صوبائی حکومت، احتساب کمیشن اور اینٹی کرپشن

صوبائی حکومت، احتساب کمیشن اور اینٹی کرپشن


پاکستان تحریک انصاف کی قیادت تبدیلی اور احتساب کا نعرہ لگا کر پختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی اور پختونخواہ کی عوام نے بغیر دیکھے کہ امیدوار کون ہے کیا کرتا ہے اس کا ماضی کیا تھا اس کا کردار کیا ہے ووٹوں سے بیلٹ بکس بھر دیئے اور پختونخوا میں پرویز خٹک نے اقتدار سنبھال لیا اور وعدے کے مطابق صوبے میں تقریباً دو سال محنت کر کے ایماندار اور اچھی شہرت کے افسران کا چناؤ کر کے احتساب کمیشن تشکیل دیا جس کی سربراہی ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کے حوالے کر دی گئی‘ مگر جب احتساب کا عمل شروع ہوا تو جہاں سابقہ حکومت کے کچھ لوگ شکنجے میں آئے تو اکثریت تحریک انصاف کی حکومت میں شامل ممبران یا والدین یا خود ایم پی ایز اور وزیر احتساب کے پنجے میں آئے۔

جن کو پکڑا گیا اور مکمل انکوائری کی گئی تو اس میں خٹک صاحب کا بھی ذکر آنے لگا تو احتساب کمیشن کے اختیارات پر شب خون مارا گیا اور احتساب کمیشن کے کاموں میں مداخلت کی جانے لگی جس کے بعد مجبوراً جنرل صاحب کو استعفیٰ دینا پڑ گیا اور جاتے جاتے وہ عوام کو سب بتا کر چلے گئے جس کے بعد احتساب کمیشن کے صوبائی دفاتر میں اُلو بول رہے ہیں۔ اس طرح وفاقی حکومت سے درخواست کر کے نوابزادہ ضیاء اللہ طورو کو خصوصی طور پر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن تعینات کیا گیا اس مرد مجاہد نے گذشتہ 30 سالوں میں ہونے والی ریکوری سے ہزار گنا زائد ریکوری کر کے قومی خزانے میں جمع کروادی بلکہ بڑے بڑے افسران اور کنٹریکٹرز کو ہتھکڑیاں لگا کر جیل بھیج دیا جس کی وجہ سے صوبے بھر میں اینٹی کرپشن کے مردہ وجود کی پہچان ہوئی اور کمیشن خور اور کرپٹ سرکاری ملازمین‘ افسران اور کنٹریکٹرز میں تھرتھرلی مچ گئی مگر افسوس کہ ان کو بھی اس عہدے سے ہٹا کر واپس وفاق بھجوا دیا گیا کیونکہ شاہد خٹک صاحب نے انہیں بھی اپنے اور اپنے ساتھیوں کیلئے مبینہ طور پر خطرہ سمجھ لیا تھا‘ اب ان دو حادثات کے بعد صوبائی حکومت سمجھدار ہو گئی ہے اس نے احتساب کمیشن کو گمنام ادارہ بنا دیا جبکہ اینٹی کرپشن کو مار دھاڑ کرنے والوں کے تحفظ اور ایک آدھ کارروائی کرنے تک محدود کر دیا کہ عوام کو احساس ہو کہ اینٹی کرپشن بھی ایک ادارہ ہے کرپشن کے خلاف (اللہ کرے ایسا ہو جائے) جو کہ کسی مذاق سے کم نہیں اگر اینٹی کرپشن کی حالت دیکھی جائے تو ہر ضلع میں اینٹی کرپشن کا ایک گمنام سا دفتر تو موجود ہے مگر نہ تو کسی ضلع میں اینٹی کرپشن کا تھانہ ہے اور نہ ہی ذاتی دفتر‘ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ میں محکمہ پولیس سے چن چن کر ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل افسران اور اہلکاروں کو تعینات تو کر دیا گیا مگر سہولیات کچھ نہیں دی گئیں‘ اگر صوبائی حکومت کرپشن کے خاتمے اور جلد انصاف کی فراہمی میں سنجیدہ ہوتی تو ہر ضلعی اینٹی کرپشن آفس یا پھر ڈویژن کی سطح پر ان دفاتر میں آڈٹ ٹیم اور ٹیکنیکل سٹاف موجود ہوتا‘ ڈویژن کی سطح پر ان کی عدالتیں ہوتیں‘ تربیت یافتہ کلریکل سٹاف ہوتا‘ ہر ضلعی آفس میں کمپیوٹر آپریٹر موجود ہوتا مگر بدقسمتی سے عام مشاہدے میں جو بات آئی ہے کہ اینٹی کرپشن کے دفاتر میں نہ تو کمپیوٹر آپریٹر ہے اور نہ دیگر سہولیات‘ اور نہ ہی تربیت یافتہ کلریکل سٹاف موجود ہوتا ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جس کی مدت اب دنوں میں رہ گئی ہے فوری طور پر احتساب کمیشن اور اینٹی کرپشن کے محکموں کو سہولیات فراہم کرے جہاں پر تعینات افسران اور نچلے درجے کے اہلکاروں کو دو سال سے زائد ایک سٹیشن پر نہ رکھے تاکہ ”وہ گاہک نہ بنا سکیں“ ہر ڈویژن کی سطح پر ٹیکنیکل سٹاف اور آڈٹ ٹیم کی تعیناتی کرے اور جس طرح دیگر سرکاری محکموں کو سالانہ سٹیشنری‘ مشینری‘ پٹرول وغیرہ کا بجٹ ملتا ہے اس محکمے کو بھی دیا جائے تاکہ اس کے اہلکاروں کو کسی سے پٹرول نہ مانگنا پڑے اور نہ سفید کاغذ۔ اگر صوبائی حکومت اپنے آخری وقت میں یہ کام کر گئی تو یہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا شاندار کارنامہ ہوگا ورنہ جس طرح 58 مہینے گزر گئے دو ماہ اور بھی گزر جائیں گے۔ مگر اس کے بعد…………!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں