سفرنامہ۔ استنبول

سفرنامہ۔ استنبول


گزشتہ نومبر میں استنبول جانے کا اتفاق ہوا تھا اور استنبول کا نشہ ایسا چڑھا تھا کہ میں دوبارہ جون جولائی میں وزٹ کا پروگرام ترتیب دے ہی رہا تھا کہ اچانک آکسفیم کی جانب سے ماہ مئی میں بین الاقوامی ریفیوجی کانفرنس میں شرکت کی دعوت مل گئی۔میں نے فوراً حامی بھری اور ویزا لینے ترکی ایمبسی پہنچ گیا۔ایمبسی والوں نے کہا کہ آپ کے پاسپورٹ پر مطلوبہ اوراق موجود نہیں ہیں اسلئے آپ نیا پاسپورٹ بنوائیں، دن کم تھے اسلئے ارجنٹ پاسپورٹ کا قصد کرکے فوراً پاسپورٹ آفس پہنچا، انہوں نے کہا کہ ارجنٹ پاسپورٹ پانچ دن میں ملتا ہے، میں نے حساب کیا کہ اگر جمعہ کو پاسپورٹ ملے تو پیر کو جمع کرانا ہوگا اور اگلے دن یکم مئی کی چھٹی کے بعد کل4/5 ورکنگ ڈے ہوں گے۔ لیکن کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ کسی کو فون کرنے کا سوچا، پھر کسی کا احسان لینے کی بجائے میں نے کہا، مل گیا توچلا جاؤں گا، نہیں ملا تو کونسی قیامت آجائے گی۔میں آرام سے پاسپورٹ آفس سے نکلا کہ مطلوبہ فیس جمع کراؤں، اس دوران ساڑھے بارہ بج رہے تھے اور اگر میں فیس جمع کرانے بینک جاتا تو یقینا اس روز بھی کاغذات جمع نہ ہوتے۔ میں گاڑی کی طرف جارہا تھا کہ ایک بندہ آیا کہ سر کوئی مدد چاہئے؟ میں نے کہا کہ ارجنٹ پاسپورٹ بنوانا ہے، کیا مدد کرسکتے ہو؟ کہنے لگا، سر پرسوں آپ اپنا پاسپورٹ لے لیں۔ میں رک گیا، پوچھا کہ کس طرح؟ اس نے کہا چار ہزار روپیہ دیں، فیس کے پیسے بھی دیں میں اوپر فون کرتا ہوں آپ کا پراسس شروع ہو جائے گا۔ میرا بندہ جب تک فیس جمع کرا آئے گا اور آپ پرسوں ایک بجے آکر اپنا پاسپورٹ لے لیں۔ میں نے اسکو پیسے دیئے، اس نے کسی کو فون کیا، میں اوپر گیا، ایک بندہ مجھے فوٹو والی جگہ لے گیا وہاں میری رجسٹریشن کرائی اور پاسپورٹ کا پراسس شروع ہوگیا۔ آدھے گھنٹے بعد فون آیا کہ اپنی فیس کا ووچر لے لیں، وہ لیا اور گھنٹے ڈیڑھ میں تمام کاروائی مکمل کرکے گھر چلا گیا۔ تیسرے دن پاسپورٹ مل گیا اور یوں بروقت جمع ہوگیا۔اس ساری کہانی کے بیان کا مقصد یہ ہے کہ جو لوگ دوسروں پر چوری کا الزام لگاتے ہیں ان کو یہ سوچنا چاہئے کہ ہمارا سارا نظام کرپٹ ہے، میں بھی اس کرپشن کا حصہ ہوں اگر میں پیسے نہ دیتا اور اپنی باری کا انتظار کرتا تو میں کرپشن میں حصہ دار نہ بنتا۔ لیکن اگر کوئی ایسا نظام کار ہماری ایف آئی اے وضع کرتی کہ جس میں عوام کی ضرورت کے مطابق وقت میں پاسپورٹ کے اجراء کی سہولت میسر ہوتی تو شاید ہم اس کرپشن سے بچ جاتے لیکن ایسا نظام وضع کرنے سے محکمے والوں کے اپنے دروازے بند ہو جاتے اسلئے یہ نظام کبھی وضع نہیں کیا جائیگا اور لوگوں کی ضرورت اور مجبوری سے فائدہ اٹھانے کیلئے محکمہ پاسپورٹ، محکمہ ایف آئی اے اور دیگر حکومتی اداروں کے ارکان استحصال کرتے رہیں گے۔
10 مئی کی صبح سواپانچ بجے ترکش ایئر لائن سے فلائٹ تھی۔ 2 بجے سفر کیلئے نئے اسلام آباد ایئر پورٹ کی طرف روانہ ہوئے۔پراناایئر پورٹ روڈ ابھی نواز شریف کی مہر بانی سے سگنل فری ہوا ہی تھا اور ہم20/25 منٹ میں آرام سے پہنچ جاتے تھے، اب نیا ایئر پورٹ کوسوں دور تھا مگر خوشی بھی تھی اور تجسس بھی کہ نیا ایئرپورٹ کیسا بنا ہے۔بہر حال سخت ترین سیکیورٹی اور بلا ضرورت عوام سے ٹیکس وصول کرنے کے لئے ایئر پورٹ راستے کے آغاز میں ٹول ٹیکس پلازہ عوام کو ہر ممکن طریقے سے لوٹنے کی ایک بڑی کڑی ہے۔ ایئر پورٹ پہنچ کر دل خوش ہوا کہ کافی کھلا ایئر پورٹ ہے مگر جگہ کھلی ہونے اور دماغ کھلے ہونے میں بڑا فرق ہے۔ بورڈنگ پاس میں پورا ایک گھنٹہ لگا اسقدر سست رفتار سروس کبھی نہیں دیکھی۔
خدا خدا کرکے بورڈنگ پاس ملا۔پاسپورٹ کنٹرول میں میرے نئے پاسپورٹ پر پہلے ویزے کو دیکھ کر بندہ میری طرف دیکھنے لگا۔میں نے کہا بھائی پاسپورٹ سکریچ کریں میں پہلی بار نہیں جارہا، فوراً ٹھپہ لگا اور اندر چلا گیا۔ لاؤنج بڑا ضرور تھا مگر کرسیاں معقول تعداد میں نہیں تھیں، اسکی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پندرہ سولہ سال قبل ڈیزائن کئے جانے والے اس ایئر پورٹ کو پندرہ بیس سال کی ضرورت کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا۔صدی کی سوچ اسلئے نہیں اپنائی گئی کہ اتنی ہماری صلاحیت نہیں ہے۔
بہر حال پرانے اسلام آباد ایئر پورٹ کی نسبت کافی کشادہ اور نیا ہونے کی وجہ سے بہتر ہے۔ ہماری فلائیٹ حسب معمول بروقت تھی اور ساڑھے پانچ گھنٹے کی فلائیٹ کے بعد وہاں کے مقامی وقت کے مطابق قریباً ساڑھے نو بجے پہنچ گئے۔ترکی اور پاکستان میں دو گھنٹے کا فرق ہے۔ایئر پورٹ پر منتظمین موجود تھے۔اردن سے ایک نہایت ہی خوش اخلاق نوجوان پہلے سے موجود تھا جبکہ ایران سے آنے والی فلائیٹ میں کسی نے آنا تھا۔ منتظمین نے ہمیں کہا کہ ہمارا ایک بندہ آپ کے سامان کے پاس بیٹھا ہے آپ آرام سے ایئر پورٹ پر چکر لگائیں،15/20 منٹ بعد اگلی سواری پہنچ جائے گی تو پھر ہم ہوٹل چلے جائیں گے۔ ہم نے باہر نکل کر دیکھا تو ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی، موسم سرد مگر خوشگوار تھا، تھوڑی دیر میں ایران سے زارا بھی پہنچ گئی۔زارا ایران میں ایک این جی او میں ہے اور تین چار سال قبل جب ہم ایران گئے تھے تو ہماری میز بان تھی۔ ہم تینوں گاڑی میں بیٹھے اور ہوٹل کی طرف رواں دواں ہوئے۔ راستے میں ترکی کی ترقی اورخوبصورتی کے دلکش مناظر کو سموتے ہوئے جب ہم پانی کے کنارے پر واقع ہوٹل لزونی اترے تو یقیناروح تک میں تازگی اتر گئی۔ ریسپشن پر ایک خوبصورت ترکش خاتون نے خندہ پیشانی سے استقبال کیا اور پاسپورٹ مانگا، میں نے کہا بی بی مجھے کمرہ سی ویو سائیڈ پر چاہئے، کہنے لگی آپ کا کمرہ دوسری طرف ہے لیکن میں بدل دیتی ہوں اور یوں اسکی مہربانی سے مجھے اچھا کمرہ ملا جو کشادہ تھا اور کھڑکی کے باہر زندگی کی تمام تر حسن و رعنائیاں موجود تھیں۔
تھوڑی دیر آرام اور فریش ہونے کے بعد ایک بجے لنچ میٹنگ کیلئے ہال میں اکٹھے ہوئے،کھانا کھایا اور ساتھ ہی اگلے روز کیلئے سٹریٹجی بنائی۔ ڈھائی بجے میں نے ان سے اجازت چاہی کیونکہ میں نے جانے سے قبل استنبول بار ایسوسی ایشن سے میٹنگ کی درخواست کی تھی، انہوں نے اپنے ممبر ایکسٹرنل ریلیشنز مسٹر میٹن ارچگان کے ساتھ ساڑھے تین بجے میٹنگ رکھی تھی۔ میں نے ریسپشن سے ایڈریس لیا ٹیکسی پکڑی اور استقلال سٹریٹ کے عقب میں واقع سڑک پر ڈرائیور نے اتار کر مجھے کہا کہ اس گلی میں اوپر جاؤں تو بار ایسوسی ایشن ہے۔ اب میں گلی میں کبھی اوپر جاؤں کبھی نیچے،میں اپنی بار کے مطابق دیکھ رہا تھا۔ایک جگہ دو تین بندے کھڑے سگریٹ پی رہے تھے میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کس سے ملنا ہے؟ میں نے بتایا تو اس نے فون کیا اور مجھے کہا یہی بار ایسوسی ایشن ہے اور مسٹر میٹن ارچگان آرہے ہیں۔ بلڈنگ کے اوپر لکھا تھا BARSU جو ترکی میں بار ایسوسی ایشن ہے۔ سگریٹ پی کر اس نے مجھے کہا کہ آئیں اندر جاتے ہیں۔دورازے کے اندر سیکیورٹی کا مکمل نظام تھا، لفٹ میں اوپر گئے تو گیلری کے دونوں اطراف کمرے تھے جو وکلاء کیلئے مختص تھے۔پانچ منزلہ عمارت میں شاید 70/80 کمرے ہوں مگر اچھے اور کشادہ تھے۔ مجھے اس نے ایک کانفرنس روم میں بٹھایا جسمیں 15/16 لوگوں کی جگہ تھی اور چائے پانی کا پوچھ کر چلا گیا، میں نے شکریہ ادا کیا۔ پانچ منٹ بعد دوبارہ آیا اور پوچھا، میٹن نہیں پہنچا؟ میں نے کہا کہ نہیں، تو اس نے کہا کہ پھر آپ کافی پی لو۔ سامنے ہی کچن تھا اس نے کافی بھجوائی، اتنے میں ایک خوبصورت خاتون آئی، مصافحہ کیا اور ویلکم کرتے ہوئے کہا کہ میٹن پہنچ رہے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ بھی آگئے۔نہایت ہی نفیس اور کسی حد تک مسکین میٹن گرمجوشی سے ملے، میرا شکریہ ادا کیا کہ میں بار میں آیا ہوں۔میں کافی پی رہا تھاخاتون نے میرا کپ اٹھایا اور کہا کہ آئیں سر ساتھ والے کمرے میں بیٹھتے ہیں، ہم ساتھ کمرے میں بیٹھے۔ رسمی دعا سلام کے بعد میں نے اپنا تعارف کرایاتو مجھ سے میٹن ارچگان نے ہماری عدلیہ بارے پوچھنا شروع کیا کہ کورٹس کا طریقہ کار کیا ہے؟ نظام انصاف سے عوام مطمئن ہیں یا نہیں؟ پاکستان اور ترکی کے نظام میں فرق اسلئے ہے کہ ترکی انگریزوں کی غلامی میں نہیں رہا، یہاں صدیوں کا نظام ہے۔ پاکستان میں سارا نظام انگریزوں کا ہے۔ ترکی کے بارے میں بتایا کہ انکی سپریم کورٹ میں صدر سپریم کورٹ اورنائب صدر سپریم کورٹ ہیں۔ سول، کریمینل، سروس وغیرہ ہر قانون کیلئے علیحدہ بنچ ہیں، وہ کام کرتے ہیں۔ اگر کسی جج کے خلاف کوئی اپیل دائر ہواور اپیل میں جج کا فیصلہ کالعدم ہو جائے تو جج اپنے فیصلے پر سٹینڈ لے سکتا ہے۔ اس صورت میں پریذیڈنٹ سپریم کورٹ اور تمام بنچوں کے سربراہ اسمیں شامل ہو کر فیصلہ کرتے ہیں اور وہ حتمی ہوتا ہے۔ یہاں پینڈنسی نہیں ہے، جلد اور فوری انصاف ہوتا ہے۔ استنبول بار میں دنیا بھر سے وفود اور سفراء آتے ہیں اور ہمارے یہاں سے بھی لوگ باہر جاتے ہیں۔ ہماری بار میں وکلاء کی مختلف ذمہ داریوں کا تعین ہوتا ہے۔ میں ایکسٹرنل ریلیشنز کو دیکھتا ہوں۔اسی طرح بار کے معاملات میں ہم سب صدر کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔اس نے کہا کہ ترکی کی عوام تحریک خلافت میں پاکستان کی قربانیوں کو ابھی بھی نہایت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔پاکستان اور ترکی کے عوام کی محبت لازوال ہے۔میں نے کہا، سر یہ عوام کی حد تک ہوگا مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے ساتھ ایران اور اردن سے لوگ آئے،ان کو یہاں ایئر پورٹ پر انٹری دی گئی جبکہ ہم لازوال محبت کا شکار قوم ترکی کے ویزے کیلئے پاپڑ بیلتے ہیں،ثبوت دیتے ہیں تب ویزہ ملتا ہے۔ اس نے کہا،اسکی کوئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ایک تو ترکی یورپ کا دروازہ ہے اور یہاں پر لوگ قانونی اور غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی صرف اسلئے کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں تارکین وطن کا انبار ہے اسلئے احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ تاہم میں اتفاق کرتا ہوں کہ کم از کم پروفیشنلز کیلئے ویزا آن ارائیول ہونا چاہئے۔ اتاترک کے فوٹو کے سائے میں بیٹھ کر میٹن نے بین الاقوامی امور پر اپنی رائے بیان کی جس سے انکی خوبصورت شخصیت کے ساتھ علمی قابلیت اور بین الاقوامی امور سے کما حقہ واقفیت کا احساس ہوا۔ڈیڑھ دو گھنٹے گپ شپ کے بعد وہاں سے اجازت لی۔ باہر نکل کر گلی کی دوسری سائیڈ پر دیکھا تو میں استقلال سٹریٹ میں تھا۔ تکسیم چوک اور استقلال سٹریٹ استنبول کا دل ہے۔ ایک تا حد نگاہ نظر آنے والا پر رونق بازار جہاں نہ دل تنگ ہوتا ہے نہ ٹانگیں تھکتی ہیں۔ آنکھوں کی زبردست ورزش ہوتی ہے اور اکثر و بیشتر دل اچھلتا محسوس ہوتا ہے۔ اتنی خوبصورت جگہ اس میں اتنے خوبصورت لوگ اور پھر خوبصورت رم جھم موسم، دل بے اختیار کہتا ہے اور تم اللہ کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔یہاں تو دل کہتا ہے اور تم اللہ کی کون کونسی نعمتوں سے آنکھیں چراؤ گے۔ میں خوبصورت ماحول کو انجوائے کرتا ہوا تکسیم سکوائر تک گیاوہاں سے ٹیکسی لیکر ہوٹل گیا کیو نکہ سات بجے کاک ٹیل پارٹی تھی۔ کاک ٹیل پارٹی میں تمام شرکاء مدعو تھے۔ ہوٹل کے آخری فلور پر ہال میں منعقد ہونے والی اس پارٹی میں رنگ اور نور اکٹھے ہوئے۔ وہاں اوپر سے باہر استنبول کا دلکش نظارہ،کیا شام تھی، بہت ہی مزہ آیا۔
پاکستان سے دو ساتھی عظمت اور عماد بھی آئے ہوئے تھے۔ ہم تینوں جنیوا میں بھی اکٹھے تھے۔ پشاور میں مقیم ایک افغان دوست امجد صافی جو یونین ایڈ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں وہ بھی آئے تھے۔ وہ کہیں باہر گئے اور گم ہوگئے، ہوٹل اسوقت پہنچے جب محفل تقریباً بر خواست ہو چکی تھی۔ایک ایک جوس پی کر افسوس کرتے ہوئے چلے گئے۔ میں نے شوز پہنے اور ساحل سمندر پر ایک لمبی واک کی۔ گزشتہ رات سفر کی وجہ سے سویا نہیں تھا، تھکاوٹ بھی تھی، کمرے میں گیا اور ایسے سویا کہ الارم سے آنکھ کھلی۔ جلدی جلدی تیار ہو کر ناشتہ کیلئے اترا کیونکہ 9 بجے پروگرام شروع ہونا تھا۔ ناشتے میں فروٹ اور سلاد سے لیکر ہر چیز موجود تھی، چونکہ ہمارا سارا دن ہی بیٹھنے کا تھا اسلئے محتاط ناشتہ کرکے میٹنگ ہال میں پہنچے۔ ٹھیک9 بجے آغاز ہوا۔آکسیفم کی کنٹری ڈائریکٹر مریم نے استقبال کیا۔ اس کے بعد رولز سیٹ ہوئے اور پانچ گروپوں میں تقسیم کرنے سے پہلے تمام شرکاء سے کہا گیا کہ اگر وہ اس میں کچھ کمی بیشی کرنا چاہتے ہیں تو اپنی رائے دیں، یہ ایک اتنی شاندار ابتداء تھی کہ ہر کوئی بولتا گیااور گیارہ بجے تک اس بہت بڑے چارٹ پر لکھنے کی جگہ نہیں رہی۔ سب کی دلچسپی کی وجہ سے سیکھنے کا بھی موقعہ ملا اور دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے لوگوں کی علمیت اور قابلیت کا بھی اندازہ ہوا۔منتظمین کے بقول وہ خود بھی اسقدر بہترین رسپانس کی امید نہیں کر رہے تھے۔ کافی بریک کے بعد گروپ میں تقسیم کردینا تھا مگر شرکاء کی دلچسپی اور کنٹری بیوشن کی وجہ سے لنچ بریک تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ لنچ کے بعد گروپس میں تقسیم ہوئے۔ میرا لیگل رائیٹ ورکنگ گروپ تھا۔ ہم نے پہلے مسائل Issues لکھے۔ پھر ان میں سے چار ترجیحات منتخب کیں اور ان پر بحث شروع ہوئی۔اختتام تک ہم صرف تین ترجیحات کو ر کر سکے، ہم وہاں سے ہال میں آگئے جہاں سب گروپس نے اپنی اپنی رپورٹ پیش کی۔ہماری رپورٹ پوری نہیں تھی اور ہمیں علم تھا کہ دوسرے دن بھی گروپ ورک ہے، ہمارے گروپ لیڈر نے کہا کہ سب سے مشکل گروپ وکلاء کا ہے کیونکہ وکیل بحث کرنے کیلئے پیدا ہوتے ہیں اور کبھی agree نہیں کرتے۔ ایک کمرے میں دو وکیل ہوں تو تین رائے ہوتی ہیں اسکے باوجود گروپ نے اپنی تجاویز مرتب کی ہیں۔
شام سوا چھ بجے ہمیں سمندری جہاز میں لے جاکر کسی جگہ ڈنر کرانے کا پروگرام تھا۔ ہم سب جلدی جلدی تیار ہوئے، ہال میں پہنچے۔ سامنے ہی سمندر میں جہاز کھڑا تھا۔ وہاں سمندری جہاز اور کشتیاں ایسے چلتی ہیں جیسے ہمارے ہاں بسیں۔ اسطرح ساحل ہے کہ جہاں چاہے لنگر انداز کیا جا سکتا ہے۔کئی سال پہلے قاہرہ کے بعد یہ سفر کیا جارہا تھا اسلئے بہت Excitement تھی۔ ہم سب اوپر گئے، وہاں پر ڈرائی فروٹ اور جوس کا اہتمام تھا۔ ہمارا پانی میں سفر شروع ہوا تو سب ایسے کھوئے کہ 75 منٹ گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔ ایک گائیڈ ہمیں دونوں جانب کی عمارات کی تاریخ بتا رہا تھا۔کہاں یہودیوں کی آبادی تھی، کہاں بادشاہ کے ملازمین رہتے، ایک جگہ پر اس نے بتایا کہ یہ باسفورس کی سب سے کم وسعت کی جگہ ہے جہاں دونوں کناروں کے درمیان 600 میٹر کا فاصلہ ہے۔یہاں پر دونوں جانب قلعے تھے جہاں سے بحری جہازوں اور قزاقوں پر نظر رکھی جاتی تھی، ماہر تیر اندازموجود ہوتے تھے جو حفاظت کرتے تھے۔ سلطان سلیمان کے محلات اور مساجد کے نظارے سمندر سے کئے۔ ترکی نے اسقدر شاندار انتظامات کئے ہوئے ہیں کہ ایک پل اوپر سے ٹرین، میٹرو، پبلک سروس، پیدل سب گزرتے ہیں، نچلے حصے میں ریستوران ہیں، درمیان میں بحری جہازوں کی گزر گاہیں ہیں، ایک قابل دید منظر ہے۔ جہاں جہاز لنگر انداز ہوا اسکے ساتھ ہی ساحل پر ایک ہوٹل میں ڈنر کاانتظام تھا۔ہوٹلوں میں ہر قسم کا کھانا اور پینا دستیاب ہے۔یہاں پر پہلے سلاد اور فنگر فش اور بعد میں پوری تلی ہوئی مچھلی سے تواضع کی گئی، جو کوئی بھی پوری نہیں کھا سکا حالانکہ بہت ہی لذیذ تھی۔ ترکی میں کھانے کے ساتھ سلاد، چٹنیاں اورسٹارٹر فری ہوتا ہے جبکہ ہمارے ہاں اسی میں لوگوں کو لوٹ لیا جاتا ہے۔ یہاں بھی لائیو میوزک تھا۔ تین گلو کارائیں اپنا فن پیش کررہی تھیں، کچھ خواتین کو بہت سخت ڈانس آیا ہوا تھا مگر جگہ کم ہونے کی وجہ سے وہ اپنے فن کا مظاہرہ اور ہم اس مظاہرے سے لطف اندوز ہونے سے محروم ہوگئے۔ واپسی پر ہم بس میں واپس آئے۔ میں نے ایک بہت ہی خوبصورت خاتون جس نے گزشتہ رات کاک ٹیل پارٹی میں کچھ Steps کا مظاہرہ کیا تھا اسکو میں نے کہا کہ آج آپکو ڈانس کرنا تھا مگر آپ نے نہیں کیا، تو فوراً بولی، آپ کہتے تو میں آپ کے ساتھ ضرور ڈانس کرتی۔ اس جواب کے بعد اپنی کم مائیگی پر سخت افسوس کا اظہارکرکے اسکو خدا حافظ کہا اور کمرے میں چلا گیا۔ صبح پھر وہی معمول رہا، لنچ میں ہم چاروں نے پروگرام بنایا کہ اکٹھے تکسیم جائیں گے۔ تکسیم استنبول کا دل ہے مگر ہم دل سے دور تھے۔5 بجے پروگرام کا Happy End ہوا، ہم فریش ہوئے اور باہر نکل آئے۔عماد نے کہا کہ میٹرو سے جاتے ہیں ہم نے سڑک کراس کی، میٹرو میں بیٹھے اور تکسیم سکوائر پہنچ گئے۔
میں گزشتہ بار یہاں آیا تھا، میرے ساتھی پہلی بار آئے اور ان کی آنکھوں کی ورزش سے انکی پسندیدگی واضح نظر آرہی تھی۔ ہم چاروں مختلف المزاج ہونے کے باوجود کافی ہم مزاج تھے۔میں تو ہوں ہی رنگین مزاج اور عظمت خان انتہاء کا شوقین مزاج اور امجد صافی صاحب نیک اور صالحین مزاج، میں اور عظمت اپنے جذبات کا اظہار فوراً کرتے ہیں، عماد کوئی لقمہ دے کر شامل ہو جاتے جبکہ صافی صاحب کن اکھیوں سے پوراجائزہ لینے کے بعد زیر لب مسکان بکھیرتے، کیمسٹری سب کی ایک تھی بس طریقہ اظہار مختلف تھا۔ میرے ساتھیوں کو یہ علاقہ اتنا پسند آیا کہ فوراًفیصلہ ہوا کہ کل اس علاقے میں منتقل ہو کر اس علاقے کی رونق کا بھر پور مزہ لیا جائے۔ عظمت خان اور عماد نے بتایا کہ وہ ایک دن قبل پہنچے تھے اور انہوں نے ایک ہوٹل میں رات گزاری جو کافی آباد جگہ پر تھا۔ ہم نے مختلف ہوٹلوں میں تانکا جھانکی کے بعد اس ہوٹل کا نقشہ نکالا تو وہ بہت دور نہیں تھا۔ استقلال اسٹریٹ کے آخر میں بہت ہی گہرائی میں راستہ جارہا تھا ہم اس راستے پر جارہے تھے اور یہ سوچ رہے تھے کہ یہاں سے واپس کیسے چڑھیں گے۔ عماد صاحب نے فوراً لقمہ دیا کہ اتنی اونچائی تک آنے جانے سے ہی تو یہاں کے لوگ اتنے فٹ اور صحتمند ہیں۔ بہر حال ڈھونڈتے ڈھانڈتے ہم اس ہوٹل پہنچ گئے۔ وہاں دو کمرے موجود تھے، دو ساتھ والے ہوٹل میں بک کئے۔ باہر نکلے تو سامنے ہی میٹرو اسٹیشن تھا، جہاں سے چار سو گاڑیاں دستیاب تھیں۔ہم نے ہمت کی چڑھائی پر چڑھنا شروع کردیا۔ بھوک کا احساس ہوا تو درمیان میں ایک ہی چھوٹے سے ہوٹل میں بیٹھ کر کھانا کھایا، ہلکی ہلکی بارش لگی تھی مگر گہما گہمی میں کوئی کمی نہ تھی۔واپس آہستہ آہستہ چلتے ہوئے جب تکسیم اسکوئر پہنچے تو ایک بج رہا تھا میٹرو کا وقت ختم ہو چکا تھا، ہم نے ٹیکسی لی، ہوٹل پہنچے، میں فریش ہو کر نیچے آیا تو عظمت خان بھی آگیا،ہم پانی کنارے واک کیلئے نکلے تو ایک گراؤنڈ میں نوجوان نائٹ فٹ بال میچ کھیل رہے تھے، بچے اورعورتیں گھوم رہی تھیں، بنچوں پر نوجوان جوڑے محو محبت تھے، ہر کوئی اپنی دنیا میں مست تھا، نہ کوئی مداخلت، نہ کوئی خوف،ایک چیز جو ذرا مختلف دیکھی کہ وہاں مرد اور خواتین راہ چلتے سگریٹ پیتے نظر آتے ہیں، عورتوں میں شاید ذیادہ رحجان ہے، ایسے سوٹے لگاتی نظر آتی ہیں کہ بندے کا سگریٹ پینے کو دل کرنے لگ جاتا ہے، شاید مرد عورتوں کو دیکھ دیکھ کر ہی سگریٹ پینا شروع کرتے ہوں ۔ اگلی صبح ناشتہ کیا، سامان پیک کیا، کوئی ڈیڑھ دو بجے ہم کرا کوئی پہنچے۔میرے دوست سلطان محل دیکھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے چنانچہ طے ہواکہ آج ہفتہ کے دن مارکیٹ کا چکر لگایا جائے۔ترکی کا مشہور گرینڈ بازار دیکھا جائے اور اتوار کے دن محل کی سیر کی جائے۔چنانچہ ہم نے ٹرین پکڑی اور دس پندرہ منٹ میں پہنچ گئے۔ ہم کافی دیر گھومے۔ عماد جس دکان میں گھستا کچھ نہ کچھ لے لیتا۔وہاں واپسی پر جب ہم پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہم جہاں گئے تھے وہ گرینڈ بازار کا بیرونی حصہ تھا، اندرونی حصہ جو کہ فصیل بند اور کواڈ ہے وہ شام کو جلدی بند ہو جاتا ہے چنانچہ ہم دوبارہ ادھر ادھر گھومتے رہے۔استقلال اسٹریٹ ہفتے کی شام پورے جوبن پر تھی،بچیاں کرتب دکھا رہی تھیں، نوجوانوں کی پارٹیاں ناچ گانے میں مصروف تھیں رات12 بجے تک جبکہ ہمارے ملک کے ارسطو اور افلاطون اپنے بستروں میں گھس کر دنیا جہاں کی سیاست، الزام تراشیوں اور بہتانوں میں مصروف تھے وہ نوجوان زندگی کی موجیں لوٹ رہے تھے، میں نے اسی رات استقلال سٹریٹ کے مناظر شیئر کئے۔
اگلے دن ہم محل پہنچے۔ سلطام سلیمان کا عالی شان محل جس کا چپہ چپہ ایک تاریخ ہے، جس کا کونا کونا ایک درس ہے۔اس محل میں داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ ایک بہت بڑی اور لمبوتری عمارت ہے جبکہ بائیں طرف ایک چوکور سی بنی ہوئی عمارت ہے۔ دائیں طرف والی عمارت سلطان سلیمان کا کچن تھا جس میں بیک وقت تین ہزار لوگ کام کرتے تھے،اس کچن کی عمارت میں داخل ہو کر انسان فن تعمیر دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے۔کئی حصوں پر مشتمل اس عمارت میں کئی چمنیاں، روشندان، ھوا اور روشنی کا مکمل انتظام اور موسم کو معتدل رکھنے کیلئے اسکی تعمیر ایسی تھی کہ بندہ دیکھتا ہی رہ جائے۔ وہاں پر بادشاہوں کے زیر استعمال برتن وغیرہ سجائے ہوئے رکھے ہیں۔ اس عمارت میں داخلہ کا ٹکٹ65 لیرا تھا جو ہمارے تقریباً 2000 روپے کے برابر تھا۔میرے ایک دوست کے بقول ہاتھی زندہ لاکھ اور مردہ سوا لاکھ والی مثال یہاں پوری ہوتی ہے۔ بلا مبالغہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ یہاں روزانہ سیر کیلئے آتے ہیں اگر ایک محل روزانہ کم از کم 65000 لیرا آمدن دے رہا ہے تو پھر سلطان سلیمان کی آج تک کی اپنی قوم کیلئے Contribution کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ایک محل کی روزانہ آمدنی بیس لاکھ پاکستانی روپوں سے زیادہ ہے۔بائیں طرف والی بلڈنگ اسلحہ خانہ تھا،جہاں پر اسلحہ رکھا جاتا تھا۔ درمیان میں وسیع و عریض کھلے میدان ہیں۔آگے محل کا حصہ شروع ہوتا ہے۔ محل میں شہزادوں کے ختنے کیلئے بھی ایک حصہ مختص تھا۔دربار ہال اس زمانے کی گھڑیاں، اسلحہ، نوادرات، تاریخ، کپڑے، بادشاہ کے ہاتھوں کا تحریر کردہ قرآن مجید، پرانے زمانے کی بندوقیں اور تلواریں، میانیں، گرہ بکتر، حضور پاک کے پاؤں کا نشان، مدینہ کی نایاب نشانیاں، حضورﷺ کی تلوار، غرض ہر چیز ایک نایاب تحفہ دیکھ دیکھ کے دل نہیں بھرتا۔ دوسری طرف بارہ دریاں جہاں سے سمندر اورسمندر کے دوسرے کنارے پر واقع آبادیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ سمندر کے کنارے واقع اس محل کے ساتھ ہی سلطام احمد کی مسجد جسکو نیلی مسجد Blue Mosque کہا جاتا ہے فن تعمیر کا شاندار نمونہ ہے۔ اس کا منبر دیکھنے کے لائق ہے۔بارہ دری سے محل سے باہر کا اتنا خوبصورت نظارہ ہے کہ آنکھیں دیکھتی ہی رہ جاتی ہیں۔سمندری جہاز، پرندے اور روشنیاں ایک ایک چیز قابل دید ہے۔ دور سمندر کے درمیان ایک جزیرہ ہے، روایات کے مطابق بادشاہ اپنے مخالفین کو یہاں پھنکوا دیتا تھا، جو وہاں بھوک پیاس سے بلک بلک کر مر جاتے تھے۔ یہ اقتدار کی گردشوں کی بہت پرانی کہانی ہے جو اسلامی تاریخ میں اکثر نظر آتی ہے اور آج بھی اسی شدو مد سے دھرائی جاتی ہے جس طرح400/500 سال پہلے تھی۔ اب جزیروں میں نہیں پھینکتے، دبئی اور سعودیہ میں جلا وطن کردیا جاتا ہے۔ تاریخ وہی ہے، طریقہ بدل گیا ہے۔
محل کا سب سے اہم حصہ حرم تھا۔حورم سلطان کے حوالے سے محل کے حرم کا حصہ سب سے زیادہ دیکھا جانے والا حصہ ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آجکل کے عوام بھی عورت کے حسن کو وہی اہمیت دیتے ہیں جو اس وقت کے بادشاہ وقت دیتے تھے۔ عورت مرد کی دلچسپی کا محور ازل سے ہے اور ابد تک ہے۔ میرے ایک دوست نے کہا کہ مرد عورت کے ساتھ بھی نہیں رہ سکتا، عورت کے بغیر بھی نہیں۔ میں نے کہا عورت کے ساتھ نہیں مگر عورتوں میں ضرور رہ بھی سکتا ہے اور خوش بھی رہتا ہے۔ہم پاکستان سے ترکی آکر چار سو سال پرانی حورم سلطان کی مردہ روح میں بھی اس کی زندگی کے حسین شب و روز ڈھونڈنے آئے ہیں، وہ کیسے رہتی تھی، اسکا گھر کیسا تھا، اسکا بستر اور کپڑے کیسے تھے یہ ہماری دیکھنے کی خواہش ہے حالانکہ سبق یہ ہے کہ یہ سب کچھ موجود ہے مگر نہ اس عظیم الشان سلطنت کا سلطان زندہ ہے اور نہ دلوں پر راج کرنے والی حورم سلطان۔بہر حال تنگ سی راہداریوں سے گزر کر اچانک ایک وسیع و عریض کمرے میں پہنچے تو خوبصورت نقش و نگار اور بہترین طرز تعمیر کا نمونہ کمرہ سامنے تھاجہاں شہزادیاں بیٹھتی تھیں۔ اسی کے ساتھ دوسرا کمرہ حورم سلطان کی خوابگاہ تھا۔ آگے وسیع و عریض صحن۔ نچلی منزل پر پانی کا تالاب اور درمیان میں ایک راستہ تھا جو حرم اور سلطان کی رہائشگاہ کے درمیان گزر گاہ تھی اور جہاں سے حورم سلطان اور دیگر ملکائیں اور شہزادیاں سلطان سے ملاقات کیلئے آتی تھیں۔ سلطان کے محل میں ان کے زیر استعمال بیڈ بھی رکھا گیا ہے اور دیگر چیزیں بھی موجود ہیں۔ محل میں چاک و چوبند فوجی پہرے پر موجود اور سیکیورٹی کا سخت نظام ہے۔ محل کے ساتھ ہی میوزیم ہے۔ ہم گھوم گھوم کر تھک ہار گئے تو پیٹ پوجا کرنے باہر نکلے، کھانا کھا کر گرینڈ بازار کی طرف روانہ ہوئے تو پتہ چلا کہ گرینڈ بازار اتوار کے دن بند ہوتا ہے۔ ہم ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتے مارتے واپس ہوٹل آئے۔تھوڑی دیر آرام کے بعد ہم لوگ دوبارہ مارکیٹ نکلے۔ ایک بہت بڑی بلڈنگز کی لائن کے نیچے ایک راستہ نیچے جارہا تھا، میں نے پوچھا کہ یہ کدھر کا راستہ ہے تو بتایا کہ یہاں نیچے ٹرین اسٹیشن ہے۔ بڑی حیرانگی ہوئی کہ اتنی بڑی بلڈنگ کے نیچے سے ٹرین گزرتی ہے۔ ایک ٹنل سے گزرے، اوپر دیکھا تو آبادی ہی آبادی تھی۔
عماد صاحب نے کہا کہ انہوں نے سوٹ لینا ہے، ہم بازار نکل گئے۔ وہاں ہم نے ایک چیز دیکھی کہ دکان میں آپ جائیں، چیز دیکھیں، قیمت پوچھیں اور آپ چلنے لگیں وہ آپ سے قیمت پر بات شروع کردیں گے، 100 کی چیز 70 کی ہوگئی تو اب آپ کو لینی ہے ورنہ وہ سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔ایک کوٹ انہوں نے دیکھا اس نے پاکستانی 14 ہزار روپے کہا، عماد نے کہا کہ یہ مہنگا ہے وہ اسکو 8 ہزار پاکستانی پر دینے کو تیار ہوگیا، عماد نے لینا نہیں تھا، وہ دکان سے کوٹ اٹھا کر باہر لے آیا کہ نہیں آپ نے اتنی قیمت کم کرائی ہے اب آپکو لینا ہوگا، مجبوراً اسکو لینا پڑا۔ ہم شام کو خوب گھومے، انجوائے کیا اور آکر فیصلہ ہوا کہ صبح گیارہ بجے اسٹیشن پر اکٹھے ہو کر گرینڈ بازار جانا ہے۔گرینڈ بازار واقعی ایک دیکھنے والا بازار تھا۔ چھوٹے سے گیٹ سے اندر جاتے ہی سامنے تاحد نگاہ کھلا وسیع کورڈ بازار نظر آیا۔ اسکی چھت کی ساخت ایسی تھی کہ گرمی سردی کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔بلند چھت میں دونوں اطراف آمنے سامنے بڑے بڑے روشندان روشنی اور ہوا مہیا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ نظر آیا۔تقریباً پندرہ فٹ کھلے راستے کے دونوں سائیڈ پر دکانات اور اندر ہی اندر گلیوں، چبوتروں، ستونوں، چڑھائی اترائی پر مشتمل یہ بازار واقعی گرینڈ تھا۔سلمان سلیمان کے محل سے قریباً ڈیڑھ کلو میٹر پر واقع یہ بازار اس امر کا غماض ہے کہ چار پانچ سو سال قبل کا روبار کتنے عروج پر تھا۔ اتنا بڑا بازار، اتنا منظم بازار، اتنا خوبصورت بازار دیکھ دیکھ کے اور گھوم گھوم کے حیران ہوتے رہے۔ تھوڑی بہت شاپنگ بھی کی۔رات کو ہماری واپسی کی فلائیٹ تھی اسلئے چار بجے کے قریب کھانا کھا کر ہم ہوٹل واپس پہنچے۔ سامان پیک کیا اور عازم ایئر پورٹ ہوئے اور رات کو استنبول اور استنبول کے عوام کی خوبصورت یادیں سمیٹ کر عازم اسلام آباد ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں