تنسیخ نکاح بر بنائے خلع

تنسیخ نکاح بر بنائے خلع


خلع زوجہ کی مرضی اور اسکی خواہش پر عقد نکاح سے آزاد کئے جانے کے معاوضہ میں شواہد کو بدل دینے یا دینے کا وعدہ کرنے پر قید زوجیت سے بلفظ خلع یا جو لفظ اسکا ہم معنی ہو، رہا ئی کا نام ہے۔خلع کے لغوی معنی ایک شے سے دوسری شے نکالنے کے ہیں اصطلاحاً خلع کے معنی بروزن نزع۔ باہر نکالنے یا اتارنے کے آتے ہیں مثلاً خلع الثوب (اس نے کپڑے اتارے) چونکہ خلع میں عورت مرد کے رشتہ زوجیت سے باہر آجاتی ہے اس لئے شرعاً خلع کا مفہوم یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے مال لیکر ملک نکاح سے دستبردار ہو جائے۔کمال الدین ابن ھمام نے اپنی کتاب فتح القدیر میں لکھا ہے کہ بدل کے ذریعے خلع کے لفظ کے ساتھ ملک نکاح زائل کرنے کو خلع کہتے ہیں۔
داماو آفندی نے اپنی کتاب بدائع الضائع میں خلع کی دو قسمیں لکھی ہیں ایک خلع بلا بدل اور بالبدل۔ وہ لکھتے ہیں کہ”اگر شوہر نے خلع بلا بدل کی صورت میں لفظ خلع سے طلاق کی نیت کی ہو تو بلا کسی بدل کے طلق واقع ہو جائے گی البتہ خلع بالبدل کی صورت میں بغیر بدل کے خلع نہ ہوگا “۔
اگرچہ لفظ خلع بلا بدل ہونے کی صورت میں طلاق کنایہ کی حیثیت رکھتا ہے لیکن بر صغیر پاک و ہند میں خلع کا ایک خاص مفہوم متعین ہو چکا ہے۔یہاں بالعموم عورت مہر سے دستبرداری کے عوض مرد سے تفریق حاصل کرتی ہے۔ بالفاظ دیگر پاکستان اور ہندوستان میں خلع اپنے جوہر میں طلاق بالمال کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن خلع کے لئے ضروری ہے کہ وہ بلا بدل ہو یا بالبدل لفظ طلاق کی بجائے خلع کا لفظ استعمال کیا جائے۔ ہندوپاک میں عام طور پر خلع بالبدل کی صورت میں بھی طلاق ہی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے یعنی شوہر یہ کہنے کی بجائے کہ میں اپنی زوجہ مسماۃ فلاں کو خلع کرتا ہوں کہتا ہے کہ میں طلاق دیتا ہوں حالانکہ اسکو لفظ طلاق کی بجائے خلع کا لفظ استعمال کرنا چاہئے۔

وقوع طلاق کیلئے نیت شرط ہے یا نہیں؟
خلع سے مشتق الفاظ استعمال کرنے کی صورت میں وقوع طلاق کیلئے نیت شرط ہے یا نہیں اسکا جواب یوں ہے کہ اگر مال کا ذکر کیا ہو تو یہ ارادہ طلاق کا ایک ایسا ہی قرینہ ہے جیسے کہ غصہ کی حالت میں یا طلاق کے جواب میں وہ الفاظ کہے گئے ہوں پس بغرض طلاق الفاظ خلع کے استعمال کرنے میں بالاتفاق نیت شرط نہیں ہے خواہ خلع سے مشتق الفاظ استعمال کیا گیا ہو اب اگر اس کے بعد وہ شخص یہ دعویٰ کرے کہ ان الفاظ سے اس کا ارادہ طلاق کا نہیں تھا بلکہ اس کا قصد کپڑے اتار دینے سے تھا تو قانوناً اسکی بات تسلیم نہیں کی جائے گی البتہ اگراسکا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے تو وہ شرعاً اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے تاہم عورت کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ اسکے ساتھ رہے کیونکہ عورت بھی قاضی کی طرح اسکی نیت سے بے خبر ہے لیکن اگر مال کا ذکر نہیں کیا اور غصہ وغیرہ بھی نہیں تھا تو اس لفظ پر غور کیا جائے گا جو خلع کیلئے اس نے استعمال کیا اگر اس لفظ کو بالعموم بلا لعاوضہ طلاق کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اسکا استعمال اس مفہوم میں مشہور ہے تو اسے طلا ق صریح تصور کیا جائے گا اور وقوع کیلئے نیت لازمی ہے۔

حنفیہ کے مطابق
فقہ حنفی کے مطابق خلع کے الفاظ پانچ قسم کے ہیں۔
1۔ ایک قسم وہ الفاظ ہیں جو مصدر خلع سے نکلے ہیں مثلاً بیوی سے کہا کہ خالعتک، اختلعی، اخلعی نفسک اور اختلعتک(یعنی میں نے تیرے ساتھ باہمی طور پر خلع کیا، تو مجھ سے خلع کرلے، تو اپنے نفس کا خلع کرلے اور میں نے تجھ پر خلع عائد کرلیا)۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ ان الفاظ سے بغیر نیت کئے طلاق ہو جاتے ہے کیونکہ لوگ اسے طلاق کے مفہوم میں بکثرت استعمال کرتے ہیں۔
2۔ دوسری قسم کا لفظ بارانگ ہے یعنی میں نے تجھے بری کردیا۔ پس اگرخاوند نے بیوی سے کہا کہ میں نے تجھے بیس اشرفیوں کے عوض بری کردیا اور بیوی نے اسے منظور کرلیا تو طلاق بائن واقع ہوجائے گی اور بیوی کے ذمہ بیس اشرفیاں لازم ہوگئیں اور مہر ساقط ہو جائے گا اور اگر بیوی نے اسے قبول نہ کیا تو نہ طلاق واقع ہوگی اور نہ بیوی کے ذمہ کچھ عائد ہوگا۔
3۔ تیسری قسم کا لفظ بایشک ہے یعنی میں نے تجھے بائن کردیا۔یہ لفظ خلع کیلئے وضع کیا گیا ہے اگر کوئی اور ذکر نہیں ہوا اور عورت نے اسکو قبول کرلیا تو بیوی کے حقوق مہر ساقط ہو جائیں گے اگر بیوی قبول نہ کرے لیکن خاوند نے طلاق کی نیت کی ہو تو طلاق پڑ جائے گی ورنہ طلاق نہیں پڑے گی۔
4۔ چوتھی قسم کا لفظ فارقتک ہے یعنی میں نے تجھے جدا کردیا۔اگر اس کے ساتھ مالی معاوضہ کا ذکر کیا اور یوں کہا کہ میں نے تجھے ایک سو کے عوض جدا کیا اور بیوی نے اسکو منظور کر لیا تو وہ بائنہ ہو جائے گی اور ایک سو اسکے ذمہ لازم ہو جائیں گے اور اسکے حقوق بابت مہر وغیرہ ساقط ہو جائیں گے۔اگر بیوی نے اسے منظور نہ کیا تو طلاق واقع نہ ہوگی۔
5۔ پانچویں قسم کا لفظ طلاق بعوض مال کا استعمال ہے لہذا اگر ایک شخص نے بیوی سے کہا کہ تو بیس اشرفی کے عوض اپنے آپ کو طلاق دے سکتی ہے اور بیوی نے کہا کہ مجھے منظور ہے یا بیوی نے کہا کہ میں نے اس کے عوض اپنے نفس کو طلاق دی تو یہ طلاق بائن پڑ جائے گی اور بیس اشرفی اس کے ذمہ لازم ہو جائیں گی۔

مالکیہ کے مطابق
مالکیہ کہتے ہیں کہ شرع کی اصطلاح میں معاوضہ پر طلاق دینے کو خلع کہتے ہیں۔ اگر بیوی نے خاوند سے کہا کہ مجھے میرے مہر کے معاوضہ میں طلاق دیدے یا سو روپے کے عوض طلاق دیدے اور خاوند کہے کہ میں نے اس کے عوض تجھے طلاق دیدی تو طلاق بائن پڑ جائے گی اور معاوضہ طلاق بیوی کو دینا ہوگا۔ اسطرح اگر خاوند نے کنایہ ظاہری سے بہ نیت طلاق بیوی کی بات کو قبول کرلیا تو اس پر طلاق بائن پڑ جائے گی۔

شافعیہ کے مطابق
شافعیہ کہتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں خلع ایسے قول کو کہتے ہیں جس سے میاں بیوی کے درمیان معاوضہ پر علیحدگی ہو جاتی ہے اسکے لئے ان پر شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے جو معاوضہ سے متعلق ہیں پس ہر وہ لفظ جو صراحۃً پاکنایۃً طلاق کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے خلع ہے اس سے طلاق بائن پڑ جاتی ہے۔

حنابلہ کے مطابق
حنا بلہ کہتے ہیں کہ خلع یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی یا کسی اور سے معاوضہ لیکر مخصوص الفاظ کے ذریعہ بیوی سے جدا ہو جائے۔ خلع کے مخصوص الفاظ کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی فسخ صریح الفاظ یہ ہیں۔خلعت و فسفت و فادیت (یعنی میں نے تجھ سے خلع کرلیا اور تجھے فسخ کردیا اور تجھے چھوڑ دیا)۔اگر خاوند ایسے الفاظ استعمال کرے اور معاوضہ کی شرائط کوملحوظ رکھے گو معاوضہ کی نوعیت معلوم نہ ہو لیکن بیوی قبول کرے تو خلع درست ہوگا اور اس کے بعد دونوں میں علیحدگی ہو جائے گی۔ اگرچہ خلع کی نیت نہ کی گئی ہو کیونکہ یہ الفاظ خلع کے مفہوم میں صریح ہیں اور نیت کے محتاج نہیں ہیں اگر معاوضہ کا ذکر نہیں آیا یا ذکر آیا لیکن عورت سے اس جگہ سے منظور نہیں کیا تو خلع درست نہ ہوگا اور یہ قبول لغو تصور ہوگا۔ اس سے کچھ نہ ہوگا۔ اگر معاوضہ کا ذکر آیا اور بیوی نے اسے قبول کرلیا تو یہ فسخ نکاح ہوگا اور اس سے علیحدگی ہو جائے گی۔ ان الفاظ سے عورت اپنے نفس کی مالک ہو جاتی ہے لیکن طلاق کی تعداد تین سے کم نہ ہوگی۔ خلع کیلئے کنایہ کے الفاظ بھی تین ہیں یعنی میں نے تجھے بری کردیا۔ تیری برائت کردی یا تجھے بائن کردیا۔ ان تین الفاظ سے خلع ہو جاتا ہے بشرطیکہ نیت خلع کی ہو یا صورت حال سے نیت ثابت ہوتی ہو اور صورت حال سے مراد یہ ہے کہ میں نے تم کو بری کیا اور معاوضہ کا ذکر نہیں کیا لیکن فسخ نکاح کی نیت کی اور خاوند نے کہا کہ میں نے قبول کیا اور نیت بھی کی تو فسخ نکاح لازم ہو جائے گا۔ بصورت دیگر کچھ لازم نہ ہوگا۔ بہر حال وہ طلاق جو معاوضہ کے مقابلے میں ہو اس سے طلاق بائن پڑ جائے گی۔

خلع جائز ہے یا ممنوع؟
خلع ایک قسم کی طلاق ہے۔ طلاق بلا معاوضہ ہوتی ہے اور معاوضہ لیکر طلاق دی جاتی ہے اس دوسری صورت کو خلع کہتے ہیں۔ اگر صورتحال میاں بیوی میں علیحدگی کی متقاضی ہو تو اس صورت میں طلاق کو جائز کہا جائے گا اور اگر خاوند بیوی کا بار اٹھانے اور حقوق زوجیت پورا کرنے سے عاجز ہو تو یہ طلاق واجب ہو جاتی ہے۔ اگر اس طلاق سے بیوی اور اولاد پر ظلم ہو تا ہوتو حرام ہے تاہم بنیادی طور پر طلاق ممنوع ہے اور بعض کے نزدیک مکروہ ہے اور اگر علیحدگی ضروری نہ ہوجائے تو فعل حرام ہے۔ یہ احکام جس طرح طلاق پر عائد ہوتے ہیں اسی طرح خلع پر بھی ہوتے ہیں البتہ خلع اس وقت بھی روا ہے جبکہ طلاق ناجائز مثلاً ایام ماہواری یا حالت نفاس کے دوران یا ایسی صورت میں جس میں کہ بیوی کے ساتھ مباشرت ہو چکی ہو خلع درست ہے لیکن طلاق درست نہیں۔ شافعیہ کہتے ہیں کہ بنیادی طور پر خلع مکروہ ہے لیکن اگر عورت ساتھ رہنے کو برا سمجھتی ہو تو خلع مستحب ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خلع نہ حرام ہے نہ واجب۔ مالکیہ کہتے ہیں کہ اوقات ممنوع میں طلاق کی طرح خلع بھی ممنوع ہے جیسا کہ طلاق بدعی کے سلسلہ میں ہے۔
خلع کی بنیاد اور اس کے جواز کی دلیل قرآن پاک کی سورۃ البقرہ آیت نمبر229 میں ہے۔ ترجمہ: اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں (زوجین)اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو دونوں پر گناہ نہیں اس میں کہ عورت بدلہ دے کر چھوٹ جائے۔
اللہ کی مقرر کردہ حدود سے مراد وہ امور ہیں جن کی حد بندی اللہ تعالیٰ نے کردی ہے یعنی باہمی معاشرت کے احکام۔ دونوں میاں بیوی کوان حقوق پر عملدرآمد کرنا فرض قرار دیا گیا ہے اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان حدود پر قائم رہیں اور ان سے تجاوز نہ کریں اور ان حقوق کے منجملہ جنکی پاسداری کا بیوی کو حکم ہے یہ ہے کہ بیوی ہونے کی صورت میں وہ خاوند کی مکمل فرمانبرداری کرے سوائے اس صورت کے جبکہ ضرر کا اندیشہ ہو اور یہ کہ پورے طور پر خاوند کے ساتھ رفاقت رکھے یعنی شریک حیات بن کررہے۔ یہ حلال نہیں ہے کہ بظاہر خاوند کے ساتھ ہو اور دل کا تعلق دوسروں سے ہو۔ اگر وہ اندر ایسی کیفیت محسوس کرتی ہے تو واجب ہے کہ وہ اپنے نفس سے جنگ کرے اور ہر ایسی خواہش سے پرہیز کرے جو اسے خاوند کی عزت میں خیانت پر آمادہ کرے یا ایسی بات کرے جسے خاوند نا پسند کرتا ہومثلاً کسی اجنبی شخص سے جسے خاوند نا پسند کرتا ہوبات چیت کرے یا خاوند کی اجازت کے بغیر اسے گھر میں بلائے اور یہ لازم ہے کہ ایسی تمام باتوں پر عمل پیرا ہو جس میں خاوند کی بہتری ہو لہذا یہ حلال نہیں ہے کہ خاوند کو اتنا زیادہ خرچ پر آمادہ کرے جس سے معاشرتی نظام میں خلل اور معاشی حالت خراب ہو جائے۔ اسی طرح یہ بھی حلال نہیں ہے اپنے بیٹے بیٹیوں کی تربیت میں کوتاہی کرے یا انکے لئے بد نمونہ ثابت ہو اور یہ کہ خاوند کے مال وغیرہ کی حفاظت اور ان حقوق کی مراعات میں جن کا خاوند نے حکم دیا ہے خیانت نہ کرے، مناسب طور پر اسے خرچ میں لائے اور پاک دامن رہتے ہوئے خاوند کی عزت کی حفاظت کرے اور اس میں خیانت نہ کرے۔
اگر میاں بیوی میں مخالفت پیدا ہوجائے تو طریق سنت یہ ہے کہ کنبہ کا کوئی شخص جس کا اثر دونوں پر ہو بیچ میں پڑ کر ان میں صلح کرادے۔ اگر وہ اپنی اصلاح نہ کر سکیں اور باہمی مخالفت اتنی شدید ہو جائے کہ احکام الہی تک کا پاس نہ رہے تو ایسی صورت میں معاوضہ لے کر یا بغیر معاوضہ کے ان میں علیحدگی کرا دینا درست ہے۔ آیا تصفیہ کنندگان کو یہ حق ہے کہ اگر مصلحت کا تقاضہ ہو تو وہ طلاق کرادیں۔ حنفیہ اور شافعیہ کہتے ہیں کہ تصفیہ کنندگان کو یہ ھق نہیں ہے کہ بیوی کو طلاق دیں کیونکہ طلاق کا اختیار خاص خاوند کو ہے یا پھر انہیں ہے جنکو وہ اپنا نائب بنائیں اور مال مہر خلع کے معاملہ میں بیوی کا حق ہوتا ہے البتہ اگر خاوند تصفیہ کنندگان کو طلاق کیلئے اپنا نائب بنادے تو اس صورت میں انکو اسکا حق ہو جائے گا۔ یہ سوال کہ آیا مرد کیلئے یہ درست ہے کہ وہ اپنی بیوی پر تشدد کرے، اسکی زندگی تلخ کردے اور اسکا چھٹکارا ہونے کیلئے اس سے مال فدیہ وصول کرے اور بیوی کو اپنا پیچھا چھڑانے کیلئے مال ادا کرنا پڑے تاکہ اس سنگدلی سے نجات پائے جو خاوند کے ساتھ رہ کر اسے جھیلنی پڑے گی اور اسی بناء پر اسکا مطالبہ خلع درست ہو اور خاوند کو اس سے مہر مثل وصول کرنے کا حق ہو۔

حنفیہ کے مطابق
حنفیہ کہتے ہیں کہ اگر خاوند اپنی بیوی پر معاملہ خلع کیلئے تشدد کرے اور اسے دکھ پہنچائے تاکہ اس سے فدیہ وصول کرے تو اس طرح پر کوئی مال اسے وصول کرنا خاوند کیلئے حرام ہے خواہ وہ مال مہر ہو یا کوئی اور مال ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد اس طرف اشارہ کرتا ہے۔ ترجمہ: بیوی کو جو کچھ دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ پس مہر واپس لینے کی ممانعت ہے خواہ کتنا بھی زیادہ ہو لیکن اگر بیوی کا برتاؤ اپنے خاوند کے ساتھ برا ہو اور وہ حقوق خاوندی ادا نہ کرتی ہو یا خاوند کے ناموس میں خیانت کرتی ہو تو ایسی بیوی سے طلاق کا معاوضہ لینا مکروہ نہیں ہے۔ خاوند کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ اسے دو حالتوں میں بیوی کے مہر سے کچھ واسطہ نہیں ہے ایک تو اس حالت میں جبکہ اختلاف کی بنا خاوند ہودوسرے اس حالت میں جبکہ زوجین کوحدود اللہ سے تجاوز کا اندیشہ ہو جبکہ دوسری آیت میں خاوند کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ طلاق کا معاوضہ لے درآنحالیکہ انہیں حدود اللہ سے تجاوز کرنے کا اندیشہ ہو اس میں خاوند کے ساتھ برا برتاؤ کرنا اور اسے دکھ دینا بھی ہے۔
بہر حال اگر عورت مال کے عوض خلع کو قبول کرے تو ادائیگی مال اس پر لازم ہو جائے گی اور خلع عائد ہو جائے گی اور اسکے معاوضہ میں جو مال وہ شخص وصول کرے گا وہ اس مال کا مالک ہوگا لیکن اگر بیوی کا معاوضہ کو منظور کر لینا خاوند کی ضررسانی اور بد سلوکی پر مبنی ہوتو اس مال خلع پر خاوند کی ملکیت مذموم ہوگی ہاں خاوند کیلئے مال خلع کا مالک ہونا اس صورت میں روا ہوگا جبکہ خلع خاوند سے بیوی کی نفرت اور کراہت کی بنا پر ہوا ہو۔ اگر خاوند نے بیوی کو خلع کے قبول کرنے پر مجبور کیا ہو اور خلع کا مطالبہ پہلے خاوند کی طرف سے ہوا ہو یعنی اس نے بیوی سے کہا ہو کہ میں نے تیرے ساتح خلع کیا اور بیوی نے مجبور ہو کر اسے منظور کرلیا ہو۔ اگر خاوند نے لفظ خلع استعمال کیا ہو تو طلاق بائن پڑجائے گی لیکن خاوند کو مال کا کوئی حق نہ ہوگا کیونکہ بیوی کے ذمہ مال واجب ہونے کہ شرط یہ ہے کہ وہ ادائے مال پر راضی ہو۔ اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ میں نے تجھے ایک سو کے عوض طلاق دی اور اسے ادائیگی مال پر مجبور کیا تو طلاق رجعی پڑ جائے گی اور خاوند زر فدیہ کا حقدار نہ ہوگا۔
اگر خاوند نے خلع کا لفظ استعمال کیا ہے تو طلاق بائن پڑ جائے گی اور معاوضہ ساقط ہو جائے گا اور اگر مال کے عوض طلاق کو کیا ہو تو طلاق رجعی پڑے گی اور معاوضہ اس صور ت میں بھی ساقط ہوگا۔

مالکیہ کے مطابق
مالکیہ کہتے ہیں کہ اگر خاوند بیوی کے ساتھ بد سلوکی کرے اور اسکے اوپر سوکن ڈالے تا کہ وہ بیوی مال کے عوض اس سے چھٹکارا حاصل کرلے لیکن یہ بد سلوکی اس لئے ہو کہ وہ نماز نہیں پڑھتی یا اسلئے ہو کہ اسے ناپاکی سے غسل کرنے پر مجبور کرے تو ایسا کرنا جائز ہے اور ایسی صورت میں خاوند چاہے تو اسے روک رکھے اور اسکی تادیب کرے تاکہ وہ اپنے فرائض کو جو اس پر عائد ہوتے ہیں انجام دے یا پھر مال کے عوض اس سے خلع کرلے اور اپنا جو مال اس نے لیا ہے وہ سب اسکا ہے لیکن اگر خاوند نے بیوی کے ساتھ بدسلوکی اور ناحق مارپیٹ کی یا گالی دی یا اسکا مال چھین لیا یا اسکی سوکن کو ایک ہی گھر میں رکھ کر شب گزاری میں اس سے امتیازی سلوک کیا۔ قلبی لگاؤ کا امتیاز اس سے مستثنیٰ ہے اس میں کوئی حرج نہیں اگر پہلی بیوی کے ساتھ خاوند نے ایسا برتاؤ کیا اور مال دیکر بیوی نے چھٹکارا حاصل کیا تو یہ طلاق بائن ہوگی اور جو مال اس نے لیا ہے وہ واپس کرنا ہوگا اگر خلع کا معاوضہ خاوند کے بچے کو دودھ پلانا یا حمل کے اخراجات کا برداشت کرنا یا اولاد کی پرورش کی ذمہ داری سے خاوند کو بے نیاز کر دینا قرار پائے تو بیوی کے ذمہ جو مطالبہ اس سلسلہ میں تھا وہ ساقط ہو جائے گا اور اس بیوی کے حقوق اسے پھر حاصل ہو جائیں گے۔ اگر بیوی نا فرمان ہو اور اس نے اپنی بد زبانی وغیرہ سے خاوند کو دکھ پہنچایا ہو تو خاوند بلا کراہت اپنے مال کا مطالبہ پورا کرے گا۔ اگر خاوند کو یہ معلوم ہوجائے کہ وہ عورت بدکار ہے تو کیا اسے حق ہے کہ بیوی کے ساتھ بد سلوکی کرے، اسے مجبور کرے کہ وہ مال دیکر خاوند سے چھٹکارا حاصل کرے اور یہ کہ آیا وہ مال خاوند کیلئے روا ہوگا۔ ایسا کرنا درست نہیں کیونکہ جب خاوند کو بیوی کی بد کاری کا علم ہو اور وہ بیوی سے زر خلع وصول کرنے کیلئے خاوند بنا رہا تو یہ سخت کمینہ پن ہے لہذا اسے چاہئے کہ بغیر مطالبہ مال کے اسے طلاق دینے کے سوا اور کچھ نہ کرے یا پھر اسے بغرض تادیب روک رکھے۔ اگر خاوند نے اسے مار پیٹ یا گالی گلوچ سے تنگ کیا اور آخر مال لیکر اسے چھوڑ دیا اور یہ بات ثابت ہوگی تو بیوی وہ مال اس سے واپس لے سکتی ہے اور بلا معاوضہ مال وہ زوجیت سے خارج ہو جائے گی۔

حنابلہ کے مطابق
حنابلہ کہتے ہیں کہ اگر ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ بد سلوکی کرے، مارپیٹ کرے، گالی گلوچ اور مختلف حربوں سے تنگ کرے اور سوکن کی باری کو اسکی باری پر ترجیح دے اور اسکا خرچ بند کردے اور اسکے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تاکہ بیوی مال دیکر اس سے چھٹکارا پائے اور وہ عورت ایسا ہی کرے تو یہ خلع باطل ہوگا اس صورت میں جو معاوضہ لیا گیا لازم ہے کہ اسے واپس کردے۔ وہ عورت بدستور اسکی بیوی رہے گی جس طرح کے خلع سے پہلے تھی کیونکہ یہ معاوضہ جبراً وصول کیا گیا ہے۔ خاوند کو اس مال کے لینے کا حق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ترجمہ: یعنی بیویوں کو اس ارادے سے تنگ نہ کرو کہ جو کچھ تم نے دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ حنابلہ کے نزدیک یہ ممانعت معاملہ کے فاسد ہونے کی وجہ سے ہے البتہ اگر یہ خلع لفظ طلاق کے ساتھ ہو یا خلع ہی کا لفظ ہو لیکن بہ نیت طلاق استعمال کیا گیا ہو تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگی لیکن اگر خاوند نے اس ارادہ سے بد سلوکی نہ کی ہو کہ بیوی نے معاوضہ طلاق میں مال وصول کرے بلکہ وہ بد خلقی کی بنا پر ایسا کرتا ہو ایسی صورت میں بیوی مال کے عوض میں اس سے پیچھا چھڑالے تو یہ خلع درست ہوگا اور خاوند کو اس کا معاوضہ لینا روا ہوگا تاہم بیوی کو تنگ کرنے اور دکھ دینے کا گناہ ہوگا پس خاوندوں پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر عمل کرے۔ ترجمہ: یعنی خوش اسلوبی سے ان کیساتھ بسر کرو یا پھر خوش اسلوبی کے ساتھ انہیں چھوڑ دو۔
یہ مسائل اس صورت میں ہیں جبکہ تشدد خاوند کی طرف سے ہو لیکن اگر ذیادتی بیوی کی طرف سے ہو اور وہ اللہ کے فرائض میں سے کسی فرض کی تارک یا بداخلاق اور بدکار ہو تو خاوند کو اسے بعوض مال چھوڑ دینے کیلئے ستانے کا حق ہے اور جو مال طلاق کے معاوضہ میں بیوی دے اسکا لینا حلال اور خلع درست ہے۔ اگر بیوی گناہ فاحش کی مرتکب ہو تو خاوند کو اس کے ساتھ بد سلوکی کرنے اور سزا دینے کا حق ہے یہاں تک کہ وہ بدی سے باز آجائے یا مال دیکر اس خاوند سے پیچھا چھڑالے۔

شافعیہ کے مطابق
شافعیہ کہتے ہیں کہ خلع کے بارے میں بنیادی بات یہ ہے کہ یہ فعل مکروہ ہے۔ اسی طرح عورت کیلئے بھی مکروہ ہے کہ وہ عورت خلع حاصل کرنے کیلئے بلا وجہ اپنے مال کو خاوند پر خرچ کرے تاہم دو صورتیں ایسی ہیں جن میں یہ فعل مکروہ نہیں ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ دونوں میں مخالفت ہو جائے اور یہ اندیشہ ہو کہ وہ دونوں ایک دوسرے کی حق تلفی کریں گے جسکی ادائیگی اللہ نے ان پر عائد کی ہے مثلاً یہ کہ بیوی خاوند کی فرمانبرداری ترک کردے اور اس کی زندگی تلخ کردے اور حاکم کی طرف سے ان پر کوئی سختی ہو اور نہ کنبہ والوں میں سے کوئی ان میں باہم مصالحت کرا سکے ایسی صورت میں خلع کر لینامستحب ہوگا اوراگر عورت خلع منظور کرے تو مال کی ادائیگی اس پر لازم ہو جائے گی اور اب اسے یہ حق نہ ہوگا کہ وہ خاوند کی بد سلوکی کی بنا پر اپنا مال واپس کرنے کا مطالبہ کرے تاہم مرد کیلئے یہ حلال نہیں ہے کہ عورت کو خلع پر مجبور کرنے کیلئے اسے ستائے لیکن اگر یہ بات مذکورہ شرائط کے ساتھ عمل میں آئے تو یہ خلع لاگو ہوگا اور دونوں میں سے کسی کو بھی اس سے پھرنے کا حق نہ ہوگا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ خاوند مشروط بہ طلاق قسم کھائے کہ وہ اس گھر میں داخل نہ ہوگا یہ قسم کھائے کہ موجودہ سال میں وہ گھر میں نہیں جائے گا تو ایسی حالت میں اسے حق ہے کہ بغیر کسی کراہت کے بیوی سے خلع کرلے۔ ایسی صورت میں طلاق بائن پڑ جائے گی اور وہ گھر میں داخل ہو جائے گا لیکن وہ عورت اسکی بیوی نہیں رہے گی اور اس پر تین طلاق کی قسم عائد نہ ہوگی۔ خاوند جب گھر میں داخل ہوگا تو وہ ایک طلاق سے بائنہ ہو جائے گی کیونکہ خلع طلاق ہوتا ہے فسخ نکاح نہیں ہوتا اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس سے فسخ نکاح ہو جاتا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ اس سے عورت بائنہ ہو جائے گی لیکن طلاق کی تعداد کم نہ ہوگی بشرطیکہ وہ طلاق خلع یا فدیہ کے الفاظ میں دی گئی ہو اور طلاق کی نیت نہ کی گئی ہو بلکہ خلع کی نیت ہو۔ اس طرح کی وہ صورت ہے جبکہ ایک شخص قسم کھلے کہ وہ فلاں کام ضرور کرے گا مثلاً کسی نے تین طلاق کی شرط کے ساتھ یہ قسم کھائی کہ اس بیوی پر وہ شادی ضرور کرے گا تو اس صورت میں وہ اس سے خلع کر سکتا ہے اب اگر وہ دوسری بیوی نہ بھی کرے تو اس عورت کو تین طلاق نہ ہوگی لیکن اگر تین طلاق کی شرط کے ساتھ یہ قسم کھائی کہ وہ اس بیوی پر اسی مہینے میں ایک اور شادی کرلے گا تو ایسی صورت میں جو حکم ہے اس کے بارے میں اختلاف ہے کہ اگر بیوی سے خلع کرلیا اور مہینہ ختم ہونے میں اتنا عرصہ باقی تھا جس میں وہ شادی کر سکتا تھا تو اس خلع کے کرنے سے اس شخص کو تین طلاق کی شرط سے چھٹکارا ہو جائے گا بصورت دیگر نہ ہوگا۔
(بحوالہ کتاب الفقہ۔ علماء اکیڈمی لاہور)

خلع کے جواز کے معاملہ میں جسٹس ڈاکٹر تنزیل الرحمن نے مجموعہ قوانین اسلام میں تفصیلی بحث کی ہے۔ دفعہ 116 کے مطابق:
اگر عدالت کو اس امر کا اطمینان ہوگیا ہو کہ زوجین شدید ناچاقی کے سبب باہمی معاشرت میں احکام خداوندی کی پابندی نہ کر سکیں گے تو شوہر کو خلع کا حکم دے گی مگر شرط یہ ہے کہ اگر قصور مرد کا پایا جائے گا تو عدالت بلا معاوضہ تفریق کرا دے گی مزید شرط یہ ہے کہ اگر قصور عورت کا ہو یا دونوں میں سے کسی کا نہ ہو مگر حالات خلع کے متقاضی ہوں تو شوہر کو عورت سے مناسب معاوضہ دلوایا جائے گا۔
خلع کے جواز کے سلسلہ میں پانچ اقوال ملتے ہیں:
1۔ یہ کہ خلع اصلاً جائز نہیں ہے۔
2۔ یہ کہ خلع ہر حال میں جائز ہے خواہ ضرر کے ساتھ ہو۔
3۔ یہ کہ خلع جائز نہیں الدیہ کہ مرد عورت کو زنا کار پائے۔
4۔ یہ کہ خلع جائز نہیں الدیہ کہ یہ خوف دامن گید ہو کہ زوجین حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے۔
5۔ یہ کہ خلع ہر حال میں جائز ہے الا اس سورت میں جب کہ خلع سے ضرر ہو آخری قول مشہور ہے۔ (بحوالہ بدایۃ المجتہد۔ ابن رشدم)

خلع کی بنیاد اور جواز میں سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 229 ہے۔ اس آیت سے حالت میں خلع کا جواز ثابت ہے جب زوجین میں ایسی نا اتفاقی پائی جائے کہ باہمی معاشرت حال ہو چنانچہ داؤد بن علی الظاہری کے نزدیک خلع صرف اس صورت میں جائز ہے جب شوہر اوربیوی دونوں کو خطرہ ہو کہ وہ حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے۔ ابن ھمام کی فتح القدیر کے مطابق یہی مسلک ظاہر یہ فرقے کا ہے۔ لیکن نعمان کا خیال ہے کہ خلع بوجہ ضرر پہنچانے کے جائز ہوگا۔ ابن رشد لکھتے ہیں کہ خلع کا فلسفہ یہ ہے کہ خلع عورت کے اختیار میں اس لئے رکھا گیا ہے کہ مرد کے اختیار میں طلاق ہے چنانچہ جب عورت کو مرد کی طرف سے کوئی تکلیف ہو تو اسکے اختیار میں خلع ہے اور جب مرد کو عورت کی طرف سے تکلیف ہو تو شرع نے اسے طلاق کا اختیار دیا ہے۔

مفسرین قرآن کی تشریحات – تفسیر قرطبی
قرطبی نے اپنی مشہور تفسیر ”الجامع الاحکام القران“میں لکھا ہے کہ قرآن پاک میں ”الاّ ان یخافا اَلاّ یقیما حدود اللّہ“کے ذکر سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا کہ شوہر عورت سے خلع کا کچھ بھی معاوضہ لے الدیہ کہ اس امر کا خوف ہو کہ وہ دونوں حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے اور تحریح کو اس شخص کے واسطے جو حد سے تجاوز کرے، وعید(خوف سزا)کے ذریعہ سخت بنا دیا ہے اور ا س آیت کے یہ معنی ہیں کہ زوجین میں سے ہر ایک اپنے دل میں یہ غور کرے کہ کیا وہ عورت اپنے شوہر کے حقوق زوجیت کو اس طور پر قائم رکھ سکے گی جو وہ اس پر بر بنائے نکاح واجب ہوتے ہیں اور جس کو وہ عورت اپنے خیال میں نا خوشگوار سمجھتی ہے۔ پس اگر ایسا ہے تو عورت کیلئے کوئی قباحت نہیں کہ وہ شوہر کو فدیہ دے اور نہ ہی شوہر کیلئے کوئی قباحت ہے کہ عورت سے معاوضہ خلع لے۔اس آیت میں خطاب زوجین سے ہے اور ”ان یخافا“ میں ضمیر ان دونوں کیلئے ہے ”اَلاّ یقیما“ مفعول ہے اور ”خفت“ مفعول واحد کی طرف متعدی ہے یعنی ایک مفعول کو چاہتا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ خوف علم کے معنی میں ہے یعنی وہ دونوں یہ جانتے ہوں یا سمجھتے ہوں کہ وہ دونوں حدود اللہ کو قائم نہیں رکھ سکیں گے اور یہ حقوق خوف کے ذریعے ہوتا ہے جو ناخوشگوار امر کے وقوع کا خوف دلاتا ہے اور یہ خوف ”ظن“ کے معنی کے قریب ہے اور کہا گیا”الاّ ان یخافا“ میں پیش کے ساتھ جسکے فاعل کا نام نہیں لیا گیا اور اس کا فاعل محذوف ہے اور وہ ”ولا ۃ“ (ولی الامر) اور حکام ہیں اور اس تعبیر کو ابو عبیدہ نے اختیار کیا ہے چنانچہ ابو عبیدہ نے کہا کہ خدائے عزوجل کا قول ”فان خفتم“ زوجین کے علاوہ دوسرے لوگوں کو اس خوف میں مبتلا کر دیتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ زوجین کا ارادہ کرتا یعنی اس سے زوجین کا ذاتی خوف مقصود ہوتا تو اللہ تعالیٰ ”فان خافا“ فرماتااور یہ امر اس کی دلیل ہے کہ خلع سلطان (حاکم) کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا قول ”فان خفتم الایقیما“ یا علی ان لا یقیما حدوداللہ“ جس میں کہ دونوں پر حسن معاشرت واجب ہے اور اس آیت میں خطاب حکام اور متوسطین مثلاً حکم وغیرہ سے ہے مثلاً اس معاملہ میں جو لوگ پڑے ہوئے ہوں خواہ وہ ھاکم نہ ہوں ھدود اللہ قائم رکھنے کو ترک کرنا عورت کا اپنے شوہر کے حقوق کی ادائیگی میں کمی کرتا ہے اور یا اسکی عدم اطاعت ہے۔ اس قول کو ابن عباس مالک ابن انس اور جمہور فقہاء نے بیان کیا ہے اور جس میں ابی الحسن اور ان کے ساتھ ایک جماعت کا قول ہے کہ ”جب عورت شوہر سے یہ کہے کہ میں تیرے حکم کی پیروی نہیں کرتی اور میں تیرے واسطے غسل جنابت نہیں کروں گی اور میں تیری کسی بات کو بھی پورا نہ کروں گی تو خلع جائز ہو جائے گی اور امام شعبی نے کہا کہ یہ باہمی بغض، عداوت اور ترک اطاعت کی طرف دعوت دیتی ہے اور عطا بن ابی رباح نے کہا کہ خلع اس وقت جائز ہو جائے گی جب کہ عورت اپنے شوہر سے یہ کہے کہ میں تجھ سے نفرت کرتی ہوں، تجھ سے محبت نہیں کرتی اور مثل اسکے تو ان پر کوئی گناہ نہیں اگر عورت اس خلع کے معاوضہ میں شوہر کو فدیہ دے۔

تفسیر بیضاوی
انوار الئنزیل واسرار التا ویل المعروف بالتفسیر البیضاوی میں اس موضوع پر یوں بحث کی گئی ہے کہ ”اور نہیں ہے حلال تمھارے واسطے کہ تم کچھ بھی لو اس جہیز میں سے جو دیا ہو تو نے اپنی عورتوں کو یعنی مہروں میں سے۔ روایت ہے کہ جمیلہ اپنے شوہر ثابت بن تیس سے بغض رکھتی تھی پس وہ رسول اللہ ؐ کے پاس آئی اور کہا کہ نہ میں ہوں اور نہ ثابت یعنی یا میں نہیں یا ثابت نہیں۔ میرا اور اسکا سر باہمی کوئی شے جمع نہیں کر سکتی۔ قسم خدا کی میں عیب نہیں لگاتی ہوں اسکی دین داری میں نہ اخلاق میں لیکن میں اسلام میں کفر کو مکروہ جانتی ہوں میں بغض کی وجہ سے اسکو برداشت نہیں کر سکتی میں نے خیمے کا پردے کا ایک کونہ اٹھایا میں نے اسکو دیکھا آتے ہوئے چند آدمیوں کے ساتھ وہ سب سے زیادہ کالا تھا ان لوگوں میں سے اور سب سے زیادہ کوتاہ قد تھا اور سب سے زیادہ بد صورت تھا پس یہ آیت نازل ہوئی چنانچہ جمیلہ نے اپنے اس شوہر سے اس باغ کے عوض خلع کیا جو ثابت نے ہی اسکو مہر میں دیا تھا۔ یہ خطاب حکام سے ہے اور معاوضہ لینے دینے کی نسبت ان حکام کی طرف اس لئے ہے کہ وہ اس لین دین کا حکم دینے والے ہیں جبکہ معاملہ ان کے سامنے پیش کیا جائے اور ایک قول ہے کہ خطاب ازدواج سے ہے اور اسکے بعد حکام سے۔ تو یہ قرات مشہور پر نظم و تربیت میں گڑ بڑ پیدا کرتا ہے۔ اگر وہ دونوں زوجین خوف کریں اور اس کو پڑھا گیا اور یہ خوف بالظن کی تفسیر کو مدد پہنچاتا ہے کہ اگر زعجین بوجہ ان احکام کے چھوڑ دینے کے جو زوجیت نے ان پر واجب کئے ہیں حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں پس اگر تم اندیشہ کرو کہ وہ زوجین حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ عورت فدیہ دے کر چھٹکارا حاصل کرلے یعنی مرد پر اس فدیہ کے لینے میں کوئی گناہ نہیں ہے جو عورت اپنے نفس کے چھٹکارے کیلئے دے اور خلع چاہے یہ اللہ کی حدیں ہیں۔ حد کا لفظ احکام کی جانب اشارہ کرتا ہے ان سے تجاوز نہ کرو یعنی ان حدوں سے مخالفت کے ذریعہ تجاوز نہ کرو اور جنہوں نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا وہ ظالم ہیں مخالفت کے ساتھ سزا کا خوف دلانا مبالغہ کے طور پر آتا ہے اور یہ جاننا چاہئے کہ ظاہر آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ خلع زوجین کے درمیان بغیر ناخوشگواری اور ناچاقی کے جائز نہیں ہے۔

تفسیر کشاف
امام زمخشری نے بھی تفسیر الکشاف میں ”فان خفتم الایقیما حدود اللہ“
کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر آپ کہیں کہ یہ خطاب ائمہ اور حکام کے لئے ہے تو وہ نہ فدیہ ان عورتوں سے لینے والے ہیں اور نہ دینے والے ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ دونوں امر جائز ہیں۔ پہلا خطاب ازواج سے اور دوسرا ائمہ اور حکام سے۔
تفسیرنسفی امام نسفی نے اپنی تفسیر میں ”فان خفتم“ والی آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سے ای حکام مراد ہے اور پہلا خطاب زوجین سے ہے اور دوسرا حکام سے۔

آئمہ اور فقہاء کی آراء – امام ابو حنیفہ اور امام شافعی
امام ابو حنیفہ کے نزدیک زوجین میں ایسی ناچاقی کی صورت میں حدود اللہ پر قائم نہ رہ سکنے کا خوف پیدا ہوگیا ہو تو خلع کرانا جائز ہے لیکن امام شافعی کے نزدیک ایسا کرنا جائز نہیں چنانچہ امام شافعی ”کتاب الام“میں لکھتے ہیں کہ اگر شوہر نے کہا کہ میں اپنی زوجہ کو جدا نہیں کروں گا اور نہ اس کے ساتھ عدل کروں گا تو اس کو زوجہ کے عدل کرنے ر مجبور کیا جائے گا لیکن زوجہ کو جدا کرنے کیلئے اس پر جبر نہیں کیا جا سکتا۔

امام ابو محمد ابن حزم
ابن حزم نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر زوجہ کو اپنے شوہر سے بے توجہی کا اندیشہ ہو تو ان پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ دونوں آپس میں صلح کرلیں اور صلح نیکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم کو اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں اگر عورت فدیہ دے کر خود کو آزاد کرالے۔یہ دونوں آیتیں خلع کے بارے میں حکم قطعی کا درجہ رکھتی ہیں اور وہ جو خلع کوبلا اجازت سلطان منع کیا گیا ہے تو ہم نے وکیع کے طرق سے یزید بن ابراہیم اور ربیع سے روایت کی اور وہ حسن بصری سے روایت کرتے ہیں کہ حسن بصری نے کہا کہ خلع سلطان کی موجودگی کے سوا نہیں ہوتا اور حجاج بن منہال کی سند سے حماد بن زید نے یحییٰ ابن عییق سے حدیث بیان کی ہے کہ اس نے محمد بن سیدین کو کہتے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ خلع سوائے سلطان کی موجودگی کے جائز نہیں۔ پس خلع جائز نہ ہوگا یہاں تک کہ مرد سے پہلے عورت کو وعظ و نصیحت کرے اگر مان جائے تو خیر ورنہ زدوکوب کرے اس سے مان لیا جائے تو خیر ورنہ دونوں اپنا معاملہ سلطان کے پاس لے جائیں پس چاہئے کہ وہ ایک حکم زوجہ کے خاندان سے اور ایک ھکم شوہر کے خاندان سے مقرر کرے اور ان میں سے ہر ایک معاملہ سلطان کے سامنے پیش کریں جو کچھ وہ حکم اپنے صاحب سے سنیں اور اگر وہ ھاکم مناسب سمجھے تو تفریق کردے اور اگر مناسب سمجھے تو زوجین کو اکٹھا کردے۔
خلع کے جواز کے سلسلہ میں چابت بن قیس بن شماس کی بیوی کے خلع کا واقعہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس واقع کو خلع کے جواز میں اکثر خواتین نے بیان کیا ہے۔ ثابت بن قیس کی بیوی اس کے نکاح میں رہنے کیلئے آمادہ نہ تھی اور حضور اکرمﷺ کو اس امر کا اطمینان ہوگیا تھا کہ عورت اپنے شوہر سے اس قدر متنفر اور بیزار ہے کہ اگر ان میں خلع نہ کرایا گیا تو وہ حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے اور یہی وہ صورت ہے جو قرآن حکیم میں مذکور ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ قرآن کی مذکورہ آیت اسی سلسلہ میں نازل ہوئی اور یہ اسلام میں سب سے پہلا خلع تھا۔

عام حالات میں خلع کی ممانعت
ترمذی نے ایک حدیث بیان کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس عورت نے بھی اپنے شوہر سے بغیر کسی معقول عذر اور مجبوری کے خلع حاصل کیا اس پر بہشت کی خوشبو حرام ہے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ بہشت کی خوشبو نہ پائے گی۔ ان روایات سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ خلع کی اجازت اور جواز شدت جرورت کے وقت ہے۔

خلع اور حکم عدالت
امام بخاری نے لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے خلع کو جائز کیا ہے اگر چہ وہ سلطان کے سامنے نہ ہو عام علماء کے نزدیک بھی خلع کے جائز ہونے کیلئے سلطان (حاکم وقت)کا موجود ہونا شرط نہیں۔ امام کاسانی نے بھی اس نظریہ کو اپنی کتاب برائے الضائع میں صحیح لکھا ہے۔ امام مالک امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا بھی یہی قول ہے۔ حضرت عثمان غنی ؓ کا بھی یہی مسلک بیان کیا جاتا ہے۔ قاضی شریح، زہری اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔ ابن قدامہ مقدسی نے اس کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ چونکہ خلع عقد معاوضہ ہے لہذا جس طرح نکاح اور قطع عقد باہنی رضامندی سے ہوتا ہے اور جس طرح ایسے دوسرے عقود میں حاکم کی موجودگی شرط نہیں اسی طرح خلع میں بھی شرط نہیں ہے۔ لیکن فقہاء کے نزدیک خلع کیلئے حاکم وقت کی موجوگی ضروری نہ ہونے کا صرف یہ مطلب لیا جائے گا کہ فریقین باہمی خلع کرنا چاہیں تو اس کے جواز کیلئے حاکم یا قاضی کی شرط نہیں چنانچہ اگر فریقین باہمی رضامندی سے علیحدگی اختیار کرنا چاہیں تو اسکو فقہی اصطلاح میں ”مبارات“ کہا گیا ہے جو خلع کے حکم میں ہے لیکن اگر فریقین میں ناچاقی ہو تو اسکا فیصلہ کہ وہ حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے اور خلع کرانا چاہے کوئی تیسرا شخص ہی کر سکتا ہے اور ایسی صورت میں خلع عدالت کے ذریعے کرایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ اگر عورت رشتہ زوجیت کو منقطع کرنا چاہے اور مرد کو اسکا بدل دینے کیلئے آمادہ ہو تو اسلام مذکورہ شرائط کے ساتھ عورت کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ حاکم وقت یا اسکی قائم کردہ عدالت میں حاضر ہو استغاثہ پیش کرے اور بذریعہ عدالت شوہر سے خلع حاصل کرے۔ قرآن حکیم کی آیت اور ثابت بن قیس کو رسول کریم ﷺ کا حکم دینا کہ تم اپنا باغ واپس لے لو اور زوجہ کو طلاق دے دو اس امر کا ثبوت ہے کہ زوجین میں ناچاقی کی صورت میں عورت کی درخواست پر خلع کرانا عدالت کا فرض ہے جبکہ وہ اس پر مطمئن ہو جائے کہ فریقین کیلئے باہمی معاشرت میں احکام خداوندی کی پابندی کرنا ممکن نہیں ہے۔ ثابت بن قیس کے معاملے میں رسول کریم ﷺ کا فیصلہ یقینا اسلام کے سب سے پہلے قاضی کی حیثیت میں تھا۔

خلع کے ارکان
خلع کے پانچ رکن ہیں۔ اول مستلزم العوض (معاوضہ کا ذمہ دار)اس سے مراد وہ شخص ہے جو ادائیگی زر خلع کا ذمہ دار ہو خواہ اسکی ذمہ دار خود بیوی ہو یا اسکے علاوہ کوئی اور ہو۔ دوسرا رکن بضع(نسوانی خصوصیت)ہے جس سے بہرہ مند ہونے کا خاوند مالک ہوتا ہے یعنی بیوی کی وہ نسوانی خصوصیت کہ اگر خاوند طلاق بائن دیدے تو اسکی ملکیت ختم ہو جائے گی اور اب خلع کرنا درست نہ ہوگا۔ تیسرا رکن وہ معاوضہ یا مال ہے جو بیوی اپنی عصمت یا ازدواجی حیثیت کے عوض خاوند کو ادا کرتی ہے۔ چوتھا رکن خاوند ہے اور پانچواں رکن وہی عصمت یا ازدواجی حیثیت ہے۔ خلع کے لازمی اجزاء یہی پانچ ہیں انکی موجودگی کے بغیر خلع نہیں ہو سکتا ہے۔ حنفیہ کے مطابق اگر خلع کسی معاوضہ کے مقابلہ میں ہو تو اس کے ارکان ایجاب و قبول ہیں پس اگر خلع کی تحریک خاوند کی طرف سے ہو مثلاً خاوند بیوی سے کہے کہ میں تمہارے ساتھ اتنے پر خلع کرتا ہوں تو عورت کی حیثیت قبول کرنے والے کی ہوگی لیکن اگر خلع کی تحریک عورت کی طرف سے ہوئی ہو تو قبول کرنے والا خاوند قرار پائے گا۔ اگر خلع معاوضہ کے مقابلے میں نہ ہو بلکہ طلاق کی صورت میں ہو تو اسکے ارکان وہی ہوں گے جو طلاق کے ہیں۔ اس سے مراد وہ کیفیت ہے جسکی بناء پر حکم عائد کیاجائے اور لفظ اس حکم پر دلالت کرتے ہوں۔

شرائط متعلقہ معاوضہ خلع
معاوضہ خلع کی چند شرطیں ہیں منجملہ انکے ایک یہ ہے کہ معاوضہ ایسی شے کی شکل میں ہونا چاہئے جسکی کوئی قیمت ہو لہذا کوئی معمولی سی چیز جسکی کوئی قیمت نہیں ہے مثلاً گندم کا ایک دانہ اسے خلع کا معاوضہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ایک شرط یہ ہے کہ وہ مال پاکیزہ یا حلال ہو جس کا استعمال میں لانا درست ہو۔ شراب، سور، مردار یا خون کو خلع کا معاوضہ نہیں بنایا جا سکتا۔ شریعت اسلامیہ کی نگاہوں میں ایسی اشیاء کی کوئی قیمت نہیں ہے ہر چند کہ ان مین سے کچھ ایسی اشیاء ہیں جنکی غیر مسلموں کے نزدیک قیمت ہے پھر یہ بھی شرط ہے کہ وہ شے غصب کی ہوئی نہ ہو۔ مال کے عوض خلع کرنا درست ہے خواہ مال نقدی کی شکل میں ہو یا مال تجارت ہو یا مہر ہو یا ایام عدت کا نفقہ یا دودھ پلانے اور پرورش کرنے کی اجرت وغیرہ ہو۔

صیغہ خلع اور اسکی شرائط
خلع کیلئے ضروری ہے کہ اس کے الفاظ استعمال کئے جائیں لہذا ایک دوسرے کو محض مال عطا کر دینے سے خلع درست نہ ہوگا مثلاً بیوی خاوند کو مال دیکر اس کے گھر سے نکل جائے بغیر اسکے کہ خاوند نے اس سے یہ کہا ہو کہ تو مجھ سے اتنے کے عوض خلع کرلے اور وہ کہے کہ میں نے خلع کرلیا یا یہ ہو کہ عورت خاوند سے کہے کہ تم میرے ساتھ اس قدر معاوضہ پر خلع کرلو اور خاوند کہے کہ میں نے اتنے پر خلع منظور کرلیا۔غرض لفظوں میں خلع کیلئے ایجاب و قبول کا ہونا ضروری ہے۔ مذکورہ بالا عمل سے خلع نہیں ہوتا اگرچہ یہ عمل بہ نیت طلاق کیا گیا ہو یا خلع کا یہ طریقہ رائج ہو۔

مالکیہ کے مطابق
مالکیہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا عمل کیا گیا ہو جو بالعموم طلاق پر دلالت کرتا ہو تو اس سے طلاق پڑ جائے گی مثلاً بیوی نے اگر اپنے خاوند کو مال دیدیا اور دونوں ایک رسی کو پکڑ لیں اور اس رسی کو خاوند کاٹ دے اور یہ فعل ان لوگوں میں طلاق سمجھا جاتا ہے تو اس طرح کرنے سے اس معاوضہ میں طلاق بائنہ پڑ جائے گی۔اگر بیوی نے کوئی معاوضہ نہیں دیا اور ان لوگوں میں رواج یہ ہے کہ اس طرح رسی کو کاٹ دینا طلاق سمجھا جاتا ہے تو رسی سے طلاق رجعی پڑ جائے گی۔ اگر ایسا کوئی رواج مشہور نہ ہو اور کوئی شخص بہ نیت طلاق آئے اور ایسا کوئی قرینہ بھی موجو د ہے جس سے جس سے یہ فعل طلاق قرار دیا جا سکے۔ ایک شخص کا اپنے سسرال والوں سے جھگڑا ہو اور وہ لوگ کہیں کہ ہم نے جو کچھ تم سے لیا ہے واپس کرتے ہیں تم ہماری بیٹی کو واپس کردو تو اس فعل سے طلا ق بائن پڑ جائے گی۔ اگر چہ طلاق کا لفظ نہ بولا گیا ہو اور نہ اس طرح طلاق کا رواج ہو۔ اس عمل سے طلاق کا واقع ہونا دو باتوں پر موقوف ہے ایک تو یہ کہ ان لوگوں میں اس قسم کے عمل سے طلاق دینے کا رواج ہو دوسرا یہ کہ ایسا قرینہ موجود ہو جو اس فعل کو طلاق قرار یتا ہو تو طلاق ہو جائے گی۔

حنفیہ کے مطابق
حنفیہ کہتے ہیں کہ خلع کی تعریف میں خلع کے سات الفاظ ہیں۔ وہ حکم جس کا تعلق الفاظ خلع سے ہے وہ یہ ہے کہ بیوی کی طرف سے خلع کو قبول کرنے کی شر ط یہ ہے کہ وہ خلع کا مطلب جانتی ہو اگر بیوی عرب کی رہنے والی نہیں ہے اور خاوند نے اسے عربی زبان کے الفاظ کہے یعنی میں نے تمہارے ساتھ مہر اور نفقہ عدت کے عوض خلع کرلیا اور عورت یہ الفاظ منہ سے ادا کردے حالانکہ وہ اس کے معنی نہیں جانتی اور خاوند نے اسے قبول کرلیا تو بیوی پر طلاق بائنہ پڑ جائے گی لیکن بیوی پر اس شخص کا کوئی حق نہ ہوگا۔
خلع مرد کیلئے قسم کی حیثیت رکھتا ہے لہذا اگر اس نے بیوی سے اس طرح کہہ کر خلع کیا کہ میں نے تجھ سے ایک سو پر خلع کیا تو اب وہ اس بات سے پھر نہیں سکتا اور نہ اس کو فسخ کر سکتا ہے اور نہ عورت کو اس کے قبول کرنے سے باز رکھ سکتا ہے۔ خاوند کو یہ حق ہے کہ خلع کو کسی شرط سے مشروط کرے یا کسی وقت سے منسوب کرے پس اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ زید کے آنے پر میں ایک ہزار کے عوض تجھ سے خلع کرتا ہوں اور زید کے آنے پر بیوی نے اسکو قبول کرلیا تو خلع ہوگیا۔ اگر زید کے آنے سے پہلے اس نے قبول کیا تو خلع نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تیرے گھر میں داخل ہونے پر ایک ہزار کے عوض تجھ سے کلع کرتا ہوں پھر وہ گھر میں داخل ہوئی اور اس نے کہا کہ میں گھر میں داخل ہوگئی اور خلع کو قبول کرلیا تو درست ہے اور بیوی پر طلاق بائن پڑ جائے گی اور معاوجہ لازم ہو جائے گا لیکن اگر بیوی نے صرف یہ کہا کہ میں نے گھر میں داخل ہونا قبول کرلیا تو خلع نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر خلع کیلئے کوئی وقت مقرر کردیا مثلاً بیوی سے کہا کہ میں نے کل سے یا اس ماہ کے آخر سے بعوض ایک ہزار کے تجھ سے خلع کیا تو یہ درست ہوگا بشرطیکہ اگلا دن آنے پر یا مہینے کے آخر میں بیوی نے کہا کہ میں نے قبول کیا اگر اس سے پہلے ہی اس نے کہا کہ میں نے قبول کیا تو خلع نہ ہوگا۔

مالکیہ کے مطابق
مالکیہ کہتے ہیں کہ صیغہ کی تین شرطیں ہیں۔
پہلی شرط یہ ہے کہ خلع کی عبارت لفظوں میں ادا کی جائے یا خاوند ایسے الفاظ استعمال کرے جسکا مطلب طلاق ہو خواہ یہ مفہوم ان الفاظ سے صراحتاً نکلتا ہو یا کنایتہ پس اگر کوئی ایسا عمل کیا جو طلاق پر دلالت کرتا ہو اور زبان سے کچھ نہ کہا ہو تو اس سے طلاق واقع نہ ہوگی سوائے اس صورت کے جبکہ ایسا فعل طلاق کیلئے بالعموم رائج ہو یا طلاق کا قرینہ موجود ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ فریق ثانی اسی جگہ قبول کرے سوائے اسکے کہ خاوند نے قبولیت کو معاوضہ کی ادائیگی یا اسے پالینے کی شرط سے مشروط کررکھا ہو۔ ایسی صورت میں یہ شرط نہیں ہے کہ اسی جگہ قبولیت ہو چنانچہ اگر خاوند نے بیو ی سے کہا کہ اگر تو تیس اشرفی میرے حوالے کردے یا اس قدر مجھے دیدے تو تجھے طلاق ہے تو کاوند کو معاوضے کی ادائیگی وہاں کے علاوہ کسی اور جگہ بھی کی جا سکتی ہے اور جب بھی وہ ادا کرے اس پر طلاق بائنہ پڑ جائے گی۔
تیسری شرط یہ ہے کہ مال خلع کے بارے میں ایجاب و قبول کے الفاظ ایک دوسرے کے موافق ہوں چنانچہ اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ میں نے تجھے ایک ہزار کے عوض تین طلاق دیں اور بیوی نے کہا کہ میں ایک ہزار کی تہائی کے عوض ایک طلاق منظور کرتی ہوں تو اس سے طلاق عائد نہ ہوگی۔ ایسی صورت میں چاہئے کہ خاوند کہے کہ میں ہزار کے بغیر اسے طلاق دینے پر راضی نہیں ہوں بخلاف اسکے اگر بیوی نے خاوند سے کہا کہ مجھے ایک ہزار کے عوض تین طلاق دے دواور خاوند نے ہزار کے عوض ایک طلاق دی تو یہ طلاق لاگو ہوگی اور معاوضہ لازم ادا ہوگا کیونکہ اس طرح عورت اپنے نفس کی مالک ہو جائے گی۔ اسے طلاق بائنہ پڑ جائے گی اور اس سے زیادہ جو طلاق ہے اس سے احکام شریعت کا کوئی واسطہ نہ ہے اور اس سے عورت کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اسی طرح اگر بیوی خاوند سے کہے کہ تم مجھے ہزار کے عوض ایک طلاق دے دو اور خاوند نے تین طلاق دے دیں تو یہ صحیح ہوگا کیونکہ اس سے بیوی کی جو غرض تھی اس سے زیادہ حاصل ہوگی۔

شافعیہ کے مطابق
شافعیہ کہتے ہیں کہ الفاظ طلاق میں سے ہر لفظ خواہ وہ صریح ہو یا کنایہ وہ خلع کا لفظ ہے اور الفاظ بیع و فسخ بھی اس کیلئے کنایہ ہیں چنانچہ اگر ایک شخص نے بیوی سے کہا کہ میں نے تیرا نفس ایک ہزار میں تیرے ہاتھ فروخت کیااور طلاق کی نیت کی اور بیوی نے کہا کہ میں نے قبول کیا تو یہ خلع صحیح ہوگی اور اس طرح طلاق بائن پڑ جائے گی اور معاوضہ بیوی کے ذمہ لازم ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر کاوند نے کہا کہ میں ایک ہزار کے عوض تیرا نکاح فسخ کردیا تو اس صورت میں لفظ فسخ طلاق قرار پائے گا جس کے استعمال سے طلاق کی تعداد کم ہوجائے گی۔ خلع کے صریح الفاظ کی مثال یہ ہے کہ بیوی خاوند سے کہے کہ بیس کے عوض مجھے طلاق دے دو اور خاوند کہے کہ میں نے اتنے کے عوض تجھے طلاق دی تو اس سے بغیر نیت کے طلاق بائن پڑ جائے گی۔ اگر ایک سے زیادہ طلاق کی نیت کی تو جو نیت ہو وہی کچھ عائد ہوگا اگر بیوی نے خاوند سے کہا کہ بیس کے عوض مجھے جدا کردو اور خاوند نے کہا کہ میں نے تجھے جدا کردیا تو اس صورت میں بغیر نیت کے طلاق واقع نہ ہوگی۔

حنابلہ کے مطابق
حنابلہ کہتے ہیں کہ الفاظ خلع کیلئے چند شرطیں ہیں ایک شرط یہ ہے کہ خلع کیلئے زبان سے الفاظ ادا کئے جائیں باہمی لین دین سے خلع نہیں ہوتا اگرچہ اس عمل سے طلاق کی نیت ہو اس میں ایجاب و قبول لازم ہے۔دوسری شرط یہ ہے کہ ایجاب و قبول اسی جگہ ہوجائے چنانچہ اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ میں نے تیرے ساتھ رکنے پر خلع کیا اور قبل اس کے کہ عورت اسے منطور کرے وہاں سے اٹھ کھرا ہوا تو خلع درست نہ ہوگا اسی طرح اگر بیوی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہو اور خاوند نے قبول نہیں کیا تب بھی خلع نہ ہوگی۔ تیسری شرط یہ ہے کہ خلع بیوی کے کسی جزو (بدن)سے نہ ہو چنانچہ اگر کہا کہ میں نے تمھارے ہاتھ یا پاؤں سے خلع کیا اور بیوی قبول کرلے تو یہ لغو ہے کیونکہ خلع فسخ نکاح ہے طلاق نہیں ہے۔ اگر عورت کے کسی جزو کو فسخ کیلئے کہا جائے تو اس قول کا مفہوم متعین کرنا ہوگا بخلاف طلاق کے کہ اگر عورت کے وجود سے وابستہ کسی شے سے لفظ طلاق کو منسوب کیا گیا تو طلاق ہو جائے گی البتہ اگر خاوند نے بیوی سے یوں کہا کہ میں نے اس قدر معاوضہ پر تمھارے پیروں سے خلع کیا اور اس سے طلا ق کی نیت کی تو اب یہ طلاق ہے۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ خلع کرنے کو کسی امر سے مشروط نہ کیا جائے لہذا اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ اگر تو میرے لئے اس قدر خرچ کرے تو تجھے طلاق ہے تو خلع نہ ہوگا اگرچہ بیوی اس قدر خاوند کو عطا کردے بخلاف طلاق کے اسے مشروط کرنا درست ہے۔

خلع کی نوعیت بہ اعتبار حکم
خلع فسخ نکاح ہے یا طلاق اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلا ف پایا جاتا ہے۔ فتاوی عالمگیر ی کے مطابق احناف کے نزدیک خلع طلاق بائن کے حکم میں داخل ہے۔ برھان الدین مرغینائی مصنف ہدایہ نے لکھا ہے کہ خلع کی وجہ سے عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہوگی اور عورت کے ذمہ مال واجب الادا ہوگا۔ امام شافعی کے قدیم قول کے مطابق خلع میاں بیوی میں تفریق کا موجب ہوتا ہے اگر اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔امام شافعی کے آخری قول کے مطابق خلع طلاق بائن ہے۔
طاؤس اور دار قطنی بھی یہی روایت کرتے ہیں۔ عبدالرزاق سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے اور پھر وہ اپنی بیوی کو خلع دے تو چونکہ خلع سے طلاق واقع نہیں ہوتی لہذا وہ خلع تیسری طلاق نہ ہوگی اور مرد اپنی سابق بیوی سے بغیر حلالہ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے (فتح القدیر از ابن ھمام جلد نمبر3 صفحہ200)۔ ڈاکٹر تنزیل الرحمن کا مؤقف ہے کہ ایسی صورت میں حلالہ کے بغیر اپنی بیوی سے نکاح جدید کا نقطہ نظر بادی النظر میں غلط معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس طرح چار طلاقیں ہو جائیں گی حالانکہ چار طلاقیں کسی مذہب فکر سے ثابت نہیں۔ یہ دلیل کہ خلع طلاق نہیں فسخ ہے اور قرآن پاک میں تین طلاقوں کے بعد حلالہ کی پابندی یا شرط عائد کی گئی ہے۔ خلع اور طلاق کے لفظی فرق کے پیش نظر شاید درست ہو مگر حقیقت معنی اور مقصود کے اعتبار سے غلط قیاس پر مبنی ہے۔ قواعد فقہ کے تحت عقود میں حقائق اور معافی کا اعتبار کیا جائے گا نہ کہ ظاہر ی صورت اور الفاظ کا۔
(مجموعہ قوانین اسلام از ڈاکٹر تنزیل الرحمن جلد دوئم صفحہ 598)

حافظ ابن القیم نے اپنی کتاب ”زادالمعاد“میں اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ابن عباس حجرت عثمان، ابن عمر کے نزدیک خلع فسخ ہے طلاق نہیں چنانچہ امام احمد نے یحییٰ بن سعید، سفیان، عمرو، طاوس سے بہ سلسلہ اسناد ابن عباس سے روایت بیان کی ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا ”الفلح تفریق ویس بہ طلاق“ نیز یہ کہ عبدالرزاق نے سفیان، عمرو، طاوس کی روایت سے بیان کیا کہ ابراہیم بن سعید نے ایک شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیں اور پھر اس عورت نے اس مرد سے خلع حاصل کرلیا سوال کیا کہ ”کیا وہ اس بیوی سے نکاح کر سکتا ہے“ابن عباس نے جواب دیا ”ہاں“۔ حافظ ابن قیم نے آگے چل کر طلاق اور خلع کے مابین فر ق واضح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ طلاق اور خلع میں تین فرق ہیں ایک یہ کہ طلاق میں مرد رجوع کرنے کا زیادہ حقدار ہے جبکہ خلع میں رجوع کا کوئی ذکر نہیں۔ دوسرا یہ کہ طلاق تین کی تعداد میں شمار ہوتی ہے جبکہ خلع تعداد طلاق مین شامل نہیں اور تیسرا یہ کہ طلاق کی عدت تین حیض ہے جیسا کہ اجماع سے ثابت ہے جبکہ خلع کی عدت ایک حیض ہے جو سنت نبوی اور اقوال صحابہ سے ثابت ہے۔
حافظ ابن قیم نے صحابہ اور تابعین کے چند اقوال کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ اس نے مکرمہ سے سنا جو ابن عباس کا غلام ہے کہ اس نے ابن عباس کو ”ما اجازہ المال فلیس بطلاق“کہتے ہوئے سنا نیز ابن جریح نے طاؤس سے رویت بیان کی ہے کہ ”تیرا باپ نہیں دیکھتا تھا فدیہ میں طلاق کو“یعنی مال کے عوض تفریق کو طلاق نہیں خیال کرتا تھا۔
(زاد المعاد از ابن قیم جلد2 صفحات35،36)

ابن نجیم نے بحرالراق میں لکھا ہے کہ صنبیلہ کے نزدیک تفریق بالفلع فسخ ہے طلاق نہیں چنانچہ ان کے نزدیک خلع سے مرد کے اختیار طلاق کی تعداد کے لحاظ سے کمی واقع نہ ہوگی۔ بعض علماء کے نزدیک خلع سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے ان کے نزدیک شوہر اپنی بیوی کو خلع دینے کے بعد عدت کے اندر اس سے رجوع کر سکتا ہے البتہ اگر رجوع کرے گا تو اسے وہ معاوضہ واپس کرنا ہوگا جو وہ خلع کے عوض اپنی بیوی سے لے چکا ہے۔ لیکن صحیح نقطہ نظر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خلع اپنے اثر میں طلاق بائنہ کا حکم رکھتا ہے کیونکہ طلاق رجعی میں عدت کا زمانہ ختم ہونے تک نکاح باقی رہتا ہے اور مرد دوران عدت رجوع کر سکتا ہے جبکہ خلع بالبدل اپنے حکم میں طلاق بائنہ کا اثر رکھتی ہے درحقیقت ”عورت اپنے ذمہ مال کو محض اس لئے قبول کرتی ہے کہ اس کو اپنے نفس پر کامل قدرت حاصل ہو جائے اور یہ جب ہی ہوگا کہ وہ بائنہ ہو جائے“
(عین الھدایہ۔ کتاب الطلاق۔ باب الفلع جلد 2 صفحہ270)

اس نقطہ نظر کی تائید امام مالک کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے کہ ام بکر اسلہتہ نے اپنے شوہر سے خلع کیا اور وہ دونوں اپنا معاملہ حضرت عثمان ؓ کے پاس لے گئے تو حضرت عثمان نے اسے طلاق بائن قرار دیا۔ امام محمد نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ”خلع ایک طلاق بائنہ کے حکم میں ہے الدیہ کہ اسکی نیت تین طلاق دینا ہو یا تین طلاق کا نام لے۔ یہی قول حضرت عثمان، علی، ابن مسعود، ابن عباس، حسن بصری، عطاء، شریع، شعبی، ابو سلمہ، ابراہیم نخفی، زہری، سفیان ثوری،امام ابو حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی کا ہے۔
(ہدایہ جلد دوئم صفحہ270)

اس ضمن میں مصنف ہدایہ نے لکھا ہے کہ اس مسئلہ مین سب سے بہتر دلیل ثابت بن قیس والی حدیث ہے جس میں حضور ؐنے عورت کا راستہ چھوڑ دینے کا حکم دیا جو طلاق بائنہ کی دلیل ہے۔ چنانچہ جمہور علماء کا اس پر اتفا ق ہے کہ خلع ایک طلاق بائن کے حکم میں داخل ہے۔
(بحرالرائق از ابن نجیم جلد 4 صفحہ71)

بلاد اسلامیہ میں خلع سے متعلق قوانین – مصر کا قانون
مصر میں خلع کے موضوع پر کوئی قانون موضوعہ موجود نہیں ہے البتہ حسب احکام دفعہ 280 قانون نمبر31 بابت 1910 اسکے لئے عام حنفی قانون کے مطابق عملدرآمد کیا جاتا ہے چنانچہ مجموعتہ احکام الشرعیہ کی حسب ذیل دفعات 273 تا 278 اس موضوع پر ہیں۔
دفعہ273۔ اگر زوجین میں نا اتفاقی ہو اور وہ خوف کریں کہ وہ حقوق زوجیت اور اس کے موجبات ادا کرنے سے قا صر ہیں تو نکاح صحیح میں طلاق اور خلع جائز ہوگا۔
دفعہ274۔ خلع کی صحت کیلئے شرط ہے کہ خلع دینے والا شوہر طلاق واقع کرنے کا اہل ہو اور خلع لینے والی عورت اس کی صحل ہو۔
دفعہ275۔ خلع میں عوض شرط نہیں ہے لہذا اسکے ساتھ یا بغیر خلع واقع ہو جائے گا خواہ عورت سے صحبت ہوئی ہو یا نہیں۔
دفعہ276۔ شوہر کے واسطے قضاء جائز ہوگی کہ وہ اپنی زوجہ کو اس معاوضہ سے زائد پر خلع کرے جو اس نے اپنی زوجہ کو دیا ہو۔
دفعہ277۔ خلع سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے خواہ بعوض مال ہو یا بلا عوض مال۔ اس میں تین طلاق کی نہت بھی درست ہوگی۔ خلع قضائے قاضی پر موقوف نہ ہوگا۔

شام کا قانون
شام میں خلع سے متعلق حسب ذیل قانون نافذ ہیں۔
دفعہ94۔ ہر طلاق رجعی واقع ہوتی ہے سوائے طلاق مکمل مثلائے، طلاق قبل دخول اور طلاق علی المال کے۔
دفعہ95 الف۔ خلع کی صحت کیلئے شرط ہے کہ خلع دینے والا شوہر طلاق واقع کرنے کا اہل اور خلع لینے والی عورت اسکی صحل ہو۔
ب۔ اگر عورت سن رشد کو نہ پہنچی ہو پس جب وہ خلع کی جائے تو اس پر بدل خلع لازم نہیں آتا مگر ولی مال کی موافقت سے۔
دفعہ96۔ ہر ایک کو دوسرے کے قبول کرنے سے پہلے ایجاب سے رجوع کرنا جائز ہوگا۔
دفعہ97۔ ہر وہ شے جسے لزوم شرعاً صحیح ہو خلع کا معاوضہ ہو سکتی ہے۔
دفعہ98۔ جب مہر کے علاوہ کسی اور شے پر خلع کیا جائے تو عورت پر اسکی ادائیگی لازم ہوگی اور خلع کرنے والے فریقین تمام حقوق سے جو مہر اور نفقہ سے متعلق ہوں بری ہو جائیں گے۔
دفعہ99۔ جب خلع کرنے والے فریقین خلع کے وقت کسی شے کا ذکر نہ کریں تو وہ دونوں ایک دوسرے کے حق مہر اور نفقہ سے بری ہو جائیں گے۔
دفعہ100۔
جب خلع کرنے والے فریق صراحت کے ساتھ بالمعاوضہ خلع کی نفی کریں تو خلع پانے والی عورت طلاق محض کے حکم میں داخل ہوگی اور اس سے صرف ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔

عراق کا قانون خلع
عراق میں خلع کے موضوع پر حسب ذیل قانون نافذ ہے۔
دفعہ42 (1)۔ خلع قید زوجیت کے لفظ ”خلع“یا جو اسکے ہم معنی لفظ ہو کے ساتھ ازالہ کا نام ہے جو ایجاب و قبول کے ذریعہ قاضی کے روبرو منعقد ہوتا ہے۔
(2) خلع کی صحت کیلئے شرط ہے کہ خلع دینے والا شوہر طلاق واقع کرنے کا اہل اور زوجہ اسکی صحل ہو اور خلع سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے۔

پاکستان میں قانون خلع۔مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961
(دفعہ8 طلا کے علاوہ تنسیخ نکاح)
جب بیوی کو حسب ضابطہ طلاق کا حق دیا گیا ہو اور وہ اس اختیار کو استعمال کرنا چاہتی ہو یا جب کسی شادی کے فریقین میں سے کوئی طلاق کے علاوہ تنسیخ نکاح چاہتا ہو تو دفعہ7 کے احکامات مناسب ردو بدل سے اور جہاں تک قابل اطلاق ہوں اطلاق پذیر ہوں گے۔
دفعہ7۔ طلاق
1۔ جو شخص اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہو وہ طلاق کا اعلان خواہ کسی شکل میں بھی ہو کرنے کے بعد جس قدر جلد ہو سکے ایسا کرنے کا چیئر مین کو تحریری طور پر نوٹس دے گا اور اسکی ایک نقل بیوی کو مہیا کرے گا۔
2۔ جو کوئی ضمنی دفعہ1 کے احکامات کی خلاف ورزی کرے گا وہ قید محض جسکی مدت ایک سال تک ہو سکتی ہے یا جرمانہ جو پانچ ہزار روپے تک ہو سکتا ہے یا دونوں سزاؤں کا مستوجب ہوگا۔
3۔ سوائے اس کے کہ جیسا ضمنی دفعہ5 میں محکوم کیا گیا ہے کوئی طلاق ماسوائے اس کے کہ قبل ازیں واضح طور پر یا بصورت دیگر منسوخ کردی گئی ہو ضمنی دفعہ1 کے تحت چیئر مین کو دیئے گئے نوٹس سے نوے دن گزرنے تک مؤثر نہ ہوگی۔
4۔ ضمنی دفعہ1 کے تحت نوٹس وصول ہونے کی تاریخ سے تیس دن کے اندر چیئرمین فریقین میں مصالحت کرانے کی غرض سے ایک ثالثی کونسل تشکیل دے گا اور ثالثی کونسل ایسی مصالحت کرانے کیلئے تمام ایسے اقدامات اٹھائے گی جو ضروری ہوں۔
5۔ اگر طلاق کے اعلان کے وقت بیوی حمل سے ہو تو طلاق اس وقت تک مؤثر نہ ہوگی جب تک کہ ضمنی دفعہ3 میں متذکرہ مدت یا مدت حمل جو بھی موخر ہو ختم نہ ہوجائے۔
6۔ ایسی بیوی کیلئے جسکا نکاح دفعہ ہذا کے تحت مؤثر شدہ طلاق سے فسخ ہو چکا ہو کسی دیگر شخص سے شادی کے بغیر اس شوہر سے دوبارہ شادی کرنے میں موئی امر مانع نہ ہوگا ماسوائے اسکے کہ ایسا نکاح تیسری بار فسخ ہو چکا ہو۔
پاکستان میں خلع سے متعلق کوئی باقاعدہ قانون موضوعہ (Enacted Law) موجود نہیں ہے۔ خلع کے دعویٰ کو دفعہ8 مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت سماعت کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی عدالتوں نے خلع کی تعبیرو تشریح سے متعلق نہایت اہم فیصلہ جات دیئے ہیں جو خلع کے معاملے میں گائیڈ لائن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
جسٹس عبدالرحمن اور جسٹس ہارنس نے ایک مقدمہ عمربی بی بنام مہر دین میں قرار دیا کہ یہ عدالت کیلئے قابل قبول نہیں کہ وہ شوہر کی مرضی کے بغیر خلع کرائے، ساتھ ہی فاضل جج صاحبان نے یہ بھی قرار دیا کہ نا پسندیدگی یا نفرت کی بناء پر عدالتیں نکاح کو فسخ نہیں کر سکتیں۔ اس مقدمہ میں عدالت ابتدائی نے اس بناء پر کہ عورت اپنے شوہر سے ا س درجہ متنفر ہے کہ اسکا اپنے شوہر کے ساتھ کسی طور پر بھی سکون اور آرام کے ساتھ رہنا ممکن نہ تھا تنسیخ نکاح کا حکم جاری کردیا گیا۔
(Air 1945 Lah 51)

اپنا تبصرہ بھیجیں