سفرنامہ نیپال

سفرنامہ نیپال


گزشتہ ماہ قدرتی آفات سے متعلق ایک بین الاقوامی نیٹ ورک GNDR نے نیپال کی ایک مقامی تنظیم NEST کے ساتھ مل کر نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جسمیں شرکت کیلئے دعوت ملی، چونکہ میں نے انڈیا اور سری لنکا کا دورہ کیا ہوا ہے جبکہ ایشیا پیسفک ریفیوجی رائٹس نیٹ ورک بنکاک کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہے جسمیں اکثر نیپال کی مختلف تنظیموں کے لوگوں سے رابطہ اور تعلق رہتا ہے،اسلئے خواہش تھی کہ کبھی نیپال جا کر نیپال بھی دیکھا جائے اور وہاں کے حالات سے بھی آگاہی ہو۔ چنانچہ جب نیپال کی دعوت ملی تو بہت خوشی ہوئی اور18 دسمبر کو اتحاد ایئر ویز کے ذریعے اسلام آباد سے ابوظہبی اور ابو ظہبی سے ساڑھے تین گھنٹے کی فلائٹ سے کھٹمنڈو پہنچے۔چونکہ دن ڈھائی بجے کا وقت تھا، آسمان صاف تھا اور میری سیٹ کھڑکی کے ساتھ تھی اسلئے سمندر سے گزرتے ہوئے نیپال کی حدود میں داخل ہوئے اور وہاں سے فضائی نظارہ کرنے کا پورا موقع ملا۔
نیپال کی وجہ شہرت میں سر فہرست دنیا کی سب سے بلند پہاڑی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ کے بعد دوسری بڑی چوٹی K2 ہے جو کہ پاکستان میں ہے۔ اسکے بعد اگلے دس نمبر تک بلند ترین پہاڑبھی نیپال میں ہیں۔ چین اور بھارت کی سرحدوں پر واقع یہ ملک 1768 تا 2008 تک بادشاہت کے زیر اثر تھا۔ 2008 میں آخری ہندو بادشاہت کا خاتمہ نیپال میں ہوا۔ بدھ مذہب کے بانی گوتم بدھ کی پیدائش بھی نیپال کے جنوب میں ہوئی۔ نیپال کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کبھی کسی ملک کی کالونی نہیں رہا بلکہ چین اور انڈیا کے درمیان ایک بفر اسٹیٹ کے طور پر قائم رہا۔ یہاں پر تمام مسلک کے عوام آپسمیں پیار محبت کے ساتھ رہتے ہیں۔
نیپال میں 7 صوبے ہیں اور 77 اضلاع ہیں۔ انتہائی زرخیز زمین اور بلند و بالا پہاڑوں کی وجہ سے یہ ملک دنیا بھر کے سیاحوں کیلئے جنت نظیر آماجگاہ ہے جہاں سیکیورٹی، امن اور کم مہنگائی کی بدولت دنیا بھر سے سیاح نیپال کی طرف اُمڈے چلے آتے ہیں۔ نیپال نے 2015 میں اپنا آئین بنایا اور آئین کے مطابق نیپال اسمبلی کی 275 نشستیں ہیں جن میں سے 165 براہِ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہیں جبکہ 110 ممبران بذریعہ پارٹی نمائندگی آتے ہیں۔
کھٹمنڈو ایئر پورٹ اونچائی پر واقع ہے، وہاں اُترتے ہوئے ایک خوبصورت نظارہ دیکھنے کو ملا۔تما شہر ایئر پورٹ سے گہرائی میں پیالے کی طرح نظر آیا۔ ایئر پورٹ پہنچے اور جہاز سے اُترکر لاؤنچ میں جاتے ہوئے سرخ اینٹوں کی دلکش عمارت کے اندر داخل ہوئے۔دوسرے ملکوں کی طرح غیر ضروری آرائش کی بجائے سادگی اور ضروریات کو مدنظر رکھ کرعمارت ترتیب دی گئی جس کی توسیع کا کام جاری ہے جس سے ثابت ہورہا تھا کہ ایئر پورٹ کی وسعت اور مزید سہولیات پر توجہ دی جارہی ہے۔ تمام ایئر پورٹس پر ہمیشہ سیکیورٹی چیکنگ اور امیگریشن پر
غیر ضروری وقت ضائع کیا جاتا ہے لیکن کھٹمنڈو میں یہ صورت حال نہیں تھی۔ انتہائی بردبار اور ذمہ دار قسم کی شخصیت امیگریشن کاؤنٹر پر موجود تھی اور ایک منٹ کے اندر فارغ کرکے کسی حد تک حیران کردیا۔کیونکہ اکثر انتہائی جدید ایئر پورٹس پر بھی اتنی اچھی سروس نہیں ملتی۔بہر حال جب اندر گیا تو سامان آنے میں کافی دیر تک انتظار کرنا پڑا۔ اس دوران میں ایئر پورٹ کا جائزہ بھی لیتا رہا اور لوگوں کی گفتگو بھی سنتا رہا۔ سب سے پہلی اور اچھی بات جو میں نے محسوس کی کہ کوئی آدمی جلدی میں نہیں تھا، کوئی سامان دیر سے آنے پر کسی خفگی کا اظہار نہیں کررہا تھا، کوئی اپنے گھر والوں کا غصہ ایئر پورٹ پر نہیں نکال رہا تھا۔سب خوش باش آپس میں گپ شپ لگا رہے تھے۔ سامان آتا، اُٹھاتے، ایک دوسرے کو اپنے اپنے حساب سے Goodbye کرتے اور چلے جاتے۔دوسری خوشگوار حیرت یہ ہوئی کہ اردو بھی بولی جارہی تھی، انگریزی بھی اور نیپالی بھی، اسلئے کم از کم زبان کے مسئلے سے دوچار ہونے کی پریشانی باقی نہیں رہی کہ لوگ اردو بھی بول لیتے ہیں۔
ایئر پورٹ سے باہر ہوٹل شنگریلا کی گاڑی منتظر پائی۔ ایک نوجوان نے نام کنفرم کرنے کے بعد میرے ہاتھ سے سامان لیا اور مجھے گاڑی تک پہنچا کر کہا کہ سر ہمارے دو اور مہمان بھی اسی فلائٹ سے آرہے ہیں، میں ان کو لیکر آتا ہوں۔ پھر ہوٹل چلیں گے، میں نے کہا ٹھیک ہے۔ میں ذرا کھلی فضاء میں چہل قدمی کر لیتا ہوں کیونکہ صبح 4 بجے سے سفر میں تھا۔تھوڑی دیر میں دو مہمان اور بھی آگئے۔ تعارف پر پتہ چلا کہ دونوں GNDR کے عہدیداران ہیں جو کہ لندن سے آئے ہیں۔ایک مسٹر روہیت اور دوسرے مسٹر کورڈیروتھے۔ ہوٹل پہنچتے پہنچتے ان سے کافی حد تک بے تکلفی ہوئی۔ دونوں بہت ہی زندہ دل اور اپنے شعبے کے ماہرین تھے۔روہیت نے تو آخری دن میوزک پروگرام میں بہت ہی خوبصورت آواز میں نغمے سنا کر سب کو حیرت ذدہ کردیا، بہت خوبصورت آواز اور بہت ہی خوبصورت انداز تھا۔
گاڑی میں بیٹھے تو ڈرائیور نے سب سے پہلے خوش آمدید کہا پھر گاڑی کے فرج کا دروازہ کھول کر بتایا کہ پانی پینا ہو تو یہاں رکھا ہوا ہے۔ اسکے بعد ہم ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے۔ایئر پورٹ سے ہوٹل کوئی ذیادہ دور نہیں تھا مگر بے انتہاء ٹریفک کی بدولت ہمیں ہوٹل پہنچنے میں قریباً ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔جب ہم ہوٹل پہنچے تو قریباً شام ہو چکی تھی۔راستے کئی جگہ تنگ اور نا ہموار تھے، کئی جگہ کام ہورہا تھا۔بہر حال جس جگہ ہوٹل تھا لزمپتLAZIMPAT روڈ کھٹمنڈو کا اچھا اور پوش علاقہ تھا۔ اسی روڈ پرسابقہ بادشاہ کا محل، اسی پر آگے جا کر اسکی موجودہ جائے رہائش، سفارتخانے اور اچھے ہوٹل تھے۔شنگریلا اچھا ہوٹل تھا چیک ان کرنے کے بعد سامان وغیرہ رکھ کر باہر نکلا اور ایک لمبی واک کی۔سڑک کے دونوں اطراف دکانیں تھیں اور اگلے ایام میں یہ دیکھ کر تو میں بہت حیران ہو ا کہ کھٹمنڈو میں کتنی دکانیں اور بازار ہیں، شاید آبادی سے بھی ذیادہ دکانات ہیں۔ذیادہ تر کاروبار کپڑے اور ٹراؤزرز کا نظر آیا۔
صبح کوئی پروگرام نہیں تھا اسلئے ناشتہ سے فارغ ہو کر اپنی ای میلز اور بہت سا کام جو کافی عرصہ سے پینڈنگ چلا آرہا تھا ختم کیا، اسکے بعد پیدل شہر کی سیاحت کیلئے نکل پڑا۔کھٹمنڈو کوئی ترقی یافتہ شہر نہیں ہے بلکہ ہمارے راولپنڈی کی طرح گنجان آباد اور غیر ترقی یافتہ شہر ہے۔ ذیادہ تر پہاڑی اور ڈھلانوں پر مشتمل ہے۔ لوگ ملنسار ہیں، تعلیم کا معیار کوئی ذیادہ بلند نہیں لیکن ایک نیشنل ایکشن پلان ضرور زیر ترتیب ہے جس کے تحت وژن 2030 ترتیب دیا گیا ہے اور یہ عہد کیا گیا ہے کہ ملک کو ترقی یافتہ کے درجہ پر فائز کرنے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔ سیاسی طور پر نیپال ایک مضبوط اور مربوط نظام کی طرف ابھی بڑھ رہا ہے۔اسکی وجہ یہ ہے کہ 2008 تک وہاں پر بادشاہت رائج رہی۔اب گزشتہ ایک دھائی سے نیپال جمہوری نظام کی طرف گامزن ہوا ہے اور اوائل میں جو مشکلات اور قباحتیں ہو سکتی ہیں وہ موجود ہیں، مگر عوام بالغ نظر ہیں۔ایک ٹیکسی ڈرائیور جس کے ساتھ ہم نے واپسی کا سفر کیا اسکو تاریخ جغرافیہ اور شہریت پر پورا عبور تھا، انتہائی نفیس نوجوان نے راستے میں بتایا کہ کھٹمنڈو کی آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور تقریباً چالیس لاکھ تک پہنچ چکی ہے،پراپرٹی مہنگی ہوتی جارہی ہے،ابھی تک کوئی مضبوط حکومت نہیں آئی، اس چھوٹے سے ملک میں 54 سیاسی پارٹیاں بن چکی ہیں، جو پارٹی سے ناراض ہوتا ہے دوسرے دن اپنی پارٹی بنا لیتا ہے۔ 2008 سے پہلے ایک بادشاہ تھا، اب بادشاہوں کی فوج ہے۔ پہلا بادشاہ بہت اچھا تھا۔ لوگ ابھی تک اسکو یاد کرتے ہیں، اسکے قتل کے بعد جو بادشاہ آیا اس سے لوگ خوش نہیں تھے، مگر پھر بھی وہ ایک بادشاہ تھا، مگر یہ ہے کہ اب عوام کو بات کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اپنے حق کیلئے آواز اُٹھا سکتا ہے۔ الیکشن ہوئے ہیں جو نئی حکومت بن رہی ہے اس سے بہت ذیادہ توقعات ہیں۔ دیکھیں ہمارا ملک کب ترقی کرتا ہے۔ میں اسکی باتیں سُن رہا تھا اور میرا دماغ یہ سوچ رہا تھا کہ حکمران اپنی سوچ رکھتے ہیں، وہ کبھی عوام کی سوچ پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ دنیا کا ہر شہری یہ تمنا رکھتا ہے کہ اسکا ملک ترقی یافتہ ہو، دنیا کا ہر باشندہ اپنی حکومت اور ریاست سے امیدیں باندھ کر رکھتا ہے، مگر دنیا بھر خصوصا جنوبی ایشیا میں حکمران عوام کا جس طرح استحصال کرتے ہیں اس سے ناامیدی اور مایوسی کے سائے پھیلتے ہیں، لوگوں کی صلاحیتیں دب جاتی ہیں اور وہ انسانی سرمایہ جو اپنے ملک اور قوم کی تعمیر و ترقی کیلئے استعمال ہو سکتا ہے وہ ضائع ہو جاتا ہے اور قوموں نے ترقی کے جس مقام پر پہنچنا ہوتا ہے، چند لوگوں کی کوتاہ اندیشی کی نذر ہو جاتا ہے۔
بات ہورہی تھی عوام کی بالغ نظری کی، اخبارات میں خبریں چھپ رہی تھیں کہ نئی حکومت کو یہ مسائل ہیں، حکومت بننا مشکل ہے اور عجیب و غریب کہانیاں چل رہی تھیں، مگر عوام مطمئن تھے۔ جس سے بھی بات ہوئی، سب نے میڈیا رپورٹس کو غلط کہا اور کسی نے بھی اخباروں میں روزانہ چھپنے والی کہانیوں کی نہ تصدیق کی اور نہ ہی اعتبار۔ یہ میڈیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ عوام کا ان پر اعتماد نہیں اور یہ صرف نیپال کی بات نہیں ہے بلکہ پورے خطہ بشمول پاکستان Ethical Journalism کا وجود کہیں نہیں ہے۔سارا دن سڑکوں پر گھومتا، لوگوں سے باتیں کرتا اور مارکیٹوں اور بازاروں کی سیر کرتے ہوئے پتہ ہی نہیں چلا کہ اتنی دیر ہوگئی ہے۔ہوٹل واپس آیا تو معلوم ہوا کہ کافی لوگ آچکے ہیں اور شام کو ویلکم ڈنر پر سب اکٹھے ہوں گے۔چنانچہ شام کے ڈنر کیلئے تیاری کی اور سات بجے نیچے آیا تو بہت سے ساتھیوں سے ملاقات ہوئی۔ NEST کے عہدیداران،GNDR کے رؤف بھائی جن کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور وہ ایشیا کے کو آرڈنیٹر ہیں، پاکستان سے جناب فلک نواز صاحب سے ملاقات ہوئی اور میں افسوس کرتا ہوں کہ اتنا عرصہ اتنے نفیس انسان سے ملاقات کا شرف حاصل کیوں نہیں ہوا۔انتہائی قابل اور ملنسار شخصیت کے حامل فلک نواز صاحب نے اپنے علمی اور فیلڈ کے تجربے کے ساتھ تمام شرکاء میں اپنی دھاک بٹھائی۔ سیف اللہ چنا جو کہ سندھ سے تعلق رکھتے ہیں اور کوریا میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اس کانفرنس کیلئے کوریا سے آئے۔ ہنستے مسکراتے مختصر سے سیف اللہ چنا گوں نا گوں صلاحیتوں کے حامل شخص پائے گئے، ان کے تعلقات اور دوستیوں کا دائرہ نیپال میں پھیلا ہوا تھا اسلئے ذیادہ تر نجی مصروفیات میں ہی مصروف رہے۔ اس کے علاوہ افغانستان سے آنے والے دو دوستوں جناب ہدایت اللہ وحدت اور ڈاکٹر نصیر بابر خیل جن کا بہت سا وقت پاکستان میں گزرا، وہ پشاور تا ٹل ہر جگہ ہر مقام کے بارے میں ہم سے ذیادہ معلومات رکھتے ہیں،وہ پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھتے رہے اور مسکل وقت میں انکو اور ان کے کاندان کو پناہ دینے اور کسی قابل بنانے میں پاکستان اور پاکستانیوں کے کردار کے دل کی گہرائیوں سے مشکور تھے، ان سے ملاقات اور تعارف بہت اچھا لگا، نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا، دونوں با صلاحیت شرکاء نے اپنے علم اور تجربے سے خوب دھاک بٹھائی۔ ان سے ملاقات نہایت خوشگوار رہی۔ نیپال کے مسٹر رانجن بہت ہی اچھے دوست بنے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش سے قاضی بے بی، آپا اور فرح کبیر جو کہ ایکشن ایڈ بنگلہ دیش کی سربراہ ہیں کے علاوہ دیگر لوگوں کے ساتھ آنے والے دن بہت ہی زبردست گزرے۔
پہلے د ن جو کھانا تھا اسمیں صرف ایک دوسرے سے تعارف ہوا۔ کھانے کے بعد واک کیلئے باہر نکلا تو ایک نوجوان ہوٹل کے گیٹ میں ملا۔ ھیلو ہائے کے بعد پوچھا آپ انڈین ہو؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا کیونکہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ نیپال میں انڈیا کا بہت عمل دخل ہے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی نہیں ہے اسلئے احتیاط رکھنی ہے اور جانے سے قبل پاکستان ایمبسی کو آگاہ بھی کردینا ہے کہ آپ کب سے کب تک نیپال میں رہو گے جو کہ میں نے دعوت نامہ آتے ہی نہ صرف اطلاع کردی بلکہ ملاقات کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جسکے جواب میں ایمبسی کی طرف سے 22 دسمبر کو ملاقات کا وقت بھی دیا گیا، اسلئے احتیاط کے طور پر میں نے اپنی شناخت سے گریز کیا، بہر حال نوجوان نے مجھ سے پوچھا کہ جناب مساج وغیرہ کرانا ہے، کہ نہیں، میں نے کہا کہ نیکی اور پوچھ پوچھ، کہنے لگا وہ سامنے موڑ پر سنٹر ہے، کوئین کلب کے قریب، آپ چلیں وہاں بار بھی ہے، لاؤنج بھی ہے اور مساج بھی ہے۔ میرا ماتھا ٹھنکا کہ مساج کے ساتھ بار اور ڈانس کا کیا تعلق ہے، میں نے اس کے بے حد اصرار کے باوجود اسکو ٹال دیا اور واپس ہوٹل آگیا۔
اگلے روز منتظمین نے زلزلہ سے متاثرہ علاقے کادورہ اور وہاں پر جاری کاموں بارے میں آگاہی کیلئے فیلڈ وزٹ کا اہتمام کیا تھا۔ہم کھٹمنڈو سے بذریعہ بس ضلع نواکوٹ گئے جو کہ ہمارے لئے ایک ایڈونچرس سفر تھا۔ ایک تو مکمل پہاڑی روڈ، اوپر سے روڈ نام کی کوئی چیز نہیں، تیسرا ڈرائیور نیا۔ سارا سفر خواتین مسافروں کی چیخ و پکار میں گزرا۔ نواکوٹ کا علاقہ کھٹنڈو سے ذیادہ دور نہیں تھامگر خراب سڑک کی بدولت قریباً چار گھنٹے لگے۔ یہ اور بات ہے کہ جب ہم نیشنل پارک سے گزرتے ہوئے پہاڑ کی دوسری جانب اُترے تو پہاڑوں کے دامن میں اللہ کی کرشمہ سازی کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ہمیں بتایا گیا کہ یہ علاقہ زلزلہ سے بہت متاثر ہوا تھا۔ کہیں کہیں گرے ہوئے مکانات نظر آئے، آگے جاکر ہم کو دکھایا گیا کہ حکومت کی جانب سے ریلیف کیلئے ایک طرف گھروں کی تعمیر کیلئے قریباً نو لاکھ روپے کی امداد دی جارہی ہے تو دوسری جانب ان کیلئے زلزلہ پروف محفوظ گھروں کے نقشوں کے مطابق کام ہورہا ہے۔جسمیں حکومت کی جانب سے باقاعدہ مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔NEST کی جانب سے ہزارہا مکانات کی تعمیر ہورہی ہے اورحکومت کی جانب سے نگرانی کا عمل بھی مؤثر طور پر ہورہا ہے۔NEST کی ٹیم میں انجینئرز کی پوری ٹیم کام کررہی ہے اور جب ہم موقع پر پہنچے تو حکومت کی مانیٹرنگ ٹیم بھی موجود تھی جنہوں نے ہمیں بتایا کہ جو مستری یہاں کام کررہے ہیں ان کو باقاعدہ تربیت دی گئی ہے کہ وہ مکانوں کی تعمیر میں کیا کیا احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اس موقع پر افغانستان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر صاحب نے اعتراض کیا کہ جو مکانات زیر تعمیر ہیں ان کے پلان میں باتھ روم موجود نہیں ہے اور نہ ہی کچن موجود ہے، جوکہ دونوں بنیادی ضروریات ہیں۔کچن کی ضرورت تو پھر بھی پوری کی جا سکتی ہے مگر باتھ روم کا نہ ہونا حیران کن ہے۔اس بات کی تمام لوگوں نے تائید کی اور نشاندہی پر شکریہ بھی ادا کیا مگر NEST والوں نے بتایا کہ دراصل یہاں پر اجتماعی باتھ روم بنایا جاتا ہے جو کہ گھر سے فاصلہ پر ہوتا ہے تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ اس پلان میں باتھ روم کیلئے رقم مختص نہیں ہے اسلئے ہر بندہ اپنی ضرورت کے مطابق اپنی مرضی سے بنا سکتا ہے۔
لنچ ہمیں بولیو آفس میں کرایا گیا جو کہ ہوٹل شنگریلا سے ہی ڈبوں میں پیک کرایا گیا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اتنا پیشہ خرچ کرکے ٹھنڈا کھانا دینے کی بجائے یہی پیسے کسی مقامی ہوٹل کو دیکر سادہ سا کھانا بنواتے تو مقامی لوگوں کی بھی مدد ہو جاتی اور تازہ کھانا بھی مل جاتا۔منتظمین نے اگلی بار احتیاط کی یقین دہانی دلائی۔ لنچ کے بعد اسی دشوار گزار راستے پر سفر شروع ہوا جو شاید ایک گھنٹے کا سفر تھا مگر سڑک کی خرابی کی وجہ سے طویل سے طویل ہوتا گیا۔ واپسی میں جب کھٹمنڈو حدود میں داخل ہوا تو اس وقت پانچ بج رہے تھے اور تنگ سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام۔واپسی کے سفر میں رنجن، سواتی اور قاضی بے بی کے گانوں، کوئیز اور شرارتوں سے سفر کا پتہ ہی نہیں چلا۔ایک آدھ بار انڈیا کی بھاری بھرکم سواتی کی چیخیں نکلیں تو نیپالی دوستوں نے ازراہ مذاق کہا کہ یہاں ہیلی کاپٹر کی سہولت موجود ہے آپ فکر نہ کریں فوراً ہسپتال پہنچادی جاؤ گی اور یوں ہنسی مذاق میں ہی سفر گزر گیا۔بہر حال ہوٹل پہنچے تو بتایا گیا کہ آفیشل ڈنر ہے اور ساتھ مقامی ثقافت بھی دکھائی جائے گی۔ہم فریش ہوئے،تیار ہوکر گاڑیوں میں بیٹھ کر گئے تو ہوٹل میں لکھا تھا کہ یہاں Organic فوڈ ہے۔ بہت سے آرگینک فوڈ کی دکانیں بھی نظر آئیں مگر کوئی آرگینک چیز سمجھ میں نہیں آئی۔ ہارک ہوٹل بہت بہت اچھا تھا، اچھا کھانا بمعہ وائین،اچھی سروس اور بہت اچھی آرگینک میوزک پرفارمنس بھی پیش کی گئی۔ تقریباً تین گھنٹے ہوٹل میں رہے۔ مقامی میوزک پر فنکاروں کی پرفارمنس سے لطف اندوز ہو کر واپس ہوٹل آئے تو بس میں کچھ ساتھیوں نے منتظمین سے کہا کہ میوزک شو ثقافتی تھا،کوئی ڈسکو ہوتا تو ذیادہ مزہ آجاتا جس پر منتظمین نے کہا کہ اگلے دن کے الوداعی ڈنر میں وہ کوشش کریں گے کہ میوزک کا اچھا انتظام ہو۔
اگلا دن اِن ہاؤس پروگرام تھا۔ صبح سے شام تک قدرتی آفات اور ان سے نمٹنے کیلئے بہترین حکمت عملی کے حوالے سے شرکاء نے اپنی تجاویز دیں۔ پروگرام اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ شرکاء کی دلچسپی آخر دم تک رہی۔ Advocacy کے طریقہ کار کے حوالے سے بہت ہی اچھی رہنمائی فراہم کی گئی۔
6 بجے کے قریب کبھی ہوٹل شنگریلا کی چھت، کبھی دھوپ،کبھی حال اور کبھی گیلری میں گروپ ورک کے بعد جب فارغ ہوئے تو پتہ چلا کہ کام ختم ہوگیا ہے اور شام کو اب الوداعی کھانا اور میوزک پروگرام ہوگا۔ ہم چائے وغیرہ پی کر باہر نکلے تو ایک صاحب نے کہا کہ چلیں باہر سگریٹ پیتے ہیں، باہر پارکنگ میں آئے تو کرسمس کیلئے ہوٹل کی سجاوٹ ہورہی تھی ہم وہ دیکھنے میں مگن تھے کہ پھر ایک نوجوان آدھمکا، وہی مساج والی کہانی دہرائی، میں نے جان چھڑائی مگر دوسرے صاحب بولے ابھی ایک گھنٹہ ہے چلو جاکر جگہ دیکھتے ہیں، اگر اچھی ہوئی تو کھانے کے بعد چلیں گے، میں اسکے ساتھ چل پڑا، ایک بلڈنگ میں وہ ہمیں اوپر لے گیا، چھوٹا سا ہال تھا جس میں روشنیاں جگمگا رہی تھیں اور میوزک لگا ہوا تھا، انہوں نے ہمیں صوفے پر بٹھایا اور دو ڈھائی ڈھائی چھٹانک کی لڑکیاں بلا کر لے آئے، ہم نے پوچھا کہ جی یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا، کہ یہ ڈانس بھی کریں گی اور مساج بھی، میں نے اسکو کہا خدا کا خوف کرو، یہ بیچاریاں تو کھڑی نہیں ہو سکتی ہیں اور آپ اتنی ذمہ داری ان پر ڈال رہے ہو، اس کے بعد اس بندے نے کہا کہ آپ کو یہاں کوئی نہ کوئی ڈرنک لینی پڑے گی، ہم نے کہا بھائی ہم ڈرنک نہیں کرتے اور دوسرا یہ کہ ہم صرف دیکھنے آئے ہیں اگر جگہ پسند ہوئی تو ہوسکتا ہے ہم اور دوستوں کوبھی ساتھ لیکر آئیں۔ جب ہم اُٹھنے لگے تو وہ لڑکا یکدم بولا کہ ٹھیک ہے یہاں کی انٹری فیس ہے وہ دے دیں، میں نے پوچھا کہ کتنا؟ تو اسنے کہا کہ 100 روپے، میں سو روپے دینے لگا تو دوسرا بولا پانچ ہزار اور اپنے ساتھی سے کہا کہ دروازہ بند کردو، ہم نے ان دھان ہان کے بد معاشوں کو ابھی ایک ہی لگائی کہ بھاگ گئے۔ اس وضاحت کا مقصد یہ ہے کہ وہاں جانے والے ایسے نقالوں سے ہوشیار رہیں،ہم واپس آئے تو ہوٹل میں موسیقی کا پروگرام شروع ہو چکا تھا۔ موسیقی تو اچھی تھی مگر موسیقی والے اچھے نہیں تھے، میں نے ان سے کہا کہ بھئی اس طرح کے کلام ہمارے ملک میں بھی وافر تعداد میں ہیں، کوئی اچھی خوش رنگ گانے والی بلاتے تو ہم بھی تھوڑا شوق سے موسیقی سے مطف اندوز ہوتے، انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں اور ان موسیقاروں کی بجائے گروپ میں گانے اور ناچنے کا مقابلہ شروع کرادیا اور ایسا اودھم مچاکہ شام ڈھل گئی۔ جب ہم باہر نکلے تو ہوٹل کے ملحقہ عمارت میں عوام کی آمدورفت دیکھ کر میں نے پوچھا کہ یہاں کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ کسینو ہے، میں اندر گیا تو استقبالیہ پر مجھ سے پاسپورٹ مانگا، پاسپورٹ دیکھ کر ایک ٹکٹ دیدیا۔ اوپر جا کر پہلی بار کسینودیکھنے کا موقعہ ملا۔ ایک بینک کی طرح کھڑکی میں کچھ لوگ بیٹھے تھے، وہ پیسوں کے عوض Coins دے رہے تھے جن کے ساتھ لوگ جوا کھیل رہے تھے۔خوبصورت لڑکیاں ان کو مائل کررہی تھیں۔ ایک جگہ رُک کر دیکھا تو ایک بندہ فوراً اٹھ گیا کہ بیٹھ جائیں، میں نے شکریہ ادا کیا تو کہنے لگا، میں تو ادھر کا ایکسپرٹ ہوں، میں نے کہا، کہ میں صرف دیکھ رہا ہوں اور گھوم گھام کر دیکھا کہ کس طرح کا نظام ترتیب دیا گیا ہے جہاں لوگ جیبیں بھر بھر کر آتے ہیں اور خوشی خوشی خالی کرکے واپس چلے جاتے ہیں، یہ دیکھ کر واپس کمرے میں چلا گیا۔
22 جون کو پروگرام کے مطابق صبح11 بجے پاکستان ایمبسی پہنچاتو استقبالیہ پر موجود نوجوان نے مجھے کہا کہ آپ سے ملاقات کیلئے تو کل مجھے بتایا گیا تھا، میں نے کہا بھائی پاکستان میں تو آپ کی حالت کا اندازہ مجھے ہے، باہر دنیا میں بھی آپ کا طریقہ وہی ہے، میرے پاس ای میل ہے، آج کی تاریخ اوروقت کی کنفرمیشن ایک ماہ پہلے اور پھر5 دن قبل دوبارہ ہوتی ہے اور آپ کل میرا انتظار کرتے رہے۔ میں اُٹھ کر نکلنے لگا تو اس نے مجھے بٹھایا اور اندر فون کیا۔تھوڑی دیر میں اندر سے بلاوا آگیا، اند رجناب عمرانی صاحب موجودتھے، انہوں نے کہا کہ سفیر پاکستان رخصت پر پاکستان میں ہیں اور میں چارج ڈی افیئرز ہوں۔ جناب عمرانی صاحب بہت ہی اچھے اور فرینڈلی طبعیت کے مالک خوش اخلاق اور خوش گفتار آدمی ثابت ہوئے۔ بڑی دیر ہم نے گپ شپ لگائی، اسی دوران ہمارے کولیگ سیف اللہ چنا بھی وہاں آ پہنچے۔ دونوں سندھی نکلے اور پھر آپسمیں سندھ دھرتی کی زبان میں حال احوال دریافت کرنے کے بعد مقامی حالات، سیاسی حالات اور پاکستانیوں کی نیپال میں حالات و مصروفیات پر تبادلہ خیال ہوا۔ عمرانی صاحب کے بقول نیپال میں ذیادہ مسائل نہیں ہیں، یہ بھی ترقی پذیر ملک ہے، دونوں ممالک کے سیاسی، سماجی اور نعاشی مسائل میں کافی مماثلت ہے۔ یہاں پر عوام اچھے ہیں، اسلئے کوئی بڑا مسئلہ نہیں پایا جاتا ہے۔ ہم جب ہوٹل واپس پہنچے تو معلوم ہوا کہ ہمارے افغانستان کے دوست ہدایت اللہ وحدت صاحب ہوٹل والوں سے ناراض ہو کر لاؤنج میں بیٹھے انتظار کررہے ہیں، ہم پہنچے تو انہوں نے کہا کہ وہ یہاں سے اندرون شہر تھامل ایک اور ہوٹل میں شفٹ کررہے ہیں۔ ہمارا آفیشلStay ختم ہو چکا تھا۔ایک رات کا کرایہ میں نے ایڈوانس جمع کرا دیا تھا مگر ساتھی کی جانب سے اصرار پر میں نے بھی چیک آؤٹ کیا اور ان کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ کر تھامل چلا گیا جو ذیادہ دور تو نہیں تھا البتہ بازار کے اندر ہونے کہ وجہ سے گہما گہمی بہت ذیادہ اور بہت دیر تک رہی۔ کمرے میں سامان رکھا تو سیف اللہ چنا نے بتایا کہ ان کے ایک دوست جو کہ پارلیمینٹرین بھی ہیں اور وزیر بھی وہ چکے ہیں اس کے علاوہ Interfaith پر بھی کام کرتے ہیں ان کو میں نے آپ کا بتایا تھا اور وہ ملنا چاہتے ہیں، چنانچہ میں ان کے ساتھ Mr. Ek Nath Dhakal سے ملنے ان کے آفس گیا، آفس کے باہر جوتے اُتار کر اندر گئے۔ اک ناتھ صاحب سے کافی لمبی چوڑی محفل رہی، وہ پارلیمنٹ کے ممبر اور سابقہ وزیر تھے اور ابھی بھی ریزرو سیٹ سے امیدوار تھے۔ان سے بات چیت علیحدہ پیش کی جائے گی۔ پینے کیلئے گرم پانی سے تواضح کے بعد اتنا مزہ آیا، کہ اب میں نے اپنی عمارت بنائی ہے اور اب بھی جب کہ میں یہ سطور تحریر کررہا ہوں، عمران ایک گرم پانی کا گلاس میرے پاس رکھ گیا ہے۔
واپسی پر جناب ہدایت اللہ صاحب کے ساتھ مارکیٹ اور بازار کا چکر لگایا،تھوڑی بہت شاپنگ کی اس دوران معلوم ہوا کہ اس بازار میں مدینہ ہوٹل بھی ہے جہاں ہر قسم کا حلال کھانہ دستیاب ہے، ہم وہاں پہنچ گئے اور خوب جی بھر کے کھانہ تناول کیا، کھانے کے بعد سیف اللہ نے بھی ہمیں جوائن کرلیا، ہم ایک بار پھر نکلے تو ہدایت اللہ صاحب نے بتایا کہ ساتھ ہی ہوٹل میں فزیو تھراپسٹ ہیں جو تھراپی مساج کرتے ہیں، ہم وہاں گئے تو واقعی صاف ستھرا اور اچھا ماحول تھا۔ ہم اُس وقت گھومنے کے موڈ میں تھے ہم نے کہا کہ ہم 10 بجے آئیں گے۔ ہم بازار میں گئے، نرسنگ چوک میں تمام ڈانس کلب تھے اور نوجوان بھر پور موج مستی میں تھے، ہم دکانوں، ہوٹلوں اور شاپنگ پلازوں سے گھومتے گھماتے جب واپس آئے تو مساج سنٹر بند ہوچکا تھا،دل کے ارماں انسوؤں میں…… گا کر سوگئے۔ صبح جب ناشتہ کیا تو ایک ساتھی سیف اللہ ایئر پورٹ جا چکا تھا، اسکی فلائٹ جلدی تھی، ہم نے ایک بجے جانا تھا، دوسرا ساتھی نہیں آیا،میں اکیلا باہر نکلا، ساتھ والے ہوٹل کی بیسمنٹ میں چیک کیا تو سنٹر کھلا تھا، میں نے مساج کرایا اور واقعی تھراپی تھی، بہت مزہ اور سکون ملا۔ اس کے بعد سوانا اور دیگر سہولیات بھی موجود تھیں مگر میں واپس ہوٹل آگیا، نہا دھو کر تیار ہوا، نیچے آیا تو ہدایت صاحب بھی آگئے تھے، وہیں کافی پی، کچھ فوٹو نکالے۔ ہوٹل کا مالک بہت اچھا آدمی تھا اس نے اپنی ٹوپی دی کہ اسمیں فوٹو لو، جو بہت ہی پسند بھی کیا گیا۔ ہم ہوٹل سے ایئر پورٹ آئے، جہاں پر فلائٹ لیٹ تھی۔ میں خوش تھا کہ یہاں سے فلائٹ لیٹ ہوئی تو ابو ظہبی میں Stay مل جائے گا مگر ساری خوشی اس وقت غارت ہوگئی جب دیر سے پہنچنے کے باوجود ہمیں معلوم ہوا کہ اگلی فلائٹ بھی لیٹ ہے، یوں ہمارے پاس کوئی بہانہ نہیں تھا کہ ہم رُک سکتے لہذا رات پچھلے پہر روانہ ہوئے اور علی الصبح وطن واپس پہنچ گئے۔یوں ذندگی کا ایک اور خوبصورت سفر اختتام کو پہنچا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں