تنسیخ نکاح بر بنائے خلع (پارٹ II)

تنسیخ نکاح بر بنائے خلع (پارٹ II)


عدالت عالیہ لاہور نے مقدمہ سعیدہ خانم بنام محمد سمیع میں قائم مقام چیف جسٹس اے آر کار نیلیس، جسٹس مہر جان اور جسٹس خورشید زمان صاحبان نے بھی اسی نقطہ نظر کو اختیار کیا کہ مزاج کے مطابق(incompatibility of temperament) ناپسندیدگی(Dislike) بلکہ بیوی کی اپنے شوہر سے نفرت اسلامی قانون کے تحت طلاق کیلئے جائز وجہ نہیں بن سکتی الایہ کہ شوہر اس پر راضی ہو۔
(PLD 1952 lah 113)
عدالت عالیہ لاہور کے فاضل جج صاحبان جسٹس بشیر احمد، جسٹس بی زیڈکیکاوس اور جسٹس مسعود احمد نے مقدمہ بلقیس فاطمہ بنام نجم الاکرام میں قرار دیا کہ اگر عدالت اس نتیجہ پر پہنچ جائے کہ زوجین حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت بیوی سے مناسب معاوضہ شوہر کو دلا کر خلع کرا سکتی ہے۔
(PLD 1959 Lah 566)
یہ نقطہ نظر صحت پر مبنی ہے اور اسی نقطہ نظر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اختیار کیا۔
(PLD 1967 Sc 97)
بیوی نے کامیابی سے عدالت میں یہ ثابت کردیا تھا کہ خاوند کے برے رویے کی بناء پر اسے اس سے نفرت پیدا ہو چکی تھی اور وہ خلع حاصل کرنے کی خاطر اپنے حق مہر سے بھی دستبردار ہو نے کی تیار تھی۔اس بناء پر بیوی کی شادی بذریعہ حق خلع درست طور پر منسوخ کی گئی تھی جس میں مداخلت کا کوئی جواز نہ تھا۔
(1996 MLD 2017)
زوجین جب علیحدگی اختیار کرتے ہیں تو بیوی نے بوقت شادی جو فوائد وصول کئے ہوئے ہیں وہ واپس کرتی ہے جس کو خلع کہا جاتاہے۔جو کہ عورتوں کے برابری کے حقوق کا تحفظ ہوتا ہے۔ ایسے مقدموں میں جج کو پہلے کوشش کرنی چاہئے یہ دیکھنے کیلئے کہ زوجین میں ایک دوسرے میں نا پسندیدگی کہاں تک ہے اور جب جج اس نتیجے پر پہنچے کہ زوجین اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے اکٹھے نہیں رہ سکتے تو پھر بیوی کی طرف سے کچھ معاوضہ مقرر کرنا چاہئے جو خلع کیلئے کیا جاتا ہے۔ فقہاء کی عموماً یہ رائے ہے کہ معاوضہ مہر کی رقم سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے جو بیوی کو ادا کیا گیا ہو۔خلع حاصل کرنے کے بعد زوجین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ باہم مرضی سے دوبارہ نکاح کر لیں لیکن کاوند دوبارہ شادی کا حق کھو دیتا ہے۔جبکہ شادی کا بندھن بیوی نے توڑا ہے کہ عدت عرصہ صرف ایک ماہ ہوگا۔
(1995 MLD 1586)
بیوی نے خاوند پر طلاق کے دعویٰ میں ظلم و تشدد، عدم ادائیگی خرچ نان و نفقہ اور بے حیائی کا الزام لگایا تھا لیکن جب وہ عدالت میں گواہی دے رہی تھی تو اس نے ان الزامات کی وضاحت نہ کی۔ بیوی نے اس بارے میں ایک لفظ بھی ادا نہ کیا کہ اسے خاوند سے نفرت پیدا ہو چکی ہے یا یہ کہ اس نے اس پر ظلم و ستم روا رکھا ہے یا خرچ نان و نفقہ ادا نہ کیا ہے یا یہ کہ وہ غیر اخلاقی حرکات کا مرتکب ہے یا اس نے اسے سماجی حیثیت عطا نہیں کی جبکہ بیوی کے اپنے بیان کے مطابق خاوند کا تعلق ایک امیر خاندان سے تھا جو اچھی صحت کا حامل تھا۔ خاوند پر کوئی الزام نہ لگایا تھا اور اس نے متعدد بار بیوی کو واپس لے جانے کی کوشش کی تھی۔خلع کی ڈگری اس بناء پر دی جا سکتی تھی کہ یا تو فریقین اس بارے میں رضامندی ظاہر کریں یا عدالت مطمئن ہو جاتی کہ خلع کی بناء پر تنسیخ نکاح کیا جا سکتا ہے۔ صفحہ مثل پر موجود شہادت اس مرتبہ کی حامل نہ تھی جس کی بناء پر تنسیخ نکای کی ڈگری بر بنائے خلع دی جا سکتی۔ اس لئے قرار دیا گیا کہ دعویٰ درست طور پر خارج کیا گیا۔
(1998 Clc 1711)
تنسیخ نکاح کی ڈگری کے خلاف جو لفظ ”قطعی“پر مبنی ہو اپیل نہیں کی جا سکتی اگر ایسی ڈگری پاس کرنے میں کوئی غیر قانونی بات ثابت ہو جائے تو اس سلسلہ میں آئینی تدارک سے مدد لی جا سکتی ہے اور کوئی صورت نہیں ہے۔ خلع ایک مسلمان عورت کا حق ہے۔
(1995 MLD 170)
خلع کی بناء پر تنسیخ نکاح کیلئے خاوند کی رجامندی ضروری نہیں ہے۔بیوی خلع کیلئے حق رکھتی ہے اسکے باوجو کہ خاوند خلع کے حق میں نہیں ہے اور وہ شادی کے بندھن کو توڑنا نہیں چاہتا جبکہ بیوی عدالت کو یقین دلا چکی ہے کہ زوجین اللہ تعالیٰ کی حدود میں رہتے ہوئے اکٹھے نہیں رہ سکتے۔خاوند کی رضا صر ف مبارات میں پیش آسکتی ہے مگر خلع میں نہیں۔اگر خاوند بیوی کے خلع کے حق کو نہیں مانتا جسکے زریعے وہ الگ ہونا چاہتی ہے تو ایسے تنازعہ کو عدالت میں پیش کرنا ہوگا جو بیوی کو شادی کے بندھن سے آزاد کرادے ان اشیاء کے بدل میں جو بیوی نے خاوند سے شادی کے عوض وصول پائیں۔
(1995 MLD 1586)
اسلامی قانون کے تحت بیوی اس صورت میں خلع کے حق کی حامل ہوگی اگر وہ عدالت کو مطمئن کردے کہ بصورت عدم خلع اسے ایک نفرت انگیز ازدواجی زندگی گزارنا ہوگی۔
(1999 MLD 812)
بیوی معاوضہ ادا کرکے خاوند سے آزادی حاصل کر سکتی ہے اور باہمی رضامندی سے کوئی بھی رقم مقرر کی جا سکتی ہے البتہ جب فریقین عدالت کا رخ کریں تو اس بارے میں شرع کا حکم بالکل واضح ہے کہ کس قدر رقم ادا کی جائے۔معاوضہ کی رقم کسی بھی حالت میں حق مہر کی رقم سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے یا جو استفادہ بیوی نے خاوند سے حاصل کیا ہو تا ہم جب قصور خاوند سے منسوب کیا جا سکتا ہو تو عدالت کو معاوضہ کی رقم کم کردینی چاہئے۔ عدالت ایسی صورت میں بلا معاوضہ خلع کی ڈگری جاری کر سکتی ہے۔
(1997 Clc 985)
بیوی یکطرفہ طور پر حق خلع بروئے کار نہیں لا سکتی۔یہ حق قاضی کی مداخلت سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ جب وہ فریقین کی پیش کردہ شہادت سے یہ نتیجہ اخذ کرے کہ فریقین اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر نباہ نہیں سکتے۔
(PLJ 1997 Civil 224)
بیوی کا دعویٰ تنسیخ نکاح خلع کی بناء پر ڈگری کردیا گیا جبکہ خاوند کا دعویٰ حقوق زن اشوئی خارج کردیا گیا۔بیوی شادی کا بدل خاوند کو واپس کرنے کی پابند تھی۔خلع کا معاملہ اپنے طور پر زیر غور لانا چاہئے اگر بیوی تنسیخ نکاح کی دستیاب وجوہات جو اسے مسلم قوانین طلاق 1939 کے تحت حاصل ہیں انہیں ثابت نہ بھی کرسکے تو شادی خلع کی بناء پر وہ زر بدل کی واپسی پر جو اسے خاوند کی طرف سے بطور مہر وصول ہوا تھا طلاق کی حقدار باور کی جائے گی مگر شرط یہ ہے کہ عدالت اگر محسوس کرے کہ فریقین ان حدود کو قائم نہیں رکھ سکتے جو اللہ تعالیٰ نے لازمی قرار دی ہیں۔ بیوی نے اپنے بیان میں تسلیم کیا تھا کہ اس نے حق مہر کے طور پر زیورات کا ایک سیٹ، چھ سونے کے کنگن اور ایک انگوٹھی وصول کی تھی۔عدالت ابتدائی تنسیخ نکاح کی ڈگری شرط واپسی وہ سب کچھ جو بیوی نے بوقت نکاح خاوند سے حاصل کیا تھا دینے میں حق بجانب تھی اپیل بلا جواز تھی۔
(1999 MLD 1763)
اگر دعویٰ متعدد وجوہات بشمول خلع کی بناء پر دائر کیا گیا ہو تو محض یہ امر کہ بیوی خلع کے علاوہ دیگر وجوہات ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے اسے اس کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ خلع کی بناء پر تنسیخ نکاح کا حق جتلائے۔ عدالت محض اس وجہ سے اسے خلع کے حق سے محروم نہیں کر سکتی کہ وہ دیگر بنائے دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ بیوی کیلئے ضروری نہیں ہے کہ وہ تنسیخ نکاح بذریعہ خلع حاصل کرنے کیلئے ٹھوس وجوہات ثابت کرے۔اگر بیوی بضد ہو اور صلح کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو عدالت کے پاس اسکے سوا اور کوئی چارہ باقی نہیں رہتا کہ وہ خلع کی بناء پر تنسیخ نکاح کی ڈگری صادر کرے کیونکہ بصورت دیگر نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
(1998 Clc 1929)
جب بیوی نے طلاق لینا چاہی اور شوہر نے شادی کے ناطے سے علیحدگی کی خواہش نہ کی اور سمجھوتہ کی ذریعہ نکاح توڑ دیا گیا تو یہ قرار دیا گیا کہ یہ معاملہ خلع کا تھا نہ کہ مبارات کا۔
(PLD 1964 Sc 456)
خلع کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کی ڈگری کی اپیل نہیں ہو سکتی۔ مہر کے متعلق فیصلہ کی اپیل ہو سکتی ہے۔
(PLD 1976 Lah 1327)
جب بے رحمی، عدم ادائیگی نان و نفقہ اور چھوڑ دینے وغیرہ کی تنقیحات بھی بیوی کے خلاف ثابت ہوں تو بھی خلع کی بنیاد پر تنسیخ نکاح کی ڈگری دی جا سکتی ہے۔
(PLD 1975 Lah 805)
بیوی خلع کی حقدار ہوگی اگر وہ عدالت کو اس امر کا یقین دلا سکے کہ ایسا نہ کرنا اسکو بزردستی قابل نفرت میلاپ پر مجبور کرنے کے مترادف ہوگا۔
(PLD 1975 Lah 805)
بیوی پر لازم نہ ہے کہ وہ شوہر پر لگائے گئے ہر الزام کو ثابت کرے۔بیوی خلع کی بنیاد پر طلاق صرف اس وقت لے سکتی ہے جب وہ تمام مفادات لوٹادے جو اس نے شوہر سے وصول کئے تھے۔
(PLD 1972 Kar 540)
اگر ایک بیوی اس بناء پر اپنے خاوند کے پاس رہنے کیلئے تیار نہیں کہ اسکو اپنے خاوند سے نفرت ہے تو ایسے حالات میں بیوی کو شادی کے بندھن سے آزادی کا حق ہے مگر بیوی کو ایسے تمام فوائد جو اسکو شادی کے بدلے وصول پائے واپس کردینے چاہئیں۔ یہ مؤقف کہ بیوی کے والد نے خاوند کی بہن سے شادی کی ہے جو وٹہ سٹہ کی شکل میں ہے اور وہ دونوں ہنسی خوشی زندگی گزار رہے ہیں تو یہ مذکورہ شادی پر برا اثر ڈالے گی۔ اگر خلع دیدیا گیا لیکن اسکا وٹہ سٹہ کی شادی سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ وہ ان فریقین کے اپنے تعلقات پر منحصر ہے کہ وہ خلع ملنے پر اسکا اثر قبول کریں یا نہ کریں۔
(1995 MLD 136)
حنفی قانون کے تحت بھی خلع شوہر کی مرضی پر موقوف نہیں ہے۔کوئی جج اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے خلع کے ذریعے نکاح منسوخ کر سکتا ہے۔
(PLD 1975 AJK 27)
حق خلع بیوی کا قطعی حق تصور نہیں ہوتا اس میں چند شرائط منسلک ہیں جو وہ استعمال کر سکتی ہے مگر مشروط طور پر بیوی خلع کا حق استعمال کر سکتی ہے اس کیلئے وہ حق مہر کو بدل کے طور پر چھوڑ سکتی ہے۔
(PLD 1995 Lah 19)
ایک مقدمہ میں قرار دیا گیا کہ خلع یا مبارات کے ذریعہ جو نکاح فسخ کیا گیا ہو وہ قابل منسوخی نہ ہے۔
(PLD 1998 Lah 328)
عدالتوں کو اس بات کی تفتیش کر لینی چاہئے جو فقہ اسلامی کے مطابق ہو اور انصاف پر مبنی ہو جو برابری کی بنیاد پر کیا جائے اور انصاف اور منصفانہ ہو نا چاہئے۔ خاص طور پر مستورات کیلئے کسی بھی عورت کو زبر دستی خاوند کے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کرنا چاہئے جسکے خلاف وہ انتہائی نفرت کاا ظہار کر چکی ہو، جسکے ساتھ دن بدن نفرت بڑھتی چلی جائے۔ اس طرح وہ اپنی عام زندگی بسر نہ کر سکے گی۔
(1994 MLD 1255)
نکاح کے وقت کاوند نے بیوی کو جو زیورات دیئے تھے خاوند اس پر اپنے حقوق کے بارے میں مطالبہ کر تا ہے۔ اب خاوند کو چاہئے کہ وہ ان زیورات کی قیمت اور قسم ثابت کرے اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا بیوی کے حق میں خلع کی ڈگری ہوگی جو ماتحت عدالتوں نے جاری کی مگر ڈگری کو زیورات سے یا اسکی قیمت سے مشروط نہیں کیا جا سکتا کہ انکی واپسی نہیں ہو سکی جبکہ بیوی کا یہ مؤقف ہے کہ خاوند نے زیورات چھین لئے تھے۔ (1992 MLD 1294)
خلع محض بیوی کے کہنے سے عطا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صرف خاوند کے حق طلاق سے موازنہ کیا جا سکتا ہے جو کہ تنسیخ نکاح کے اعلان سے تعلق رکھتا ہے۔
(1992 Clc 937)
جب ایسی عدالت جو با اختیار ہو وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ میاں بیوی اللہ تعالیٰ کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اکٹھے نہیں رہ سکتے تو اس حالت میں عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ شادی کے بندھن کو خلع کی بناء پر ختم کردے۔
(1991 MLD 39)
خلع کی بناء کے علاوہ بیوی دفعہ2 مسلم تنسیخ نکاح ایکٹ 1939 کی بناء پر تنسیخ نکاح کا دعویٰ کر سکتی ہے۔اگر ایسے جواز پیش کرنے میں بیوی ناکام ہو جائے تو اسکو اپنے خاوند سے شدیدنفرت کا جواز تنسیخ نکاح کیلئے کافی ہے۔
(1990 Clc 30)
بیوی کا پہلا دعویٰ یکطرفہ طور پر ڈگری ہوگیا جسکے بعد اس نے کسی اور شخص سے شادی کرلی اور اس کے ہاں اس سے ایک بچہ پیدا ہوا بعد ازاں یکطرفہ ڈگری منسوخ ہو گئی اور بیوی کی طرف سے کیا گیا دعویٰ عدم پیروی کی وجہ سے خارج ہوگیا اور اس کی طرف سے دعویٰ بحال کرانے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔فریقین کے درمیان سخت کشمکش تھی اور ان کے مابین فوجداری مقدمات بھی زیر سماعت تھے۔ فریقین کا نباہ بطور میاں بیوی اللہ کی حدود میں رہتے ہوئے ناممکن تھا خصوصاً جبکہ بیوی نے یکطرفہ ڈگری کی بناء پر دوسری شادی بھی کرلی تھی اور اس شادی سے ایک بچہ بھی پیدا ہوگیا تھا ایسی صورت میں عدالت اپیل خلع کی بناء پر تنسیخ نکاح کرنے میں حق بجانب تھی کیونکہ ایسی صورت میں بیوی کو خلع دینے سے انکار نہ صرف ایک ظالمانہ فعل ہوتا فریقین کو اس امر پر مجبور کرنے کا بھی باعث ہوتا کہ وہ ایک نفرت بھری زندگی اکٹھی گزاریں جبکہ ان کے درمیان مصالحت کا بھی کوئی امکان نہ تھا۔
(1991 MLD 1419)
مرد عورت کو بغیر عددالت کی مداخلت کے طلاق دینے کا حق رکھتا ہے جبکہ عورت کو تنسیخ نکاح کیلئے عدالت سے رجوع کرنا ہوتا ہے اور جب ایک بار عورت خلع کیلئے عدالت سے رجوع کرے تو عدالت کے پاس کوئی دیگر آپشن نہ ہے ماسوائے اس کی گزارش ماننے کے کیونکہ وہ تنسیخ نکاح بر بنائے خلع بطور حق حاصل کر سکتی ہے۔
(2001 YLR 3025) (1993 PLD Lah 249)
نکاح نامہ میں تحریر تھا کہ بوقت شادی بیوی کے والد نے خاوند سے رقم مبلغ95000 روپے مدعیہ کی شادی کے قرض لی فیملی کورٹ نے خلع کا دعویٰ ڈگری کرتے ہوئے زرخلع کے طور پر رقم وصول کردی والد کی واپسی کا حکم نہ دیا تو قرار دیا گیا کہ خاوند پابند ہے کہ وہ ثابت کرے کہ بیوی نے دوران شادی کیا مفادات حاصل کئے ہیں۔
(2002 Clc 1409)
عدالت ماتحت نے مدعیہ کا دعویٰ اس بناء پر خارج کردیا کہ وہ الزامات بابت ظلم و تشدد اور عدم ادائیگی خرچ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے تو عدالت اپیل نے قرار دیا کہ خلع کی گراؤنڈ اس نے بطور متبادل نہ لی تھی بلکہ آزادانہ گراؤنڈ لی تھی اس لئے دعویٰ غلط خارج ہوا۔
(1999 YLR 2521)
طلاق تفویض کی صورت میں یہ ایک بار جب اعلان کردی جائے تو یہ مؤثر ہو جائے گی۔ 90 دن گزرنے کے بعد اگر خاوند یا بیوی کی طرف سے واپس نہ لے لی گئی ہو۔
(2006 YLR 335)
عورت جو خلع کی بناء پر تنسیخ نکاح کی خواہشمند ہو وہ پابند ہے کہ وہ اسکی وجوہات سے عدالت کے ضمیر کو مطمئن کرے صرف اس وجہ سے کہ وہ خلع لینا چاہتی ہے دعویٰ ڈگری نہیں کیا جا سکتا۔
(1998 Clc 1711)
عورت نے نکاح فریقین کی تنسیخ اس بناء پر چاہی کہ اسکا خاوند کا فر اور مرتد ہوگیا تو قرار دیا گیا کہ مسکم فیملی لاز آرڈیننس مسلمانوں پر لاگو ہے کافر اور مرتد کی صورت میں دادرسی طلب کردہ نہ دی جا سکتی ہے۔
(1994 Clc 1053)
عدالت کو جب یہ باور ہو جائے کہ فریقین اندر حدود اللہ نباہ نہ کر سکتے ہیں تو خواہ بیوی نے خلع کی ڈگری گراؤنڈ نہ لی ہے اور دیگر وجوہات کو بھی ثابت کونے میں ناکام رہے پھر بھی خلع کی بناء پر ڈگری جاری کرنا چاہئے۔
(1998 Clc 1929)
فیملی کورٹ سے خلع کی بناء پر ڈگری جاری ہوئی اور زر خلع کی ادائیگی کا حکم دیا گیا۔ خاوند نے عدالت عالیہ میں آئینی درخواست دائر کی اس دوران راضی نامہ کی بناء پر آئینی درخواست کی واپسی اور خلع کی ڈگری کی منسوخی کی درخواست دائر کی گئی کہ فریقین دوباری نکاح کرنا چاہتے ہیں کہ ابھی تک نہ تو زرخلع ادا ہوا ہے اور نہ ہی خاوند نے قبول کیا ہے تو قرار دیا گیا کہ فیملی کورٹ کی طرف سے خلع ایک طلاق کی حیثیت رکھتی ہے اور جب تک تین طلاق نہ واقع ہوئی ہوں فریقین دوبارہ بغیر حلالہ کے نکاح کر سکتے ہیں۔
(2000 MLD 447)
خلع نکاح کی تنسیخ بیوی کی طرف سے ہے۔طلاق خلع کی صورت میں بیوی پر ہر گز کوئی پابندی نہیں کہ وہ دوبارہ اس خاوند سے حلالہ بغیر نکاح نہیں کر سکتی۔ دفعہ7(6) کا فقرہ شرطیہ بھی اسکی اجازت دیتا ہے اور قرآن و سنت اور مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت بھی خاوند کو دوبارہ نکاح کیلئے کسی عدالت اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔جب میاں اور بیوی اندر حدود اللہ رہنے پر تیار ہوں۔
(PLD 2003 Pesh 169)

مسلم فیملی کورٹس ایکٹ1964
دفعہ10(4) کے تحت جب فریقین میں مصالحت ناکام ہوجائے تو عدالت شہادت کیلئے تاریخ مقرر کرے گی مگر شرط یہ ہے کہ اگر دعویٰ بابت تنسیخ نکاح ہو تو عدالت مصالحت ناکام ہونے پر ہر صورت ڈگری تنسیخ نکاح جاری کردے گی اور خاوند کو حق مہر جو بیوی نے بوقت شادی حاصل کیا ہو وہ لازمی واپس دلائے گی۔
یہ شرط مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت فیملی کورٹس ایکٹ 1964 میں ترمیمی آرڈیننس 2002 مورخہ1-10-2002کے ذریعے شامل کی گئی ہے۔
عدالت نے جب مصالحت ناکام ہونے کے فوری بعد ڈگری تنسیخ نکاح جاری کردی تو ایسی ڈگری بمطابق قواعد و قانون درست قرار دی گئی اور انٹر کورٹ اپیل کارج کردی گئی۔ (PLD 2005 Lah 99)

فیملی کورٹ ایکٹ میں ترمیم 2015
پنجاب فیملی کورٹس ترمیمی ایکٹ2015 کے ذریعے فیملی کورٹس ایکٹ کی دفعہ10 میں دو ذیلی دفعات 5 اور6 شامل کی گئی ہیں۔قبل ازیں ذیلی دفعہ4 کے تحت خلع کی صورت میں بیوی کو تمام وصول شدہ حق مہر لازمی واپس کرنا پڑتا تھا جبکہ اس ترمیم کے ذریعے عدالت کو اختیار دیا گیا ہے کہ خلع کی ڈگری کی صورت میں اداشدہ حق مہر (مہر معجل) میں سے صرف 25 فی صدواپس کرنے اور غیر معجل حق مہر جو بذمہ خاوند واجب الاداہو اس میں سے 50 فی صد سے دستبرداری کا حکم صادر کیا جائے گا اور عدالت خاوند کو حکم سے سکتی ہے کہ وہ تمام یا کوئی حصہ حق مہر غیر معجل بیوی کو ادا کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں