سیالکوٹ کی سیاسی صورتحال۔ کون جیتے گا اور کیوں؟

سیالکوٹ کی سیاسی صورتحال۔ کون جیتے گا اور کیوں؟


25 جولائی 2018 کو منعقد ہونے والے عام انتخابات امیدواروں کو انتخابی نشان الاٹ ہونے سے آخری مرحلہ میں داخل ہو چکے ہیں جس سے انتخابات کے ملتوی ہونے کے خدشات بھی ختم ہو گئے ہیں۔یہ انتخاب اس حوالے سے کافی اہم اور دلچسپ ہے کہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے اپنا آئینی عرصہ پورا کیا ہے اور ان کے دور اقتدار میں ہی مسلم لیگ ن کے سربراہ اور ان کے خاندان کا احتساب شروع ہوا ہے جو پاکستانی نظام میں ایک انوکھا واقعہ ہے کیانکہ یہاں احتساب ہمیشہ اپوزیشن کا ہوتا رہا ہے۔مسلم لیگ ن 2002 کے انتخابات کے بعد پہلی بار مشکلات کا شکار نظر آرہی ہے۔جسکا واضح ثبوت سیاسی موسمی پرندوں کی ہجرت ہے۔چند ایک سیاستدانوں کو چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں وہی رہا ہے جسکو پاکستان تحریک انصاف میں قبول نہیں کیا گیا یا جسکی گنجائش نہیں بن سکی۔ ملک بھر کی طرح سیالکوٹ میں بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور امیدوار کامیابی کیلئے دوڑ دھوپ میں مصروف ہیں۔ سیالکوٹ پانچ قومی اسمبلی اور گیارہ صوبائی اسمبلی کے حلقوں پر مشتمل ہے جسکا حلقہ وار تجزیہ پیش خدمت ہے۔

حلقہ این اے 72 سیالکوٹ۔ حلقہ این اے 72 سیالکوٹ 28 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے جسکی کل آبادی 753686 ہے،کل ووٹ447309 ہیں جس میں جٹ برادری 25 فیصد، اعوان15،آرائیں 15،گجر30 فیصد ہیں۔ اس حلقہ سے مسلم لیگ ن کی طرف سے ارمغان سبحانی، پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے اشفاق گیلانی امیدوار ہیں۔ اس حلقہ کا نمبر گزشتہ انتخاب میں 111 تھا جبکہ 1985 اور 1988 کے انتخاب میں 86 سال 2013 کے انتخاب میں اس حلقہ سے چوہدری ارمغان سبحانی مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 137474 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 51046 ووٹ جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار اجمل چیمہ نے31153 ووٹ حاصل کئے۔ 2008 کے الیکشن میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 78925 ووٹ لیکر کامیاب ہوئیں، پاکستان مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر سابق ایم پی اے ادریس احمد باجوہ نے 38193 جبکہ پاکستان مسلم لیگ ق کے امیدوار سابق سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین نے 46372 ووٹ حاصل کئے۔ 2002 میں مسلم لیگ ق کے چوہدری امیر حسین نے52378، مسلم لیگ ن کے ادریس احمد باجوہ نے 50761، پیپلز پارٹی کے طارق یوسف نے25329 ووٹ حاصل کئے۔ 1988 میں چوہدری امیر حسین مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر 58545 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے،پیپلز پارٹی کے فیض احمد نے 55163 جبکہ آزاد امیدوار سابق ایم این اے میاں مسعود احمد نے 6900 ووٹ حاصل کئے۔ چوہدری امیر حسین اس حلقہ سے پانچ بار ایم این اے منتخب ہوئے اور سپیکر قومی اسمبلی اور وزیر قانون رہے ہیں۔ سال 2013 سے قبل تحریک انصاف میں شامل ہوگئے اور اس حلقہ سے اس بار ٹکٹ کے امیدوار تھے جو انہیں جاری نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سیاست کا آغاز 2001 میں خواتین کی نشست پر ممبر ضلعی اسمبلی منتخب ہو کر کیا اور 2002 میں قومی اسمبلی کی خواتین نشستوں پر مسلم لیگ ق کی طرف سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو کر پارلیمانی سیکرٹری بنیں جبکہ 2008 کے الیکشن سے قبل وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئیں اور عام انتخابات میں جنرل نشست پر منتخب ہو کر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بہبود آبادی رہیں۔حلقہ میں ترقیاتی کام کروانے کا ریکارڈ قائم کیا خصوصاً حلقہ کے دور دراز دیہات میں گیس کی فراہمی کیلئے انہوں نے انتھک محنت کی لیکن 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگی امیدوار ارمغان سبحانی سے شکست سے دوچار ہوئیں۔ بعد ازاں انہوں نے پیپلز پارٹی کو خیر باد کہہ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی اور حلقہ کے عوام کے ساتھ مسلسل اور بھر پور رابطے میں رہیں۔ انکی عوامی مقبولیت کی بناء پر ہی چوہدری امیرحسین کے مقابلہ میں تحریک انصاف نے انہیں نہ صرف ٹکٹ سے نوازا بلکہ انکی ڈیمانڈ پر صوبائی اسمبلی کے امیدواروں طاہر محمود ہندلی سابق ایم پی اے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی اسمبلی کے سابق ٹکٹ ہولڈر میاں عابد جاوید جنکو تحریک انصاف کی جانب سے ٹکٹ جاری کئے گئے تھے تبدیل کرکے سعید بھلی ایڈووکیٹ اور مرزا دلاور بیگ کو جاری کروالئے ہیں جو انکی کی ایک بہت بڑی کامیابی سمجھی جارہی ہے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا مقابلہ مسلم لیگ نواز کے سابق ایم این اے ارمغان سبحانی سے ہے جو گزشتہ انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیتے تھے۔ وہ اس سے قبل 2002 میں ایم پی اے منتخب ہو کر پاکستان مسلم لیگ ق کی حکومت میں صوبائی وزیر بھی رہے ہیں۔ جبکہ 2008 کے ضمنی انتخابات میں ذیلی حلقہ پی پی 104 جو تبدیل ہو کر 121 ہوا میں آزاد امیدوار کے طور پر مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا حیدر اقبال سے شکست کھا گئے۔ چوہدری ارمغان سبحانی گوجر برادری سے تعلق رکھتے ہیں جو کہ حلقہ کی سب سے بڑی برادری ہے لیکن بطور ایم این اے حلقہ کے عوام کو ان سے رابطہ نہ رکھنے اور انکے ترقیاتی کام بھرپور طریقہ سے نہ کروانے کا گلہ ہے۔ مسلم لیگ ن کا ملکی سطح پر زوال اور ارمغان سبحانی کا حلقہ کے عوام سے بھرپور اور مؤثر رابطہ اور تعلق نہ ہونا انکے لئے کافی پریشانی کا سبب نظر آرہا ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی نے ابتدائی طور پر ٹکٹ سابق ایم پی اے ملک طاہر اختر اعوان کو جاری کیا تھا جو جماعت کے سابق ضلعی صدر بھی ہیں جو کہ آخری مراحل میں انہوں نے واپس کردیا ہے اور الیکشن سے دستبردار ہوگئے ہیں جو کہ اب انکی جگہ ایک غیر معروف اشفاق گیلانی نامی شخص کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔

اس حلقہ میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے درمیان بھرپور مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے جبکی فردوس عاشق اعوان کی گزشتہ پانچ سالوں میں حلقہ کے عوام سے بھرپور رابطہ تحریک انصاف کے ملکی سطح پر گراف بہتر ہونے اور مسلم لیگ ن کی مشکلات کے باعث ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی کامیابی کے زیادہ امکانات نظر آرہے ہیں۔

حلقہ پی پی 35 سیالکوٹ1۔ یہ حلقہ 12 یونین کونسل پر مشتمل ہے جسکی کل آبادی 354624 اور کل ووٹ 218989 ہیں جس میں اعوان 15، گوجر 15، آرائیں 30، جٹ22 فیصد ہیں۔ اس حلقہ سے مسلم لیگ ن کے امیدوار رانا عارف اقبال ہر ناہ، پی ٹی آئی کے مرزا دلاور بیگ، پیپلز پارٹی کے چوہدری شوکت وزیر علی اور ملک ضیافت علی اعوان آزاد امیدوار ہیں۔ یہ حلقہ گزشتہ انتخابات میں 121 جبکہ قبل ازیں 104 تھا۔ سال 2013 میں رانا اقبال مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 65642 ووٹ لے کر منتخب ہوئے جبکہ پیپلز پارٹی کے میں عابد جاوید نے 24910 اور تحریک انصاف کے آصف رضا جو کہ سابق سپیکر چوہدری امیر حسین کا فرزند ہے نے 19922 ووٹ حاصل کئے۔ 2008 کے انتخابات میں رانا طارق محمود جو کہ رانا عارف اقبال کا بھائی تھا نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر 49392 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ مسلم لیگ ق کے محمد اجمل چیمہ سابق صوبائی وزیر نے 26916 اور پی پی پی کے طارق یوسف نے 12342 ووٹ حاصل کئے۔ رانا طارق چند ماہ بعد ہی ایک حادثہ میں وفات پاگئے تو ضمنی انتخابات میں رانا عارف اقبال کو ٹکٹ مسلم لیگ ن کی طرف سے جاری ہوا مگر ان کے کاغذار محکمہ انہار میں ملازمت کی بناء پر مسترد ہوگئے اور انکے والد رانا محمد اقبال کو ٹکٹ جاری کیا گیا جنہوں نے 35805 ووٹ حاصل کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ خوش اختر سبحانی سابق صوبائی وزیر نے آزاد امیدوار کے طور پر 19576 جبکہ چوہدری صغیر احمد نے 17496 ووٹ حاصل کئے۔ سال2002 میں اجمل چیمہ نے مسلم لیگ ق کے امیدوار کے طور پر 43113 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن کے صوبر ملک نے 17944 اور پیپلز پارٹی کے یوسف خلجی نے 10859 ووٹ حاصل کئے۔

 اس حلقہ میں رانا عارف اقبال نے اپنے والد کے دو ادوار میں ایم پی اے ہونے کی بناء پر عملی طور پر بطور ایم پی اے کام کیا ہے اور عوام سے بھر پور رابطہ میں رہے ہیں۔ رانا عارف اقبال کے مد مقابل پی ٹی آئی کے ساتھ ساتھ آزاد امیدوار کے طور پر ملک ضیافت علی اعوان بھی مضبوط امیدوار ہیں جو کہ یونین کونسل کے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر چیئر مین منتخب ہو کر وائس چیئر مین ضلع کونسل سیالکوٹ بھی منتخب ہوئے اور اب استعفیٰ دے کر انتخابات لڑ رہے ہیں۔ وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ کے امیدوار تھے اور میاں نواز شریف سے ذاتی قریبی تعلقات کی بناء پر بہت پر امید بھی تھے۔ اسی طرح اس حلقہ سے چوہدری شاہد محمود وڑائچ بھی ٹکٹ کے امیدوار تھے جنکے بھی میاں صاحب سے ذاتی مراسم ہیں۔ انکے والد دو بار ناظم یونین کونسل اور ایک بار نائب ناظم اور ایک بار ممبر ضلع کونسل منتخب ہوئے اور بعد ازاں 2001 میں نائب تحصیل ناظم سیالکوٹ بھی منتخب ہوئے۔ ملک ضیافت اور شاہد وڑائچ کو مسلم لیگ ن کا ٹکٹ جاری نہ ہوا ہے۔ملک ضیافت علی کو سال 2013 میں اسی حلقہ سے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ جاری ہوا جو کہ بعد ازاں میاں شہباز شریف کی طرف سے کسی بھی موجودہ ایم پی اے اور ایم این اے کو ٹکٹ سے محروم نہ کئے جانے کی پالیسی پر منسوخ ہو کر رانا محمد اقبال کو ہی جاری کردیا گیا۔ حالانکہ اس وقت رانا اقبال کی بجائے رانا عارف اقبال ٹکٹ کے امیدوار تھے۔ ملک ضیافت علی بطور آزاد امیدوار ضاصے مضبوط ہیں جنکے متعلق سیاسی مبصرین خیال کرتے ہیں کہ یا تو وہ یہ نشست جیت جائیں گے یا رانا عارف کو بھی ہروادیں گے اور اسکا پی ٹی آئی کے امیدوار مرزا دلاور بیگ کو فائدہ پہنچے گا۔ پی ٹی آئی کے امیدوار مرزا دلاور بیگ بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر یونین کونسل کے چیئر مین منتخب ہوئے۔ انکی ٹکٹ کیلئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھر پور جنگ لڑ کر میاں عابد جاوید جو 2013 کے انتخابات میں انکے ہمراہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے کو فارغ کروایا ہے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار ایم این اے ارمغان سبحانی اور رانا عارف اقبال ایک ہی جماعت کے امیدوار ہیں لیکن دونوں کے قریبی ساتھی ہر دوسرے کو خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے نظر نہ آرہے ہیں۔ ملک ضیافت علی اعوان مسلم لیگی ووٹ کے ساتھ اعوان برادری کے ووٹ کو بھی متاثر کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ مقابلہ ملک ضیافت علی اور پی ٹی آئی کے مرزا دلاور بیگ کے درمیان ہی ہوگا۔ اس حلقہ کی دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں امیدوار یونین کونسل کے چیئر مین کے عہدہ سے استعفیٰ دے کر انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

حلقہ پی پی 38 سیالکوٹ4۔ یہ حلقہ 13 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے جسکی کل آبادی 366177 جبکہ کل ووٹ 208459 ہیں۔جس میں جٹ20، گوجر30،ملک10، راجپوت15 فیصد ہیں۔ اس حلقہ سے مسلم لیگ ن کی طرف سے خوش اختر سبحانی، پی ٹی آئی کی طرف سے سعید احمد بھلی ایڈووکیٹ جبکہ طاہر محمود ہندلی آزاد امیدوار کے طور پر قابل ذکر ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں یہ حلقہ 125 تھا۔ سال 2013 کے انتخاب میں اس حلقہ سے چوہدری طارق سبحانی جو کہ خوش اختر سبحانی کے بھائی ہیں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 59706 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے۔ انکے مد مقابل طاہر محمود ہندلی سابق ایم پی اے نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 20030 ووٹ حاصل کئے جبکہ تحریک انصاف کے شاہنواز نے 10037 ووٹ حاصل کئے۔ 2008 کے انتخاب میں پیپلز پارٹی کے طاہر محمود ہندلی نے 27721 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ خوش اختر سبحانی نے مسلم لیگ ق کے امیدوار کے طور پر 26360 جبکہ جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار نے 17729 ووٹ حاصل کئے۔ 2002 میں خوش اختر سبحانی نے مسلم لیگ ق کے امیدوار کے طور پر 30563 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ پیپلز پارٹی کے طاہر محمود ہندلی نے 22672 اور مسلم لیگ ن کے شجاعت علی پاشا نے 8228 ووٹ حاصل کئے۔ اس سے قبل منعقد ہونے والے انتخابات میں اس حلقہ کے علاقہ جات مختلف حلقوں 124-123-122-121 میں شامل تھے۔ اس حلقہ میں اس بار ایک دلچسپ مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار سابق صوبائی وزیر خوش اختر اس حلقہ سے ایک بار جیت چھوڑ کر جا چکے ہیں اور 2013 میں انکے حقیقی بھائی اس حلقے سے منتخب ہوئے جبکہ خوش اختر سبحانی نے اس حلقہ کی ایک اہم یونین کونسل بھاگوال سے سال 2015 کے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کے نامزد امیدوار چوہدری امان اللہ باجوہ کے خلاف آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا اور ہارگئے۔ الیکشن شروع ہونے قبل اس حلقہ کے سرکردہ مسلم لیگی رہنماؤں نے باقاعدہ اجلاس کرکے وریو خاندان کی مخالفت کرنے کا اعلان کیا اور مسلم لیگی قیادت سے انکے علاوہ کسی جٹ برادری کے امیدوار کو ٹکٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا جو کہ نہ مانا گیا ہے اور گوجر برادری کے وریو خاندان کو ہی ٹکٹ جاری کردیا گیا ہے۔ بلدیاتی انتخاب میں ایک طرف ان کے کزن اور بھائی ایم این اے اور ایم پی اے نے جماعتی پالیسی کے تحت ٹکٹ جاری کئے جن کے مد مقابل کوش اختر سبحانی نے آزاد امیدوار کھڑے کرکے نہ صرف انکی حمایت کی بلکہ ان میں سے اکثر نے مسلم لیگی امیدواروں کو شکست بھی دے دی جس میں یونین کونسل کمانوالہ کندن پور۔ لنگڑیالی شامل ہیں۔جس وجہ سے ہارنے والے ٹکٹ ہولڈر ان سے نالاں ہیں اور سخت مخالفت کررہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے جن لیڈروں اور عہدے داروں نے علم بغاوت بلند کر رکھا ہے ان میں یونین کونسل رسول پور بھلیاں سے چوہدری محمد رفیع سابق ممبر ضلع کونسل سابق ٹکٹ ہولڈر مسلم لیگ ن حلقہ 125 (پی پی 38)جو ضلعی انفارمیشن سیکرٹری مسلم لیگ ہیں۔ چوہدری دلاور آف کالا ہراواں یونین کونسل رسول پور بھلیاں ضلعی نائب صدر مسلم لیگ ن۔ چوہدری منور حسین کالا ہراواں چوہدری امان اللہ باجوہ چیئر مین یونین کونسل بھاگوال، زرخیز انور وائس چیئرمین یونین کونسل بھاگوال، ثناء اللہ باجوہ سابق ناظم یانین کونسل بھگوال۔ ثناء اللہ چیمہ بھاگوال، ضیاء اللہ طرف بھولا سابق ٹکٹ ہولڈر، سابق ناظم یونین کونسل لنگڑیالی۔ باؤ انور امیدوار چیئر مین سعید افواتی ملک رضا اعوان سابق ناظم راجہ ہریال۔ افضل ولانہ ٹکٹ ہولڈر یونین کونسل کندنی پور۔چوہدری اسلام ساکن لنگڑیالی۔طلعت وڑائچ طارق لالی ساکنان گند کلاں۔ چوہدری خالق بھٹی ساکن اورہ سابق نائب ناظم محمد رمضان گوہر بھٹہ کلاں۔ ملک امداد ڈھینگلہ جو مسلم لیگ ن کے گزشتہ انتخاب میں سرگرم سپورٹر تھے اور اب بغاوت کرکے PTI کے امیدوار کی بھر پور مہم چلا رہے ہیں۔حیران کن امر یہ ہے کہ ان سب مسلم لیگی ورکروں کی سرپرستی مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر ادریس احمد باجوہ سابق ایم پی اے کررہے ہیں اور وہ تمام حلقہ میں جاکر ورکرز کو ارمغان سبحانی اور خوش اختر سبحانی کے خلاف ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں جو انتخابات میں موجودہ اور گزشتہ ٹکٹ نہ ملنے پر سخت نالاں ہیں اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کیلئے باقاعدہ جلسے کرکے انکی حمایت کی تیاری میں ہیں۔

اس حلقہ میں پی ٹی اے کے امیدوار نووارد ہیں سعید بھلی جس یونین کونسل سے چیئر مین ہیں وہ اس حلقہ میں شامل نہ ہے۔ طاہر ہندلی یہاں سے پی ٹی آئی کے امیدوار تھے جنکو ابتدائی طور پر ٹکٹ جاری بھی ہوگئی جو عثمان ڈار گروپ کی سفارش پر جاری ہوئی۔ طاہر ہندلی کے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے تعلقات خوشگوار نہ ہیں حالانکہ 2008 میں وہ اکٹھے منتخب ہوئے اور 2013 کا انتخاب بھی پیپلز پارٹی سے اکٹھے لڑا۔ وہ اس حلقہ میں کافی اثرو رسوخ کے حامل ہیں لیکن ٹکٹ نہ ملنے پر وہ آذاد حیثیت سے قسمت آزمائی پر آمادہ ہیں۔ انکا تعلق بھی گوجر برادری سے ہے ان کے انتخاب میں حصہ لینے کی صورت میں سعید احمد بھلی کو نقصان کی بجائے فائدہ پہنچے گا کیونکہ انکے انتخاب میں حصہ نہ لینے کی صورت میں ان کے ووٹ بینک کی اکثریت خوشنود اختر سبحانی کو ملے گی۔ سعید احمد بھٹی نوجوان وکیل ہیں اپنی یونین کونسل پلوڑی سے مسلم لیگی پینل کو شکست دے کر آزاد حیثیت میں منتخب ہوکر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے ان کا مقابلہ آزاد کشمیر اسمبلی کے ممبر اور وزیر جیل خانہ جات چوہدری محمد اسحاق کے بڑے بھائی جو وائس چیئرمین کے امیدوار تھے سے تھا۔ سعید احمد بھٹی بہت جوش و جذبہ سے انتخابی مہم ڈاکٹرفردوس عاشق اعوام کی سرپرستی میں چلارہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر اویس احمد باجوہ اور حلقہ کی وریوبردران سے مخالفت رکھنے والی مسلم لیگی قیادت ان کی بھرپور حمایت کررہی ہے جس سے ان کی پوزیشن خاصی مستحکم نظر آرہی ہے۔ تحریک انصاف کے ورکرز کا جوش و جذبہ ان کی جیت میں اہم کردار ادا کرتا نظر آرہا ہے۔

حلقہ NA-73سیالکوٹ II۔ یہ حلقہ سیالکوٹ شہر کی 24یونین کونسلوں 3دیہی کونسلوں اور کنٹونمنٹ بورڈزپر مشتمل ہے حلقہ کی کل آبادی 823,323جبکہ ووٹروں کی تعداد 343,231ہے۔ حلقہ میں آرائیں برادری کا تناسب 35%، کشمیری برادی 18%، گوجر برادری 15%، جٹ برادری 5%، راجپوت برادری 5%اور ملک برادری 5%ہے حلقہ سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار خواجہ محمد آصف، تحریک انصاف کے عثمان ڈار، پیپلزپارٹی کے ملک ضرار محمود ایڈووکیٹ اور تحریک لبیک کے رانا نعیم جاوید ایڈووکیٹ قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ 2013ء کے انتخابات میں اس حلقہ سے خواجہ محمد آصف نے 92,846ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جب کہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے عثمان ڈار نے 71,573ووٹ حاصل کئے، جماعت اسلامی کے امیدوار سابق ایم پی اے ارشد محمود بگو نے 6365ووٹ حاصل کئے۔ واضح رہے کہ یہ حلقہ بھی ان چار حلقوں میں شامل تھا جن میں تحریک انصاف کی جانب سے دھاندلی کا الزام لگایا گیا تھا اور ووٹ کی پرچیوں کے بیگ کھول کر تحقیقات کا مطالبہ عمران خان کی جانب سے کیا گیا تھا اور بالآخر بات دھرنوں تک جاپہنچی جہاں سے پانامہ کا ہنگامہ شروع ہوا۔ 2008کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر خواجہ محمد آصف 73,007 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے، پیپلزپارٹی کے زاہد شبیر نے 32,157 ووٹ لئے، مسلم لیگ (ق) کے میاں ریاض نے 9498ووٹ لئے تھے۔ 2002ء کے انتخابات میں جب مسلم لیگ (ن) زوال کا شکار تھی اور پورے ملک سے صرف 17نشستیں حاصل کرسکی تھی اس وقت بھی خواجہ محمد آصف نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر 42,743ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ مسلم لیگ (ق) کے میاں محمد ریاض نے 38,957، پاکستان پیپلزپارٹی کے راجہ عامر نے 19,391ووٹ حاصل کئے۔ 1997کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر خواجہ محمد آصف 64,394 ووٹ لے کر کامیاب رہے جب کہ پی پی پی کے میاں نعیم الرحمن نے 16,126 اور پی ٹی آئی کے رانا نصراللہ خان نے 2085ووٹ لئے۔ 1993ء میں خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کا پہلا الیکشن لڑا اس سے قبل وہ سینیٹر تھے انہوں نے 66,336ووٹ لئے جب کہ PDA کے امیدوار میاں محمد شفیع نے 43,114ووٹ حاصل کئے۔ 1990ء کے انتخابات میں میاں محمد شفیع آئی جے آئی کے امیدوار تھے انہوں نے 59,515ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جب کہ ان کے مدمقابل سابق ایم این اے میاں مسعود احمد نے PDAکے ٹکٹ پر 38,333ووٹ ھاصل کئے۔

1988ء میں میاں محمد شفیع نے IJI کے امیدوار کے طور پر 59,902 ووٹ حاصل کئے جب کہ PDAکے اختر جاوید پیرزادہ نے 40,850 ووٹ حاصل کئے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں اس حلقہ سے خواجہ محمد آصف کے والد خواجہ محمد صفدر جو ضیاء الحق کی مجلس شوریٰ کے چیئرمین تھے نے 41,987ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، میاں نعیم الرحمن نے 37,168 ووٹ لئے۔ خواجہ محمد آصف کو ان کے والد نے اپنی زندگی میں ہی بینک کی ملازمت سے فارغ کرواکر سینیٹر منتخب کروایا اور 1993ء میں مسلم لیگی میاں محمد شفیع کے پیپلزپارٹی میں شمولیت پر خواجہ آصف عام انتخابات میں شریک ہوئے وہ آج تک ناقابل شکست رہے ہیں۔ خواجہ آصف نجکاری کمیشن کے چیئرمین، وزیر پیٹرولیم، وزیر دفاع، وزیر پانی و بجلی اور وزیر خارجہ رہے ہیں۔ اسلام آباد سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں اقامہ کی بنیاد پر نااہل کردیا جو کہ سپریم کورٹ سے ان کی نااہلیت ختم کردی گئی۔ موجودہ الیکشن میں وہ اس حلقہ کے ساتھ ساتھ ذیلی صوبائی حلقہ PP-37سے بھی امیدوار ہیں جس سے وہ گذشتہ انتخابات میں بھی کامیاب ہوئے تھے لیکن نشست چھوڑ دی لیکن حیران کن بات ہے انہیں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے صوبائی حلقہ کی ٹکٹ جاری نہ کی گئی ہے ضمنی انتخابات میں کامیاب منشاء اللہ بٹ سابق صوبائی وزیر بلدیات کو یہ ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔ میرے جیسے مبصرین اس کو مسلم لیگ (ن) کے اندر میاں نوازشریف اور شہباز شریف کی دھڑے بندی قرار دے رہے ہیں کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز پنجاب کے اندر اپنی گرفت مکمل مضبوط کرنے کیلئے مریم نواز گروپ کو تکنیکی طریقہ سے آوٹ کرنے کے درپے ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ خواجہ محمد آصف نے اپنی زوجہ مسرت آصف خواجہ کو خواتین نشستوں پر رکن قومی اسمبلی منتخب کروانے کیلئے درخواست جمع کروائی ہے۔ 2002ء جیسے انتخابات میں بھی خواجہ محمد آصف نے اپنے خاندان سے ایم این اے کی نشست کیلئے کوئی کوشش نہیں کی۔

خواجہ آصف کے مدمقابل عثمان ڈار پی ٹی آئی کے ضلعی صدر اور مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل بھی ہیں، انہوں نے 2013ء کے انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزام کے تحت نتائج کو چیلنج بھی کیا جو ٹریبونل سے سپریم کورٹ تک قانونی جنگ لڑی لیکن کامیابی نہ ہوسکی اور پھر اقامہ کی بنیاد پر نااہلی بھی ان کی درخواست پر کی گئی۔عثمان ڈار کے والد امتیاز الدین ڈار2001ء میں آزاد حیثیت میں مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ق) کے نامزد امیدوار کو شکست دے کر تحصیل ناظم سیالکوٹ منتخب ہوئے اور پھر مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوئے۔ عثمان ڈار کا بھائی عمر ڈار 2008ء میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کا امیدوار تھا اور یونین کونسل کا نائب ناظم اور تحصیل ناظم بھی منتخب ہوچکا ہے۔ عثمان ڈار کا شمار اس وقت تحریک انصاف کی مرکزی قیادت میں ہوتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے امیدوار ملک ضرار محمود پیپلزپارٹی سے شروع سے ہی وابستہ ہیں ان کے والد ملک فیض محمد پیپلزپارٹی کے بانی رکن تھے۔ ملک ضرار محمود پہلی مرتبہ عملی سیاست میں بطور امیدوار شرکت کررہے ہیں اس حلقہ میں خواجہ محمد آصف اور عثمان ڈار کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے ہارجیت کا فیصلہ ہزاروں ووٹوں کے فرق کی بجائے سیکٹروں کے فرق سے ہونے کی توقع ہے۔

حلقہ PP-36 سیالکوٹ II۔ یہ حلقہ قبل ازیں PP-122اور PP-102تھا جو کہ سیالکوٹ شہر کی 10یونین کونسلوں، کنٹونمنٹ ایریاز اور کچھ دیہات پر مشتمل ہے جس کی کل آبادی 359,038 اور کل ووٹ 163,709 ہیں جس میں آرائیں 25%، کشمیری 18%، جٹ 10%، راجپوت 12% اور ملک 10%ہیں اس حلقہ سے مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد اکرم، ایم ایم اے کے ارشد محمود بگو، پی پی پی کے عمرنواز مغل امیدوار ہین۔ 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے چوہدری محمد اکرام 43,167ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ تحریک انصاف کے عمر فاروق مائر نے 38,283 ووٹ جب کہ پیپلزپارٹی کے آفتاب خان نے 2549ووٹ حاصل کئے۔ اس سے قبل 2012ء میں مسلم لیگ (ق) کے چوہدری محمد اصغر کے دوہری شہریت پر نااہل ہونے پر بھی چوہدری اکرام ضمنی الیکشن جیتے تھے۔ 2008ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے چوہدری محمد اخلاق نے 33,956 ووٹ پی پی پی کی طرف سے راجہ عامر خاں نے 11,038جب کہ مسلم لیگ (ق) کے امیدوار عمرداڑ نے 9961ووٹ حاصل کئے۔ ضمنی انتخابات میں چوہدری محمد اکرام نے 27,291پی پی پی کے راجہ عامر خاں نے 4797ووٹ حاصل کئے۔ 2002 کے انتخابات میں ایم ایم اے کے ارشد محمود بگو 21,185، مسلم لیگ (ن) کے چوہدری اخلاق نے 15,567، پی پی پی کے اظہر حسن نے 5937جب کہ مسلم لیگ (ق) کے میرداؤد نے 9635ووٹ حاصل کئے۔ 1997ء میں مسلم لیگ(ن) کے اعجاز احمد شیخ نے 26,686، پی پی پی کے مظہر شبیر نے 5067 اور پی ٹی آئی کے امجد لطیف نے 1475ووٹ حاصل کئے۔ 1993ء میں ن لیگ کے اعجاز احمد شیخ 28,454، PDFکے یوسف خلجی نے 11,056اور PIF کے ارشد محمود بگو نے 5763 ووٹ لئے۔ 1990ء آئی جے آئی کے اعجاز شیخ نے 29,049اور PDAکے سجاد ڈار نے 10,007 ووٹ لئے۔ 1988ء میں آئی جے آئی کے اعجاز شیخ نے 24,275اور PDAکے حمایت یافتہ حاجی اکرم خاں 13,488ووٹ حاصل کئے۔ 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات میں اعجاز احمد شیخ نے 24,628ووٹ لئے جب کہ ان کے مدمقابل خواجہ راشد جاوید نے 10,434ووٹ حاصل کئے۔ اس حلقہ میں اس مرتبہ مقابلہ پی ٹی آئی کے چوہدری محمد اخلاق جو 2008ء میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اور بعدازاں یونین کونسل کے چیئرمین بھی مسلم کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے اور جماعتی اختلافات کی بنیاد پر کچھ عرصہ قبل پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی ان کا تعلق گجر برادری سے ہے۔ تحریک انصاف نے عثمان ڈار کی سفارش پر گذشتہ انتخابات میں کانڈے دار مقابلہ کرنے والے عمر فارو ق مائر کو نظرانداز کرکے ان کو ٹکٹ دیا ہے اور مسلم لیگ(ن) نے آرائیں برادری سے تعلق رکھنے والے چوہدری محمد اکرام کو ہی ٹکٹ جاری کی ہے۔ اس حلقہ سے 1997تک شیخ اعجاز احمد ناقابل شکست رہے اور کہا جاتا ہے کہ 1985میں خواجہ محمد صفدر کو بھی ان کی وجہ سے ہی آرائیں برادری کے مضبوط امیدوار کے مقابلہ میں کامیابی ملی۔ 25 جولائی 2018ء کو اس حلقہ میں بھی دلچسپ مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے۔

حلقہ PP-37 سیالکوٹ III۔ یہ حلقہ 16یونین کونسلوں پر مشتمل ہے جن میں سے 16 شہری اور 2دیہی یونین کونسلیں ہیں۔ جس کی کل آبادی 359,038 اور کل ووٹر 163,709ہیں جس میں آرائیں 25%، مغل18%،گجر 15% ،جٹ 10%، راجپوت 12%، ملک 10%اور کشمیری 10% ہیں۔ اس حلقے سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سابق وزیر بلدیات پنجاب منشااللہ بٹ، تحریک انصاف کے مہر عاشق حسین اور پیپلزپارٹی کے فیصل گجر ہیں۔ 2013ء کے الیکشن میں اس حلقہ سے خواجہ محمد آصف نے ن لیگ کے ٹکٹ پر 49,455ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ تحریک انصاف کے میاں شکیل احمد نے 32,066جب کہ ق لیگ کے امیدوار سابق ایم پی اے حافظ محمد رضا نے 2173ووٹ لئے۔ خواجہ آصف کی جانب سے نشست چھوڑنے پر منشااللہ بٹ ضمنی الیکشن میں منتخب ہوئے۔ 2008ء کے الیکشن مین عمران اشرف ن لیگ کے ٹکٹ پر 31,622ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ پی پی پی کے خواجہ اویس مشتاق نے 11,638جب کہ مسلم لیگ (ق) کے مہر ارشد محمود نے 11,485 ووٹ حاصل کئے۔ مہر ارشد محمود پی ٹی آئی کے موجودہ امیدوارومہر عاشق حسین کے بھتیجے ہیں۔ 2002ء میں ن لیگ کے عمران اشرف نے 17,707، ق لیگ کے عثمان جاوید نے 15,531، پی پی پی کے خواجہ راشد جاوید نے 7380ووٹ حاصل کئے۔ 1997ء میں مسلم لیگ (ن) کے منشااللہ بٹ نے 36,478اور پی پی پی کے میاں علی حسن نے 11,586ووٹ حاصل کئے۔ 1993ء میں ن لگ کے منشااللہ بٹ نے 34,941 ووٹ جب کہ پی پی پی کے میاں علی حسن نے 27,334اور پاکستان اسلامک فرنٹ کے پروفیسر امین جاوید نے 830ووٹ حاصل کئے۔ 1990ء میں اس حلقے سے چوہدری اختر علی وریونے 31,826، پی ڈی اے کے خواجہ محمد یوسف نے 15,016ووٹ لئے۔ 1988ء کا اس حلقہ سے انتخاب کافی دل چسپ رہا۔ آئی جے آئی کی رکن جماعت پاکستان تحریک استقلال نے ادریس احمد باجوہ کو اس حلقہ سے ٹکٹ دیا جو چوہدری اختر علی وریوکو پسند نہ آیا۔ انہوں نے مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے اور اپنے تعلق دار حلقہ سے متعدد امیدوار کھڑے کردیئے اس طرح خواجہ محمد
یوسف پی پی پی کے ٹکٹ پر 21,077 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، IJIکے امیدوار اویس احمد باجوہ نے 15,044ووٹ حاصل کئے۔ PDP کے صفدر بٹر نے 1789جب کہ آزاد امیدواروں میں چوہدری مشتاق احمد 4986، اکرام بھلوال 2350، بشیر احمد 4432، محمد ارشد محمود 3522، عطامیراں 1548، اویس بٹ 493اور نذیر احمد نے 917ووٹ حاصل کئے۔ اس حلقہ میں منشااللہ بٹ کے بعد عمران اشرف جن کا تعلق مغل برادری سے ہے دوبارہ منتخب ہوئے جنہوں نے 2008 کے دور میں خواجہ آصف سے اختلاف کی بناء پر نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا اور بعد ازاں استعفیٰ واپس لے لیا۔ 2013 میں وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے انکا مطالبہ تھا کہ انہیں ایم پی اے اور ایم این اے کی دو ٹکٹیں دی جائیں جو نہ مانا گیا جس پر انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی ہی واپس لے لئے جس سے تحریک انصاف نے میاں شکیل احمد کو ٹکٹ دیا۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر عمران اشرف 2013 کے الیکشن میں عثمان ڈار کے ساتھ اس حلقہ سے الیکشن میں حصہ لیتے تو خواجہ آصف کو 2013 میں ہرانا کوئی مشکل بات نہیں تھی۔ خواجہ آصف نے اس حلقہ سے بھی صوبائی اسمبلی کے کاغذات جمع کروائے تھے اور الیکشن لڑنے کا اعلان بھی کیا تھا لیکن جماعت کی طرف سے منشاء اللہ بٹ کو ٹکٹ جاری کردیا گیا اور خواجہ آصف کو صرف ایم این اے کا ہی ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس حلقہ میں کانٹے دار مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ میر عاشق کی برادری بہت بڑی برادری ہے اور انہوں نے برادری کے امیدواروں کیلئے جماعتی وابستگی سے ہٹ کر الیکشن مہم شروع کررکھی ہے۔ میر عاشق حسین سال 2001 میں تحصیل ناظم کا انتخاب بھی لڑ چکے ہیں۔1985 میں اس حلقہ سے رانا شمیم احمد خان نے 18606 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ انکے مد مقابل سابق میئر سیالکوٹ ڈاکٹر محمد اشرف آرائیں نے 15526 ووٹ حاصل کئے تھے۔ منشاء اللہ بٹ پہلی بار اس حلقہ سے سال 1990 کے ضمنی انتخاب میں کامیاب ہوئے جو کہ چوہدری اختر وریو نے یہ نشست خالی کی تھی۔

حلقہ این اے 74 سیالکوٹ III۔ یہ حلقہ 31 یونین کونسل پر مشتمل ہے جس میں پسرور شہری بھی شامل ہیں۔ اس کی کل آبادی 778012 ہے جبکہ کل ووٹ 475866 ہیں جن میں راجپوت برادری تیس فیصد، جٹ 20 فیصد،آرائیں 10،گوجر10،ملک20 فیصد ہیں۔ اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کی طرف سے علی زاہد خان، پی ٹی آئی کی طرف سے غلام عباس، منور علی گل سابق ایم پی اے آزاد امیدوار، شجاعت علی پاکستان تحریک لبیک، رانا لیاقت علی سابق ایم پی اے، محمد آصف باجودہ، نرگس فیض ملک پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔ 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے زاہد حامد خان 131607 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے۔ پی ٹی آئی کے موجودہ امیدوارغلام عباس سابق صوبائی وزیر نے بطور آزاد امیدوار 38293، پاکستان تحریک انصاف کے سید اختر حسین رضوی سابق صوبائی وزیر نے 18536 جبکہ پاکستان مسلم لیگ ق کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار یاسر عرفان اسلام رانا جو کہ سابق تحصیل ناظم اور چوہدری مقصود احمد کے بھتیجے اور سابق صوبائی وزیرڈاکٹر تنویر اسلام کے بھائی ہیں نے چوہدری مقصود احمد جو کہ ق لیگ کے امیدوار تھے کے کاغذات مسترد ہونے پر انتخاب میں حصہ لیا اور انہوں نے 18536 ووٹ حاصل کئے۔ 2008 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی طرف سے زاید حامد خان نے 62362، مسلم لیگ ق کے چوہدری عبدالستار وریو نے 56343 جبکہ پی ٹی آئی کے موجودہ امیدوار غلام عباس نے پی پی پی کی ٹکٹ پر 55793 ووٹ حاصل کئے۔2002 میں زاہد حامد خان نے مسلم لیگ ق کی طرف سے 73529 غلام عباس نے پی پی پی کی طرف سے 64749 اور مسلم لیگ ن کے جاوید اقبال ورک نے 18172 ووٹ حاصل کئے۔ 997 میں مسلم لیگ ن کے چوہدری محمد سرور خان نے 59340 پی پی کے اکبر کاہلوی نے 20458 جبکہ نصیر خان نے 2458 ووٹ حاصل کئے۔1996 میں سرور خان مسلم لیگ ن نے 59622 پیپلز پارٹی کی طرف سے زاہد حامد خان نے 44785 اور مقصود احمد نے 462 ووٹ حاصل کئے۔1990 میں IJi کی طرف سے چوہدری سرور خان نے67966 اور اکبر کاہلوی پی پی نے 39995 ووٹ حاصل کئے۔1988 کے انتخاب میں پیپلزپارٹی کے نواز خان جو کہ زاہد حامد خان کے والد اور موجودہ ن لیگی امیدوار علی زاہد کے دادا ہیں نے 32201 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی جبکہ آئی جے آئی کے مہر سرور خان نے 32027 ووٹ حاصل کئے۔ حامد نواز خان محض پونے دوسو ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے۔ موجودہ حلقہ 74 سال 2013 تک 114 اور قبل ازیں 89 ہوا کرتا تھا۔

زاہد حامد خان کو 2008 میں مسلم لیگ ق نے ٹکٹ سے انکار کیا تو اسی روز مسلم لیگ ن نے انہیں اپناامیدوار دستبردار کرواکر ٹکٹ جاری کردیا۔ زاہد حامد خان نے بطور وزیر قانون 3 نومبر کی سمری پر دستخط کرکے ایمرجنسی کا نفاذ اور ججوں کی نظر بندی کا حکم جاری کیا تھا۔ اب ختم نبوت کے حلف میں تبدیلی کی ذمہ داری بھی ان پر ہی ڈالی جاتی ہے جس وجہ سے انہوں نے الیکشن سے دستبردار ہو کر اپنے بیٹے علی زاہد کو میدان میں اتارا ہے، علی زاہد سے زاہد حامد کے دونوں ایم پی اے منور علی گل اور رانا لیاقت علی بغاوت کر چکے ہیں اور انہیں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ جاری نہیں ہوا جس پر دونوں نے بطور آزاد امیدوار علی زاہد کے مقابلے میں کاغذات نامزدگی جمع کروارکھے ہیں اور منور علی گل متعدد بار ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں وہ باضابطہ طور پر بطور آزاد امیدوار ایم این اے کا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے اس حلقہ سے ٹکٹ بیرسٹر منصور سرور جو کہ چوہدری سرور خان کے فرزند ہیں کو جاری کیا جو کہ واپس لے کر غلام عباس کو جاری کیا گیا ہے جو کہ سابق کارکردگی کی بناء پر بہت مضبوط امیدوار ہیں۔ بہر حال علی زاہد اور غلام عباس میں کانٹے دار مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے۔ ختم نبوت کا سلوگن لے کر تحریک لبیک نے شجاعت علی امیدوار اس حلقہ میں دیا ہے جو اچھے خاصے ووٹ حاصل کریں گے جو منور گل اور شجاعت علی کے ووٹ علی زاہد کے خلاف فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

حلقہ پی پی 39 سیالکوٹ V۔ حلقہ این اے 74 کے ذیلی صوبائی حلقوں میں شمار اس حلقہ میں 13 دیہی یونین کونسل شامل ہیں۔ کل آبادی 360075 اور کل ووٹ 222086 ہیں۔حلقہ میں راجپوت30 فیصد،جٹ20، آرائیں 15،ملک10،اور گوجر5 فیصد ہیں۔ اس حلقہ سے مسلم لیگ ن کے مرزا الطاف حسین، تحریک انصاف کے سیف علی خان، تحریک لبیک کے محمد اشرف سیف، پی پی کے ملک کامران، ڈاکٹر تنویر اسلام آزاد، رانا لیاقت علی ازاد امیدوار ہیں۔2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کی طرف سے رانا لیاقت علی50455، پی ٹی آئی کے عامر خالد باجوہ9740،پی پی کے تنویر اسلام11380 ووٹ حاصل کر سکے۔2008 میں ڈاکٹر تنویر اسلام نے پی پی کے ٹکٹ پر 30092 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی اور صوبائی وزیر ثقافت بنے، مسلم لیگ ق کی طرف سے سابق صوبائی وزیر اختر حسین رضوی نے 19930، مسلم لیگ ن کی طرف سے اویس قاسم خان نے 19029 ووٹ حاصل کئے۔2002 میں اختر رضوی مسلم لیگ ق نے 27224، مسلم لیگ ن کے جاوید اقبال ورک نے 12398، پی پی کے رانا نعیم خالد نے 21683 ووٹ حاصل کئے۔ 1997 میں اس حلقہ کا نمبر 110 تھا۔ اختر حسین رضوی نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر26163 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، پی پی کے فضل الہٰی سیٹھی نے 9433 جبکہ آزاد نصیر خان نے 7056 ووٹ حاصل کئے۔ 1993 میں مسلم لیگ ن کے اختر حسین رضوی نے 25224 جبکہ پی پی کے ملک امان اللہ نے 12744 ووٹ حاصل کئے۔1990 میں آیہ جے آئی کے نصیر خان نے 26368 پی پی کے کلیم عباس شیرازی نے 10681 جبکہ فضل الہٰی سیٹھی نے9089 ووٹ حاصل کئے۔ 1988 میں پی پی کے ملک امان اللہ نے 12261 جبکہ آئی جے آئی کے اختر حسین رضوی نے 11096 اور آزادامیدوار فضل الہی نے 11562 ووٹ حاصل کئے۔
اس حلقہ میں دونوں بڑی جماعتوں نے اپنی حکمت عملی ایک جیسی ہی رکھی ہے۔ مسلم لیگ ن نے رانا لیاقت کو فار غ کرکے مرزا الطاف کو ٹکٹ جاری کردیا ہے جبکہ پی ٹی آئی نے شمولیت اختیار کرنے والے سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر تنویر اسلام کو ٹکٹ جاری کرکے واپس لے کر چوہدری سرور خان کے پوتے اور بیرسٹر منصور سرور جنکو این اے 74 کی ٹکٹ دے کر واپس لی گئی ہے کے بیٹے سیف علی خان کو ٹکٹ جاری کردیا گیا ہے۔بہر حال مقابل پی ٹی آئی اور ن کے امیدوار کے درمیان ہی ہوگا۔ رانا لیاقت آزاد حیثیت میں اپنی سیاسی بقاء کی جبگ لڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔
حلقہ پی پی 40 سیالکوٹ VI۔ یہ حلقہ 10 دیہی یونین کونسل اور پسرور شہر پر مشتمل ہے جسکی کل آبادی 360107 جبکہ کل ووٹ219295 ہیں جس میں راجپوت30 فیصد،آرائیں 10، رحمانی10، جٹ25، ملک15 فیصد ہیں۔ اس حلقہ سے مسلم لیگ ن کے رانا محمد افضل، پی ٹی آئی کے امجد علی باجوہ،منور گل آزاد، رانا اعجاز احمد آزادامیدوار ہیں۔ 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منور احمد گل 51125 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے۔تحریک انصاف کے امجد علی باجوہ نے 20962، پی پی کیمقبول احمد سابق ایم این اے نے 3549 ووٹ حاصل کئے۔رانا اعجاز احمد سابق نائب ضلع ناظم نے بطور آزاد امیدوار 2905 ووٹ حاصل کئے۔2008 میں منور احمد گل نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 34318، مسلم لیگ ق کی طرف سے سابق صوبائی وزیر ارمغان سبحانی نے 26412 اور پی پی کے نسیم اختر رانا نے 15242 ووٹ حاصل کئے۔ 2002 میں مسلم لیگ ق کی طرف سے ارمغان سبحانی نے 30624،ن کے رانا شفیق نے 15819 اور پی پی کے کلیم عباس شیرازی نے 18786 ووٹ حاصل کئے۔ 1997 میں ن کی طرف سے منور گل نے 31572 جبکہ پی پی کی طرف سے غلام عباس نے 16975 ووٹ حاصل کئے۔1993 میں پی پی کے غلام عباس نے 27573، ن کے پروفیسر محمد احمد نے 18608 اور منور گل نے بطور آزاد امیدوار7832 ووٹ حاصل کئے۔

اس حلقہ میں بھی اس بار دلچسپ مقابلہ کی توقع ہے۔ مسلم لیگ ن نے منور گل کو ٹکٹ جاری نہ کی ہے کیونکہ انہوں نے علی زاہد کے ساتھ الیکشن لڑنے سے انکار کردیا تھا اور آزاد حیثیت میں ایم این اے اور ایم پی اے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے ملحقہ حلقہ سے ایم پی اے رانا محمد افضل کو اس حلقہ سے ٹکٹ جاری کردیا ہے۔ رانا اعجاز احمد سابق نائب ناظم ضلع سیالکوٹ بھی آزاد حیثیت میں موجود ہیں جو PTI کے ٹکٹ کے امیدوار تھے جبکہ پی ٹی آئی نے گزشتی انتخاب میں امیدوار امجد عکی باجوہ کو ہی ٹکٹ جاری کیا ہے۔ منور گل خاصا اثرورسوخ رکھتے ہیں کیونکہ میاں نواز شریف کے مقابلہ سے لیکر اگر وہ کبھی اس حلقہ سے نہیں بھی جیتے تو انہوں نے قابل ذکر ووٹ حاصل کئے ہیں انکی موجودگی کی بناء پر مسلم لیگ ن کی پوزیشن انتہائی کمزور نظر آرہی ہے۔
حلقہ این اے 75 سیالکوٹ IV۔ یہ حلقہ ڈسکہ شہر دیہات اور کچھ علاقہ تحصیل پسرور کا اس میں شامل ہے۔ کل آبادی 749346 ہے جبکہ کل ووٹر 453104 ہیں جس میں جٹ35 فیصد،گجر8،مغل10، رحمانی4، راجپوت10، آرائیں 8 فیصد ہیں۔ اس حلقہ سے مسلم لیگ ن کی طرف سے سید افتخار، پی ٹی آئی کی طرف سے علی امجد ملہی، پی پی کی طرف سے ڈاکٹر ظہیر الحسن رضوی، سابق ایم پی اے ممتاز علی آزاد اور عثمان عابد آزاد حیثیت میں موجود ہیں۔ 2013 میں سید افتخار الحسن مسلم لیگ ن کی طرف سے 118192 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ مسلم لیگ ق کی طرف سے علی امجد ملہی نے20250 تحریک انصاف کے مرزا عبدالقیوم نے 52694 ووٹ حاصل کئے۔ 2008 میں مسلم لیگ ن کی طرف سے موجودہ امیدوار افتخار الحسن کے داماد مرتضیٰ امین نے 77819 مسلم لیگ ق کے امیدوار سابق وفاقی وزیر اور موجودہ امیدوار PTI علی امجد ملہی نے39186 پیپلزپارٹی کے سید ظہیر الحسن رضوی نے 31996 مرزا عبدالقیوم نے 4522 اور منور احمد گل نے بطور آزاد امیدوار 1513 ووٹ حاصل کئے۔2002 میں مسلم لیگ ق کے علی امجد ملہی نے 50592 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی اور وزیر مملکت برائے دفاع مقرر ہوئے۔ پی پی کے کرنل سلطان سکندرنے 45706 مسلم لیگ ن کے کرنل ظفرحسین گل نے 44115 اور ارمغان سبحانی نے بطور آزاد امیدوار 532 ووٹ حاصل کئے۔ اس حلقہ سے علی امجد ملہی اور افتخار الحسن میں کانٹے دار مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے۔PTI کا ٹکٹ ابتدائی مرحلہ میں عثمان عابد کو جاری ہوا تھا جو کہ ڈسکہ کی روحانی اور مقبول شخصیت خالد مدنی کے امیدوار تھے مگر بعد ازاں ٹکٹ تبدیل کردیا گیا اور عثمان عابد اس وقت آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔

حلقہ پی پی 41 سیالکوٹ VII۔ یہ حلقہ تحصیل پسرور اور تحصیل ڈسکہ کے دیہی علاقو ں پر مشتمل ہے جسکی کل آبادی 350966 اور کل ووٹ 211281 ہیں۔ جس میں جٹ 35 فیصد، راجپوت10،گجر 10، آرائیں 10، رحمانی10، کشمیری5 فیصد ہیں۔ اس حلقہ سے مسلم لیگ ن کے امیدوار سید عطا الحسن ہیں۔پیپلز پارٹی کی طرف سے مشہور شاہد بٹ اور مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے مشترکہ امیدوار سابق ایم پی اے باؤ محمد رضوان ہیں۔2013 کے الیکشن میں یہ حلقہ پی پی 128 تھا جس سے مسلم لیگ ن کے رانا محمد افضل 36529 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ مسلم لیگ ق کے امیدوارموجودہ امیدوار باؤ محمد رضوان نے 21129 جبکہ تحریک انصاف کے محمد نواز نے 3517 ووٹ حاصل کئے۔2008 میں پاکستان مسلم لیگ ق کے باؤ محمد رضوان نے 21370 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ مسلم لیگ ن کے رانا محمد افضل نے 18072 پیپلز پارٹی کے ایوب نے 10127 ووٹ حاصل کئے۔2002 میں باؤ محمد رضوان نے بطور آزاد امیدوار17297 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی مالم لیگ ن کے رانا محمد افضل نے 13970 مسلم لیگ ق کے شاہد محمود بٹ نے 12096 ووٹ حاصل کئے۔1997 میں مسلم لیگ ن کے شاہد محمود بٹ نے 23545 مسلم لیگ جونیجو اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ امیدوار ارمغان سبحانی نے 11476 اور محمد خالد سندھو آزاد امیدوار نے 11385 ووٹ حاصل کئے۔1993 میں اختر علی وریو نے مسلم لیگ جونیجو اور پیپلز پارٹی کے مشترکہ امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا اور 27255 ووٹ حاصل کئے۔ مسلم لیگ ن کے سید افتخار الحسن نے 16045 جبکہ آزاد امیدوار محمد خالد سندھو نے 11025 ووٹ حاصل کئے۔
اس حلقہ سے مسلم لیگ ق کے امیدوار جو اس وقت تحریک انصاف کے بھی حمایت یافتہ ہیں کافی مضبوط امیدوار کے طور پر موجود ہیں۔ مسلم لیگ ن کے امیدوار باپ بیٹا ایم این اے اور ایم پی اے لڑ رہے ہیں جسکا بھی یقینا نقصان مسلم لیگ ن کو پہنچے گا۔
حلقہ پی پی 42 سیالکوٹ VIII۔ یہ حلقہ ڈسکہ شہر اور ملحقہ دیہاتی علاقوں پر مشتمل ہے جسکی کل آبادی 350742 اور کل ووٹ 210734 ہیں جس میں جٹ برادری کے 25 فیصد، مغل 20، آرائیں 10، رحمانی5، شیخ5 فیصد ہیں جس میں تحریک انصاف کے امیدوار سابق ایم پی اے چوہدری صداقت علی مسلم لیگ ن کے ذیشان رفیق پیپلز پارٹی کے حسن پرویز اور محمد آصف سابق ایم پی اے بطور آزاد امیدوار ہیں۔ 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے محمد آصف باجوہ 56740 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، تحریک انصاف کے ناصر محمود چیمہ نے 24481، پاکستان مسلم لیگ ق کے ضیاء اللہ کھارا نے 6031 اور پیپلز پارٹی کے قاری ذوالفقار علی نے 3780 ووٹ حاصل کئے۔ 2008 میں مسلم لیگ ن کے یحی گلنواز نے 41803، مسلم لیگ ق کے ممتاز علی نے 14242 اور پی پی کے قاری ذالفقار علی نے 15116 ووٹ حاصل کئے۔2002 میں یہ حلقہ پی پی 130 تھا جس میں مسلم لیگ ق کے ممتاز علی نے 22856 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی۔ مسلم لیگ ن کی شبینہ عبدالماجد نے 11482 اور محمد اعظم خان نے 13791 ووٹ حاصل کئے۔ موجودہ الیکشن میں مسلم لیگ ن نے اپنا امیدوار تبدیل کرکے شہباز شریف سے قریبی تعلق کے حامل میاں ذیشان رفیق کو امیدوار بنایا ہے اور مغل برادری جو کہ ایک بڑی برادری ہے سے تعلق رکھنے والے محمد آصف باجوہ کو ٹکٹ جاری نہ کی ہے۔ جبکہ صداقت علی PTI کے امیدوار اس حلقہ میں خصوصی اثرورسوخ رکھتے ہیں اور متعدد بار مختلف جماعتوں سے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ انکی اچھی پوزیشن کی وجہ سے ایم این اے کے امیدوار علی اسجد ملہی کو بھی یقینا بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔

حلقہ این اے 76 سیالکوٹ V۔ یہ حلقہ 22 یونین کونسلوں پر مشتمل ہے جسمیں سمبڑیال شہر اور دیہی علاقے شامل ہیں۔ اسکی کل آبادی 789305 اور کل ووٹ469826 ہیں جس میں 45 فیصد جٹ برادری، آرائیں ، راجپوت15، کشمیری5، گجر5 اور مغل5 فیصد ہیں۔ جس سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رانا شمیم احمد خان، تحریک انصاف کے برگیڈیئر اسلم گھمن، مسلم ق سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدوار مدثر سلیم بریار اور پیپلز پارٹی کے یاسر مشتاق باجوہ شامل ہیں۔ 20163 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے رانا شمیم نے 129571، تحریک انصاف کے سلمان سیف چیمہ نے 37061، پی پی کے اعجاز احمد چیمہ نے23450 ووٹ حاصل کئے۔2008 کے الیکشن میں مسلم لیگ کے موجودہ امیدوار رانا شمیم احمد کے بیٹے رانا عبدالقادر نے 82182 ووٹوں سے چوہدری شجاعت حسین صدر پاکستان مسلم لیگ ق کے مقابلہ میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 42713 ووٹ حاصل کئے، پی پی کے کرنل سلطان سکندر گھمن نے 29477 ووٹ لئے۔ 2002 میں مسلم لیگ ق کے عمر احمد گھمن نے 68468، مسلم لیگ ن کے مرتضی امین نے 41251 اور پی پی سلمان سیف چیمہ نے 34602 ووٹ لئے۔ جبکہ ایم ایم اے کے امیدوار پروفیسر احسن جاوید نے 6761 ووٹ لئے۔ 1997 میں جب اس حلقہ کا نمبر 87 تھا تو مسلم لیگ ن کے سید افتخار الحسن نے 71321 پی پی کے اعجاز احمد چیمہ نے 33061 اور صداقت علی نے بطور آزاد امیدوار 13025 ووٹ حاصل کئے۔1993 میں سید افتخار الحسن نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 69559 اور پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اعجاز احمد چیمہ نے 69168 اسلامک فرنٹ کے امیدوارنذیر احمد خان سابق ایم این اے نے 2945 ووٹ حاصل کئے۔
اس حلقہ اور اس کے ملحقہ صوبائی حلقہ پی پی 124 سے رانا شمیم متعدد بار مختلف جماعتوں نے منتخب ہوتے رہے ہیں۔ ان کا حلقہ میں کافی اثرو رسوخ بھی ہے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار اسلم گھمن عملی سیاست میں نووارد ہیں جبکہ ان کا خاندان اسی حلقہ کے ذیلی صوبائی حلقہ پی پی 131 اور 106 سے عظیم نوری گھمن انکا حقیقی بھائی کامیاب ہوتا رہا ہے اور انکا دوسرا بھائی ناصر احمد گھمن تحصیل ناظم سمڑیال بھی رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں امیدواروں میں سے اسلم گھمن کا بھائی صوبائی اسمبلی کا امیدوار جبکہ رانا شمیم کا بیٹا بھی ایک حلقہ سے صوبائی اسمبلی کا انکے ہمراہ امیدوار ہے۔ صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں ایک کا بیٹا اور ایک کا بھائی کافی مقبول امیدوار ہیں۔ 25 جولائی کو اس حلقہ سے دلچسپ مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ رانا شمیم جیسے منجھے ہوئے سیاستدان کے مقابلہ میں محمد اسلم گھمن پہلی بار سیاست کررہے ہیں۔

حلقہ پی پی 43 سیالکوٹ IX۔ یہ حلقہ ڈسکہ کے دیہات اور کچھ قصبہ جات پر مشتمل ہے جس میں 13 یونین کونسل ہیں۔ جسکی کل آبادی 339889 اور کل ووٹ208989 ہیں۔ جس میں جٹ35 فیصد، راجپوت10،رحمانی10،مغل 5، آرائیں 10، کشمیری 5 فیصد ہیں۔ اس حلقہ سے تحریک انصاف کے ناصر محمود چیمہ، پی پی کے خلیل مصطفی، مسلم لیگ ن کے نوید اشرف اور مسلم لیگ ق سے تعلق رکھنے والے عنصر اقبال آزاد امیدوار ہیں۔ 2013 کے انتخاب میں محسن اشرف مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر 63257 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے۔ مسلم لیگ ق کے امیدوار نے 5591 ووٹ حاصل کئے۔ 2002 میں مسلم لیگ ق کے عنصر اقبال 34240 ووٹ حاصل کرکے کامیاب ہوئے، مسلم لیگ ن کے تسنیم شہباز چیمہ نے 19034 اور پی پی کے امیدوار نے 1403 ووٹ حاصل کئے۔ 1997 میں یہ حلقہ 106 جبکہ 2002 میں 129 بن گیا۔ 1997 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے عظیم نوری گھمن نے 33712 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔ پیپلزپارٹی کے لیاقت علی گھمن نے 16356 ووٹ حاصل کئے۔ 1993 میں سیف اللہ نے پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے30864 ووٹ حاصل کئے۔ 1990 مسلم لیگ ن کے امیدوار نوید اشرف کے بھائی محسن اشرف ایم پی اے رہ چکے ہیں جبکہ 2008 کے الیکشن میں نوید اشرف کے بھائی محسن اشرف55120 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ انکے مقابلہ میں عنصر اقبال نے مسلم لیگ ق کے ٹکٹ پر 30848 ووٹ حاصل کئے جو کہ ضمنی الیکشن میں کامیاب ہوئے اور اس سے قبل جمیل اشرف ایم پی اے منتخب ہوئے تھے جو اس وقت وائس چیئر مین ضلع کونسل سیالکوٹ بھی ہیں۔ ان کے مد مقابل عنصر اقبال ہیں جو اس حلقہ سے ایم پی اے منتخب ہو چکے ہیں اور تحریک انصاف کے امیدوار چاصر چیمہ تحصیل ناظم ڈسکہ اور گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر ڈسکہ کے حلقہ سے الیکشن میں حصہ لے چکے ہیں۔

حلقہ پی پی 44 سیالکوٹ X ۔ اس حلقہ میں سمڑیال شہر اور ملحقہ دیہات شامل ہیں جوکہ 15 یونین کونسل پر مشتمل ہے۔جسکی کل آبادی 337526 اور کل ووٹ 200154 ہیں جس میں جٹ برادری45 فیصد، آرائیں 15، گجر5، راجپوت15، کشمیری5، مغل5 فیصد ہیں۔ جس سے مسلم لیگ ن کے ارشد جاوید وڑائچ، تحریک انصاف کے عظیم نوری گھمن، پیپلزپارٹی کے محمد شاہد گھمن، ارسل وقار گھمن، محمد شفیق بٹ آزاد امیدوار ہیں۔ 2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ارشد جاوید وڑائچ 39820 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، تحریک انصاف کے ہارون ضیاء گھمن نے 6890، پاکستان مسلم لیگ ق کے عظیم نوری گھمن نے 31490،سابق ایم پی اے لیاقت علی گھمن نے 2950 ووٹ حاصل کئے۔ 2008 کے الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے لیاقت علی گھمن نے 34823 ووٹ حاصل کئے، پاکستان مسلم لیگ ق کے عظیم نوری گھمن نے 25605 اور پی پی کے سیف اللہ چیمہ نے 13651 ووٹ حاصل کئے۔ 2002 کے الیکشن میں مسلم لیگ ق کے عظیم نوری گھمن نے 35684، پیپلزپارٹی کے سلیم اختر وڑائچ نے 18288 اور مسلم لیگ ن کے ڈاکٹر اقبال چیمہ نے 15257 ووٹ حاصل کئے۔ 1998 کی مردم شماری کے بعد سیالکوٹ کے صوبائی حلقوں میں ایک کا اضافہ کیا گیا تھا اور 2002 میں یہ حلقہ پی پی 131 سیالکوٹXI بنایا گیا تھا۔ قبل ازیں اس حلقہ کے کچھ علاقہ پی پی 105 اور 106 میں شامل تھا۔
ارشد ورائچ کی صاحبزادی اس وقت ضلع کونسل سیالکوٹ کی چیئر پرسن ہیں اور ارشد وڑائچ خواجہ آصف کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور فلاحی کاموں میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ عظیم نوری گھمن حلقہ میں کافی مقبولیت اور رابطہ کی وجہ سے بہت مضبوط امیدوار تصور کئے جاتے ہیں۔ دوبارہ ایم پی اے منتخب ہو کر پنجاب پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین بھی رہے ہیں انکے بھائی ناصراحمد گھمن تحصیل سمڑیال کے تحصیل ناظم بھی رہے ہیں انہیں تحصیل سمبڑیال کا بانی قرار دیا جاتا ہے۔ مسلم لیگی امیدوار سے بہت اچھا مقابلہ دیکھنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

حلقہ پی پی 45 سیالکوٹXI۔ یہ حلقہ تحصیل سیالکوٹ کے دیہات پر مشتمل ہے جس کی 12 یونین کونسل کی آبادی 344768 اور کل ووٹ 188778 ہیں جن میں راجپوت25 فیصد، جٹ25،آرائیں 15، گجر 20 فیصد ہیں۔ اس حلقہ میں مسلم لیگ ن کے رانا عبدالستار، تحریک انصاف کے ملک جمشید، پیپلزپارٹی کے چوہدری محمد شکیل امیدوار ہیں۔2013 کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کے رانا عبدالستار خان 55565 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، تحریک انصاف کے بیرسٹر جمشید غیاث نے 23348 اور پی پی کے ملک طاہر اختر سابق ایم پی اے نے 7600 ووٹ حاصل کئے۔ 2008 میں مسلم لیگ ن کے رانا عبدالستار نے 24994، مسلم لیگ ق کے ذوالفقار گھمن نے 3023 ووٹ حاصل کئے۔ رانا عبدالستار کے نشست چھوڑنے پر انکے والد رانا شمیم احمد خان ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے۔ 2002 میں پیپلز پارٹی کے طاہر اختر 15800 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، مسلم لیگ ن کے ملک محمد سعید نے 15352، مسلم لیگ ق کے ذوالفقار گھمن نے 15080 اور آزاد امیدوار اویس حبیب نے 11626 ووٹ حاصل کئے۔ اس وقت اس حلقہ کا نمبر 124 تھا جبکہ 1997 میں اس کا نمبر105 تھا۔ 1997 میں مسلم لیگ ن کے خورشید احمد صوفی 36209 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، پیپلزپارٹی کے ملک اسلام نے 11494 اور آزاد امیدوار خوش اختر سبحانی نے 268 ووٹ حاصل کئے۔ 1993 میں رانا شمیم احمد خان نے پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر 33829 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی، مسلم لیگ ن کے ملک اویس نے 31932 ووٹ حاصل کئے۔1990 میں IJi کے امیدوار کے طور پر رانا شمیم احمد خان نے 39786 اور PDA کے ملک اعجاز حسین جو کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے بھائی ہیں نے 15134 ووٹ حاصل کئے۔

سیالکوٹ کی تمام نشستوں پر مقابلہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کے درمیان متوقع ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اور انتخابی مہم 2013 سے بہتر نظر آرہی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کے ملکی سطح پر چلنے والے ایشوز سے بھی مسلم لیگی امیدوار دباؤ میں ہیں۔ ووٹر خاصے بدلے نظر آتے ہیں۔ نہر حال 25 جولائی
کوکون جیتے گا اس کا فیصلہ ووٹر کے بیلٹ پیپر سے ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں