انٹرویو: ملک اقبال شاغاز خیل۔ جنرل سیکریٹری پی ٹی آئی۔ خیبر پختونخواہ

انٹرویو: ملک اقبال شاغاز خیل۔ جنرل سیکریٹری پی ٹی آئی۔ خیبر پختونخواہ


میزبان: سید فیضان علی شاہ بنوری کوھاٹ

  ملک اقبال نے کہا کہ میں گزشتہ 20سال سے زیادہ عرصے سے کاروبار اور سیاست کے میدان میں ہوں، اتار چڑھاؤ اور اقتدارکے ایوان دیکھے ہیں لیکن جو سکون اور عزت پی ٹی آئی میں آنے کے بعد ملی ہے وہ پہلے حاصل نہ کرسکا تھا، انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک تحریک ہے جو کرپشن اور سیاسی چوروں اور ڈاکوؤں کے خلاف چل رہی ہے۔
ملک اقبال نے بتایا کہ میں نے عمران خان کو 2017سے سمجھنا شروع کیا اور دیکھا ہے کہ عمران خان ایک بہت ہی با ہمت اور خاص کر قوم کے لئے درد رکھنے والا اور قوم بنانے والا رہنما ہے۔ پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے ایک سوال پر ملک اقبال نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے باقی تمام پارٹیاں اور ان کے لیڈرانتہائی قریب سے دیکھے لیکن جب عمران خان سے ملا اور دیکھا تو بہت واضح فرق محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں دیکھتا تھا کہ باقی لیڈر مفادات کو بالا تر رکھتے تھے جبکہ عمران خان نے ہمیشہ عام آدمی کی جنگ لڑی اور غریب کیلئے اپنے مفادات کو ہمیشہ بالائے طاق رکھ کر صرف عام آدمی اور پاکستان کا سوچا۔ ملک اقبال نے مزید کہا کہ میں پارٹی لیڈر شپ کا انتہائی مشکور ہوں کہ جنہوں نے مجھ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے خیبر پختونخوا ساوتھ ریجن کا جنرل سیکریٹری منتخب کیا جو کہ پورے کوہاٹ کے لئے سیاسی طور پر ایک اعزاز سے کم نہیں ہے۔ آنے والے الیکشن کے حوالے سے جب ملک اقبال سے سوال پوچھا گیا کہ کیا آنے والے الیکشن میں حصہ لینگے تو اس سوال پر موصوف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جس میں مکمل جمہوریت ہے۔ ہر ورکر کو حق ہے اور وہ پارلیمانی بورڈ میں درخواست دے، اس لئے میری بھی خواہش ہے کہ میں بھی الیکشن لڑوں۔ لہٰذا میں درخواست جمع کروا رہا ہوں باقی آگے پارٹی کی مرضی ہوگی کہ وہ کس کو صوبائی اور کس کو قومی اسمبلی کیلئے ٹکٹ دیتے ہیں،پی ٹی آئی کا ٹکٹ جس کو بھی ملا، عمران خان کی خاطرجان و مال بھی لگاؤں گا، اس کی کیمپین میں خود چلاؤں گا۔ ملک اقبال نے مزید کہا کہ خان صاحب کہہ چکے ہیں کہ اس بار نئے چہرے سامنے لائے جائینگے۔ پچھلی بار ایسے کچھ چہرے تھے جو پارٹی کی بدنامی کا باعث بنے یا جنہوں نے پارٹی سے بغاوت کی، تو ایسے کردار جو قوم کیلئے نہیں بلکہ ذاتی مفاد کے لئے سیاست کرتے ہیں ان کو بالکل نہیں چھوڑیں گے۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ سینٹ کے الیکشن میں ہمارے کچھ ایم پی ایز پر پارٹی کے خلاف ووٹ دینے کا الزام ہے اور کچھ نے پہلے سے بغاوت کر رکھی تھی۔ اس لئے میں نے پہلے بھی کہا کہ پی ٹی آئی واحد تحریک ہے جہاں مکمل جمہوریت ہے، جو غلط کرے گاپارٹی اور پارٹی کا ہر ورکر اسے غلط
کہے گا۔
ملک اقبال نے مزید کہا کہ میں کوہاٹ عوام کا انتہائی مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے بہت عزت دی اور اس بار بھی جب میں نے الیکشن کا اعلان کیا تو بہت ہی زبردست رسپانس مل رہا ہے بلکہ کوہاٹ کے بزرگ اور نوجوان جو کہ دوسری پارٹیوں کے ہیں وہ بھی مجھے سپورٹ کرنے کا کہہ رہے ہیں اور ہر طرح کا ساتھ دینے کا وعدہ کر رہے ہیں۔کوہاٹ میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ملک اقبال نے کہا کہ یہ بات میں اس لئے نہیں کر رہا کہ یہ اپنی پارٹی ہے لیکن میری زندگی میں کسی حکومت میں اتنے کام کوہاٹ کی تاریخ میں نہیں ہوئے جتنے پی ٹی آئی کی اس 5سالہ دور حکومت میں ہوئے ہیں اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ کام بھی بہت معیاری ہوئے ہیں۔
شہریار آفریدی کے حوالے سے ملک اقبال نے کہا کہ اس پورے صوبے کا ایک ایسا اثاثہ ہیں جو دہائیوں میں بھی بہت کم ملتا ہے۔آج کوہاٹ میں اربوں کے ترقیاتی کام شروع ہیں ان کے پیچھے شہریار آفریدی کی کوششیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بعد اگر میں کسی سے متاثر ہو کر پارٹی میں آیا تو وہ شہریار آفریدی ہیں۔ ایسا باکردار، ایماندار اور محنتی رہنما کوہاٹ کو پھر نہیں مل سکتا، بلکہ میں کہونگا کہ شہریار آفریدی اس پورے صوبے کی معتبر آواز اور عزت کا نام ہے۔ ملک اقبال نے کہا کہ کئی دہائیوں بعد قومی اسمبلی میں پختونوں کو ایک مقام ملا ہے، کیونکہ اس سے پہلے جب قومی اسمبلی میں پختون تقریر کیلئے کھڑے ہوتے تھے تو پنجاب کے نمائندے توجہ دیئے بغیر اکثر ہاوس سے نکل جاتے تھے، لیکن آج جب مراد سعید، علی محمد اور شہریار آفریدی قومی اسمبلی میں بولنے کیلئے کھڑے ہوتے ہیں تو اسمبلی میں ان کے سامنے کوئی بول نہیں سکتا۔ کبھی پختونوں کا یہ مقام تھا لیکن آج پھر سے اللہ نے پختونوں کو ایک مقام دے دیا ہے کہ ان کی بات غور سے سنی جاتی ہے اور مانی جاتی ہے۔ میں کوہاٹ کی عوام کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے شہریار آفریدی جیسے انسان کو منتخب کیا ہے اور امید ہے کہ کوہاٹ عوام آئندہ بھی عمران خان کا ساتھ دیگی اور پی ٹی آئی کے نمائندے اسمبلیوں میں بھیجے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں