سفر نامہ ویانہ (آسٹریا)

سفر نامہ ویانہ (آسٹریا)


اللہ پاک نے یہ دنیا بہت ہی خوبصورت بنائی ہے اور پھر اس خوبصورت دنیا کے خوبصورت لوگوں کو خوبصورت دل و دماغ سے نوازا اور ان کو یہ تلقین کی کہ اس خوبصورت دل و دماغ کو خوبصورتی سے استعمال کرکے دنیا کو امن و آشتی اور محبت کا گہوارہ بنادو۔ کچھ لوگوں نے اللہ کی طرف سے دیئے گئے اس عطیہ کو استعمال کیا اور اپنے ارد گرد کے ماحول کو جنت نظیر بنا کر امن اور سکون سے زندگی بسر کررہے ہیں اور جواس عطیہ خداوندی سے بہرہ مند نہیں ہوئے ان کے ہاں امن ہے، سکون ہے اور نہ ترقی ہے۔جی ہاں ہم اسی کیٹگری میں آتے ہیں اور پھر جب ہمیں موقعہ ملتا ہے کہ ہم اپنے ملک سے باہر جا کر دنیا کا مشاہدہ کریں تو ہم احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں کہ جو احکامات ہمارے لئے تھے اس پر عملدرآمد منکرین نے کیا اور وہ آسودہ حال ہوگئے اور ہم فرقوں اور گروہوں میں بٹ کر قتل و غارت گری اور دہشت گردی کا شکار خود اپنے ہی دشمن بن گئے۔
اس ساری تمہید کا مقصدیہ ہے کہ ملک سے باہر جانا ہر شخص کی خواہش ہے اور اگر یورپ جانے کا اتفاق ہو تو دل کے مچل مچل جانے پر اختیار نہیں رہتا کیونکہ وہاں انسانوں، انسانیت اور آدمیت کی درست تشریح دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہاں کے خوبصورت لوگوں کے خوبصورت دماغوں کی خوبصورت تخلیقات، خوبصورت رویے اور ان پر ربِ کریم کی رحمتوں کے نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔
گزشتہ ماہ کے اوائل میں ICMPD جو کہ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے اور جو انسانی تجارت کے گھناؤنے اور انسانیت سوز کاروبار کے خلاف آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ عوام میں اس کے مضمرات کے متعلق شعور پیدا کرنے کے لئے بھر پور اقدامات کررہی ہے، کی جانب سے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا کے دورے کی دعوت موصول ہوئی جو ہمیشہ کی طرح خوشی خوشی قبول کی۔ ICMPD کے تعاون سے ویزا کے حصول کے بعد ہم مورخہ 8 نومبر کو صبح صادق اسلام آباد ائیر پورٹ پہنچے تو ہم سب نامانوس لوگ تھے۔مس سعدیہ حسین جو کہ سپارک کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہیں اور حال ہی میں ان کے ساتھ دوشنبے کا سفر کیا تھا۔ اسکے علاوہ باقی لوگوں سے تعارف نہیں تھا۔جہاز روانگی سے قبل گروپ کے لوگ اکٹھے ہوئے، تعارف ہوا اور معلوم ہوا کہ ہمارے گروپ میں ممبر قومی اسمبلی محترمہ نفیسہ خٹک، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ جناب رضوان ملک، ڈپٹی سیکرٹری جناب طارق علیم گل اور ICMPD کی پاکستان میں نمائندہ حنا مقصود شامل ہیں۔ سرسری تعارف کے بعد ہم پانچ بجے جب جہاز کی طرف بڑھے تو سعدیہ حسین نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی اتنی صبح فلائیٹ کیوں ہوتی ہے، ساری رات جاگ کر گزارو اور منزل مقصود پر پہنچ کر تھکے ہارے سو جاؤ۔ اب میں انہیں کیا بتا تا کہ ہم جس طرح ایئر ہوسٹسز کی زندگی گھور گھور کر اور جھانک جھانک کر اجیرن کرتے ہیں تو انہوں نے یہی حل نکالا ہے کہ ان کو اندھیرے میں سفر کراؤتاکہ اپنی خبر بھی نہ ہو اور یہی حال ہمارا بھی تھا۔ استنبول تک کا سفر صاف سوتے بھی نہیں اٹھ بیٹھتے بھی نہیں کے مصداق گزر ہی گیا۔ استنبول ایئر پورٹ پر لاہور سے ممبر صوبائی اسمبلی بشریٰ بٹ اور کراچی سے ڈاکٹر امیر شیخ جو کہ کراچی ایف آئی اے کے ڈائریکٹر ہیں ہمارے ساتھ شامل ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب مرنجا ں مرنج شخصیت کے مالک انتہائی دلچسپ اور زندہ دل انسان ہیں، چند ہی لمحوں میں انہوں نے اپنی زندہ دلی اور قہقہوں سے ماحول کو زعفران زا ربنا دیا۔ رضوان ملک صاحب پہلے پہل تو تھوڑا سا ریزرو رہنے کی کوشش کرتے رہے مگر ڈاکٹر صاحب نے ایسا ماحول پیدا کردیا کہ جب ہم استنبول سے ویانا کی طرف پرواز کررہے تھے تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے ہمارا جنم جنم کا ساتھ ہے۔ ہم سب تمام حدود اور پابندیوں سے آزاد ہو کر دوست بن چکے تھے جسکی وجہ سے ہم سب نے یہ ٹوؤر بہت ہی زیادہ انجوائے کیا۔ ہمارے نوجوان ساتھی سید کوثر عباس کا ساتھ بہت دلچسپ رہا، سیلفی لور نے استنبول ایئر پورٹ پر پہلی سیلفی کا آغاز کرکے آخر تک ہمیں کافی مصروف رکھا۔
ویانا ایئر پورٹ پر اُترے تو میزبانوں کی جانب سے ایک بہت بڑی بس ہم آٹھ نو لوگوں کو لینے کیلئے موجود تھی۔ مس حنا جو کہ ادارے کی جانب سے ہمارے ساتھ ہمرکاب تھیں جملہ ذمہ داریاں احسن طور پر ادا کرتی ہوئی ہمیں بس تک لے گئیں اور یوں ہم سب اپنے ہوٹل کی طرف رواں دواں ہوئے۔ ڈاکٹر امیر شیخ کی زندہ دلی،جناب رضوان ملک صاحب کے دلچسپ تبصروں اور خوبصورت نظاروں میں مدہوش تھوڑی ہی دیر میں ہم ہوٹل MERCURE پہنچ گئے۔ ہوٹل مناسب اور شہر کے وسط میں ہونے کی وجہ سے تمام سہولیات تک رسائی میں آسانی رہی۔ ویسے تو سب پوری رات جاگ کر گزارنے اور 6 گھنٹے کے سفر کی وجہ سے تھکاوٹ کا شکار تھے مگر سب اپنے اپنے کمروں میں سیٹ ہونے کے بعد باہر نکلے اور پھر کوئی قابو میں نہ آیا۔ میں نے بھی جب سڑک کراس کی تو سامنے ایک بڑی نہر شہر کے وسط سے گزرتی نظر آئی جس کے کناروں پر جو کہ سڑک سے نیچے تھے لوگوں کی بڑی تعداد کو پیدل اور سائیکل پر آتے جاتے دیکھا۔مین روڈ پر بس، کار، سائیکل اور پیدل سب کے لئے علیحدہ علیحدہ ٹریک ہیں۔ ٹرین کا علیحدہ ٹریک، بلڈنگیں ترتیب وار، لوگ مہذب، حکومت کی مداخلت کچھ نہیں، عوام میں ذمہ داری کا احساس ہی حکومت کی کامیابی اور عوام کے اطمینان کا ضامن ہے۔ جو چیز سب سے واضح نظر آئی وہ یہ کہ صفائی، ڈسپلن اور عوام کے چہروں پر نہایت اطمینان، صحت اور خوشحالی۔ بعد میں جناب رضوان ملک صاحب نے بتایا کہ یہاں ہفتہ وار آمدن غالباً چار ہزار یورو ہے اور یہ یورپ کے متمول لوگوں کا ملک ہے تو وجہ معلوم ہوگئی۔
شام کو قریبی ترک ریسٹورنٹ میں سب نے مل کر کھانہ کھایا، جوکہ بہت ہی لذیذ تھا اور ایک خوبصورت کمپنی کی وجہ سے مزید دلچسپ اور لذیذ ہوگیا۔شام میں خنکی ہوگئی، سب جلد ہی ہوٹل آئے کیونکہ مس حنا کا نادر شاہی حکم صادر ہو چکا تھا کہ صبح 9 بجے ہم سب ہوٹل سے آئی سی ایم پی ڈی کے آفس جائیں گے جہاں سے ہم وزارت داخلہ کے ایک ذیلی آفس جائیں گے اور وہاں پر ہمیں انسانی تجارت کے حوالے سے ایک بریفنگ دی جائیگی۔ ہم سب اپنے اپنے کمروں میں گئے، ٹی وی لگایا تو سامنے جو کچھ نظر آیا ساری نیندیں اُڑا کر لے گیا، DATINGکا کوئی پروگرام چل رہا تھا، دوسرا چینل بدلا تو کہانی کا اگلا حصہ اور تیسرا چینل لگایا تو کہانی اختتام پذیر ہورہی تھی۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ ٹی وی چینل ہر گھر میں دیکھے جاتے ہوں گے، والدین اور بچے کس طرح یہ چینل دیکھتے ہوں گے۔ بعد کے حالات دیکھ کر پتہ چلا کہ والدین ہی دیکھتے ہیں، یہ پروگرام نوجوانوں کے لئے نہیں ہیں کیونکہ دیکھنے میں آیا کہ نوجوان عملی طور پر مصروف ہیں اوریہ پروگرام نوجوان نسل کی سرگرمیوں کا اظہار ہیں۔ بہر حال ٹی وی بند کیا۔ رات کو سو گئے صبح سویرے اُٹھ کر ناشتہ کرنے گئے تو ہمارے قہقہوں نے سارا ہال سر پر اُٹھا رکھا تھا۔ انگریزوں کا مسئلہ یہ ہے کہ نہ وہ ذیادہ بولتے ہیں، نہ وہ ذیادہ کھاتے ہیں اور نہ دل کھول کر ہنستے ہیں۔ سارا کام بڑا نپا تلا ہو تا ہے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ سب لوگ ہماری طرف متوجہ ہیں، ڈاکٹر صاحب نے کہا، پرواہ مت کرو، ان کو پتہ نہیں ہم کتنے Stress ماحول سے آئے ہیں،ہمیں ہنسنے کا موقعہ بہت کم ملتا ہے اور دل کھول کر ہنسنے کا موقعہ تو بہت ہی کم ملتا ہے۔ ناشتے کہ بعد کوثر عباس جو کہ تازہ تازہ اینکر بنے ہیں، بڑے تیار ہو کر سب سے پہلے نیچے اُتر آئے اتنے میں ایک گورا آیا جس نے ہمیں بتایا کہ ہمارا آفس دس منٹ کی واک پر ہے اسلئے ہم پیدل چلیں گے، ہم جب چلے تو 64 سالہ گورا صاحب Mr.Steve فراٹے بھر کر چل رہا تھا، اسکے پیچھے ہمارے گروپ کی سب سے سینئر کولیگ محترمہ نفیسہ خٹک تھیں اسکے بعد جو جتنا جوان تھا اتنا ہی وہ پیچھے تھا،ہم دس منٹ میں ICMPD کے آفس پہنچ گئے جہاں دفتر کے باہر شرکاء کا گروپ فوٹو لیا گیااُس کے بعد ہم اوپر آفس گئے جو کہ بہت ہی بہترین اور نفاست بھرا آفس تھا۔وہاں ہمیں ابتدائی بریفنگ کے بعد بتایا گیا کہ اب وزارت داخلہ اور وہاں سے آگے جائیں گے۔ پھر سب اکٹھے ہوئے، وہاں پہنچے تو وہاں پر مسٹر جیرالڈ نامی انتہائی خوش اخلاق افسر نے ہمارا ستقبال کیا۔ پہلے بہترین کافی سے تواضع کی گئی اسکے بعد انہوں نے ہمیں ادارے کے بارے میں پریزنٹیشن دی جسمیں انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کا آفس انسانی تجارت کے حوالے سے کیا کیا اقدامات کررہا ہے۔ ان کا آفس تمام یورپی ممالک کے درمیان رابطے کا زریعہ بھی ہے اور وہ مختلف ممالک کے افسران کی تربیت بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ2002 سے اس ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان کا عہدہ کرنل رینک کا ہے، ان کو موقعہ ملا کہ وہ ترقی پاکر جنرل بن جائیں اور یہاں سے چلے جائیں مگر انہوں نے ترقی نہیں لی اور مستقلاً اس ادارے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کافی دلچسپ انداز میں پریزنٹیشن دی جس کے بعد انہوں نے اپنے آفس کا دورہ کرایا، اپنے اہم اسٹاف سے ملوایا، اپنے کانفرنس روم میں لگی تصاویر کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ یہ ان لوگوں کی تصاویر ہیں جنہوں نے جوائنٹ آپریشنل ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، دیوار کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ اس جگہ پر اب آپ لوگوں کا گروپ فوٹو بھی لگ جائے گا۔ہم تو نہیں ہوں گے مگر ایک لمبے عرصہ تک ویانا کے خوبصورت اور دلکش ماحول میں کسی دیوار پر ہماری تصویر ہماری ویانا میں موجودگی کا احساس دلاتی رہے گی۔

ان کے دفتر سے نکلے تو ایک پلے لینڈ سے گزر ہوا۔ پلے لینڈ میں خوبصورت اور چھوٹے بچوں کے لئے جھولوں سے لیکر بڑوں کے لئے انتہائی بلند اور خطرناک جھولوں کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہ کیسی قوم ہے کہ ہر طبقہ فکر کا احساس رکھتی ہے۔ بلامبالغہ پاکستان بھر کے پلے لینڈز میں اتنے اچھے شاندار اور وافر جھولے نہیں ہوں گے جو اس پارک میں تھے۔ چلتے چلتے چیخوں کی آواز آئی، اوپر دیکھا تو آسمان کی بلندیوں پر چلنے والے جھولے میں بیٹھے لوگ چیخیں مار کر اپنا خوف چھپا رہے تھے۔ ان کو اتنی بلندی پر دیکھ کر تو ہم نیچے کھڑے ڈر رہے تھے۔ بہر حال وہاں سے گزر کر ہم ایک ریسٹورنٹ میں آئے جہاں ایک خوبصورت لڑکی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ مہمانوں کی تواضع میں مصروف تھی۔ ہمارے ساتھ کوثر عباس صاحب نے پہلے پوچھا کہ کس چیز پر کلمہ پڑھا گیا ہے اور کس پر نہیں، ہم نے اسکو کہا کہ مچھلی پر پڑھا گیا ہے تو اس سمیت سب نے مچھلی سوپ وغیرہ کے ساتھ لنچ کیا۔ بہت ہی شاندار اور ذائقہ دار مچھلی تھی۔ پنجاب اسمبلی کی ممبر بشریٰ بٹ اپنے خاوند کے ہمراہ آئی تھیں جو ہوٹل میں ہی تھے، اسلئے ان کے منہ سے نوالہ کم ہی نیچے اُتر رہا تھا مگر خوشی کی بات یہ تھی کہ ایک تو وہ کافی پڑھی لکھی اور دوسراسمجھنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ حتی المقدور حصہ بھی لیتی رہیں۔ نفیسہ خٹک صاحبہ نہایت ہی شاندارو بردبار خاتون ہیں۔ ان کا خاندانی بیک گراؤنڈ ان کی شخصیت میں جھلکتا نظر آیا، بہت ہی خیال رکھنے والی اور انتہائی مستعد اور سب سے برق رفتار تھیں۔ انہوں نے بھی بھر پور حصہ ڈالااور میزبانوں کو یہ احساس دلایا کہ جو لوگ پاکستان سے آئے ہیں وہ سب اپنے ملک اور قوم کے مفاد میں اپنا حصہ ڈالنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں جس طرح عمومی طور پر بین الاقوامی دوروں میں شرکاء اپنے اصلی ہدف سے ہٹ کرعدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں،وہ صورت حال نہیں تھی، سب لوگ ذمہ دار تھے، سب لوگ برابری کی بنیاد پر حصہ لے رہے تھے اور سب کی دلچسپی قابل دید تھی جسکا میزبانوں نے اظہار بھی کیا۔
ہمارے ساتھ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ جناب رضوان ملک صاحب بھی تھے۔ ان کے چبھتے سوالات اور انتہائی متعلقہ کمنٹس سن کر جہاں ایک طرف سیکھنے کا موقعہ ملا وہاں اس بات کی بھی خوشی ہوئی کہ ہماری بیورو کریسی کس قدر اہل اور دانا لوگوں پر مشتمل ہے، یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم اپنے ان اہم لوگوں کو کبھی سیاست اور کبھی ذاتیات کی نذر کرکے ان کے تجربوں اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اُٹھاتے، ورنہ اسمیں کوئی شک نہیں کہ ہماری بیورو کریسی میں ایسے ایسے ہیرے پڑے ہوئے ہیں جن کو اگر فری ہینڈ دیا جائے تو وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں، مگر ہم قومی سطح پر انتہائی پسماندہ ذہنیت کے لوگوں کے چنگل میں پھنس چکے ہیں جسکی وجہ سے یہاں صلاحیتوں کے اظہار کی بجائے چاپلوسی پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہوگی کہ کسی قو م کا عظیم سرمایہ محض اسلئے اپنی صلاحیتوں کا اظہار نہ کر سکے کیونکہ مزاج صاحب پر گراں گزرنے کے اندیشے کی وجہ سے معتوب ٹھہرائے جانے کا خو ف ہو۔ بہر حال رضوان ملک صاحب اپنے ٹور میں انتہائی دلجمعی اور دلچسپی کے ساتھ شریک رہے جبکہ ڈپٹی سیکرٹری طارق علیم گل صاحب کی مسکراہٹیں بکھرتی رہیں۔ اپنے باس کی موجودگی میں تھوڑا سا ریزرو رہے کیونکہ یہ کلچر ہی ایسا ہے ورنہ وہاں ادارے کے سینئر افسران نے ہمیں بریفنگ دی۔ وقت ختم ہوا تو کنسلٹنٹ نے ان کو کہا کہ اب ان کا وقت ختم ہوگیا ہے، براہ مہربانی وہ چلے جائیں، اگر یہ گستاخی کوئی پاکستان میں کرتا تو شاید پروانہ ہاتھ میں لیکر جاتا، مگر وہاں پر محمود و ایاز ایک ہیں، یہ پاکستان ہے جہاں محمودمحمود ہے اور ایاز ایاز ہے۔ لیکن گل صاحب کی شرارتی مسکراہٹیں اور شریفانہ حرکات و سکنات بہرحال جاری و ساری رہیں کیونکہ ہم دنیا کے ایک خوبصورت ملک کے خوبصورت شہر کے خوبصورت لوگوں کے درمیان خوبصورت لمحوں کو خوبصورتی کے ساتھ یادگار بنا رہے تھے اسلئے ہر لمحہ انجوائے کیا جبکہ ڈاکٹر امیر شیخ صاحب شام سے پہلے ہی ہمیں چھوڑ کر کہیں غائب ہو جاتے تھے۔ ہمیں یقین تھا کہ چونکہ وہ نہایت ہی نمازی اور مذہبی شخصیت ہیں تو وہ ضرور اپنی دن بھر کی نمازیں اور تسبیحات ہی کرتے ہوں گے۔ رات گئے ان کا بہرحال ایک میسج ضرور آتا تھااور معلوم ہو جاتا تھا کہ آپ ہمارے قریب موجود ہیں۔
لنچ کے بعد ہم دوبارہ ICMPD کے دفترگئے جہاں ہمیں ICMPD کے کام اور کار کردگی کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
ICMPD ویانا میں قائم ہے مگر اسکی سرگرمیوں کا دائرہ کار کئی ممالک بشمول پاکستان میں پھیلا ہوا ہے۔یہ انسانی تجارت کے گھناؤنے عمل کے خلاف عوام میں شعور بلند کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر بھی عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ ذمہ دار اداروں کی تربیت سازی میں بھی مصروف ہیں۔ان کی ٹیم نہایت ہی شانداراور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مالا مال ہے اور ان کی کارکردگی یقینا نمایاں ہے۔پاکستان میں ICMPD نے کافی کام کیا ہے اور یہ دورہ بھی اسی کام کو مزید بڑھانے، تعاون حاصل کرنے، آگہی پیدا کرنے اور عملی اقدامات کے لئے مشترکہ کوششوں کی ایک کڑی تھا۔ ادارے کے کنسلٹنٹMr.Steve کی موضوع کے اُوپر گرفت اور پروگرام کی ترتیب قابل داد رہی۔
دوسرے روز ہمیں ایک ادارے LEFO کا دورہ کرایا گیا۔ ہمارے گائیڈ نے ہمیں ایک بس اور ایک ٹرین کے ذریعے وہاں پہنچایا۔ چونکہ یورپ میں مسافروں کو ہوٹل کی طرف سے بس کے پاس ملتے ہیں اسلئے وہاں سفر کرنا بہت آسان ہے بشرطیکہ علاقوں کا علم ہو۔ ہر ہوٹل اور سٹاپ پر شہر کے نقشے پڑے ہوتے ہیں اور لوگ مدد کرکے خوش ہوتے ہیں۔ہم نے جس جگہ بھی جس عورت یا مرد سے کوئی پتہ پوچھا، اس نے خندہ پیشانی سے اپنا موبائل کھولا اور نقشے کی مدد سے ہمیں جگہ کا پتہ بتایا، ہر بندے کے پاس اپنے شہر کا نقشہ موجود ہوتا ہے۔
بہر حال ہم LEFO آفس پہنچے جو کہ ایک این جی او کا آفس تھا۔ اسمیں پہلی خوشی یہ ہوئی کہ ایک پاکستانی لڑکی اور لڑکے کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ لڑکی تو وہیں کی پیداوار تھی مگر اردو بولتی تھی جبکہ نوجوان اسلام آباد میں وکالت کرتا تھا اور اب وہاں پر کام کررہا تھا۔ ان کے کانفرنس روم میں انہوں نے اپنی آرگنائزیشن کی تشکیل، ترتیب، سرگرمیوں، حکومتی تعاون اور کامیابیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ سوال جواب کا سلسلہ بھی جاری رہا، اچھی سی کافی بھی پلائی۔ سب سے اچھی بات یہ تھی کہ کانفرنس روم اسقدر روشن تھا کہ ایک لائیٹ نہیں جل رہی تھی، قدرتی روشنی کا بھرپور فائدہ اُٹھایا جارہا تھا۔ بعد میں دیکھا تو اکثر دفاتر میں بجلی کا استعمال بہت کم جبکہ قدرتی روشنی کا بہت ذیادہ تھا۔ ہمارے یہاں بند پردوں کے پیچھے کام کرنے کی روایت ہے جہاں بجلی کے بحران کے باوجود بجلی کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے۔ وہاں بجلی کی صورت حال یہ تھی کہ رات کو دکانوں کی لائٹس بند نہیں کی جاتی ہیں اور پورا شہر، گلیاں، بازار، سڑکیں، عمارتیں جگمگاتے ہیں، مگر دن کو وہ قدرتی روشنی سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ ان کی بلڈنگوں کی ساخت ہی ویسی ہے کہ وہاں ایک دوسرے پر چڑھا کر بلڈنگیں نہیں بنائی گئی ہیں۔
ڈاکٹر امیر شیخ نے بتایا کہ وہ انگلینڈ میں رہے ہیں، یورپ میں گھومے ہیں مگر ویانا شہر جس طرح ترتیب وار اور جس وسیع علاقے پر ایک ہی کیمسٹری کے ساتھ موجود ہے اور کوئی شہر ایسا نہیں ہے۔LEFO آفس میں بھی کوثر عباس نے گروپ فوٹو لینے سے گریز نہیں کیا۔ ہم وہاں سے نکلے، راستے میں ویانا یونیورسٹی دیکھی جو غالباً یورپ کی سب سے پرانی یونیورسٹی ہے، جو 1365 میں بنی تھی، جبکہ پورا ویانا صدیوں پرانا ہے۔ اس یونیورسٹی نے پندرہ نوبل انعام یافتہ لوگ اور ہزارہا اہم شخصیات پیدا کی ہیں۔ یہ دنیا کی تیسری پرانی اور بڑی یونیورسٹی ہے۔ پہلی دو یونیورسٹیاں بھی یورپ کے شہروں پراگ اور پولینڈ میں ہیں۔ ویانا یونیورسٹی کے 60 سے زائد کیمپس ہیں۔ اکیڈیمک اور ایڈمنسٹریٹیو سٹاف کی تعداد قریباً دس ہزار اور طلبہ کی تعداد تقریباً چورانوے ہزار ہے۔ہم آج2017 میں بھی ان کے چار پانچ صدیوں پہلے کے وژن کے قریب بھی نہیں ہیں۔
ویانا کی ہر گلی ہر چوک ہر سڑک ہر بلڈنگ، ہریالی، ٹریفک، نہریں بحبرے غرض ہر چیز دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ لوگ تو لوگ ہیں، دیکھنے کو بھی دل کرتا ہے، ملنے کو بھی دل کرتا ہے، بات کرنے کو بھی دل کرتا ہے کیونکہ خوش اخلاق اور خوش گفتار لوگ ہیں۔ شام تک بریفنگ اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں سے فارغ ہوئے۔ ہوٹل جاتے ہوئے چند قدم آگے گیا تو ایک بڑا اسٹور تھا، میں اندر چلا گیا۔ کھانے پینے کی کچھ چیزوں کے ساتھ ایک ڈبل روٹی لی جسکا شاندار ذائقہ ابھی بھی محسوس کرتا ہوں، شاید پہلی بار زندگی میں پوری ڈبل روٹی کھا گیا۔میں نے سعدیہ حسین اور نفیسہ خٹک کو سٹور کا بتایا تو اگلے دو دن دونوں کواتین سٹور میں ہی نظر آئیں۔ سعدیہ حسین نے تو قرب و جوار کے تمام سٹور خالی کرنے کے بعد چند کلو میٹر آگے جاکر بھی شاپنگ کی۔ ہم نے ہاتھ جوڑے کہ بی بی کچھ سامان اور لوگوں کے لئے بھی چھوڑ دیں، بہر حال انہوں نے سب سے ذیادہ شاپنگ کی۔
شام کو میں کوثر عباس اور سعدیہ حسین گھومنے نکلے اور ہم روشنیوں اور خوبصورت عمارات کے سحر میں چلتے چلتے بہت دور نکل گئے۔ ایک خوبصورت بلڈنگ سے سڑک دوسری طرف جارہی تھی، دوسری طرف دیکھا تو ہوف برگ پیلس تھا جس کے آگے وسیع و عریض میدان تھا، یہ رومن امپائر کی نشانی محل ہے جو اپنے پورے جا ہ و جلال کے ساتھ واقع ہے۔رات کو وہ ایسے چمک رہا تھا کہ وہاں سے نظریں نہیں ہٹ رہی تھیں۔ پندرھویں صدی کے حکمران کا 2800 کمروں پر مشتمل یہ محل قابل دید تھا۔ اس سے آگے میوزیم تھا، ہم جب میوزیم پہنچے تو گیارہ بجنے والے تھے اس کی سیڑھیاں اور اندر کی خوبصورتی نا قابل بیان ہے۔ ہم اندر اسلئے نہیں گئے کہ ایک تھک گئے تھے دوسرابہت دیر ہوگئی تھی اور اسکی کلوزنگ ہونی تھی، بہر حال تشنگی رہی۔
اگلا دن بھی ہم نے IOM – فارن آفس اور دیگر اہم اداروں کے نمائندگان کے ساتھ گزارا۔ جنہوں نے ہمیں اپنے اپنے اداروں، یورپ میں انسانی تجارت کے اثرات، لوگوں کی مشکلات اور اس مکروہ فعل میں اضافے کی وجوہات کے ساتھ مقامی سطح پر حکومتی اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات اور انسانی تجارت کے ماخذ ملکوں میں ان کی کاوشوں پر مشتمل تھا۔ ہمارے گروپ کے ممبران کی جانب سے بہت چبھتے سوالات کئے گئے۔ ان وجوہات کا ذکر کیا گیاجس کی وجہ سے ہمارے ملک کے نوجوان اپنی زندگیاں خطرات میں ڈالتے ہیں۔ گروپ ممبران یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ انسانی تجارت کے اس مکروہ فعل کے پس پشت وجوہات کا تعین کرنا اور اسکا سدباب کرنا ضروری ہے۔ لوگوں کی اکثریت مجبوری کے عالم میں اپنی زندگیاں داؤ پر لگاتی ہے جس کے بارے میں منتظمین میں بھی اتفاق تھا،مگر انسانی زندگی کی اہمیت، غلط راستوں کے انتخاب اور اس کے سبب ہونے والی مشکلات کو سامنے رکھ کر غلامی کی زندگی گزارنے کی اذیت سے آگاہ کرنا اور اسکی روک تھام کرنا اولین ذمہ داری قرار دی گئی۔ لوگ جب غیر قانونی طریقوں سے باہر جاتے ہیں تو وہ اپنی آزادی، خود مختاری اور تحفظ سے دستبردار ہوجاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسکا اگر درست ادراک کیا جائے تو کوئی بھی شخص غیر قانونی طور پر ملک سے باہر جانے کی کوشش نہ کرے۔

منتظمین نے ہمیں جلدی فارغ کیا کہ ہم شہر کی سیر کر سکیں۔ خواتین شاپنگ ہنٹ اور کوثر عباس صاحب کسی میٹنگ میں چلے گئے۔ڈاکٹر امیر شیخ کی تجویز پر ہم سٹی ٹور بس میں بیٹھ گئے۔ 25 یورو کا ٹکٹ تھا۔طارق علیم گل اور رضوان ملک صاحب کی معیت میں ہم سٹی ٹور بس کی اوپر والی منزل پر بیٹھ گئے، جس نے ہمیں پورے شہر کی سیر کرائی۔شہر کا ہر کونہ ہر جگہ بس دیکھنے کے لائق تھی۔ ایک مقام پر ہم اس بس سے اُترے اور دوسری بس میں بیٹھ گئے وہ ہمیں شہر کی دوسری سائیڈ پر لے گئی۔ شہر سے باہر دریائے ڈینیور کے کنارے چلتے چلتے خوبصورت بحری جہازوں اور ویانا کے امیر ترین لوگوں کے گھروں کا نظارہ کرکے ہم واپس ہوئے تو بہت دیر ہوچکی تھی،اسکی وجہ ٹریفک تھی، ابھی ایک اور بس میں سفر کیا جا سکتا تھا کیونکہ یہ ٹکٹ 24 گھنٹوں کے لئے تھا مگر موسم میں خنکی اور کافی دیر ہوجانے کی وجہ سے ہم واپس آگئے۔ ہمیں بتایا گیا کہ بغل میں ایک انڈین ہوٹل ہے جسمیں اچھا کھانا ملتا ہے۔ میں نے گل صاحب سے درخواست کی کہ مجھے لے جائیں۔ وہاں ساگ پنیر پراٹھا اور چائے تو ملی مگر بل ذیادہ تھا جبکہ گزشتہ رات رضوان ملک صاحب ہمیں ایک ریسٹورنٹ میں لے گئے جو غالباً اٹالین تھا وہاں پر بہت ہی زبردست ڈنر کیا اور بہت ہی مناسب بل تھا۔
مس حنا مقصود ہماری میزبان تھیں جو ہمیں پاکستان سے لیکر گئیں اور بحفاظت پاکستان پہنچایا۔ ہر چند کہ ان کا اس قسم کا تجربہ بھی نہیں تھا اور اسقدر سینئر لوگوں سے شاید ایک ہی وقت میں کبھی ان کا پالا بھی نہیں پڑا تھا۔مگر نہایت جانفشانی کے ساتھ ہمہ وقت وہ مصروف رہیں، بہت ذیادہ خیال رکھا، ہر چیز پر نظر رکھی اور ہمارے آرام و سکون کو یقینی بنایا جسکے لئے گروپ کے تمام ممبران نے ان کی تعریف بھی کی اور شکریہ بھی ادا کیا۔
ویانا میں سب سے بڑی دلچسپی وہاں کے کلب ہیں۔ 2/3 کلبوں میں چکر لگایا، زندگی کی تمام تررعنائیوں سے مزین ان کلبوں میں جو کچھ دیکھا وہ ضبط تحریر میں لانا مناسب نہیں ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ وہاں زندگی کی ہر رونق موجود ہے۔ وہاں کی ایک اور چیز جو سب سے زیادہ دیکھنے کو ملی کہ وہاں ہر گلی ہر نکڑہر سڑک پر ریسٹورنٹس ہیں، محسوس یہ ہوتا ہے کہ یورپ میں گھروں میں کھانا پکانے کا رواج نہیں ہے، وہ جتنا کھانا کھاتے ہیں اسکے لئے ویسے بھی تردد کی ضرورت نہیں۔کم کھانا زیادہ چلنا اور ہشاش بشاش رہنا ان کی زندگی کا ماخذ معلوم ہوتا ہے۔ ہم نے کسی ریسٹورنٹ میں پلیٹوں اور کھانے کے انبار نہیں دیکھے۔ وہ زندہ رہنے کے لئے کھاتے ہیں جبکہ ہم کھانے کے لئے زندہ ہیں۔ ہم نے کسی چوراہے کسی نکڑ پر پائنچے اُٹھائے ملکی حالات پر تبصرہ کرتے افلاطون نہیں دیکھے۔ نائی کی دکان میں خوبصورت لڑکیاں کٹنگ کررہی تھیں اور گاہک سر جھکائے اپنی قسمت پر ناز کررہے تھے۔ ہمارے نائی کی دکان ٹانگوں کا اڈہ گلی کا نکڑ علاقے کے تمام فارغ لوگوں کا انٹلکچول پوائنٹ ہوتا ہے جہاں قومی اور بین الاقوامی معاملات پر اس طرح کے تبصرے ہوتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دل میں خیال آتا ہے کہ بڑی بڑی ڈگری والوں کو گھر بھیج کر ان لوگوں کو عمال حکومت تھمادیئے جائیں، جو خارجی اور داخلی معاملات پر عقل کل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ایک اور بڑی اچھی چیز جو یورپ میں دیکھنے کو ملتی ہے کہ وہاں دکانیں رات دن کھلی نہیں رہتیں، مقررہ وقت پر بند ہوتی ہیں۔ 6 بجے بازار بند ہو جاتے ہیں، صرف ریستوران اور کلب کھلے رہتے ہیں۔ ہم ایک میڈیکل اسٹور پر گئے، میں نے کوئی دوائی لینی چاہی، دکان بند تھی اور ایک گل رخ حساب کتاب کررہی تھی، میں نے دوائی کا پوچھا تو اس نے جواب دیا، اب دکان بند ہے، کل لے لیں۔ دوسرے دن کوثر عباس صاحب کے ساتھ گیا، میں نے تو ضرورت کی چیز لی، اس نے پہلی بار دل کھول کر خرچہ کیا اور تمام بیوٹی کریمیں اُٹھالیں۔ جوانی کا سب سے برا مسئلہ ہی جوانی ہوتی ہے۔ کوثر عباس صاحب دوران سفر ہر ریستوران پر حلال ذبح چکن ڈھونڈتے رہے، میں نے کہا کہ حلال ذبح اور حلال طریقے سے کھانے دونوں کے لئے کلمہ پڑھنا شرط ہے، شکر ہے ترکی والوں کا ہوٹل تھا۔ان کے نام سے ہی مطمئن ہوگیا۔ وہاں نہیں پوچھا کہ چکن حلال ہے کہ نہیں۔
جس دن ہماری روانگی تھی اس دن ویانا میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک بڑی کانفرنس تھی۔ ہمارے منتظمین نے ہماری نشستوں کا اہتمام بھی کیا تھا مگر ایمبسی نے ہمیں ویزا Extend نہیں کیا، پھر بھی ہم صبح ایک خاتون ڈرائیور کے ساتھ ٹیکسی میں بیٹھ کر کانفرنس میں گئے جو کہ انسانی تجارت ہی کے بارے میں تھی۔ ہم نے دو گھنٹے گزارے جب ہم داخل ہورہے تھے تو ایک سیکیورٹی والے نے ہمیں کہا کہ آپ سائیڈ پر ہوجائیں جبکہ گیٹ کے باہر ایک سپاہی بھی کھڑا تھا، اوپر سے لفٹ آئی اورایک شخص پروٹوکول کے ساتھ باہر نکلا۔ ہم نے ذیادہ توجہ نہیں دی کہ ہم سازو سامان کے ساتھ نکلے تھے اور یہاں سے براہ راست ایئر پورٹ جانا تھا۔ جب اوپر گئے تو معلوم ہوا کہ موصوف کوئی وزیر صاحب تھے۔ بہر حال روم کے بادشاہ کے گھر کے بغل میں ایک شاندار اور وسیع و عریض ہال میں دو گھنٹے کانفرنس اٹینڈ کی۔باہر نکلے تو میری نظر پھر اسی ٹرپل سڑک پر پڑی جو محل اور بازار کے درمیان رابطہ تھا، میں نے ساتھیوں سے کہا کہ پندرھویں صدی میں جب گھوڑے اور بگیاں ہوتی تھیں تب بھی آنے جانے اور پیدل والوں کے لئے کشادہ راستے رکھے گئے، جو کہ آج بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔ یہ وہ دور اندیشی تھی جو کائنات کے خالق نے ہر انسان کو عطا کی، مگر جسکا عملی مظاہرہ صرف مغرب نے کیا۔ باہر بگھی کھڑی تھی، کوثر عباس نے فوراً فوٹو کی فرمائش کی مگر گھوڑے کو پسند نہیں آیا۔ پھر جب کوثر صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ راضی ہوگیا اور ایک فوٹو کھنچوالی۔ جہاں سے ہم فارغ ہوئے۔ جناب رضوان ملک اور طارق علیم صاحب ایک دن کے لئے ہراگ چلے گئے۔ ڈاکٹر امیر شیخ صاحب استنبول ایئرپورٹ پر بھر پور کمپنی دینے کے بعد استنبول رک گئے۔ باقی لوگ پاکستان آئے۔صبح سویری جب لاؤنج میں داخل ہوئے تو ایک آدمی آواز لگا رہا تھا، رضوان ملک صاحب۔ رضوان ملک صاحب۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وزارت داخلہ والے ملک صاحب کے لئے آئے ہو، اس نے کہا کہ جی ہاں، میں نے انہیں بتایا کہ وہ کل صبح آئیں گے، آج رُک گئے ہیں، میں قطار میں کھڑا ہوا تو وہ پیچھے سے آئے میرا پاسپورٹ لیا اور مجھے لاؤنج بھیج دیا اور پھر پاسپورٹ Stamp کرکے واپس کردیا اور میں نے کہا کہ پاکستان زندہ باد۔

اپنا تبصرہ بھیجیں