فیس بک کے جرائم

فیس بک کے جرائم


انٹر نیٹ کی دنیا بے حد وسیع ہے اگر ہم اس کے سب پہلو پر سب کریں تو شاید صفحات کم پڑ جائیں اس لئے ترتیب وار انٹرنیٹ کی دنیا کے ایک ایک پہلو کے راز افشاں کرتے جائیں گے۔انسان کی خود ساختہ دریافتوں میں جہاں خوبیاں بے انتہاء ہوتی ہیں وہاں ان کے نقصانات بھی ناقابل تلافی ہوتے ہیں کیونکہ ان کو استعمال کرنے والے انسان اپنے ذہن کے مطابق اس چیز سے نفع و نقصان نکالتے ہیں۔

فیس بک کی ایجاد کیسے ہوئی؟ 2004 ء میں ہاورڈ یونیورسٹی کے ایک نوجوان نے جو کہ بمشکل 19 سال کا تھا اس نے ویب سائٹ کی ڈومین خریدی۔ سوشل نیٹ ورک کی ایک خوبصورت سی ویب سائٹ ڈیزائن کی اور چار فروری 2004 کو ”فیس بک ڈاٹ کام www.Facebook.com “کے نام سے یہ ویب سائٹ لانچ کردی۔اس ویب سائٹ کا مقصد اسوقت صرف ہاورڈ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کے درمیان رابطہ پیدا کرنا تھا۔سارے یونیورسٹی کے Students کے پروفائل،ان کی تصویریں اور ایڈریس چونکہ مارک نے یونیورسٹی کے ڈیٹا سے لئے تھے اسلئے جونہی یہ ویب سائٹ انتظامیہ کے نوٹس میں آئی تو انتظامیہ نے ہیکنگ کا الزام لگا کر مارک کو نوٹس جاری کردیا مگر مارک کے ارادے متزلزل نہ ہوئے اس نے دوست سے ادھار رقم لے کر ویب سائٹ کو مزید بہتر بنانے میں لگا دیئے۔

ہاورڈ یونیورسٹی میں زبردست پذیرائی کے بعد کولمبیا یونیورسٹی،کو سٹین یونیورسٹی، کوپیل یونیورسٹی نے بھی اس کو جوائن کیا اور صرف مارچ تک طالب علموں کی تعداد30 ہزار تک جا پہنچی۔ اب اس سب کو ہینڈل کرنے کیلئے اسٹاف کی ضرورت تھی، خالی جیب یہ ممکن نہ تھا تو مارک نے مجبوراً اپنے روم میٹ ڈسٹن وسکووٹز کو5 فی صد شیئر دے کر اپنے ساتھ ملا لیا جنکو علم نہ تھا کہ یہ شیئر مستقبل میں کروڑ پتی بنا دے گی۔ مارک نے مراچ سے فیس بک پر اشتہارات کا سلسلہ جاری کیا۔ فیس بک کی پہلے مہینے کی کمائی 4 سو ڈالر تھی،مزید سرمایہ کاری ہوئی اور اس سرمایہ نے فیس بک کو 6 ماہ میں امریکہ کی 34 یونیورسٹیوں کے ایک لاکھ طلب علموں تک پہنچادیا اور اس کامیابی سے مارک کیلئے ہاورڈ یونیورسٹی کے دروازے بند ہوگئے مگر مارک نے ہمت نہ ہاری اور ہاورڈ سے سیدھا سلیکان ویلی پہنچ گیا اور مارک سے مارک ذکر برگ ہو گیا۔ فیس بک کی مالیت صرف چار ماہ میں دس ملین ڈالر ہو چکی تھی لیکن مارک نے کمپنی بیچنے سے انکار کردیا۔ 2005 میں فیس بک کے یوزرز کی تعداد دو لاکھ ہو چکی تھی اور آج دنیا کی سب سے مقبول ترین سوشل میڈیا کی ویب سائٹ بن گئی ہے۔ دنیا فیس بک سے پہلے سات براعظموں، مختلف ملکوں، قومیتوں اور ہزاروں زبانوں میں تقسیم تھی لیکن فیس بک کے بعد سمٹ کر ایک وال پر آگئی، یہ کہانی تھی فیس بک کی۔ اب اس کامیاب ترین سوشل میڈیا ویب سائٹ سے بے پناہ فائدے حاصل ہوئے، سب ایک ایسی وال پر جمع ہوگئے جہاں کاروبار کے فروغ سے لیکر رشتے داروں اور دوستوں کو یکجا کیاوہاں اس پر موجود نابالغ و کم عقل بچے بچیوں کو اس حد تک بلیک میل کیا گیا کہ بہت ساروں نے خود کشی کر لی، فیس بک پر Unfriend کرنے پر باہر کے ممالک میں بڑی تعداد میں قتل ہو چکے ہیں۔ جرائم پیشہ اور چالباز لوگوں نے لوگوں کو دھوکہ دینے کے ان گنت طریقے اس پر ڈھونڈ لیئے، ان سب باتوں کے بعد بہت شدت سے ضرورت محسوس ہوئی کہ ایسے قوانین بنائے جائیں جن کی مدد سے مجرمانہ ذہن کے لوگوں کو پکڑا جا سکے اور اس مفید ویب سائٹ کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔ اس سلسلے میں مختلف ممالک میں مختلف قوانین بنائے گئے اور اس سلسلے میں پاکستان میں بھی “Cyber Crime” کے حوالے سے قانون سازی کی گئی اور پاکستان میں 2015 میں اس حوالے سے The Preventions of Electronic Crime Act 2015 کا نفاذ ہوا۔اس سے قبل بھی کچھ قوانین تھے مگر Electronic Crime کے حوالے سے تھے۔2015 کا یہ قانون خالصتاً سوشل میڈیا سائٹس پر ہونے والے جرائم کے حوالے سے ہے۔اس کے علاوہ کمپیوٹر کے جرائم میں کسی کمپیوٹر تک ناجائز رسائی، کمپیوٹر پروگرام یا سافٹ ویئر کی غیر محاذ نقل، ادائیگی سے بچنے کی نیت سے کمپیوٹر کی خدمات کا استعمال اور جان بوجھ کر کمپیوٹر میں وائرس داخل کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

2016 میں پاکستان میں پہلا کیس جو رجسٹرڈ ہوا وہ لاہور میں سائبر کرائم (FIA) نے درج کیا۔مجرم لاہور کا ہی رہائشی تھا۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف اقبال نے بتایا کہ ہیکر محمد نعیم لوگوں کے فیس بک سے تصویریں لے کر ان کو بلیک میل کرتا تھا۔ FIA نے اسے گرفتار کیا اور کیس رجسٹرڈ کیا۔ (نیوز2 جنوری2016)

ویسے تو خواتین کو حراساں کرنے والے واقعات سالوں پرانے ہیں مگر فکر کرنے کی بات یہ ہے کہ جیسے جیسے ہم دور جدید میں آرہے ہیں تو عورتوں کو بلیک میل کرنے کے طریقے بھی جدید ہوتے جارہے ہیں۔ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ وہ تھا جس میں ایک مجرم عامر جنجوعہ نے اسلام آباد کی ایک اعلیٰ یونیورسٹی میں زیر تعلیم لڑکی سے فیس بک پر دوستی کی جب لڑکی کو پتہ چلا کہ عامر جنجوعہ بس کنڈیکٹر ہے تو اس نے شادی سے انکار کردیا جس پر عامر نے اسے دھمکیاں دیں اور اسکی قابل اعتراض تصاویر فیس بک پر شائع کردیں جس پر لڑکی کے گھر والوں نے اسکی تعلیم کا سلسلہ ختم کروادیا اورFIA میں عامر جنجوعہ کے خلاف درخواست دے دی،بعد ازاں اسکو 3 سال قید اور25 ہزار روپے جرمانہ ہو گیا۔ پاکستان میں National Response Center for Cyber Crime بہت کامیابی سے کام کررہا ہے اور اس نے لاتعداد سائبر کرائمز کی شکایات موصول کیں جن میں عورتوں کو حراساں کرنے کے حوالے سے تقریباً45 سے50 فیصد شکایات تھیں اور کچھ عرصہ قبل FIA راولپنڈی سائبر کرائم ونگ نے ایک گینگ کو گرفتار کیا جو لڑکیوں کے فیس بک اکاؤنٹس ہیک کرکے ان کو حراساں و پریشان کرتا تھا۔ 1 فروری2016 کو ”روزنامہ جنگ“میں خبر تھی کہ 200 سے زائد مختلف شہروں کی فیس بک اور دیگر ذرائع سے بلیک میل کرکے ان سے ہزاروں روپے بھتہ وصول کرنے والے ملزم کو سزا دلوانے اور لیڈی ڈاکٹروں کو انصاف دلانے کیلئے میو ہسپتال لاہور میں ہڑتال جاری تھی۔ یہ شکایت گوالمنڈی پولیس کے پاس بطور FIR درج کروائی گئی کہ لیڈی ڈاکٹرز کے فیس بک اکاؤنٹس سے تصویریں لے کر ان کوPhoto Editing Software سے تبدیل کرکے ڈاکٹر زکو بلیک میل کرکے رقم وصول کی جارہی تھی۔

FIA کے مطابق گزشتہ چند سالوں میں سینکڑوں کیسز رپورٹ ہوئے جو Electronic transaction Act کے تحت درج ہوئے اور ان میں سے بیشتر عدالت میں چل رہے ہیں۔ The Prevent of Electronic Crime Act 2015 کے تحت غلط مقصد یا نیت کے ذریعے کسی بھی فرد کو نقصان پہنچانا یا حکومت کے معاملات میں مداخلت کرنا سنگین جرم ہے۔

اس کے علاوہ اس قانون کی دفعہ 13 کے تحت کسی بھی عورت کو جانتے بوجھتے حراساں کرنا، اسکی عزت کو Electronic Communication کے ذریعے نقصان پہنچانا، اسکی تصویروں کو بدلنا، انکا غلط استعمال کرنا جرائم ہیں اور اس کے لئے 1 سال تک کی قید اور 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ دفعہ 8، Electronic Forgery جس میں کسی بھی انسان کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہو، الیکٹرانک سسٹم کا غلط استعمال (دفعہ9)Cyber Stalking یعنی کسی کو ڈرانا دھمکانادفعہ13 Spamming دفعہ14 برقی پیغامات بڑی تعداد میں دھوکا دینے کی نیت سے ارسال کرناSpoofing (دفعہ15)بھی دھوکا دینے کی نیت سے ویب سائٹ بناناElectronic Fraud (دفعہ7)غلط ارادے سے برقی نظام کا استعمال کرنا تاکہ کسی کو تعلق رکھنے پر مجبور کیا جائے یہ سب جرائم ہیں جنکی سزا3 سال سے لیکر 10 سال تک ہے اور جرمانہ ایک لاکھ سے لیکر1 کروڑ روپے تک ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ درخواست کیسے اور کہاں لکھی جائے۔ سائبر کرائم بل کے پاس ہونے کے بعد سے اب بہت مؤثر طریقے سے ان جرائم کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے۔ اب پاکستان میں سائبر کرائمز کے خلاف رپورٹ کرنا بہت آسان ہے۔ بہت آسانی سے سائبر کرائم ونگ (FIA) میں رپورٹ کی جا سکتی ہے۔اب یہ دیکھیں کہ کونسے جرائم ہیں جنکے خلاف رپورٹ کی جا سکتی ہے۔

1۔ اگر کوئی جعلی فیس بک اکاؤنٹ یا ٹوئیٹر اکاؤنٹ آپکے نام سے بنائے۔
2۔ اگر کوئی آپکی مرضی کے بغیر آپکی تصویریں لگائے۔
3۔ اگر کوئی آپکے خلاف نفرت پھیلائے۔
4۔ اگر کوئی آپکے فیس بک اکاؤنٹ یا ای میل اکاؤنٹ کو ہیک(Hack) کرے۔
5۔ اگر کوئی آپکے لیپ ٹاپ، فون، کمپیوٹر تک غیر قانونی رسائی حاصل کرے۔
6۔ اگر کوئی آپکی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔
7۔ اگر کسی ویب سائٹ کو کسی نے ہیک(Hack) کر لیا ہو۔
8۔ آن لائن اگر کوئی ATM،بینک،EasyPaisa،Upaisa یا کسی بھی دیگر طریقے سے دھوکا دہی سے پیسے ٹرانسفر کرے۔

ان مندرجہ بالا جرائم کے خلاف مندرجہ ذیل طریقے سے پاکستان میں سائبر جرائم کے خلاف درخواست دی جا سکتی ہے۔
1۔ آپ آن لائن URL پر جاکر اپنی درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ اس کے لئے
http://www.NR3C.gov.pk/creprt.php پر درخواست جمع کرائی جا سکتی ہے۔
2۔ اس کے بعد Email میں درخواست اپنی ہر ممکن تفصیلات اور رابطہ نمبر لکھیں (نام،پتہ،شناختی کارڈ نمبر اور رابطہ نمبر)۔
3۔ اس کے علاوہ کاغذ پر بھی درخواست لکھ کر بھیجی جا سکتی ہے اور مندرجہ بالا مکمل تفصیلات کے ساتھ مندرجہ ذیل پتہ پر بھی بھیجی جا سکتی ہے۔
Director NR3C-FIA
National Police Foundation Building,
2nd Floor, Mauve Area, G-10/4 Islamabad.

اس کے علاوہ خود جا کر بھی NR3C ریجنل آفس میں جمع کرائی جا سکتی ہے اور خود ذاتی طور پربھی درخواست جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست اردو، انگریزی میں ہر ممکن تفصیلات کے ساتھ جرائم کی تفصیل ثبوت کے ساتھ ارسال کریں۔ جتنی مضبوط درخواست ہوگی اتنی ہی جلدی کاروائی ہوگی۔ اگر درخواست میں ہر ممکن تفصیلات موجود ہوں تو ایک ہفتے کے اندر کاروائی ہو سکتی ہے۔اپنی درخواست کے بارے میں جاننے کیلئے آپhelpdesk@nr3c.gov.pk یا ان سے فون نمبر051-9106384 یا موبائل نمبر0336-6006060 پر بات کرکے آگے ہونے والی کاروائی کے بارے میں جان سکتے ہیں۔NR3C مخفف ہے، اس کا پورا نامNational Response Centre for Cyber Crime ہے۔

2015 کے اس قانون کی مدد سے NR3C کو بہت تقویت ملی ہے اور اب فیس بک کے جرائم پر بڑی حد تک کاروائی کی جا سکتی ہے۔ فیس بک میں ہر عمر اور ذہن کے لوگ ہیں۔ ہمیں خود کو اور اپنے بچوں کو مضبوط بنانا ہوگا اور اپنی پرسنل تصویریں لگانے سے پہلے بارہا سوچیں کہ ان کا غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ اگر خدانخواستہ کچھ ہو جائے تو آنکھیں بند کرنے کی بجائے سامنا کریں اور قانون کی مدد لیں کیونکہ چپ رہنا ظالم کی مدد کرنا ہے جو کہ ظلم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں