خصوصی انٹرویو۔جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد

خصوصی انٹرویو۔جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد


 میزبان: طاہر راجپوت، جاوید شاہد برنی،عاصم علی رانا – تصاویر/لقمان احمد، رانا عبدالرحمن

ماہنامہ ”القانون“ اسلام آبادکو پاکستان میں انسانی حقوق اورآئین کے تحفظ کیلئے جدوجہد، قانون کی تعلیم اور عام پاکستانی میں شعور کی بیداری کیلئے متحرک کردار ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ تاریخ دان جب پاکستان کی تاریخ لکھیں گے اور 21ویں صدی کے مارشل لاء کا ذکر آئے گا تو ماہنامہ ”القانون“ اسلام آبادکا ذکر بھی آئے گا کیونکہ ”القانون“ نے تاریخی شخصیات کے دنیائے فانی سے رخصت ہونے سے قبل ہی تاریخ کی درستگی کیلئے گذشتہ تاریخی لمحات کو قلم بند کردیا تاکہ تاریخ لکھنے والوں کو اصل حقائق تک پہنچنے میں وقت نہ لگے۔ معروف قلم کار، انسانی حقوق کے کارکن اور قانون دان سید لیاقت بنوری نے 12اکتوبر 1999ء کے مارشل کیخلاف اور جمہوریت کی بحالی کیلئے قلم کے جہاد کا مشکل ترین بیڑا اٹھایا جی ہاں یہ وہی وقت تھا جب صحافت ایک طرح سے پابند ِ سلاسل تھی لیکن سید لیاقت بنوری نے اپنی فکر کرنے کی بجائے قوم کے بہتر مستقبل کی فکر کی۔ یہ تحریرلکھتے ہوئے مجھے میرے والد مرحوم اللہ بخشے عبدالشکور احمد راجپوت یاد آرہے ہیں جو ماہنامہ ”القانون“ اسلام آباد کا شمارہ ملتے ہی سید لیاقت بنوری ایڈووکیٹ کو فون کیا کرتے تھے ”کہ آپ ابھی باہر ہی ہیں جیل تو نہیں گئے۔ ابا جی کو جواب ملتا تھا ابھی تک تو باہر ہی ہیں لیکن ذہنی طور پر تیار ہیں“ اس عرصے میں ایک دو مرتبہ ماہنامہ ”القانون“ اسلام آباد کو بندکیا گیا، پرنٹنگ رکوائی گئی اور پرنٹ شدہ کاپیوں کو پریس سے تحویل میں لیا گیا لیکن سید لیاقت بنوری ایڈووکیٹ نے ہمت نہ ہاری اور اپنے مشن کو جاری رکھا اور جنوری 2000ء سے شروع ہونے والا یہ مشن آج 2018 ء میں بھی جاری و ساری ہے۔ تاریخ کو درست کرنے کیلئے ماہنامہ ”القانون“ اسلام آباد کی کراچی بیورو کی ٹیم نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج اور تحریک انصاف کے اہم سابق رہنما جناب جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد سے انٹرویو کا پروگرام بنایا اور ان کے گھر حاضری دی ہم القانون کے قارئین کو یاد دلانا چاہتے ہیں ماہنامہ ”القانون“ اسلام آبادمیں اس سے قبل فروری 2001ء میں بھی وجیہہ الدین صاحب کا انٹرویو شائع ہوچکا ہے لیکن وہ انٹرویو نہایت مختصر اور تشنہ تھا اسی لئے ہم آج پھر وجیہہ الدین صاحب کے پاس حاضر ہوئے ہیں، دوران انٹرویو ہونے والی بات چیت نذرِ قارئین ہے۔

 القانون: جناب وجیہہ الدین احمد صاحب آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں لیکن القانون ایک تاریخی کتاب کے طور پر محفوظ ہوجاتا ہے ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں بھی آپ کے بارے میں جان سکیں اسی لئے ہم القانون پرھنے والوں کیلئے آپ کا تعارف چاہتے ہیں؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: میں یکم دسمبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوا۔ والد صاحب نے دہلی میں وکالت کی اور تقسیم کے وقت 1947ء میں پاکستان کی جانب ہجرت کرلی، پاکستان میں انہیں ہائی کورٹ کا جج مقرر کردیا گیااور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ میرے والد صاحب جسٹس وحیدالدین احمد مغربی پاکستان کی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے اور سپریم کورٹ کے سینئر جج کی حیثیت سے ریٹائرہوئے۔ میں نے ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی اس کے بعد لاہور چلاگیا اور وہاں سے 1962 ء میں گریجویشن کی 1963میں ایس ایم لاء کالج کراچی میں ایل ایل بی میں داخلہ لیا اس کے بعد 1967ء میں قانون میں پی ایچ ڈی کیلئے جامعہ کراچی میں داخلہ لیا اور جامعہ کراچی کی جانب سے 1971ء میں مجھے جوڈیشل ڈاکٹر (JD)کی ڈگری ایوارڈ کی گئی۔ کچھ عرصہ میں نے ایس ایم لاء کالج میں پڑھایا بھی، 1977ء اور 1978ء میں سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدر منتخب ہوا۔ 1981ء میں کراچی بار ایسوسی ایشن کا صدر منتخب ہوا۔ 1984ء میں فیڈرل گورنمنٹ کی اسٹینڈنگ کونسل میں میرا تقرر کیا گیااس کے بعد 19نومبر 1986 ء کو ایڈووکیٹ جنرل سندھ مقرر ہوا اور 1988ء میں سندھ ہائیکورٹ کا بطور ایڈیشنل جج مقرر ہوا۔ 5 نومبر 1997ء سے 4مئی 1998 ء تک سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس رہا بطور چیف جسٹس سندھ میں نے مفاد ِ عامہ کے حوالے سے بہت سے ازخود نوٹسز لئے جس سے انتظامی معاملات میں بہتری آئی اور بیوروکریسی عوامی مسائل حل کرنے کیلئے متحرک ہوئی، اس کے بعد سپریم کورٹ کا جج مقرر ہوگیا۔
26جنوری 2000ء کو سپریم کورٹ کے ججز کو پیغام بھیجا گیا کہ فوجی آمر پرویز مشرف ججز سے پی سی او کے تحت حلف لینا چاہتے ہیں جس پر تمام جج صاحبان کا اجلاس ہوا اس اجلاس میں مجھ سمیت کچھ ججوں نے فیصلہ کیا کہ وہ پی سی او کا حلف لینے کی بجائے ریٹائر ہونے کو ترجیحی دیں گے اس طرح ہم نے اپنے ضمیر کا فیصلہ کیا اور پی سی او کا حلف نہیں اُٹھایا۔ 2007ء کے صدارتی انتخابات میں پرویز مشرف کے مقابے میں الیکشن لڑا،21نومبر 2007ء کو عدلیہ بحالی تحریک کے دوران گرفتار بھی ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان سے متاثر ہوکر 10جنوری 2011ء کو تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی، 30 جولائی 2013 ء کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ممنون حسین کے مقابلے میں تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کی جانب سے صدارتی امیدوار بنایا گیا جس میں میں نے 77ووٹ لئے۔ تحریک انصاف کا اگر کوئی نظریہ ہوتا اور عمران خان میں خامیوں کے انبار نہ ہوتے تو میں کبھی بھی تحریک انصاف کو خیرباد نہ کہتا لیکن افسوس مجھے عمران خان سے بہت زیادہ مایوسی ہوئی اور میں نے پہلے تو مسلسل اصلاح کی کوشش کی لیکن جب دیکھا یہ شخص تو ناقابل اصلاح ہے تو مجبوراً تحریک انصاف کو چھوڑدیا۔

القانون: عمران خان کے ساتھ آپ کا بہت گہرا تعلق رہا جب آپ تحریک انصاف میں شامل ہوئے تو آپ کو بہت اچھے الفاظ میں ویلکم کیا پھر پارٹی چھوڑنے کی وجہ کیا بنی اور آپ عمران خان کا مستقبل کیسا دیکھتے ہیں؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: بات یہ ہے کہ میں جو توقعات لے کرتحریک انصاف میں گیا تھا اور جو عمران خان کے بارے میں میرے جو تاثرات تھے وہ آہستہ آہستہ مٹتے گئے (Erase) ہوگئے اور اگر میں صرف عمران خان سے بھی مطمئن ہوتا تو بھی تحریک انصاف نہ چھوڑتا، جب میں اس نتیجے پر پہنچا کہ میرا تحریک انصاف میں رہنے کا کوئی مقصد نہیں تو تحریک انصاف کو خیرباد کہہ دیاجہاں تک بات ہے عمران خان کے سیاسی مستقبل کی ہے مجھے تو نظر آرہا ہے کہ اگر عام انتخابات 2018 ء میں تحریک انصاف خیبرپختونخواہ میں بھی دوبارہ کامیابی حاصل کرلیتی ہے تو بڑی بات ہوگی، ہماری نئی جماعت”عام لوگ اتحاد“ کے پاس وقت نہیں کہ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچائے ورنہ ہم نے ایسا منشور تیار کیا ہے کہ اگر ”عام لوگ اتحاد“ کا پیغام عام آدمی تک پہنچ گیا تو ووٹ کی طاقت سے انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔

القانون: آپ کا تحریک انصاف کے ساتھ جو تجربہ رہا وہ کیسا ہے،تبدیلی کے نعرے میں کتنی سچائی ہے اور اکبر ایس بابر کا یہ کہنا درست ہے کہ تحریک انصاف کی نظریاتی سیاست دفن ہوچکی ہے؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: میری نگاہ میں نظریاتی سیاست ایک نعرہ تھا اور وہ بھی کھوکھلا نعرہ۔ تحریک انصاف کبھی بھی کسی نظریئے پر نہیں رہی تو نظریاتی سیاست کے دفن کا سوال ہی نہیں بنتا۔ عمران خان کو اپنے اردگرد جیسے لوگ چاہئے تھے اُنہیں مل گئے اور اُن لوگوں کی وجہ سے عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ جو ہورہا ہے وہ بھی پوری قوم دیکھ رہی ہے۔

القانون: سپریم کورٹ انصاف کا سب سے بڑا ادارہ ہے قانون پسند شہریوں کو اس وقت بہت تکلیف ہوتی ہے جب سپریم کورٹ پر اُنگلیاں اُٹھائی جاتی ہیں اسی ضمن میں ہم آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا سپریم کورٹ کو سیاسی کیسز لینے چاہیں یا نہیں؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: میرے خیال میں سپریم کورٹ کو محتاط رویہ اختیار کرنا چاہئے، سپریم کورٹ نے توہین عدالت پر نہال ہاشمی کو جو سزا دی ہے اس کا یہ وقت نہیں تھا اور جس طرح توہین عدالت کے نوٹس پر نوٹس جاری کئے جارہے ہیں وہ بھی ٹھیک نہیں ہے سپریم کورٹ نے اب تک جن سیاسی کیسز پر فیصلے دیئے ہیں ان کا فائدہ نواز شریف کو ہورہا ہے اور نوازشریف کا یہ بیانیہ بِک رہا ہے کہ کیس پاناما تھا اور نکالا اقامہ پر۔ اسی طرح میری نگاہ میں طلال چوہدری اور دانیال عزیز کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کرنا عدالتی وقار کیلئے کسی صورت درست نہیں۔ 62 1F کے حوالے سے سپریم کورٹ کے دو فیصلے موجود ہیں جن میں مکمل تفصیل بیان کی گئی ہے کہ آئین کی اس شق کے تحت نااہل ہونے والے کیلئے مدت کا کوئی تعین نہیں کیا جاسکتا یہ لامتناہی ہے یعنی 62 1F کے تحت نااہل ہونے والا شخص ہمیشہ کیلئے نااہل تصور ہوگا۔ میرے خیال میں عدلیہ کو سمت درست کرنے کی ضرورت ہے آپ دیکھ لیں لودھراں کا ضمنی الیکشن ہمارے سامنے ہے لوگ بتا رہے ہیں کہ جہانگیر ترین نے اپنے بیٹے علی جہانگیر ترین کو کامیاب کرانے کیلئے مبینہ طور پر ووٹ خریدنے کیلئے لوگوں کو موٹر سائیکلیں دیں اور میری علم میں یہاں تک آیا ہے کہ جہانگیر ترین نے اپنا الیکشن لڑتے وقت چار ارب روپے خرچ کئے تھے یعنی فی گھر پچاس ہزارروپے دیئے گئے تھے۔ جہانگیر ترین کے بیٹے کی ناکامی سے تو یہی ظاہر ہورہا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ بک رہا ہے اور لوگ انہیں مظلوم سمجھ رہے ہیں حالانکہ جو کارروائی چل رہی ہے درست ہے لیکن سمت غلط ہے۔ سپریم کورٹ نے اگر پانامہ کا کیس لیا ہی تھا تو اسی استدعا پر فیصلہ سناتی اقامہ پر نہیں۔

القانون:انتخابی سیاست میں توڑ جوڑاور ہارس ٹریڈنگ کی باتیں سننے میں آرہی ہیں اس حوالے آپ کیا کہیں گے؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: یہی تو افسوس ہے کہ لوگ اپنا ضمیر فروخت کردیتے ہیں آپ سینیٹ کے انتخابات کو دیکھ لیں ایم پی ایز کی بولیاں لگ رہی ہیں نتیجہ کے طور پر ایسے لوگ سینیٹ میں آئیں گے جو ایم پی ایز کی پارٹیوں سے نہیں ہوں گے، یہ باتیں بھی ہورہی ہیں کہ پیپلزپارٹی ایم کیوایم کے ایم پی ایز سے ووٹ لے کر اپنے سینیٹر لائے گی بلوچستان میں آزاد امیدوار باغی اراکین سے ووٹ لے کر کامیاب ہوں گے اور بعد میں جہاں سے پیسہ ملے گا اس پارٹی میں شامل ہوجائیں گے

القانون: جج صاحبان کو اپنے فیصلوں میں ذاتی نوعیت کے ریمارکس جیسے گاڈ فادر، سیسیلین مافیا دینے کا حق ہے یا نہیں، کیا یہ توہین انصاف تو نہیں ہے؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: جج صاحبان کو دوران سماعت ریمارکس کم سے کم دینے چاہیں اور کیس سے متعلق سوالات زیادہ سے زیادہ کرنے چاہیں، ذاتی نوعیت کے ریمارکس دینا ججوں کیلئے مناسب نہیں لیکن سیاست دانوں نے حکمرانی کے نام پر جو گُل کھلائے ہیں اگر کسی دانشور کے سامنے ان کے معاملات رکھ دیئے جائیں تو وہ گاڈ فادر اور سیسیلین مافیا جیسے القابات سے بھی زیادہ القابات سے نوازے لیکن ججز کو احتیاط کرنی چاہئے۔

القانون: چیف جسٹس یا ججز کا عوامی مقامات پر میڈیا کو ساتھ لے جاکر انتظامی نوعیت کے معاملات میں مداخلت کرنا درست ہے؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: میرے خیال میں اس میں کوئی قباحت نہیں کہ جج صاحبان اسپتالوں کا دورہ کریں کیونکہ ہمارے وقت میں جیلوں کے حوالے سے بہت شکایات آتی تھیں تو میں نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ ہونے کی حیثیت سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی ذمہ داری لگائی تھی کہ وہ اتوار کے روز اپنے ضلع میں موجود جیل کا دورہ کیا کریں اور قیدیوں کے مسائل کو دیکھا کریں۔ جب ججز جیلوں کا دورہ کرسکتے ہیں تو انتظامی معاملات کو چیک کرنے کیلئے اسپتالوں اور اسکولوں کا دورہ کرنے میں کوئی حرج نہیں جہاں تک ایسے موقع پر میڈیا کی موجودگی کا سوال ہے تو اس سلسلے میں میں یہ کہوں گا کہ میڈیا اتنا زیادہ ہے کہ انہیں فوراً خبر ہوجاتی ہے اب جج صاحبان کسی پبلک ایشو کی کوریج کیلئے میڈیا کو روک تو نہیں سکتے نا۔

القانون: نواز شریف کیس میں الزام پانامہ تھا، اقامہ کا آخری وقت تک کوئی ذکر نہیں ہوا، پانامہ کا کیس ابھی چل رہا ہے اس پر فیصلہ ہونا ہے۔ آپ کے خیال میں اقامے کی بنیاد پر نااہلیت کا فیصلہ کس حد تک انصاف کے مطابق ہے؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: نواز شریف کو بلکل انصاف کے مطابق نااہل قرار دیا گیا ہے لیکن فیصلے میں سقم ہے جس کا فائدہ نواز شریف کو مل رہا ہے حالانکہ نظرثانی کے فیصلے میں وہ سقم بھی دور کردیا گیا کیونکہ جس کمپنی ایف زیڈ ای کے نوازشریف چیئرمین ہیں اس کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے کی ٹرانزیکشن ظاہر ہوئی ہے اور کہتے ہیں کہ میں نے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہیں لی حالانکہ ان کے نام پر جو اخراجات دکھائے جارہے ہیں وہ کروڑوں میں ہیں۔

القانون: عدالتوں میں کیسزکی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے آپ کے خیال میں پہلی ترجیجی انصاف ہونا چاہئے یا اسپتالوں پر چھاپے ہونے چاہئیں؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: آپ دیکھیں کہ حکومتیں اپنا کام نہیں کررہی ہیں عوام مسائل کی دلدل میں دھنسے چلے جارہے ہیں ایسے میں اگر عدالتیں بھی انتظامی معاملات کو نہ دیکھیں تو عام آدمی کا کیا بنے گا یہی وجہ ہے کہ عدالتوں پر کام کا بوجھ بڑھ چکا ہے اور کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ایک تصور ہے کہ اتنی آبادی پر ایک جج ہونا چاہئے برطانیہ میں دیکھ لیں، ایک جج کے پاس سو سے زیادہ کیسز لگے ہوتے ہیں، پاکستان کے تمام سرکاری اداروں میں اضافی اسٹاف ہے لیکن عدلیہ میں ججوں اور دیگر اسٹاف کی بہت زیادہ کمی ہے یہ کسی المیہ سے کم نہیں۔

القانون: رکاوٹیں صرف لاہور میں ہیں یا کراچی، پشاور، کوئٹہ اور دیگر شہروں میں بھی ہیں کہیں یہ کوئی ذاتی عناد کا مظاہرہ تو نہیں ہے؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: چیف جسٹس رکاوٹین ہٹانے والا آرڈر دیکھا تو نہیں لیکن بات یہ ہے کہ رکاوٹیں لگی کیونکہ ہیں میرے خیال میں جن لوگوں کو قانون کی گرفت میں آنا چاہئے انہیں تحفظ دینے کیلئے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ چیف جسٹس نے لاہور سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا ہے تو باقی شہروں سے بھی ہٹوائی جاسکتی ہیں اگر کوئی نیا آرڈر نہ بھی آیا تو کوئی نہ کوئی شہری عدالت سے رجوع کرلے گا۔

القانون: چیف جسٹس صاحب جو کچھ کررہے ہیں وہ افتخار چوہدری صاحب کی پیروی ہے یا جوڈیشل ایکٹوازم کو نئی جہت دینے کی کوئی کوشش ہے کیونکہ افتخار چوہدری صاحب کے طرز عمل کو بعد میں آنے والے کچھ چیفس نے پسند نہیں کیا؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: اس وقت دیکھا جائے تو نہ تو وفاقی حکومت ہے نہ ہی صوبوں میں حکومتیں کام کررہی ہیں عدلیہ کو انتظامی معاملات میں مداخلت کا موقع بیوروکریسی اور حکمران دیتے ہیں۔ سندھ اور پنجاب میں پینے کے پانی کے حوالے سے دیکھ لیں کیا حالت ہے سپریم کورٹ کو مجبور ہوکر جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں ایک کمیشن بنانا پڑا وہ جہاں جاتے ہیں مسائل ہی مسائل ملتے ہیں یہ ذمہ داری تو حکمرانوں کی ہوتی ہے نا کہ وہ عوام کے مسائل حل کریں اسی لئے تو عدالت کو بار بار مداخلت کرنی پڑتی ہے۔

القانون: آپ کے خیال میں اہلیت اور نااہلیت کے فیصلے سپریم کورٹ کو کرناچاہیں، الیکشن کمیشن کو یا پارلیمنٹ کو کرنے چاہیں؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: سپریم کورٹ کو اس طرح کے کیسز لینے میں کوئی حرج نہیں اگر پارلیمنٹ نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور قانون سازی میں سقم رکھا تو عدالت ہی اس کی تشریح کرے گی، الیکشن کمیشن میں بھی اس طرح کے کیسز جاتے ہیں لیکن سیاسی نوعیت اور عوامی دلچسپی کے کیسز عام طور پر سپریم کورٹ میں چلے جاتے ہیں۔

القانون: وجیہہ الدین احمد صاحب آپ نے ایک سیاسی جماعت بنائی ہے اس کے حوالے ہمارے قارئین کو بتائیں؟
جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد: میں جب تحریک انصاف سے بھی مایوس ہوگیا تو فیصلہ کیا کہ پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کو جوائن نہیں کرونگا لیکن کچھ لوگوں نے مجھے کہا کہ آپ کوئی نئی سیاسی جماعت بنالیں تاکہ قوم کی درست سمت میں رہنمائی کرنے والی کوئی نہ کوئی جماعت موجود ہو۔ بہت سے لوگوں سے مشورے کے بعد ہم نے ”عام لوگ اتحاد“ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کی داغ بیل ڈالی۔ عام لوگ اتحاد جس کا میں ابھی قائم مقام چیئرمین ہوں چونکہ ابھی پارٹی الیکشن نہیں ہوئے اس لئے مجھے عبوری طور پر قائم مقام چیئرمین کی ذمہ داری دی گئی ہے ہم نے اپنی پارٹی کا منشور غریب اور عام آدمی کیلئے بنایا ہے اس منشور کے مندرجات پارٹی میں شامل ہونے والے ہر فرد کو پابند کرتا ہے کہ وہ عوامی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیحی نہ دسکے۔ اسی طرح منشور میں یہ بات بھی لکھی ہے کہ”عام لوگ اتحاد“ کے عہدیداران انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں تاکہ مفادات کا ٹکراؤ نہ ہوسکے۔ 80%نشستیں ایسے مردوخواتین کو دی جائیں گی جن کی آمدنی ایک لاکھ سے کم ہو باقی 20%نشستیں اُمراء کو دی جائیں گی لیکن ان پر بھی سخت نگرانی ہوگی۔عام لوگ اتحاد کے امیدوار کے لئے لازم ہوگا کہ وہ جس حلقے سے الیکشن لڑنا چاہتا ہے رہائشی بھی اسی حلقے کا ہو،امیدواروں کی نامزدگی سرچ کمیٹی کرے گی جس کا کوئی رکن انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا،عام لوگ اتحاد میں کام کرنے والے رضاکار ہوں گے خرید کر یا پیسے اداکرکے لوگ نہیں لائے جائیں گے۔ ہماری جماعت غریب لوگوں کی جماعت ہے ہم عوام کو کہیں گے جو آپ کو ووٹ کی لالچ میں مال کھلارہا ہے اس سے کھالو لیکن ووٹ عام لوگ اتحاد کو دو انگریزی کا ایک محاورہ ہےMany makes the mare goیعنی لوگ پیسے کے زور پر سب کچھ کرسکتے ہیں جبکہ آج کے دور میں ایسا نہیں ہے اگر ہوتا تو جہانگیر ترین کا بیٹا الیکشن نہ ہارتا کیونکہ لوگ بتارہے ہیں کہ جہانگیر ترین نے ووٹروں میں موٹر سائیکلیں تقسیم کی ہیں۔ عام لوگ اتحادلوگوں کی غربت کا فائدہ اٹھانے والوں کی بیغ کنی کیلئے اقدامات کرے گا سرکاری ملازمین کی تنخواہ حیران کن طور پر ڈھائی لاکھ روپے مقرر کی جائے گی تنخواہ مقرر کرنے کا ایک فارمولا سرکاری ملازم کی فیملی افراد کی تعداد کے حساب سے ہوگا۔ برطانیہ میں سپاہی کو پپی کہا جاتا ہے جس کی تنخواہ اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ وہ کسی وزیر یا افسر کے کہنے پر کوئی غلط کام نہیں کرسکتا پاکستان میں بھی ایسا کلچر متعارف کرائیں گے کہ سرکاری ملازمین حقیقی معنوں میں قوم کے خادم بنیں نہ کے حکمرانوں کے خادم بنیں۔ نظام تعلیم کے حوالے سے ہماری پالیسی یہ ہوگی کہ یکساں تعلیمی نظام متعارف کرایا جائے گا چھوٹے سے چھوٹے تعلیمی ادارے کو بھی مواقع فراہم کئے جائیں گے کہ وہ نامور تعلیمی اداروں کا مقابلہ کرسکیں، اسی طرح سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے ایک پالیسی بنائی جائے گی کہ حکمرانوں اور سرکاری افسران کے بچے صرف سرکاری تعلیمی اداروں میں سے ہی تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ اسکالر شپ یا ذاتی وسائل سے تعلیم حکومت کے سپرد ہوگی اپنے پیسے سے پڑھنے پر پابندی ہوگی۔صحت کے حوالے سے پالیسی یہ ہوگی کہ کوئی حکمران یا سرکاری ملازم سرکاری اسپتالوں کے علاوہ علاج نہیں کراسکے گا اگر کسی کا علاج بیرون ملک ہونا بہت ضروری ہے تو حکومت اپنے خرچے پر کرائے گی جب حکمران اور سرکاری افسروں کو تعلیم اور صحت کے حوالے سے سرکاری اداروں تک محدود کردیا جائے گا تو دیکھیں کس طرح بہتری آتی ہے انہیں فکر ہوگی کہ ان کے بچے اچھی تعلیم حاصل کریں مریض کو صحت کی اچھی سہولتیں ملیں سرکاری اداروں میں مثالی انتظامات کا فائدہ عام آدمی کو بھی ہوگا۔قدرتی آفات سے بچنے کیلئے ملک کا 25%رقبہ جنگلات کیلئے وقف کیا جائے گا، آبادیوں کو زمین پر پھیلانے کی بجائے بلند و بالا رہائشی اور کمرشل عمارتیں تعمیر کی جائیں گی تاکہ درخت زیادہ سے زیادہ لگائے جاسکیں۔ جن علاقوں میں ہر سال سیلاب کی صورت حال ہوتی ہے یا جن علاقوں میں بارشوں کا پانی ضائع ہوجاتا ہے وہاں چھوٹے چھوٹے ڈیم بنائے جائیں گے جن سے نہ صرف پانی کے ذخائر بنیں گے بلکہ ہائیڈرل بجلی بھی حاصل ہوگی، توانائی کے حوالے سے ہماری پالیسی یہ ہوگی کہ کوئلے اور فرنس آئل سے چلنے والے بجلی کے کارخانوں کو بند کردیا جائے گا، ہوا سے بجلی پیدا کی جائے گی، شمسی توانائی سے بجلی حاصل کی جائے گی اور ہائیڈرو الیکڑک منصوبے لگائے جائیں گے۔لینڈ ریفامز کے حوالے سے ہم 1977ء کی ریفامز پالیسی کے حامی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان ریفامز پر عمل درآمد نہ ہوسکا اگر”عام لوگ اتحاد“ کو موقع ملا تو لینڈ ریفامز پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں