عمران خان کی سیاست

عمران خان کی سیاست


1997کا ذکر ہے میں اے این پی اسلام آباد کا صدر تھا۔ اس وقت اے این پی کافی مضبوط پوزیشن میں تیسری بڑی قوت تھی۔ الیکشن کا زمانہ تھا، عمران خان صاحب اسلام آباد سمیت پانچ حلقوں سے الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔ مجھے ایک صاحب کا فون آیا کہ عمران خان کے الیکشن کے سلسلے میں ملنا چاہتا ہوں، میں نے کہا، آپ جگہ بتائیں میں حاضر ہو جاتا ہوں۔ ان کے بتائے ایڈریس پر G-9/3 کے ایک مکان پر پہنچا،تو موصوف جو کہ غالباً ٹویو ناسک کمپنی کا مالک تھا، وہاں پر ملے،10/12 نوجوان دیواروں پر کاغذ چسپاں کررہے تھے، انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ اتحاد کریں، آپ ہماری حمایت کا اعلان کریں، ہم نے جیتنے کے بعد یہ سیٹ چھوڑنی ہے، چونکہ آپ 1993 کے الیکشن میں حصہ لے چکے ہیں اسلئے ہم آپ سے یہ معاہدہ کرتے ہیں کہ ہم آپ کو امیدوار نامزد کریں گے۔ میں نے کہا بھائی، آج کم از کم ڈے ڈریم کا مطلب آپ نے سمجھا دیا ہے۔ بولے نہیں بھائی، ہم بڑے سائنسی طریقے سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں،آپ ہمارے کارکن دیکھیں، ہم کس طرح حلقے کو تقسیم کرکے اور یہ کرکے وہ کرکے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ میں نے سب نوجوانوں کو بلا کر پوچھا کہ آپ میں سے کس کس کا ووٹ ہے، تو کوئی بھی ووٹر نہیں تھا۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ الیکشن سائنسی نہیں زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر لڑا جاتا ہے۔ آپ کی ضمانت بچ جائے تو بھی معجزہ ہوگا۔ لیکن میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ عمران خان اس وقت واحد بندہ ہے جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کھل کر بولتا ہے اور اس نے پارٹی نہیں بنائی بلکہ ایک تحریک شروع کی ہے، انصاف کی تحریک، اور میں بحیثیت وکیل یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارا انصاف کا نظام دیوالیہ ہو چکا ہے اور ہمیں ایک ایسی تحریک کی ضرورت ہے۔ میری پارٹی جو بھی فیصلہ کرے میں ذاتی حیثیت میں آپ کے ساتھ ہوں اور آپکو ووٹ بھی دونگا۔ لیکن عمران خان کو یہ کہیں کہ لوگ زکوۃ خیرات تو بن مانگے بھی دے دیں گے مگر ووٹ لینے کے لئے انہیں اپنے حصار سے باہر نکلنا پڑے گا۔ انہوں نے اتفاق کیا اور میں نے انہیں اس وقت ووٹ دیا جب آجکل ان کے جھوٹے کارکن ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ عمران خان کی ضمانت حسب توقع ضبط ہوئی، مگر میں آج بھی مطمئن ہوں کہ میں نے اپنا ووٹ ایک مقصد کو دیا۔ عمران خان 2002 کا الیکشن جیتے، تو پورے پاکستان سے ایک ممبر صوبائی اسمبلی تحریک انصاف سے جیتا تھا۔ وہ میاں نثار گل تھا جو کہ کرک کے علاقے سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ ممبر صوبائی اسمبلی کم اور عمران خان کا ڈرائیور زیادہ تھا۔ وہ ایک ٹھیکیدار تھا، اسکی لینڈ کروزر میں عمران خان گھومتا تھا۔ آج وہ میاں نثار گل عمران خان کی سوچوں سے بھی محو ہو گیا ہے اور عمران خان پرزمین پر قبضے کے الزام لگانے والے، ان کو دو ٹکے کا کپتان کہنے والے، ان کے ورکرز کو کتا کہنے والے اور ان پر دوران عدت شادی کا الزام لگانے والے ضمیر فروش مافیا لوگ ان کے ارد گرد نظر آتے ہیں۔انہوں نے جس عزم کے ساتھ نوجوانوں کو جنون دیا، ان کو خواب دکھائے، ان کو تبدیلی کی نوید دی،آج جب موقعہ آیاتو خان صاحب انہی چوروں اور بدعنوانوں کو گلے لگارہے ہیں جن پر وہ اور انکے ٹائیگرز لعنت بھیجتے نہیں تھکتے تھے۔ وہ نوجوان جو تبدیلی کے خواہاں تھے ان کو کرسی کا خواہاں بنا دیا گیا جسکی وجہ سے نظریاتی کارکن مایوس ہوگئے ہیں۔

عمران خان نے اکتوبر2011 کا جو جلسہ کیا تھا اسمیں مافیا کا کوئی بندہ نہیں تھا۔ اسکے پس پردہ محرکات جو کچھ بھی تھے مگر وہ جلسہ عمران خان کا تھا۔ نہ کوئی ترین، نہ کوئی قریشی، نہ کوئی چوہدری، نہ کوئی جہاز اور نہ کوئی ATM۔عوام کی محبت اور عمران خان کا وجود ہی کامیابی کا دروازہ تھا۔ 2013 کا الیکشن آیا۔ عمران خان نے KP میں جتنے لوگ کھڑے کئے، سب نئے تھے، سب ورکرز تھے، کسی پر کوئی الزام نہیں تھا، عوام نے ان کو بھرپور کامیاب کیا، پنجاب پر توجہ نہیں دی گئی، الیکشن اسٹریٹجی نہیں تھی، امیدوار کم کھڑے کئے گئے اسکے باوجود عوام کا رسپانس حوصلہ افزاء تھا۔ اگر عمران خان ان پانچ سالوں میں اپنی تمام تر توجہ صوبائی حکومت پر خود مبذول کرتا، اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہناتا تو آج عمران خان کو ووٹ مانگنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ اسے پورے پاکستان سے کچرا سمیٹ کر ان پر بھروسہ نہ کرنا پڑتا، اسکا ورکر سراپا احتجاج نہ ہوتا، مگر نہیں عمران خان کی توجہ ہٹ گئی، وہ جس اسٹیبلشمنٹ کو ہمیشہ چیلنج کرتا تھا، جس روایتی سیاست، جس جاگیردارانہ نظام کے خلاف آواز اٹھاتا تھا، انہی کے ہاتھوں میں کھیلنے لگا۔ اسکو بہت غیر محسوس طریقے سے کرپٹ مافیا کے ہاتھوں یر غمال بنادیا گیا۔ وہ جہازوں اور پروٹوکول کا اسیر ہوگیا۔ اس نے انگلی کے اشارے کے انتظار میں اپنی برسوں کی محنت کو داؤ پر لگادیا اور پھر جب موقعہ آیا تو اسکو یہ کہہ کر کہ اسکو الیکٹبلز کی ضرورت ہے، اسکو اپنے مخلص کارکنوں اور ہمدردوں کے مقابل کھڑا کرکے اسکو اپنی ہی پارٹی میں متنازعہ بنا دیا گیا، اسکے ارد گرد ایسے لوگ بٹھا دیئے گئے کہ اسکو خود بھی سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ٹھیک ہے اور کیا غلط۔ جب پختونخواہ کے سابق گورنر جنرل افتخار حسین شاہ دو ڈھائی سال قبل پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے تو میں نے تجویز کیا تھا کہ انکو صوبائی الیکشن لڑ وا کر وزیر اعلیٰ بنا دیں۔ وہ اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں سے عمران خان کے وژن کو عملی جامہ پہنادیں گے، مگر عمران خان کو ایک کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ کی ضرورت تھی۔ اسلئے ان کو تب تو کیا موجودہ الیکشن میں بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا اور میری اطلاعات کے مطابق وہ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ایسے لوگ پارٹیوں کیلئے اثاثہ ہوتے ہیں جن کی ذات بے داغ، جن کی صلاحیتوں کا اعتراف عوام کریں اور جن کی مدد سے لیڈر اپنے وژن اور مشن کی تکمیل کر سکیں لیکن افسوس یہ ہے کہ جن پارٹی کارکنوں کو جن لوگوں کے خلاف پانچ سال تک اکسایا گیا انہی کارکنوں کو اب انہی فردوس عاشق اعوان، نذر گوندل، افضل چن اور راجہ ریاض جیسے لوگوں کو ٹکٹ دیکر کارکنوں کے ضمیر پر بوجھ ڈال دیا گیا ہے کہ اب ان کو ووٹ دو، وہ مخمقے میں ہیں کہ ضمیر کی سنیں یا عمران کی۔بنی گالہ میں کارکنوں کے مظاہروں سے معلوم ہوتا ہے کہ کارکن دلبرداشتہ ہیں اور وہ پیرا شوٹرز اور کرپٹ مافیا کے لوگوں کو ووٹ دینے کیلئے تیار نہیں۔ اسکا نقصان بالآخر پارٹی کو ہوگا۔

عمران خان پہلے بھی اپنی مرضی کرتے تھے، آج بھی اپنی مرضی کررہے ہیں۔ انہوں نے بہت سا وقت ہاتھوں میں کھیل کر گزار دیا۔ ان کو یہ احساس نہیں رہا کہ لیڈر اگر عوام میں رہے تو وہ کامیاب ہوتا ہے اور اگر غیر مرئی طاقتوں کے ہاتھ میں کھیلے، تو وہ اپنا مقصد پورا کرنے کے بعد ان کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو کبھی اصغر خان کے ساتھ ہوا تھا اور جواب عمران خان کے ساتھ ہورہا ہے۔ عمران خان نے اپنے مخلص ورکرز،اپنے نظریاتی کارکنوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے پارٹی پر جس کرپٹ مافیا کے سرکردہ لوگوں کو مسلط کیا ہے وہ نہ پہلے کبھی مخلص تھے نہ اب ہیں اور نہ بعد میں ہوں گے اور جو مخلص اور جانثار کارکن پی ٹی آئی میں موجود ہیں ان کے ساتھ پارٹی مخلص نہیں۔ جس ولید اقبال کی شمولیت پر پوری پارٹی جشن منارہی تھی کہ علامہ اقبال کے گھر کا سپوت پارٹی میں آیا ہے وہ بھی ورکرز کے حقوق کیلئے آواز بلند کررہا ہے۔ کبھی مدر آف پی ٹی آئی کہلانے والی فوزیہ قصوری پارٹی قیادت پر پیپلز پارٹی کے کرپٹ مافیا کا قبضہ دیکھ کر دل برداشتہ ہو کر پارٹی چھوڑ چکی ہیں۔ پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی نے پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے ایسے ایسے لوگوں کی سرپرستی کی ہے جن کے بارے میں عام عوام بھی منفی رائے رکھتی ہے۔ عمران خان جس بے بسی کا شکار نظر آتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کارکنوں سے دور ایک مافیا کی گرفت میں بری طرح پھنس گئے ہیں یا پھنسا دیئے گئے ہیں۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کے تقاضوں کے باوجود عمران خان صرف ذاتیات اور نواز شریف کی حد تک ہی اپنے بیانیہ پر قائم ہیں، نہ منشور ہے، نہ کوئی پروگرام ہے، نہ کوئی وژن ہے اور نہ کوئی پیغام ہے۔ مجھے ووٹ دیں کیونکہ نواز شریف کرپٹ ہے۔ کیا کسی قومی لیڈر سے اس بیانئے کے ساتھ جو کہ ذاتیات پر ہی محدود ہے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں کوئی ذمہ دارانہ کردار ادا کر سکے گا۔ اور اگر کامیابی مل بھی گئی تو کیا اس بیا نئے اور اسی طرح غیر ذمہ دارانہ طرز کے ساتھ مدت پوری کر سکے گا، یا نہیں، یہ ایک بہت بڑا امتحان ہوگا۔ قوم کے نوجوان جس تبدیلی کیلئے آگے بڑھے تھے،آدھے اب مایوس ہیں باقی بعد میں پچھتائیں گے۔

اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو پچھلے پانچ سال پاکستان تحریک انصاف کی بھرپور وکالت صرف دولوگوں نے کی۔ ایک شہریار آفریدی اور دوسرے علی محمد خان۔ اور دونوں نے دلیل اور تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے پارٹی کے جائز اور ناجائز فیصلوں کا ہمیشہ بھر پور طور پر دفعہ کیا۔ لیکن جب موقعہ آیا تو سب سے ذیادہ بے عزتی کے ساتھ ان کو ٹکٹ دیا گیا جبکہ لوٹوں کو پارٹی میں شامل ہونے سے بھی پہلے ٹکٹ کنفرم کیا گیا۔ ایک ایسی پارٹی جو کہ تبدیلی کا دعویٰ کرتی تھی، اس نے اپنی ہی پارٹی کے مخلص کارکنوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ ناقابل یقین ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کزن پارٹی عوامی تحریک جس نے دھرنے میں بھی ساتھ دیا اور لاہور میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمت میں بھی بڑا کردار ادا کیا۔ اس کے سربراہ جناب طاہر القادری نے جس طرح الیکٹیلز کے بارے میں اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے اس پر مزید کوئی تبصرہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

تحریک انصاف اور دیگر پارٹیوں میں بنیادی فرق ہے کہ باقی پارٹیاں بقول عمران خان سٹیٹس کو کی پارٹیاں ہیں۔ ان پارٹیوں نے کبھی تبدیلی کا دعویٰ نہیں کیا۔ انہوں نے کبھی لعنت نہیں بھیجی۔ وہ جس طرح پہلے تھے، اب بھی ہیں۔ تحریک انصاف ہوا کا تازہ جھونکا تھا۔ اس کا نعرہ خوشنما اور اسکا بیانیہ قطعاً مختلف تھا اسلئے عوام نے لبیک کہا۔ مگر یہ سب باتیں کاغذی تھیں۔ عمران خان نے وہی کیا جو دیگر پارٹیوں والے کرتے ہیں۔اس نے انہی لوگوں کو ٹکٹ دیا جس کے خلاف اس کے ورکرز اخلاقیات کی تمام حدود پار کرکے گالیاں دیتے رہے۔ اب وہی ٹائیگرز انہی کو ووٹ دینے کے پابند کردیئے گئے ہیں۔ورکرز کیلئے یہ ایک ایسا امتحان ہے جس نے اسکی روح تک کو جھنجھوڑ دیا ہے اور کچھ عرصہ قبل تک کی پیشنگوئیاں کہ اگلے الیکشن میں ریکارڈ ووٹ کاسٹ ہوگا، مشکوک ہوگئی ہیں کیونکہ بہت سے لوگ اپنے ضمیر کا بوجھ شاید نہ اٹھا سکیں۔ یہ کسی طور بھی ایک المیہ سے کم نہیں ہوگا کیونکہ نوجوانوں نے پہلی بار ایک خواب دیکھا تھا جو پورا ہونے سے قبل ہی چکنا چور ہوگیا۔25 جولائی کو عمران خا ن کو اپنی ان تمام غلطیوں کا اسی طرح ادراک ہوگا جس طرح پختونخواہ کو نظر انداز کرنے کا انہوں نے اعتراف کیا۔

توہین عدالت

آجکل ہماری اعلیٰ عدلیہ میں سب سے زیادہ جو مقدمات ہورہے ہیں وہ توہین عدالت کے ہیں۔توہین عدالت کے الزامات لگانے والی عدالت کے معزز جج صاحبان نے کبھی غور نہیں کیا کہ توہین عدالت کی وجوہات کیا ہیں،لوگ کیوں ایسی بات پر تبصرہ کرتے ہیں کہ توہین عدالت کا گماں ہوتا ہے یا الزام لگتا ہے اور پھر دھمکی آمیز بیانات شروع کردیئے جاتے ہیں، طلب کیا جاتا ہے، سرزنش کی جاتی ہے اور اگر طلب کئے جانے والا بوجوہ پیش نہ ہو تو بذریعہ پولیس طلب کیا جاتا ہے اور پھر فاضل چیف جسٹس صاحب انصاف کے مروجہ اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بات سننے کی بھی اجازت نہیں دیتے۔ جبکہ انصاف کے اصولوں کا بنیادی تقاضہ یہ ہے کہ ملزم کو اپنی بات پوری طرح بیان کرنے کا حق دیا جائے اور ایک بہترین جج وہی ہو سکتا ہے جو پورے اطمینان اور یکسوئی کے ساتھ بات سنے اور پھر مکمل غیر جانبداری کے ساتھ فیصلہ کرے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جب کسی جج صاحب کے بارے میں ایسی بات کی جائے جو توہین کے زمرے میں آتی ہو تو مذکورہ جج صاحب بحیثیت فریق اسکی سماعت کا اختیار نہیں رکھتے ہیں بلکہ انصاف کے اعلیٰ ترین تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کسی دوسرے جج کو سماعت کیلئے بھیجتے ہیں مگر کچھ عرصہ سے دیکھا جارہا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں ان اصولوں کی پاسداری نہیں کی جارہی ہے۔ فاضل چیف جسٹس آف پاکستان جوڈیشل ایکٹوازم کے تحت اسقدر ایکٹیو ہوگئے ہیں کہ چھٹی کے دن بھی عدالت لگا کر بیٹھتے ہیں اور عوامی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرتے ہیں۔جبکہ عام ایام کار میں بھی ان کی توجہ لاکھوں زیر سماعت مقدمات کی بجائے سیاسی اور سماجی مسائل پر مبذول رہتی ہے جبکہ اگر عدالت عظمیٰ کے ریکارڈ کو دیکھا جائے تو جناب جسٹس کھوسہ صاحب انتہائی تندہی کے ساتھ وہ کام کررہے ہیں جس کیلئے وہ بیٹھے ہیں۔ ان کی جانب سے مقدمات کے فیصلوں اور خصوصاً کریمینل مقدمات میں سالہا سال پرانے مقدمات میں انتہائی دلیرانہ اور منصفانہ فیصلوں نے عدلیہ کی ساکھ کو کافی بہتر بنایا ہے۔ ان کی جانب سے سیاسی مقدمات میں افسانوی تذکروں نے ان کی شخصیت بارے جو تاثر قائم کیا تھا انہوں نے اپنی توجہ اپنی اصل ڈیوٹی کی طرف مبذول کرکے اور انصاف کی فراہمی سے کافی حد تک اسکو زائل کیا ہے۔ مگر چیف جسٹس آف پاکستان صاحب بحیثیت منصف اعلیٰ تمام ضابطوں اور اصولوں سے مبرا ہو کر جس طرح کام کررہے ہیں اس کی ایک مثال گزشتہ روز سندھ کی ایک عدالت کا ان کا دورہ تھا۔ جہاں ایک جج کے ساتھ بھری عدالت میں جو سلوک کیا گیا اسکی مثال کہیں نہیں ملتی ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عدالت میں فون کا استعمال غلط ہے۔ہر عدالت میں اور مسجدوں میں بھی لکھا ہوتا ہے کہ موبائل فون بند رکھیں، موبائل فون کا استعمال ممنوع ہے۔ جب ممنوع ہوجائے تو اسکا استعمال خلاف ورزی کے زمرہ میں آتا ہے اور شاید کچھ عرصہ قبل عدالت عظمیٰ میں ایک وزیر صاحب کے فون کی گھنٹی پر انکو جرمانہ بھی کیا گیا، جو کہ بالکل درست تھا کیونکہ قانون کی پابندی ہر شخص پر لازمی ہے، خواہ وہ عام شہری ہو، وکیل ہو، جج ہو یا چیف جسٹس ہو۔ عدالت میں نہ صرف موبائل کا استعمال ممنوع ہے بلکہ کیمرے بھی بند ہیں، فلم بنانا بھی ممنوع ہے۔ عدالتوں میں اب کیمرے نصب کئے گئے ہیں جوکہ عدالتوں پر اور جج صاحبان پر نظر رکھنے اور سیکیورٹی کیلئے نصب کئے گئے ہیں۔ اسکے علاوہ کوئی شخص کیمرہ لیکر عدالت میں نہیں جا سکتا۔ مگر سندھ کی عدالت میں فاضل چیف جسٹس صاحب جس طرح کیمروں کو ساتھ لیکر گئے، کیمروں کی آنکھ کے سامنے عدالت میں بیٹھے،جج صاحب کی توہین کی،ان کے موبائل فون کو پٹخ کے مارا، یہ کسی بھی طور پر قابل تحسین عمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس سے پوری عدلیہ کی سبکی ہوئی اور عام طور پر عوام اور قانونی حلقوں میں اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔جس موبائل فون کو پٹخا گیا وہ ایک سائیڈ پر پڑا تھا، جج صاحب استعمال نہیں کررہے تھے، بات نہیں کررہے تھے، وہ اپنا عدالتی کام کررہے تھے۔ اگر فون کی موجودگی پر اعتراض تھا تو چیف صاحب جج صاحب کو ریٹائرنگ روم میں بلا کر باز پرس کر سکتے تھے، متعلقہ چیف جسٹس ہائی کورٹ کو ڈیپارٹمنٹل ایکشن کا کہہ سکتے تھے، اگر قانونی راستہ اختیار کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔ایک جج خواہ وہ سول جج ہو یاچیف جسٹس آف پاکستان،عوام کی نظر میں برابر حیثیت میں عزت و احترام کے لائق ہیں۔ کوئی بھی عام شہری ہو یا وکیل ہو وہ تمام جج صاحبان کی عزت کرتے ہیں۔ توہین صرف عدالت عظمیٰ یا عدالت عالیہ تک ہی محدود نہیں،تمام جج صاحبان کی عزت و حرمت برابر ہے اور کسی کی بھی توہین پسندیدہ قرار نہیں دی جاسکتی۔

چیف جسٹس آف پاکستان سے مؤد بانہ درخواست ہے کہ وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کریں۔ہفتہ اتوار کو گزیٹڈ چھٹی ہوتی ہے، اگر کوئی دکاندار کوئی عام آدمی اسکی خلاف ورزی کرے تو اسکو جرمانہ کیا جاتا ہے مگر انصاف کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز کوئی شخص چھٹی کے دن عدالت لگا کر اسٹاف کے بنیادی حق کے خلاف انکو طلب کرے جبکہ اسکا اوور ٹائم بنتا ہے اور پھر عدالتوں میں زیر التواء انبار کو کم کرنے کی بجائے ان ایام میں عوامی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کرے جسکی باقاعدہ تشہیر کی جائے، تو یہ انصاف کے زمرے میں نہیں آتا ہے اور اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ جج صاحبان کو سیاست کی غلاظت سے دور رہنا چاہئے، انصاف کے ترازو کو ڈانواں ڈول نہیں کرنا چاہئے اور کسی بھی جج کو یا عام شہری کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی کی غیر موجودگی میں اسکے بارے میں ریمارکس دے، یہ نہ تو اسلامی تعلیمات کے مطابق درست ہے اور نہ ہی انصاف کے اصولوں کے مطابق ہے۔

القانون اس سے قبل بھی عدالت عظمیٰ کے فاضل چیف جسٹس صاحب سمیت تمام جج صاحبان کی خدمت میں یہ عرض کر چکا ہے کہ عدالت کی تکریم قائم رکھنا عدلیہ کافرض ہے۔ عدل کی توہین نہیں ہوگی تو عدالت کی بھی توہین نہیں ہوگی۔ جج صاحبان بولنے سے زیادہ لکھنے پر توجہ دیں گے تو ہیڈ لائنز نہیں بنیں گی۔ لکھتے ہوئے ناولوں کی بجائے قانون کی کتابوں کا حوالہ ہوگا تو جواب بھی قانون کے دائرے میں ہوگا۔ اگر ناول لکھے جائیں گے تو ناول ہی بولے جائیں گے۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے ایک مخصوص سیاسی شخصیت اور پارٹی کی طرف جھکاؤ کے باعث لاڈلے کی اصطلاح کے استعمال سے عدلیہ بخوبی واقف ہے اور اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار بھی کر چکی ہے۔ لیکن عدلیہ کے لئے سوال یہ ہے کہ ایسا تاثر قائم ہی کیوں ہو ا، جسکی تردید کرنی پڑے۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ اختیار بعض اوقات انسان کو اس درجہ پر لے جاتا ہے جہاں وہ خو د کو عقل کل سمجھتا ہے اور یہیں سے وہ غلطی شروع کرتا ہے اور پھر کبھی نہ کبھی اسکا خمیازہ بھی بھگتتا ہے۔ جبکہ جج کو عقل کل تو کیا عقلمند بھی نہیں ہونا چاہئے، وہ دو عقلمند لوگوں کے درمیان ایک خالی الذہن شخص ہوتا ہے جو اسکو قائل کرتے ہیں اور جو مؤثر طور پر قائل کرلے،اسی کے حق میں فیصلہ کرتا ہے۔ اگر جج خود عقلمند بن جائے تو دلیلوں کی ضرورت ہی نہیں اور اگر عقل کل ہوجائے تو پھر قانون اور ضابطوں کی ضرورت نہیں رہتی اور دوسرا جب اختیار ختم ہوتا ہے تو بے اختیاری عذاب بن جاتی ہے۔چیف صاحب نے شیخ رشید کے حلقے میں جو تاثر دیا ہے اس حوالے سے موقعہ پر کسی صحافی کی جانب سے یہ سوال کہ شیخ رشید کی انتخابی مہم کا آغاز کورٹ نمبر1 سے شروع ہوگیا ہے، عدل کے ایوانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے، اسکی تردید کرکے اسکو مزید تقویت دی گئی ہے۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار احمد چوہدری ہمارے سامنے اختیار اور بے اختیاری کی زندہ مثال ہیں۔انہوں نے بھی یہی رویہ اختیار رکھا تھا، وہ بھی عدالت میں کم اور ہیڈ لائنز میں زیادہ رہتے تھے،ان کے جانثار بھی ان کو غلط فہمی میں مبتلا کئے رکھتے تھے، وہ بھی گھنٹوں کی مہلت پر لوگوں کو طلب کرتے تھے، ان کیلئے ایک وقت پورا پاکستان کھڑا ہوگیا تھا۔اگر وہ اس لمحے اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے انصاف پر توجہ دیکر عوام کی امنگوں کو عملی جامہ پہناتے، جسٹس سسٹم کی بہتری کیلئے اقدامات کرتے، عدلیہ پر توجہ دیتے، عوام کو مطمئن کرتے تو آج بابر اعوان ان کا مذاق نہ اڑاتے، تو آج وہ ایک تاریخ ساز کردار کے طور پر پہچانے جاتے۔مگر ہیڈلائنز کے شوق میں وہ کام نہ کر سکے جو انکو کرنا چاہئے تھا اور وہ کام کئے جو نہیں کرنا چاہئے تھے۔ انہوں نے بھی ایک منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیجا، انہوں نے بھی عدالتی ذمہ داریوں کی بجائے سماجی اور عوامی مسائل پر توجہ دی۔ان کا جو کام تھا وہ نہیں کیا، نتیجہ سامنے ہے۔ یہ کرسی عارضی ہے، یہ عہدہ عارضی ہے، یہ شوق عارضی ہے، یہ ٹی وی کی ہیڈلائنز عارضی ہیں۔ اصل چیز ہے عہدے کے تقاضے،اگر وہ تقاضے پورے ہوئے تو دین دنیا دونوں میں کامیابی اور نہیں کئے تو تاریخ کے صفحات میں گم۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

فیصل رضا عابدی کیس کدھر ہے؟

سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی جو اپنی شعلہ بیانی کی وجہ سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں اور جو انصاف کے ہاتھوں نا انصافی پر منہ کھول کر بات کرتے ہیں، ان کا تعلق پی پی پی سے رہا ہے اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف اکثر وہ مکمل ثبوتوں کے ساتھ بھر پور تنقید کرتے تھے۔ افتخار چوہدری صاحب جو ہر وقت تلوار ہاتھ میں لیکر بیٹھے ہوئے تھے، نے کبھی ان کی باتوں کا نوٹس نہیں لیا کیونکہ ان کو ادراک ہو چکا تھا کہ وہ جیالا گلے کی ہڈی بن سکتا ہے۔ جب تک پی پی پی اور اسٹیبلشمنٹ میں تناؤ تھا، یہ واحد جیالا تھا جو اسمبلی فلور سے لیکر ٹی وی چینلز تک ہر جگہ بولتا رہتا تھا،ہر چند کہ وہ کبھی ایک پسندیدہ لیڈر تسلیم نہیں کیا گیا اور نہ ہی راولپنڈی کے فیاض الحسن چوہان کی طرح کبھی کسی نے ان کو سنجیدہ لیا کیونکہ یہ دونوں صرف اپنی بات کرتے ہیں،کسی کی بات نہیں سنتے۔ فیاض الحسن چوہان اور فیصل رضا عابدی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ چوہان بے پر کی اڑاتا ہے اور خود کو وفا دار ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ رجا عابدی باقاعدہ ضابطے اور دلیل کے ساتھ بات کرتے ہیں اور اس کی بات میں وزن بھی ہوتا ہے۔البتہ دونوں کو اپنی پارٹیوں نے جس طرح ٹھکرایا ہے وہ قدر مشترک ہے۔

موجودہ دور میں جب دیگر پارٹیاں غیر ضروری سیاسی اور غیر سیاسی سر گرمیوں میں مصروف تھیں،پیپلز پارٹی اپنے پاؤں مضبوط کرنے میں لگی رہی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات استوار کرکے اپنے سابقہ بیانات کی تلافی کرتے ہوئے اپنے وجود کو قائم رکھنے میں مصروف رہی۔پچھلے کافی عرصہ سے پیپلز پارٹی کی قیادت نے فوج اور عدلیہ کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے کسی ایسے تنازعے میں پڑنے کی غلطی نہیں کی جس سے اسکی نیت پر شبہ کیا جا سکتا۔ پوری پارٹی میں فیصل رضا عابدی واحد پارلیمینٹرین تھا جو اپنا منہ کھلا رکھتا تھا اور پوری دیدہ دلیری کے ساتھ بات کرتا تھا جو پیپلز پارٹی کے ایجنڈے سے متصادم ہونے کی وجہ سے بالآخر انہیں اپنی سیٹ کی قربانی دینی پڑی اور وہ سینیٹ میں ایک جذباتی تقریر اور ایوان پر ایک قرض چھوڑ کر چکا گیا۔

گزشتہ ماہ انہوں نے موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے سابقہ چیف جسٹس کے نقشہ قدم پر چلنے اور سوؤ موٹو کے اختیار کا بے اختیار استعمال کرنے پر ایک ٹی وی کے ایک پروگرام میں کچھ ایسے جملے ادا کئے جو مزاج صاحب پر گرامی گزرے اورانہوں نے فیصل رضا عابدی کو بھی نہال ہاشمی سمجھتے ہوئے فوراً طلب کیا اور جب موصوف حاضر نہیں ہوئے تو پولیس کو انہیں پیس کرنے کا حکم جاری ہوا۔بہر حال چونکہ یہ حکم فاضل چیف جسٹس نے جاری کیا۔ جن کو بطور توہین لیا گیا تو فیصلہ رضا عابدی نے اس پر اعتراض کرکے پہلی بار عدلیہ کو اختیار کی بابت گائیڈ کیا، ان کے جائز اور قانونی اعتراض کے بعد چیف جسٹس صاحب نے اس بنچ سے علیحدگی اختیار کرلی جو کہ مستقل طور پر ایسے معاملات کیلئے قائم ہے۔اخباری اطلاعات کے مطابق فیصل رضا عابدی نے اس کے بعد یہ درخواست دی کہ ان کیلئے جو بنچ ترتیب دیا جائے اسمیں کوئی PCO جج نہ ہو، ظاہر ہے کہ اگلی نشستوں پر براجمان تمام جج صاحبان کبھی نہ کبھی پی سی او کے تحت حلف لے چکے ہیں، اسلئے معاملہ پچھلی صف میں بیٹھے جج صاحبان کیلئے جانا ہے جن کے بارے میں یہ شبہ ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی ڈنڈے کے زور پر کرنے کی بجائے دائرہ اختیار میں رہ کر انصاف کی فراہمی کے ذریعے قائم کرنے کی رائے رکھتے ہیں۔ وہ 184(3) کے اختیار کو آئین کی مذکورہ شق کے اندر طے شدہ اختیار کے اندر استعمال کرنے کے حق میں ہیں۔ چنانچہ صورت حال یہ ہے کہ فیصل رضا عابدی کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ سپریم کورٹ کے سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے اور نہال ہاشمی، طلال چوہدری اور سعد رفیق سمیت دیگر اکابرین کے خلاف جس تندہی سے سماعت کی جاکر ان کو انکی اوقات دکھائی جاتی ہے۔ فیصل رضا عابدی کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہورہا ہے اور امید ہے کہ مستقبل قریب میں شاید ہو بھی نہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار مشہور کالمسٹ اردشیر کاوس جی کے خلاف بھی عدالت عظمیٰ نے توہین عدالت کا نوٹس دیا تھا،وہ پیش بھی ہوئے اور انہوں نے بھی فیصل رضا عابدی والا مؤقف اختیار کیا۔ وہ ان دنوں علیل تھے، باہر جارہے تھے، سپریم کورٹ نے انکو اجازت دی۔ جب واپس آئے تو انہوں نے باقاعدہ اطلاع بھی دی اور ایک بار القانون کو انٹر ویو دیتے ہوئے انہوں نے باقاعدہ طور پر یہ کہا کہ سپریم کورٹ کو بتا دیں میں کراچی میں ہوں، وہ انٹرویو شائع بھی ہوا مگر ان کو کبھی نہیں طلب کیا گیا۔ وہ وفات پا چکے ہیں مگر مجھے یقین ہے کہ عدالت عظمیٰ کے سرد خانے کے کسی کونے میں ان کی زیر التواء فائل آج بھی موجود ہوگی۔

القانون کا مقصد ہر گز توہین کرنا نہیں بلکہ یہ باور کرانا ہے کہ انصاف وہ ہوتا ہے جو کہ برابری پر ہو، غیر جانبدار ہو اور اس سے کسی جانبداری کی جھلک نظر نہ آئے۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ انصاف ہوتا ہوا کم اور گھومتا ہوا زیادہ نظر آتا ہے۔ انصاف میں تفریق نہیں ہونی چاہئے۔ انصاف کے اعلیٰ ترین عہدے پر بیٹھ کر کسی کی توہین کسی کے بارے میں توہین آمیز الفاظ کسی صورت اس عہدے کے شایان شان قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ دنیا کا کوئی قانون کسی بھی شخص کو اپنے عہدے کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دیتا، خواہ وہ فوج ہو،عدلیہ ہو، حکمران ہوں، جج ہوں مولوی ہوں، صحافی ہو یا کوئی بھی ہو۔ ہر غلط کام کو صحیح کرنے کا ایک طریقہ موجود ہے۔غلط کام کو غلط طریقے سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔ اعتراض کی گنجائش تب پیدا ہوتی ہے جب ترازو اپنا توازن برقرار رکھنے میں ناکام نظر آئے۔ ایک محب وطن پاکستانی اور وکالت کے عظیم پیشے سے وابستگی کی بدولت ہماری دلی خواہش ہے کہ انصاف ایسا ہو کہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے، کوئی اعتراض نہ کر سکے، صاف ہو، شفاف ہو، اسکا نہ کوئی لاڈلا ہو اور نہ ہی اسکا کوئی ٹارگٹ۔ ہر قلم خود بخود تعریف اگلے گا ورنہ چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات والی صورت حال پہلے بھی دیکھی ہے اور آئندہ بھی دیکھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں