جناب جسٹس ثاقب نثار صاحب۔ سپہ سالار وکلاء فوج

جناب جسٹس ثاقب نثار صاحب۔ سپہ سالار وکلاء فوج


جناب عالی!
گزارش ہے کہ آپکی جانب سے سوا لاکھ وکلاء کو اپنی فوج قرار دیئے جانے کے بعد میں وکلاء فوج کے ایک ادنیٰ سپاہی کی حیثیت سے اپنے سپہ سالار کی خدمت میں چند معروضات پیش کرنے کی اجازت کا خواہاں ہوں۔میری اس جرأت کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ آپ نے جناب جاوید چوہدری کوخود یہ اجازت دی ہے کہ اگر کوئی غلطی ہو تو آپکی توجہ دلائی جائے۔دیگر لوگ آپکی ریٹائرمنٹ کے بعد ہی آپکی توجہ دلائیں گے مگر میں پاکستان کے ایک موقر قانونی جریدے ماہنامہ القانون کے مدیر اعلیٰ اور آپکی وکلاء فوج کے ادنیٰ سپاہی کی حیثیت سے اپنے پیشے کے تقدس اور ادارے کے وقار کو برقرار رکھنے کیلئے چند معروضات عرض کرنا چاہتا ہوں امید ہے آپ مثبت انداز میں اسکو دیکھیں گے۔

جناب عالی!
میں نے گزشتہ پنتیس سال اس دشت وکالت میں گزارے ہیں۔ مگر کسی خالد انور جیسے نامی گرامی شخصیت کا دست شفقت نہ ہونے کی وجہ سے وکیل کے طور پر زندہ ہوں اور اسی حیثیت میں سدھاروں گا۔تحریک نجات میں جب آج کی طرح نون لیگ سے تعلق پر وکیل بھی کتراتے تھے۔انسانی حقوق کے علمبردار کی حیثیت سے عباس شریف مرحوم، حمزہ شریف اور چوہدری پرویز الہٰی جیسے لیڈروں کی وکالت کی۔ رہائی کے بعد عدالت کے دروازے پر محترم جناب چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الہٰی نے شکریہ ادا کیا۔ اسکے بعد نہ کسی سے کوئی توقع اور نہ ہی کوئی دست شفقت کی امید، اسی لئے ہمیشہ ایک وکیل سپاہی کی زندگی گزاری اور آج بھی اپنے پیشے اورپیشے کے تقدس کو قائم رکھنے پر میں اپنے ضمیر کے سامنے مطمئن ہوں، اسلئے نہ مجھے اپنے افعال پر کسی کے سامنے قسمیں کھانے، نہ کسی کو بلا کر اپنی آپ بیتی سنا کر خود کو فرشتہ صفت انسان ثابت کرنے کی ضرورت پڑی اور نہ ہی الحمداللہ کبھی کسی کو یہ کہنا پڑا کہ میں جو فیصلہ کررہا ہوں اسکے لئے مشاورت کس سے کررہا ہوں۔میں نے بطور ایک وکیل ہمیشہ آزادی کے ساتھ اور پوری ایمانداری کے ساتھ ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا اور اس ملک میں انصاف کا بول بالا رکھنے کیلئے پہلے بھی اور انشاء اللہ آئندہ بھی پوری توانائی کے ساتھ اپنی آواز بلند کرتا رہوں گا۔

جناب عالیٰ!
آپ سے مخاطب ہونے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ آپ کو یہ گزارش کروں کہ اصلی فوج اور وکالتی فوج میں ایک بہت ہی بڑا فرق ہے۔فوجی محاز پر لیفٹ رائٹ ہو سکتا ہے مگر وکالتی محاز پر صرف رائیٹ ہی رائیٹ ہوتا ہے۔ عدالتی محاز پر اگر لیفٹ رائیٹ ہو تو نظام تباہ ہو سکتا ہے۔ فوجی محاز پر بھی فوجی معاملات کے علاوہ قومی اور بین الاقوامی امور پر مشاورت کے ساتھ محدود مداخلت کی اجازت دی جاتی ہے،جو کہ ناپسندیدہ فعل ہے، مگر قومی سلامتی کے تناظر میں کسی حد تک گنجائش دی جا سکتی ہے،مگراپنے سپہ سالار کو یہ اجازت خود فوج بھی نہیں دیتی کہ فوجی سپہ سالار فوج کے معاملات کو نظر انداز کرکے دیگر قومی انتظامی معاملات میں الجھ جائے۔ فوجی سپہ سالار ہو، وکالتی سپہ سالار ہو یا سیاسی سپہ سالار ہو سب کا بنیادی فریضہ اپنے ادارے پر توجہ دینا اور اپنے ادارے کی ساکھ کو بحال رکھنا ہے۔ پرویز مشرف کی جانب سے فوج کو نظر انداز کرنے کا نقصان یہ ہوا کہ فوجی افسران وردی میں باہر نہیں گھوم سکتے تھے، بعد کے جر نیلوں کو یہ مقام بحال کرانے میں سالہا سال محنت کرنی پڑی۔

جناب عالیٰ!
آپ نے لاہور میں اپنی تقریر میں صحت اور صفائی کو بنیادی حق قرار دیکر عوام کے اس بنیادی حق کے تحفظ کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنے کا عہد کرکے عوام کی نہ صرف توجہ دلائی ہے بلکہ انتہائی مؤثر طور پر اپنے بنیادی حقوق کے متعلق شعور پیدا کیا ہے جو کہ یقیناایک شاندار کاوش ہے۔ پنجاب خصوصاً لاہور کی خوش قسمت عوام کو پہلی بار اپنے بنیادی حقوق اور ان کی خلاف ورزیوں سے متعلق آگاہی ملی ہے۔ عوام کو یہ بھی پہلی بار محسوس ہوا ہے کہ معاشرہ انصاف کے بغیر تو قائم رہ سکتا ہے مگرصحت اور صفائی کے بغیر نہیں چل سکتا۔آپکی اس اہم کاوش سے عوام بہت خوش ہیں کہ 20/25 سال میں عوام کو انصاف فراہم کرنے والی فعال عدلیہ اب قوم کے اصل بنیادی حقوق کی طرف بھی متوجہ ہو گئی ہے جو کہ لائق تحسین اقدام ہے انصاف کے معاملے میں قوم ویسے بھی مطمئن تھی کہ تیز اور سستا انصاف مہیا کرنے کیلئے تو ملٹری کورٹس بھی موجود ہیں لیکن صحت اور صفائی کیلئے کوئی مؤثر چیک اینڈ بیلنس نہیں تھا جو آپ کی رہنمائی نے وہ کمی پوری کردی ہے۔

جناب عالیٰ!
پاکستان کے صوبہ پنجاب خصوصاً لاہور میں آپ جس تندہی کے ساتھ صحت اور صفائی کے حقوق کا تحفظ کررہے ہیں اس سے یہ تاثر بھی ابھر رہا ہے کہ باقی صوبوں کے عوام کے بنیادی حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں اور آپ رات دن پنجاب کی کرپٹ حکومت اور کرپٹ انتظامیہ کو دوسرے صوبوں کے لیول پر لیجانے کی جومخلصانہ جدو جہد آپ کررہے ہیں اس کیلئے چیف تیرے جانثار، بے شمار بے شمار کے کچھ مدہم نعرے سننے کو بھی مل رہے ہیں جو انشاء اللہ تعالیٰ آپکی تمام دوران ملازمت گونجتے ہوئے ملیں گے۔

جناب عالی!
ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے سپہ سالار کی پالیسیوں پر ادارے کے اندر اور باہر کچھ عدم اطمینان ہے۔ انصاف کا دائرہ کار صرف پنجاب بلکہ لاہور تک محدود ہونے، ادارے کے معاملات سے لاتعلقی، اپنی خواہشات کا بر ملا اظہار، غیر ضروری طور پر پبلک اپئیرنس، انٹرویوکے علاوہ بھی کئی ایسے معاملات ہیں جس پر عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ پشاور بار رجمنٹ کو وضاحت بھیجنا اور کوئٹہ بار رجمنٹ میں پھیلی عدم اطمینان کی صورت حال پر توجہ دینے، وکالتی محاز کے مسائل، عدلیہ میں کرپشن، بے تحاشہ زیر التواء مقدمات اور دوسرے کئی معاملات زیادہ اہم ہیں، کیونکہ معاشرے کو انصاف کی اشد ضرورت ہے۔انصاف خود کو ٹھیک کرے تو سب ٹھیک ہو جائے گا، ورنہ نہ دوسرے ٹھیک ہوں گے اور نہ ان کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت رہے گی۔یہ نہ ہو کہ آنے والے وقتوں میں ہم بھی کالے کوٹ پہن کر اور سر اٹھا کر گھومنے کے قابل نہ رہیں۔

جناب عالیٰ!
میں نہایت ادب کے ساتھ یہ عرض کرتا ہوں کہ میرا مقصد کسی کی توہین نہیں ہے۔بلکہ اصلاح کی طرف توجہ دلانے کی کوشش ہے۔ میں نے کافی تلاش کیا کہ جسٹس کا رنیلس اورجسٹس حمود الرحمن کے ہسپتالوں اور اداروں میں چھاپوں اور بیانات کا ریکارڈ حاصل کروں مگر مجھے وہ ریکارڈ نہ تو اخبارات کے کالموں میں ملا، نہ فرنٹ پیچ پر ملا، صرف قانون کی کتابوں اور عوام کے دلوں میں ملا۔میں نے ہر دو معززجج صاحبان کے فیصلوں میں ناولوں کے تذکرے، گارڈ فادر اور سسلین مافیا جیسی شاندار اصطلاحات اور شعرو شاعری تلاش کرنے کی بھی کوشش کی مگر شدید مایوسی ہوئی کیونکہ ہر دو سابقہ معزز جج صاحبان نے قانون اور انصاف کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے آزادانہ اور ایماندارانہ طور پر اپنے فیصلے صادر کئے اور ا ن میں آئین اور قانون کے حوالے دیکر ان کو معتبر بنایایہی وجہ ہے کہ آج مذکورہ سابقہ دو نوں چیف جسٹس صاحبان آپکے بھی مشعل راہ ہیں ہمارے بھی ہیں اور پوری قوم کے ہیں۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ پاک آپکو صحت اور صفائی کے بنیادی حق کے تحفظ میں سرخرو کرے اور آپکو جسٹس کارنیلس اور حمود الرحمن سے بھی ذیادہ عزت و مقام نصیب ہو۔ آمین

سید لیاقت بنوری ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اسلام آباد

اپنا تبصرہ بھیجیں