خصوصی انٹرویو: جناب عرفان قادر صاحب۔ سابق اٹارنی جنرل پاکستان

خصوصی انٹرویو: جناب عرفان قادر صاحب۔ سابق اٹارنی جنرل پاکستان


جناب عرفان قادر صاحب پاکستان کے مایہ ناز وکیل، سابقہ جج ہائیکورٹ اور سابق اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں۔ سیاسی مقدمات پر انکے غیر جانبدارانہ قانونی تبصرے پورے ملک میں سنے اور پسند کئے جاتے ہیں۔ وہ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے میں کسی بھی مصلحت کا شکار نہیں ہوتے ہیں جسکی وجہ سے قوم انکے تجربات اور جرأت مندانہ مؤقف کو پسند کرتی ہے۔ جناب عرفان قادر صاحب سے ایک ملاقات اور انصاف کی صورت حال پر ان سے ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔

میزبان: سید لیاقت بنوری ایڈووکیٹ


القانون: جناب عرفان قادر صاحب، پانامہ کیس کے دوران آپ کے تبصرے بڑے جاندار تھے اور آپ بار بار کہہ رہے تھے کہ سپریم کورٹ کا ٹرائل ہے۔ آپ کیوں کہہ رہے تھے؟
عرفان قادر صاحب: اسکی وجہ یہ ہے کہ پانامہ کیس میں جو درخواست دائر کی گئی تھی وہ میں نے خود تیار کی تھی کہ وہ پانامہ کی تفتیش کرے۔ مگر جب ٹرائل شروع ہوا توحالات بدل گئے، سپریم کورٹ نے پورا موقعہ دیا اور کوشش بھی کی کہ کسی طرح اس سے جان چھڑائی جائے، مگر بعد میں ایک سٹیج ایسی آئی کہ انکی اپنی عزت کا سوال پیدا ہوگیا۔ پچھلی دور حکومت میں بہت سارے پارلیمنٹیرینز کو یہ خود ہی فارغ کر چکے تھے اور اس وقت جو پاپولر Sentiment جو تھا وہ اینٹی نواز شریف تھا۔تو اس Wave پر بیٹھ کر اپنی ساکھ کو بچاتے ہوئے تو انہوں نے Eventually نواز شریف کو کہا کہ اب تم گھر جاؤ۔Legally یہ کام نہیں کر سکتے، وہ پہلے فیصلے بھی غلط ہیں۔اور اسی لئے میں شروع سے ہی یہ کہہ رہا تھا کہ یہ چیف جسٹس Revisit کرے لیکن میرا خیال ہے کہ ثاقب نثار صاحب ایک کمزور آدمی ہیں۔ فوجیوں کے ساتھ ہم نے بھی کام کیا ہوا ہے اور بالکل فوجی اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب بھی کوئی اس طرح کے ایشوز ہوتے تھے تو میں ان کو بتا دیتا تھا کہ جس طرح سے آپ چاہ رہے ہیں اس سے بڑی بدنامی ہوگی، مت کریں تووہ ہمیشہ Convince ہو جاتے تھے کہ ٹھیک کہہ رہا ہے۔ فوجیوں کے ساتھ میرا رابطہ رہتا تھاجب میں نیب میں 2003سے2006 میں پراسیکیوٹر جنرل تھا۔وہ نیب بہت مضبوط تھی اس طرح کی نیب نہیں تھی۔ سٹنگ لیفٹیننٹ جنرل جو تھے وہ چیئر مین ہوتے تھے۔عدالتیں اس طرح بدتمیزی نہیں کیا کرتی تھیں۔ وہاں پر بالکل اختلافات ہوتے تھے تو میں ان کو آرام سے سمجھاتا تھا اور ناراضگی بھی ہوتی تھی لیکن ان کو جب یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ شخص نیک نیت ہے، یہ واقعی اس چیز کی پرواہ نہیں کرتا کہ Popular Sentiments کیا ہیں کیا نہیں ہیں،تو وہ پھر میرا اور جنرل منیر حفیظ کا اور جنرل شاہد عزیز کا آپس میں بڑا Confidence ہوگیا تھا، ان کو محسوس ہوگیا تھا کہ یہ بندہ ٹھیک ہے۔ فوجیوں سے آپ دلیل کے ساتھ اور آرام سے بات کریں تو وہ اپنی ضد پر نہیں اڑتے۔ مجھے نہیں پتہ کہ ثاقب نثار کن فوجیوں سے ملتا ہے اور کن سے نہیں ملتا۔لیکن یہ Impression ضرور Create ہورہا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہے یہ تخلیق کیا جارہا ہے اور زیادہ کمپنی کی مشہوری کیلئے ہے حتیٰ کہ قاضی فائزعیسی کو بھی شور ڈلنا پڑا۔جوکہ قاضی فائز اسکی خود کی پرواز اتنی خاص نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے اپنا Independent Mind ظاہر کرنے کی کوشش تو کی ہے نااور اس نے جو باتیں کی ہیں وہ غلط نہیں کی ہیں کیونکہ اس نے تو اب کہا ہے نا کہ یہ لارجر بنچ، یہ جو مختلف جوڈیشنل نظائر ہیں،جو ان میں مطابقت نہیں ہے یہ کنفیوژ کردے گا ریٹرننگ آفیسرز کو اور الیکشن پراسیس بہت بری طرح متاثر ہوگا۔ اس نے اب کہا ہے کہ میں پچھلے سات سال سے یہی بات کررہا ہوں کہ انکو Revisit کرنا چاہئے اور میں جو کہتا ہوں کہ یہ سپریم کورٹ کا ٹرائل ہے اسی لئے کہتا ہوں کہ یہ بہت سارے جو غلط فیصلے inconsistence آگئے ہیں۔ مطلب اس وقت یہ نہیں ہے کہ سپریم کورٹ میں کوئی ڈبل اسٹینڈرڈ ہے یا دوھرا معیار ہے۔ دوھرا نہیں ہے Multiple Standard ہے،انہوں نے بیڑا غرق کردیا ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ جو لائق جج تھا وہ آصف کھوسہ تھا۔ثاقب نثار کا اور کھوسہ کا مقابلہ ہی کوئی نہیں ہے، کوئی دور دور تک مقابلہ نہیں ہے۔ جسٹس کھوسہ ہر امتحان میں ٹاپ کرتا تھا۔ وہ جوڈیشری کا اثاثہ ہے اسکے فوجداری میں بھی اچھے فیصلے ہیں اور اسکے دوسری طرف بھی ہیں۔ان کو سیاسی تنازعات میں نہیں پڑنا چاہئے تھا اور اس کو کیا ضرورت تھی کہ وہ گاڈ فادر کے ناول پر Rely کریں۔ اب خود آپ کا تعلق بھی قانون سے ہے تو سیدھی سی بات ہے کہ جب جج فیصلہ کرتا ہے تو تین چیزیں اس کے سامنے ہوتی ہیں، ایک اس کیس کے مخصوص حقائق، دوسرا اس کیس کے Statutes اور تیسرا Constitutional Provision جن سے آپ ڈیل کررہے ہوتے ہیں اور چوتھا عدالتی نظائرجن کو Quote کرتے ہیں، آپ ناولز کو تو Quote ہی نہیں کرسکتے۔ آصف کھوسہ یقیناایک پڑھا لکھا آدمی ہے اور اس نے بالکلM.A English Letrature کیا ہوا ہے۔ لیکن اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ انگلش لٹریچر کے انجکشن ججمنٹ میں لگاتا چلا جائے۔ مثلاً گیلانی صاحب کا کیس ہے،اور میں پراسیکیوٹر بھی تھا اس کیس میں، تومیں آپ سے پوچھتا ہوں کہ گیلانی کو کس چیز پہ Contempt لگائی گئی تھی۔تو اگلا سوال قدرتی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وزیر اعظم کو سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ آپ لیٹر لکھیں تو کیوں کہہ رہی ہے۔ یہ وزیر اعظم کا کام ہے کہ لیٹر لکھے سپریم کورٹ کیلئے؟ سپریم کورٹ خود کیوں نہیں لکھ دیتی؟ وزیر اعظم کوئی پیادہ تو نہیں ہے سپریم کورٹ کا کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات کی Implimentaion باہر کے ملکوں میں کرے گااور وہ چٹھی لکھے گا،یہ پرائم منسٹر کا کام نہیں تھا۔ تھوڑی دیر کیلئے ہم کہتے ہیں کہ واقعی سپریم کورٹ ہی ٹھیک کہتا تھا یہ پرائم منسٹر کا کام تھا، یہ پرائم منسٹر کا فنکشن تھاکہ سپریم کورٹ اگر احکامات جاری کرے تو وزیر اعظم جو ہے وہ خط لکھے۔ تو پھر آپ آرٹیکل 248 کو کہاں لے جائیں گے۔ آرٹیکل248 کہتا ہے کہ وزیر اعظم جو ہے اپنے فرائض منصبی میں کسی عدالت کو جواب دہ نہیں ہے۔ جب آئین کاآرٹیکل 248 کہتا ہے کہ وہ کسی عدالت کو جواب دہ نہیں ہے تو پھر گیلانی کو سزا کس بات کی دی گئی اور ان کے پاس اس کا کوئی جواب ہی نہیں ہے جب میں کھڑے ہو کر Argue کرتا تھا تو یہ زیرو ہوجاتے تھے۔ میں آپ کو یہ نہیں بتانا چاہ رہا کہ میں بڑا لائق فائق ہوں یا مجھے کوئی ایسی چیزوں کو پتہ تھا جو انکو نہیں پتہ،پتہ انکو بھی تھا لیکن یہ اس وقت ساری ڈنڈی مارہے تھے کیونکہ یہ ججز نکالے گئے تھے اور دوبارہ جب یہ واپس آئے تو انکو اپنے آپ کو Stablish کرنا تھا تو پھروہ فورسز جو انکے ساتھ تب چل رہی تھیں انکی فیور میں یہ فیصلے دے رہے تھے اور میری طرح کے لوگ انکی مسلک سے Agree نہیں کرتے تھے یا کھل کے بات کرتے تھے تو ان تمام کو یہ Victimizeکررہے تھے۔یہ ساری پاکستان سپریم کورٹ کی چھوٹی سی کہانی ہے۔یہاں اصول وصول کوئی بھی نہیں ہے، سب جھوٹ ہے اور وہ جو Latest Episode ہوا ہے وہ آپ جانتے ہی ہیں، ٹیلی فون پھینکنے کا جو ہوا ہے۔ اب یہ بے چارہ بھاگتا کیوں چلا جارہا ہے، کبھی ججوں کے کمروں میں گھس رہا ہے کبھی ہسپتالوں میں کیوں گھس رہا ہے؟ سوچنے کی بات ہے۔

القانون: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں کیمرہ لیجا کر، میڈیا لیجا کر، اندر جاکر اسکے ساتھ جو سلوک کیا ہے۔ یہ کہاں تک Justified ہے؟
اس کا مختصراً جواب یہ ہے کہ ایک تحصیلدار کی عدالت ہو،نائب تحصیلدار کی ہو، ریونیو کورٹ ہو،سول جج کی عدالت ہو،ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت ہو یا چیف جسٹس کی عدالت ہو،تمام عدالتوں کا تقدس ہے اور سب کا تقدس جو ہے وہ برابر ہے۔ سب عدالتیں اتنے ہی تقدس کے قابل ہیں جتنا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی عدالت ہے۔ لہذا ان تمام لوگوں پر لازم ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے عدالتی کاموں کا تقدس برقرار رکھیں اور مداخلت نہ کریں۔ اتنا ہی لازم چیف جسٹس پر ہے کہ وہ کسی بھی سول جج یا کسی دوسری عدالت میں گھس کے وہاں روسٹر م پہ کھڑے ہو کے، اس کے جو پلیٹ فارم ہے اس پہ چڑھ کے عدالتی کاروائی کے دوران سوال کرے کورٹ روم میں۔ He has no jurusdiction what so ever, no mendate, No legal authority to ask this questions. اصل میں چند وکیلوں نے جو کہ اپنی پریکٹس چمکانے کیلئے انکی تعریف کرتے ہیں، سارا دن تعریف کرتے ہیں ان ججوں کی، جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ اس سے انکی روٹی روزی لگی ہوئی ہے اور یہ چند لوگوں نے جس میں چند سپریم کورٹ کے جج بھی ہیں۔ چند وہ وکلاء ہیں جو اس حد تک مفاد پرست ہوگئے کہ انہوں نے سارے پاکستان کی سیاست کو یرغمال بنالیا اور انہوں نے اب پاکستان کے عدالتی نظام کو بھی یرغمال بنانے کی کوشش کی۔ یہاں پر ہر جج برابر ہے، سپریم کورٹ کے ہر جج کو اتنی ہی پاور ہے جتنی جوڈیشل معاملات پر چیف جسٹس کو ہے اور Administratively بھی اس کا دائرہ اختیارسپریم کورٹ کی حد تک ہے وہ آپ سب جانتے ہیں۔مثلاً یہ جو جج ہے اعجاز الاحسن، اسکے گھر پر خول ملا تھا ایک گولی کا، تو کتنا شور مچا تھا۔تو میں سمجھتا ہوں کہ اسی بات پر اعجاز الاحسن اور ثاقب نثار کے خلاف پروسیڈنگ ہونی چاہئیں سپریم جوڈیشل کونسل میں کہ کس اختیار کے تحت وہاں پہ جا کر آئی جی کو بلایا ہے۔ بھئی اگر کوئی مسئلہ اس طرح کا ہوا ہے اگر کوئی پرچہ درج بھی کرانا ہے اس بات کا تو SHO کے پاس جاؤ۔پرچہ چیف جسٹس درج نہیں کر سکتا۔ SHO درج کر سکتا ہے، اتھارٹی اسکی ہی ہے تو پھر یہ چل کے کیوں نہیں گئے۔ چیف جسٹس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ آپ بادشاہ بن جائیں۔ میرا کل ایک پروگرام تھا میں نے کہا کہ ہم اسکی عزت تب ہی کریں گے جب یہ اپنے حدود قیود میں رہے گا۔اگر اپنی حدود و قیود سے ہٹے گا تو پھرہم پبلک ہیں ہم اسکو گیج کریں گے، پھر ہم بھی اسکی اسکروٹنی کریں گے کہ پبلک سرونٹ کر کیا رہا ہے یہ۔ عہدوں پر بیٹھ کر کوئی خدا تو نہیں بن جاتے آپ اور ہم اسلامک رپبلک آف پاکستان اپنے آپ کو کہتے ہیں تو پھرآخری خطبہ میں تو یہاں تک ہے کہ عہدہ جو ہے وہ بھی کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے بڑی چیزجو ہے وہ آپکی نیکی ہے، عہدے سے تو انسان بڑا نہیں ہوتا کہ عہدے کے بعد آپ پھنے خان بن جاؤ۔ آپ نے جو سوال کیا اسکا یہی جواب ہے کہ اسکو فوراً معافی مانگنی چاہئے یا یہ استعفیٰ دے اور یا پھر سینئر جج جو ہے جسٹس آصف کھوسہ کو چاہئے کہ اس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی پروسیڈنگ شروع کرے اور ایک چیف جسٹس کے نکالے جانے سے عدلیہ کمزور نہیں ہوگی بلکہ مضبوط ہوگی یہ پتہ چلے گا کہ اہمیت صرف ادارے کی ہے اور Personality کی کوئی اہمیت نہیں ہے، میں تو یہی سمجھتا ہوں۔ آپ بیشک اسمیں لکھیں کہ میں بہت Serious ہوں کہ اس کے خلاف میں سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک Complaint لے جاؤں۔

القانون: فیصل رضا عابدی نے بھی کیس کیا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل اپنے چیف جسٹس کے خلاف یا ججز کے خلاف فیصلے کرنے میں کیوں تامل کرتی ہے اور دوسروں کو بلاتی ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب افتخار محمد چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی پروسیڈنگ آئی تھی تو اسمیں انہوں نے کہا تھا کہ اس کے خلاف ریفرنس جو ہے وہ بد نیتی پر مبنی ہے اور ساتھ یہاں تک فائنڈنگ دیدی تھی کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں معاملہ نہیں لے کر جا یا جا سکتا۔ ہوا یہ تھا کہ ہمارا دوست آصف کھوسہ اس بیچارے نے بچپن میں ایک آرٹیکل لکھا تھا، جب اس کے پاس کوئی کام نہیں ہوتا تھا تو یہ آئین کی کتاب کھول لیتا تھا اور یہ آرٹیکلز لکھتا تھا۔ اچھے ہوتے تھے، مزیدار ہوتے تھے۔ کئی دفعہ اچھے ہوتے تھے مگر Well Researched نہیں ہوتے تھے۔لکھنے والے کیلئے زیادہ اچھا ہوتا ہے کہ وہ زیادہ اپنی سوچ پر رہے اور کتابیں کم کھولے۔ کیونکہ وہ لیگل ریسرچ جو ہے وہ کافی بورنگ کام ہوتا ہے۔ تو قصہ مختصر کہ آصف کھوسہ نے جو آرٹیکل لکھا تھا اس میں انہوں نے یہ ویوز دیئے تھے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں پراسیڈنگ نہیں ہو سکتیں۔آئین میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی۔ انہوں نے آئین سے یہ عکس کیا تھاخود ہی کہ “Supreme judicial council consist of chief justice and other judges therefore without chief justice supreme judicial council is not complete.” تو اسلئے انہوں نے کہہ دیا کہ چیف جسٹس کے خلاف یہ نہیں ہو سکتا یہ بھی فیصلہ بالکل غلط ہے۔ چیف جسٹس کے خلاف آپ کا سوال تھا کہ کیا یہ پروسیڈ کریں گے؟ یہ نہ اس کے خلاف پروسیڈنگ شروع کریں گے، نہ کوئی فائنڈنگ دیں گے،یہ معاملہ اسی طرح پڑا رہے گا، التواء میں پڑا رہے گا اور یہ سب اپنے آپ کو بچائیں گے اور سیاست دان کیونکہ لڑتے رہتے ہیں تو اس سے لگتا ہے کہ چند سال اور انکو مل جائیں گے اور یہ چند سال اور بچ جائیں گے۔

القانون: مجھے یہ بتائیں کہ یہ جو چیف جسٹس صاحب جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو عدالتیں لگا کے سیاسی کیسز کررہے ہیں اس کیلئے ہمارا ایک قانون ہے کہ اگر دکاندار اتوار کو دکان کھولے گا تو جرمانہ ہوگا یہ گزیٹڈ چھٹی ہے لیکن ثاقب نثار اگر دکان کھولے گا تو اسکو شاباش ملے گی اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟
عرفان قادر صاحب: Whatever he is doing in the weekends, He is doing extra judicial work, He cannot do extra juducial duties as per as on code of conduct. وہاں لکھا ہوا ہے Judges will avoid all kind of extra juducial duties.۔ اگر وہ کورٹ لگاتا ہے چھٹی والے دن تو وہ لگا سکتا ہے اس میں کوئی پابندی نہیں ہے۔کام کا لوڈ زیادہ ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ہمیں کام کرنا چاہئے اور جوڈیشل ورک نکالنا چاہئے تو اس حد تک ٹھیک ہے۔کورٹ لگائے بیشک لگائے۔لیکن اگر کوئی وکیل اس پر یہ ریکویسٹ ڈال دے اپنی کہ میری ایک یہ ہی چھٹی ہوتی ہے میں پانچ چھ دن کام کرتا ہوں جیسے دوسرے لوگ کام کرتے ہیں تو میری بھی کام کرنے کی جو کنڈیشنز ہیں وہ ایک جیسی ہونی چاہئیں۔ تو پھر چیف جسٹس اس پر انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن یہ سب اس صورت میں ہے کہ جوڈیشل ورک کررہا ہولیکن یہ کررہے ہیں Administrative ورک، کہ آئی جی کو بھی بلانا اور سیکرٹریز کو بھی بلانا،تو یہ لاء کی Violation ہے،یہ کسی کو نہیں بلا سکتے۔میں بہت تھوڑا عرصہ ہائیکورٹ کا جج رہا تھا، 31 جولائی کی ججمنٹ سے ہم سارے فارغ ہوگئے تھے۔ اس دوران میں نے کبھی بھی کوئی ایسا آرڈر پاس نہیں کیا تھاکہ جس میں میں نے پولیس کے ایس ایچ او کو بھی عدالت میں بلایا ہو۔میں تمام فیصلے فائل اور کومنٹ دیکھ کر کردیا کرتا تھا، میں لوگوں کو بلاتا نہیں تھا وہاں پر، اور میں سمجھتا ہوں کہ میں بلا سکتا بھی نہیں تھا کیونکہ مجھے کوئی ایسا اختیار نہیں تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ محکموں کے خلاف جب پٹیشنز آتی ہیں تو محکموں کا اپنا ایک میگنیزم ہے اس میں وہ اس پروسیجر کے تحت وہ جواب لکھتے ہیں، محکمہ کے ہیڈ اس جواب کو O.K کرتا ہے اور پھر محکمہ کی طرف سے جواب فائل ہوتا ہے۔ لہذا کسی پولیس افسر کو آپ بلا کر ذلیل و خوار نہیں کرسکتے۔ کسی بھی محکمہ کے افسر کو آپ نہیں بلا سکتے۔تو میں فیصلہ کر دیتا تھا۔ایک دن یہ ہوا کہ میں بہاولپور بنچ میں تھا تو میری عدالت میں ایک شخص آکے سامنے کھڑا ہوگیا، وردی اس نے پہنی ہوئی تھی، اس نے مجھے سیلوٹ مارا۔ بہت سارے لوگوں کو بڑی خوشی ہوتی ہے جب وردی میں کوئی انکو سیلوٹ ماردے۔مجھے نا خوشی تھی نا غمی تھی میں دیکھ رہا تھا اور تھوڑی سی مجھے تشویش ضرور ہوئی تھی کہ یہ بیچارہ آیا کیوں ہے۔ میں نے کہا کہ جی آپ تشریف لائے ہیں تو اس نے کہا کہ میں ڈی آئی جی بہاولپورہوں۔ میں نے کہا کہ میں نے تو کبھی کسی ایس ایچ او صاحب کو بھی تکلیف نہیں دی اپنی عدالت میں، میں نے تو کبھی آرڈر ہی نہیں کیا ایسا، تو انہوں نے مجھے ایک پروانہ دکھایا کہ ایک نوٹس گیا ہوا تھا ہائیکورٹ کی بہاولپور رجسٹری کی طرف سے کہ Appear in person before justice Irfan Qadir۔ میں نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں جی، میری تو ساری آرڈر شیٹ میں کوئی ایسا آرڈر ہے ہی نہیں، میں نے تو کیا ہی نہیں۔ تو پھر میں نے ایڈیشنل رجسٹرار کو بلایا اور میں نے کہا کہ آپ نے کیسے انکو یہ بھیج دیا؟ وہ مان گیا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے۔ تو اس کے بعد وہ جو پولیس والا تھا اسے میں نے کہا I Apologize, Not only on my behalf, bul also on behalf of the lahore High Court.۔ تو یہ انکی غلطی تھی اور انشاء اللہ آئندہ نہیں ہو گی اور آپ کا وقت بڑا قیمتی ہے اور میں دوبارہ آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ جو ہیں انکی بھی اتنی ہی عزت ہے جتنی ہائیکورٹ ججز کی ہے اور ججز کو اگر یہ ایک اختیار ملا ہوا ہے فیصلہ کرنے کا تو انکو بلانے کا کوئی اختیار نہیں ہے کیونکہ Every body has a right to engage a lawyer.۔ اور یہ جو سرکاری افسروں کو بلا کر ذلیل کرتے ہیں ان کیسز میں، سرکاری افسروں کے خلاف کوئی Efficiency and Discipline کا تو کیس ہی نہیں ہوتا اور اگر سرکاری افسر کے خلاف Efficiency and Discipline کا کیس ہو تو ان کیلئے تو Tribunal بنے ہوئے ہیں۔سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا تو دائرہ اختیارہی نہیں ہے اور اگر انہوں نے کوئی کرائم کیا ہے اور اس کی تفتیش ہونی ہے، تو سپریم کورٹ نے تو نہیں کرنی یا ہائیکورٹ نے تو نہیں کرنی اور سول سائٹ پہ اگر کوئی پارٹی ہے تو اسکی مرضی ہے کہ وہ جائے اور مرضی ہے کہ وہ نہ جائے۔ پارٹی کو آپ کیسے بلا سکتے ہیں کہ تم کورٹ میں حاضر ہوجاؤ۔ہر درخواست گزار کو یہ حق ہے کہ وہ بذریعہ وکیل پیش ہو،آپ کس طرح براہ راست افسرز کو طلب کرتے ہیں جبکہ وہ فریق بھی نہیں، فریق تو زیادہ تر حکومت ہے اور جب میں نے یہ کام شروع کیا تھا تو میں چند دن فیڈرل لاء سیکرٹری رہا تھاتو میں نے ساری پاکستان گورنمنٹ کو Plan کیا تھا کہ میں انکو انکے پاؤں پر کھڑا کروں گا اور جتنا تھوڑا بہت مجھے آتا ہے میں ایجوکیٹ کروں گا تمام فیڈرل سیکرٹریز کو اور سب کو۔ میں نے بہت ساری Instructions ان کو دیں تھیں کہ کورٹ سے اگر کوئی بھی آپ کو نوٹس ملتا ہے کہ آپ نے جواب دینا ہے تو اسکا قانون میں یہ Procedure ہے اور آپ اس کے مطابق جواب دیں گے اور کسی کو اگر کورٹ بلاتا ہے تو آپ جائیں گے نہیں، آپ کہہ دیں گے کہ آپ کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ نے اس کو O.K کیا ہے، آپ ان سے بات کریں اور اگر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کو بلاتے بھی ہیں اور اگر اسکو جانا بھی پڑتا ہے تو وہ وہاں کہہ دے کہ جی ہمارا ایک طریقہ کار ہے اور فوری کسی بھی زبانی سوال کے جواب میں کہے کہ ہم اپنے محکمانہ قواعد کے مطابق تحریری جواب داخل کریں گے اور موقع پر جواب سے گریز کرے، جج کو سوال کرنے کا اگر اختیار ہے تو فریق کو بھی جواب کے موقعہ کا حق ہے، کسی کو فوری طور پر زبردستی جواب کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر ردعمل پراپر ہونا چاہئے، فیڈرل سیکرٹری کے پاس ایک پورا محکمہ ہے،سیکرٹی ریلوے ہے اس کے پاس اور ڈیڑھ لاکھ بندہ ہے اس کے نیچے، سیکرٹری کمیونیکیشن ہے، سیکرٹری ڈیفنس ہے،اس کے نیچے لاکھوں بندے اور لاکھوں فائلز ہیں اسلئے اسکو کہنا چاہئے کہ میں جواب نہیں دے سکتا میں تحریری طور پر جواب دوں گاکیونکہ سرکار کا معاملہ ہے اس کا ذاتی تو ہے ہی نہیں،لیکن پاکستان میں نالائق Incompetent ججز آگئے ہیں۔پاکستان میں بیورو کریٹس جو ہیں وہ بری طرح سے گھبرا گئے ہیں اور آپس میں لڑتے رہتے ہیں اور سیاستدان بھی لڑتے رہتے ہیں اور اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ اس وقت ان کی پشت پر بیٹھ کر ان کو ذلیل و خوار کرتے جاتے ہیں،جج جو ہیں، نہ ان کو اپنے Procedure کا پتہ ہے، نہ ان کو نارمز کا پتہ ہے۔ میں خود یہاں پر بیٹھا ہوا ہوں پچھلے تین چار سال سے، میری پریکٹس کے یہ Prime Years تھے، میری ایک فضول سی Suspension کی سپریم کورٹ نے، میں بتاؤں گا آپ کو کہ وہ Suspension کیا تھی۔ اس کے بعد دنیا کو یہ Impression دے دیا کہ کسی کیس میں بھی عرفان قادر Engage نہیں ہو سکتا۔حالانکہ ایسی بات نہیں ہے، اگر میری سپریم کورٹ کی Suspension ہے تو میں سب ہائیکورٹس، لوئر کورٹس،ٹریبونلز وغیرہ میں پیش ہو سکتا ہوں، میں پاکستان کی ہر عدالت بشمول مجسٹریٹ پیش ہو سکتا ہوں۔میرے اوپر کوئی قدغن نہیں ہے لیکن وہ ایک تاثر بنایا گیا اور میں نے بھی اس تاثر کو زائل کرنے کی قطعاً کوشش نہیں کی کیونکہ بارہ سال سے تو میں ویسے بھی کبھی ہائیکورٹ میں نہیں گھسا۔ میں جب ہائیکورٹ کا جج بن گیا تھا تو اس کے بعد میں نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ میں نے ہائیکورٹس میں جانا ہی نہیں ہے۔ میری ایک پرابلم ہمیشہ زندگی میں رہی ہے کہ میں جو دفتر چھوڑ کر آتا ہوں تو دوبارہ کبھی اس دفتر کا چکر نہیں لگاتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب B.A کرلیا، M.A کرلیا تو اگر P.H.D کرنی ہے تو کرو ورنہ آرام سے گھر پر بیٹھو۔تو میں اس قسم کا بندہ ہوں۔ Suspension کوئی تھی ہی نہیں اور Suspension کا Provision یہ ہے کہ کوئی بھی وکیل اگر سپریم کورٹ سمجھتی ہے کہ اس نے Misconduct کیا ہے تو اسکا معاملہ جو ہے وہ Refer کرے گی پاکستان بار کونسل کو اور بار کونسل جو ہے وہ معاملہ کو Decide کرے گی اور اگر Matter refer کردیا انہوں نے بار کونسل کو تو تین ماہ سے زیادہ سسپنشن رہ نہیں سکتی،یہ Extreme کیس ہے جہاں پر ایک بندے نے ایسی حرکت کی ہے۔ میں نے اگر ایسی حرکت کی ہوتی تو میرے خلاف بار کونسل میں بدعملی کی کاروائی ہوتی۔ میرے خلاف تو کوئی پروسیڈنگ Initiate نہیں ہوئی، یہ تو تین ماہ کیا یہ تو تین دن بھی یہ آرڈر جو ہے وہ نہیں رہ سکتا۔ کسی بھی کیس میں تین ماہ سے زیادہ نہیں رہ سکتی۔اور اب میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ میری سسپنشن ہوئی کس بات پر تھی، میں پروگرامز میں اسلئے شور نہیں کرتا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ میں اپنے ایشوز جو ہیں وہ پروگرام میں لارہا ہوں، میں اسکی وجہ بتاؤں گا کہ میں کیوں نہیں لاتا، میرے خلاف ہوا کیا تھا؟ آصف علی زرداری کے خلاف کچھ مقدمات تھے جس میں کہ بہت زیادہ جواد خواجہ، افتخار چوہدری اور میرے اختلافات ہوئے، ان کو یہ غصہ تھا کہ میں ایک یا دومنٹ سے کم بات کرتا تھا اور اسی میں یہ Expose ہو جاتے تھے، یہ تڑپتے رہتے تھے اور پھر وہ کیس ہی نہیں لگتے تھے، ایک سے زیادہ کیسز ایسے ہوئے۔ پہلا جو کیس چل رہا تھا وہ تھا اسحاق خاکوانی کا، اسمیں میں وکیل تھا اور وہ کیس یہ تھا کہ طاہر القادری والا جو ایشو تھا، دھرنے وغیرہ کا، تو اس پر آرمی چیف راحیل شریف نے Intervene کیا تھا اور وہ دھرنا وغیرہ ختم ہوگیا تھا تو نوازشریف نے یہ کہا تھا کہ یہ فوج نے مجھے کہا ہے کہ ہم اپنا رول پلے کریں گے تو میں نے کہا ٹھیک ہے اور ISPR کی سٹیٹمنٹ یہ تھی کہ نہیں، ہمیں حکومت نے کہا تھا، پی ٹی آئی والے میرے پاس آئے تو میں نے کہا ہاں انہوں چونکہ پہلے فیصلے ایسے کئے ہوئے ہیں جس پر کہ انہوں نے Parlimentarians کو Disqualify کیا ہواہے کہ انہوں نے جھوٹ بولا وہ امین نہیں ہیں honest نہیں ہیں یہ انہوں نے فائنڈنگ دی ہوئی ہیں تو یہ ایک ایسی چیز ہے جو اتنی عیاں ہے کہ اتنا بڑا تضاد ہے اس کی سٹیٹمنٹ میں کہ آرمی چیف کچھ کہہ رہا ہے اور نواز شریف کچھ کہہ رہا ہے یا آرمی چیف جھوٹ بول رہے ہیں یا نوازشریف جھوٹ بول رہے ہیں تو لہذا آپ ڈیفنس منسٹری سے کامنٹس منگوائیں تو یہ ہم نے اسحاق خاکوانی کیس کیا تھا۔آٹھ نو مہینے تک یہ کیس روز سپریم کورٹ میں لگتا تھا اور جواد خواجہ اس کو آخر پر رکھ چھوڑتا تھا اور میں وہاں بیٹھا رہتا تھا اور یہ اسحاق خاکوانی کا کیس اسحاق خاکوانی کا نہیں تھا بلکہ پی ٹی آئی کا تھا لیکن وہ کیونکہ نفرت تھی عرفان قادر سے تو وہ گھبراتا تھا کہ ہمارے سارے پول کھول دے گا، ہمیں Expose کردے گا، مجھے بہت انہوں نے Over rated کیا ہوا ہے جواد خواجہ وغیرہ نے،اسلئے میں بڑا خوش ہوں یہاں کہ ڈرے رہیں اور خود ہی ڈرے ہوئے ہیں۔ میں تو اپنے گھر میں کبھی کسی نہ بچے کو ڈرایا نہ کسی نوکر کوڈرایا میں کبھی کسی کو ڈراتا ہی نہیں ہوں۔ سپریم کورٹ اگر اللہ کی طرف سے اتنی ڈری ہوئی ہے تو ڈری رہے، مفت میں میری جے جے ہورہی ہے تو مجھے کیا تکلیف ہے۔ تو چھ مہینے وہ کیس بس لگتا رہا اور Delay ہوتا رہا پھر میں نے ایک دو درخواستیں بھی دیں اور میں نے کہا سر میرا کیس غیر ضروری طور پرالتواء میں ہے،مجھے سارا دن انتظار کرایا جاتا ہے اسلئے میری درخواست ہے کہ اسکو روزانہ کی بنیاد پر سنا جاکر فیصلہ کیا جائے۔ تو اسکو بڑا غصہ آیا تو کہنے لگا کہ ٹھیک ہے اس کیس کو کوئٹہ میں سنیں گے۔ پرنسپل سیٹ پر کیس فائل ہوا ہے اور مجھے کہہ رہا ہے کہ آپ کوئٹہ آؤ پیر والے دن، ہم کوئٹہ میں سماعت کریں گے، میں نے کہا کہ میں کوئٹہ نہیں جاؤں گا، میں وکیل ہوں کوئی ملازم تو نہیں۔ میں نے فائل کیا اسلام آباد میں تو میں کوئٹہ کیوں جاؤں، وہ مجھے ٹارچر کررہا تھا۔تو میں خود بھی چونکہ اسپورٹس مین بھی رہا ہوں تو میں ٹارچر بڑا برداشت کر لیتا ہوں لیکن پھرجہاں میں سمجھتا ہوں کہ اب برداشت سے چیزیں باہر ہورہی ہیں تو اسکا سب سے آسان طریقہ ہوتا ہے کہ منہ پہ کہہ دو کہ I Cant do it۔ میں وہاں نہیں جا سکتا۔ تو انہوں نے کہا کہ آپ نہیں جاتے تو پھر ہم آرڈر پاس کرلیں گے میں نے کہا کہ جی ضرور، میں ریویو فائل کروں گا۔ریویو بھی میں نے فائل کردیا ہے اور ساتھ ہی میں نے پریس کو بھی بتا دیا کہ میں کوئٹہ نہیں جاؤ گااور یہ سارے اخباروں میں بات آئی۔ اب وہ جواد خواجہ کو بڑی تکلیف تھی کہ ہر دفعہ جب اس قسم کی باتیں ہوتی تھیں تو بظاہر لگتا تھا کہ عرفان قادر اس کو Win کررہا ہے۔ ایک تاثر بن گیا تھا کہ یہ جج جو ہے یہ خوامخواہ فضول باتیں کررہا ہے اور بات بھی فضول تھی کہ کیس اگر پرنسپل سیٹ پر فائل ہوا ہے تو کوئٹہ کیسے جا سکتا ہے اور اگر کوئٹہ کی تمہاری رجسٹری ہے توپرنسپل سیٹ کا کیس کوئٹہ کیوں جائے۔ بلکہ کوئٹہ اور کراچی سے تو کیس آجاتے ہیں پرنسپل سیٹ پہ کیونکہ زیادہ تر پرنسپل سیٹ پر اسی پوائنٹ پر کیسز ہوتے ہیں۔ اناء کی نہیں بات اصول کی تھی بہر حال وہ کوئٹہ میں اس نے سنا، میرے بغیر سنا لیکن میرے خلاف کچھ نہیں کر سکا، ہر دفعہ مجھے پکڑنا چاہتا تھا میری گردن مروڑنا چاہتا تھا لیکن کر کچھ نہیں سکتا تھا کیونکہ میری عادت تھی کہ میں بدتمیزی کبھی نہیں کرتا تھا۔ انہوں نے میری غیر موجودگی میں آرڈر پاس کردیا کوئٹہ میں اور آرڈر یہ پاس کیا کہ لارجر بنچ Constitute ہو۔ سات ججوں کا بنچ Constitute ہوگیا اور وہ سات ججوں کی جو درگت بنی ہے اس دن جب میں نے بحث کی ہے کوئی سوا گھنٹہ، یہ ثاقب نثار، آصف کھوسہ، ان کے منہ سے جو بات نکلتی تھی اگر یہ کوئی بڑی زبردست فاؤل سروس بھی مجھے پھینکتے تھے تو اس پر اتنی Strong والی جاتی تھی کہ یہ ہل کر رہ جاتے تھے۔ تو بہر حال Ishaq Khakwani case was buldozed۔ کھوسہ صاحب نے کہا کہ یہ صادق اور امین کی Yardstick کیا ہے خاکوانی کیس میں اور پانامہ کیس میں اس کے الٹ فیصلہ دے دیا۔ تو یہ جواد خواجہ کو خار تھی اور اب ان کو یہ ہوا کہ جب وہ فیصلہ آگیا تو میں کورٹ روم نمبر 1 سے جب باہر نکلا تو میں نے سب سے پہلی بات یہ کی کہ This decision is makes no sence, i am challenging it. یہ میں کہہ کر باہر نکل آیا، میرے پاس بڑے پوائنٹ تھے، میں بھرا ہوا تھا پوائنٹس کے ساتھ، اب تو مجھے خیر قانون نہیں آتا پر تب آتا ہوتا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ یہ ججمنٹ ہے اور میں ریویو کروں گا۔ جواد خواجہ کا تو برا حال ہوا۔ایک اور میرا کیس چل رہا تھااس کیس میں الزام تھاکہ آصف زرداری نے سندھ پولیس کیلئے آرمرڈ گاڑیوں کے سربیا سے منگوانے کا ٹھیکہ غلط طور پر دیا ہے۔ بارہ سماعتوں میں میں سندھ پولیس کاوکیل تھا اور فارق نا ئیک بعد میں اس میں Engage ہونا چاہتا تھاتو مجھ سے پوچھا گیا کہ جی نائیک کو ہم کرلیں تو میں نے کہا کہ کرلو یار، اس کو فیس چاہئے تو کرلو، مجھے کیا تکلیف ہے۔ حالانکہ نائیک کی پوزیشن بھی بہت بڑی تھی وہ چیئر مین سینیٹ بھی رہا وہ صدر پاکستان بھی رہا اور زرداری کے ساتھ اسکے پرسنل تعلقات بہت تھے، میرے تو اس طرح کے نہیں تھے لیکن Insecurity بھی ان لوگوں کی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ تب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ جی آپ Comfortable رہیں گے تو میں نے کہا کہ میری عادت ہے میں Comfortable ہی رہتا ہوں اگر انکو فیس ملتی ہے تو وہ کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔ تو وہ کیس دراصل یہ تھا کہ وہ آرمرڈ گاڑی جو پچاس روپے کی تھی وہ یہ 100 روپے میں خرید رہے ہیں تو وہاں پر سپریم کورٹ کو میں نے بتایا کہ جی ٹھیک ہے ہم یہ دیکھ لیتے ہیں، یہ درخواست دائر کرائی گئی تھی، ایک شخص ہے محمود اختر نقوی وہ بدنام زمانہ ہے، جج اس کو بلاتے ہیں کمرے میں اور خود ہی کیس کرواتے ہیں اور اسکی ایک لمبی ہسٹری ہے اس کیس کی، ابھی اس کو جرمانہ بھی ہوا ہے، وہ ساتھ ملے ہوئے ہیں، وہ ان سب کو بخوبی جانتا ہے، یہ سب ججوں کا Tout ہے وہ، یہ سب فراڈ ہے، جرمانہ بھی اس کو کر دیں گے پھر اسکو دوسرے کیس میں Accomodate کریں گے۔ اب ہوا کیا کہ محمود اختر نقوی کی جو پٹیشن تھی اس میں یہ بات لکھی ہوئی تھی کہ جی ایک ارب روپے کی جو گاڑی یہ لے رہے ہیں قیمت اسکی کچھ بھی نہیں ہے، میں نے کہا کہ میں تو مانتا ہوں اس کی بات، ٹھیک کہتا ہے اب یہ بے شک ثابت کردے، Scientifically prove کر دے، ہمیں یہ اس طرح کیProcurement کہیں اور سے لادے۔ تو ہم آئندہ، اب تو ہمارا ان کے ساتھ ایک معاہدہ ہوگیا ہے، ابھی ہم نے اور بھی بڑی گاڑیاں لینی ہیں، یہ تو ہم نے ایک Consignment order کیا ہے، کراچی کیلئے بہت ضرورت ہے۔ تو انہوں نے ایک تجویز دی کہ ہاں وہ جوہمارا ہیوی مکینیکل کمپلکس ہے ٹیکسلا میں وہ اسطرح کی گاڑیاں بناتے ہیں تو وہ اس سے تھوڑی سی سستی، وہ بھی تھوڑی سی سستی، اتنا فرق نہیں جتنا کہہ رہا تھا توسرمد جلال عثمانی نے اس پر نوٹس کردیا ہیوی مکینیکل فیکٹریز جو بھی ہیں، ساتھ ہی انکو کہا کہ آپ بتائیں کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بالکل بنا سکتے ہیں ہم کر سکتے ہیں تو ہم نے کہا کہ بہت اچھا۔ وہ جب اسکی Specification آئیں تو پتہ چلا کہ وہ جوگاڑیاں ہیں ان میں سے کچھ سندھ گورنمنٹ نے Procure کی تھیں اور کوئی آٹھ دس پولیس والے اندر مر گئے تھے ان کے، گولیاں ان کے اندر Penetrate کر گئیں تھیں لیاری کے اندر۔تو وہ ہم نے بتادیا سپریم کورٹ میں کہ جی ان کے یہ رزلٹ تھے اگر آپ چاہتے ہیں کہ پھر گولیاں اندر گھس جائیں تو ہم کر لیتے ہیں۔ وہ ہر پیشی پہ ججزجو ہیں وہ اپنا منہ دیکھتے تھے۔ بہر حال تو ہانی مسلم نے اس میں بڑا ڈرامہ شرامہ لگایا، ایک دفعہ فائز عیسیٰ کے پاس لگا تو فائز عیسیٰ نے میرے ساتھ بد تمیزی شروع کردی اس کیس میں۔ ہانی مسلم نے اپنی عزت بچانے کیلئے فائز عیسیٰ کو ڈانٹنا شروع کردیا اس کیس میں۔ بہر حال تو وہ بارہ سماعتوں میں ایک اور پرپوزل لے آئے کہ ہم فرانس سے Procure کریں گے۔ ٹیکسلا کے ہیوی مکینیکل نے کہا کہ ہم ان کے ساتھ Calloboration کرکے جو کہیں ان کو منگوا دیتے ہیں۔ وہ جب calloboration کی گئی تو اس کے جو ہم نے Specifications دیکھیں تو وہ بھی Serbians سے کم تھیں اور جس کی Specification ذرا بہتر تھیں وہ کہیں زیادہ مہنگی تھیں۔ تو وہاں پہ یہ بارہ سماعتوں میں سارا سپریم کورٹ پسپاہو چکا تھا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کو تکلیف کیا تھی یہ کر کیوں رہے تھے۔ نمبر 1 آصف زرداری کا ابھی کوئی کونٹریکٹ ان کے ساتھ Through نہیں ہوا تھا،گاڑیاں منگائی نہیں تھیں۔ کونٹریکٹ ہوگیا تھا لیکن منگوایا کچھ نہیں تھا ابھی تک ہم نے اور اس پر بھی ہم نے لکھ دیا تھا کہ اگرکوئی مسئلہ ہوا تو نہیں منگوائیں گے۔نمبر2 یہ جو ہانی مسلم ہے اس کا بیٹا Western Europe میں فرانس میں ایک آرمرڈگاڑیوں کی کوئی کمپنی تھی اس میں یہ نوکر تھا، ان کو یہ تکلیف پہنچی کہ اگرایسٹرن یورپ سے انہوں نے منگوایاتو یہ ویسٹرن یورپ جو ہے یہ تو بیکار ہو جائے گا، پاکستان نے تو ایسٹرن یورپ سے ڈیل کرنا شروع کردیا۔ ہانی مسلم کا بیٹا جو ہے وہ بھی Interested تھا بیچ میں اور یہ جو پٹیشن تھی یہ صرف پانسپل سیٹ پر لگتی تھی یہ کراچی لگ نہیں سکتی تھی۔ اب آپ پوچھیں گے کہ کیوں؟ کراچی سلئے نہیں لگ سکتی تھی کہ اسطرح کے معاملے صرف پرنسپل سیٹ میں آتے تھے ان دنوں میں۔ انہوں نے کراچی لگانے کیلئے کیا کیا، آپ کو یاد ہوگا کہ ایک بڑا مشہور کیس تھا کراچی بد امنی کیس اور وہ کیس فیصلہ ہوگیا تھا 2011 میں، تو انہوں نے ایک فیصلہ شدہ کیس میں درخواست دے دی کہ یہ چونکہ پولیس کے بارے میں باتیں ہوئی تھیں تو لہذا یہ جو گاڑیوں ہیں اور یہ جو معاہدہ ہے یہ بھی سارا کرپشن پر Based ہے۔ یہ درخواست کراچی میں دی گئی تاکہ ہانی مسلم وہاں ہیڈ کررہا تھا سپریم کورٹ کو،کہ کیس ہانی مسلم کے پاس لگ جائے اور یہ کیس انہوں نے ہانی کے پاس لگوادیا، اب جب اس کی بارہ سماعتیں ہوگئیں اورکوئی نتیجہ نہیں نکلا فائز عیسیٰ نے بدتمیزی شروع کردی اور کہتا ہے کہ Where is the agrement تو میں نے کہا کہمجھے ایگریمنٹ پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ پٹیشنر کی ذمہ داری ہے کہ پیش کرے۔ تو اس پر اس نے پولیس کا جو آئی جی پیچھے بیٹھا ہوا تھا اس کو بلایا اور کہا کہ you have got the agrement تو اس نے فائز عیسیٰ کی بات سن کے کانپنا شروع کردیا حالانکہ چیف سیکرٹری بھی بیٹھا ہوا تھا۔پھر جب اس نے ڈانٹا اسکو تو میں نے مداخلت کی اور میں نے کہا کہ Firstly i dont like this, Court is engaging directly with my client, whatever you have to ask you ask me. آپ ان کو مت کہیں اور یہ پٹیشنرکا کام تھا یہ ساری چیزیں لگانی یہ میرا کام نہیں ہے۔ اس پر ہانی کو پتہ تھا کہ فائز عیسیٰ نے دو باتیں کرنی ہیں تو عرفان قادر نے چار کرکے اور بے عزتی کرنی تھی۔ہانی جانتا تھا کہ عرفان قادر کو لاء کا Pettern معلوم ہے اس لئے ہانی نے فائز عیسیٰ کو کہا کہ آپ چپ کریں، بولنا بند کریں،اور مجھ سے کہا کہ میں آپ سے متفق ہوں۔بہر حال انہوں نے پرنسپل سیٹ پر کیس ٹرانسفر کیا، پہلی پیشی تھی۔پرنسپل سیٹ پہ جوادخواجہ نے مجھ سے سوال کیا کہاس پہ جتنے بھی کانٹریکٹ پولیس کرتی ہے وہ گورنر کے پاس جانا چاہئے، گورنر کے دستخط ہونے چاہئیں۔ میں نے کہا کہ جی یہ جو آپ سوال کررہے ہیں نہ تو یہ Petition میں ہے نہ کسی بھی کورٹ کی آرڈر شیٹ میں ہے کہ اس طرح کی بات پہلے ہوئی ہے۔ چونکہ آپ نے ایک آئینی سوال کیا ہے تو آپ یہ سوال فریم کریں آرڈر میں اور پھر آپ مجھے وقت دیں یہ جو آپ نے ایک ٹیکنیکل پوائنٹ نکالا ہے میں اس پر ضرور جواب دوں گا۔ اس نے کہا کہ نہیں ابھی جواب چاہئے، میں نے کہا کہ نہیں۔ اس کے بعد اس کو غصہ چڑھ گیا اور اس نے کہا کہ بتائیں کہ عرفان قادر اس کیس میں Engage کیسے ہوا۔ تو اس پر ساری فائلیں دیکھنی شروع کردیں اور اس پر اس نے کہا کہ Who is the advocate on record in this case۔ مجھے کیا پتہ کہ کون ہے اور آج تک مجھے نہیں پتہ۔ رولز میں لکھا ہوا ہے کہ The advocate on record will instruct the advocate to argue the case.۔
مجھے پوچھتا ہے کہ جی Where are those instructions from advocate on record.۔ کبھی آپ نے سنی ہیں یہ باتیں، میری تیس سال کی پریکٹس ہے سپریم کورٹ میں مجھے پتہ بھی نہیں ہوتا تھا کہ میرا ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کون ہے اور کون نہیں۔خود ہی کلائنٹس جاتے تھے اور ایڈووکیٹ آن ریکارڈکو کر لیتے تھے۔ میں نے کبھی کسی کیس میں انسٹرکشن نہیں لیں، میں نے تو کیا کبھی کسی وکیل نے بھی انسٹرکشن نہیں لیں۔ سپریم کورٹ کے رولز میں یہ لکھا ہوا ہے تو میں سے سچ بولا کہ What instruction, i dont see,۔ تو کہنے لگے کہ نہیں نہیں رولز جو ہیں وہ رولز ہیں، میں نے کہا کہ ٹھیک ہے، یہ میری غلطینہیں ہے، میں بارہ سماعتوں میں حاضر ہوں۔کہا نہیں نہیں بغیر وکالت نامہ۔ سپریم کورٹ میں وکالت نامہ ہوتا ہی نہیں ہے، وکیلوں کا نہیں ہوتا وہ AOR کا ہوتا ہے اور AOR کا پتہ نہیں ہوتا ہے کہ نہیں کیونکہ وہ تو ویسے ہی ان کی Strength میں ہوتے ہیں۔اب آپ سمجھ گئے کہ یہ تو کوئی ایشو ہی نہیں ہے۔ آئی جی کہہ بھی رہا ہے کہ ہم نے Engage کیا ہے۔ مجھے کہا آپ آگے آئیں اور جواب دیں۔ میں نے کہا کہ میں پہلے ہی ایک درخواست دائر کرچکا ہوں۔ I would say that in 67 years history
یا جتنے بھی سال پاکستان کو بنے ہوئے ہو گئے تھے It has never ever happened that as senior council, is being asked in the supreme court, who engage you, what is your fees, etc, i alredy moved a rucusal application and i am being single doubt, and i dont expect justice if justice jawad khawaja is on the bench, and my request is that either my rucusal application come or i would request for rucusals straight way that your honor should not hear this case.۔
بس اس پہ ہی جناب انہوں نے کہا کہ When we asked him a question, he raised his voice. لو جی یہ میرے خلاف الزام آگیا ہے۔ ہاں میں نے جواب نہیں دیا اور یہ میرا حق ہے کہ میں خاموش رہوں۔یہ سارا ڈرامہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ But he raised his voice, such behavior is not conducive to good relation between the bench and bar and these circumstances we are left no option but to suspend his license.۔
وکیل سارے بڑے خوش کہ یار جان چھوٹی عرفان قادر کولوں۔پھر بڑوں بڑوں کو کیس ملنے شروع ہوئے میرے والے۔ اعتزاز احسن اس وقت کورٹ میں موجود تھا اور وہ کھڑا ہوگیا اس نے کہاThis is no way ۔ بغیر نوٹس دیئے ہوئے آپ Suspend نہیں کر سکتے، یہ Illegal اور غلط ہے اورجس کیلئے میں اعتزاز احسن کا شکر گزار ہوں کہ وہ کھڑا ہوگیا تھا جواد خواجہ کے آگے۔ تین مہینے گزرے اور اس کے بعد میں کئی کیسوں میں گیا وہ ہر دفعہ یہی پھڈا ڈال لیتے تھے کہ آپ کی تو Suspension ہوئی ہے اور میں ان سے کہتا تھا کہ یہ تین ماہ سے زیادہ نہیں رہ سکتاتو وہ کہتے تھے کہ آپ کی بات پر ہم بات نہیں کریں گے آپ یہ اس بنچ کے سامنے کریں جس نے آپکی سسپنشن کی ہے، میں نے کہا کہ اس وقت میں اس بنچ کے سامنے نہیں ہوں میں تو آپ کے سامنے ہوں اور ایک الگ کیس کررہا ہوں اورلاء میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ سسپنشن تین ماہ سے زیادہ نہیں رہتی اوریہ آپ نے حلف اٹھایا ہوا ہے کہ you will protect the law۔
میں آپ کو بتادوں کہ اب میں پریکٹس خود نہیں کرتا۔کوئی کیس نہیں ہے میرے خلاف۔ اس کے بعد جب جواد خواجہ نے یہ آرڈر لکھا تو میں نے کورٹ میں کھڑے ہوکر روسٹرم میں کہا کہ یہ آرڈر جو آپ لکھ رہے ہیں یہ سارے لوگوں نے پڑھنا ہے اور اگر آپنے لکھنا ہی ہے تو ایک اچھا آرڈر لکھیں۔آپ آرام سے چیمبر میں جا کر لکھیں۔ بے شک مجھے آؤٹ کریں، کینسل کردیں لیکن ایک اچھا آرڈر لکھیں۔ بہرحال وہ Suspend کرکے ایک اچھے آرڈر کے پیچھے چلا گیا۔ وہ لکھتا رہا کہ ہم نے ریسرچ افسر لگایا تھا، فلاں کیس میں عرفان قادر نے یہ کیا، وہ کیا، پھر اس نے کوئی دس صفحات لکھ دیئے۔ میں نے اسی وقت اس کا جواب دے دیااور ٹکا کے دیا اور اخباروں میں بھی آیا۔ یہ کیس پھر ثاقب نثار کے پاس لگ گیا، علی ظفر خود ہی میرا وکیل بن گیا کہ میں انکا وکیل ہوں وہ خود ہی آگیا بیچ میں۔ مجھے کہا گیا کہ میں یہ کہوں کہ میں شرمندہ ہوں، میں نے کہا، کہ میں کس بات پر شرمندگی کا اظہار کروں،میں Regret کرتا ہوں جسکی وجہ سے وہ درخواست ملتوی ہوئی۔ اب میں نے علی ظفر سے کہا کہ درخواست واپس لو،میں نے پریکٹس ہی نہیں کرنی، میں آزادانہ زندگی انجوائے کررہا ہوں۔

القانون: افتخار چوہدری صاحب اورجناب ثاقب نثار میں کیا فرق ہے؟
عرفان قادر صاحب: کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ لیکن ایک بات ہے افتخار چوہدری جو بھی تھا وہ منہ پہ تھا، وہ اچھا تھا یا برا تھا سامنے ہی تھا۔ افتخار چوہدری میں نہ نہ کرتے ہوئے بھی اس کی آنکھ میں ایک شرم تھی، ایک لحاظ تھا ۔

القانون: افتخار چوہدری نے بابر اعوان کو Suspend کیا تھا، کیا وہ Justified تھا؟
عرفان قادر صاحب: وہ بالکل غلط تھا،مگر بابر اعوان کو میں نے دیکھا ہے کہ اس نے کبھی بھی کسی پرنسپل بات پر Stand نہیں لیا ہے، مجھے نہیں یاد پڑتا۔وہ کبھی سپریم کورٹ کے ساتھ ہو جاتا تھا تو کبھی کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ہو جاتا تھا۔ پھر جب انہوں نے بابر اعوان کے ساتھ ایسا کیا تھا تو بابر اعوان کھڑا بھی نہیں ہوا اور بابر اعوان نے جاکر کورٹ میں بے تحاشہ معافیاں مانگی۔ لہذا یہ جو ججز ہیں، میں نہیں کہتا کہ انہوں نے صحیح کیا بابر اعوان کے ساتھ، بالکل نہیں کہتا، لیکن یہ ججز جو ہیں یہ ماسٹر ہیں ناک رگڑوانے کے، تو اسکا انہوں نے کافی ناک رگڑوایا تھا اور چونکہ مجھے تھوڑی سی خفگی ہے بابر اعوان سے اور ڈوگر سے۔ مثلاً مجھے جسٹس ڈوگر پہ خفگی ہے تجھے کیا ضرورت تھی معافی مانگنے کی کہ تجھے بلایا اور معافی مانگنی شروع کردی، کیوں؟ بھئی کھڑے ہوتے نا سٹینڈ لیتے نا اس وقت۔ میں اسی لئے ان سے ناراض ہوں کہ بابر اعوان کو جب سب کچھ اللہ نے دیا ہے تو وہ defend کرتا اپنے آپ کو، معافیاں مانگ مانگ کے، مانگ مانگ کے، آخر میں انہوں کہا کہ چلو معاف کرتے ہیں تجھے۔لیکن بابر اعوان کا واقعہ Legally بالکل غلط تھا۔

القانون: سر یہ جو نوازشریف، یہ جو Perception بننا شروع ہوگئی ہے کہ سپریم کورٹ بالکل ترازو ایک سائیڈ پر رکھ کے کام کرنا شروع ہوگئی ہے، کیا یہ ٹھیک ہے؟
عرفان قادر صاحب: ٹھیک ہے، 100% ٹھیک ہے۔ یعنی اگر انہوں نے ترازو واقعی ایک سائیڈ پر نہیں رکھا ہوا اور بڑی ایمانداری سے کام کررہے ہیں تو پھر بھی Impression یہی ملتا ہے کہ یہ ترازو ایک سائیڈ پہ رکھا ہوا ہے۔

القانون: آپ کے خیال میں اس وقت جوڈیشری جو ہے وہ پی ٹی آئی کو سپورٹ کررہی ہے؟
عرفان قادر صاحب: جی ہاں! سپورٹ کررہی ہے، بالکل کررہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ پی ٹی آئی کو بھی سپورٹ نہیں کریں گے تو پیپلز پارٹی تو پہلے ہی ان کے خلاف ہے ان کے ساتھ جو پانچ سال کی گئی، پانچ سال اس پیریڈ میں حکومت ہی انکی تھی، جوڈیشری کی تھی۔ اگلا دور جو ہے نواز شریف کا تو تقریباً Defecto Government انہی کی تھی۔ تواب اگر پی ٹی آئی بھی ان کے ساتھ نہ ہو اور مسلم لیگ ن بھی نہ ہو تو پولیٹیکل سپورٹ تو انکو پھر بھی کوئی نہ کوئی چاہئے نا۔ کیونکہ ورنہ پارلیمنٹ کے اندر وہ ساری فورسز مل جائیں تو سب کیلئے مشکل ہو جائے گی تو اس وقت انکو اپنی بچت جو ہے وہ پی ٹی آئی میں نظر آرہی ہے۔ لیکن زرا پی ٹی آئی کمزور ہوگئی تو یہ پی ٹی آئی کو بھی کھا جائیں گے، تیسری حکومت بھی یہ کھا جائیں گے۔ میں بھی آپ کو بتا دیتا ہوں، افتخار چوہدری صاحب جو ہیں برطرف ہوئے تھے اس کے بعد ان کے نکالے جانے پہ کیا سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ کیا تھا؟ ڈوگر کورٹ نے کیا تھا اور میں وکیل تھا اس کیس میں۔ ڈوگر کورٹ نے کہا تھا کہ جن ججز کو حلف نہیں دلایا گیا They have seized to be judges۔ یہ ڈوگر کورٹ نے کہا تھا اور ڈوگر کورٹ نے rely کیا تھا افتخار چوہدری کے فیصلے پہ، ظفر علی شاہ کے فیصلے پہ، جس میں افتخار چوہدری موجود تھا اور افتخار چوہدری کا اپنا ہی فیصلہ تھا اور اس کے فیصلے پر جب ڈوگر کورٹ نے یہ کہہ دیا تھا تو سپریم کورٹ کی ججمنٹ کو ریویو کرایا جاناچاہئے تھا۔لیکن بات یہ ہے کہ Restoration ریویو سے پہلے کیسے ہوگئی تھی۔ جب سپریم کورٹ کا Order in field ہوتا ہے تو Restoration دو طریقوں سے ہوتی ہے، یا تو آئین میں ترمیم سے اور یا کوئی قانون سازی کرکے کردیں۔ ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے آپ سپریم کورٹ کے آرڈر کے خلاف کیسے جا سکتے ہیں۔ ڈوگر کورٹ بھی Defective کورٹ ہے۔ پچھلے پندرہ سال سے ہمارے پاس Defective Judiciary چل رہی ہے اور یہ انہی نوکریوں کو بچانے کیلئے ججز خودججز کو ہی نکال رہے ہیں، ججز جو ہیں وہ پارلیمنٹیرینز کو نکال رہے ہیں، ججز سرکاری افسروں کو نکال رہے ہیں تاکہ اسلئے کہ دوام دیا جا سکے اور لوگ اس چیز کو بھول جائیں کہ ان کے اپنے کیا سقم ہیں اور پھرڈوگر کورٹ کے جو فیصلے تھے وہ سارے uphold کردیئے۔
Dogar court was not an ideal court, but dogar court was not incompetent court to the extent to other courts. ۔ ہزاروں کیس انہوں نے فیصلے کئے تھے لہذا انہوں نے کہا جی کہ انکے جو فیصلے ہیں وہ ٹھیک ہیں۔ اور پھر ڈوگر کورٹ میں بھی دو ججز تھے ایک وہ تھے جنہوں نے PCO کا حلف اٹھایا تھا اور ایک وہ تھے جنہوں نے کبھی بھی PCO کا حلف نہیں اٹھایا تھا۔ میں ان ججز میں تھا جنہوں نے کبھی PCO کا حلف نہیں اٹھایا تھااور ہمیں نکالا تھا ان ججز نے جنہوں نے حلف اٹھایا تھا اور 31 جولائی کے فیصلے کا سب سے بڑا مجھے فائدہ ہوا تھا کیونکہ میں اگر بطور جج رہ جاتا تو میں ابھی تک سپریم کورٹ میں ہوتا۔ میں کتنے سال پہلے اٹارنی جنرل بن کے ٹاپ پوزیشن ہولڈ کرکے فیڈرل منسٹر کا رینک لے کے پاکستان کا جھنڈا لگا کے میں اپنا گھر آگیا ہوں۔ چیف جسٹس پہ لگتا ہے نا پاکستان کا جھنڈا، میں تو Benificiary تھا۔ مجھے کوئی اس چیز کا غصہ نہیں ہے کہ ہمیں نکال دیا تھا بلکہ بہت اچھا ہوا تھا۔ میں تو اپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ لوگ مجھے پسند کرتے ہیں، سنتے ہیں، آپ جیسے اچھے لوگ میرے پاس آکر مجھے عزت بخشتے ہیں،میرے ساتھ بات کرتے ہیں،میں تواپنے آپ کو بہت بہت لکی سمجھتا ہوں۔ بہر حال پی سی او ججز نے زیادہ تر Non-PCO ججز کو نکال دیا، پھر انہوں نے کہا کہ انکے فیصلے جو ہیں وہ ہم نے Save کردیئے، باقی ساری جو انکی Appointments غلط ہوگئیں اور جو ایڈمنسٹریٹو فیصلے انہوں نے لئے ہیں ان میں سے جو ججز کی تنخواہیں بڑھائی ہیں اور اس کے بعد اپنی تنخواہیں کئی دفعہ بڑھائیں وہ سب جائزاور اس کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سے اپنے آپ کو علیحدہ کرلیا اور آج انکی جو Widows ہیں ججز کی جس میں کہ میری Mother in law بھی شامل ہیں انکو جو پنشن مل رہی ہے آپ کے علم میں نہیں ہوگی، میرا والد جو حکومت میں سینئر بیورو کریٹ تھاتو ان کی جو پنشن ہے وہ میرا خیال ہے کہ وہ میری Mother in law سے ون تھرڈ سے بھی کم ہوگی۔ کیونکہ وہ ایک جج کی بیوہ ہیں۔بیواؤں کو ایک موبائل فون بھی ملا ہوا ہے، انکا جو ڈرائیور ہے شاید چالیس یا پچاس ہزار روپے سپریم کورٹ تنخواہ دیتی ہے اسکو، کوئی تیس یا چالیس ہزار روپے انکی میڈ/ آیا لیتی ہے، اتنا اسٹاف تو انکو ملا ہوا ہے اور انکا Unlimited فون ہے۔ ہم جب فون کرتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ یار بڑا بل پڑ جائے گا لیکن انکو کوئی ایشو ہی نہیں ہے، ولایت فون کریں، ادھر فون کریں،اپنے سارے بچوں کو ساری دنیا میں وہ فونز کرتی ہیں اور تنخواہیں جو ہیں ججز کی وہ کئی گنا زیادہ بڑھادی ہیں۔ پاکستان میں ہائیکورٹ کے جج کی جو تنخواہ ہے وہ انڈیا کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی زیادہ ہے اور یہ ایک بہت بڑی کرپشن ہے۔ یہ باتیں عام لوگوں کے علم میں نہیں۔

القانون: تو ہین عدالت کا جو قانون ہے اور جس طرح توہین عدالت بے دریغ استعمال ہورہا ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں اس بارے میں؟
عرفان قادر صاحب: نہیں یہ غلط ہے، بالکل غلط ہے۔ توہین عدالت کا جو قانون ہے وہ 1997 میں قانون آیا اور یہ قانون 2003 میں Repeal ہوگیا۔ 2003 کا جو قانون ہے اس کو سترویں ترمیم کے ذریعے دوام دے دیا گیااور کہا گیا کہ یہ تمام قوانین جو اس مارشل لاء پیریڈ میں بنے تھے جبکہ جنرل صاحب چیف ایگزیکٹیو تھے تو اس دوران میں جو بھی قوانین بنے ہیں ان کو دوام بخش دیا۔اس میں ایک Contempt of court ordinance 2003 تھا لیکن جب اٹھارویں ترمیم آگئی جب Constitution intact آگیا تو اس کے بعد ایک نیا آرڈیننس آیا اور وہ بھی 2003 میں آیااور اس کے ساتھ پچھلا والا جو 2003 کا آرڈیننس ہے وہ Repeal ہوگیا۔اس کے بعد 2004 کا آرڈیننس آیا اور اس نے 2003 والے آرڈیننس کو Repeal کردیا۔تو مجھے آپ یہ بتائیں کہ یہ 2003 کا یہ کیسے پکڑ کے بیٹھ گئے اس بات پہ کہ اسکو دوام بخشا تھا اور اگر دوام بخشا بھی تھا تو بعد میں تو قانون سازی ہو سکتی تھی۔ پھر 2012 میں قانون آیااور وہ جب آیا تو انہوں نے اسکو اپنے کسی چمچے سے چیلنج کرادیا اور پورے قانون کو غیر قانونی ڈکلیئر کردیا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس کے خلاف میں نے اور وسیم سجاد نے مل کے ایک کیس تیار کیا تھا اور ہم نے ریویو ڈال دیا تھا۔ جب تک میں اٹارنی جنرل رہا تو وہ ریویو انہوں نے آنے ہی نہیں دیا، یہ ڈرتے تھے، وہ اتنا Strong ریویو تھا کہ افتخار چوہدری مشکل میں پڑ جائے۔ اس کے بعد میں چلا گیا تو کوئی کمزور اٹارنی جنرل آیا اور اسکو اس طرح کے Matters Constitution کا پتہ نہیں تھاکیونکہ اس سے پہلے وہ کارپوریٹ کام کرتا تھا، وہ اس قابل نہیں تھا کہ اسکو ان Matters کیلئے رکھا جائے۔ اس نے آکراقبالی بیان دے دیا کہ We dont want to press this law۔ یہ قانون منسوخ ہوگیا تھا اور جب قانون Repeal ہو جاتا ہے تو اس کے بعد اگر بعد والا قانون Strike down بھی کردیں تو Earlier law پھر بھی Revive نہیں کر سکتا جب تک پارلیمنٹ قانون نہ بنائے اور 2004 میں سپریم کورٹ Proceed کر ہی نہیں سکتی جب تک کہ پارلیمنٹ اس کی سزا تفویض نہ کرے۔ پارلیمنٹ اگر قانون بنائے گی تو پھر اس میں سزا ہوگی اور اگر مشینری پارلیمنٹ نہیں Provideکرے گی تو You are helpless۔

القانون: سر آپ کیا سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کو سزا ہو جائے گی؟ پانامہ کا کیس آپ کی نظر میں ہے۔
عرفان قادر صاحب: بات یہ ہے کہ آپ نے ایک چیز دیکھی ہوگی کہ سپریم کورٹ نے بڑی کوشش کی ہے نواز شریف کو بچانے کی۔ پانامہ کیس میں یہ چاہتے رہے ہیں کہ یہ بچ جائے کسی طرح لیکن آخر میں کچھ چیزیں سامنے آگئیں کہ سپریم کورٹ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجودمجبور ہوگئی اور آخر میں انہوں نے دیکھا کہ اگر نواز شریف کو بچاتے ہیں تو ہمارے اپنے جو جوڈیشل Procedures ہیں جو ہم نے غلط فیصلے کرے ہوئے ہیں، ہم Expose ہو جائیں گے تو بادل نخواستہ انہوں نے آخر میں نواز شریف کو کچل دیا۔ اب جب کچل دیا اور نواز شریف ان کے خلاف بول رہا ہے تو سپریم کورٹ کی بقاء اسی میں ہے کہ نواز شریف کی Conviction ہو جائے۔ اگر نواز شریف کو سزا نہ ہوئی تو سپریم کورٹ نہایت گندا ہوگا کہ اتنا شور کرنے کے بعد اور اتنی بڑی بڑی باتیں لکھنے کے بعد….. دیکھیں ناں دو ججز نے جب فیصلہ دیدیا تھا تو یہ تین ججز نے کہا کہ ابھی ایک جے آئی ٹی بھی بنالیں، انہوں نے اصل میں تو نواز شریف کو ٹائم دیا تھا کہ کسی طرح سے ٹائم ملے لیکن جب وہ بھی تین ماہ گزر گئے ان کے پاس کوئی آپشن نہیں رہا تو پھر پانچ ججز نے ایک فیصلہ دے دیا اور کہا کہ چلو فی الحال اقامے پہ نکالو۔ تاکہ ان کی بدنامی نہ ہو اور پھر ساتھ ہی نیب کو ڈائریکشن دے دی کہ آپ ان کے خلاف ریفرنس فائل کردیں جو بالکل غلط ہے، لاء میں یہ چیز نہیں ہے، سپریم کورٹ ڈائریکشن نہیں دے سکتی، یہ سپریم کورٹ کا رول ہی نہیں ہے یہ رول ہی چیئر مین نیب کا ہے۔ میرا بیان بھی آیا تھا اس پہ بلکہ مجھ سے ایڈمرل فصیح بخاری نے رائے بھی لی تھی اس پر کہ سپریم کورٹ نے ڈائریکٹ کیا ہے کہ یہ یہ ریفرنسز فائل کریں یہ آپ ہمیں بتائیں کہ قانون میں یہ آرڈر Implement ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا کہ بالکل نہیں ہو سکتا۔ اسکو نظر انداز کردیں کیونکہ یہ خلاف قانون ہے اور اس پر سپریم کورٹ نے جب Implementation کیلئے بنچ قائم کیا ہوا تھا این آر او کیس میں تو انہوں نے کہا کہ order is not been implemented تو میں نے آصف کھوسہ اور ناصر الملک کو کھڑے ہوکے کہہ دیا تھا کہ Yes, its not going to be implement, it is not implementable and i already express my views, i given an opinion to chairman NAB not to act upon this order, they order absolutely illegal words, igiven it in writing. ۔
یہ ڈر گئے تھے ایک لفظ نہیں بولے تھے۔ یہ ملک قیوم کے خلاف آرڈر ہوا تھا اور مجھے پتہ ہے کہ ملک قیوم کیاچیز ہے لیکن Legally کیونکہ وہ بات غلط تھی۔ ملک قیوم نے جو جنیوا کیس ہے اسکوجوWithdraw کیا تھا وہ چوہدری فاروق کے لیٹر کو، تو میں نے لکھا تھا کہ ملک قیوم نے جو بھی کیا تھا تب سندھ ہائیکورٹ کے آرڈر کے تحت کیا تھا اور ریفرنس فائلنگ نیب کا Independent کام ہے۔ اول تو ریفرنس بنتا ہی نہیں اور چیئر مین نیب کو ان حالات میں نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ جو بھی کیا ہے کھوسہ صاحب نے کیا ہے اس میں قیوم کا ایسا کوئی Independent رول نہیں ہے۔

القانون: سر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ کی درخواست کی استدعا ہی یہی تھی تو عدالت عظمیٰ نے استدعا کے مطابق فیصلہ دیا۔
عرفان قادر صاحب: نہیں جناب فرق ہے۔ اس وقت جو حالات تھے، الزامات لگ رہے تھے اور نیب کوئی تفتیش نہیں کررہا تھا۔ چنانچہ اس درخواست میں یہ استدعا کی گئی کہ نیب کو ہدایت کی جائے کہ وہ تحقیقات کرے۔ عدالت یہ ہدایت کر سکتی ہے کہ تفتیش کریں مگر براہ راست یہ حکم نہیں کر سکتی کہ ریفرنس داخل کریں۔یہ اختیار صریحاً نیب چیئر مین کا ہے۔ نیب کا قانون بالکل واضح ہے کہ
چیئر مین تحقیقات کرے گا اور اگر تحقیقات کی روشنی میں کیس بنتا ہے تو ریفرنس داخل کرے، نیب چیئر مین کا عہدہ بھی آئینی ہے، نیب کا چیئر مین ایک سابقہ چیف جسٹس ہے، عہدے اور مرتبے میں برابر،کیا وہ نہیں سمجھتا کہ ریفرنس داخل کرنا ہے، یا نہیں۔عدالت نے اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے درخواست میں کی گئی استدعا سے بڑھ کر فیصلہ دیا اور حکم دیا کہ ریفرنس داخل کریں اور ساتھ مانیٹرنگ جج بھی لگا دیا جو کہ آئین اور قانون سے بالاتر فیصلہ ہے۔

القانون: ناصر الملک کے بارے میں آپ کچھ بتا رہے تھے؟
عرفان قادر صاحب: ناصر الملک جو ہے وہ ایک Extra Ordinary Decent آدمی ہے لیکن بہت ہی کمزور آدمی ہے اور وہ ساری زندگی یہی دیکھتا رہا ہے کہ طاقت کا توازن کدھر ہے تو جس طرف بھی طاقت کا توازن ہو وہ اس طرف ہو جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہر کوئی اس طرح ہی کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اپنے آپ کو ضرور Preserve کریں لیکن اپنی Preservation میں لوگوں کی گردنیں کاٹنی نہ شروع کریں۔
ناصر الملک نے ایک فیصلہ دیا سندھ کے ملازمین کے کیس میں وہ جو سندھ کے ملازمین تھے، جہاں کئی ہزار بندہ نکال دیا تھا انہوں نے، وہ پارٹی ہی نہیں تھی وہ Victamization تھی۔ جبکہ پنجاب میں ویسے نہیں کرسکتے اور دوسرے صوبوں میں بھی نہیں کرسکتے اور لوگوں نے خودکشیاں تک کی تھیں اس وقت بہت ساری کمپلینز میرے پاس آئی تھیں۔اس طرح کے جو ظلم کئے ہوئے ہیں ناصر الملک نے وہ کہنے پر کئے ہیں۔ لیکن اگر ناصر الملک کے اوپر یہ پریشر نہ ہوتا اور اسکو کھلا چھوڑ دیا جائے تو ناصر الملک ایک بہت اچھا آدمی ہے۔

القانون: سر نیب چیئر مین کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں؟
عرفان قادر صاحب: نیب چیئر مین جاوید اقبال مطلب نوکری پیشہ، نوکریوں کی تلاش میں رہتا ہے ہر وقت، صبح شام اسکو یہی رہتا ہے کہ کوئی نوکری مل جائے کوئی کمیشن مل جائے، کچھ اور مل جائے۔ He wants to be in the good book of perhaps the media he want to do things which are very popular. لیکن بہر حال چیف جسٹس سے بہت بہتر ہے۔دراصل جاوید اقبال بندہ اچھا ہے، یہ برا آدمی نہیں ہے لیکن یہ اتنا Upright نہیں ہے کہ بندہ کہے کہ بڑا باکمال آدمی ہے۔ لیکن یہ تھوڑی سی ذیادتی اس وقت کررہا ہے کہ جہاں پہ اس کو چاہئے کہ اسٹینڈ لے یا جہاں پہ کیس نہیں بننے چاہئیں وہاں بھی کیس بن رہے ہیں۔ چیئر مین نیب کے طور پر ایسی چیز نہیں ہونی چاہئے۔ اسکو بے خوف ہوکر اور غیر جانبدار ہوکر فیصلے کرنے چاہئیں۔

القانون: کیا فوج کا بھی کردار ہے سارے معاملات میں جو ہمارے اس وقت جارہے ہیں؟
عرفان قادر صاحب: جی ہاں ہے، فوج کا کردار ہے اور فوجی جو ہیں وہ آپ کو بھی ضرور ملتے ہوں گے، بات بھی ہوتی ہوگی۔ مجھے تقریباً سارے ملتے ہیں، ملاقات بھی ہوتی ہے،ریٹائرڈ سے بھی ہوتی ہے۔ قمر جاوید باجوہ سے نہیں ہوئی، اس سے پہلے راحیل شریف کے ساتھ ہوئی تھی ملاقات، کیانی صاحب کے ساتھ ہوتی تھی تو ان سے یہ تھا کہ Law کی حد تک میری ان سے بات ہوتی تھی لیکن جو نیچے جنرل کونسل میں کھل کے بات ہوتی تھی، بالکل کھل کے ہوتی تھی، گورنمنٹ کے خلاف ان کی Reservations ہوتی تھیں وہ کہہ دیتے تھے لیکن آرمی چیف کے ساتھ Officialy nobody can take that liberty۔
وہ جب تک بات باہر نہ نکالے آپ اس سے پوچھ نہیں سکتے لیکن جو میرے تاثرات ہیں آپ کے سوال کے بارے میں بالکل وہ اس سب میں شامل ہیں اورمیرے خیال میں Mr. Saqib Nisar as chief justice should tell them, This is what we cant do, But perhaps not only that he lacks that kind of courage, But he also lacks the potential to stream line our judicial precedents. تاکہ وہ قانون کی جو غلطیاں ہیں اسکو ٹھیک کر سکیں، وہ ویژن میں اور دانشورانہ صلاحیت میں بھی آصف کھوسہ کے پائے نہیں ہے اور میری اس کے بارے میں یہی ذاتی رائے ہے کہ He is going to be a big big failure.۔ اور جب یہ جائے گا تو افتخار چوہدری جو ہے اس کو عزت ملے گی کیونکہ لوگ جو ہیں وہ افتخار چوہدری کے ساتھ اسکو Compare کریں گے اور کہیں گے کہ یار افتخار چوہدری تو بہت بہتر تھا۔

القانون: آپ سمجھتے ہیں کہ کھوسہ صاحب یا اسکے بعد آنے وال جج اس Legacy کو قائم اور جاری رکھیں گے؟
عرفان قادر صاحب: آصف کھوسہ جو ہے یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے لائق جج ہے۔ اسکا آگر آپ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں تو زندگی میں اس نے 2nd آنا نہیں سیکھا،1st آنا سیکھا ہے۔ میٹرک میں بھی فرسٹ، انٹر میڈیٹ میں بھی فرسٹ،B.A میں بھی گولڈ میڈل،سب ٹاپ پوزیشنز، ٹاپ ڈگریز، سب کچھ انگلستان سے، بیرسٹر آف لاء، L.L.M اور وہ انگلش لٹریچر میں M.A، سب بہت ریمارکس ایبل ریکارڈ ہے آصف کھوسہ صاحب کا اور یہ بہت متاثر کن بات ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس میں یہ بھی ہے کہ اسکو ان چیزوں کی وجہ سے Megalomania ہے کہ جتنا بہت وہ جانتا ہے اسکو جو relatively نالائق لوگ ہوتے ہیں ان کی طاقت کا ندازہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جو ہیں وہ ایک ہی بندے کو ساری زندگی اوپر نہیں رکھتے۔ جو بڑے لائق ہوتے ہیں نا ان سے زیادہ لیاقت وہ بھی حاصل کر سکتے ہیں جن میں اس وقت کمی ہوتی ہے اور ساری زندگی اس کمی کو پورا کرنے کیلئے اتنی زیادہ محنت کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو Cross کر جاتے ہیں لیکن ان لوگوں کو اندازہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح آصف کھوسہ کو بھی ابھی اندازہ نہیں ہے۔ ایسے بھی لوگ ہیں پاکستان میں جنہوں نے بعد میں زیادہ محنت کی ہے اپنی شروع کی کمی کو پورا کرنے کیلئے۔ آصف کھوسہ اس سب میں بہت زیادہ ہی Confident ہوگیا ہے اور اس کی جو reflection ہے پانامہ کے کیس میں، یوسف رضا گیلانی کے کیس میں، وہاں پہ اس نے شاعری لکھی تھی اور یہاں پہ اس نے اقتباسات جو ہیں ناول کے وہ لکھنا شروع کردیئے تھے۔ بس یہ پاکستان کا ایک بہت اچھا اور قابل جج ہے But when it comes to political matters, He has not shown that kind of spark which was expected of him, Because of his own likes and dislikes.۔ اس چیز سے وہ نہیں نکل سکا اور ایک جج کی پسند ناپسند ہونی ہی نہیں چاہئیں۔لیکن آصف کھوسہ کو میں پھر بھی بڑے مارکس دوں گا لیکن کہیں نہ کہیں سیاسی کیسز میں اس کا جو باعث ہے وہ کھل کر سامنے آیا، وہ نظر آتا ہے۔ آصف کھوسہ اختلاف برداشت نہیں کر سکتا۔ ہاں اگر آپ آصف کھوسہ کی غلط رائے کو مان جائیں تو آصف کھوسہ سے بہتر آدمی کوئی نہیں ہے۔

القانون: ایک عام خیال ہے کہ جی آصف زرداری کے خلاف شرجیل میمن، عاصم اور عیان کے کیسز میں جو کچھ بھی جوڈیشری نے کیا، آصف زرداری نے خاموشی اختیار کی، کوئی React نہیں کیا اسکو Benefit مل گیا جبکہ چوہدری نثار کے کہنے کے باوجود نوازشریف نے React کیا اور اس وجہ سے وہ مسئلہ میں پھنسا ہوا ہے۔ کیا یہ ٹھیک بات ہے؟
عرفان قادر صاحب: دیکھیں نواز شریف جو تھا اس کی مختلف وجوہات تھیں۔ آپ نوازشریف کی سائیکی سے دیکھیں، میں صرف نواز شریف کو دیکھ رہا ہوں میں اس کو فی الحال عاصم سے Connect نہیں کررہا۔ نواز شریف وہ شخص ہے جس نے ان ججز کو بحال کرانے کیلئے سیاسی پارٹیوں میں سب سے زیادہ کلیدی کردار ادا کیاتھا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وکلاء کا کردار نہیں تھا یا اور لوگوں کا نہیں تھا لیکن سب سے زیادہ اہم رول نوازشریف نے ادا کیا تھا۔ سب سے زیادہ نواز شریف شور ڈالتا تھا باوجود اس کے کہ میثاق جمہوریت میں فیصلہ ہو چکا تھا کہPCO ججز ہم نہیں رکھیں گے۔ اس کے باوجود جب اس کو سیاسی فائدہ نظر آیا تو نواز شریف ان کے ساتھ شیر و شکر ہوگیا تھا، افتخار چوہدری کے ساتھ اور ساروں کے ساتھ اور نواز شریف کا End تک یہ خیال تھا کہ یہ عدلیہ جو ہے وہ میرے خلاف کچھ نہیں کرے گی اور اسی لئے کیس اس نے بھجوادیا تھا انور ظہیر جمالی کو کہ یہ پانامہ کے معاملے میں تم کوئی کمیشن بنادو۔ انور ظہیر جمالی آخر تک اس کے خلاف نہیں جانا چاہتا تھا اور وہ نواز شریف کے ساتھ تھا اور اسی لئے اس نے ریٹائرمنٹ سے پندرہ دن پہلے بنچ بھی توڑ دیا تھا تاکہ یہ معاملہ التواء میں پڑ جائے۔ نوازشریف یہ محسوس کررہا تھا کہ میں نے اس جوڈیشری کو کھڑا کیا اور وہ اچھے طریقے سے جانتا تھا کہ کس طریقے سے جوڈیشری کو کھڑا کیاگیا تھا، یہ کوئی قانونی طریقہ تو نہیں تھا،Bulldoze ہی کیاتھا نا تب۔ نوازشریف کو دکھ ہے کہ جنکو میں نے کھڑا کیا تھا آج وہ مجھے ہی پڑ گئے ہیں اور ان کی جو illegalities کا وہ ارتکاب کررہے تھے نواز شریف کے کہنے پہ پیپلز پارٹی کے خلاف اس کا ادراک نوازشریف کو تھا ہی نہیں۔ اس سب کا ادراک نواز شریف کو تب ہواجب نے محسوس کیا کہ میرے ساتھ بھی یہ ہوگئی ہے تو پھر اسکو کچھ قانون کی سمجھ آئی۔تونوازشریف اور مریم نے بہت ساری وہ باتیں کرنا شروع کیں جو میں میڈیا پہ پہلے سے کررہا تھا یا کرچکا تھا۔ بہت سے لوگوں نے مجھے یہ بھی کہا کہ میں میاں صاحب کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ میاں صاحب سوچتے ہیں کہ انہوں نے خود کو بچاتے ہوئے میری گردن کاٹ دی ہے۔
جہاں تک بات ہے یوسف رضا کی تو وہ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ اس وقت یہ ہوا تھا کہ ان کا جب یہاں سے جلوس چلا تھا تو رحمان ملک وغیرہ کی حکمت عملی یہ تھی کہ ہم سندھ سے بندے منگوا لیں گے اور ہم وہاں اسلام آباد کے اندر کوشش کریں گے کہ ان کو Resistance دیں کیونکہ پنجاب پولیس بہت بڑی تھی اور اسلام آباد پولیس بہت چھوٹی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اپنے ورکرز بلا کر ہم ان کو اسلام آباد میں ہی روکنے کی کوشش کریں گے اور اس دوران میں سنا ہے کہ کافی سارے کفن بھی منگوائے گئے تھے اور ساتھ تابوت بھی منگوائے گئے تھے۔ جب جنرل کیانی کو یہ ساری صورتحال کا پتہ چلا تھا تو جنرل کیانی نے پھر مداخلت کی تھی اور میں خود اس چیز کے خلاف تھا کہ کیانی صاحب نے کیوں مداخلت کی تھی، میں خود یہ بحالی نہیں چاہتا تھالیکن کچھ جرنیلوں سے جب میری ملاقات ہوئی ان دنوں میں، جو سٹنگ جنرلز تھے، میری ان سے جب بات ہوئی کہ یہ کیوں ہوا تھا تو انکاورژن یہ تھا کہ کیانی صاحب کیا کرتے اگر یہ کشت و خون ہونے دیتے وہاں پر تو کئی لوگ مر جاتے تو ہم نے سوچا کہ اس وقت ملک میں استحکام لانے کیلئے یہی ضروری ہے کہ ڈوگر آرام سے چلا جائے اور ڈوگر کی ریٹائرمنٹ پر یہ آجائے۔ لیکن افتخار چوہدری نے بعد میں جو مینڈیٹ اس کو دیا گیاتھا اس کو Exceed کرکے یہ حد سے بڑھ گیا تھا کیونکہ End میں کیانی صاحب کی بھی لڑائی ہوئی تھی افتخار چوہدری سے اور اس کے بعد پھر وہ جو فوج کے کیسز تھے وہ کیانی صاحب نے مجھے دیئے تھے، اس میں مسنگ پرسنز کے کیس اور بہت سے کیسز تھے۔

القانون: عمران خان کو آپ کہاں دیکھ رہے ہیں؟
عرفان قادر صاحب: Imran khan is doing exactly what nawaz sharif has done. عمران خان بھی اس وقت اپنے آپ کو عدلیہ کی بی ٹیم بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کو چاہئے تھا کہ الگ ہی رہتا۔اس کو نہ ان کی بد تعریفی کرنی چاہئے تھی اور نہ تعریف کرنی چاہئے تھی، انہوں نے بے تحاشہ تعریف شروع کردی عدلیہ کی اور آنے والے دنوں میں اگر عمران خان کی گورنمنٹ بن جاتی ہے ہنگ پارلیمنٹ میں تو اسکا حشر یہی ہوگا جو نوازشریف کا ہوا ہے کیونکہ وہاں پہ سیتا وائٹ کا کیس جو افتخار چوہدری نے اٹھایا ہے وہ ایسے ہی تو نہیں اٹھایا، وہ جب انکا کمانڈر تھا تو ثاقب نثار نے ہی یہ کہا تھانا کہ میں آپ کا سپاہی ہوں۔3/4th ججز اس کے اپنے ہاتھ کے لگائے ہوئے ہیں یہ سارا باغ اسی نے لگایا ہے، سارے ججز تو افتخار چوہدری کے ہی ہیں آج بھی اور اسی لئے آپ نے دیکھا کہ جیسے ہی فواد چوہدری بولاتھا افتخار چوہدری کے خلاف تواسی وقت عباد الرحمن نے اس کے خلاف فیصلہ دے دیااور ٹکا کے فیصلہ دیا۔افتخار چوہدری کو آپ Underestimate نہیں کر سکتے وہ بہت پاورفل ہے اور جب تک یہ ججز نکالے نہیں جائیں گے یا اس عدلیہ کی تشکیل نو نہیں ہو گی اور پاکستان میں ڈیجوری عدلیہ نہیں آئے گی افتخار چوہدری اینڈ کمپنی اور یہ ججز ملکی عدم استحکام کو جاری رکھیں گے۔
افتخار چوہدری کے دو کیس تھے ایک تو اسکا یہ تھا کہ وہ جو سپریم جوڈیشل کونسل میں اسکا کیس تھا اور دوسرا ارسلان کیس تھا۔ ارسلان کیس اور پانامہ کیس الگ کیس نہیں یہ ایک ہی کیس ہے۔ ارسلان کے کیس میں یہ تھا کہ انصار عباسی نے ایک آرٹیکل لکھاتھا جس میں اس نے کہا تھا کہ 900 ملین کے اثاثے ارسلان نے بنائے ہیں اور اس سے تین سال پہلے یہ گریڈ17 کی نوکری کا متلاشی تھا اور تین سال کے بعد اس کے 900 ملین کے اثاثے تھے اور جب یہ بات باہر نکلی تو افتخار چوہدری نے ایک Effort کیا تھا اور اس نے خود سوموٹو نوٹس لے لیا تھا اور اس نوٹس میں سارے ججز نے کہا تھا کہ ارسلان کا چیف جسٹس سے کوئی تعلق نہیں ہے جو بھی کیا ہے اس نے وہ In own capacity کیا ہے اور افتخار چوہدری نے کہا تھا کہ میں تو بڑا حیران ہوں کہ یہ جس طرح کی Allegations آئی ہیں میں تو گاڑی بھی نہیں خرید سکتا۔ ججز نے افتخار چوہدری کو علیحدہ کیا تھا، سب سے پہلا نوٹس مجھے دیا تھا اور مجھے کہا تھا کہ آپ کیا کہتے ہیں We are all very concerned about the institution image, تو میں نے کہا تھا کہ جی ہاں سر میں بھی اس ادارے کے Image کے بارے میں فکر مند ہوں اور Dr. Arsalan Is not the son of the judiciary sir, he is the son of the soil and we have to detached him from chief justice and therefore this is not a matter of public importance. ۔ تو اس وقت انہوں نے کہا کہ نہیں Attach کردیا لیکن جب یہ ایشو اٹھا کہ آیا افتخار چوہدری کو بنچ پر بیٹھنا چاہئے کہ نہیں بیٹھنا چاہئے تو پھر افتخار چوہدری اٹھ گیا لیکن جب فیصلہ آیا تو انہوں نے افتخار چوہدری کو ارسلان سے علیحدہ کردیااور کہا کہ اٹارنی جنرل پاکستان Irfan Qadir shall set the law in motion with full vigor, so that the culprit do not escape the liability. وہ جب میں نے سپریم کورٹ کے اس غلط آرڈر کے بعد چیئر مین نیب کو چٹھی لکھی کہ بھئی سپریم کورٹ یہ کہتی ہے لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ آپ اپنے قانون کے مطابق اس کو Proceed کریں تو جب انہوں نے Proceed کرنا شروع کیا تو جب بات اور کڑی افتخار چوہدری تک پہنچی تو وہاں پر پھر یہ سپریم کورٹ چیخ اٹھی۔وہ بڑے دلچسپ آرڈرز ہیں،اس میں جواد خواجہ جیل جا سکتا تھا کیونکہ اس نے Hush up کرنے کی کوشش کی تھی، پیسہ کس کے پاس تھا؟ ارسلان کے پاس تھا اور ارسلان کے پاس کیوں آرہا تھا؟ کیونکہ اس کا باپ چیف جسٹس تھا اور چیف جسٹس ساتھ ملا ہواتھا کیونکہ اس کی بیوی اور اس کی بیٹیاں بھی ملک ریاض کے خرچے پر باہر جارہی تھیں اور آرڈر شیٹ سے پتہ چلتا تھا کہ جب جب وہ انکو Bribe کرتا تھا تو کیس جو تھے وہ آگے ڈالتا جاتا تھا۔ افتخار چوہدری بھی برابر کا شریک تھا اور اثاثہ جات بھیNon Source کے حساب سے کس کے تھے؟ افتخار چوہدری کے تھے اور ارسلان کے تھے، ان کو Separate آپ نہیں کر سکتے۔ لہذا اگر یہاں نوازشریف کے بیٹے کے پاس اتنی پراپرٹیز ہیں اور نوازشریف کو اس کے بیٹوں کے ساتھ Clutched کیا جارہا ہے تو افتخار چوہدری کو کیوں نہیں Clutched کیا گیا ارسلان کے ساتھ جبکہ تفتیش اس طرف جارہی تھی اور اگر آپ کبھی نیب کے چیئر مین فصیح بخاری سے ملیں گے تو میرا خیال ہے کہ وہ آپ کو زیادہ بتائیں گے اور اگر آپ کہیں گے تو میں آپ کی ملاقات ان سے کروا دوں گا۔ جو فیصلہ افتخار چوہدری کے مقدمے میں تھا نوازشریف کے مقدمے میں الٹ فیصلہ دیا گیا۔

القانون: سر یہ بتائیں کہ الیکشن کے بعد کی جو پولیٹیکل صورتحال ہے وہ کیا ہوگی، ہم Stability کی طرف ہم جارہے ہیں یاDestability کی طرف جارہے ہیں؟
عرفان قادر صاحب: ہم Destability کی طرف جارہے ہیں۔

القانون: آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اگر عمران خان پرائم منسٹر بن جاتا ہے تو کیا وہ ایک لمبا عرصہ Continue کرے گااور وہ جو یہ الیکٹبلز اور سارا کچرہ جمع کرکے الیکشن لڑ رہا ہے تو کیااسے ایسا کرنا چاہئے اور کیا وہ پاور پولیٹکس کررہا ہے یا وہ واقعی Change چاہتا ہے؟
عرفان قادر صاحب: No, He will be a lame duck, He wont be strong۔ میں تو ایمانداری کے ساتھ اس پیٹرن کے خلاف ہوں یہ جو بدتمیزی کا Pattern بن گیا ہے سیاست میں کہ ہر سیاستدان پچھلے بیس تیس سال سے اسی پر سیاست کررہا ہے کہ دوسرا بہت برا ہے، دوسرا بڑا گندہ ہے، دوسرے کے خلاف Objection فائل کرو، یہ نہ الیکشن لڑے، وہ نہ الیکشن لڑے، یہ کرپٹ ہیں یہ فلاناں ہیں۔ ان کو اپنی کارکردگی بتانی چاہئے کہ تم نے کیا کیا ہے۔
پاکستان کی سیاست میں جب تک یہ والا پہلو نہیں آئے گا کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا بند نہیں کریں گے اور ہم اپنی کارکردگی کی بناء پر الیکشن نہیں لڑیں گے تب تک ہمارا اسی طرح بیڑا غرق ہوتا رہے گا۔

القانون: چیف جسٹس آف پاکستان، اس وقت پاکستان کا سب سے کرپٹ ترین ادارہ عدلیہ ہے ایک آدمی جس کا فرض ہے کہ وہ اگر کرپشن کے خلاف ہے تووہ اپنے ادارے کو مضبوط کرے تاکہ ملک سے کرپشن ختم ہو۔ وہ دنیا کی کرپشن ختم کررہا ہے اور اپنے ادارے کی کرپشن Accept بھی کررہا ہے لیکن کچھ نہیں کررہا،اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
عرفان قادر صاحب: ایک چیف جسٹس آف پاکستان کے طور پر اس کو خبروں میں زیادہ آنے کی ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی ججز کو بہت زیادہ خبروں میں نہیں رہنا چاہئے اوردوسرایہ کہ دنیاوی اعتبار سے بھی صحیح ہے کہ ان کو تنازعات کا شکار نہیں ہونا چاہئے اور تیسرا ان کے کورٹ آف کنڈکٹ کے اندر خود لکھا ہوا ہے کہ یہ پبلسٹی طلب نہیں کریں گے، یہ کسی طرح کی پبلک Controversy میں نہیں آئیں گے، یہ Extra judicial چیزوں سے ڈیل نہیں کریں گے اور یہ تمام چیزیں چیف جسٹس کررہا ہے جو کہ نہ صرف اس کے Directly کورٹ آف کنڈکٹ کے خلاف ہیں بلکہ ایک عام فہم کے بھی یہ خلاف ہے۔ چند لوگ تو اس کی جے جے کریں گے، چند چمچے اور وکیل بھی کریں،لیکن مجموعی طور پر اسکا نقصان ہوگا اور ادارے کو بھی نقصان ہوگا۔ یہ جو کچھ کررہا ہے اس کی وجہ سے ادارہ پہلے سے ہی Controversy میں آچکا ہے کیونکہ کچھ لوگ اس کی تعریف کررہے ہیں تو بہت سارے بد تعریفی بھی کررہے ہیں۔ اس طرح کی جو Institution ہیں وہ ہمیشہ تنازعات سے پاک رہنی چاہئیں۔

القانون: سر آجکل ایک اور Debate ہورہی ہے کہ جو فائز عیسیٰ نے پشاور میں کہا اٹارنی جنرل کو اور 184-3 کا جو بے دریغ استعمال ہورہا ہے تو آپ سمجھتے ہیں کہ یہ پبلک Interest کے نام پر جو ہورہا ہے وہ ٹھیک ہے؟
عرفان قادر صاحب: This is total violation of public interest, this is against public interest for they are doing. کیونکہ 184(4) کی آپ تشریح یہ کررہے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی بھی ادارہ اپنا کام نہ کررہا ہو تو پھر لوگوں کا بنیادی حق ہے کہ ان کا کام سپریم کورٹ شروع کردے، یہ انہوں نے کہا ہے۔ تو اگر ان کی یہ بات ہم تھوڑی دیر کیلئے صحیح مان لیتے ہیں کہ جی بالکل صحیح کہہ رہے ہیں تو پھر اگر وزیر اعظم اپنا کام صحیح نہیں کرے گا تو پھر چیف جسٹس Executive authority ایکسرسائز کرنا شروع کردیگا۔ آئین میں لکھا ہے کہ یہ ایگزیکٹو اتھارٹی جو ہے وہ Vest کرے کی فیڈریشن کی، پرائم نسٹر میں اور کیبنٹ میں۔ آرٹیکل 2(A) میں لکھا ہوا ہے کہ The state shall exercise its authority through chosen representatives. یہ تو نہیں لکھا ہو ا کہ چیف جسٹس کے ذریعے۔تو ان کو چاہئے کہ وہ آئین میں بھی ترمیم کرلیں اور آئین میں لکھ دیں کہ اگر پرائم منسٹر صحیح کام نہیں کرے گا تو Executive authority will be exercised by the chief justice of pakistan. لیکن یہ ساری چیز اسلئے نہیں ہو سکتی کہ ایک تو آئین میں ایسی ترمیم کبھی نہیں آئے گی، پارلیمنٹیرین خود ہی لڑ لڑ کے اپنے آپ کو اتنا کمزور کر چکے ہیں کہ اس طرح کی ترامیم جو ہیں وہ کبھی نہیں لائیں گے کہ چیف جسٹس کو اس حد تک با اختیار کردیں اور دوسری بات یہ ہے کہ آئین میں یہ صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ سپریم کورٹ وہ تمام آرڈرز کر سکتی ہے جو حصول انصاف کیلئے اس کو کرنے چاہئیں تو حصول انصاف کیلئے جو آرڈر کر سکتی ہے اس پر قدغن لگائی گئی ہے اور وہ قدغن یہ لگائی گئی ہے کہ وہ سبجیکٹ Clause 2 of article 175 کے اور یہClauseکیاہے آپ کو پتہ ہوگا کہ کسی عدالت کو اور اس میں سپریم کورٹ بھی شامل ہے کوئی Jurisdiction نہیں ہوگی ماسوائے اس Jurisdiction کے جو کہ آئین اس کو دیتا ہے اور قانون اس کو دیتا ہے، خود نہیں کہ جو مرضی آرڈر کردیں حصول انصاف کیلئے۔ وہ دیکھنا پڑے گا کہ کون کون سے دائرہ کار ان کے پاس ہیں تو ان کے پاس صرف Adjudicate کرنے کی جو Jurisdiction ہے 185 میں،184 میں اور یہ خود ملک چلانا نہیں شروع کردیں گے۔ میں آپ کو پہلے تو 187 دکھا دیتا ہوں کہ 187 کہتا ہے کہ Subject to clause 2 of article 175 the sipreme court shall of power to issue such directions order or decrease as may be necessary for doing complete justice in any case or matter pending before it. اس کا مطلب یہ کہ جن معاملات میں اس کا دائرہ کار ہے، یہ نہیں کہ ہر Matter یا ہرکیس میں۔ اب آگے 175(2) پر ہم آجاتے ہیں۔
No court shall have any jurisdiction save as is or may be confirmed on it why the constitution or by under the law period. ختم بس، آئین میں دیکھنا ہے کہ کون کون سے کورٹ کو کیا کیا پاورز ہیں۔ یہ تو نہیں ہے نا کہ سپریم کورٹ جے آئی ٹی بنادے،یہ تو نیب کا کام ہے۔ قانون میں تو لکھا ہے کہ نیب تفتیش کرے گا اور یہ جے آئی ٹی سے تفتیش کراتے ہیں۔ قانون میں یہ لکھا ہے کہ ریفرنس جو ہے جب چیئر مین نیب محسوس کرے گا کہ یہ Proper ہے سیکشن18 میں تو چیئرمین نیب ریفرنس فائل کرے گا، وہاں سپریم کورٹ کا تو ذکر ہی کوئی نہیں ہے۔سپریم کورٹ میں تو معاملہ جاتا ہے Leave to appeal کے مرحلہ پر، تو پھر جب چیئرمین نیب ریفرنس ڈالے گا تو ٹرائل کورٹ اس کا فیصلہ کرے گا اور اس کی اپیل جو ہے وہ ہائیکورٹ کے دو ججوں کے پاس جاتی ہے اور اس کے خلاف Leave to appeal سپریم کورٹ میں جاتی ہے اور اگر غلط Complaint سپریم کورٹ کرتا ہے، اپنے آپ کو Complainant کی حیثیت میں لاتا ہے تو 18 ایج کے تحت سپریم کورٹ کے اپنے ججوں کی سزا3 سال قیدہے۔

القانون: جے آئی ٹی تشکیل دینے کا جو طریقہ کار ہے اس کا بھی ایک سیٹ procedure ہے، کیا سپریم کورٹ جے آئی ٹی بنا سکتی ہے؟
عرفان قادر صاحب: جے آئی ٹی نیب بنائے گی، سپریم کورٹ نہیں بنا سکتی اور آج تک کسی کیس میں بنی ہی نہیں، ججز کو پتہ ہے اس بات کا۔نیب کے قانون میں لکھا ہوا ہے کہ اگر چیئر مین چاہے تو ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنا سکتا ہے وہ پھر چیئر مین کی Supervision میں کام کریں گے۔سپریم کورٹ کا کوئی اختیار نہیں۔

القانون: سپریم کورٹ نے اس Particular ایک کیس میں مانیٹرنگ جج، جج کو ٹائم دینا، ڈائریکشن دینا،یہ ساری چیزیں قانون کے مطابق ہیں یا نہیں ہیں؟
عرفان قادر صاحب: یہ بالکل خلاف ہے اور یہ پوائنٹ ہیں جو خواجہ حارث کو لینے چاہئیں اس کے پر جلتے ہیں یہاں پر۔ اس کی اپنی مجبوریاں ہیں۔

القانون: خواجہ حارث کی جو ابھی تک Proceedings ہوئی ہیں اس سے مطمئن ہیں کہ وہ proper لیگل اسٹینڈرڈ کے مطابق ہوئی ہیں نوازشریف کی یا وہاں پر اسکا ڈیفنس کمزور طریقہ ہے؟
عرفان قادر صاحب: دیکھیں وکیل جو ہے نا جی اسکی سب سے پہلے Vulnerbility ہوتی ہے جب بہت سارے کیسز ہوں جو وہ سپریم کورٹ میں کررہا ہو اور سپریم کورٹ ایسا ہو کہ وہ کوئی بھی ایسا Arguement آپ کے منہ سے نہیں سننا چاہتا جس سے جو ہے سپریم کورٹ کا جو ایک بھرم انہوں نے بنایا ہوا ہے وہ ہلتا ہوا نظر آئے، تو خواجہ حارث وہ لیگل پوائنٹس اپنے ایک سائیل کیلئے نہیں لے گا اسلئے کہ اس کے جو بہت سارے سائیل ہیں وہ سپریم کورٹ میں Suffer نہ کریں، وہ گھبرائے گا اور سارے وکیل ڈرتے ہیں۔جو قانونی پوائنٹس اٹھانے کی ضرورت ہے وہ نہیں اٹھائے گئے۔

القانون: سر کیا تنقید ہو سکتی ہے جج پہ؟
عرفان قادر صاحب: جی بالکل تنقید ہو سکتی ہے بلکہ جج پر تنقید ہونی چاہئے۔ ایک بار میں کورٹ ہولڈ کررہا تھا تو ایک لیڈی لائیر پیش ہوئی تھیں، میں نے 15 منٹ ان کو سنا اور پھر میں نے آرام سے کہا کہ جی میں نے آپ کو سن لیا بی بی، I am sorry یہ میرے لفظ تھے حالانکہ مجھے ضرورت نہیں ہے، جج کیوں Sorry کرے۔ میں نے کیا This is dismissed۔ اس بی بی نے مجھے کہا کہ آپ بہت بد تمیز آدمی ہیں، آپ ایک نہایت مغرور جج ہیں، آپ کو قانون کی الف ب نہیں آتی، آپ کسی کی بات نہیں سنتے اور آپ ایک سفارشی جج ہیں، یہ اس نے مجھے کہا اور اس سے بھی سخت باتیں اس نے مجھ سے کیں۔ میں نے اس کو کچھ نہیں کہا، نہ میں نے ہاں کی اور نہ ہی ناں کی۔ میں نے کہا کہ کوئی بات نہیں، اس کو حق ہے بولنے کا۔ پھر میں اپنے چیمبر میں چلا گیاتو ہائیکورٹ بار کا صدر جو ہے وہ آگیا میرے پاس اور شکور پراچہ آگیا، ایک دو اور جج آگئے میرے چیمبر میں، انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بد تمیز عورت ہے اس نے کئی لوگوں کے ساتھ بد تمیزی کی ہے اس کو آپ Contempt لگائیں۔ میں نے کہا کہ میں نہیں لگاؤں گا۔ پوچھا کہ کیوں نہیں لگاؤگے، میں نے کہا کہ اسلئے نہیں لگاؤں گا کہ میرے پاس جاننے کا حق ہے کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں، کیا سمجھتے ہیں۔ میں اپنے آپ کو بہت بڑا جج بھی سمجھوں تو اگر لوگوں کی میرے بارے میں یہ رائے ہے کہ میں سفارشی ہوں، میں لوگوں کی بات نہیں سنتا اور اگر وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں تو میرا بھی حق ہے کہ میں اپنی درستگی کر سکوں، اپنی اصلاح کر سکوں اور دوسری بات یہ ہے کہ اگر اس کی یہ باتیں غلط ہیں او بار اسکا ساتھ نہیں دیتی اور وہ یہ سمجھتی ہے کہ اس نے غلط کیا ہے تو پھر اسکو موقع ملنا چاہئے کہ وہ بھی اپنی اصلاح خود کرے، تو لہذا اس وجہ سے بھی میں اسکو نوٹس نہیں دوں گا۔  پھر جب بات ختم ہوئی اور بریک ختم ہوئی تو پھر اسی خاتون کا ایک اور کیس لگاجو اسی سے Connected تھا لیکن کروس کیس تھا تو جب میں نے اسکا فیصلہ کیا تو وہ جو اسکے دماغ میں بہت سے خدشات پیدا ہوئے تھے وہ خود بخود ختم ہوگئے۔ تو اس نے ایک دم روسٹرم پہ کھڑی ہوکر رونا شروع کردیا اور اس نے سب کے سامنے ہاتھ جوڑ لئے اور اس نے کہا کہ میں آپ سے بہت معافی مانگتی ہوں، میں پتہ نہیں کیا کیا فضول باتیں کی ہیں اور میں نے ایک بہت اچھے جج کے بارے میں ایسی باتیں کی ہیں اور میں شرمندہ ہوں اور معافی مانگتی ہوں۔ اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ اس میں زیادہ عزت ہے یا نوٹس دینے میں، عزت آپ ڈنڈے سے تو نہیں کراتے، جس طرح یہ جج صاحبان کررہے ہیں اور یہ دوسرے جو ججز ہیں، اسکو Contempt نوٹس، اسکو نوٹس، اپنی بے عزتی کروارہے ہیں، ان کی نواز شریف کے خلاف تو proceed کرنے کی ہمت نہیں ہے، مریم کو بلا کے Contempt لگا نہیں سکتے اور خادم رضوی پر تو کرہی نہیں سکتے تو یہ نہال ہاشمی اور دانیال تو ان کے پیادے ہیں ان پر کیا Contempt لگا رہے ہو۔ یہ خود توہین کرارہے ہیں جو کہ نہیں کرنی چاہئے۔

القانون: اگر جج کے سامنے کھڑے ہو کر کوئی جج کو کوئی بات کرے تو جج خود پارٹی ہوگیا، تو کیا وہ جج خوداس کو نوٹس دے سکتا ہے؟
عرفان قادر صاحب: I agree with you under the contempt of court ordinance 2003 does not exists. اس کے تحت وہ جج خود نہیں سن سکتا جس کے سامنے جس کی Contempt ہوئی ہے دوسرا جج سن سکتا ہے اور یہاں پر جو ہورہا ہے وہ بالکل غلط ہورہا ہے۔ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں وہ جج نہیں سن سکتا۔لیکن یہاں پر آپ چیخیں مارتے رہو مگر جج کہتا ہے کہ میں تو بیٹھا ہوا ہوں۔ آئین،قانون اور اخلاقیات اسکی اجازت نہیں دیتا۔

القانون: سر یہ PCO والے ججز یہی چار یا پانچ ججز رہ گئے ہیں، یہی آخری ججز ہوں گے اور اس کے بعد پھر PCO پر کوئی حلف لے گا؟
عرفان قادر صاحب: PCO کوئی بری چیز نہیں تھی، مجھے سے اگر یہ PCO پرحلف اٹھواتے تو میں اٹھاتا، بالکل اٹھاتااور کیوں نہ اٹھاتا، حالات ہی ایسے تھے ملک کے۔ آج بھی اگر فوج ٹیک اوور کرتی ہے اور PCO آتا ہے اورمجھے چیف جسٹس بناتے ہیں تو I wil take the PCO oath. ۔ یہ سارا جھوٹ بولتے ہیں، یہ بات بھی جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم تو جج بننا نہیں چاہتے تھے۔ میں تو بننا چاہتا تھا اور پھر میں ایک مرحلہ میں بن بھی گیا۔ انہوں نے ایسے ہی PCO کو برا بنایا ہوا ہے، یہ سیاستدان جو ہیں یہ تو سارے فوج کی نرسریوں میں پیدا ہوئے ہیں تو جج اگر فوج کی نرسری میں پیدا ہوگیا تو اس میں کیا بری بات ہے۔ ان کو پورے سسٹم کو بہتر بنانا چاہئے۔ اس بات سے کسی کو برا کہہ دینا کہ اس نے PCO پر حلف اٹھایا ہے، اس طرح نہیں پتہ چلتا، کئی لوگ جمہوریت میں کرپٹ سے کرپٹ Appoint ہوئے ہیں، کوئی لوگ PCO میں Appoint ہوئے ہیں شاید سفارش کرکے جج بنے ہوں اور ان میں سے بڑے نیک جج بھی ہویئے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ PCO اپنی حیثیت میں کوئی بری چیز نہیں ہے۔ہم لوگ کہنا کیا چاہ رہے ہیں کہ، کیا فوجی برے ہیں؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ یہاں بہت اچھے فوج کے لوگ رہے ہیں اور برے بھی رہے ہیں، یہاں تو بہت سے برے سیاستدان بھی رہے ہیں اور اچھے بھی رہے ہیں۔ہمیں Realistic ہونا پڑے گا، ہم سب کو اکٹھے ہونا پڑے گا، ہمیں فوج کو ساتھ ملانا پڑے گا، ہمیں کالے کوٹ کو بھی ساتھ ملانا پڑے گا لیکن کالی بھیڑوں کو نہیں ملانا پڑے گا، دراصل ہم نے کالی بھیڑیں ساتھ ملا لی ہیں، ان کالی بھیڑوں کو نکالیں، اچھے نیک لوگوں کو ملائیں۔ سیاستدانوں میں یہ جوجو ہیں، یہ بڑے بڑے امیر لوگ ہیں، یہ ٹھیک ہے کہ اگر سیاست میں انہوں نے اتنے اتنے سالوں سےStablish کیا ہے تو ان کو بھی رہنے دیں۔ رہنے دیں زرداری کو، رہنے دیں نوازشریف کو، رہنے دیں شجاعت کو،عمران خان کو بھی رہنے دیں اور اگر وہ سیتا وائٹ ہے تو چلوکوئی بات نہیں یاربس ٹھیک ہے ختم کرو اب اس بات کو اور نہ نہ کرتے ہوئے بچی کو جمائما پال ہی رہی ہے نا، اس کو کیا تکلیف ہے۔ اب ان کو کہیں کہ تمہارے پاس اتنے اتنے پیسے ہیں اور مجھے بھی کہہ دیں بے شک، حالانکہ ابھی تک میں نے کوئی کرپشن کی نہیں ہے، مجھے موقعہ ہی کبھی نہیں ملا اوریہ اللہ کی مہربانی ہے کہ کبھی کرنی ہی نہیں پڑی۔ مجھے بھی اگر کہہ دیں کہ یار عرفان قادر آپ کے پاس اتنا پیسہ ہے اور آپ کے پاس نیچے تین گاڑیاں کھڑی ہیں اور دو گاڑیاں آپ سرکار کو دے دں اور اپنے لئے آپ ایک رکھ لیں، تو سارے دے رہے ہوں گے اوریہ Spirit ہوگی تو میں تو دے دوں گا اپنی دو گاڑیاں، اگر گھر کے بھی میرے دس کمرے ہیں تو میں تو دے دوں گا اور کہوں گا کہ ٹھیک ہے میرا تو تین کمروں میں گزارا ہورہا ہے۔ اسی طرح ساروں کی اگر یہ Spirit ہے، نوازشریف بھی اپنی پراپرٹی ذرا زیادہ رکھے یعنی 1/3 رکھ لے، افتخار چوہدری بھی وہ جو900 ارسلان کے تھے اس میں سے 30 کروڑ رکھ لے اور اسکی پنشن جو مل رہی ہے آٹھ یا دس لاکھ روپے مہینہ اس کو تین یا چار لاکھ روپے کر لے تو پھر بھی بڑا اس کو ملے گا اور آرام سے زندگی گزارے گا۔اس طرح یہ ملک ترقی کرے گا اور یہ ملک کہاں سے کہاں جا سکتا ہے۔بس مسئلہ یہ ہے کہ کوئی پروگرام نہیں،کوئی پیغام نہیں، کوئی منشور نہیں کچھ نہیں صرف گالیاں ہیں، مار دھاڑہے،نفرتیں ہیں، پسند نا پسند ہے، Character assassination ہے۔ آپ ثاقب نثار صاحب کو کبھی دیکھیں وہ چاہتا ہے کہ
I am the last word۔

اپنا تبصرہ بھیجیں