بے چارے عوام اور نوکر شاہی

بے چارے عوام اور نوکر شاہی


صحافت بظاہر ایک شعبہ ء زندگی ہے جس طرح جج یا وکیل ہونا، ڈاکٹر یا انجینئر ہونا،کپتان یا پائلٹ ہوناشعبہ ہائے زندگی کے مختلف شعبوں سے منسلک ہونا ہے اسی طرح ہمارے معاشرے کے لوگ صحافی بن جاتے ہیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ صحافت پاکستان کے تمام شعبہ ہائے زندگی کے شعبوں سے سب سے زیادہ مشکل اور ذمہ دار شعبہ ہے۔ بحیثیت صحافی ہر طرح کے لوگوں سے واستہ پڑتا رہتا ہے۔

”القانون“ کے گذشتہ شمارے جس شعبے کی تعلیم ہو اُسی شعبے میں خدمات انجام دو کے عنوان سے مضمون لکھنے کی جسارت کی بہت سے چاہنے والوں نے تحریر کو پسند کیا جس پر شکریہ ادا کیا لیکن دلی خوشی اُس وقت ہوئی جب کچھ بزرگوں نے پکڑ کر بیٹھا لیااور کہا نوجوان بڑے بڑے موضوع پر تو لکھ لیتے ہیں زرا ہماری فریاد بھی چیف جسٹس آف پاکستان تک پہنچادیں چیف جسٹس صاحب کو بتائیں کہ بابا رحمت صرف دیہاتوں میں نہیں ہوتے بلکہ شہروں میں بھی بابا رحمتے ہوتے ہیں اور وہ نہ صرف چیف جسٹس آف پاکستان کیلئے دعاگو رہتے ہیں بلکہ پورے نظام عدل کیلئے دعاگو ہیں کیونکہ پاکستان کے عام آدمی کا واحد سہارا اس وقت عدلیہ ہی ہے۔ کراچی میں امن قائم کرانا ہوتو عدلیہ نوٹس لیتی ہے، سیاست اور کرائم میں تعلق توڑنا ہوتے تو سپریم کورٹ کو احکامات جاری کرنے ہوتے ہیں، پولیس کو سیاسی بناکر شولڈر پروموشن کا دھوکہ متعارف کرایا جائے تو عدالت کو مداخلت کرنی پڑتی ہے، پانی فراہم کرانا ہو تو عدلیہ کو نوٹس لینا پڑتا ہے، اسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی عدلیہ کے ایکشن میں آنے کے بعد ممکن ہوتی ہیں، راؤ انوار جیسے طاقت انسان کی گرفتاری کیلئے سپریم کورٹ کو سامنے آنا پڑتا ہے ہماری پولیس اور اداروں کے پاس ایسا کوئی نظام ہی نہیں کہ راؤ انوار جیسے سیکڑوں لوگوں کے مبینہ قاتل کو گرفتار کرسکیں۔ ہماری سپریم کورٹ کو سوچنا چاہئے ایسا کیوں ہے ہم نے شہید ملت لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی سے لیکر شاہد خاقان عباسی تک حکومت دیکھی ہے حکمران تبدیل ہوتے رہتے ہیں لیکن عوام کے حالات نہیں بدلتے آخر ایسا کیوں ہیں؟ ہم زندگی کے اس حصے میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان کے مسائل کی اصل ذمہ دار نوکر شاہی (BUREAUCRACY) ہے اگر سپریم کورٹ پاکستان کے عوام کے ساتھ واقعی مخلص ہے تو ہمارے التجا پر بھی عمل کرکے دیکھ لے 6ماہ میں تمام معاملات درست نہ ہوجائیں تو کہنا ان بابے رحمتوں نے دھوپ میں بال سفید کئے ہیں ان کے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے۔
ہم چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب سے اپیل کرتے ہیں کہ ایک حکم نامہ جاری کریں کہ کسی بھی کام کے ذمہ دار سرکاری افسران کو جیل میں ڈالا جائے گا۔ پہلے سرکاری افسر یا جس محکمے کا مسئلہ ہوگا اس کے سربراہ کو جیل میں ڈالا جائے گا اس کے بعد منتخب لوگوں کا احتساب ہوگا آپ دیکھیں یہی سرکاری ملازمین (BUREAUCRACY) کس طرح نہ صرف اپنے فرائض پوری ایمانداری سے انجام دیتے ہیں بلکہ کسی وزیر و مشیر کو بھی کرپشن کرنے نہیں دیں گے اور قومی خزانہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے خرچ ہوگا۔ کراچی کے بابے رحمتوں نے ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے بتایا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس (ر) افتخار محمد چوہدری کا”انیتاتراب کیس“ بہت مشہور ہوا تھا جس میں سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمینBUREAUCRACY کو اس بات کا پابند بنایا گیا تھا کہ وہ صرف اپنے فرائض اور حلف کے ذمہ دار ہیں ان پر کوئی پابندی نہیں کہ وہ سیاست دانوں یا منتخب نمائندوں یا وزیروں مشیروں کے احکامات مانیں اگر کسی سرکاری ملازم نے غلط حکم مانا تو وہ اپنے اس عمل کا خود ذمہ دار ہوگا اور وہ برابر کا جرم دار شمار ہوگا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثاراسپتالوں اور اسکولوں سمیت ہر عوامی مقام پر جائیں لیکن وقتی طور پر معاملات درست کرکے اپنے حق میں نعرے نہ لگوائیں بلکہ اگر چیف جسٹس چاہتے ہیں کہ لوگ انہیں دیر تک یاد رکھیں تو کچھ نیاکرکے دیکھا دیں اور ڈالیں پچیس 50افسروں کو جیل میں اور باقیوں کو 6ماہ کا وقت دیں دیکھیں کس طرح ترقیاتی منصوبے وقت سے قبل مکمل ہوتے ہیں اور معاملات کس طرح راتوں رات درست ہوتے ہیں آخر کو ہم بھی چینیوں امریکیوں، برطانویوں، یورپیوں کی طرح کے انسان ہیں ہیں نا؟ پھر ہم کیوں اپنے حالات زندگی نہیں بدل سکتے۔

کراچی کے بابے رحمتوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار کی محسوس کرنے کی ”حس“ کام کرتی ہے کیونکہ جس طرح چیف جسٹس آف پاکستان نے حجرہ شاہ مقیم کے محلہ زاہدپورہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک تصویر جس میں لوگ سیوریج کے پانی میں سے گذرکر جنازہ لے کرجا رہے ہیں نوٹس لیا ہے اس پر کارروائی لازمی ہونی چاہئے تاکہ بلدیاتی ذمہ داران کا محاسبہ ممکن ہوسکے یہ واقعی انتہائی افسوسناک امر ہے اور حکمرانوں خاص طور سے ہمیشہ عہدوں پر رہنے والی نوکر شاہی (BUREAUCRACY) کی بے حسی کی انتہا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار کو سب سے پہلاکام یہ کرنا چاہے کہ ضلع اُکاڑہ،تحصیل دیپالپور اور یوسی حجرہ شاہ مقیم کے لئے حکومت پنجاب کی جانب سے مقرر کردہ میونسپل کمشنر، تحصیل کے بلدیاتی افسران اور سیکریٹری یوسی کو اٹھاکر جیل میں ڈال دینا چاہئے اس کے بعد وہاں کے دیگر افسران کو طلب کرکے 30یوم کا وقت دینا چاہئے کہ نہ صرف اس گلی میں بلکہ پورے علاقے کا سیوریج نظام درست کرکے سڑکیں بنائی جائیں آپ دیکھیں جو افسران فائلوں میں سیوریج لائنیں اور سڑکیں ڈال کر فنڈز ہڑپ کرجاتے ہیں وہ کس طرح گراؤنڈ پر کام کریں گے اور کتنی تیزی سے کریں گے۔آئین پاکستان کی روسے نظام حکومت بہت بہترین ہے لیکن اس پر چیک اینڈ بیلنس اور بروقت احتساب کے طریقے کار کو ختم کردیا گیا ہے اگر چیف جسٹس آف پاکستان اس پر کام کریں تو آپ سمجھ لیں پاکستانی قوم کے 70سال کے دکھ درد چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار کے ایک سال کے کام میں دور ہوجائیں گے۔

پاکستان میں ترقیاتی فنڈز کو ذمہ داران اپنی جیب خرچی سمجھ کر ہڑپ کرجاتے ہیں اور فائلوں کے پیٹ بھردیتے ہیں۔ فائلوں میں دھڑادھڑ سڑکیں، نالیاں، سیوریج لائنیں، پینے کے پانی کی لائنیں اور نہ جانے کیا کیا بنادیا جاتا ہے اگر چیف جسٹس آف پاکستان اس معاملے پر توجہ دیتے ہیں تو قوم پر ان کا احسان عظیم ہوگا،چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف اپنے پاس رکھا ہوا ہے ماضی میں صوبائی چیف جسٹس بھی ازخود نوٹس لے لیا کرتے تھے اگر چیف جسٹس آف پاکستان سمجھتے ہیں کہ وہ خود ہی تمام معاملات کے نوٹس لے سکتے ہیں اور مسائل حل کرسکتے ہیں تو یہ خوش آئند بات ہے لیکن پاکستان جو کہ مسائل کی دلدل بنا ہوا ہے وہاں اگر چیف جسٹس 24گھنٹے بھی کام کریں تو مسائل کا ایک سال کے کم عرصے میں حل ناممکن نظر آتا ہے اس سلسلے میں مسائل کو باریک بینی سے دیکھنے والوں نے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار کومشورہ دیا ہے کہ وہ ازخود نوٹس کا اختیار اپنے پاس رکھیں لیکن میونسپلٹی مسائل کا ازخود نوٹس لے کر اس صوبے کے چیف جسٹس کو بھیج دیا کریں تاکہ بلدیاتی معاملات کو جلد ازجلد حل کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ کام ہوسکے۔ کراچی کے بابے رحمتوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ایپل کی ہے کہ وہ معاملات کو منطقی انجام تک پہنچاکر جائیں۔

آڈیٹرجنرل پاکستا ن کی جانب سے سندھ کے بجٹ میں خردبرد کے خطرناک اعدادو شمار:
افسوسناک امر یہ ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی جس کا بنیادی نعرہ ہی یہ تھا کہ غریب آدمی کیلئے ”روٹی، کپڑا اور مکان“ کا بندوبست کیا جائے گا لیکن انتہائی دکھ کی بات ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو سندھ میں حکمرانی کرتے دس سال ہوچلے ہیں لیکن اربوں روپے فنڈز کے باوجود کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا گیا۔ سندھ کے عوام کے حالات بہت برے ہیں اس پر زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب اربوں کی کرپشن کی داستانیں سننے کو ملتی ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں سندھ کے بجٹ برائے مالی سال 2016-17ء میں 274ارب روپے کے گھپلوں کا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ کے سرکاری محکمے کرپشن کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے لئے جاری ہونے والے ٹینڈرز میں کہیں بھی شفافیت نظر نہیں آئی اور کئی ٹھیکوں میں تو ٹینڈرز تک جاری کرنے کی زحمت نہیں کی گئی۔ نصابی کتب ہوں یا حفاظتی ٹیکوں کی خریداری اربوں روپوں کی کرپشن کی گئی ہے۔ زکوٰۃ، عشر اور اوقاف کے محکموں میں بھی کرپشن عروج پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ کے محکمہ ریونیو کے پاس 50ارب روپے کے اخراجات کا حساب ہی نہیں ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ محکمہ خزانہ سندھ میں 8ارب 25کروڑ روپے کی پنشن کی تقسیم میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ محکمہ تعلیم سندھ کے پاس چار ارب روپے کے اخراجات کا حساب ہی نہیں ہے۔ تعلیمی سال شروع ہونے سے قبل ہی اکیس کروڑ روپے کی کتابیں خرید لی گئیں،اسکول تعمیر ہوئے نہیں اور ان کیلئے چھ کروڑ روپے کا فرنیچر خرید لیا گیا۔ سندھ کا محکمہ صحت بھی حساب دینے سے معذوری ظاہر کررہا ہے کہ اس کے پاس 16ارب روپے کے اخراجات کا حساب ہی نہیں ہے۔ رپورٹ میں سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ محکمہ صحت سندھ کے افسران نے پانچ کروڑ روپے کی زائدالمعیاد ادویات خریدلیں۔ مالی سال مکمل ہونے سے قبل خزانے میں رہ جانے والی رقم کو ٹھکانے لگانے کیلئے ایسے ایسے بھیانک اقدامات اٹھائے گئے کہ الامان الحفیظ۔ سندھ کے محکمہ توانائی کے پاس چار ارب روپے کے اخراجات کی کوئی تفصیل نہیں اس کے علاوہ کراچی الیکٹرک کو پانچ ارب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے جس کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی گئی۔ کرپشن اور بدانتظامی کا یہ عالم ہے کہ سندھ کول اتھارٹی نے عالمی ٹینڈرز جاری کئے بغیر ہی ساڑھے سات ارب روپے کی خریداریاں کرلیں۔ محکمہ خورات ایک ارب روپے کا حساب دینے میں ناکام رہا ہے جبکہ 75کروڑ روپے کی گندم کو خراب ہونے کیلئے کھلے آسمان تلے چھوڑدیا گیا ہے۔

صوبائی محکمہ داخلہ کے بجلی کے بلوں میں ایک ارب روپے کے گھپلے پائے گئے ہیں، سندھ کے محکمہ سیاحت و ثقافت کے پاس ایک ارب چھیاسٹھ کروڑ روپے کا حساب موجود نہیں۔محکمہ اطلاعات سندھ میں سابق صوبائی وزیر اطلاعات کی کرپشن بے نقاب ہونے اور ان پر مقدمات چلنے کے باوجود کوئی بہتری نہیں آئی اور کرپشن، بے ضابطگیوں اور نااہلیوں کی ایک نئی داستان سامنے آنے والی ہے کیونکہ محکمہ کے پاس ساڑھے تین ارب کے اخراجات کا حساب موجود نہیں ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس پیمانے کی کرپشن اور اقرباء پروری ہورہی ہے۔ محکمہ آب پاشی سندھ نے ساڑھے پانچ ارب روپے خرچ تو کردیئے لیکن کوئی حساب نہیں رکھا، محکمہ نے پانی فراہمی کیلئے چھ ارب روپے کا ٹینڈر جس کمپنی کو دیا ہے اس میں سنگین بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ سندھ کے بجٹ میں اس طرح کی کرپشن اور اس پر خاموشی کے حوالے سے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی دراصل غیر فعال ہوکر رہ گئی ہے اگر پبلک اکاؤنٹ کمیٹی فعال ہوتو اس طرح کی رپورٹس کو ایک سال تاخیر سے نہ آنا پڑے بلکہ ان پر بروقت کام ہوسکے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ سندھ کے عوام کے نام پر بننے والا بجٹ چند لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ نیب یا انسدادِ بدعنوانی کے محکمے بادی النظر میں آنکھیں بند کرکے بیٹھے ہوئے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ میڈیا میں شور مچے یا عدالتیں نوٹس لیں تو وہ حرکت میں آئیں آخر ایساکب تک چلے گا پاکستان کے باقی صوبوں میں میگا پروجیکٹس بن رہے ہیں سندھ میں لوٹ مار کا بازار گرم ہے گذشتہ 10سالوں میں تقریباً 1100ارب روپے کی کرپشن کا شور مچایا جارہا ہے لیکن احتساب کرنے والے اداروں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کرپشن کے خلاف علم جہاد تو بلند کرتے ہیں لیکن صرف تقریروں کی حد تک کیونکہ انہیں خوف ہے کہ سیاست دان ان کی کرسی نہ چھین لیں اگر احتساب کی اعلیٰ کرسی پر بیٹھا شخص اپنی نوکری کی فکر میں اپنے فرائض انجام نہ دے تو وہ روز محشر کیا جواب دے گا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے ازخود نوٹس لینے کا اختیار صرف اپنے پاس رکھا ہوا ہے ماضی میں صوبائی چیف جسٹس بھی ازخود نوٹس لے لیا کرتے تھے۔

ووٹرز کو ووٹ کا حق استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہوگی:
ہمارے معاشرے میں عام طور پر ووٹ نہ دینے کی سوچ پائی جاتی ہے جس کا فائدہ ایسے لوگوں کو ہوجاتا ہے جو بہت کم ووٹ لے کر منتخب ہوجاتے ہیں اور پورے حلقے کیلئے ملنے والے بجٹ کو اپنی من مرضی سے مخصوص مقامات پر خرچ کرتے ہیں جو کہ پورے حلقے کا بمشکل 10% علاقہ ہوتا ہے یعنی 100%آبادی کیلئے مختص ترقیاتی بجٹ کو محض 10% آبادی اور رقبہ پر خرچ کیا جاتا ہے اس حساب سے90%بجٹ مبینہ طور پر خردبرد کرلیا جاتا ہے یا ضائع ہوجاتا ہے جس کا ہردوصورت میں نقصان شہریوں کو ہوتا ہے۔ پاکستان کے عام شہری اس حوالے سے منتخب نمائندوں، سرکاری ملازمین، ٹھیکیداروں اور کسی حدتک اُن صحافیوں کو ذمہ دار سمجھتے ہیں جو اِن تمام معاملات کو سمجھتے ہیں لیکن وہ مبینہ طور پر مذکورہ بالا لوگوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیتے ہیں اور اسے شائع یا نشر نہیں کرتے یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے اس سلسلے میں ایک نوٹس بھی لیا ہے جس میں ایک تصویر کو بنیاد بنایا گیا ہے اس تصویر میں نظر آرہا ہے کہ لوگ گٹر کے پانی میں سے گذر کر جنازہ لے جارہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس جنازے کے شرکاء ناپاک ہوگئے ہیں اس لحاظ سے وہ ایک پاک عمل کو ناپاک ہوکر کس طرح پورا کرسکتے ہیں۔ یہ ایک خالصتاً بلدیاتی معاملہ ہے چیف جسٹس آف پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں سب سے پہلے تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز، ایڈیشنل چیف سیکریٹریز بلدیات اور سیکریٹریز بلدیات کو طلب کریں اور ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے رپورٹ طلب کریں تاکہ صوبے کے اعلیٰ سطح کے افسران سے ابتدائی معلومات لی جاسکیں۔

جس طرح سپریم کورٹ کے احکامات پر لوئر کورٹس کے جج صاحبان جیلوں، اسپتالوں اور اسکولوں کے دورے کرتے ہیں اسی طرح سیشن ججوں کو یہ ذمہ داری تفویض کی جائے کہ وہ یونین کمیٹی یا یونین کونسل کے دفاتر کا دورہ کریں اور ترقیاتی بجٹ کے استعمال کے طریقہ کار اور کب کتنا بجٹ کہاں استعمال ہوا اس معاملے کو چیک کریں اور اس کی تصدیق کیلئے علاقے کا دورہ کریں تو دنیا دیکھے گی کہ پاکستان کی گلیاں اور محلے کس طرح صاف ستھرے اور مزّین ہوتے ہیں اور کس طرح پورا پورا بجٹ علاقوں میں لگتا ہے افسوس ناک عمل یہی رہا ہے کہ لوگ منتخب نمائندوں کی راہیں تکتے رہ جاتے ہیں اور پیدل آنے والے منتخب نمائندے اپنی ٹرم پوری ہونے تک بڑی بڑی گاڑیوں، گوٹھیوں اور جائیدادوں کے مالک بن جاتے ہیں۔

بات کا آغاز ہوا تھا ووٹ دینے سے پاکستان کے عام شہریوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اگر وہ اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنا شروع کردیں تو منتخب نمائندے عوام کے مسائل ہر حال میں حل کریں گے کیونکہ ووٹ لینے والے کو معلوم ہوگاکہ اس کی لیڈری اسی صورت ممکن ہے کہ ایک ایک ووٹر کی خدمت کرے۔ پاکستان کی انتخابی جمہوریت اس بات کی متقاضی ہے کہ ووٹ کا حق رکھنے والا ہرشہری اپنا حق استعمال کرے قومی انتخابات قریب ہیں سماجی تنظیموں کو ووٹ کی اہمیت اور ووٹ کے استعمال کے حوالے سے شہریوں میں شعور بیدار کرنا چاہئے تاکہ عوام کثیر تعداد میں ووٹ ڈال کر اپنی پسند کا نمائندہ منتخب کریں تاکہ وہ عوام کی خدمت کرسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں