سفرنامہ تاجکستان

سفرنامہ تاجکستان


اقوام متحدہ کے ادارے انٹر نیشنل آرگنائزیشن فارمائیگریشن IOM افغانستان نے انسانی تجارت اور اس کے سد باب کے لئے ہمسایہ ممالک میں باہمی روابط قائم کرنے اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے لئے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں دو رو زہ کانفرنس کا انعقاد کیا جسمیں پاکستان، افغانستان، تاجکستان، ترکمنستان اور ازبکستان کے وفود نے شرکت کی۔ پاکستان سے انسانی حقوق کے حوالے سے ممتاز مقام کے حامل ضیاء اعوان ایڈووکیٹ،بچوں سے متعلق پاکستان کی ایک بڑی این جی او کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مس سعدیہ حسین اور راقم الحروف کو شرکت کی دعوت دی گئی۔ہم تینوں لوگ 20 تاریخ کی صبح اسلام آباد اور کراچی سے دبئی پہنچے،جہاں ایک طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد فلائی دبئی کی پرواز سے دوشنبہ پہنچے۔فلائی دبئی یورپ کی EASYJET طرز پر قائم ایئر لائن ہے جو کہ دنیا کی مہنگی سروس ایمریٹس کے متبادل کے طور پر قائم کی گئی ہے تاکہ مسافروں کو دوسری ایئر لائنز کی طرف جانے سے روکا جائے۔یہ ایک ایسے ملک کی طرف سے شروع کی گئی سروس ہے جن کے بارے میں ہمارے خیالات نہایت ہی منفی ہیں۔دبئی کے حکمرانوں نے دنیا بھر کی سیاحت کو کنٹرول کرنے کے لئے تمام جدید ترین ذرائع اختیار کئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ایئر پورٹ جہاں پورے دن میں صرف چند جہاز اترتے اور چڑھتے ہیں۔آدھی فلائٹس دیر سے چلتی ہیں اور آدھی کینسل ہو جاتی ہیں، یہی حال دوسرے بڑے ایئر پورٹس کا بھی ہے۔ اوپر سے جہاز ایسے ہیں کہ جب رن وے پر دوڑنا شروع کرتا ہے تو خود بخود اگلے پچھلے تمام گناہ آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں اور بندہ اپنے اللہ سے معافی تلافی شروع کردیتا ہے۔جبکہ دبئی میں جب ہم لینڈ کرکے لاؤنچ تک پہنچے تو 4/6 جہاز اتر اور چڑھ چکے تھے۔اسلام آباد ایئر پورٹ پر جاتے ہوئے دو جہاز پارک دیکھے اور وہاں بلا مبالغہ سینکڑوں کی تعداد میں جہاز تھے۔ہر تین منٹ میں کوئی جہاز اتر رہا ہے یا چڑھ رہا ہے۔کئی جہاز تو ہوا میں چکر لگاتے رہتے ہیں کہ رش کی وجہ سے اترنے کی اجازت نہیں مل رہی ہوتی۔خود ہمارے جہاز نے دو چکر لگائے تو اس کے بعد اسکو اترنے کا سگنل ملا۔یہ وہ ترقی ہے جو ایک ملک میں چند ہی عشروں میں ہوتی ہوئی ہم نے دیکھی اور یہ وہ تنزلی ہے جو اپنے ملک میں ہم نے چند عشروں میں دیکھی۔دنیا میں تمام قومیں عروج کی طرف گئیں اور ہم زوال کا شکار ہوئے۔
فلائی دبئی میں وہ سہولیات نہیں تھیں جو دیگر ایئر لائنز میں ہوتی ہیں۔ خوبصورت اور چاق و چوبند ہنستی مسکراتی ایئر ہوسٹس اور بہترین کھانے (ان دیگر ایئر لائنز میں پی آئی اے کو شامل نہ کریں، جہاں صرف آنٹیاں اور انکل ہی ہوتے ہیں اور جو ڈیوٹی نہیں کرتے بلکہ ان سے کرائی جاتی ہے اور کھانا نہ کھانے کے لئے دیا جاتا ہے)اور اچھا ماحول ہوتا ہے۔ فلائی دبئی میں دو سو آدمیوں کے لئے صرف چار اسٹاف تھا اور وہ بھی کسی افریقی ملک سے بطور خصوصی بھرتی کیا گیا تھا۔اس جہاز میں کھانے پینے کے پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں جو کہ اسٹاف ایک بار ٹرالی گھما کر پوچھتا ہے۔جس نے کچھ لینا ہے تو لے ورنہ ان کی بلا سے،پانی کی ایک چھوٹی بوتل دو ڈالر کی تھی، اس حساب سے وہاں کھانا پینا عموماً کم ہی ہوتا ہے۔اسلئے ایئر لائن خوبصورت ایئر ہوسٹسز کو بڑی بڑی تنخواہیں اور نخرے برداشت کرنے کی بجائے شایدبس کام چلانے والا سٹاف ہی رکھتی ہے۔کم از کم جن فلائٹس میں ہم گئے اور آئے وہا ں تو یہی صورت حال تھی۔ بہر حال ہم نے اللہ کی اس مخلوق کا بہت کم دیدار کیا کیونکہ پانی خریدنے کے بعد ہماری بھوک پیاس ویسے ہی ختم ہوگئی اور وہ پورے اطمینان کے ساتھ عقبی حصہ میں اپنی محفل سجا کر موجود رہیں۔
دوشنبہ کے ایئر پورٹ پر ہم قریباً سحری کے وقت اترے، ایئر پورٹ بہت بڑا تھا، ذیادہ چیکنگ نہیں تھی۔ہم جلد ہی امیگریشن سے فارغ ہوکر باہر آگئے۔ افغانستان سے آئے وفد کے ایک رکن نے ایئر پورٹ لاؤنچ سے باہر نکل کر سگریٹ لگانی چاہی تو اسکو ایک مقامی شخص نے روک دیا کہ رمضان میں سختی ہے اور پولیس پکڑ سکتی ہے،یہ بات بعد میں سوچتا رہا کہ سحری کے اوقات کے اندر بھی پولیس کسی کو کیسے پکڑ سکتی ہے بحر حال میں نے مقامی شخص سے پوچھا کہ کیا یہاں بھی جنرل ضیاء الحق کی حکومت رہی ہے؟ وہ مسکرادیا، اسکو میری بات کی سمجھ نہیں آئی اور میں اسکی مسکراہٹ کو ہی سمجھ گیا۔ بہر حال ہم ایئر پورٹ سے نکل کر شیرٹن ہو ٹل گئے جو ایئر پورٹ کے بالکل ہی قریب تھا اور دس منٹ میں ہم ہوٹل پہنچ چکے تھے۔ ہوٹل کی ریسپشن پر دو خوبصورت خواتین نے ہمیں ویلکم کرکے آدھی تھکاوٹ کا بوجھ کم کردیا اور پھر خانہ پری کرکے کمرے کی چابی دیتے ہوئے کہا کہ 6:30 سے 10:30 تک ناشتہ ہوتا ہے، اسلئے وقت کا خیال رکھیں۔ہم سب لوگ کمروں میں گئے، الارم لگائے اور یہ جا وہ جا، سب سوگئے۔ 10:00 بجے جب نیچے اتراتو پانچ منٹ کے وقفے سے تقریباً تمام شرکاء حال میں پہنچ چکے تھے۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعارف خوش گپیوں اور ناشتہ میں کافی سارا وقت گزر گیا۔باہر گرمی سخت تھی اور ناشتہ کرنے کے بعد غنودگی دوبارہ آنے لگی۔ناشتہ میں جو فروٹ رکھا گیا تھا خصوصاً خوبانی، آڑو اور چیری وہ نہایت ہی لذیذ تھیں۔مگر اپنی روایت کوقائم رکھتے ہوئے آملیٹ بنوایا، تاہم پراٹھے کی کمی بری طرح محسوس ہوئی۔ہم سادہ بندے ڈبل روٹی اور بند کے ساتھ جتنا بھی کھالیں، تشنگی برقرار رہتی ہے۔وہاں کا ہدوانہ (تربوز) بھی بڑا ہی لذیذ اوربہت کم تخم والا تھا۔ کھانا تو ہم کھاتے ہی رہتے ہیں، فروٹ جی بھر کے کھایا۔
میں اردگرد ماحول دیکھنے باہر نکل گیا، گرمی تو تھی مگر کشادہ اور صاف ستھری سڑکیں، منظم طرز زندگی، خوبصورت اور ترتیب وار عمارات دیکھ کر دل خوش ہوگیا۔ہر دکان دکان کے اندر تھی،وسیع احاطہ ہونے کے باوجود باہر قبضہ نہیں تھا۔ ہر دکان پر پلاسٹک کا پردہ لگا تھا۔ایک عمارت پر خوبصورت نقش و نگار تھے تو دوسری عمارت کے باہر پتھروں کو مختلف رنگ دیکر ایک خوبصورت نظارہ فراہم کیا گیا تھا۔ دو نوجوان بیٹھے خوش گپیاں کررہے تھے، میں نے پوچھا کسی کو انگریزی آتی ہے؟ ایک نے نفی میں سر ہلایا دوسرے نے کہا، لٹل لٹل۔میں نے پوچھا، کوئی شاپنگ مال قریب ہے،اس نے کہا کہ نہیں، یہاں شاپنگ مال بہت ہی کم ہیں۔ بہر حال اس نے اپنی بساط کے مطابق ایک بڑی دکان کا بتا دیا جہاں پر ریڈی میڈ کپڑے اور شرٹس وغیرہ تھیں۔ سڑک پر آتے جاتے خواتین کو دیکھا، اللہ نے بہت ہی حسن دیا ہے بہت ہی خوبصورت عورتیں، ان کا لباس گھاگھرا، دوپٹہ وہ صرف سر پر باندھتی ہیں اور اپنے حسن کے جلوے بکھیرتی نظر آتی ہیں۔ گھاگھرا یا میکسی ان کا قومی لباس ہے۔ہر عمر کی خاتون نے وہی پہنا ہوا تھا اور اچھا بھی لگ رہا تھا اور یہ تاثر بھی دے رہا تھا کہ یہ یہاں کا قومی لباس ہے۔
مجھے یاد آیا کہ کبھی ہمارے ہاں بھی شلوار قمیض اور دوپٹہ قومی لباس تھا۔اب صورت حال یہ ہے کہ جو مرد کسی زمانے میں سردی اور جوڑوں کے درد سے بچنے کے لئے شلوار کے اندر ٹائیٹ پہنتے اور اس پر بھی شرماتے تھے، اب وہی ٹائیٹس عورتیں پہن کر فخر سے گھومتی ہیں۔دوپٹہ کافی حد تک آؤٹ ڈیٹیڈ ہو چکا ہے اور جن دکانوں پر پہلے تین کپڑوں پر مشتمل کپڑے دستیاب ہوتے تھے اب وہاں صرف کُرتے لٹکے نظر آتے ہیں، جو کہ شاید کچھ عرصہ بعد پاکستان میں بھی ون پیس لباس میں خواتین گھومتی نظر آئیں اور ان کے ساتھ چلنے والے مرد گردن اکڑ کر چل رہے ہوں۔بہر حال ذکر ہورہاتھا دوشنبہ کا جس کا مطلب ہے ”پیر کا دن“شاید یہ ملک پیر کے دن قائم ہواتھایا کوئی اور تاریخ ہو۔ یہ ایک اسلامی ملک ہے جہاں اسلامی نظام ہے، مسلمان ملک ہے مگر چونکہ بہت عرصہ روس کے زیر تسلط رہا ہے اسلئے ان کا اثر قائم ہے، زبان فارسی ہے اور رکھ رکھاؤ اور ملنساری کا عنصر ہے، آتے جاتے ایک دوسرے کو سلام دعا کرتے ہیں۔ میں نے گھومتے گھماتے ایک خوبصورت عمارت سے نکلنے والے ایک نوجوان سے پوچھا کہ کرنسی کہاں تبدیل کی جا سکتی ہے؟ اس نے اپنی لٹل لٹل انگریزی میں مجھ سے کہا کہ میرے ساتھ چلو، ایک بلڈنگ جو کہ میرے ہوٹل کے بالکل ساتھ تھی وہاں اشارہ کیا کہ یہاں اندر چلے جاؤ۔جب میں اندر گیا تو پریشان ہو گیا۔ اندر NBP اور اسکے آگے رشین زبان میں کچھ لکھا تھا۔ عملہ بھی سارا مقامی تھا مگر لوگو (Logo) نیشنل بینک آف پاکستان کا تھا۔میں نے کرنسی تبدیل کی اور اس سے پوچھا کہ یہ نیشنل بینک ہے؟ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو میری خوشی کی انتہاء نہیں رہی کہ میں تاجکستان میں بھی نیشنل بینک آف پاکستان میں تھا۔میں نے گارڈ سے پوچھا کہ یہاں کوئی پاکستانی بھی ہے، توکہنے لگا ”رئیس پاکستانی است“ یعنی منیجر پاکستانی ہے۔ میں جب ان کے کمرے کی طرف بڑھا تو شاید انہوں نے بھی دیکھ لیا آگے بڑھ کر ملے اور بہت خوشی کا اظہار کیا۔ان کے ساتھ چند لمحے گزارے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق لاہور سے ہے، وہ گزشتہ دو سال سے یہاں ہیں۔ ان کے مطابق نہایت پر امن علاقہ اور بہترین لوگ ہیں۔ ان کے مطابق تاجکستان روس سے آزاد ہونے والی وسطی ایشیائی ریاستوں میں سب سے غریب ملک ہے،مگر اس کے باوجود اس کی کرنسی اتنی مستحکم تھی کہ ان کا ایک روپیہ ہمارے تقریباًبارہ روپے کے برابر تھا۔ آبادی کم، وسائل میں صرف ہائیڈرل پاور اور معدنیات ریزرو بہت کم، درآمدات ذیادہ اور بر آمدات کم ہونے کی وجہ سے ترقی کی شرح کم ہے۔60 فیصد علاقہ پہاڑوں پر مشتمل ہے۔انڈے تک برآمد کرنے پڑتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صرف ایک معیاری انٹر نیشنل اسکول ہے جہاں ہمارے بچوں کو تعلیم کے مواقع حاصل ہیں۔ پاکستان سے بھی اساتذہ آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں چھوٹی سی ایمبسی ہے اور سفیر صاحب بہت اچھے انسان ہیں۔اگر آپ ملنا چاہیں تو وہ بہت خوش ہوں گے مگر میرے پاس وقت کی کمی تھی اسلئے نہ مل سکا۔
شام کو ہمارے دوست ضیاء اعوان نے قریب ہی ایک شاپنگ پلازہ کا پتہ لگایا اور ہم تینوں پاکستانیوں کے علاوہ دو افغانی شرکاء خواتین کے ساتھ ہم شاپنگ پلازہ گئے۔ہم تھوڑی دیر ہی گھومے تھے کہ اعلان ہونا شروع ہوگیا کہ مارکیٹ بند ہونے والی ہے۔یہاں دکانات اور مارکیٹوں کے اوقات ہیں۔ شہر سے پندرہ بیس کلو میٹر دور کاروان کے نام سے بڑی مارکیٹ کا بتایا گیا،مگر اسکی ٹائمنگ بھی5 بجے تک ہی بتائی گئی۔لہذا وہاں جانے کا پروگرام نہ بن سکا۔ صدبرگ مارکیٹ کا وقت 6 بجے، کچھ کا 8،کچھ کا 9 اور آخری وقت 10 بجے کا تھا۔ہم پاکستان کے عادی جہاں نہ مارکیٹیں کھلنے کا وقت اور نہ بند ہونے کا وقت۔ ہمیں یہ چیزیں کہاں ہضم ہوتی ہیں۔
22 تاریخ کو ہماری کانفرنس تھی۔صبح 9 بجے کانفرنس شروع ہوئی۔ حروف تہجی کے حساب سے پہلے افغانستان کی این جی اوز نے اپنی نگارشات پیش کیں پھر پاکستان اور اسی طرح دوسرے ممالک بھی۔ایک دن میں کل 27 پریزنٹیشن پیش کی گئیں جسمیں سوالات، جوابات اور تبصرے بھی شامل تھے۔شام کو لیٹ فارغ ہوئے اور باہر نکلے تو ایک مارکیٹ میں افغانی نان نظر آئے۔ چہروں پر ہشاشیت دوڑ گئی، نان لیکر کھائے تو مزہ آگیا۔ضیاء اعوان اپنے گھر سے مزیدار سالن،چپس، سینڈوچ اور نہ جانے کیا کیا چیزیں لائے تھے۔وہ کھانے کے شوقین نہیں ہیں کھلانے کے شوقین ہیں۔دوبئی ایئر پورٹ سے لیکر دوشنبہ تک انہوں نے اپنی عنایات جاری رکھیں اور ہم اپنی بھابی کی گھر ہستی کی داد دیتے رہے۔
ضیاء اعوان کے ساتھ میرا تعلق 1984 کا ہے، جب میں نے کراچی میں ایل ایل ایم میں داخلہ پریکٹس شروع کی تھی، ہماری دوستی ہوئی۔ ان کے پاس ایک پرانی کار ہوتی تھی اور ہم گھوما کرتے تھے۔ بہت خوبصورت پرانی یادیں ہیں۔ لکھتا اسلئے نہیں ہوں کہ اب وہ بڑا آدمی ہے البتہ وہ کل بھی ایک سادہ لوح انسان تھا اور آج بھی وہ سادہ بندہ ہے۔اسکو ضیاء جان کہہ دیں وہ جان حاضر کر دیتا ہے۔ 1984 کے بعد ہمیں کچھ دن اکٹھے گزارنے کا موقع ملا اور یہ دن زندگی کے یادگار دنوں میں شمار ہوں گے۔ مس سعدیہ شکل سے پروفیسر لگتی تھیں، ہم بڑے ادب کے ساتھ ان سے گفتگو کررہے تھے مگر وہ ایک انتہائی نفیس اور مرنجاں مرنج طبیعت کی حامل خوش گفتار خاتون نکلیں۔ ہم جب شام کو اکٹھے پیزہ کھا رہے تھے تو انہوں نے تاجکستان کی عورتوں کی خوبصورتی کی بہت تعریف کی۔اب آپ یہ دیکھ لیں کہ اگر کوئی عورت کسی کی تعریف کرتی ہے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہاں کی عورتیں واقعی بہت خوبصورت تھیں۔ مرد بھی بہت وجہہ اور خوبصورت تھے۔ہم نے سوچا کہ چلو اگلے دو دن ایسی ہی خوبصورت عورتوں کی معیت میں اچھے گزریں گے۔صبح جب ہم نے حاضرین کو دیکھا تو مستنصر حسین تارڑیاد آگئے، انہوں نے ایک بار اپنے ایک مزاحیہ پروگرام میں کہا تھا کہ ”گوریاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں مگر پاکستانیوں کو داد دینی پڑتی ہے کہ وہ ایسی گوری ڈھونڈ کے لاتے ہیں کہ آدمی کا دل منہ کو آتا ہے“۔ بس ہمارے منتظمین نے بھی ہمارے ساتھ کچھ ایسا ہی سلوک کیا۔ زندگی کی آخری سانسوں میں تاجکستان دیکھنے والی تمام عمر رسیدہ خواتین کو جمع کرکے کانفرنس میں بٹھا کر ہمارے ارمانوں کا قتل عام کیا۔میں نے مس سعدیہ سے گلہ کیا کہ اگر وہ تعریف نہ کرتیں تو شاید ہمارے ساتھ یہ سلوک نہ ہوتا، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تمام آنٹیوں نے بہترین پریزنٹیشن دیں اور بڑی دلجمعی سے حصہ لیا۔ویسے بھی عمر کے اس حصہ میں ان کی دلجمعی بنتی تھی۔
کانفرنس میں اس بات پر اتفاق تھا کہ انسانی تجارت ایک مکروہ فعل ہے جسمیں لوگوں کو سہانے خواب دکھا کر باہر لے جایا جاتا ہے اور پھر وہاں وہ انتہائی بھیانک واقعات سے دوچار ہوتے ہیں۔خواتین کو انسانی ہوس کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔انسانی تجارت کے روک تھام میں مشکلات اسلئے ہیں کہ لوگ اپنی مرضی سے جاتے ہیں۔ غربت، بے روزگاری اور دوسروں سے مقابلہ بازی کی وجہ سے بہتر مستقبل کے لئے لوگ باہر جانے کا خواب دیکھتے ہیں،مگر جب باہر جاتے ہیں تو پھر ساری زندگی روتے رہتے ہیں۔پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق سال 2016 میں تقریباً سات سو نوے ملین ڈالر انسانی تجارت کے ذریعے کمایا گیا۔کزشتہ ماہ کے شمارے میں کوئٹہ رپورٹ میں بھی اس کا تذکرہ موجود تھا۔
آئی او ایم افغانستان کی مس مینا جو کہ اس تمام پروگرام کی روح رواں تھیں نے اپنے ابتدائی کلمات میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر ہال میں موجود تمام آرگنائزیشنز آپس میں باہمی ربط کے زریعے مشترکہ کوشش کریں تو کافی حد تک بہتری آسکتی ہے۔چنانچہ پانچوں ملکوں سے ایک ایک فوکل پرسن لیا گیا۔ ضیاء اعوان صاحب پاکستان کی نمائندگی کے لئے منتخب کئے گئے۔وہ ہال میں موجود تمام شرکاء سے ذیادہ عرصہ سے انسانی تجارت پر کام کرنے والے شخص تھے، جو انسانی تجارت سے متعلق ایک اتھارٹی کا مقام رکھتے ہیں۔تمام شرکاء ان کے تجزیے سے مستفید ہوئے۔مینا نے اگلی کانفرنس گورنمنٹ آفیسرز کے لئے رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ سلسلہ آیہ او ایم کے تمام ریجنل دفاترکے ذریعے آگے بڑھانے کا پروگرام رکھتی ہیں۔ہم امید رکھتے ہیں کہ آئی او ایم آفس اسلام آباد بھی کچھ اسی طرح کی کاوشوں کا آغاز کرے گا جسکے لئے ہم تینوں آرگنائزیشنز ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہیں۔
گزشتہ شام کے اوقات میں مارکیٹ گھومتے ہوئے ہم نے پیزا کھانے کا پروگرام بنایا، ایک پیزا شاپ پر بیٹھے، اس نے جس خوبصورتی سے پیزا کی روٹی اچھال اچھال کر تیار کی سب نے انجوائے کیا۔ضیاء اعوان اس کی فلم بنانے لگا تو اس نے کہا، صبر کریں، پھر اس نے دوسری روٹی تیار کی اور بہت ماہرانہ طریقے سے ہوا میں اچھال اچھال کر تیاری کے لئے رکھا۔ان خوبصورت لمحوں کو انہوں نے فلمبند کرلیا۔
صد برگ مارکیٹ کا دورہ اچھا رہا۔وہاں ایک بہت بڑی مارکیٹ تھی جسمیں خواتین و مرد دکانداری کررہے تھے۔ہم نے کچھ شاپنگ کی۔ مارکیٹ کے باہر ایک سٹریٹ پر صرف خواتین کا بازار تھا جسمیں خواتین انڈے، روٹی، دودھ، فروٹ اور دیگر اشیاء فروخت کررہی تھیں چنانچہ شام قریب تھی اور روزہ تھا اس لئے ہماری نسبت وہاں رش کم تھا۔ دو دن کانفرنس رہی۔ کانفرنس کے بعد ہم تھوڑا بہت ہی گھوم سکے۔ تمام شرکاء کا خیال تھا کہ اگر رمضان نہ ہوتا اور عید اتنے قریب نہ ہوتی تو ہم ضرور ایک آدھ دن وہاں گزار کر انجوائے کرتے،کیونکہ وہاں پر اللہ کی تمام نعمتیں میسر تھیں۔
ملک سے باہر جانا ہمیشہ سیکھنے کا ایک عمل ہوتا ہے۔ ہم جب بھی باہر جاتے ہیں تو قدرتی طور پر اپنے ملک سے موازنہ کرتے ہیں۔اگر وہاں کوئی اچھی چیز نظر آئے تو اپنے ملک میں نہ ہونے پر افسوس کرتے ہیں اور اگر آجائے تو خوش ہو جاتے ہیں۔ ہم صبح جب دوشنبہ ایئر پورٹ پر چیک ان کررہے تھے تو ذیادہ رش نہیں تھا۔اسکے باوجود ہم اٹھارہ/ بیس لوگوں کی کلیئرنس میں تقریباً سوا گھنٹہ لگا۔کسی کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا۔جبکہ اسلام آباد ایئر پورٹ پر آدھے گھنٹے میں 200 لوگ کلیئر ہوئے، اسکے باوجود ناخوش ہیں۔
دنیا بھر کے ایئر پورٹس پر واک تھرو گیٹ سے گزرتے ہوئے اگر کوئی آواز نہ آئے تو چیکنگ نہیں کرتے، جبکہ ہمارے ایئر پورٹ پر ضرور کرتے ہیں۔ میں نے پوچھا بھی کہ بھئی آواز تو نہیں آئی پھر بھی آپ جسمانی تلاشی کیوں لے رہے ہو۔تو موصوف نے بہت اچھا جواب دیا کہ ہمیں اپنی مشینوں پر اعتماد نہیں ہے۔ میں نے کہا،نہیں بھائی، تمھیں اپنے آپ پر بلکہ ہم سب پاکستانیوں کو کسی پر بھی اعتماد نہیں ہے۔اعتماد کا یہ فقدان ہماری قومی بیماری ہے۔
ہماری واپسی کا شیڈول بہت تھکا دینے والا تھا۔ ہم رات 4 بجے وہاں سے روانہ ہوئے اور سات بجے دبئی پہنچے۔دبئی سے ضیاء اعوان تو دو گھنٹے بعد کراچی روانہ ہوگئے۔میں اور مس سعدیہ ایئر پورٹ پر ہی رہے۔فلائٹ کا وقت ساڑھے چار بجے تھا لیکن6 بجے تک Delay کے بعد ہم روانہ ہوئے۔ دبئی ایئر پورٹ جو پہلے بہت وسیع و عریض تھا اب سکڑ کر بہت چھوٹا رہ گیا ہے۔ ڈیوٹی فری کو کم کردیا گیا،وہاں ہوٹل بنا دیا گیا۔ٹرمینل بھی دو کردیئے گئے ہیں۔ وہاں جو پہلے مزہ آتا تھا اب نہیں آیا۔بڑی مشکل سے وقت گزرا۔میں نے کوشش کی کہ اگر ویزہ مل جائے تو کچھ وقت باہر گزار لوں۔ میرے کزن باسط علی شاہ جو کہ دبئی میں رہتے ہیں وہ ایئر پورٹ پر آئے بھی تھے مگر انہوں نے کہا کہ ویزہ فیس ڈیڑھ سو ڈالر تقریباً سولہ ہزار روپے ہے اور اس کے بعد انٹرویو دینا ہوگا اور اگر اسکی مرضی ہوئی تو اجازت دے گا ورنہ نہیں۔ مرحبا سینٹر پر بیٹھا تو نوجوان پاکستانی تھا، اس نے ساتھ یہ بھی کہا کہ پاکستانیوں کو اجازت کم ہی ملتی ہے۔ میں نے کہا کہ یا پیسے لیں یا انٹر ویو، چنانچہ وہ پروگرام بھی کینسل کردیا اور یوں ہم اپنا پانچ روزہ دورہ ختم کرکے رات 10 بجے اسلام آباد پہنچے۔یہاں میں عوام کی اطلاع کے لئے یہ ضرور لکھوں گا کہ پہلے ڈیوٹی فری شاپ سے جتنا سامان لاتے تھے وہ فری ہوتا تھا اب 10 کلو سے ذیادہ ہینڈ کیری نہیں کر سکتے۔ جس کی نفارمیشن ایئر پورٹ پر نہیں دی جاتی مگر جہاز پر چڑھتے وقت چیک کرکے 100 درہم وصول کئے جاتے ہیں، اسلئے جو بھی دوست و احباب دبئی جائیں وہ اس بات کا خیال رکھیں کہ ہینڈ کیری دس کلو سے ذیادہ نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں