سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب پیر سید کلیم احمد خورشید اور سابق صدر لاہور ہائی کورٹ جناب ظفر اقبال کلانوری کے ساتھ ایک غیر رسمی نشست

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب پیر سید کلیم احمد خورشید
اور سابق صدر لاہور ہائی کورٹ جناب ظفر اقبال کلانوری کے ساتھ ایک غیر رسمی نشست۔


اپنے لاہور کے دورہ میں اپنے نہایت ہی شفیق دوست اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب پیر احمد کلیم خورشید صاحب سے آواری ہوٹل لاہور میں ایک نشست ہوئی جس میں بعد ازاں جناب ظفر قبال کلانوری صاحب بھی شامل ہوگئے۔ خوش ذائقہ کافی کے ساتھ ساتھ ان دونوں شخصیات کے ساتھ گفتگو بھی ہوئی۔

محترم پیر صاحب نے بتایا کہ چیف صاحب جب لاہور کنونشن میں آئے تھے تو میں نے اپنے سپاس نامہ میں ان سے گزارش کی تھی کہ ملک میں لاکھوں لوگ غریب نادار، بیوہ خواتین صرف ایک کورٹ فیس کی ادائیگی نہ کرنے پر انصاف سے محروم ہیں۔ لارڈ وارن پینٹگزنے پہلی بار کورٹ فیس کا اجراء کیا تھا۔ ان کے بعد آنے والے لارڈ ولیم نے فائل پر لکھا تھا کہ کورٹ فیس سولائزیشن پرٹیکس ہے۔ فیڈرل شریعت کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود کہ کورٹ فیس غیر اسلامی ہے عدلیہ کوئی قدم نہیں اٹھا رہی۔ (فیڈرل شریعت کورٹ1992 صفحہ 195)

اسکے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں پڑی ہے مگر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔اس کے نتیجے میں اگر کسی شخص کو انصاف نہیں ملا تو کون ذمہ دار ہے۔ لارڈ میکامے 38 سال بعد انڈیا آئے، اس نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا میں انصاف نہیں، ان کو انصاف دیں اور بدلے میں ان پر حکومت کریں۔

آئین کا آرٹیکل 37-A کہتا ہے کہ انصاف کی جلد اور آسان فراہمی پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے۔ کورٹ فیس کی موجودگی میں سستا انصاف ممکن نہیں اور دھائیوں تک زیر التواء مقدمات جلد انصاف کی خلاف ورزی ہیں۔آپ کے اپنے رولز یہ کہتے ہیں کہ جب کوئی مقدمہ فائل ہو، بنچ تشکیل دیا جائے مگر اپنے ہی رولز کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ کون ذمہ دار ہے؟ یہ توقع ہے کہ ہم سب لوگ ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر اسکا حل تلاش کریں۔ میں نے اپنے سیانامہ میں ایک کیس بطور سٹڈی پیش کیا۔ایک سادہ سا کیس جسمیں ایک فوجی افسر نے ایک پلاٹ بیچا، بیعانہ لیا اور پھر پراپرٹی ڈیلر نے عدالت میں کیس داخل کیا کہ پلاٹ ٹرانسفر کیا جائے۔ فوجی افسر نے کہا کہ میں تیار ہوں پیسے دیں اور ٹرانسفر کرائیں، مقدمہ خارج ہوگیا۔ اس کے بعد دوسری تیسری عدالت اور مختلف طریقوں سے سولہ سال تک لٹکا دیا۔اتنا واضح کیس محض جج صاحبان کی غفلت یا جو بھی وجوہات ہیں زیر التواء رہا، کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، میں نے سپریم کورٹ کی جانب سے جب تجاویز پیش کیں تو چیف صاحب نے کہا کہ وہ اسکے لئے تیار ہو کر نہیں آئے تھے، لیکن ان کو احساس ہوگیا ہے اور آئندہ وہ تیار ہو کر آیا کریں گے۔

ہم نے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے کہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس صاحب خود بھی دلچسپی رکھتے ہیں کہ انصاف کا نظام بہتر ہو اور اسکے لئے سنجیدگی سے کام کررہے ہیں۔ انہوں نے 184(3) پر میرے سوال پر کہا کہ یہ بالکل ٹھیک ہے۔ ہمارا مؤقف ہے کہ اسکے خلاف اپیل کا حق ہونا چاہئے۔ ہم نے باقاعدہ سفارشات تیار کرکے بھیجی تھیں مگر حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے وہ نافذ نہیں ہوئیں۔ نواز شریف کی حکومت کو ہم نے کافی تجاویز دیں۔ پاکستان بار کونسل نے کافی محنت سے کام کیا مگر حکومت میں بیٹھے لوگوں کی نااہلیت کی وجہ سے یہ سردخانے میں گئیں۔ اگر حکومت نے عمل کیا ہوتا تو آج یہ صورت حال درپیش نہ ہوتی۔ عدالتوں پر چھاپے کے سوال پر جناب پیر صاحب جذباتی ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ نچلی عدلیہ میں جو کچھ ہورہا ہے ان کو گولی مارنی چاہئے۔ چیف صاحب کو ہم زچ کررہے ہیں۔ ماتحت عدلیہ میں کرپشن کے خلاف۔ یہ ہائیکورٹ کا اختیار ہے۔ ہم نے ابھی ایک سیمینار کیا تھا، چیف صاحب نے نوٹس لیا، یہ سارا میڈیا حقیقت کو تسلیم نہیں کرتا اور نان ایشوز کو اٹھاتے ہیں۔ ججوں کی نا اہلیت کے خلاف ڈسپلنری ایکشن نہیں ہوا، جو کچھ لوگوں کے ساتھ ہورہا ہے، یہ سب جج جو کررہے ہیں، اس پر کوئی بولتا نہیں ٹی وی پر۔

میں لندن میں ایک سیمینار میں گیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انصاف وکلاء کی وجہ سے Delay ہورہا ہے، میں نے کہا یہ درست نہیں۔ جج کو اختیار ہے کہ قانون کے مطابق مقررہ مدت میں جواب نہیں آتا تو وہ آگے پروسیڈ کرے۔ مگر جج تو ہلتے ہی نہیں، سالہا سال جواب دعویٰ کے انتظار میں لٹکاتے ہیں۔ میں نے چیف صاحب کے آگے بھی یہی باتیں کیں، ہائیکورٹ کے جج ایکشن کیوں نہیں لیتے؟ چیف صاحب نے کہا کہ بہت سی باتوں کا مجھے علم نہیں تھا۔اب میں نوٹس لوں گا۔ پیر صاحب نے بتایا کہ ہمارے دوست ظفر اقبال کلا نوری نے CPC میں ترمیم کی ہیں۔ کل ہی ہم نے بھیجی ہیں۔ عدالت دفعہ122 کے تحت خود بھی رول بنا سکتا ہے، کہتے ہیں وکیل تاریخ لیتے ہیں، وکیل کی کوئی مجبوری ہوسکتی ہے، وہ درخواست دیتا ہے تو آپ اگلے دن کی تاریخ دیں، دو دن کی دیں، جج تو بہانہ ڈھونڈتے ہیں کیس لٹکانے کیلئے۔ ہم نے 184(3) کے بارے میں 2012 میں پروپوز کیا تھا، میں نے چیف جسٹس صاحب کو بھی کہا 184(3) میں رائٹ ٹو اپیل کے بغیر فیئر جسٹس ممکن ہو سکتا ہے۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ ایکسپلا ئٹیشن نہ ہو۔مگر جب حکومت خود ہی استحصال کرے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔اگر حکومت نے ہماری تجویز تسلیم کی ہوتی تو آج حکمرانوں کا فیئر ٹرائل کا حق محفوظ ہوتا۔ یہ ان کی نا اہلی ہے جس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ ظفر اقبال صاحب نے رولز کے خلاف پٹیشن دائر کی ہے۔ تمام چیف جسٹس کو پارٹی بنایا،کسی نے جواب نہ دیا، ہم اپنی پوری کوشش کررہے ہیں کہ اپنا رول ادا کریں لیکن یہ ہم سب کو مل کر کرنا ہے۔ ہائیکورٹ کے ججوں نے رولز نہیں بنائے۔ یہ انکی غلطی ہے، نااہلی بھی ہے، نیچے عدلیہ نے پوری بدمعاشی بنالی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک جج صاحب آئے، کافی سارے وکیل ان کے ساتھ گئے۔ اسلام آباد میں وکلاء کی تعداد کتنی بڑھ گئی ہے، کیا وجہ ہے؟ میں تو بڑے واضح انداز میں کہتا ہوں کہ ماتحت عدلیہ انصاف کی قتل گاہ ہے۔ ہم نے آرٹیکل 184(3) کے خلاف قرار داد پاس کی ہے کہ رائٹ ٹو اپیل دیں۔ ہم نے آرٹیکل 2 اور 3 کے تحت ترمیمیں تجویز کی ہیں،ہم نے CPC میں ترمیم تجویز کی ہیں، ہم نے درخواست دی ہے، ہائیکورٹ کے ججز کے خلاف زیر تجویز ہے۔

چیف جسٹس کا کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں ہے۔ وہ استحصال کے خلاف لڑرہے ہیں۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ عدلیہ کو سیاسی مقدمات نہیں کرنا چاہئے، مگر ایک بات ہے کہ وہاں کون گیا ہے؟ سیاستدان گئے ہیں، اپنے گندے کپڑے سپریم کورٹ کی لانڈری میں دھو رہے ہیں۔ سیاستدانوں کو اپنے مسائل پارلیمنٹ میں حل کرنے چاہئیں، سب سیاستدان ایک جیسے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف، کسی کے پاس کوئی وژن نہیں، اب اپنے اپنے مفاد کے اسیر ہیں۔ چیف صاحب کو کیوں پذیرائی ملی؟ اسلئے ملی کہ ڈکٹیٹر ہوں یاسیاستدان سب دونمبر ہیں، ان کی غلطیوں کی وجہ سے ایک بڑا ویکیوم تھا، خلاء تھا، جو کہ چیف صاحب پورا کررہے ہیں۔ ظفر اقبال کلا نوری بھی تشریف لے آئے اور انہوں نے بھی اظہار خیال کیا۔ انکا کہنا تھا کہ میں چیف صاحب کے ساتھ بہت قربت میں کام کررہا ہوں۔ ان کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں۔ وہ تو اپنا کام کررہے تھے،پتہ نہیں کہاں سے ہدایت ملی اور وہ نکل کھڑے ہوئے۔ میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ وہ واحد شخص ہیں جو جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان کی ذاتی دلچسپی اور کمٹمنٹ کی وجہ سے الیکشن ہورہے ہیں ورنہ باقی کوئی بھی الیکشن میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

آپ دیکھیں ہیومن رائٹس کے مقدمات میں 85 فیصد رزلٹ ہے، وہ کیا کہتا ہے،جو کام نہیں کرتا اسکو کام کا کہتا ہے۔لوگ بے حس ہوگئے ہیں۔ یہ باہر جو آم بیچ رہا ہے نوازشریف کو گالی دیگا، خود گندے آم بیچے گا، سسٹم سٹر چکا ہے،اخلاقیات ختم ہو چکی ہیں، معیار ختم ہوچکے ہیں۔ میں خود کو بڑا Influential بندہ سمجھتا ہوں لیکن مجھے اپنی سالی کے گھر بجلی کی تار لگانے کیلئے 35 ہزار روپے دینے پڑے،کیوں، اسلئے کہ سارا نظام خراب ہے، عدلیہ اپنا کام نہیں کررہی ہے، ادارے کام نہیں کررہے ہیں۔ ان حالات میں اگر ایک بندہ کچھ بہتری کا کام کررہا ہے تو اسکی حمایت کرنی چاہئے،اسکا ساتھ دینا چاہئے، اسکے کوئی عزائم نہیں ہیں یہ میں پورے یقین سے کہتا ہوں۔

  انہوں نے میرے اس سوال سے اتفاق کیا کہ دوسروں کے کپڑے دھونے سے بہتر نہیں ہوگا کہ چیف صاحب اپنے ادارے کو فعال کریں۔جس طرح آپ لوگ خود کہہ رہے ہیں کہ ماتحت عدلیہ تباہ ہے، ہائیکورٹس کام نہیں کررہیں،لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں۔ چیف صاحب چند مہینوں کے مہمان ہیں جب وہ چلے جائیں گے تو پھر کیا ہوگا۔ بات یہ ہے کہ اگر چیف صاحب واقعی مخلص ہیں، ان کے کوئی ذاتی عزائم نہیں، وہ خدمت کرنا چاہتے ہیں تو ہائیکورٹس کو Screw کریں، ہائیکورٹس کا ماتحت عدلیہ پر کردارمیں اضافہ کریں، عدلیہ کی بہتری کیلئے کام کریں، ایک شخص کی حد تک انصاف محدود ہوجانے کی بجائے ادارے کو بہتر کریں۔ ظفر اقبال نے کہا کہ بالکل ٹھیک ہے، لیکن یہ یاد رکھیں کہ چیف صاحب تبدیلی نہیں لا سکتا ہے۔ یہ حکومت کا کام ہے مگر ایک بات یاد رکھنا کہ آئندہ کرپشن کرنے والے لاکھ بار سوچیں گے، یہ ان کی Contribution ہے۔ آپ دیکھیں، پروفیشنل اداروں پر اسکی نظر کرم پڑی تو دیکھیں کہ یہ ادارے کیسے ٹھیک ہوتے ہیں۔ عنقریب جعلی وکیل بھی نہیں رہیں گے۔ یہ انکی بڑی Contribution ہے۔ تعلیم و صحت کی بہتری کیلئے حکومت نے کام نہیں کیا۔ اگر انکی مہربانی سے کوئی بہتری آئے تو بری بات نہیں۔ میرا خیال ہے ایک بے رحمانہ احتساب کی ضرورت ہے۔ دس الیکشن کرالیں، کچھ نہیں بدلے گا، سب خراب ہے، سب کی تطہیر کی ضرورت ہے، اپنے آپ پر بھروسہ پیدا کرنا ہے،دوسروں پر نہیں،چائنا بیوپاری ہے کل اس نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیکر ہمیں پیغام دیا کہ اپنی حیثیت نہ ہو تو کوئی مقام نہیں دیتا۔

مسئلہ صرف موبائل اٹھانا یا پھینکنا نہیں ہے، عدلیہ کی حالت بہت خراب ہے، لوگ انصاف کیلئے ذلیل ہورہے ہیں۔ Stay کا فیصلہ کرنے کی مدت مقرر ہے، فیملی کیسز کے مقدمات کی مدت مقرر ہے مگر کوئی بھی عدالت پرواہ نہیں کرتی۔ ججوں کے ٹاؤٹ ہیں، سب کچھ کھلے عام ہورہا ہے۔اعلیٰ عدلیہ کو سب پتہ ہے اسلئے چیف صاحب نے عدالت کا دورہ کیا، آپ یہ اختلاف کر سکتے ہیں کہ طریقہ ٹھیک نہیں تھا لیکن نیت پر کوئی شک نہیں۔

پیر صاحب نے کہا کہ ہم عدلیہ کے ساتھ انصاف کے نظام کی بہتری کیلئے اپنی تجاویز اور کردار ادا کرنے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔ اس حوالے سے ہم کئی بار اجلاس، سیمینار بھی کرچکے ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان کو بھی اسکا ادراک ہے۔ ابھی بہت جلد جوڈیشل کانفرنس ممکن ہے، آپ کو بھی بلائیں گے۔ جناب ظفر اقبال کلانوری نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ میں چیف صاحب کے ساتھ رہتا ہوں۔میں آپ کو ایک بات بتادوں کہ آج ملک کے تمام ادارے ان کے خوف کی وجہ سے تھر تھر ا رہے ہیں بس یہی انکاکریڈٹ ہے۔ ملک میں لاکھوں بچے تعلیم حاصل کرکے آرہے ہیں، مگر نوکری نہیں ملتی کیونکہ نظام تباہ ہو چکا ہے۔چیف صاحب صرف حکومت سے دکھی نہیں ہیں اپنے ادارے سے بھی دکھی ہیں۔ پہلے جج پسند نا پسند سے آتے تھے اب باقاعدہ نظام بنایاجارہا ہے۔ پچھلے سال ہائیکورٹ کے 9 جج صاحبان نے ایک ماہ میں کوئی کیس نہیں کیا۔25 لاکھ روپیہ ایک کا خرچہ ہے۔ اب پالیسی بنائی جارہی ہے، جج مخصوص تعداد میں مقدمات فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔ جس جج کا رولا ہے اس نے پورے دن میں تین کیس کئے تھے اور اس کو لاء کا پتہ بھی نہیں تھا، اوپر فون بھی آن رکھا ہوا تھا، انہوں نے ڈانٹا، غلط یا صحیح مگر آئندہ جج صاحبان کم ازکم ڈریں گے تو سہی۔ میں نے کہا، کہ یہیں میرا اختلاف ہے محترم چیف جسٹس سے۔ وہ انصاف نہیں کررہے۔ ہائیکورٹ کے 9 جج قریباً25 لاکھ لیکر پورے مہینے میں آپ کے بقول ایک مقدمہ کا فیصلہ بھی نہ کریں۔ ان سے پوچھا نہیں جا سکتا ہے اور ماتحت جج تین مقدمات کی بناء پر بے عزت کیا جائے۔ آپ اسکو انصاف سمجھتے ہیں، تو جواب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی بن جائے تو سب Accountable ہو جائیں گے۔میں نے کہا،مطلب یہ ہے جب تک پالیسی نہیں کوئی بھی جوڈیشری نہیں، کوئی بھی Accountable نہیں، باقی سب ادارے ایک شخص کے سامنے جواب دہ ہیں۔

ظفر اقبال کلا نوری نے کہا کہ میں آپ کو ان کے ساتھ ملاؤں گا، آپ ان سے ملیں تو آپ کے خیالات کلیئر ہو جائیں گے۔ میں نے کہا، کہ مجھے کسی جج کسی سیاستدان سے کوئی غرض نہیں ہے۔ میری غرض پاکستان ہے اور میں اسلئے بے دھڑک تنقید کرتا ہوں کیونکہ میں نے اس زمین میں دفن ہونا ہے اور جو بھی غلط کرے وہ جنرل ہو، چیف جسٹس ہو یا وزیر اعظم میری ترجیح یہ مٹی ہے، یہ ملک ہے، یہ لوگ آتے جاتے رہیں گے، میں نے میرے بچوں اور میری نسلوں نے یہیں رہنا اور یہیں دفن ہونا ہے، اسلئے میری ترجیح ہے، مٹی کے پتلے نہیں۔نوازشریف کے بارے میں کلا نوری صاحب نے کہا کہ نوازشریف کو سو فیصد سزا ہوگی، میں نے جے آئی ٹی پڑھی ہے بہت محنت سے کام ہوا ہے،طلال چوہدری کو سزا ہوگی، جو گالی دیگا، قیمت دیگا۔ نہال ہاشمی کو دوسری بار رہائی پیر صاحب کی وجہ سے ہوئی۔ چیف صاحب نے پیر صاحب کو بلایا، انہوں نے کہا، یہ بات قابل معافی نہیں ہے، مگر ایک واقعہ سنایا۔ چیف صاحب مسکرائے اور کہا کہ معاف کردیاہے۔

عمران خان کے بارے میں ظفر اقبال صاحب نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ عمران خان وزیر اعظم بنیں گے۔ میں تو سیٹوں کی تعداد تک بتا سکتا ہوں مگر ہنگ پارلیمنٹ ہوگی اور تین ماہ میں فیل ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں کیونکہ اس کے ساتھ جو لوگ ہیں وہ سب الو کے پٹھے ہیں، سارا گند اکٹھا کرکے اپنے لئے خود ہی قبر کھود لی ہے۔ عمران خان بہتر ورکر لاتا، لوگ لاتا بے شک ہار جاتا، مگر اسکا پیغام اسکی جدوجہد اور عوام کا اعتماد نہ ہارتا، کرسی کیلئے گند اکٹھا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ نہ کوئی منشور ہے، نہ کوئی پروگرام ہے،میرے حلقے میں علیم خان اور ایاز صادق ہیں، کیا یہ دونوں اس قابل ہیں کہ انکو ووٹ دیا جائے، میں نہیں دوں گا، بہت سے لوگ نہیں دیں گے، یہ عدم اعتماد ہے۔ عمران خان نے جو سالہا سال جدوجہد کی تھی اسکو خود ہی کچرے سے بدبو دار کردیا۔ لوگ ایسے بھاگے بھاگے جارہے ہیں کیونکہ وہاں لانڈری کھول دی گئی ہے اور میلے کپڑے صاف کرکے عوام کے گلے میں ڈالے جارہے ہیں۔ الیکشن کے بعد حالات اور کیا خراب ہوں گے آپ دیکھیں کہ لوگ ایک ووٹ کیلئے موٹر سائیکل دے دیتے ہیں، اس نے آگے کیا کرنا ہے، قوم کو سمجھنا چاہئے، ایسے کوگوں کو مسترد کرنا چاہئے۔

پیر کلیم احمد خورشید صاحب نے اس موقعہ پر حوصلہ افزائی بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان تمام تر خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود ہم پر امید ہیں کہ بہتری آئے گی۔ ہم اپنی تمام تر صلاحیتیں استعمال کررہے ہیں اور ہمیں پوری امید ہے ایک دن ہم Shining Nation ہوں گے۔ انشاء اللہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں