اگر یہ تو ہین عدالت نہ ہو؟

اگر یہ تو ہین عدالت نہ ہو؟


1) کچھ عرصہ قبل ایک مشہور عالم دین اور مفسر قرآن سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے سوال کیاکہ آیا پاکستان میں مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے اور اپنے آپ کو وارث الانبیاء کہنے والے کبھی ایک ہوسکتے ہیں؟ تو انہوں نے واضح طور پر جواب دیا کہ ” نہیں“ میں نے اس ”نہیں“ کے جواب کی روشنی میں ان سے دوسرا سوال کیا کہ اسلامی ملک پاکستان کو صحیح معنوں میں اسلامی بنانے کے لئے آپ اسلام کی کون سی برانڈ پاکستان میں متعارف کرائیں گے؟ مفسر قرآن کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔یہی بات میں نے ایک قائد اعظم کیپ پہنے ہوئے ایک تنظیم کے ایک مولانا سے کہی جو رمضان میں چندہ مانگنے کے لئے کراچی تشریف لائے تھے، انہوں نے اپنی جان چھڑانے کے لئے کہا کہ اس مسئلے کو اپنی تنظیم میں اٹھائیں گے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ انہیں یہ وعدہ پورا کرنے کی توفیق ہوئی یا نہ ہوئی۔یہی نقطہ میں نے جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق کے ایک چہیتے سے کہا تو انہوں نے مجھے اپنے ادارے میں آنے کے لئے کہاجہاں امیر صاحب کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا مگر اس جگہ محترم امیر صاحب کے پاس میری بات سننے کا وقت ہی نہیں تھا۔

آمدم برسر مطلب۔ مذکورہ بالا مفسر قرآن نے مجھ سے یہ سوال کر ڈالاکہ”آپ فیڈرل شریعت کورٹ کے جج رہے ہیں۔آپ ہی بتائیں پاکستان میں اسلام کا نفاذ کیسے ہو؟“ میں نے عرض کیا کہ حضور اس کی ابتداء کسی ایسے نقطے سے کی جائے جس پر تمام مسالک کا اتفاق ہو۔ انہوں نے فرمایا”کیا آپ ایسی کوئی چیز بتا سکتے ہیں؟“ میں نے عرض کیا کہ زندگی کے باقی شعبوں کی بات تو میں نہیں کرتالیکن عدلیہ کے حوالے سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اسلام میں قضاء(ججز)کے لئے قرآن و سنت کا علم جاننا ضروری ہے اور اس بات پر کسی بھی مسلک والے کو اختلاف نہیں ہے۔

2) قطع نظر اس مولویانہ شرعی فتویٰ سازی کے بحیثیت ایک ایڈووکیٹ کی میں تمام ججز بشمول چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی توجہ مندرجہ ذیل الفاظ کی طرف مبذول کرانے کی جسارت(نہ کہ جرات)کررہاہوں بشرطیکہ انہیں توہین عدالت نہ تصور کیا جائے۔
الف) 1991 ء میں اس قوم کو دلاسہ دینے کے لئے حکومت وقت نے اپنی نام و نہاد محبت اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ایک قانون پاس کیا تھاجو اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔اس قانون کا نام ہے”نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱” Enforcement of Shariat Act 1991اس قانون میں کہا گیا: While interpreting and explaining the Shariah, the recognized principles of interpretation and explanation of the Holy Quran and Sunnah shall be followed

مندرجہ بالا الفاظ پر عمل اس وقت ہو سکتا ہے جب محترم جج صاحبان قرآن اور سنت کے علم سے آگاہ ہوں گے۔ کیا موجودہ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں کوئی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ قرآ ن وسنت کے علم سے پوری طرح آشنا ہے۔ میں یہ سوال خصوصی طور پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے پوچھ رہا ہوں۔

(ب) اسی ایکٹ کے پاس ہونے کے تقریباً 5 سال بعد جب سپریم کورٹ نے ججز کیس(PLD-1996 SC 324) کا فیصلہ دیا جو ججز کی اہلیت کے بارے میں اس فیصلے کے صفحہ 420پیرا (XI) 22میں معزز سپریم کورٹ نے فرمایا کہ:
A Judge must be a man having deep insight profound knowledge of Shariah.

مندرجہ بالا الفاظ میں شیعہ و سنی کی کوئی تفریق نہیں اور ان الفاظ کے مطابق ججز کی اہلیت کو ”Having deep insight ”اور”Profound knowledge of Shariah”کے الفاظ میں سمو دیا گیا ہے۔کیا کوئی جج بشمول میاں ثاقب نثار چیف جسٹس کے یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ مندرجہ بالا اہلیت کے حامل ہیں؟

(ج) ججز کیس اور شریعت ایکٹ سے کچھ عرصہ قبل 1984میں فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے Evidence Actکی جگہ قانون شہادت آرڈر 1984نافذ کیا تو اس کے شروع میں قوم کو یہ مژدہ سنایا کہ “Whereas it is expedient to revise, amend and consolidate the law of evidence so as to bring it in conformity with the injunction of Islam as laid down in the Holy Quran and Sunnah”

قطع نظر اس بات کی کہ جنرل ضیاء الحق کی نیت یہی تھی یا کچھ اور جس کا میں بھی نشانہ تھا اور سینٹرل جیل کراچی میں نظر بندی میرا مقدر بن چکی تھی۔ قانون شہادت کے مندرجہ بالا مقاصد سے ظاہر ہے کہ فیصلے قانون شہادت کی رو سے قرآن و سنت کے مطابق ہونے چاہئیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ججز قرآن وسنت کے علم سے آگاہ ہوں اور disputes کے سلسلے میں جو تشریح کریں وہ قرآن و سنت کے مطابق ہو۔کیا کوئی شخص بشمول چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اس کی اہلیت رکھتے ہیں؟ اگر رکھتے ہیں تو سجان اللہ اور سرآنکھوں پر اور اگر جواب نہیں ہے تو فیصلہ خود کر لیں کہ مذکورہ بالا قوانین کو نافذ کرنے اور فیصلوں میں اسلام کا سہارا لینے کا جواز کیا ہے؟

(د) یہاں ایک فیصلے کا حوالہ دینا بھی بے جانہ گا ہو جو سپریم کورٹ نے ایک پیچیدہ کیس میں دیا جو خلیل الزماں نیام اپیلٹ کورٹ(P2D1996SC885)کے حوالے سے رپورٹڈ ہے مذکورہ فیصلے میں جو ریمارکس دئیے گئے ان کے یہ الفاظ کافی اہم ہیں۔
“We are afraid it would have amounted to murder through judicial process ” اور سپریم کورٹ کی مذکورہ بینچ نے عدالتی قتل سے بچنے کے لئے جو راستہ اپنایا تھا وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ تھی۔

مندرجہ بالا گزارشات کی روشنی میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی خدمت میں میری التماس ہے کہ اگر بقول میڈیا کیاواقعی معلومات یہ تھیں کہ گزشتہ حکومت ان کی معلومات کے مطابق ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا بھی ارادہ رکھتی تھی اور فواد حسن فوادجیسے لوگ ان ملاقاتوں کا حصہ تھے تو پھرکیا ایسے لوگوں کے خلاف مقدمات سننے کا شرعی حق پہنچتا تھا یا نہیں؟اگر قرآن و سنت کے بیان کردہ قضاکے اصولوں کے مطابق یہ حق نہیں پہنچتا تھا تو پھر ان فیصلوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جو پچھلی حکومتوں کے خلاف دئیے گئے؟ جہاں تک سپریم جوڈیشنل کونسل کا تعلق ہے تو وہاں کوئی ریفرنس کسی بھی جج کے خلاف کوئی بھی کر سکتا ہے۔فیصلہ تو کونسل مذکورہ نے کرنا ہے نہ کہ ریفرنس ڈالنے والے نے۔اسلئے اگر کوئی ایسی چیز تھی بھی سہی تو غیر قانونی نہیں تھی۔

آج بھی لوگ شریعت کی رو سے عدالت کے ججوں کی اہلیت کو چیلنج کر سکتے ہیں۔لیکن اس سے گریز اس لئے کیا جا رہا ہے کہ کہیں آئینی بحران کھڑا نہ ہو جا ئے اسلئے جب بھی ایسی تحریک چلے گی وہ وکلاء کی طرف سے چلے گی۔نہ کہ ان سیاسی پارٹیوں کے رہنما ؤں اور ملاؤں کی طرف سے جو اسلام کے حوالے سے منافقانہ کردار کے حامل ہیں۔

اگر کوئی جج یہ کہے کہ اس کی تقرری آئین میں اٹھا رویں ترمیم کے بعد آئین کے مطابق ہے تو میں عرض کروں گا کہ آئین کے آرٹیکل 227کے تحت کوئی بھی قانون ایسا نہیں بنایا جاسکتاجو قرآن و سنت کیخلاف ہو اس لئے اٹھارویں ترمیم کوئی صحیفہ آسمانی نہیں ہے بلکہ زیادہ تر اسلام سے متصادم چیزوں پر مشتمل ہے جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی پارلیمنٹ کو اس کا اختیار ہیکہ غیر اسلامی چیزوں کو سند جواز عطا کرے۔افسوس تو بڑے بڑے دینی ٹھیکیداروں اور اسلامی نظریاتی کونسل کے تنخواہ دار حضرات پر ہیکہ وہ اس مسئلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں