان قائم رکھنے کا کام ہی لیا جائے۔ ہم سپریم کورٹ سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ پولیس میں موجود کالی بھڑوں کا صفایا کیا جائے اور ہمیں لوگ آکر کہتے ہیں کہ پولیس افسران نے مال بنانے کیلئے ”پولیس پارٹیاں“ بنائی ہوئی ہیں جن پولیس افسران نے اپنی اپنی”پولیس پارٹیاں“ بنارکھی ہیں انہیں پولیس کے محکمے سے نکال دیا جائے تاکہ پولیس ”پارٹی“ بننے یا بنانے کی بجائے عوام کی حفاظت کرے اور اپنے فرائض منصبی اپنے آئینی حلف کے مطابق ادا کریں۔ گرینڈ جرگہ سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کرتا ہے کہ راو انوار کو ابھی تک نوکری سے برطرف نہیں کیا گیا معصوم شہریوں کے اس قاتل راؤ انوار اور اس کے ساتھیوں کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کیا جائے۔

ماہنامہ ’القانون“: سندھ میں پولیسنگ کا نظام ہمیشہ متنازع رہا ہے، پولیس حکمرانوں کی چوکیدار بن کر رہ گئی ہے، آپ کے خیال میں اگر تحریک انصاف کو سندھ یا وفاق میں حکومت ملتی ہے توکیا مشکل ترین اقدامات کرسکیں گے؟
سیف الرحمن محسود: سندھ میں محکمہ پولیس پراتنے زیادہ کام کی ضرورت ہے کہ کئی ایسے مواقعے آئے کہ سندھ ہائی کورٹ کے معزز جج صاحبان نے یہاں تک ریمارکس دیئے کہ اگر سندھ کے محکمہ پولیس کو ختم کردیا جائے تو 50%جرائم تو ویسے ہی ختم ہوجائیں آپ اندازہ لگائیں کہ جس محکمے میں اتنے زیادہ مسائل ہوں تو اس محکمے پر کتنا کام کرنا ہوگا،ہمیں تو حیرت ہوتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کی طرح سندھ پولیس میں ”پارٹیاں“ بنائی ہوئی ہیں، میں سوال کرتا ہوں کہ جب عابد باکسر کو دبئی سے لایا جاسکتا ہے توسندھ میں چھپے بیٹھے درجنوں بے گناہوں کے قاتل راؤ انوار کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیااگر سپریم کورٹ سخت ایکشن نہ لیتی تو پولیس کے پاس راؤانوار کو گرفتار کرنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔پاکستان میں کس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگاہوں سے اُوجل رہا ہے، اگر ہمیں سندھ میں حکومت کرنے کا موقع ملا تو کے پی کے کی طرح پولیس کو درست کریں گے اور سندھ پولیس کی کالی بھیڑوں کو نوکریوں سے فارغ کیا جائے گا اور وردری کے زور پر جو لوگ کروڑپتی اور ارب پتی بن گئے ان سے قوم کا پیسہ نکلوائیں گے۔

ماہنامہ ’القانون“: آپ جعلی پولیس مقابلوں میں قتل ہونے والے، لاپتہ ہونے والے اور دیگر جھوٹے مقدمات میں پھنسے والے عام لوگوں کو جن کی تعداد ہزاروں میں ہے انصاف دلانے کی جدوجہد کررہے ہیں کیا آپ کامیابی حاصل کرپائیں گے؟
سیف الرحمن محسود: اس سلسلے میں میں یہ کہوں گا کہ آئی جی سندھ نے ایک کمیٹی قائم کردی ہے جس کیلئے ایس ایس پی ملیر کے دفتر میں درخواستیں جمع ہورہی ہیں جو آئی جی آفس جائیں گی وہاں اعلیٰ سطح کی کمیٹی ان پر تحقیقات کرے گی۔ میں آپ کے اخبار کے توسط سے پولیس کے بے جا مظالم اور بے گناہ لوگوں کے ورثاء سے کہوں گا وہ ڈریں نہیں گھر سے نکلیں اور بے گناہ مارے گئے، لاپتہ ہونے والے یا جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں بند افراد کو انصاف دلانے کیلئے درخواستیں جمع کرائیں بے گناہ لوگوں کا قاتل راؤ انوار ہو یا کوئی اور پولیس افسر کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے۔ پولیس کی وردی لوگوں کی حفاظت کیلئے ہوتی ہے نہ کہ ان کے جان و مال کی دشمنی کیلئے، ہم اس بات کو سچ ثابت کرنے کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان احکامات صادر کرے کہ راؤ انوار کے خفیہ مقامات کی تحقیقات کی جائیں اور پتہ کرایا جائے کہ پولیس کی وردی پہن کر ان سماج دشمن عناصر نے کہاں کہاں ڈیتھ اسکواڈبنارکھے ہیں، بے گناہ اور معصوم شہریوں کے ڈیٹھ اسکواڈ دریافت کئے جائیں اور انہیں میڈیا کے سامنے لایا جائے اسی طرح لاپتہ افراد کو بھی بازیاب کرایا جائے، اگر کسی شخص پر کوئی مقدمہ ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے سزا دینا صرف عدالتوں کا کام ہے، پاکستان میں آئین کی حکمرانی ہے، عدالتیں کام کررہی ہیں پھر کس طرح ایک پولیس افسر عدالتی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے۔

ماہنامہ ’القانون“: کراچی میں تحریک انصاف کو متحرک کرنے کیلئے ہونے والے اقدامات کے حوالے سے کچھ تفصیلات بتائیں؟
سیف الرحمن محسود: جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے ملک بھر میں رکنیت سازی کی مہم شروع کی ہوئی ہے جس کی نگرانی چیئرمین عمران خان خود کررہے ہیں کراچی میں بھی رکنیت سازی مہم کا آغاز کردیا ہے اور کراچی کے عوام زبردست رسپانس دے رہے ہیں ہم نے کراچی کے لیاقت علی خان چوک (سابقہ مکہ چوک) پر رکنیت سازی مہم کا کیمپ لگایا تو ہزاروں شہریوں نے ممبرشپ فارم بھرے اور تحریک انصاف پر بھرپور اعتماد کیا ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی کے عوام 2018ء کے انتخابات میں بھی بھاری اکثریت سے کامیابی دلائیں گے، آپ نے چیئرمین عمران خان کا اعلان بھی سن لیا ہے وہ کراچی سے بھی الیکشن لڑیں گے۔ کراچی کے عوام کے حقوق کی اصل جدوجہد تحریک انصاف نے کی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم نے کراچی کا مقدمہ وفاق تک پہنچایا اور سپریم کورٹ، افواج پاکستان اور وفاقی حکومت اس نتیجے پر پہنچی کہ کراچی میں عام شہریوں کے ساتھ بہت زیادتی ہورہی ہے ان زیادتیوں کے ازالے کیلئے مختلف اقدامات ہوئے جن کا فائدہ براہ راست کراچی کے عوام کو ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کراچی میں پاک فوج اور پاکستان رینجرز اور سندھ پولیس کی کوششوں سے امن قائم ہوچکا ہے جس طرح پہلے آرگنائزڈ کرائم ہوا کرتے تھے ان کا خاتمہ ہوچکا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ کراچی کے عوام کو بنیادی سہولتیں ملیں۔ جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے بتایا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت قائم ہونے پر کراچی کو فوری طور پر ایک بڑا پیکج دیا جائے گا تاکہ کراچی کے عوام جو سالہاسال سے مسائل کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں انہیں اس دلدل سے نکال کر خوشحال زندگی گذارنے کے مواقع فراہم کئے جاسکیں۔

ماہنامہ ’القانون“:آپ سمجھتے ہیں کہ کراچی میں مزید اضلاع بننے چاہیں تاکہ وسائل کی تقسیم منصفانہ طریقے سے ہو اور این ایف سی ایوارڈ کا درست استعمال ممکن بنایا جاسکے؟
سیف الرحمن محسود: میرے خیال میں کراچی میں مزید اضلاع کی ضرورت ہے لیکن اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی کمیٹی نے پالیسی بنانی ہے اگر مجھ سے ذاتی حیثیت میں پوچھا جائے گا تو میں ضرور رائے دوں گا کہ کراچی میں کم سے کم مزید تین سے چار اضلاع بننے چاہیں تاکہ وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جاسکے اور انتظامی معاملات زیادہ بہتر طریقے سے اور آسانی سے انجام دیئے جاسکیں۔ اس حوالے سے اگر غور کیا جائے تو آبادی میں اضافے کے تناسب سے ساؤتھ ضلع کو دو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت لیاری کو لے لیں لیاری اکیلا ہی ایک ضلع کے برابر ہے، ضلع ویسٹ کی آبادی تیزی سے بڑھی ہے وہاں ایک نیا ضلع بننا چاہئے اورنگی ٹاؤن، رشید آباد، اتحاد ٹاؤن، سائٹ ایریا سمیت کتنی ہی گنجان آبادیاں ہیں، ملیر میں بھی مزید ایک ضلع کی گنجائش موجود ہے خاص طور سے سپرہائی وے پر نئی نئی آبادیاں بن رہی ہیں اور شہر وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے ایسے میں مزید اضلاع کی ضرورت تو ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں