قائد کے آنسو

قائد کے آنسو….


13 اگست کی رات بحریہ ٹاؤن سے واپسی پر جب جی ٹی روڈ پر پہنچے توسڑک پر ایک جم غفیر تھا جو سائیکلوں سے لیکر بڑی چھوٹی ہزارہا گاڑیوں میں اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھا۔ لوگوں کے ہاتھوں میں جھنڈے تھے، تیز آواز میں قومی ترانوں پر والہانہ رقص تھا، بے ہنگم ٹریفک میں بد تمیزیاں کرنے والے نوجوان آپے سے باہر دوسروں کا خیال کئے بغیر اپنی خوشی کا اظہار کررہے تھے، پٹاخے چھوڑ رہے تھے،بار بار گاڑیوں سے اتر کر سڑک کے درمیان رقص کرکے یوم پاکستان سے اپنی عقیدت و احترام اور مکمل آزادی کا اظہار کررہے تھے۔ میں بھی اپنی فیملی کے ساتھ ان تمام عقیدتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خراماں خراماں گھر کی طرف جارہا تھا۔کچھ مقامات پر توکوفت بھی ہورہی تھی مگر کوئی راستہ نہ ہونے کی وجہ سے مجبوراً اس کارواں کا حصہ بنا ہوا تھا۔ایئر پورٹ چوک سے آگے مقامی آبادیوں کے لوگ بھی سڑک کنارے بیٹھے انجوائے کررہے تھے۔ایک طرف خوشی تھی کہ قوم آزادی کا جشن منا رہی تھی، دوسری طرف آزادی منانے کا جو طریقہ تھا، سائیلنسر کھول کر گاڑیوں کے درمیان سے شور مچاتے لوگوں کو ڈسٹرب کرتے ہوئے نوجوانوں کے رویہ پر کڑھ بھی رہے تھے کہ خوشی منانے کیلئے خود بھی خوش ہونا اور دوسروں کی خوشی کا خیال رکھنا ہی خوشی منانے کا اصل طریقہ ہے۔ مگر یہاں دوسروں کو اذیت پہنچا کر، تکلیف پہنچا کر گاڑیوں کے اندر پٹاخے پھاڑ کر سڑک کے درمیان ہزاروں لوگوں خصوصاً خواتین اور بچوں کی موجودگی میں پھلجڑیاں چھوڑ کر خوشی منانا اورآزادی کا اظہار کرنا یقینا یوم آزادی کے روح کی منافی ہے۔ مگر چونکہ قوم کو اسطرح کے مواقع کم میسر آتے ہیں اسلئے دیوانگی کے ساتھ آزادی کا اظہار ایک وطیرہ بن چکا ہے۔ یہ صرف اسلام آباد ہائی وے کی صورت حال نہیں بلکہ پورے ملک میں اسی طرح آزادی کا اظہار کیا جاتا ہے۔

ایئر پورٹ چوک سے آگے گنگال چوک میں قائد اعظمؒ کا خوبصورت جگمگاتا مجسمہ آویزاں ہے جو بہت دور سے نظر آتا ہے، اس کے نیچے قائد اعظم ؒکا زریں قول ایمان، یقین، تنظیم لکھا ہوا ہے۔ چودہ اگست کی مناسبت سے یہ برقی جگمگاتا ہوا مجسمہ مزید خوبصورت اور دلکش لگ رہا تھا۔ میں جب قریب پہنچا تو میں نے عوام پر ایک نظر ڈالی جو اپنی دنیا میں مست اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھی جہاں کوئی پروگرام نہیں تھا، صرف بلیو ایریا اور پارلیمنٹ کی عمارت کو خوبصورتی سے سجایا گیا تھا، حکومتی سطح پربھی کوئی پروگرام نہیں تھا، لوگ محض دل پشاوری کرنے بلیو ایریا کا چکر لگا کر ہر سال اسی طرح یوم آزادی مناتے ہیں اور اسی روایت کو زندہ رکھنے کیلئے لوگ بس چل رہے تھے۔ میں نے قائد کے مجسمے کے نیچے سے گزرنے والے پاکستانیوں پر نظر ڈالی تو کسی کو بھی قائد کی طرف دیکھتے ہوئے، قائد کو احترام پیش کرتے ہوئے بلکہ اگر یہ کہوں کہ قائد کی موجودگی کا سرے سے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا جارہا تھا،نیچے لوگ چل رہے تھے، اوپر قائد دیکھ رہا تھا۔

میں جب اس مقام پر پہنچا تو میں نے ایک سائیڈ پر گاڑی روک لی، میں نے اپنے بچوں کو بتایا کہ وہ یہ شخص ہیں جس کی بدولت ہم آج یہ جشن منارہے ہیں، یہ وہ قول ہے جس پر عمل کرنا ہمارا فرض ہے کیونکہ یہی ہماری ترقی کا راز ہے۔ میرے پانچ سالہ معصوم بیٹے نے معصومانہ سوال کیا کہ ان انکل کا فوٹو تو نوٹ پر بھی ہوتا ہے،میں نے کہا، جی بیٹا جی، جسکا فوٹوجسکی تعلیمات دل اور دماغ میں ہونا چاہئے تھیں وہ کاغذوں پر منتقل کردی گئی ہیں اور اب ادب و احترام بھی کاغذوں کے مول ہے۔ بہر حال میں نے اتر کر قائد کی طرف دیکھنا شروع کیا تو اچانک مجھے محسوس ہوا کہ قائد کا مجسمہ نہیں قائد اعظمؒ خود کھڑے ہیں، میں ان کی طرف مزید متوجہ ہوا تو مجھے محسوس ہوا کہ قائد کی آنکھوں سے ایک آنسو گرا ہے اور نیچے جہاں پر تنظیم لکھا ہوا ہے اس پر جا گرا ہے، میرے جسم نے کپکپی لی کہ میرے قائد کا آنسو گرا ہے، میں آہستہ آہستہ پہاڑی پر چڑھ گیا اور قائد کے قریب ہو گیا، اوپر سے جب میں نے نیچے سڑک کا نظارہ دیکھا تو لوگوں کی بے ہنگم خوشی اور قائد کی ذات سے بے اعتنائی کے ساتھ نظم و ضبط سے عاری اپنی ذات میں مگن قوم کو دیکھا تو مجھے سمجھ آگئی کہ قائد اعظمؒ کا آنسو تنظیم پر کیوں گرا۔ اپنے اصولوں پر ہمیشہ کاربند رہنے والے قائد نے اپنی قوم کو نظم و ضبط کی جو تلقین کی تھی اور جو تلقین ان کے قول کی شکل میں ہر جگہ ہر مقام پر آویزاں بھی ہے، اسی تنظیم سے عاری قوم کی حالت زار پر قائد کا آنسو گرنا ایک لازمی امر ہے۔ میں قائد کے قریب چلا گیا، میں نے دونوں ہاتھ باندھ کر نہایت ادب اور عقیدت سے قائد سے کہا کہ اے میرے قائد، آپ کے دکھ کو میں بخوبی سمجھتا ہوں، اسمیں میری قوم کا کوئی قصور نہیں ہے، میری قوم بہت معصوم ہے، اس کی تربیت کرنے والوں کا قصور ہے، آپ کی رحلت کے بعد آج تک ایک بھی ایسا لیڈر نہیں آیا جس نے کردار سازی کی ہو،جو بھی آیا اپنے مفاد کیلئے آیا، اپنے مقاصد کے ساتھ آیا، قوم کو گمراہ کرکے اپنا اُلو سیدھا کیا اور حالت یہ ہے کہ آج ہم یہی نہیں جانتے کہ آپ کے سامنے سے کیسے گزرنا ہے اور کیا رویہ رکھنا ہے، یہ نیچے جو دنیا گزر رہی ہے اس میں سے نوے فیصد کو یہ علم ہی نہیں کہ ایمان یقین تنظیم کیا چیز ہے اور دس فیصد اسلئے شرمندگی سے سر جھکا کر گزرتے ہیں کہ انکو علم ہے کہ یہ کیا ہے مگر وہ اس پر عمل نہیں کرتے ہیں۔

قائد نے کہا کہ میں سرشام سے دیکھ رہا ہوں کہ عوام خوش ہیں، آزادی منارہے ہیں مگر رنجیدہ بھی ہوں کہ انکو یہ علم ہی نہیں کہ انکے گلے میں غلامی کے کتنے طوق ڈال دیئے گئے ہیں، ان کو کس طرح ورغلا کر ایمان کی قوت، یقین کی طاقت اور تنظیم کے فلسفے سے دور کرکے شور شرابا، ہنگامہ آرائی، تفرقہ بازی، مذہبی طور پر تقسیم کرکے ان کے درمیان ایک ایسی خلیج بنا دی گئی ہے کہ یہ سب اکٹھے ہو کر بھی متحد نہیں ہیں، یہ سب کلمہ گو ہیں مگر ایمان کی طاقت سے محروم ہیں کیونکہ ان کے علیحدہ علیحدہ Belief ہیں، یہ بے شمار فرقوں میں تقسیم ہیں، یہ مسجد میں نماز کیلئے جاتے ہوئے کبھی سیدھی صف نہیں بناتے، یہ اللہ کے گھر میں بھی سب سے پیچھے جگہ ڈھونڈتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کمزور ایمان کے لوگ ہیں، پہلے یہی لوگ بہت مضبوط بہادر، دلیر اور پختہ ایمان والے تھے، خلافت کیلئے جان قربان کرنے کیلئے بھی سب سے آگے اور کشمیر میں بھی ہر اول دستہ مگر آج انکے ایمان کو دیکھ کر دل کڑھتا ہے مگر کچھ نہیں کر سکتے۔ قائد اعظم نے اشارہ کرکے مجھے اپنے قریب بلایا اور بولے شور بہت زیادہ ہے، سمجھ نہیں آرہی، ہاں میں کیا بات کررہا تھا؟ میں نے کہا، قائد آپ قوم کے ایمان کی بات کررہے تھے،آپ گویا ہوئے کہ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جب قوم مذہبی اور سیاسی تقسیم کا شکار ہوتی ہے تو اسکی ایمانی طاقت بھی تقسیم ہو جاتی ہے، میری قوم تو تقسیم در تقسیم ہے، آپ غور سے دیکھیں یہ قوم جن کے چہروں پر ہشاشت ہے، خوشی ہے مگر ان کو نہ یہ علم ہے کہ اس خوشی کے پیچھے کتنے دکھ، کتنے غم، کتنے زخم ہیں اور میں اگر آپ کو یہ کہوں کہ آپ نیچے اتر کر ان سے پوچھیں کہ آپ کو کل کیا نظر آرہا ہے تو کوئی بھی پورے یقین کے ساتھ آپ کو جواب نہیں دے سکے گا، کیونکہ جب ایمان کمزور ہو تو یقین مضبوط نہیں ہوتا اور جب یقین نہیں رہتا تو انتشار پھیلتا ہے اور انتشار صرف اسی صورت میں پھیلتا ہے جب تنظیم نہ ہو۔

 میں نے کہا، قائد آپ قائد ہیں، آپ کی سوچ قائدانہ، آپ کی باتیں قائدانہ، آپ کی زندگی قائدانہ۔ فوراً بولے، لیکن اختتام پر کوئی بات نہیں کرنا، میرا اختتام قائدانہ نہیں تھا، البتہ ٹھکانے قائدانہ طور پر لگایا گیا کیونکہ ایک قبر کی ضرورت تھی جس پر نئے حکمران پھولوں کی چادر چڑھائیں اور ایک تصویر کی ضرورت تھی جسکو عقب میں آویزاں کرکے اپنی ضرورتوں کی تسکین کر سکیں۔آپ خود بتائیں کہ آپ نے کبھی دیکھا ہے، جو بھی حکمران اقتدار میں آتا ہے فوراً میرے مزار پر آتا ہے، فوٹو بناتا ہے، سرکاری ہینڈ آؤٹ جاری ہوتا ہے جسمیں قائد کے فلسفے پر عمل کرنے اور ایمان یقین تنظیم پر عمل کرنے کا عہد کیا جاتا ہے۔ اسکے بعد دوبارہ کبھی مڑ کر رخ نہیں کرتا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ انکو شرم آتی ہے کہ وہ دوبارہ جا کر کیا ہینڈ آؤٹ جاری کریں گے، دوسری بات یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں سے رخصت ہونے والوں میں سے آپ نے کبھی کسی کو میرے مزار پر آتے دیکھا ہے؟ نہیں دیکھا ہوگا، اسلئے کہ میرا مزار میرا فوٹو صرف استعمال کرنے کیلئے ہے، عمل کیلئے نہیں ہے۔ میرے ساتھ عقیدت عوام کی ہے جو کراچی آتے ہیں تو دعا کیلئے مزار پر ضرور آتے ہیں،حکمرانوں کا آنا اپنی ذاتی پروجیکشن کیلئے ہوتا ہے۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو گویا ہوئے کہ آپ خود یہاں کھڑے ہو کر اس قوم کی حالت دیکھو، جس طرح یہ جشن منایا جارہا ہے، کیا انکو احساس ہے، کیا انکو علم ہے کہ اس ملک کی اساس کیا تھی، کیا انکو علم ہے کہ اس جشن آزادی کے پیچھے کتنی قربانیاں ہیں، کیا انکو احساس ہے کہ جس مقصد کیلئے یہ ملک بنا تھا وہ مقصد موجود ہے، کہ نہیں۔ پھر کہنے لگے کہ یہ ایک نظر اوپر دیکھنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہیں، ہزارہا لوگوں کے درمیان سے آپ واحد بندے ہو کہ جس نے میرے مجسمے کو دیکھا، میرے کرب کو محسوس کیا اور میرے پاس چل کر آگئے۔آپ نے میری ڈھارس بندھادی، آپ نے میرے یقین کو مٹنے سے بچا لیا، آپ نے میرے درد میرے غم اور میرے آنسوؤں کو محسوس کرکے ہی مجھے سکون اور تقویت پہنچا دی۔ آپ یقین کرو میں ہر سال یہ تماشہ دیکھتا ہوں، ہر سال خون کے آنسو روتا ہوں، جس قوم کو یہ احساس ہی نہیں کہ اسکا آدھا ملک اسی بد نظمی کی بدولت ٹوٹ چکا ہے م جس قوم کو یہ احساس ہی نہیں کہ قومیں کس طرح بنتی ہیں، کس طرح ترقی کرتی ہیں اور کس طرح اپنا وقار قائم کرتی ہیں، وہ قوم دل دل پاکستان اور جان جان پاکستان گانے کی حد تک ہی قوم رہتی ہے، یا دل و جان سے قوم بن کر اپنا وقار بناتی ہے۔تھوڑی دیر خاموش ہوئے، پھر بولنے لگے، دیکھو بیٹا، پاکستان بناتھا لاَاِلہٰ اِلاَللہکے نعرے کے ساتھ، پاکستان بنا تھا جمہوریت کیلئے عوام کیلئے، ہندوستان کے ساتھ بھی زندگی گزر ہی رہی تھی مگر ہمارا مقصد زندگی گزارنا نہیں، زندگی سنوارنا تھا۔ ہم نے ہندوؤں سے یہ ملک چھینا تاکہ مسلمان علیحدہ وطن میں اپنی پوری آزادی کے ساتھ زندگی گزاریں، اب آزادی تو نظر آرہی ہے مگر زندگی نہیں۔ مجھے میرے اللہ نے بہت کم زندگی دی، کچھ کمی اللہ نے رکھی اور کچھ ان لوگوں نے جو میرے آس پاس تھے۔ مجھے آج تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ میں طبعی موت مرا تھا یا غیر طبعی۔ بہر حال اپنے ہی آزاد کردہ وطن میں جب میں انتہائی علالت کے ساتھ بیچ سڑک پڑا تھا اور میری بہن پنکھا جھل رہی تھی تو میں نے اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر کہا تھا کہ میری بہن کبھی کمزوری نہ دکھانا، ہمارے ذمہ جو کام اللہ نے رکھا تھا وہ ہم نے کردیا اور جو کام اللہ کے بندوں کے ذمہ ہے اگر وہ نہیں کررہے ہیں تو وہ جوابدہ ہوں گے۔ آپ دیکھنا، لوگ ہوں، قومیں ہوں، جو سلوک کرتی ہیں وہی صلہ پاتی ہیں۔ آپ یہ دیکھو کہ دنیا کے نقشے پر نمو دار ہونے والی ریاست پاکستان چند اقتدار پرست، ہوس پرست اور احسان فرا موشوں کے ہاتھوں مملکت خداداد پاکستان سے مملکت افواج پاکستان بن گئی ہے۔ اگر آج فوج کر نکال دیں تو ریاست دھڑام سے گر جائے گی،یہ ریاست جس کے قیام کیلئے لاکھوں لوگوں نے جانیں قربان کیں وہ چند جرنیلوں چند مفاد پرستوں اور چند اقتدار پرستوں کے ہاتھوں یر غمال بن گئی۔ پہلے نو دس سال میں ہی اقتدار کے ایوانوں میں جو بھونچال رہا، جو آمدو رفت رہی اور جس طرح عوام کے حقوق کو سلب کیا گیا وہ دنیا میں کہیں نہیں ملے گا۔مجھے ٹھکانے لگانے کے بعد لیاقت علی خان کو گولی مار دی گئی اور پھر ایک ایسا تماشہ شروع ہوا جو اب تاریخ کا حصہ ہے۔ ایوب خان صاحب نے جب اقتدار سنبھالا، اس دن نظریہ پاکستان جی ایچ کیو میں لاکر دفن کردیا اور پھر اسی قوم نے جو آج جشن منارہی ہے ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کو وردی میں ووٹ دیا، حکمران بنایا، ان کے آنے پر مٹھائیاں بانٹیں اور جمہوریت کو پاؤں تلے دینے پر خوشیاں منائیں۔ یہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ میری ہمشیرہ فاطمہ جناح جو کہ میرا دست بازو تھیں جسکی پاکستان کیلئے اتنی ہی قربانیاں ہیں جتنی تحریک پاکستان میں کسی بھی دیگر شخص کی ہو سکتی ہیں مگر آپ دیکھیں کہ میری ہمشیرہ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا۔ ہم جب بھی اکٹھے ہوتے ہیں وہ روتی ہیں اور یہی کہتی ہیں کہ اس قوم نے مجھے بھی غداری کا سرٹیفکیٹ دیا، مجھے بھی بے موت مارا، یہ کیسی قوم ہے، ہم اکثر و بیشتر ایک دوسرے کو تسلیاں دیتے رہتے ہیں۔ آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ علامہ اقبال، لیاقت علی خان اور تحریک پاکستان کے دیگر زعماء آپسمیں بہت کم ملتے ہیں، اسکی وجہ یہ ہے کہ انکی ملاقاتیں آنسوؤں سے شروع ہوتی ہے اور آہوں پر ختم ہوتی ہے، وہ ایک ایک لمحہ جو کہ انہوں نے جدو جہد کرتے گزارا ہاد کرتے ہیں اور پھر پچھلے ستر اکہتر سال سے ہوانے والے واقعات پر جب نظر دوڑاتے ہیں تو خود کو قابو میں نہیں رکھ سکتے، اسلئے آپسمیں بہت کم ملتے ہیں۔ ہماری آخری بیٹھک 16 دسمبر2014 کو ہوئی تھی، 16 دسمبر کو ہم سب یوم سوگ مناتے ہیں جب جرنیلوں اور سیاستدانوں کی چپقلش کی بدولت ملک کو دولخت ہوا تھا،اس دن ہم اس قوم کی تقدیر پر آنسو بہاتے ہیں۔ البتہ 2014 میں جب پشاور میں بچوں کا قتل عام ہوا تھا، کئی دن تک عالم ارواح میں چیخیں سنائی دیتی رہیں، میں اور فاطمہ ان بچوں کو گلے لگا لگا کر روتے رہے، ان کے زخموں سے چور بدن دیکھ کر سسکتے رہے، ان کو دلاسہ دیتے رہے۔ ملک ٹوٹنے کا غم کیا کم تھا کہ سینکڑوں معصوم بچوں کے لاشے ہمیں بھجوادیئے۔ ہم دیکھتے رہے کہ اب کوئی کسی سے پوچھے گا، کوئی کسی سے جواب مانگے گا، کوئی کسی کا احتساب کرے گا مگر قوم کو نئے اور پرانے پاکستان میں الجھایا ہوا ہے، قوم کی طرف سے یہ مطالبہ ہی نہیں آیا کہ اس کے ذمہ داروں کا تعین کیا جاکر سزا دی جائے، ان معصوم بچوں کے والدین کے آنسو ہم دیکھتے ہیں، ان کے درد کو ہم محسوس کرتے ہیں، ان کے صبر کیلئے ہم دعا کرتے ہیں اور ان کی یاد میں اب ہم سب اکٹھے ہوتے ہیں اور سوگ مناتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قوم یہ صدمہ اس طرح بھول گئی ہے جس طرح مشرقی پاکستان کا صدمہ بھول گئی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مجبور والدین کی آواز سننے والا کوئی نہیں، ہم نے دیکھا کہ دلجوئی کے نام پر بچوں کے ساتھ فوٹو سیشن کرکے ذاتی پلسٹی کرکے خود کو ان داتا تو بنایا گیا مگر انصاف نہیں دیا گیا۔ والدین کی آنکھوں کے نور چھین کر انکو زندہ درگور کردیا گیا مگر ان بچوں کو شہید کرنے والوں کو آج تک کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکا، لیکن میرا یہ پیغام ذمہ داروں اور حکمرانوں کو پہنچا دو کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ گم گشتہ ہوگئے ہیں تو یہ انکی بھول ہے، یہ پھول یہاں پر ہمارے ساتھ ہیں، ان کے ساتھ ظلم کرنے والے اور ظلم پر خاموش رہنے والے کبھی بھی خود سکون سے رہ سکیں گے اور نہ ہی ان کی اولادیں سکھ دیکھیں گی۔ مجھے محسوس ہوا کہ قائد کی آنکھوں سے دوبارہ آنسو گرے ہیں۔ مجھے کہنے لگے، بیٹا، ان غمزدہ خاندانوں کو میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ ہم نہ صرف انکے غم میں شریک ہیں بلکہ انکے پھولوں کو ہم نے پھولوں کی طرح ہی رکھا ہوا ہے۔  وہ ہماری آنکھوں کا تارا ہیں، ہم ان بچوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ہر سال ان کے ساتھ 16 دسمبر کو اکٹھے ہوتے ہیں، ان کودیکھ کر ہمارا تو کلیجہ پھٹتا ہے مگر وہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ جن کا ذکر کتابوں میں پڑھا تھا وہ ان کے ساتھ ان کے سروں پر ہاتھ رکھ کر ان کو حوصلہ دیتے ہیں۔ انہیں یہ بھی پیغام دے دیں کہ ظالموں کا انجام بہت بھیانک ہوگا، ہم تو سب جانتے ہیں، وہاں اگر کوئی پوچھنے والا نہیں تو یہاں ہم ان سے ضرور پوچھیں گے۔

اچانک نیچے شور شرابا شروع ہوگیا، سڑک کے درمیان شرلیاں پٹاخے شروع ہوگئے، ڈانس، نعرے، میوزک، ٹریفک رک گئی، لوگ موبائل تھامیں فلمیں بنا رہے تھے، قائد اعظم مسکرا دیئے، بارہ بج گئے ہیں، قوم آپے سے باہر ہوگئی ہے، ہمیں 1947 کی یاد آگئی،ہمیں آزادی ملی تو ہم خوشی سے زیادہ پریشان تھے کہ اتنی بڑی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر آگئی ہے اب ہم نے اس سے کس طرح عہدہ بر آ ہونا ہے، ہم نے کیسے رہنمائی کرنی ہے،ہم نے کس طرح کی حکومت قائم کرنی ہے، ہم نے عوام کے مسائل اور توقعات سے کس طرح نبردآزما ہونا ہے، مہاجرین کا مسئلہ، آمدن کا مسئلہ، اخراجات کا مسئلہ، افسران کا مسئلہ، افواج، قانون، آئین، داخلہ خارجہ امور غرض بے تحاشہ مسائل تھے۔ میری صحت بھی ٹھیک نہیں تھی، مگر ہم نے دن رات کام کیا، اپنی علالت کے باوجود میں نے ایک سال اپنے رفقاء کے ساتھ جس تندھی سے کام کیا اور میرے رفقاء جن کے سر پر ملک کی بہتری اور عوام کی خدمت کی دھن سوار تھی، ہم سب نے مل کر کام کیا، انتہائی کسمپرسی انتہائی محدود وسائل اور افراد کی کمی کے باوجود اللہ کے فضل، اپنے حوصلے اور ہمت سے ہم نے آغاز کیا مگر پھر ہم آنکھوں میں کھٹکنے لگے کیونکہ ہم ایک جذبے کے، ایک مشن کے تحت کام کررہے تھے۔ ہم تو اس ریاست کو اس دنیا میں ایک مثالی ریاست بنانا چاہتے تھے اسلئے ہمارے خلاف سازشوں کا آغازہوا۔بد قسمتی سے ہمارے ارد گرد کے کھوٹے سکے ہی ہماری راہ میں رکاوٹ بننے لگے اور پھر یوں ہوا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے اپنے ساتھ ہونے والے سلوک کو نہ صرف دیکھا بلکہ بھگتا اور پھر جب ہمیں سفر آخرت پر بھیج دیا گیا اور ہمارے بعد لیاقت علی خان کو بھی راہ سے ہٹا دیا گیا تو پھر ہمارا خواب ایک سہانا خواب بن گیا اور جن لوگوں سے ہم نے آزادی حاصل کی تھی انہی کے کارندے اسکی تعبیر بن گئے اور اب تو یہ حال ہے کہ ہر لیڈر قائد اعظم ثانی ہے، ہر دوسری پارٹی مسلم لیگ ہے، میری شیر وانی کا مذاق دیکھیں حلف اٹھانے کیلئے محدود کردی گئی ہے۔ اتنے میں ایک پھلجھڑی اڑتی ہوئی قد آدم مجسمہ کے پاؤں میں آگری، قائد ہلکے سے مسکرائے اور کہنے لگے لوگوں کو خوش دیکھ کر ہم خوش ہوتے ہیں لیکن جس طرح خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے اس سے تکلیف ہوتی ہے اور پھر خاموش ہوگئے۔

میں نے قائد اعظم کی طرف دیکھا بہت گہری سوچ میں تھے۔ میں نے کہا، قائد ایک بات پوچھوں، بولے ضرور پوچھو۔ میں نے کہا، کہ آپ کو سب سے زیادہ تکلیف کس بات پر ہوتی ہے؟ مسکرا کر بولے، بیٹا کوئی ایک بات ہو تو بتاؤں، آپ تو ہر بات لکھ بھی لیتے ہو، یاد رکھو منافقوں کے اس معاشرے میں سچ بات کوئی پسند نہیں کرتا۔ آپ لکھو گے تو دشمن بناؤ گے۔ میں نے کہا، کہ قائد اعظم کی بات حرف آخر ہے،اسکی بات لکھنے بولنے اور بیان کرنے پر اگر کوئی ناراض ہوتا ہے تو ہزار بار ہو، آپ اپنے دل کی بات کریں۔ کہنے لگے، جب جرنیلوں کو حکومت اور ججوں کو جرنیلوں کی اطاعت میں دیکھتا ہوں تو روح تک کانپ جاتی ہے کہ کیا یہ وہ نظریہ تھا جس کیلئے یہ ملک بنا تھا۔ یہ ملک سیاستدانوں نے بنایا تھا، سیاستدانوں کو اسقدر متنازعہ بنا دیا گیا ہے کہ اب سیاستدان فوجی گملے ڈھونڈتے ہیں۔ان کی بشری خامیاں ان کو اس مقام تک لائی ہیں، کتنے دکھ کی بات ہے کہ اسلامی جمہوری ریاست میں نہ جمہوریت ہے اور نہ انصاف اور اگر یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں تو پھر کیسا اسلامی اور کیسا جمہوری ملک، کونسا قائد کا فلسفہ، کونسی تعبیر سب جھوٹ ہے، سب فریب ہے، سب دھوکہ ہے۔ جتنے بھی سیاستدان ہیں ان کے پاس فوجی چورن ہے جو ان معصوم عوام کو بیچتے ہیں اور آپ ان عوام کی سادگی ملاحظہ فرمائیں کہ اسقدر اسراف صرف اسلئے کررہے ہیں کہ انکو ایک فوجی جرنیل نے اپنی طرف سے توجہ ہٹانے کیلئے اس جانب راغب کیا اور اب یہ اسکو قومی تہوار بنا کر سڑکوں گلیوں محلوں میں قومی سرمایہ کو آگ لا کر ہوا میں اڑتا پھٹتا دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ قوموں کو اپنے تہوار منانا چاہئیں مگر سادگی کے ساتھ۔ قوم کو میرا یہ پیغام دے دیں کہ جب سادگی تھی تو بہتری تھی، جب سے ریا شروع ہوئی سماجی سیاسی اور معاشی طور پر نیچے ہی گئی ہے اور جب حالات کی طرف دیکھتا ہوں تو سچی بات یہ ہے کہ مایوسی ہوتی ہے لیکن بہر حال امید ضرور ہے۔ نئی نسل سے امید ہے کہ وہ شاید آگے جا کر کچھ تبدیلی لے آئیں فی الحال جو لوگ، جو قیادت اور جو نظام ہے اس سے کوئی توقع نہیں۔

اتنے میں نیچے راستہ کھل گیا اور میرے بچوں نے گاڑی کا ہارن بجانا شروع کردیا۔ قائد میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور بولے جاؤ بیٹا، آپ کی بہت مہربانی آپ میرے پاس آئے۔ خیریت سے گھر جاؤ،میں نے تعظیماً سر جھکا یا اور گاڑی میں بیٹھا۔ آگے پیچھے لوگوں کو دیکھا اوپر قائد کی طرف دیکھا اور بس چل پڑا کہ باقی کچھ دیکھنے سننے کی سکت نہیں تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں