انٹرویو: نجمہ شاہین۔ ایم پی اے خیبر پختونخواہ

انٹرویو: نجمہ شاہین۔ ایم پی اے خیبر پختونخواہ


 میزبان: سید فیضان بنوری کوھاٹ

          پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے۔جمعیت علماء اسلام عزم رکھتی ہے کہ وطن عزیز پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے اور غریب عوام، کسانوں، مزدوروں اور معاشرے کے دیگر طبقات کو اسلام کے عطاء کردہ حقوق حاصل ہوں۔مسلمانوں میں مقصد حیات کی وحدت فکرو عمل کی یگانگت اور اخوت اسلامیہ کو اسطرح ترقی دینا کہ ان سے صوبائی، علاقائی، لسانی اور نسلی تعصبات دور ہوں۔ان خیالات کا اظہارجمعیت علماء اسلام کی خیبر پختونخواہ اسمبلی میں مخصوص نشست پرمنتخب ہونے والی اور ممبر وومن کاکس ایم پی اے نجمہ شاہین نے ماہنامہ القانون کے ساتھ خصوصی نشست کے موقع پر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کے تبدیلی کے دعوے صرف نعروں کی حد تک محدود ہیں جن سے لوگوں کو صرف بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔محکمہ تعلیم، صحت، بلدیات و دیگر میں انقلاب لانے کی باتیں کرنے والے اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ان اداروں کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے۔ہسپتالوں میں مریض اب بھی دواؤں اور ڈاکٹروں کی کمی کے باعث رُل رہے ہیں۔ہسپتالوں میں سہولیات ناپید ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں دعوے سے کہتی ہوں کہ آپ سکولوں کی حالت ذرا دیکھ لیں بہتری کے بجائے تنزلی کا شکار ہوئے ہیں کیونکہ ان کے نت نئے تجربات سے مزید مسائل نے جنم لیا۔ حکومت کا ایک ارب درخت لگانے کا ڈھنڈورا صرف ڈھکوسلہ ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق صوبے کی تمام زمین کے ہر ایک انچ پر بھی درخت لگا دئیے جائیں تو ایک ارب درخت نہیں لگ سکتے۔انھوں نے کہا کے مسجدوں میں پیش امام کو اگر وظیفہ دینا ہی ہے تو اس کے لئے اسمبلی میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے۔مسجدوں میں پیش اماموں کو وظیفہ دینا اُن کو خریدنے کی کوشش ہے جس کی ہم ہر سطح پر مخالفت کرینگے۔انھوں نے ترقیاتی فنڈز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ کوہاٹ کے لئے اسمبلی سے آپ کوئی پراجیکٹ نہ لا سکیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ صاحب ہمیں ملاقات کے لئے وقت تک نہیں دیتے۔ اپوزیشن میں ہونے کی وجہ سے ہماری بات کوئی وزیر نہیں سنتا اور نہ ہی کوئی حکومتی اہلکار، ہم جہاں بھی جائیں ہمارے ساتھ دوہرا معیار اپنایا جاتا ہے جو سراسر ظلم اور ذیادتی ہے۔ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے اپوزیشن کو ہر جگہ جان بوجھ کر منصوبوں سے محروم رکھا گیا۔آواز اُٹھانے پر نہ ہونے کے برابر پچھلے چار سالوں میں جو فنڈز دیئے گئے ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔صرف دو سلائی سنٹر پہلے سال میں۔ایک کروڑ اور پھر 80لاکھ کے فنڈز دیئے گئے اور پانچویں سال میں اپوزیشن کے دباؤ پر 3کروڑ منظور کئے گئے جس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ ان 3کروڑ روپوں میں 50فیصد ترقیاتی منصوبوں کی منظوری جو کہ میرے نام سے تھی ضیاء اللہ بنگش نے اپنے نام سے منظور کروائے۔اسی طرح MPA امجد آفریدی کو 5کروڑ کے فنڈز ملنے تھے۔اس میں بھی MPAضیاء اللہ نے اس خطیر رقم کو اپنے منصوبوں میں شامل کر لیا جس پر امجد آفریدی نے حکومت سے حُکمِ امتناعی حاصل کیا جس کی وجہ سے اب مکمل فنڈز جو کہ 60کروڑ روپے ہیں پر پورے کوہاٹ میں کام رُک گیا ہے اور ضلع کوہاٹ کے تمام فنڈز تا حکمِ ثانی روک دئیے گئے ہیں جس سے نقصان صرف کوہاٹ کی عوام کا ہو رہا ہے۔

          MPAنے اپنے انٹرویو میں کہا کے ہم جب بھی رائیلٹی فنڈز میں اپنا حصہ مانگتے ہیں تو وزیر اعلیٰ یہ کہہ کر ہمارے مُطالبے کو ٹال دیتے ہیں کہ آپ مخصوص نشست پر منتخب ہوئی ہیں لہذااس فنڈ سے آپ کا کیا لینا دینا جو کہ بہت قابلِ افسوس بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ کوہاٹ بیوٹیفیکیشن پراجیکٹ کہ حوالے سے بھی مجھ سے کوئی صلاح مشورہ نہیں کیا گیااور نہ ہی مجھے کسی میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔چیئرمین ڈیڈک کمیٹی ہونے کے ناطے ضیاء اللہ بنگش اپنے ہر کام میں اپنی پارٹی کا مفاد اور فائدہ پہنچانے کے لئے کام کرتے ہیں حالانکہ سب سے پہلے جہان ہے تو جہان والی بات ہونی چاہئے کیونکہ لوگوں کو صاف پینے کا پانی اور ہسپتالوں میں سہولیات ملنی چاہئے۔لوکل گورنمنٹ نظام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نچلی سطح تک اختیارات اور فنڈز کی منتقلی کی باتیں کرنے والے بتائیں کہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کو فنڈز ذیادہ ملے یا ایم پے ایز کو۔ آج بھی ڈپٹی کمشنر MPAکی مرضی کے بغیر کو ئی کام نھیں کر سکتا۔کروڑوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز MPAکو دئیے جاتے ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ ناظم اور دیگر بلدیاتی نمائندوں کے پاس اپنی گلی تک کو ٹھیک کروانے تک کے لئے فنڈز دستیاب نہیں۔MPAنے اپنی 5سالہ کارکردگی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ پانچ سالوں میں اب تک اسمبلی بزنس میں میری پوزیشن ہمیشہ اول رہی۔صوبے میں جہاں بھی کسی ادارے میں مسائل دیکھے بالخصوص اپنے ضلع کے حوالے سے ہمیشہ متعلقہ اداروں کے سربراہان سے اسمبلی میں سوالات کئے۔ وومن کاکس کی سرکردہ رکن ہونے کے ناطے خواتین کے لئے ہر پلیٹ فارم سے آواز اُٹھائی۔ان کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کیونکہ ملک کی آبادی کا 52% خواتین پرمشتمل ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، سماجی فلاح و بہبود، معاشرتی نظم و نسق، سیاست، معاشی استحکام و دیگر شعبوں میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔خواتین کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ عورتوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کے حوالے سے قوانین آئین میں موجود ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے جس کہ باعث آج بھی خواتین اس معاشرے میں گھٹن محسوس کرتی ہیں۔عورت ظلم و جبر اور عدم توجیہی کا شکار ہے۔محض عورتوں کی قانون ساز اداروں میں سیٹیں مختص کرنے سے مسائل کا حل ڈھونڈنا ادھورہ عمل رہا ہے۔ چین، جاپان اور ملائیشیاء کی ترقی کی مثالیں تو یہاں دی جاتی ہیں کہ وہا ں پر عورتوں کو فیصلہ سازی، کاروبار، حکمرانی اور تعلیم جیسی طاقت کا حق اور شرکت کے پورے پورے مواقع فراہم کئے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ ممالک کامیابیوں کی حدوں کو چھو رہے ہیں۔ MPAنجمہ شاہین بیرون ملک یعنی انگلینڈ اور سوئیزرلینڈ کا دورہ بھی کر چکی ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ اللہ نے آگے بھی موقع دیا اوراگر جمعیت علماء اسلام کی حکومت صوبے میں اقتدار میں آئی تو کوہاٹ کے مسائل کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرونگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں