خصوصی انٹرویو۔ جسٹس (ر)جناب افتخار محمد چوہدری

خصوصی انٹرویو۔ جسٹس (ر)جناب افتخار محمد چوہدری صاحب
(سابق چیف جسٹس آف پاکستان)


میزبان: سید لیاقت بنوری ایڈووکیٹ،  سید اطیب حسین

القانون: پہلے یہ بتائیں سر کہ آپ کا بنیادی تعلق کہاں سے ہے؟
جسٹس افتخار چوہدری: جہاں تک میرے والدین کا تعلق ہے، میرے والدین پنجابی سپیکنگ ہیں۔ میرے والد صاحب1935 ء میں کوئٹہ میں سیٹل ہوئے اور آج تک ہم کوئٹہ میں ہی ہیں۔اور جینا مرنا وہاں ہی ہے۔ بنیادی تعلیم میں نے کوئٹہ سے ہی حاصل کی ہے۔ چونکہ بلوچستان میں کوئی لاء کالج نہیں تھا اس لئے LLBکی ڈگری گورنمنٹ حیدرآباد لاء کالج سے حاصل کی، لیکن پھر پریکٹس بلوچستان میں ہی کی تھی۔ بعد میں ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر کام کیا، پھر میں 1990 میں وہاں ایڈیشنل جج کے طور پر فائز ہوااور وہیں پھر میں کنفرم ہوا۔1999 میں بلوچستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنا، پھر اس کے بعد فروری 2002 میں سپریم کورٹ میں Elevateہوگیالیکن جو آپ کا سوال ہے اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ میں ایک پاکستانی ہوں لیکن میری رہائش، میرے مفادات، میرا جینا مرنا وہ کوئٹہ اور بلوچستان کے ساتھ ہے۔

القانون: سر آپ نے کہا کہ آ پ نے3 نومبر کے واقعات ججمنٹ میں لکھے ہیں، ججمنٹ ہر آدمی نہیں پڑھ سکتا اسلئے اپنے قارئین اپنی عوام کی انفارمیشن کیلئے میرا یہ سوال ہے کہ 3 نومبر کے واقعہ کے محرکات کیا تھے؟
جسٹس افتخار چوہدری: پہلے اس کا بیک گراؤنڈ آپ سمجھیں کہ 3 نومبر 2007 کو جو ہواہے اس کی کچھ کڑیاں اس وقت سے ملتی ہیں جب میں چیف جسٹس بنا اور جب آپ ایک جج ہوتے ہیں تو آپکی صوابدید قانونی طور پر ان کیسز کے عقب ہوتی ہے جو کہ چیف جسٹس کے حکم سے آپ کے سامنے پیش کردیئے جاتے ہیں۔ لیکن جب آپ چیف جسٹس بن جاتے ہیں تو آپکے وسیع اختیارات اس لئے ہو جاتے ہیں کہ تمام ایڈمنسٹریٹو اور جتنے بھی کیسز کی Fixation،کیسز کو دیکھنا، کیسز کو سننا یہ سارا چیف جسٹس کے دائرہ اختیارمیں ہوتا ہے۔اب اس دائرہ اختیار میں جب آپ دیکھتے ہیں کہ یہاں پرلوگوں کے ایسے ایسے کیسز پڑے ہوئے ہیں کہ جن میں ایک آدمی نے کیس شروع کیا تو اس کے دادا اور اس کے بھی بڑے نے بھی جاکر اس کیس کا فیصلہ اس نے کیا۔آپ نام سے کانسٹیٹیوشن کی بڑی بات کرتے ہو لیکن ہوتا یہ ہے کہ وہ کانسٹیٹیوشن آپ اپلائی نہیں کررہے ہوتے ہو اور ایک ملک میں لوٹ مار کا دور دورہ ہے، آپ کا ضمیر گوارا نہیں کرتا ہے کہ آپ ان چیزوں پر کمپرومائز کریں۔ سب سے بڑی بات جو میرے لئے بہت اہم تھی کہ یہ جو آئے دن کانسٹیٹیوشن کو تہہ و بالا کرکے آپ اپنی مرضی کے ایک آدمی کی حکومت لگا دیتے تھے یا ایک آدمی حکومت کرنا شروع ہو جاتا تھا اگر چہ میں بھی 1990 میں جب اس میں آیا تو اس وقت تو کانسٹیٹیوشن تھاکیونکہ اس وقت ملک میں ضیاء الحق کی حکومت ختم ہوگئی تھی، لیکن بد قسمتی سے پھر اس کے بعد 1999 میں مارشل لاء لگا کر ایک منتخب حکومت کو ختم کر دیا تھا، میرا تو یہ خیال ہے کہ ایک جمہوری حکومت منتخب ہوتی ہے اس کو آپ چلنے دیں ایک فلٹر لگا رہے گا اچھے لوگ آتے جائیں گے اور برے لوگ گرتے جائیں گے لیکن جب یہ ساری چیزیں میں نے محسوس کیں اور میں چیف جسٹس بن گیا تو میرے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ اس ملک میں جو یہاں کے عوام ہیں ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ نہیں ہورہا۔ اس چیز کو جب میں لے کر چلا تو اس وقت کا جو پاکستان کا جو ڈکٹیٹر تھا جس نے اسوقت پاکستان پر یکطرفہ حکومت یعنی ایک غیر آئینی اقدام سے اس نے قبضہ کیا ہوا تھا۔جس کے ساتھ کچھ مقدمات، اور کچھ معاملات کی وجہ سے حالات خراب ہوئے، کیونکہ میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ عوام کے حقوق اور ملک کی سلامتی پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔ سب سے پہلا کیس یہ تھا جو آپ کو بھی یاد ہوگا کہ پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی جو صنعت ہے جس کو ہم اسٹیل مل آف پاکستان کہتے ہیں۔جب اس کی Privatization ہوئی تو میری عدالت میں اس کی بہت سی پٹیشنز آگئیں اور ان پٹیشنز کو ظاہر ہے ہم نے ہی فیصلہ کرنا تھا۔وہاں پر پھر اللہ تعالیٰ نے ایک موقع فراہم کیا کہ بنچ نے اس کیس کا جو فیصلہ کیا اور اس میں ہم نے یہ فیصلہ دیا کہ پرائیویٹائزیشن آپ کا حق ہے بالکل کریں لیکن یہ نہ کریں کہ پاکستان اسٹیل مل جوکہ روس کے ساتھ مل کر 1964 میں آپ نے بنائی ہے اور وہ آپ کے ملک کی لوہے کی تمام ضروریات پوری کررہی ہے اور آپ اس کو اونے پونے داموں پر بیچ رہے ہوں اور وہ بھی ایسے کہ اس کی مشینری اور اس کے اسٹاک وغیرہ اس کا اتنا سودا کرتے ہو کہ اس سے زیادہ آپ کے Assets ہیں اورپھر زمین بہت قیمتی ہے اور ایسی اطلاعات تھیں کہ جو لوگ خریدنے والے تھے یہ دراصل وہ لوگ نہیں تھے۔ خریدنے والے جو تھے وہ وہی بھارتی لوگ تھے جو دنیا میں لوہے کے بہت بڑے بیوپاری ہیں اورانہی کا اس میں سارا عمل دخل تھا۔ پھر ہم نے ججمنٹ اس طریقے سے کالعدم کی کہ آپ کرو لیکن اسکو ایسے اونے پونے سیل نہ کرو کیونکہ یہ جو اسٹیل مل ہے یہ عوام کی ملکیت ہے عوام کی لوٹ مار ہم نہیں کرنے دیں گے۔ اس کے علاوہ آپ جانتے ہیں کہ مسنگ پرسنز کے بڑے کیسز آنا شروع ہوگئے اور اس سے پیشتر مسنگ کے کیسز میں کوئی ہاتھ ہی نہیں ڈالتا تھا۔ ہماری ایک وکیل تھیں جنکا ابھی حال ہی میں انتقال ہواہے محترمہ عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ صاحبہ، وہ بھی ایک پٹیشن لیکر آئی تھیں اور بھی بہت سی پٹیشنز روز آنی شروع ہوگئیں۔پھر ایک دوسرا سلسلہ شروع ہوا کہ مشرف کو 17 ویں ترمیم میں پارلیمنٹ نے اجازت دے دی تھی کہ آپ پانچ سال تک وردی میں ملک کے صدر رہ سکتے ہیں اور میں یہ کہوں گا کہ پارلیمنٹ کو یہ کام نہیں کرنا چاہیئے۔ اگلا سوال یہ پیدا ہورہاتھا کہ آیا آپ الیکشن لڑ سکو گے وردی میں یا نہیں؟۔ان کی کوشش تھی کہ عدالتوں سے مجھے اس قسم کی تصدیق مل جائے کہ میں لڑ سکتا ہوں، لیکن اس کو ہم نے نہیں کرنے دیا۔ مسنگ پرنسز کا کیس، اسٹیل مل کا کیس، پھردوہری نیشنلٹی کے کیسز شروع ہوگئے۔2002 میں چونکہ الیکشن کے لئے گریجویشن کی ڈگری ضروری ہو گئی تھی، پھر اس آمر نے اپنی ضرور یات کے مطابق دوسرے کاموں کے علاوہ یہ بھی کیا کہ HEC سے ایک خاص نوٹیفکیشن جاری کروایا کہ جس سے مدرسے کی ڈگری گریجویشن کے برابر ہوگئی۔جس کی وجہ سے بہت سے ایسے لوگ اسمبلیوں میں آگئے جو کسی صورت اہل نہیں تھے، جب وہ اسمبلیوں میں آگئے تو وہ معاملہ بھی ہمارے سامنے سوموٹو آیا اور اس کا میں نے خود ایکشن لیا تھا کہ یہ کس طرح ہوگیا۔جب ہم نے اس میں دیکھا تو اس میں بہت سے لوگوں کے مقدمات چل رہے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ اب ہم اس کو فائنل کریں گے تو یہ ایک وجہ بنی۔ پھر9 مارچ کا واقعہ اور 9 مارچ میں پرویز مشرف صاحب نے جو اس وقت صدر پاکستان(آمر) تھا، مجھے اپنے صدارتی کیمپ آفس راولپنڈی بلا کر مجھ سے استعفیٰ مانگا، جو کہ غیر قانونی طریقہ تھا۔پھر آپ نے دیکھا کہ ایک موومنٹ چلی اور اس موومنٹ میں نہ صرف پاکستان نے بلکہ پاکستان سے باہر ساری دنیانے بھی اپنا حصہ ڈالااور یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہوا کہ جس نے یہ جو ہمارا بلیک کوٹ، بلیک ٹائی، سول سوسائٹی ، میڈیا، لیبررز، اسٹوڈنٹس، انٹلکچولز، لکھاری، غرض یہ کہ یہ جو گھروں میں عورتیں اور بچے ہیں انہوں نے بھی کہا کہ پرویز مشرف نے غلط کیا ہے۔ خیر پھر آخر میں ججمنٹ آگئی اور پھر ہم بحال ہوگئے۔لیکن پھر وہی بات تھی کہ آئندہ کیا حالات ہونے والے ہیں اسی دوران میں ستمبر کا مہینہ آگیا۔ پرویز مشرف کی کوشش یہ تھی کہ میں اسی اسمبلی سے اپنے آپ کو دوبارہ پانچ سال کیلئے منتخب کروالوں کیونکہ یہ اسمبلی دسمبر کی 8 تاریخ کو تحلیل ہورہی تھی۔ ستمبر2007 میں نومینیشن پیپرز داخل ہونے کا جب وقت ہوا تو اس پر بڑا Resistence ہوا اور اس پر ایک ہمارے بنچ نے ان کے خلاف فیصلہ کیا اور جب ان کے خلاف یہ فیصلہ آیا تو ان کی Apprehension اور بھی بڑھ گئی اور ظاہر ہے بنچز بنانا تو چیف جسٹس کے ہاتھ میں ہے پھر انہوں نے فوراً اپنے نومینیشن پیپرز فائل کردیئے اور یہ ایک بڑی دکھ کی بات ہے کہ اس وقت جو ہمارے چیف الیکشن کمشنر تھے وہ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج تھے انہوں نے ان کے نومینیشن پیپرز Accept کرلئے اور ان کے مقابلے میں ایک ہمارے بہت ہی فاضل جج صاحب وجیہہ الدین صاحب نے بھی نومینیشن پیپرزاپنے فائل کئے۔ وہ جو انہوں نے نومینیشن پیپرز فائل کئے اس کی وجہ سے وجیہہ الدین صاحب کی طرف سے پٹیشن آگئی۔ پٹیشن میں ہم نے ایک بنچ بنا دیا جسکو جسٹس خلیل الرحمن رمدے صاحب ہیڈ کررہے تھے اور کچھ اور بھی جج صاحبان تھے اور میں اس میں بھی نہیں تھا۔اسی د وران پولنگ کا دن آگیاتو بنچ نے ان کو اس حد تک اجازت دیدی کہ آپ پولنگ میں چلے جائیں لیکن ریزلٹ اناؤنس نہیں ہوگا۔بہر کیف عدالت کا فیصلہ تھا،ہوگیا۔ پھر ان کو یہ ہوا کہ عدالت جلد از جلد اپنا کوئی فیصلہ صادر کرے۔ کہہ تو کوئی سکتا نہیں تھا لیکن اس دوران میں ان کو یہ خطرہ محسوس ہوا کہ شاید یہ فیصلہ میرے خلاف آرہا ہے اور اگر میرے خلاف آرہا ہے تو میں توصدر نہیں رہوں گا اور جب میں صدر نہیں رہوں گا تو اس ملک میں مار شل لاء کا دور دورہ ختم ہو جائے گا اور ماورائے آئین اقتدار کا اختتام ہوگا۔
3 نومبر کے حوالے سے ہمارے میڈیا کا جو کردار ہے وہ بہت ہی زیادہ اہم ہے اور میں ہمیشہ میڈیا کو اس بات کی شاباش دیتا ہوں اور میں Appreciate کرتا ہوں اور ہمیشہ کرتا رہوں گا۔میڈیا نے اس طرح کی بہت سی خبریں چلائیں کہ شاید 3 نومبر سے پہلے یہ جو Judiciary ہے اس کو رول بیک کردیا جائے گا اور پھریہ اپنی مرضی کے کوئی جج صاحبان لائیں گے اور وہ جج صاحبان آکر انکی پٹیشن ان کے حق میں کریں گے، فیصلہ ان کے حق میں کریں اور جسٹس وجیہہ الدین صاحب کی ججمنٹ اور پٹیشن کو Dismiss کردیا
جائے گا۔ اس Apprehension میں جب ان کو یہ ہوا کہ اب کوئی بات ہونے والی نہیں ہے اور جب انہوں نے اس طرح کرنا شروع کیا تو اسوقت تک اللہ کا شکر ہے Judiciary بڑی الرٹ تھی،بہت پاورفل ہو چکی تھی۔ انہوں نے 3 نومبر کو جو کہ ہفتہ کا دن تھا اور ہفتہ کے دن ججزذیادہ تر ججمنٹ لکھتے ہیں جو پینڈنگ ججمنٹ ہوتی ہیں،ریسرچ ورک ہوتا ہے، پڑھنا ہوتا ہے اور ہفتہ کے دن ہی انہوں نے Emergency Plus کے نام سے ایمرجنسیImpose کردی جس کی وجہ سے تمام سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کو پابند کیا کہ آپ PCO کا Oath لیں اور ہم نے 3 نومبر کو ان کا جو ایمرجنسی Impose کرنے اور جوڈیشری کو رول بیک کرکے PCO جاری کرنے والا حکم تھا اسکو ہم نے Stay کردیا، اس پر Restraint Order پاس کردیا اور اس آرڈر کو ہم نے 7 ممبر بنچ نے سپریم کورٹ کی بلڈنگ میں بیٹھ کر restraint کردیااور اس کے بعد تمام دنیا کو کمیونیکیٹ کردیا۔ جس بات کی Apprehension تھی وہ یہ تھی کہ میرے اقتدار کو طول رہے اس ملک میں چاہے جمہوریت ہو یا نہ ہو اور یہ ایک آدمی کی خواہش کی بات تھی اور اس کے بعد یہی ہوا،انہوں نے میری جگہ پرعبدالحمید ڈوگر کو چیف جسٹس لگایا اور انہوں نے پٹیشن کو Dismiss کردیا اور کہا کہ یہ تو الیکشن لڑ سکتے ہیں اور یہ نوٹیفکیشن ہوگیا۔ اصل بات میں یہ کہوں گا کہ ایک آمر کی خواہش تھی کہ میرے اقتدار کو طول ملے اور طول دینے کیلئے ہی 3 نومبر والا ساراEpisode ہوا۔

القانون: جو اقدامات3 نومبر کو سپریم کورٹ نے کئے تھے اگر یہ کئی سال پہلے ہوجاتا، کیونکہ یہ پہلی دفعہ نہیں تھا کہ PCO Oath آرہا تھا تو اس وقت اگر یہ ساری عدالتیں کھڑی ہو جاتیں توشاید آج ہم بہت آگے ہوتے۔
جسٹس افتخار چوہدری: نہیں وقت کا آپ کو ہمیشہ انتظار کرنا پڑتا ہے اور ہماری تو اسلامی تعلیمات بھی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ فتح مکہ جب ہوا تھا تو کتنے سالوں بعد جاکے صلح حدیبیہ کرنا پڑا تھا۔ اسی طرح یہ آپ پہلے ہی دن نہیں کر سکتے اسکے لئے بہت بڑی Preparation ہوتی ہے۔ ہماری جوڈیشری اور ہماری پارلیمنٹ نے 17 ویں ترمیم میں ان کے تمام ایکشن کو Endorse کیااور3 نومبر کو جو اس وقت کی پارلیمنٹ تھی جس کے پرائم منسٹر شوکت عزیز صاحب تھے انہوں نے کہا کہ آپ نے یہ بہت اچھا کیا کہ جوڈیشری کے اوپر مارشل لاءImpose کی ہے۔ یہ ایک وقت ہوتا ہے ہر وقت ہر آدمی جسٹس ایم آر کیانی نہیں ہوتا، ایم آر کیانی جیسے جسٹس بہت کم ملا کرتے ہیں اور وہ وقت پھر بتاتا ہے کہ کونسا جج آئے گا اور بہت سارے سپہ سالار ہیں میں سب کی تعریف کرتا ہوں لیکن کئی ایسے سپہ سالار ہوتے ہیں جنہوں نے میدان میں اپنا میڈل ثابت کرنا ہوتا ہے۔ ویسے تو دیکھیں ہر تین یا چار سال بعد جج آجاتے ہیں، میرے جانے کے بعد بھی ماشاء اللہ سلسلہ چل رہا ہے۔ تصدق حسین جیلانی صاحب آئے، ناصر الملک صاحب آئے، خواجہ جواد صاحب آئے، پھر اس کے بعد انور ظہیرجمالی صاحب آئے اور ان کے بعد اللہ کا شکر ہے کہ آئین کے مطابق اب میاں ثاقب نثار صاحب ہیں۔اسلئے یہ ایک وقت آتا ہے، آپ کہتے ہیں کہ پہلے دن، مگر پہلے دن یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس وقت جب 1958 میں یا جب مولوی تمیز الدین پر کیس ہوا تھا تو یہ نہیں ہو سکتا تھا، مولوی تمیز الدین کے کیس میں ججز نے بڑی ہمت کی اور آپ کو یا د ہے کہ مولوی تمیز الدین صاحب ایک خاتون کا برقع پہن کر فیڈرل کورٹ میں گئے تھے تاکہ اس اسمبلی کو تحلیل کرنے کا Stay کرواکے آؤں۔لیکن اس کے بعد کیا ہوا۔ پھر 1958 کا جو کیس آیا وہ ڈوسو کا کیس آیا اور ڈوسو کے کیس میں منیر صاحب نے جو ججمنٹ لکھی اس نے تو مارشل لاء جو کہ ایوب خان کی تھی اسکو تسلیم کیا اور کہا کہ یہ کیونکہ ایک اس قسم کا انقلاب تھا جس کو لوگوں نے تسلیم کرلیا تو بس ٹھیک ہے۔ پھر اس کے بعد آپ دیکھیں کہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کا کیس آیا،مولوی انوار الحق صاحب کو لانے کیلئے جسٹس یعقوب علی کو ہٹوایا اور ضیاء الحق صاحب نے اپنی Validation لینے کیلئے ان کو لیکر آئے۔ اسی طرح جب مشرف صاحب نے مارشل لاء لگائی تووہ اسوقت سعید الزماں صدیقی صاحب کی جگہ ارشاد حسن خان صاحب کو لے کر آئے اورارشاد حسن خان صاحب ان کے ساتھ چلتے رہے اسکے بعد پھر دو تین جج اور آئے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ چیزیں تھوڑی سی Fileup ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کسی پر یہ ذمہ لگانا ہوتا ہے کہ اس چیز کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے۔ اسلئے میں اس میں آپ سے Agree نہیں کروں گا۔

القانون: اس میں میری جو گزارش ہے وہ یہ کہ جیساکہ ابھی آپ نے فرمایاکہ جوڈیشری کے اندرہمیشہ سے ایک ایسا طبقہ رہا ہے جو کھڑا بھی ہوا ہے اور جس طرح آپ نے بتایا کہ جسٹس ارشاد حسن خان آگئے یا جسٹس ڈوگر آگیاتو With in the Institution ان کو Support ملی اور اگر یہ چیز نہ ہوتیں تو شاید ان کو اتنا آگے بڑھنے کا موقع نہ ملتا۔
جسٹس افتخار چوہدری: اگر یہ ساری Unity ہوتی اور یہ ساری چیزیں نہ ہوتیں تو اس میں ہو سکتا ہے کہ ان کو موقع مل جاتا۔آپ سے اتفاق کرتا ہوں مگر جیسے پہلے کہا کہ اداروں میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں، عدلیہ کو پہلے دن سے دبانے کی کوشش کی جاتی رہی مگر نظام چلتا رہا اور پھر جب موقع آیا تو عدلیہ کھڑی ہوگئی اور اب اگر آج کی عدلیہ کو دیکھیں تو مارشل لاء کے خلاف مزاحمت عدلیہ سے ہی ہوتی ہے اور اب مارشل لاء کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا ہے۔ یہاں یہ بھی ضرور کہوں گا کہ اس تمام جدو جہد میں عدلیہ کا باہمی اتفاق اور عوام کی مکمل پشت پناہی سے ہی عدلیہ مضبوط ہوئی۔

القانون: 17ویں آئینی ترامیم پر آپ کی کیا رائے ہے؟
جسٹس افتخار چوہدری: پارلیمنٹ نے 18 ویں ترمیم بھی کی،17 ویں ترمیم بھی کی اور اب آپ اس بات پر خوش ہوں کہ 18 ویں ترمیم جب آئی انہوں نے تمام کالعدم کئے اور کالعدم کرنے کے فیصلے کی بھی ایک وجہ تھی کہ اسوقت ایسا ایک ماحول بن گیا تھا اور ایک پولیٹیکل گورنمنٹ آگئی تھی۔ جب 18 ویں ترمیم ہورہی تھی تو اس پر ایک کمیٹی بنی تھی اور اس کمیٹی کو رضا ربانی صاحب ہیڈ کررہے تھے اور انہوں نے اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ وکلاء کی موومنٹ کے بعد یہ ضروری ہوگیا تھا کہ اس ملک میں ڈیموکریٹک آرڈر آئیں اور انہوں نے بڑا Appreciate بھی کیا تھا اور اس ترمیم میں انہوں نے ان کو کوئی Validation نہیں دی تھی اور انہوں نے Validation ختم کی جو پہلوں نے دی تھی۔ اس کا میں آپ کو بیک گراؤنڈ بتاؤں کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی، آپ کو یاد ہے کہ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک پٹیشن فائل کی تھی جس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی اور اس کو میں ہیڈ کررہا تھا جب ہم2009 میں Restore ہوگئے تھے۔وہ ججمنٹ آپ پڑھیں، اس میں سپریم کورٹ نے Declare کیا تھا۔انہوں نے یہ بات کہی کہ تمام وہ ججمنٹس جو کہ نظریہ ضرورت پر،ایک ایک ججمنٹ کا حوالہ دے کر، جیسے میں نے آپ کو بتایا ڈوسو کیس کو آپ لے لیں، نصرت بھٹو کے کیس کو لے لیں، اسکے بعد ظفر علی شاہ کا کیس آپ لے لیں، دوسرے جتنے بھی ایسے کیسز تھے جس میں جوڈیشری نے مارشل لاء کو Validate کیا تھا وہ تمام انہوں نے لارجر بنچ نے، کیونکہ اس لارجر بنچ کی Strength اتنی رکھی گئی تھی اور وہ جوایک ہمارا ہوتا ہے نہ کہ، ایک تو ہوتا ہے ریویو جس کو آپ کہتے ہیں نظر ثانی، اس میں سپریم کورٹ کسی بھی وقت کسی Principle کو Review کر سکتی ہے۔ اس وقت جب ہم نے اس کو Exercise کیا تو ہم نے کہا کہ یہ ساری Judgements غلط ہیں۔ اب کوئی مارشل لاء یا نظر یہ ضرورت اس کا کوئی ایشو نہیں ہے۔اس کی وجہ سے یہ ججمنٹ آ چکی تھی، پارلیمنٹ نے بھی ہمارا ساتھ دیا اور پارلیمنٹ نے انہی چیزوں کو Follow کیا۔ ہم نے ججمنٹ میں کہا کہ آئندہ کوئی Superior Court کا جج چاہے وہ سپریم کورٹ کا ہو یا چاہے وہ ہائی کورٹ کا ہو یا اور کسی بھی کورٹ کا ہو وہ کسی بھی مارشل لاء یا ایکسٹرا Constitutional جو بھی کوئی اس قسم کے Steps ہوں گے اس کو تسلیم نہیں کریں گے اورنہ اس پر مہر ثبت تصدیق کریں گے کہ اس کی وجہ سے ہم نے اپنے کوڈ کوجو کہ کوڈ ہے ججز کا اس میں ترمیم کی۔ ہم نے کہا کہ آئندہ کیلئے جو جج بھی کرے گا وہ اس سے اپنے کوڈکی خلاف ورزی کرے گا۔ وہاں سے Exactly وہی الفاظ انہوں نے اٹھا کر آرٹیکل6 میں ڈالے، جو آرٹیکل 6 آج کا ہے وہ18 ویں ترمیم کے بعد مختلف ہے۔ اسی طرح اور ہماری19 ویں ترمیم جو ہوئی وہ سپریم کورٹ کی Direction پر ہوئی،20 ویں ترمیم جو ہوئی وہ سپریم کورٹ کیDirection پر ہوئی۔ آپ یہ دیکھیں کہ یہ کام جتنا ہم نے سپریم کورٹ میں کیا یہ صرف Strengthen کرنے کیلئے کیا۔اس لئے میں ہر جگہ بڑے کلیئر الفاظ میں کہتا ہوں کہ اب اس ملک میں مارشل لاء نہیں لگ سکتا ہے۔

القانون: جوڈیشری کے حوالے سے جو آپ نے بات کی ہے وہ بالکل ٹھیک ہے، ہمارے جمہوری ادارے آج بھی اس قابل نہیں ہیں کہ وہ آج بھی رضا ربانی جیسے لوگوں کو Accept نہیں کر سکتے کیونکہ وہ بولنے والے لوگ ہیں۔ آپ کی یہ بات بالکل ٹھیک ہے دونوں طرف سے خلاء ہے، اگر سپریم کورٹ نے 17 ویں ترمیم کی ہے یا سپورٹ کیا ہے تو جوڈیشری نے بھی 2002 میں Extra Ordinary جاکے ریلیف دیا ہے۔
جسٹس افتخار چوہدری: نہیں، یہا ں پر بھی میں کھل کر ایک بات بتادوں کہ میں رضا ربانی کی بڑی عزت کرتا ہوں اور عزت اس لئے بھی کرتا ہوں کہ یہ ہماری سپریم کورٹ کے وکیل بھی تھے۔ جب یہ وکیل تھے اور ان کا جوانرولمنٹ کا پروسیس تھا وہ میری وجہ سے ہوا تھا۔ جب21 ویں ترمیم آئی تھی۔ 21 ویں ترمیم آپ کو پتا ہونا چاہئے کہ یہ جو فوجی کورٹس بنی تھیں تو رضا ربانی نے کہا تھا کہ آج میں آنسوؤں سے اس ترمیم پر دستخط کررہا ہوں۔ دیکھو ایک ٹائم آتا ہے زندگی میں جب آپ کو کوئی بڑا اہم فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اگر اس دن یہ اپنا حوصلہ دکھاتے اور کہتے کہ نہیں یہ غلط بات ہے تو صورت حال مختلف ہوتی۔آپ کو یاد ہے کہ 1973 کے کانسٹیٹیوشن پہ یہ Unanimous نہیں تھا کچھ لوگوں نے سائن نہیں کئے تھے۔اگر نہیں کئے تھے تو انہوں نے، وہ ٹھیک ہے آج وہ سارے لوگ پاکستان میں رہتے ہیں، کوئی بات نہیں، لیکن انہوں نے اپنی ایک Denial شو کی تھی۔ ان کو دستخط نہیں کرنے چاہئے تھے اگر یہ اتنے ہی جمہوریت پسند تھے۔ یہ ٹھیک ہے کہ پھر سپریم کورٹ نے Limited Purposes کیلئے اس کو کہا کہ جی اب اتنا ملک میں Terrorism پھیل گیا ہے کہ کچھ اور ہو نہیں سکتاحالانکہ میں تو شروع دن سے خلاف تھا کہ کبھی بھی مارشل لاء ملٹری کورٹس نہ لگائیں، آپ اپنی کورٹس کو مضبوط کریں۔ وہ آپ نے کہا تھا نہ کہ شروع دن سے وہ نہیں ہوتی بات،ایک دن آتا ہے اور زندگی میں کسی کو ایک ہی بار ٹائم ملنا ہے۔

القانون: سر آپ نے Judicial Activism Introduce کرائی۔ آپ کا جو پہلا سو موٹو تھا میرے خیال میں وہ آج بھی Impliment ہورہا ہے ۔
جسٹس افتخار چوہدری: میرے بہت سے سوموٹو تھے بلکہ میں شروع سے بطور ہائی کورٹ جج بھی Exercise کرتا تھا، لیکن اب سنا ہے کہ سپریم کورٹ نے سو موٹو کے حوالے سے ہائی کورٹ کے جج کے اختیارات ختم کر دیئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے میرا جوپہلا سوموٹو تھا وہ کوئٹہ میں کرپشن پر تھا اور وہاں سے ہم نے بہت سی رقم Retrieve کروائی تھی۔اسی طرح جب میں چیف جسٹس بنا تھا تو یہاں پر میرا پہلا جو تھا وہ مسنگ پرسنز کا ایشو تھا۔

القانون: سرآپ جیل ریفارمز پر ایک پٹیشن لیکر آئے تھے قیدیوں کیلئے میڈیکل سہولت کیلئے اس کے بارے میں کچھ بتائیں۔
جسٹس افتخار چوہدری: وہ جیل ریفارمز پر ہم لیکر آئے تھے،میرے پاس باقاعدہ پٹیشن ہے ابھی میرا خیال ہے وہ پینڈنگ ہے۔ ہم نے قیدیوں کیلئے کہا تھا کہ جیل ریفارمز میں آپ یہ چیز Add کریں کہ یہ انسان ہیں ان کی بھی اتنی ہی Dignity ہے،اتنی ہی عزت ہے جتنی میری ہے، یہ بھی برابر ہیں ان کے ساتھ کوئی Differentiation نہیں ہونی چاہئے۔

القانون: چیف جسٹس آف پاکستان کے طور پر عدلیہ کی Strengthening کیلئے اور عدلیہ کی کرپشن کے خلاف سب سے بڑا کام آپ نے کیا کیا ہے؟
جسٹس افتخار چوہدری: دیکھیں بنوری صاحب! میں آپ کو ایک چیز بتاؤں۔ سپریم کورٹ ہو، ہائی کورٹ ہو یا ہماری ماتحت عدالتیں ہوں انکو ڈسٹرکٹ کورٹس میں کہتا ہوں ان کو کام کرنا پڑتا ہے Constitution اور Law کے نیچے۔عدلیہ کو جو Strengthen کا ہمارا مؤقف ہوتا ہے ہم اس قانون کے بیچ میں وہ کرتے ہیں باہر نہیں کر سکتے۔ لیکن قانون سازی کرنا ان کا کام ہوتا ہے جن کو آپ کہتے ہیں Legislation جو قانون بناتے ہیں۔ میں نے سب سے پہلے انہی قانون میں رہ کر جو کہ ہمارے Constitutionاور آئین کے نیچے بنے ہوئے ہیں اس میں ر ہ کر تمام پاکستان میں اور تاریخ میں پہلی دفعہ ایک جوڈیشل پالیسی Introduce کروائی جو کہ آج بھی Inforce ہے۔ اس جوڈیشل پالیسی کے نیچے ہم نے بہت سے کام ایسے کئے جس کی وجہ سے ایک تو ان ججز کی نشاندہی ہوئی جو کہ کام میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ ان کی دلچسپیاں کہیں اور تھیں،ان کو ہم نے ہائی کورٹس کے ذریعے فارغ کروایا۔ اور پھر کچھ اس قسم کے کیسز طول پکڑتے جارہے تھے ان کو ہم نے Limited Period میں ختم کروایا۔آپ یقین کریں جب میں 2013 میں ریٹائر ہو کر آیا تواس وقت تمام صوبوں میں جو کیسز کی Pendency تھی وہ 2011 اور2012 کے کیسز تک پہنچ چکی تھی اور ساتھ ہی ساتھ جو بھی جج جیسا کہ میں نے کہا کہ وہ کسی اور Activity میں مصروف ہوتے تھے۔ جس قسم کی Activity میں وہ مصروف ہوتے تھے ان کے خلاف بھی ہم نے کاروائیاں کیں اور بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کو اپنے گھروں میں جانا پڑا۔آپ دیکھیں کہ ہمارے کئی جج صاحبان جو کہ جب میں 2009 میں Restore ہو کر آیا بلکہ میں نام نہیں لوں گا کسی کی عزت کے ساتھ مجھے کچھ کرنا نہیں ہے سپریم کورٹ کے بھی ایک دو ججز کو Resign دینا پڑا تھا کیونکہ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ہم کیس چلا رہے تھے۔اسی طرح سندھ کے بھی اور پنجاب کے بھی کچھ ججزجن کو فارغ کیا۔اپنی طرف سے ہم نے بہترین کوشش کی کہ اس سسٹم کو Strengthen کیا جائے۔

القانون: سر جب آپ بحال ہوئے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے ہم خود بھی آپکی گاڑی کے ساتھ بھاگنے والوں میں اورنعرے لگانے والوں میں رہے ہیں۔ پاکستان میں تو کیا دنیا میں کہیں پربھی کسی جج کیلئے ایسی موومنٹ شاید ہی کہیں چلی ہو اور جب آپ دوبارہ بحال ہوئے تو آپ صرف گورنمنٹ آف پاکستان یا پریزیڈنٹ آف پاکستان کے Nominated چیف جسٹس نہیں تھے بلکہ آپ20 کروڑ عوام کے جج تھے، پہلی دفعہ ایسے ہوا تھا کہ پبلک کا جج آیا تھا اور اسوقت پبلک کی Expectations بہت ذیادہ ہوگئی تھیں اور انکا یہ خیال تھا کہ اب ہمارے مسائل حل ہوں گے اور جو رسپانس تھا آپ کے لئے پبلک کا وہ شاید بڑے بڑے لیڈروں کو نصیب نہیں ہوا،لیکن جس وقت آپ کا Tenure ختم ہورہا تھا تو پبلک کی جو Expectations تھیں وہ اس طرح نہیں تھیں جو بحالی کے وقت تھیں؟
جسٹس افتخار چوہدری: نہیں! میں نہیں مانتا۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ہم نے رفائے عامہ کے کام بھی کئے، پیٹرول کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا، CNG کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا، دوائیوں کو کنٹرول کرنا کہ میڈیسن جوہے وہ کس طریقہ سے لوگوں کو ملنی چاہئے، میرٹ پر لاء کالجزاور یونیورسٹیوں میں اور میڈیکل کالجز میں ایڈمیشنز کو دلوانا، کرپشن کا ملک سے ختم کرنا اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اس ملک میں مارشل لاء کیلئے راستے بند کرنا اور یہی لوگ بھی چاہتے تھے۔ اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہم کسی کے گھر میں جا کر دیا جلائیں، ہم یہ کر سکتے ہیں کہ اس دیے کو جلانے کیلئے جو فیول ہے اس کو سستا کرائیں۔ ایک دفعہ ہمارے پاس ایک کیس پیش ہوا 104 روپے شاید وہ CNG یا اس سے بھی ذیادہ کا تھا اور وہ بھی اس میں جب بجٹ پیش ہورہا تھاتو اس وقت کے جو فاننس منسٹر صاحب تھے ان کی غیر موجودگی میں کسی دوسرے منسٹر صاحب نے غلطی سے اس فائل پر سائن کردیئے تھے جو اس کیPrices بڑھ گئی تھیں پھر ہم نے اسکو ڈاؤن کرکے 60 سے65 کیا۔اسی طریقہ سے حج سکینڈل کتنا تھا لوگوں کے گھروں میں ہم نے پیسے Refund کرکے پہنچائے، میرا خیال ہے کوئی 25 یا 26 کروڑ روپے جو ایکسٹرا ان سے لیا ہوا تھا اور یہ کچھ ہم کر سکتے ہیں۔ ابھی Expectation یہ کہ ہم کوئی Ruler تو نہیں ہیں کہ Legislation کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ہے آج کی جوڈیشری بھی وہی طریقہ کار اختیار کئے ہوئے ہے جو ہمارے وقت میں تھی۔

القانون: اس ملک میں آج صرف ایک جوڈیشری اپنی جگہ پہ Strengthen اور پرفارمنس دینا شروع کرے تو یہ سارا ملک ٹھیک ہو جائے گا۔ہمیں اس انسٹیٹیوشن کو سب سے ذیادہ توجہ دینے اور سب سے ذیادہ Strengthen کرنے کی ضرورت ہے،اسوقت 19 لاکھ پینڈنگ کیسز ہیں اور تقریباً 22 سال کے بعد یا 24 سال کے بعد کیس کا فیصلہ ہوتا ہے پتہ لگتا ہے کہ پہلا بندہ فوت ہوگیا ہے، یہ جو ججمنٹ یہ جو فیصلے اور یہ جو واقعات آرہے ہیں یہ جوڈیشری کیلئے لمحہ فکریہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر مکمل جوڈیشری کی Reformation کے اوپر کام ہو تو مجھے ضرورت ہی نہ پڑے کہ میرا چیف جسٹس سوموٹو ایکشن لے۔ آپ کے دور میں جب آپ کوئٹہ میں ہی تھے تو ایک ہیومن رائٹ ڈائریکٹر کا Declaration غالباً1992 میں ہوا تھا جس میں ڈسٹرکٹ ججز کو بھی اختیار ملا تھااس سے کافی نیچے تک چلے گئے تھے لیکن وہ ختم ہوگیا۔میں یہ کہتا ہوں کہ بجائے چیف جسٹس جو کہ وہاں بیٹھا ہے اور وہ انتطامیہ کو بھی دیکھ رہا ہے اور عدلیہ کو بھی دیکھ رہا ہے اس کو اپنے ادارے کیلئے ٹائم نہیں رہتا اس کی وجہ یہ ہے کہ ادارہ مضبوط نہیں ہے اور میری گزارش یہ ہے کہ اگر ہمارا چیف جسٹس اپنے ادارے کو مضبوط کردے، اپنے ادارے پر توجہ دے دے تو ہمارا ہر جج افتخار چوہدری بن جائے گا۔
جسٹس افتخار چوہدری: سب سے پہلے تو مجھے یہ نہیں پتہ ہے کہ 19 لاکھ کا Figure آپ نے کہاں سے لیا Authentic بھی ہے کہ نہیں ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس صحیح Figures ہوں۔اب آپ دیکھیں اس ملک کی 22 کروڑ آبادی،ف ابھی جو ہے مردم شماری جو Notify ہو جائے گی اس کے مطابق ہے۔19 لاکھ کیسز اگر 22 کروڑ کے اوپر آپ کریں تو یہ آپ کاآبادی کے لحاظ سے 4 فیصدبھی نہیں بنتا ہے بلکہ اس سے بھی بہت کم بنے گا۔ دیکھیں آبادی بھی تو بڑھ رہی ہے اور جو جوڈیشری کا Due Share ہے وہ بھی آپ نہیں دے رہے ہو۔میں نے اپنے وقت میں پالیسی میں پتا نہیں کتنے ہزار سول ججزوغیرہ مانگے تھے اب انہوں نے دینے ضرور شروع کئے ہیں لیکن Piecemeal میں اور ساتھ ہی ساتھ Pendency بڑھتی جارہی ہے۔ آپ کو قانون میں ریفارمز لانی چاہئے، قانون میں ریفارمز لانے کا کام ہوتا ہے جو کہ قانون بنانے والے ہوتے ہیں اور قانون بنانے والے وہ ریفارمز لیکر آتے ہیں جس کی وجہ سے Disposal کا، جیسے ADR اب ہمارا ہے ہم نے کتنی کوشش کی میں خود بھی امریکہ گیا اور بھی اپنے ججز کو بھجوایا لیکن ADR پر انہوں نے کوئی توجہ ہی نہیں دی۔ ہم نے کہا تھا اس طریقے سے جس طریقے سے ہمارے قبائلی رواج میں پنچائت ہوتا ہے جیسے انڈیا میں بھی ہے اس طرح کا سسٹم ہم کردیں۔ یہ جو قانون1962 والا تھا 1961 والاOrdinance Constitution والا وہ بھی ختم کرکے کوئی اور قانون لگایا اس میں وہ بھی نہیں چل سکے۔جہاں تک چیف جسٹس کے سوموٹو کا تعلق ہے چیف جسٹس قانون کے آئین کے دائرے میں رہ کر یہ کام کرتے ہیں۔ یہ آج سے نہیں کررہے، سب سے پہلا کیس جو بہت بڑا کیس ہے جو باؤنڈڈ لیبر کا کیس تھا اگر آپ کو یاد ہو جسٹس محمد افضل ظلہ صاحب کو آپ جانتے ہوں گے شاید ملے بھی ہوں گے ان کو بھٹے کی لیبر نے سگریٹ لپیٹنے والی پنی جو ہوتی ہے اس کے اوپر لکھ کر بھیجا تھا اور اسی طرح آپ دیکھیں ہمارے ملک میں تو کم ہیں انڈیا میں یہ پبلک انٹرسٹ لیٹگیشنPIL اس کو کہتے ہیں اس کے ہزارہا ایشوز روزانہ چلتے ہیں، کرپشن کے بھی اسی طرح چلتے ہیں کیونکہ Under Constitution پر ہوتا ہے لیکن جہاں تک آپ کی بات ہے کہ Constitution اپنا Strengthen کریں، Strengthen ہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جن کا کام ہے کہ وہ لوگوں کو گورننس دیں اور وہ ہوتی ہے انتظامیہ، اور کسی بھی وقت انتظامیہ کو آپ دیکھ لو وہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرتی ہے ہمیشہ عضومعطل ہی رہتی ہے انکا کوئی ایسا کام نہیں، اسی کی وجہ سے آپ کی جوڈیشری پربہت Burden پڑ جاتا ہے۔ جیسے ابھی ایک تحصیلدار ہے ایک فرد آپ کو نہیں جتا رہا کہ میں نے اسکو اپنے وقت کمپیوٹرائزڈ کروایا ساری زمینوں کو اور بہت بڑا یہ کام تھا اب یہ وہی سلسلہ چل رہا ہے، پنجاب میں کافی حد تک یہ ہوگیا ہے، سندھ میں کافی حد تک ہوگیا ہے۔ ایک پٹواری کے پاس آپ ایک فرد لینے کیلئے جائیں آپ کی اپنی زمین ہے آپ کی اپنی پرا پرٹی ہے لیکن وہ آپ کو نہیں دیتے ہیں۔ گھر میں آپ کے خدانخواستہ کوئی جرم ہوگیا ہو، ڈاکہ پڑا ہوا ہو آپ رپورٹ کیلئے جاتے ہیں وہ آپ کی رپورٹ نہیں کرتا ہے تو یہ ان کی گورننس کا فقدان ہے۔ ہمارے وقت میں جو ہم نے ایک ہیومن رائٹس سیل قائم کیا تھا اتنے Effectively وہ کام کررہا تھا کہ ہم بہت سے کیسز میں کچھ کرتے ہی نہیں تھے۔ کسی کی Complaint آ جاتی تھی تو ایک SOP ہمارے پاس ہو تا تھا اسی کے مطابق میں Tick Mark کر دیتا تھا وہ ٹک مارک کرنے کا اثر اس سے پوچھو، ٹک مارک پوچھنے کے وقت میں اس کا کام بھی ہو جاتا تھا۔دیکھیں! آرٹیکل37 آپ پڑھیں پھر آرٹیکل37 کا B آپ ساتھ ملائیں، پھر31 آرٹیکل کو پڑھیں۔ یہ جتنا سوشل جسٹس اور یہ Justice at the door step ہے یہ حکومت کا کام ہوتا ہے ہم تو ججز Limited کام کرتے ہیں۔ لیکن جب پھر ہمارے پاس پاورز آتی ہیں جیسا کہ آرٹیکل183 بتارہا ہے، آرٹیکل199 بتا رہا ہے یہ پھر ہم Exercise کرتے ہیں۔اسی لئے ہماری پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی نے بارہا یہ بات کہی ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ کا سسٹم آپ کو Deliver نہیں کررہا ہے اور کیوں Deliver نہیں کررہا ہے اب آپ دیکھ لو یہ کیا ملک کے سینیٹ کے انتخابات ہوئے ہیں۔ پرائم منسٹر کہہ رہا تھا کہ اس نے تو ووٹ کے پیسے لئے ہیں۔ ذمہ داری اس کی ہے جس نے اتنی بڑی بات کی ہے کہ ووٹ کے پیسے لئے ہیں یا نہیں لئے ہیں یا کیا قصہ کہانی ہے یا دوسرا یا تیسرا جوہے سارا ہونا چاہئے۔ لیکن جس ملک میں یہ بات رہ جائے اور میں نے اپنے محترم رضا ربانی صاحب کی بھی بات بتائی اس نے کہا میں نے آنسوؤں کے ساتھ کیا ہے وہاں پھرکیا گورننس آئے گی تو پھر کیا Legislation آئے گی۔اس لئے میں یہ کہتا ہوں کہ ضروری یہ ہے کہ ہر ایک ادارہ اپنا اپنا کام پورا کرے۔

القانون: سر ایک جو سپریم جوڈیشل کونسل ہے اس میں کافی ججز کے مقدمات جاتے ہیں یہ اپنی جوڈیشری میں اتنی Effective پرفارمنس کیوں نہیں دکھاتی جتنی یہ دوسرے اداروں میں دکھاتی ہے؟
جسٹس افتخار چوہدری: آپ مجھے بتائیں کہ کب کب نہیں دکھائی،جوڈیشل کونسل کام کررہی ہے، آج کی بات کریں اور میرے وقت میں جاکر نکال لیں۔میرا اپنا کیس! مجھ پر مشرف نے خود ریفرنس داخل کیا اور کونسل نے فیصلہ کیا مشرف کا عمل بدنیتی پر مبنی تھا۔

القانون: اس وقت ہمارے چار سے پانچ ججز کے اوپر الزامات چل رہے ہیں اور مجھے بہت افسوس ہوا کہ ایک آدمی ایک جج کے خلاف عدالت میں پیش ہوا اور جج صاحب نے اسکی درخواست اٹھا کر پھینک کر اسکی سپریم کورٹ کی حدود میں داخلے پر ہی پابندی لگادی جو کہ اسکا بنیادی حق ہے۔لیکن دوسرا بندہ دوسرے جج کے خلاف درخواست دیتا ہے اور اس پر بھی دس سے بیس ہزار جرمانے ہوئے ہیں جس نے جمع کرائی ہے وہ ایڈمٹ ہو جاتی ہے تو اس قسم کی Situation جاری ہے۔
جسٹس افتخار چوہدری: یہ نہیں ہونا چاہئے اور ہم کو اس قسم کے لوگوں کو Discourage کرنا چاہئے یہ جوڈیشری کو خراب کرنے کیلئے آتے ہیں۔ آپ کی بات بالکل تسلیم کرتا ہوں میں، یہ نہیں ہونا چاہئے۔

القانون: میں نے یہ پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک Explanation Letter پشاور بار کو بھیجا ہے اور اسکے نیچے لکھا ہوا ہے کہ پریزیڈنٹ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن۔یہ شاید میری زندگی میں پہلی بار ہوا ہے کہ ایک Controversy دوست محمد خان صاحب کی جو اٹھی ہے۔
جسٹس افتخار چوہدری: وہ میں نے دیکھا نہیں ہے۔ ویسے جو میں نے پڑھا تھا جو ٹی وی پر بھی آرہا تھا وہ ہمارے سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے انکے رجسٹرار کو بھیجا کیونکہ یہ جو انتظامیہ ہوتی ہے ان کے درمیان Correspondence ہوتی رہتی ہے۔رجسٹرار کو یہ Explain کرنا تھا کہ کیوں نہیں ریفرنس ہوا انہوں نے کہا کہ انکی اپنی مجبوری کی وجہ سے۔ یہ بھی نہیں ہونا چاہئے تھالیکن بہتر وہ لوگ جانتے ہیں جنہوں نے لیٹر لکھا تھا۔

القانون: سر یہ آرٹیکل 6 جو ہے یہ آئین میں تو موجود ہے اسکا Implementation Mechanism موجود ہے یا نہیں ہے؟
جسٹس افتخار چوہدری: اس کے لئے پھر ایک علیحدہ قانون بنا ہوا ہے اور اس قانون کے نیچے کیونکہ Constitution خود Mechanism کسی کا نہیں دیتا۔ پھر ایک لاء بنتا ہے۔میرے خیال سے1976 یا 1977 یا کچھ اسی طرح ایک لاء بنا ہوا ہے اس کے نیچے پھر اس کی Implementation ہے۔جس طریقے سے ابھی ایک میرا خیال ہے پاکستان کی تاریخ کا پہلا مقدمہ جو آج سے پہلے کبھی ہوا ہی نہیں تھا جو جنرل مشرف کے خلاف چل رہا ہے۔

القانون: سر ہمیں پڑھایا گیا تھا کہ جج بولتے نہیں ہیں ججوں کے فیصلے بولتے ہیں۔ آجکل جج جو ہیں وہ ہیڈ لائنزاور تقریروں میں اور اپنے آپ کو Justification دیتے ہوئے،آپ کہاں تک اس کو جسٹس سمجھتے ہیں؟
جسٹس افتخار چوہدری: میں آپ کو ایک بات بتاؤں یہ جو تاریخ میں اور ہم نے بھی پڑھا تھا وہ شاید میں اور آپ پرانے وقتوں کی باتیں کرتے ہیں وہ بات ٹھیک ہے لیکن آج ہمارے Constitution کو جب آپ پڑھیں تو اتنی Awareness ہے اور اتنی چیزیں Complicated ہوتی ہیں کہ جب تک جج اس کی Explanation خود کوڈ میں نہ لے رہا ہو تو اس کے لئے فیصلے پر پہنچنا بھی تو مشکل ہوگا۔ وہ یہی پوچھتے ہیں نا کہ”یہ کیسے ہوا،وہ کیسے ہوا، یہ کیوں ہوا، جیسے کوئی کیس چل رہا ہوتو یہ آپ کے خلاف چارجز ہیں، یہ آپ نے کہا کے نہیں کہا، آپ دکھادیں ہم آپکوثابت کردیتے ہیں۔ دیکھیں یہ وہ دور نہیں ہے کہ جب آپ کہو کہ آپ آرام سے گھر میں بیٹھ کر جو آپکا دل کرے گا فیصلہ کر لو گے۔یہ وقت وہ دور ہے کہ ساری دنیا کو پتہ ہے کہ اس آدمی کا اتنا بڑا قصور ہے اس کے ساتھ کیسے آپ نے مثال دیدی دو Identical Cases کی اور میں نے کہا نہیں ہونا چاہئے تو Condemn کرنا چاہئے تھا۔ججز کے کیس کا ابھی آپ نے پوچھا کہ انہوں نے اسکو کہہ دیا کہ مت آیا کرو اور دوسرے کو انہوں نے Entertain کرلیا تو اسی لئے میں نے کہہ دیا کہ ججز کے سامنے یہ چیزیں ہوتی ہیں اوریہ جج صاحب کے نوٹس میں ہونی چاہئے تھی کہ وہاں پہ وہ کیا اور یہاں پہ ہم نے اسکو Allow کردیا۔

القانون: ابھی جو پولیٹیکل Situation جارہی ہے اس کے حوالے سے آپ کے دور میں ایک وقت میں ایک بہت بڑا خیال تھا لوگوں کا کہ آپ نوازشریف کے حق میں ہیں لیکن End of the Day یہ ثابت ہوا کہ نوازشریف اور آپ کے درمیان کافی خلیج تھی اور یہ پتہ لگا کہ کیا وجوہات تھیں کیونکہ واقعی اس میں کوئی شک نہیں کہ عدلیہ بحالی میں نواز شریف کا ایک بہت بڑا رول تھا اور آپ نے ہمیشہ ان کو Appreciate کیا۔
جسٹس افتخار چوہدری: یہ بالکل غلط بات ہے۔یہی بات ہے آپ اپنے ریڈر کو یہ بتائیں، یہ بات آپکے میگزین کے ذریعے بالکل صحیح طریقے سے جانی چاہئے۔آپ کونسے نواز شریف کی بات کررہے ہیں جو 2001 میں یا2000 دسمبر میں ملک سے دس سال کیلئے ایک سزا یافتہ شخص ہونے کی حیثیت سے چلا گیا اور اگر ملک میں آنا چاہتا تو اس وقت کا جو آمرملک پر مسلط تھا وہ یہ کہتا تھا کہ Over my Deadbody اور میں آپ کو ایک بات بتاؤں 2007 میں جب آپ مشرف کے خلاف ہمارا ساتھ دے رہے تھے، جب اس نے مجھےSad کرنے کیلئے Suspend کیا تھا اور میرا ریفرنس بھیجا تھا اور پھر 20 جولائی کی اسکو ججمنٹ آئی تھی اور میں بحال ہوا تھا آپ بتائیں کہ اس وقت کیانواز شریف ملک میں تھا؟ اس کے بعد یہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی ایک کتاب ہے اس کتاب میں انہوں نے لکھا کہ جب مشرف چیف جسٹس کے ساتھ Incounter ہوا اور ناکام ہوا تو پھر اس نے ہماری طرف ہاتھ بڑھایا کہ میرے ساتھ NRO کرو کیونکہ وہ اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتا تھا جو کچھ مرضی ہوجائے۔ اس میں جب یہ ہوا تو محترمہ بے نظیر پاکستان میں تشریف لے آئی تھیں اور اگر آپ کو یاد ہوگا اس زمانے میں کیونکہ مشرف نے ججز کو خاص طور پر مجھے اور میرے بچوں کو وہاں Confined کیا ہوا تھا، قید میں تھے ہم، 3 نومبر کے بعد سے 24 مارچ 2008 تک، اس کے درمیان جب وہ تشریف لائی تھیں تو وہ وہاں بلوچستان ہاؤس کے سامنے بھی آئی تھیں اور انہوں نے کہا تھا کہ”میرا چیف جسٹس“، اس وقت کیا نواز شریف تھا وہاں پر؟ دیکھیں مائنس پلس ہر جگہ آپ شامل کر لیں اور دیکھیں کہ کس جگہ پر آپ نے کیا کیا ہوا ہے پھر آپ اسکو چھوڑ دیں۔جس وقت مسلم لیگ کی پٹیشن، 7 ممبر بنچ، ججمنٹ کسی اور جج صاحب نے لکھی تھی انہوں نے جب یہ کہا کہ آپ کو آنے کی اجازت ہے، آرٹیکل15 کو Interpret کیا،اس میں وہ لیٹر بھی لگا ہوا ہے کہ جج صاحب محترم نے اس جج کو reproduce کیا تھا۔ اسوقت تک ان کا نام و نشان نہیں تھا موومنٹ میں۔ اگر آپ پوچھنا چاہتے ہیں ناں تو یہاں اسلام آباد میں کلیم امام ایک ہمارے آئی جی ہوتے تھے وہ اس زمانے میں ایف آئی اے میں تھے۔ ایک Contempt کا کیس چلا، ہوا اس طرح کہ یہ جب یہاں راولپنڈی آئے تو یہاں پر تو 100 آدمی بھی نہیں تھے جو انکو ریسیو کریں۔بہر کیف حکومت کی پالیسی تھی انہوں نے کہا کہ ان کو ہم نے لینڈ کرا دیا ہے Inter ہوگئے پھر لے گئے۔ اس کے اوپر Contempt کے کیس چلے اسکا اسٹیٹمنٹ آپ پڑھیں ذرا۔ اس نے کہا سر ہمیں تو آپ کا آرڈر Comply کرنے میں کوئی پرابلم نہیں ہے،ہم نے تو Comply کیا آپ کا آرڈر۔ ان کو تو کوئی ریسیو کرنے نہیں آیا تو حکومت کیا کرتی اورآپ ریکارڈ سے نکال کر پڑھ سکتے ہیں۔ اسوقت نواز شریف اس ملک کے اندر نہیں آسکتا تھا۔ اس کے بعد پھر کیا ہوتا ہے یہ جب محترمہ بھٹو صاحبہ آگئیں انہوں نے پھر سے کوشش کی سعودی یا پھر ہمارا کوئی دوست ملک تھا انہوں نے Intervene کیا 16 دسمبر کو یہ تشریف لائے اور یہاں پر ساری پولیٹیکل پارٹیز نے Particularly ہمارے بلوچستان کی اور پی ٹی آئی نے اور دوسروں نے کہا تھا کہ کیونکہ مشرف الیکشن کروارہا ہے ہم اسکا بائیکاٹ کریں گے لیکن پیپلز پارٹی نے کہا تھا کہ ہم Participate کریں گے کیونکہ الیکشن پراسے جانا چاہئے۔ یہ جس وقت آئے تو اس وقت انہوں نے 94 Candidates یا پھر 100 کھڑے کئے اور کس نام پر ووٹ لے رہے تھے کہ ہم عدلیہ کو بحال کروائیں گے، آپ ہمیں ووٹ دے دو۔بنوری صاحب آپ تو وکیل ہیں اب آپ سنیں یہ آپ نے ضرور لکھناہے۔ پھر آپ کو یاد ہوگا بلکہ آپ وجیہہ الدین صاحب سے بھی معلوم کر سکتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ سر ووٹ مانگنے کی یعنی آپ کو پابند کرنے کی کوئی وجہ ہونی چاہئے اس نے قسمیں لیں سب سے کہ آپ ووٹ دیں گے تاکہ میں جوڈیشری کو بحال کروں اور ووٹ کے بعد جوڈیشری کو بحال کرائیں گے۔ 94 سیٹیں ان کو میرے نام پر ملی تھیں۔ ہماری پارٹی کے ایک سینئر وائس پریذیڈنٹ ہیں احسان الدین شیخ صاحب ان کے پاس ایک تصویر ہے۔ میں نے ایک دن ان سے کہا کہ یہ کیا ہے تمھارے پاس تو کہنے لگے کہ سر آپ تو جج ہیں نا آپ کو کیا بتائیں کہ کیا تصویر ہے، انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف یہاں بار روم میں آیا تھاتو یہ تصویریں ہم نے لوگوں کو دی تھیں کہ آپ لوگ ووٹ دیں تاکہ عدلیہ کو یہ بحال کریں گے اور کہتا ہے کہ یہ تصویر اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔ ووٹ کس کے نام پر لے رہا تھا۔ 15 جون2008 کو ہمارے وکلاء صاحبان،آپ نے، سول سوسائٹی نے All over Pakistan منیر اے ملک، اعتزاز احسن صاحب،علی احمد کرد، حامد خان یہ سارے لوگ آئے اور لونگ مارچ آیا اور آپ کو یاد ہے کہ اسوقت پھر نواز شریف صاحب آئے وہاں پر اور وہ لونگ مارچ کینسل ہوگیا اور یہ ایک لمبی کہانی ہے کہ وہ کیوں کینسل ہوا تھا یہ مجھ سے نہ پو چھیں یہ مینر اے ملک سے کسی وقت پوچھئے گا جا کر، حامد خان سے پوچھیں کہ یہ کیوں ہوا تھا۔ اس Chapter کو یہیں تک رہنے دیں۔ ان کی حکومت بن گئی، حکومت کررہے تھے یہ پنجاب میں، ان کا تو یہ Interest ہی ختم ہوگیا لیکن ان کی Qualification اور Disqualification پر الیکشن کے سلسلے میں کیسز چل رہے تھے۔ آپ کو یاد ہوگا اس وقت انکا پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی کافی نباہ تھااور ان کے ساتھ سپریم کورٹ تک معاملہ ان کا آیا پھر سپریم کورٹ میں شاید وہ نباہ کا اسٹیج ختم ہوگیا، شاید پیپلز پارٹی نے ہی خود پٹیشن نہیں کی تو پھر انہوں نے ہی خود پٹیشنز کیں اور وہاں پھر یہ ہوا کہ شہباز شریف کے خلاف فیصلہ آگیا کہ He is no more member of the provension assembly اور وہ ججمنٹ لکھی تھی پانچ ممبر بنچ نے، جس میں اور بھی ممبران تھے اس میں موسیٰ کے لغاری صاحب ایک ہمارے جج ہوتے تھے حیدر آباد کے، تو یہ ججمنٹ انہوں نے لکھی ہوئی تھی اور یہ ریکارڈ ہے سارا۔جس وقت ان کی حکومت ختم ہوگئی، سلمان تاثیر صاحب جو کہ گورنر تھے جن کا انتقال ہوگیا ہے انہوں نے فوراً ہی ایمرجنسیImpose کردی پنجاب میں اور جب انہوں نے ایمر جنسی Impose کردی پنجاب میں تو جنوری کی کوئی23 یا24 تاریخ تھی، اس دن کے بعد یہ ہوگئے فارغ۔ ہم تو پہلے ہی سے فیصلہ کر چکے تھے، ہمارے وکلاء نے فیصلہ کرلیا تھا اور اس وقت جب ہمارے لوگ ان کو جا کر کہتے تھے کہ سر آپ ہمارے ساتھ چلیں لونگ مارچ کیلئے تو یہ ہمارا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے ایسے کیسے لونگ مارچ چلتے ہیں آپ نے کیا انتظام کیا ہوا ہے۔ نام میں اسلئے کسی کا نہیں لے رہا کہ میں سب کی عزت کرتا ہوں۔یہ اسٹوری بھی علی احمد کرد سے پوچھیئے گا، منیر اے شیخ سے، احمد خان سے، سب کو پتہ ہے اس اسٹوری کا۔ پھر ان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں تھا۔ اسکے بعد پھر یہ لونگ مارچ کی بات ہوئی اور یہ لونگ مارچ All over pakistan سے شروع ہوئی۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ اسلام آباد آنے کا ایک صرف جی ٹی روڈ کا راستہ ہے، اسلام آباد آنے کیلئے پاکستان کے چاروں طرف سے راستے آتے ہیں۔ اتنی پبلک یہاں پر جمع ہوگئی تھی اور یہ ابھی تک گوجرانوالہ پہنچے تھے۔یہاں اتنی پبلک تھی یہ ہمارا KPK یہ ہمارا ہزارہ، پھر اسکے بعد ہمارا میانوالی، پھر بلوچستان کے راستے سارے چوک ہوگئے تھے۔آپ کو پتہ ہے جب یہ راستے چوک ہوگئے تھے تو اس پر لائن فورسز ایجنسی کی یہ رپورٹ آئی تھی کہ ان کو کنٹرول کرنا ہمارے لئے مشکل ہے اور نواز شریف صاحب گوجرانوالہ بیٹھے ہوئے تھے۔اس پر پھر اعتزاز صاحب کو Confidence میں لیا گیا اور کہا گیا کہ ہم جوڈیشری کو بحال کررہے ہیں آپ Call on کریں اسکوپھربڑی گڑ بڑ شروع ہو گئی تھی کیونکہ اسلام آباد کے گھروں میں لوگوں نے مہمان اپنے رکھے ہوئے تھے کہ کل ہم نے لانگ مارچ میں جوائن کرنا ہے۔ بہت ذیادہ پبلک تھی میں حالانکہ خود چیف ہاؤس میں رہتا تھا لیکن جو میرے ساتھ لوگوں کا Contact تھا اس وقت ہم آزاد ہی تھے۔کونسی پارٹی ہے چاہے و ہ سندھ کی ہو، بلوچستان کی ہو، کراچی کی ہو سب نے اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ پولیٹیکل پارٹیز کو ہم Credit ضرور دیں گے، مشرف کے وقت میں وہ بہت ذیادہ Reluctant تھے۔ آپ کو پتہ ہے کہ ہسٹری میں ہمارے ریٹائرڈ ججز نے لکھ کر دیا کہ یہ مشرف کا اقدام غلط ہے اس نے اپنے آپ کو Protect کرنے کیلئے جوڈیشری کی قربانی دلوائی ہے۔جب قومیں زندہ ہوتی ہیں تو یہ پھر ہوتا ہے اور یہ قوم زندہ تھی اس میں نواز شریف کا کوئی کریڈٹ نہیں ہے۔ اس زندہ قوم کو آپ کریڈٹ دیں اور آج بھی خدانخواستہ کوئی ایسی بات ہو گئی تو لوگوں میں وہی جذبہ ہے یہ بتادوں آپ کو۔میری کوئی تصویر نکال کر مجھے دکھائیں کہ میں نے اس کے ساتھ کبھی ہاتھ ملایا ہو، کوئی آپ مجھے انفار میشن بتائیں۔ میرا جو تعلق تھا وہ تھا نواب محمد اکبر بگٹی کے ساتھ۔ جب میں بلوچستان میں ایڈووکیٹ جنرل تھا تو اسکی حکومت ہوتی تھی ان کے ساتھ میری بہت development اور تعلق ہے لیکن ان کے کیسز میں بھی میں انکے خلاف ہی فیصلے کرتا تھااور اسکو پتہ بھی تھا۔ظاہر ہے جب میں جج بن گیا تو Distance تو آگیا۔ نواز شریف کے ساتھ جو میری پہلی ملاقات ہوئی وہ ستمبر2013 میں جب ہمارے صدر پاکستان کا Oath ہورہا تھا اور مجھے بطور چیف جسٹس انکا Oath دینا تھا، نواز شریف اس وقت تک پرائم منسٹر بن چکے تھے تو وہاں پر میری پہلی بار ان سے ملاقات ہوئی ہم نے ہاتھ ملایااور اس نے مجھے کہا کہ میری آج آپ کے ساتھ پہلی دفعہ ملاقات ہوئی ہے۔ لوگوں کو نالج نہیں ہے یہ آپ لوگوں کو Disseminate کریں۔

القانون: گیلانی صاحب کا جو کیس تھا جس میں ایک لیٹر نہیں لکھنا تھا اور ایک لیٹر کے اوپر انکی حکومت کو ہٹایا گیا۔وہ لیٹر کیا اس کے بعد لکھا گیا اور کیا اس کا کوئی Outcome آیا کہ نہیں آیا۔
جسٹس افتخار چوہدری: جی لیٹر لکھا گیا تھا جب پرویز اشرف آئے تھے پھر اس کے بعد نواز شریف کی حکومت آگئی تو وہاں پر انہوں نے اسکو Follow نہیں کیا تو پھر اسکا ریزلٹ یہ نکلا کہ Non Follow کرنے کی وجہ سے ان کو کوئی اپیل فائل کرنی تھی وہTime barred ہوگئی تو اسوقت منیر اے ملک اٹارنی جنرل تھے انہوں کافی اسمیں تکودو کی لیکن نوازشریف کی حکومت نے اس میں کوئی دلچسپی نہیں لی اور نہ کوشش کی کہ اتنا پیسہ ہمارے ملک سے باہر پڑا ہوا ہے ہم واپس لے کر آئیں۔

القانون: عمران خان کا ایشو بھی رہا بلکہ عمران خان کے خلاف تو آپکے برخوردار نے کمیشن میں بھی درخواست دی۔
جسٹس افتخار چوہدری: وہ درخواست میرے برخوردارنے نہیں دی بلکہ میں نے خود دی تھی۔میرے وکیل صاحب تھے میری طرف سے جو پیش ہوتے تھے شیخ احسن الدین صاحب، انہوں نے اور آصف توفیق صاحب کہ جو بھی کوئی پوچھنا چاہتے ہیں ہم سے اور ہماری Application ریکارڈ پر ہے۔ لیکن عمران خان ایک ذرا بھر وہاں پر شہادت نہیں پیش کر سکااپنے الزامات ثابت کرنے کیلئے اور الزامات ثابت نہ کرنے کی صورت میں میں نے Damages ca sudکیا جو ہائی کورٹ میں ابھیPending ہے۔

القانون: اگر آپ کا ہائی کورٹ میں اتنے عرصہ سے ہرجانے کا مقدمہ پینڈنگ ہے اور شہباز شریف بھی یہی رونا رورہے ہیں۔
جسٹس افتخار چوہدری: نہیں، میں تو نہیں رورہا۔وہ Pending میری وجہ سے ہے اور وجہ یہ ہے کہ ہم نے ایک اپیل فائل کی ہوئی ہے۔ ہمیں اسمیں کوئی پرابلم نہیں ہے۔ ہیئرنگ ہوتی ہے اس کیس کی اور دونوں کے وکیل حاضر ہوتے ہیں۔

القانون: سر یہ بتائیں کہ ہماری جوOver Burdening ہے جیلوں میں اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہ Pendency ہے اور ایک ایسا ملک جہاں پر 4 سے5 فیصدConviction Rate ہے اس کا کیا حل ہے؟
جسٹس افتخار چوہدری: اس پر ہم نے تو بہت کچھ کیا تھا ابھی وہ Implement ہورہا ہے اتنا Burden نہیں ہے جیلوں میں مناسب ہی بات ہوتی ہے۔ ہم نے یہ کیا تھا کہ جتنے بھیMinor قسم کے کیسز ہیں ان کی ہیئرنگ جیل میں کریں اور جیل میں Prosecutor جائے اور جیل میں defence جائے اور جیل میں ہی وکیل جائے۔ اس میں یہ ہوتا تھا کہ ہر پندرہ دن کے بعد ایڈیشنل سیشن ججز اپنے اپنے کیسز سننے کیلئے جاتے تھے اور ہر مہینے کے بعد سیشن جج صاحب خود انکو لیکر جاتے تھے۔ اس میں یہ ہوتا تھا کہ بہت سے لوگوں کے کیسز، کوئی جرمانہ ہے کوئی یہ ہے وہ ہو جاتے تھے۔جب میں جج بھی تھا اور چیف جسٹس بھی تھا بلوچستان ہائی کورٹ میں تو میں خود بھی جیل وزٹ کیا کرتا تھاکیونکہ وہ ہمارا ایک Subject ہوتا ہے For the inforcement of the fundamental rights وہاں پر بھی میں دیکھتا تھا کہ کوئی 107 کے کیس میں، کوئی آوارہ گردی میں کچھ ایسے پولیس نے لاکر، تو کافی ہم نے ریفارمز کرکے جیلیں خالی کروائیں۔ اب بھی وہ سلسلہ ہے اب جیلوں میں اتناBurden نہیں ہے۔

القانون: سر ایک بہت بڑا عروج دیکھنے کے بعد جب آپ فارغ ہوئے اور بیٹھے تو آپ کو ایک سیاسی پارٹی بنانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
جسٹس افتخار چوہدری: یہ آپ نے بہت اچھا سوال پوچھا ہے۔دیکھیں عروج تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ میں کم از کم اپنے طور پر تو کہہ سکتا ہوں کہ ہم تو بالکل عاجزاورناقص اور بے یارومددگار ٹائپ کے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ پارٹی بنانے کیلئے صرف ایک چیز کی وجہ سے میں Persuade ہوا وہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس ملک میں اتنی بڑی عزت دی،مجھے سارا اس ملک کا IN اورOUT کا پتہ ہے۔ اس سسٹم کو بہت قریب سے دیکھا ہے میں نے کہ کس طریقے سے لوگوں کا یہاں حشر ہوتا ہے۔ لوگوں کے بچوں کے پاس اگر ایک وقت کا کھانا ہے تو دوسرے وقت بے چارے بھوکے سوتے ہیں۔ اگر قمیض پہننے کو ہے تو نیچے پاجامہ پہننے کو نہیں ہے اور اگر دونوں چیزیں ہیں تو نیچے جوتا نہیں ہے۔ ڈھائی کروڑ بچے ادھر کچرے کے ڈھیروں پر زندگی گزارتے ہیں اسلئے میں نے سوچاکہ کوئی اگر ہمارے پاس تھوڑا بہت تجربہ ہے اس کی Implementation کیلئے ہم ایسا کوئی کام کریں اور وہ صرف اس صورت میں مجھے سمجھ آئی کہ ہم اس سسٹم کو Change کرنے کی بات کریں اور میری Very begining یہ بات ہوتی تھی کہ سسٹم ڈلیور نہیں کررہا ہے۔ اگر سسٹم ڈلیور کرے گا تو پھر کوئی پرابلم نہیں ہوگا۔اس صورت حال کی وجہ سے پھر میں نے یہ سوچا کہ کیا میں اپنے گھر پہ بیٹھا رہوں۔ میں نے سوچا کہ کوئی ایسا کام کیا جائے جس میں ہم لوگوں کےRedress کریں۔اسلئے پھر میں نے پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کے نام سے شیخ صاحب اور دوسرے کچھ دوست ہیں ان کے ساتھ مل کریہ پارٹی بنائی۔

القانون: اگر سیاسی پارٹی کے بجائے آپ اپنےStature کے مطابق تمام سابق ججز، سابق بیوروکریٹس اور سب کو اکٹھا کرکے ایک Intellectual Think Tank بناتے تو اس میں Like Minded لوگوں کا ایک بہت بڑا شیئر ہو جاتا اور وہ اگر کوئی بھی پالیسی بغیر کسی پولیٹیکل، Affiliation and Infulence،اگر وہ چیز سامنے آتی تو اسکا زیادہ Impact اورEffect نہ ہوتا سر؟
جسٹس افتخار چوہدری: بس اپنی اپنی سوچ ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے جو آپ کہہ رہے ہیں وہ بھی ٹھیک ہے۔یہ میری سوچ ہے ہوسکتا ہے کہ میں بھی ٹھیک ہوں۔اس میں بھی ہماراAims کے نام سے ایک Think tank ہے۔ جس میں ہم کہتے ہیں،عدل، احتساب اور مساوات۔

القانون: کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ اس ملک کو آگے چلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈیمو کریسی کا نہ چلنا ہے؟
جسٹس افتخار چوہدری: جی میں تو پہلے دن سے یہ بات کہتا ہوں کہ ڈیمو کریسی کو چلنے دیں اور ڈیمو کریسی کو چلانے کے لئے ہی ہم نے جو ہے Extra Constitutional ماورائے آئین اقدامات ہیں ان کو کالعدم قرار دیا اور ان کو آئندہ کیلئے نہ کرنے کی بھی جو پابندیاں لگا سکتے تھے ججز کے ذریعے وہ ساری لگائیں۔ Treason Case جو رجسٹرہوا مشرف کے خلاف یہ Appoindint بھی ہمارے ایک بنچ نے دی تھی تاکہ آئندہ مارشل لاء ہی نہ لگے۔

القانون: سر یہ جو ابھی جوڈیشل مارشل لاء کی بات ہورہی ہے کیا آپ اس کو سپورٹ کرتے ہیں اور کیا آپ الیکشن وقت پر دیکھ رہے ہیں؟
جسٹس افتخار چوہدری: بے وقوف لوگ ہیں، ان سے کہیں کہ مارشل لاء چاہے جوڈیشل ہو یا ملٹری والی ہو جس کے کندھوں پر تم کرنا چاہتے ہو وہ دکان بڑھاگئے ہیں چلیں گئے ہیں۔الیکشن تو وقت پر ہی ہونے ہیں۔ پہلے تو لوگ کہتے تھے کہ سینیٹ کے بھی نہیں ہوں گے ہو تو گیا نا۔وہ بھی وقت پہ ہوں گے کچھ نہیں ہونا بلکہ ہمارے جیسی جو چھوٹی پارٹیاں ہیں ان کیلئے مشکل بنی ہوئی ہے کیونکہ ہمارے پاس سرمایہ نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر ہم تو آپ کے پاس آئیں گے کہ اطیب صاحب ووٹ تو دینا، ہم تو آپ کے گھر پیدل جائیں گے بنوری صاحب کے پاس، ہمارے پاس تو گاڑی نہیں ہے۔

القانون: سرہمارا یہ ڈیموکریٹک سسٹم جس طرح پندرہ سال میں 6th وزیر اعظم آرہا ہے یہ سسٹم دوبارہ بار بار Through Army کے ختم ہوا تو جوڈیشری کی طرف سے یہ Derail ہونا شروع ہوگیا۔ یہ Effect کررہا ہے پبلک کو، اکانومی کو، پراگریس کو یا نہیں کررہا؟
جسٹس افتخار چوہدری: نہیں بالکل نہیں! اس کی وجہ سے تو Scrutiny ہورہی ہے اچھے اور برے لوگوں میں۔ابھی آپ دیکھیں نا کیا کیا Allegations لوگوں پر لگ رہے ہیں، کیسے کیسے معاملات ہیں۔ دیکھیں! یا تو آپ یہ کہیں کہ پرائم منسٹر کو بدلی کرکے جوڈیشری خود پرائم منسٹر بن گئی ہے چیف جسٹس نے Oath کو لے لیا ہے، یہ بات تو نہیں ہے۔ تو ہمارا تو اس Constitution کو Inforce کرناجمہوریت کوStrengthen کرنے کیلئے ہے۔کیونکہ جب یہ لوگ رہیں گے لوٹ مار رہے گی تو ملک کی اکانومی کا کیا حال ہوگا۔اکانومی کی آپ حالت دیکھیں دوبارہ آپ کو IMF کے پاس جانا پڑا ہے۔ IMF نے کوئی ہفتہ دس دن کی رپورٹ جاری کی تھی اس نے کہا کہ جو یہClaim کرتے ہیں اتنے ان کے زر reserve ہیں سارے جو ہیں نا فج ہیں کوئی نہیں، غلط ہے سارا۔ اسلئے یہ ضروری ہوتا ہے، ملک کی تباہی ہے۔ یہ کرپٹ لوگ چاہے وزیر اعظم ہو یا اور بھی کوئی ہو یہ تباہ ہے جو کسی بھی انسٹیٹیوشن کا مورال تباہ کرتا ہے۔

القانون: چاروں صوبوں میں جو حکومتیں ہیں ان میں سے آپ کس کو ذیادہ بہتر سمجھتے ہیں؟
جسٹس افتخار چوہدری: نہیں میں کہتا ہوں کہ یہ Distinction ہمیں نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ہمارا جیسے بلوچستان ہے وہاں وسائل کم ہیں جس کی وجہ سے ظاہر ہے کہ اتنی ذیادہ Delivery نہیں کر سکتے۔پنجاب کے پاس وسائل بہت ذیادہ ہیں، Main Power بھی بہت ہے ظاہر ہے پھر وہ ذیادہ اپنی پبلک کو ڈلیور کرتے ہیں۔اسی طرح KPK میں آپ جاکر دیکھ لو باتیں بڑی ہوتی ہیں لیکن وہ Deliver نہیں ہورہا۔ سندھ میں آپ جا کر دیکھ لو اور کراچی کو آپ دیکھ لو قائد اعظم محمد علی جناح کاجہاں گھر ہے ان کے سامنے بھی کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔اسلئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کو اپنے آپ کو Improve کرنا چاہئے۔

القانون: سر ایک طرف ایک سیاسی پارٹی کا سربراہ جو ایک فارمر چیف جسٹس بھی ہے جو اپنے مخالف کا عزت اور احترام کے ساتھ نام لیتا ہے جو اپنے ایک Level کے اوپر رہ کر بات کرتا ہے اور وہ الیکشن میں جاتا ہے ایک ایسے بندے کے مقابلے میں جس کی اخلاقیات اور تربیت کا معیار بہت ہی نیچے ہے، کیسے Compet کریں گے جناب آپ ان سے؟
جسٹس افتخار چوہدری: وہ تو بہت آسان بات ہے۔ وہ اس کا زرف ہے اور یہ میرا زرف ہے۔

القانون: آنے والے وقت میں، مستقبل میں الیکشن کے بعد آپ کس کو سامنے دیکھ رہے ہیں؟
جسٹس افتخار چوہدری: میرا خیال ہے کہ مستقبل میں Hung Parliment بنے گی اس ملک میں۔شاید یہ کوئی بھی پارٹی کوئی Majority نہیں لے سکے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فیصلہ نہیں کر پائیں گے پھر میرا خیال ہے کہ کوئی مڈ ٹرم الیکشن ہی آئے گا۔لیکن ایک بات اچھی ہے چاہے کوئیHung آئے یا کوئی Majority کے ساتھ آئے سسٹم چلنا چا ہئے سسٹم کو بند نہیں ہونا چاہئے، الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں اور اللہ کی مہر بانی سے الیکشن وقت پر ہی ہوں گے۔

القانون: متحدہ قومی موومنٹ کا جو ایک دم اختلاف اور خلاپیدا ہوا ہے یہ ملک کے مفاد کیلئے بہتر ہے یا نقصان دہ ہے؟
جسٹس افتخار چوہدری: میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کے لئے بہتر ہے۔ اگر اس کے کسی لیڈر کے جو کہ پاکستان کے خلاف باتیں کرتا ہے آپ کی Reservation ہے تو اس کو چھوڑیں لیکن یہ پولیٹیکل پارٹی عوام کی ہے ہمیں عوام کی قدر کرنی ہے اگر یہ خلا آیا تو عوام کے حقوق پر دھچکا لگے گا۔

القانون: ہماری آج کل کی جو جوڈیشری ہے، آپ کے بعد جتنے جج جو آپ نے نام لئے۔ان سب نے جو Stand کیا انہوں نے بہت پروفائل نیچے رکھ کے سوموٹو کے معاملے میں یا دیگر معاملے میں بہت ہلکا ہاتھ رکھا۔ اب جب ثاقب نثار صاحب آئے ہیں تو انہوں نے دوبارہ وہی آپ کے Foot Steps پر چلے ہیں لیکن شاید اس سے بھی تھوڑا آگے چلے گئے ہیں۔اس پر آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟
جسٹس افتخار چوہدری: میں تو یہ کہتا ہوں کہ جو ہماری Legacy ہے یہ Promote ہورہی ہے۔ وہ جب ان سے پہلے چیف جسٹس صاحب تھے انہوں نے بھی یہ نہیں کہ سوموٹو پر Believe نہیں کیا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ میاں ثاقب نثار نے بھی کوئی Limit Cross نہیں کی۔ وہ بھی آرٹیکل 184 کے Sub آرٹیکل کے مطابق ہی کام کررہے ہیں کیونکہ وہ اس کے پابند ہیں اسکے علاوہ ان کے پاس اور پاور کہیں سے نہیں آتی۔ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت آگے چلے گئے ہیں یا بہت پیچھے آگئے ہیں۔

القانون: جس کانٹکس میں میں نے بات کی ہے میں نے پورا ریکارڈ دیکھا ہے آپ نے اپنے اتنے سالوں میں اتنی تقریریں Public Appearence میں نہیں کیں جتنی انہوں نے تھوڑے عرصہ میں کی ہیں؟
جسٹس افتخار چوہدری: کونسی Public Appearence،وہ کہاں تھی۔ وہ تو Lawyers پر ہوتی ہیں، ہماری بھی lawyers پر تھیں۔ یہ تو Mostly انکی یاتو بارکونسل ہوتی ہیں یا بارایسوسی ایشن ہوتی ہیں،ایسا کوئی جلسہ تو اس نے نہیں کیا۔دیکھیں اب تک انکا ریکارڈ آپ مانو کہ یہ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ نہیں تھی۔انکی آج یا کل ایک کانفرنس ہے تو وہ توساری Lawyers کی ہے۔

القانون: انہوں نے 3 جنوری کو لاہور میں خطاب کیا اور انہوں نے یہ کہا کہ ہمارا ایک جج ہمیں ایک دن 45 ہزار روپے تک پڑتا ہے جو تنخواہ لیتے ہیں اور انکے جو اخراجات ہیں اور میں نے انہی کے سامنے ہاتھ جوڑے ہیں کہ ہمارے اوپر جو بوجھ ہے، جو فرض ہے، جو ہماری Liability ہے تو ہمیں Deliver کرنا ہے۔ تومیں اپنے ججوں سے ہاتھ جوڑتا ہوں جو 45 ہزار روپے Per Day لے رہے ہیں اور کام نہیں کررہے ہیں ان کیلئے چیف جسٹس صاحب ہاتھ جوڑ رہے ہیں اور جو 40 سے45 ہزار روپے مہینہ لے رہے ہیں ان کو عدالتوں میں طلب کررہے ہیں۔
جسٹس افتخار چوہدری: اس پر میں کوئی کمنٹ نہیں کر سکتا کیونکہ مجھے نہیں پتہ کہ45 ہزار کدھر سے آیا اور کیا ہے۔لیکن جہاں تک آپ کہتے ہو طلب کرنے والی بات ہے تو طلب تو ہر آدمی نہیں ہوتا، طلب تو وہ ہوتا ہے جس نے کسی کام کی Violation کی ہو اور پیسوں والی بات انہوں نے اسلئے کی ہوگی کہ آپ اپنی پرفارمنس بڑھائیں۔

القانون: جناب عمران خان کی سیاست بارے میں کچھ فرمائیں؟
جسٹس افتخار چوہدری: عمران خان کی سیاست ساری قوم کے سامنے ہے۔ سیاست میں اختلاف ضرور ہوتا ہے مگر ذاتیات، گالیاں اور غیر اخلاقی زبان کا استعمال کسی بھی طرح مناسب نہیں ہوتا۔ لیڈر قوم کی رہنمائی کرتا ہے، لوگ لیڈروں کی تقلید کرتے ہیں اگر لیڈر صرف ذاتیات اور گالیوں پر ہی انحصار کرے گا تو نقصان اٹھائے گا۔ آپ دیکھیں کہ ملک کے نوجوان کیا زبان استعمال کرنے لگے ہیں، اسکی وجہ یہ ہے کہ ان کی تربیت ایسی ہی ہورہی ہے۔عمران خان تبدیلی کا دعویدار ہے مگر آج تک اس نے قوم کو کوئی پروگرام دیا ہو کہ آنے والے وقتوں میں پانی کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے۔ کرپشن کے خاتمے تک آج تک کتنی قانون سازی متعارف کرائی گئی اور آئندہ کیا لائحہ عمل ہوگا، داخلی اور خارجی بحرانوں کے حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ عمران خان صاحب کی پچھلے 4 سال کی تقریروں میں کوئی ایک تقریر نکال کر دکھا دیں جس میں اس نے کسی منشور، کسی پروگرام یا کسی پیغام کی بات کی ہو، وہ صرف الزام لگانا، بدزبانی کرنا اور پھر اپنے الفاظ سے انکار کر دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔یہ سلسلہ وقتی طور پر تو چل سکتا ہے مگر ذیادہ نہیں۔ عمران خان کو نوجوان پسند کرتے ہیں، اس نے اگر تبدیلی لانی تھی تو سب سے پہلے کرپٹ مافیا کو اپنے قریب نہ چھوڑتا۔ اس نے ہمیشہ کہا کہ دوسری پارٹیوں سے جو لوگ آرہے ہیں وہ تو بہ تائب ہو کر اور عمران خان کے مشن قبول کرکے آرہے ہیں مگر حالیہ سینٹ الیکشن میں سب سے ذیادہ کرپشن پی ٹی آئی کے ممبران کی طرف سے آئی، جس سے واضح ہو تا ہے کہ سب کچھ صرف گمراہ کرنے کیلئے ہے۔ عمران خان سمیت تمام سیاستدانوں کو اخلاق اور کردار کو ملحوظ خاطر رکھ کر رہنمائی کرنی چاہئے کہ وہ قوم کے معمار ہیں اور معماروں کو بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔

القانون: سر آخر میں آپ کا کوئی پیغام؟
جسٹس افتخار چوہدری: میرا ایک ہی پیغام ہے کہ پاکستان آپ کا وطن ہے، اس کیلئے جیئیں، اس کیلئے مریں اور اس سے ہی محبت کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں