سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے C5کنسورشیم نے کام دیکھانا شروع کردیا۔

سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے C5کنسورشیم نے کام دیکھانا شروع کردیا


افواج پاکستان اور پاکستان کے عوام یہ بات سمجھ لیں یہ سب انوسٹمنٹ ایک کنسورشیم کی ہے جو کسی بھی صورت میں سی پیک منصوبے کو روکنا چاہتا ہے۔ چین اور روس کو بھی ہوشیار رہنا ہوگا کیونکہ سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے سب سے زیادہ افغانستان کو استعمال کیا جائے گااس مقصد کیلئے جس طرح چھوٹے چھوٹے معاملات پر سوشل میڈیا کو استعمال کرکے قومی نشریاتی اداروں (Main Stream Media) کی توجہ حاصل کی جاتی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام انتخابات 2018ء کے قریب یا اس کے بعد افراتفری اور انارکی کی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مدت پوری کرنے والی حکومت کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ قومی خزانہ خالی ہے لیکن حکومت متعلقہ اداروں، افواج پاکستان اور عوام کو گمراہ کررہی ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کرنے نہیں جارہا ہے اس معاملے میں حکومت پاکستان کا مؤقف درست ثابت ہوا اور یہ سب تجزیہ کار جھوٹے اور پروپیگنڈہ کرنے والے منفی عناصر ثابت ہوئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بیرونی طاقتوں سے رہنمائی لے کر ماہرین معاشیات و حالات و سیاسیات بننے والے یہ چند عناصر جو بظاہر پاکستان کے دوست بنتے ہیں اصل میں دشمن ہیں۔پاکستانی قوم اور اداروں کو ایسا گمراہ کرتے ہیں اور جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ قوم کو کسی منظور پشتین کی ضرورت ہی نہیں رہتی دشمن ہمیں صرف دفاعی محاظ پر شکست نہیں دینا چاہتا وہ ہمیں معاشی، سفارستی، معاشرتی اور اخلاقی محاظ پر بھی شکست دینے اور گمراہ کرنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی منظور پشتین اینکر بنا بیٹھا ہے، کوئی منظور پشتین ماہرسیاسیات بن کر قوم کو گمراہ کررہا ہے اور کوئی منظور پشتین معاشیات پر بڑے بڑے لیکچر دیتا ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کرنے جارہا ہے قومی خزانے میں مارچ تک کے ذخائر ہیں، مارچ گذر جائے تو اپریل اور مئی کی تاریخ دے دی جاتی ہے جب نگراں حکومت قائم ہوجائے تو یہ تمام دوست نما دشمن جو دراصل ریاست پاکستان کے دشمن ہیں کسی نئے پروپیگنڈے کی پلاننگ میں لگ جاتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک آزاد اور معتبر ادارہ ہے سپریم کورٹ اور آف پاکستان، افواج پاکستان، انٹیلی جنس ایجنسیز سمیت کئی ادارے ایسے ہیں جن کا اثرورسوخ اسٹیٹ بینک پر ہوتا ہے لیکن یہ نام نہاد ماہرین معاشیات و حالات و سیاسیات قوم کو گمراہ کرتے رہتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک دھوکہ دے رہا ہے قومی خزانہ خالی ہے ملک دیوالیہ ہونے جارہا ہے، کوئی دہنِ غلیظ تو یہاں تک کہتا رہا کہ ملک میں انارکی، افراتفری اور انتشار دیکھ رہا ہوں افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ ملک کی داخلی سیکورٹی کے ذمہ دار ادارے ایسے مواقعوں پر خاموشی اختیار کئے رکھتے ہیں حالانکہ آئین پاکستان قوم میں اس طرح کی مایوسی پھیلانے والے کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا راستہ دے چکا ہے کچھ نہیں تو ایم پی او کے قانون کے تحت ایسے شیطانوں کو میڈیا سے دور رکھنے کیلئے تین ماہ کیلئے گھروں میں نظر بند کیا جاسکتا ہے تاکہ تین ماہ تک گھر میں قید رہ کر دوبارہ منہ نہ پھاڑے بلکہ سیدھا پاگل خانے جائے لیکن افسوس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ جو ملک دشمن چاہے وہ ٹی وی اینکر بھی بن سکتا ہے، ماہر معاشیات بھی بن سکتا ہے، ماہر سیاسیات و حالات بن جائے اور ماہر ین سیکورٹی امور کے تو کیا ہی کہنے، اسد درانی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ فورسز سے ریٹائرہونے والے سپاہی سے لے کر چارستارے افسر تک ہر ایک پر نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے اور ان پر زیادہ نظر اس لئے رکھی جاتی ہے کیونکہ ان کے پاس جومعلومات ہوتی ہیں وہ عام پاکستانی کے پاس نہیں ہوتیں لیکن افسوس ایسے لوگ دولت و کرسی کی لالچ و ہوس میں قومی سلامتی کو بھی داؤ پر لگادیتے ہیں۔ افواج پاکستان کے قومی سلامتی پر مامور جوانوں کو اس جانب زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ C5کا کیمیکل ری ایکشن اس جانب زیادہ ہوسکتا ہے۔

پاک چین اقتصادی راہدی منصوبہ نہ صرف چین کو عالمی طاقت (Super Power) بنا دے گا بلکہ بھارت جو پاکستان اور چین کا مشترکہ دشمن ہے اس کی حیثیت دھوبی کے ٹونی جیسی ہوجائے گی جو نہ گھر کا رہے گا نہ گھاٹ کا۔ چین اور پاکستان کو سبق سکھانے کیلئے امریکہ کے قدموں میں بیٹھنے والا بھارت سمجھتا ہے کہ امریکہ جیسی طاقت کے ساتھ مل کر پاکستان کو کھوکھلا کردے گا حالانکہ دنیا جانتی ہے امریکہ ویت نام، عراق اور افغانستان میں سرپھٹول کرواکر اب بستر مرگ پر پڑا ایک بدمعاش ہے جس کی گینگ کے اکثر غنڈے اس کو چھوڑ کر جاچکے ہیں اب امریکہ صرف باتیں کرسکتا ہے دنیا پر حکمرانی کرنے کا وقت چلا گیا۔ چین کے صدر شی جن پنگ کو جدید چین کا بانی کہا جارہا ہے انہیں چین کے عوام وہی حیثیت دے رہے ہیں جو چین کے آئین میں بانی چین ماؤزے تنگ کو حاصل ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ابھرتی ہوئی نئی معاشی طاقت روس کا ہے جس کو زوال کے بعد شدید خطرات سے نکالنے کا اعزاز یقینی طور پر صدر پوٹن کو ہے جو تقریباً دودہائیوں سے روس کے امور چلا رہے ہیں لیکن روس کے عوام و خواص ولادمیر پوٹن کو باربار حق حکمرانی دے کر ان کی صلاحیتوں کا فائدہ اٹھارہے ہیں۔ پوٹن نے کمال مہارت کے ساتھ امریکہ انتخابات کا ہائی جیک کرکے ٹرمپ کو صدر بننے میں مدد کی اور آج ٹرمپ جیسے صدر کی موجودگی میں امریکہ پچھلے امریکہ سے بہت مختلف نظر آتا ہے۔ایران کے حوالے سے ذکر ضروری سمجھتا ہوں ایران نہ صرف پاکستان کا پڑوسی ملک ہے بلکہ برادراسلامی ملک بھی ہے یہ بات درست ہے کہ ایران میں افغانستان کی طرح نہ تو کبھی عدم استحکام رہا ہے اور نہ ہے خمینی انقلاب کے بعد سے بیرونی مداخلت رہی ہے ایسے میں ایران پر پاکستان کے حوالے سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس سلسلے میں ایران کو پاکستانی مجبوریوں کو سمجھنا ہوگا کیونکہ جس امریکہ کی وجہ سے پاکستان ایران کے ساتھ زیادہ اچھے تعلقات نہیں رکھ پاتا تھا آج اسی امریکہ کی گود میں پاکستان کا ازلی دشمن بھارت بیٹھا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت ایران کے راستے پاکستان پر حملہ آور ہوتا ہے تاکہ دو برادراسلامی ملکوں کو آپس میں دشمن بنادیا جائے جس طرح افغانستان برادر اسلامی ملک ہوتے ہوئے پاکستان سے دشمنی کرنے پر تلا ہوا ہے اور ایک دن آئے گا جب افغانستان کو اپنے اس طرز عمل پر پشیمانی کا سامنا کرنا پڑے گا مسلم دنیا یہ بات بھی سمجھ لے پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے قائم کرایا ہے اور وہی اس کی حفاظت فرمارہا ہے۔

برطانوی تھینک ٹینک کی رپورٹ

رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ(RUSI) برطانیہ کا سیکورٹی امور سے متعلق تھینک ٹینک ہے جس کی تحقیق کے مطابق افواج پاکستان اس وقت نہ صرف داخلی اور خارجی سیکورٹی معاملات سے بہت کامیابی اور مہارت سے نمٹ رہے ہیں بلکہ ان کی دفاع اور خارجہ کی پالیسیاں بھی بیرونی آلائشوں سے پاک ہورہی ہیں۔ ملکی دفاع کیلئے باجوہ ڈاکٹرائن کامیابی سے اپنے اہداف حاصل کررہی ہے۔ تھینک ٹینک رُسی نے یہ تجزیہ پیش کیا ہے کہ بطور آرمی چیف پرویز مشرف کے مقابلے میں جنرل باجوہ کی قیادت میں پاک فوج اور پاکستان بہت بااعتماد ہیں اور امریکہ کی جانب سے کسی بھی غیر ضروری مطالبے پر انکار کی صلاحیت رکھتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق موجودہ امریکی قیادت نے 2001ء کے جارج ڈبلیو بش والے طرز عمل اور روئے کے زریعے مطالبات منوانے کی کوشش کی اور یہاں تک دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے امریکی انتظامیہ کے مطالبات نہ مانے تو اسے پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا جائے گا۔ قارئین محترم اب آپ کو بات سمجھ آرہی ہوگی کہ C5کا کنسورشیم کیوں سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کی بے کار کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ جس امریکہ سے ہر بار تھپٹر کھا کر پاکستان کہا کرتا تھا کہ”اِب کے مار“ اُس امریکہ کو بدلے میں تھپٹر پڑنا شروع ہوگئے ہیں۔ پاکستان نے امریکہ کو بتایا دیا ہے No-More بس یہی وہ جملہ ہے جس نے امریکہ جیسی بڑی طاقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے۔ امریکہ نے ٹیسٹنگ کے لئے پاکستانی سفارت کاروں پر کچھ پابندیاں عائد کیں بدلے میں پاکستان نے بھی پابندیاں عائد کرکے بتا دیا کہ وہ پرویز مشرف تھا جو ایک فون کال پر ڈھیر ہوگیا تھا۔ آج کا پاکستان بدل چکا ہے وہ وقت بھی گیا جب کوئی ملک بھی پاکستان پر امریکی مطالبات کے ڈرون گرنے پر نہیں بولتا تھا اب قدرت نے پاکستان کے حق میں ایسا کمال کردیا ہے کہ امریکہ کی ذراسی دادا گیری پر چین، روس اور ترکی جیسے طاقت ور ملک سامنے آجاتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے مغربی سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے بارڈرمینجمنٹ کا منصوبہ بہت کارگر ثابت ہورہا ہے اور C5کی شکل میں موجود دشمن کے دانت کھٹے کررہا ہے یہی وجہ ہے کہ دشمن کے چوہے کاٹنے کو دوڑ رہے ہیں لیکن اللہ پاک پاکستان کی حفاظت کیلئے ایسے ایسے انتظامات فرمادیتا ہے کہ قدرتی طور پر ماحول سازگار ہوجاتا ہے۔مغربی سرحد پر باڑ لگنے سے نہ صرف C5کے اسپانسر کردہ اور تیار کردہ دشمن پاکستان میں داخل نہیں ہوسکیں گے بلکہ پاکستان پر حقانی، گلبدین اور دیگر جنگجوؤں کی حمایت جیسے بے سروپا الزامات بھی نہیں لگ سکیں گے۔ افواج پاکستان کو بہت سمجھداری کے ساتھ معاملات کا آگے بڑھانا ہوگا پاکستان کی خوش نصیبی ہے کہ امریکہ پر ایک مخبوط الحواس شخص حکمرانی کررہا ہے ایسے لوگ بھڑک تو بہت بڑی بڑی مارتے ہیں لیکن کسی بات پر ڈٹ جانے کی صلاحیت ایسے لوگوں میں بالکل نہیں ہوتی، شمالی کوریا کا معاملہ ہمارے سامنے ہے۔ ٹرمپ شمالی کوریا سے دوستی کو سفارتی کامیابی قرار دے رہا ہے جبکہ جنوبی کوریا اور جاپان کے دفاعی تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ شمالی کوریا نے پہلے کمال مہارت کے ساتھ تمام ضروری دفاعی ٹیکنالوجیز حاصل کرلیں اب کمال مہارت کے ساتھ اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کرکے دوبارہ سے دنیا کے طاقت ور ممالک کے ساتھ کھڑا ہوگیا ایسا صرف ٹرمپ جیسے امریکی صدر کی موجودگی میں ہی ممکن تھا۔ پاکستان کے عوام کو دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ایسا کوئی مخبوط الحواس حکمران نہ دے جو دشمن کیلئے پاکستان کو کیک پیسٹری بناکر رکھ دے، اس سلسلے میں ایسی طاقتوں کا کردار بھی بہت اہم ہوتا ہے جو جانتی ہیں کہ کون کیا کرسکتا ہے لیکن ایسی طاقتوں سے اکثر اوقات غلطیاں بھی ہوجاتی ہیں جیسے ایک شخص کو عہدہ دیا گیا اس نے افواج پاکستان کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے پاکستان میں 15,000 کے قریب بلیک واٹر بھردیئے جنہوں نے پورے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ جو پاک فوج گیاری سیکٹر سے 139شہید جوانوں کی نعشیں نکال سکتی ہے وہ اس برفانی طوفان کا پتہ نہ لگاسکی کہ آیا یہ واقعی کوئی قدرتی آف تھی یا دشمن کی سازش اور اسی طرح پنوعاقل سے کھاریاں جانے والے ٹرین جسے گجرانوالہ کے علاقے ہیڈ چھناواں کے قریب پل پر حادثہ پیش آیا جس میں شہید ہونے والے جوانوں کے حادثے کی سازش کا آج تک معلوم نہ کیا جاسکا کیونکہ ریلوے ماہرین کہتے ہیں اس مقام سے پہلے مسافر ٹرین گذر چکی ہے۔ اگر دشمن کا پتہ نہ چلایا جائے تو وہ مزید مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے اور دیکھنے میں اکثر ایسا ہی آیا ہے۔ افواج پاکستان کو اندر کے دشمن کی بیرونی دشمن سے زیادہ ہلاکت خیز اور تباہ کن کارروائیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں