سفر نامہ جنیوا۔ (سوئزرلینڈ)

سفر نامہ جنیوا۔ (سوئزرلینڈ)


جنیوا سوئزرلینڈ کا جنت نظیر خوبصورت شہر ہے، جہاں اقوام متحدہ سمیت تمام بڑے یو این اداروں کے ہیڈ کوارٹر ز کی کثرت ہے۔انتہائی منظم شہر اور مہذب لوگ اس شہر کی پہچان ہیں۔ یہاں پر زندگی ایک منظم انداز میں چلتی ہے، یہاں پر مساوات ہے بھی اور سماج میں نظر بھی آتا ہے۔ دنیا بھر سے لوگ یہاں آتے ہیں اور یہاں کی خوبصورتی آنکھوں میں سمیٹ کر جاتے ہیں۔ مجھے جنیوا جانے کا کئی بار موقع ملا، ہر بار نیا لگا، ہر بار اچھا لگا، ہر بار کچھ سیکھا، ہر بار دوبارہ آنے کے عزم کی خواہش برقرار رہی۔

21،20 مارچ کو دو روزہ انٹر نیشنل کونسل فور والینٹری ایجنسی کی سد سالہ جنرل اسمبلی میں شرکت کی دعوت ملی۔ یہ جنرل اسمبلی اس ادارے کے قریباً 104 ممبران کا اجلاس ہوتا ہے جسمیں ادارے کی مستقبل کی منصوبہ بندی اور ادارے کے ممبران کے الیکشن ہوتے ہیں۔ اسی ضمن میں 19 مارچ کو بذریعہ اتحاد ایئر ویز براستہ ابو ظہبی عازم جنیوا ہوا۔ جنیوا اور پاکستان میں چار گھنٹے کا فرق ہے،وہاں کے مقامی وقت کے مطابق ڈیڑھ بجے پہنچا۔ میرے ساتھ پشاور سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم ایف آر ڈی کے جناب عظمت خان بھی ہمرکاب تھے۔ جنیوا ایئر پورٹ پر امیگریشن کاؤنٹر پر سینکڑوں کی تعداد میں لمبی قطار سے نکلتے نکلتے قریباً ایک گھنٹہ لگا۔ ایئر پورٹ کے باہر جانے والے دروازے پر ایک مشین نصب ہے جسمیں ٹورسٹ کیلئے ایک سہو لت ہے کہ وہاں سے فری ٹکٹ ملتا ہے جو دو گھنٹے تک کیلئے قابل عمل ہوتا ہے۔ وہاں سے ٹکٹ لیکر کسی بھی ٹرین اور بس میں سفر کرکے منزل مقصود تک جایا جا سکتا ہے۔ہم نے وہاں سے ٹکٹ لئے، باہر ہر تھوڑی دیر میں بس آتی ہے جو مسافروں کو شہر تک لے جاتی ہے، ہم بس میں سوار ہوئے اورپندرہ منٹ میں اپنے ہوٹل پہنچ گئے جو شہر اور ایئر پورٹ کے وسط میں واقع ہے۔ ہوٹل میں انٹری کے بعد کمرے کی چابی کے ساتھ ٹرانسپورٹ ٹوکن ملتا ہے جو جنیوا میں کسی بھی بس یا ٹرین کیلئے قابل استعمال ہوتا ہے۔ وہاں کی ٹورسٹ منسٹری نے تمام ہوٹلوں کے ساتھ یہ معاہدہ کیا ہوا ہے کہ صرف 3 یا 4 فرانک جو کہ پاکستان کے500 روپے کے قریب بنتے ہیں کے عوض یہ ٹکٹ دیتے ہیں اور یہ پیکج ہوٹل کے کرایہ میں شامل ہوتا ہے۔ اگر یہ ٹوکن نہ ہو تو آمدورفت بہت مہنگی ہو۔ خصوصاً ہم جیسے ممالک سے تعلق رکھنے والے ایسے لوگ جو جیبوں میں ڈالروں کو انتہائی حفاظت کے ساتھ رکھنے کے ساتھ ساتھ ہر وقت کیلکولیٹر بھی رکھتے ہیں کہ ہماری گردن پر کتنا بوجھ پڑرہا ہے۔ ڈالر کی ناقدری نے ہمیں زندگی انجوائے کرنے کی بجائے سوچنے اور محتاط رکھنے پر مجبور کردیا ہے اور ہم وہاں کے 10/15 روپے کی چیز کو اپنے لئے بار گراں سمجھتے ہیں کیونکہ ہم نے120 کے ساتھ ضرب دینی ہوتی ہے۔

بہر حال 15/16 گھنٹے کے سفر کے باوجود وہاں کی سرد اور تازہ ہواؤں نے تروتازہ کردیااور فریش ہو کر ہوٹل کے بالمقابل واقع ایک بہت ہی بڑے شاپنگ مال چلا گیا۔ اس شاپنگ مال کی رونقیں عروج پر تھیں، ونڈو شاپنگ اور دل پشاوری کرکے واپس آیا تو عظمت خان نے بتایا کہ ایک اور دوست عماد بھی پہلے سے موجود ہے، اکٹھے باہر نکلتے ہیں،عماد کو بھی ساتھ لیا اور ہم تینوں شہر کی طرف چل پڑے۔ ہم نے پہلے جنیوا نہر کے کنارے واک اور اسکے بعد کھانے کا پروگرام بنایا، مگر جنیوا لیک Lake پر یخ بستہ ہواؤں نے ہمیں واپسی پر مجبور کردیا۔جنیوا سمیت تمام یورپی ممالک میں حلال اور ایشیائی فوڈ ہمیشہ مسئلہ ہوتا ہے۔ ایشیائی فوڈ میں انڈینز کی اجارہ داری ہے، اگر کوئی بھی ایشیائی فوڈ کا مرکز ہوگا تو وہ انڈین ہوگا۔ جنیوا میں استنبول کباب، لبنان ریسٹورنٹ اور بمبئی ریسٹورنٹ نمایاں مقامات ہیں جہاں ہر حلال اور مشرقی کھانے دستیاب ہوتے ہیں۔ عظمت خان نے بتایا کہ ایک لبنان کا ہوٹل ہے اور وہاں اچھا کھانا ملتا ہے۔ ہم کافی دیر گھومتے گھامتے ریڈایریا سے گزر کر خوب تھک ہار کر ایک ہوٹل میں بیٹھنے کا پلان بنا رہے تھے کہ ایک بندے نے بتایا کہ وہ ہوٹل اگلی گلی میں ہے، ہم وہاں گئے، وہاں لبنانی کھانا تھا، کوفتہ ایسا تھا کہ اوپر سے سخت اور اندر سے نرم۔ بہر حال ان کے پاس جو کچھ تھا وہ کھایا، کوئی ذیادہ مزہ نہیں آیا۔واپسی کا رخ کیا اور9 بجے ہم واپس ہوٹل پہنچ گئے کیونکہ باہر سردی بڑھ گئی تھی۔ میں نے گھڑی دیکھی تو ابھی کافی وقت تھا، میں نے ٹوپی اور اوورکوٹ پہنا کہ تھوڑی سی واک کرکے اور کافی پی کر واپس آؤں گا۔ تھوڑی ہی دور گیا تو اتنی تیز اور ٹھنڈی ہوا تھی کہ برداشت سے باہر، واپس کمرے میں آگیا، کھڑکی سے دیکھا تو باہر سنسانی چھائی ہوئی تھی، گرمیوں میں یہاں ساری رات جشن رہتا ہے مگر مارچ کے اواخر میں بھی پہاڑوں پر پھیلی برف اور یخ بستہ ہواؤں نے پنچھیوں کو گھونسلوں میں محدود کرکے رکھا ہوا تھا۔

اگلے دو دن ہمارے بہت مصروف گزرے۔ مگر شام6/7 بجے ہم شہر جاکر کھانا ضرور کھاتے تھے۔ اگلے دو دن ہم نے ترکی کے معروف استنبول کباب کھائے۔استنبول کباب شاپ میں ہم جب داخل ہوئے اور بیٹھے تو ویٹر نے ہم سے پشتو میں بات کرکے خوشگوار حیرت میں مبتلا کیا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ کہاں کے ہو تو اس نے کہا کہ وہ افغان ہے مگر پشاور میں رہا ہے، تھوڑی بہت اردو بھی بول رہا تھا۔ یہ پاکستان کا افغانیوں پر ایک بہت بڑا احسان ہے کہ ان کو نہ صرف اپنے پاس رکھا بلکہ ان کو تعلیم و تربیت بھی فراہم کی اور آج دنیا بھر میں افغانی اس بات کا ادراک کرتے ہیں کہ جس طرح پاکستان اور اہالیان پاکستان نے افغان مہاجرین جوخدمت کی وہ ایک شاندار مثال ہے۔ چند احسان فراموش لوگ بھی موجود ہیں مگر اکثریت اس احسان کو تسلیم کرتی ہے۔ اگلے دن میں نے دونوں دوستوں کو یو این ایچ سی آر ہیڈ کواٹرزکے قریب واقع انڈین ریسٹو رنٹ پر چائے کا مشورہ دیا اور دونوں فوراً مکس چائے کیلئے مل پڑے۔ اس ریسٹورنٹ میں چائے سموسے پکوڑے ہر چیز دستیاب ہے بہر حال چائے پی اور شہر سدھار گئے۔

22 مارچ کو ادارے کے انتخابات تھے۔ 9 ممبران کا انتخاب کرنا تھا، پھر ان 9 منتخب ممبران سے جو چیئر مین کے الیکشن کے خواہشمند تھے ان کے درمیان مقابلہ ہونا تھا۔ ان9 بورڈ ممبران کے انتخاب کیلئے 119 امیدوار سامنے آئے جن میں عظمت خان بھی شامل تھے۔ ملائیشیا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر فائضل کی نگرانی میں تمام امیدواران کو پانچ منٹ میں تعارف اور پروگرام بتانے کیلئے وقت دیا گیا، جس کے بعد الیکشن ہو ا، نو ممبران منتخب ہوئے۔ عظمت خان نے17 ووٹ لئے جو کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ ایشیا سے بہت کم لوگ تھے۔ افریقین ذیادہ تھے اسلئے ان کے ذیادہ لوگ آئے، چیئر مین کیلئے دو امیدواران انوپ اور ایک دوسرے آدمی نے خود کو پیش کیا جس کے بعد دوبارہ الیکشن ہوا اور انوپ اگلے تین سال کیلئے منتخب کردیئے گئے۔ اس پورے پروگرام کا آغاز آسٹریلیا میں مقیم ایک افغانی لڑکی نجیبہ کی آپ بیتی سے ہوا۔اس نے انتہائی خوبصورتی کے ساتھ اس قدر جامع اور مدلل آغاز کیا کہ وہی دن کا ایجنڈا رہا اور آخر تک تمام تر کاروائی اس کے ارد گرد گھومتی رہی۔

اگلا دن فری تھا۔ صبح ناشتہ کے بعد شہر کا رخ کیا اور اجلی دھوپ میں شہر جنیوا اور لیک جنیوا کی سیر کی۔ شہر میں واقع مشہور سٹورز فHEM اورMANOR میں آوارہ گردی کی، تھوڑی بہت شاپنگ بھی کی۔ انڈین ریسٹورنٹ میں چاول چھولے کھائے، شام کو واپس ہوٹل آئے جہاں سے رات کو واپسی کا سفر اختیار کیا۔ ایئر پورٹ پر فلائٹ ٹیبل دیکھ کر میں نے عظمت خان سے کہا کہ صرف ایک وقت 20:25 پر چار فلائٹس بیک وقت مختلف ممالک کو پرواز کررہی ہیں جبکہ ہر پانچ منٹ میں ایک فلائٹ آرہی ہے اور ایک جارہی ہے۔ اسقدر رش کے باوجود کوئی بد نظمی نہیں۔ بہر حال ایک طویل قطار میں کھڑے ہو کر بورڈنگ پاس اور پھر امیگریشن کنٹرول سے گزر کر لاؤنج پہنچے تو وہاں پر اکثریت بھارتیوں کی نظر آئی۔ جب میں جہاز میں بیٹھا تو میرے ساتھ بیٹھے تینوں مسافر انہی میں سے تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ لوگ کس مقصد کیلئے آئے ہو تو انہوں نے بتایا کہ وہ سب ڈاکٹرز ہیں، چلڈرن سپیشلسٹ ہیں، انہیں سوئزرلینڈ کی ملک انڈسٹری نے دعوت دی تھی کہ وہ آئیں اور دودھ تیار کرنے کے طریقہ کار، اسکا معیار اور اسکے مقاصد کے ساتھ ساتھ ہمیں بچوں کی صحت کے حوالے سے خصوصاً بچوں کے دوددھ مثلاً دودھ ہضم نہ ہونا، بچوں کا دودھ پی کر قے کرنا وغیرہ کے بارے میں اپنے تجربات سے آگاہ کریں تاکہ اس کے مطابق مزید امپروومنٹ ہو سکے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے بھیجا ہے کہ سوئس کمپنیوں نے دعوت دی، انہوں نے بتایا کہ جب سے مودی سرکار آئی ہے نظام اور معیشت میں بہتری آئی ہے۔ فارما سیوٹیکل کمپنیوں کا کردار پہلے بھی بہت محدود تھا، بہت خاص لوگوں کو ہی وہ کچھ مراعات دیتے تھے اب ایسی بات نہیں ہے، اب حالات مختلف اور بہتر ہیں۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ پاکستان میں کیا پوزیشن ہے؟ میں نے کہا بھائی میں ڈاکٹر تو نہیں مگر میرے علم کے مطابق ڈاکٹرز کی اکثریت ادویات بنانے والی کمپنیوں سے مفادات حاصل کرتی ہے، انہی کی دوائیں تجویز کرتی ہے اور انہی کے فائدے کیلئے کام کرتی ہے۔ اس نے کہا یہ بہت غلط ہے، اس نے کہا دنیا بھر میں ہندوستان اور پاکستان کے لوگ آپسمیں ایک دوسرے کو اہمیت دیتے ہیں، عزت کرتے ہیں، مگر سیاسی اور فوجی مداخلت کی وجہ سے ہمارے درمیان خلیج ہے۔ اگر کبھی یورپ اورایشیا میں کسی گیم میں فائنل ہو تو ہم ہندوستان پاکستان نہیں ہوتے، ہم ایشیا ہوتے ہیں، کہ کپ ایشیا میں آئے۔ میں نے کہا بھائی سیاسی باتیں چھوڑیں ان سیاسی باتوں نے دو ہمسایہ ممالک کو تو چھوڑیں پاکستان میں آپسمیں دو گھرانوں، دو بھائیوں میں بھی تفریق پیدا کردی ہے۔ ہم اتنے جذباتی ہوگئے ہیں کہ ہم تمام روایات کو پھلانگ کر رشتہ داریوں میں بھی سیاسی پسند نا پسند لے آئے ہیں۔ اسلئے سیاست چھوڑ کر یہ بات بتائیں کہ بچوں کیلئے سب سے مناسب غذا کیا ہے؟ ڈاکٹرز نے کہا کہ تین چیزوں سے احتیاط کریں، چینی، آلو اور چاول۔ اسکا ذیادہ استعمال مستقبل میں شوگر کی وجہ بن سکتا ہے۔ بچوں کیلئے کم از کم ایک گھنٹہ روزانہ بھاگ دوڑ اور کھیل کود جسمیں وہ خوب تھک جائے، تھوڑی دیر کیلئے آرام کے ساتھ ساتھ چینی کی بجائے شہد کا استعمال، مچھلی اور مچھلی کے تیل کا استعمال، پپیتا اورگاجر کا استعمال بچوں کو ذہنی و جسمانی صحت اور نظر کیلئے بہت بہترین ہیں۔

ہم صبح سویرے ابو ظہبی پہنچے تو ہماری اگلی فلائٹ آٹھ گھنٹے کے بعد تھی۔ ہمیں انفارمیشن سنٹر والوں نے کہا کہ آٹھ یا آٹھ گھنٹے سے ذیادہ Stay کی صورت میں آپ ہوٹل کلیم کر سکتے ہیں۔ عماد ہمارے ساتھ نہیں آیا تھا۔ صرف میں اور عظمت خان تھے۔ ہم جب متعلقہ کاؤنٹر پر پہنچے تو وہاں بیٹھے شخص نے ہمارے بورڈنگ پاس دیکھے، اس نے اپنے ساتھ بیٹھی خاتون سے پوچھا تو اس نے کہا کہ ان کا حق بنتا ہے مگر ڈیوٹی منیجر سے پوچھ لیں، ڈیوٹی منیجر سے جب اس نے فون پربات کی تو پاکستان کا نام سن کر اس نے انکار کردیا۔ کاؤنٹر والے نے بے بسی سے کہا کہ ڈیوٹی منیجر صاحب نے انکار کردیا ہے اسلئے وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ اس نے ایک کاغذ پر ایک ای میل ایڈریس لکھ دیا کہ اس پر ای میل کرکے اپنی شکایت لکھیں، ہم نے وہیں بیٹھ کر ای میل لکھی جس کا جواب آج چار دن بعد بھی نہیں آیا۔ یہ وہ ایئرلائن ہے جو مسافروں کے خیال کا دعویٰ کرتی ہے۔ ابو ظہبی کا ایئر پورٹ کافی بڑا ہے، وہاں وقت گزارنا ذیادہ دشوار نہیں ہے اسلئے ہم دونوں کھاتے پیتے، چلتے پھرتے اور آرام دہ کرسیوں پر لیٹ کر ٹائم گزار کر واپس آئے مگر یہ علم ضرور ہوا کہ پاکستانیوں کیلئے ضابطے مختلف ہیں، پچھلی بار دبئی میں بھی کچھ ایسا ہی تجربہ ہوا۔ میرا Stay نو گھنٹے تھا میں نے سوچا ویزہ لیکر باہر گھوم آتا ہوں، وہاں مجھ سے پہلے ایک انگریز کھڑا تھا اسکو وہ باہر جانے، ٹیکسیوں کے کرائے اور وزٹ کرنے کی جگہیں بھی بتا رہا تھا اور جب میں نے بات کی تو انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ سو ڈالر فیس ہے اور انٹرویو ہوگا اسکے بعد ویزہ دیں گے، میں نے کہا کہ میرا کنفرم ٹکٹ ہے، میں ٹرانزٹ میں ہوں، اس نے کہا ٹھیک ہے لیکن آپ پاکستان سے ہو اسلئے شرائط لاگو ہیں۔ بہر حال اچھی بری یادوں کے ساتھ یہ خوبصورت سفر اختتام پذیر ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں