جب قوانین کو ایک ہدایت کے ذریعہ غیر مؤثر کردیا گیا

جب قوانین کو ایک ہدایت کے ذریعہ غیر مؤثر کردیا گیا


قیام پاکستان کے بعد 1951 ء میں Punjab Tenancy Act میں ترمیم کرنے کے بعد لاکھوں موروثی مزارعین کو حقوق ملکیت تفویض کئے گئے اور انسانوں کو غلامی سے نکال کر معاشرے میں با عزت مقام دیا گیا جو کہ حقیقی انقلاب کی طرف پہلا قدم تھا۔اس کے بعد ایوب خان کے دور میں 1959 ء میں زرعی اصلاحات نافذ ہوئیں۔پھر 1972 ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے زرعی اصلاحات کا نفاذ کیا لیکن نوکر شاہی سے ہر طریقے سے مزارعین کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کیلئے ہر جگہ روڑے اٹکائے۔ابXXVII of Act 2012 نافذ کیا گیا ہے۔
PLD 2013 Punjab Statute1 جسکی رو سے مزارعان اور مقرری داران کو حقوق ملکیت دیئے گئے۔ اس ایکٹ میں مالک کو بھی حق دیا گیا کہ وہ اپنے حقوق ملکیت کا تحفظ کر سکتا ہے۔اس طرح 24-10-2012 کو رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کی گئی جس کے ذریعے اگر سکی اربن ایریا میں جائیداد کی تقسیم بر بنائے وراثت ہو تو Pastition Deed کو Stamp Duty سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ علاوہ ازیں پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ2013 II of مورخہ 15-01-2013 کو نافذ ہو اجو کہ NLR 2013 Punjab Statute 14 پر شائع ہوا۔ اسکی رو سے یہ قرار دیا گیا کہ انتقال وراثت تصدیق کے دوران اگر وارثان آپسمیں خانگی تقسیم کرلیں تو ریونیو آفیسر کی ڈیوٹی ہوگی کہ اس پر عمل درآمد کرے۔ دوسری صورت میں انتقال کی تصدیق کے بعد ایک ماہ کے اندر تمام ھق داران کو نوٹس دیا جائے گا اور اگر آپسمیں خانگی تقسیم نہ کر سکیں تو اسی وقت تقسیم کی کاروائی شروع کردی جائیگی۔ یتیموں اور بیواؤں کی حق رسی اس ظالم معاشرے میں ایک انقلابی قدم ہے لیکن جب یہ معاملات بورڈ آف ریونیو میں زیر تجویز تھے تو ان تمام قوانین کو غیر مؤثر کرنے کیلئے سازشی طور پر ایک نوٹیفکیشن نمبر2952 مورخہ 03-09-2012 کو جاری کردیا گیا کہ انتقال وراثت کی تصدیق کیلئے متوفی کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی نقل، تصدیق شدہ ”ب“فارم، یونین کونسل سے اصل نقل رجسٹر اموات،متوفی کے وراثان کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی نقل،”ب“فارم تصدیق شدہ،متوفی کے پہلے فوت شدہ وارثان کی نقل اموات،اگر متوفی کی بیوہ طلاق یافتہ ہو تو یونین کونسل سے تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ،متوفی کے وارثان کے بیان حلفی،گاؤں کے نمبردار اور مقامی حکومت کے دو ممبران کی تصدیق متوفی کے والدین اگر پہلے سے فوت شدہ ہوں تو فیملی سرٹیفکیٹ، تصدیق شدہ فارم اور دو اخبارات میں اشتہارات درکار ہیں۔ دراصل لینڈ ریکارڈ کے کمپیوٹرائزڈ ہونے کی وجہ سے محکمہ مال والے اپنی ناجائز کمائی سے محروم ہوگئے ہیں اسلئے اب اربوں کی کرپشن کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے ذریعے مذکورہ بالا قوانین کو غیر مؤثر کردیا اور لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 اور لینڈ ریکارڈ مینول کو بھی غیر مؤثر کردیا گیا۔ اس طرح کرپشن کی راہ ہموار کردی گئی۔لینڈ ریونیو کی دفعہ42(7) کے تحت اگر انتقال وراثت یا بیعنامہ رجسٹری شدہ انتقال ہو وہ صرف حصہ داران موضع یا ممبر یونین کونسل کی شناخت پر تصدیق کروایا جائے گا۔وہاں ورثاء کا ہونا ضروری نہ ہے۔دفعہ42(8) کے تحت انتقال گاؤں کی اسمبلی میں تصدیق ہوگا۔موجودہ ہدایات کے مطابق اتنی ذیادہ قدغن لگادی گئی ہیں یہ تمام Requirements پوری کرنا یتیم اور بیوہ خواتین کیلئے ناممکن ہے۔شرائط بیان حلفی کی حد تک، شناختی کارڈ کی حد تک قابل برداشت ہے۔
اب صورت حال یہ سامنے آرہی ہے کہ وارثان کا اندراج جمعبندی کے خانہ کاشت بندوبست چہارم سے چلاآیا ہے۔اب جو لوگ کمپیوٹرائزڈ کارڈ سے پہلے دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں وہ مذکورہ کارڈ کہاں سے پیش کریں اور ”ب“ فارم کہاں سے لائیں۔ موروثی مزارعین کو حق ملکیت نہ مل سکے گا۔ جہاں تک متوفی کی وفات کا تعلق ہے جو لوگ تقسیم ملک سے پہلے یا دوران فسادات شہید ہوگئے ان کا اندراج نہ ہے۔ وہ کہاں سے نقول حاصل کریں۔ اب ورثاء کی شناختی کارڈ کے ساتھ فارم”ب“کی ضرورت نہ ہوتی ہے اور یہ کمپیوٹر کے ذریعے خود تصدیق کیا جا سکتا ہے کیونکہ تمام ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہیں۔ یہ امر طے شدہ ہے کہ انتقال Summary Procedure ہے اور سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے۔ “2004 SCMR 392” حق وراثت کیلئے انتقال کا تصدیق ہونا ضروری نہ ہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 189 کے تحت سپریم کورٹ کا فیصلہ Binding ہے لیکن ان ترامیم کے پیش نظر جب ایک شخص ان تمام ہدایات پر عمل نہ کرے گا تو وہ مالک نہ بن سکے گا۔اسطرح جب یتیم اور بیوہ مالک ہی نہ بن سکیں گے تو تقسیم جائیداد کس طرح ہوگی۔ تمام قوانین غیر مؤثر کردیئے گئے ہیں اور اب صرف کرپشن کا دروازہ کھلا ہے اور انتقال وراثت کی تصدیق کیلئے اب یتیم اور بیوہ محکمہ مال کی Requirements پوری نہ کر سکتے ہیں چنانچہ محرومی ان یتیموں اور بیواؤں کا مقدر بن گئی ہے۔موجودہ بالا قوانین غیر مؤثر ہو گئے ہیں۔2001 SCMR 1806 میں قرار دیا گیا ہے کہ تمام رولز مساوی ہونے چاہئیں اور Main Statute سے متصادم نہ ہونے چاہئیں جبکہ موجودہ ہدایات کے ذریعہ لینڈ ریونیو ایکٹ کی دفعات 42(7),42(6) اور42(8) کو غیر مؤثر کردیا گیا ہے اسطرح لینڈ ریکارڈ مینول بھی غیر مؤثر ہو گیا ہے۔
پہلے ورثاء کی عدم موجودگی میں انتقال تصدیق ہو سکتا تھا۔نمبردار اور یونین کونسل کا ممبر تصدیق کر سکتا تھا اب عملاً یتیموں اور بیواؤں کے لئے ناممکن ہے کہ وہ نمبردار اور ممبر دونوں کو پیش کر سکیں اور اگر کسی یتیم یا بیوہ کی نمبردار یا ممبروں سے ناراضگی ہو تو انتقال تصدیق نہ ہو سکتا ہے۔  جہاں تک فارم ”ب“کا تعلق ہے تو کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ سے اسکی تصدیق ہو سکتی ہے۔جب کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کی کاپی موجود ہو تو ولدیت کی تصدیق بھی ہو جاتی ہے اور”ب“فارم بھی چیک کر سکتے ہیں۔ لینڈ ریکارڈ مینول باب3 کے تحت پٹواری کی ڈیوٹی ہے کہ اگر کوئی حقدار فوت ہو جائے تو اسکے ایک ماہ کے اندر انتقال وراثت درج کر دے اور پٹواری رجسٹر چوکیدار سے پڑتال کر سکتا ہے۔اس طرح ترمیم کے بعد لینڈ ریکارڈ مینول باب3 پیرا2 27- کو غیر مؤثر کردیا گیا ہے۔  باب3 پیرا نمبر81(V) کے مطابق پٹواری کی ذمہ داری ہے کہ وہ حقداران کی پڑتال کرے اگر کوئی پٹواری قانون پر عمل نہیں کرتا تو اسکی سزا یتیموں اور بیواؤں کو کیوں دی جاتی ہے۔نا اہلی کی سزا دوسروں کو کیوں دی جاتی ہے۔ باب3 پیرا نمبر15(7) لینڈ ریکارڈ مینول کے تحت پٹواری کی ڈیوٹی ہے کہ وہ حقداران کی فوتگی کے بعد Death Register کی پڑتال کرے اور انتقال تصدیق کرے۔ان قوانین کی موجودگی میں یتیموں اور بیواؤں سے غیر ضروری دستاویزات فراہم کروانا انصاف کے ساتھ مذاق ہے۔ وارثان متوفی پہلے ہی مالک دیہہ ہوتے ہیں ان کا شجرہ نسب بھی جمعبندی کے ساتھ لف ہوتا ہے۔ اگر شجرہ نسب ریونیو ریکارڈ سے مل سکتا ہے تو پارٹی کو سزا دینے کی کیا ضرورت ہے کہ وہ غیر متعلقہ نقول فراہم کرے ان حالات میں انتقال وراثت تصدیق کروانا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔
1997 SCMR 1934 میں قرار دیا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین شہریوں کے حقوق کے محافظ ہوتے ہیں۔ ان کو شہریوں کی رہنمائی کرنی چاہئے اور سرکاری ملازمین غیر ضروری قدغن لگا کر لوگوں کو حقوق سے محروم نہیں رکھ سکتے جبکہ1985 SCMR 1753 میں قرار دیا گیا ہے کہ جو روایت عرصہ دراز سے قابل عمل ہو تو اسکو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون کا تقاضہ یہ تھا کہ پٹواری انتقال درج کرکے تصدیق کرائے اور مالک دیہہ کی بھی تصدیق کر سکتا ہے۔جبکہ پٹواری دیہہ میں مستقل رہائش پذیر ہو تو فوتیدگی بھی اس کے علم میں ہوتی ہے لیکن جب پٹواری اور افسرا ن بالا گاؤں کا دورہ ہی نہ کریں تو پھر مالکان، حقداران کی تصدیق کیسے ہوگی۔ یونین کونسلوں کی ریکارڈ کی تصدیق نہ کریں توپھر مالکان دیہہ کو سان کے حقوق کیسے مل سکیں گے۔ دو اخبارات میں اشتہار بازی کا خرچہ 8 سے 10 ہزار روپے ہے جو یتیموں اور بیواؤں کیلئے ادا کرنا نا ممکن ہے اسطرح گورنمنٹ مذکورہ ترامیم کرکے یتیموں اور بیواؤں کو ان کے جائز حقوق سے محروم کرنے کے عمل میں حصہ دار بن گئی ہے۔ پھر بورڈآف ریونیو نے ان جدید ترامیم کے ذریعہ سے سابق قوانین کو غیر مؤثر کردیا ہے۔ اگر ان ہدایات پر عمل کیا جائے تو انتقال وراثت کی تصدیق نا ممکن ہے اور ا ن ہدایات کے تحت اربوں کی کرپشن ہو رہی ہے۔اب انتقال وراثت کی تصدیق پر قد غن لگا کر رشوت کا نیا باب شروع کردیا گیا ہے۔  کیا ہماری وفاقی اور صوبائی گورنمنٹ اتنی بے بس ہے کہ ایک غاصب، ظالم اور رشوت کی راہ ہموار کرنے والے کو لگام نہیں دے سکتی۔ اب جائیداد خریدنا آسان ہے اور انتقال وراثت تصدیق کروانا ناممکن ہوگیا ہے۔اگر حکمران خودقانون پر عملدرآمد نہیں کروا سکتے تو قانون سازی کی کیا ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں