قید کی سزا اور قانون قصاص و دیت

قید کی سزا اور قانون قصاص و دیت


پوری دنیا میں انسانی جان کی حرمت مسلمہ ہے۔ کسی انسان کو قتل یا زخمی کرنا دنیا کے ہر قانون میں جرم ہے الایہ کہ کوئی مجاز عدالت کسی کو قتل یا زخمی کرنے کا فیصلہ صادر کرے۔ اسکا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔
اسلامی شریعت کے مرتب کردہ قوانین قصاص و دیت انسانی مزاج سے ہم آہنگ ہیں۔ سزا کا بنیادی مقصد اصلاح اور عبرت ہے۔ ان دو مقاصد کو اگر نظر میں رکھا جائے تو قصاص و دیت کے قوانین ان دونوں باتوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ کیونکہ اگر قتل یا زخمی کرنے پر کسی شخص سے قصاص لیا جائے تو معاشرے کے اندر لوگ اس بات سے عبرت حاصل کریں گے۔اگر ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، جان کے بدلے جان کا اصول لاگو ہوگا تو ایسی صورت میں زیادتی کرنے والا زیادتی کرنے سے پہلے کئی بار سوچے گا یوں معاشرے کے اندر سکون کا دور دورہ ہوگا۔ اسی طرح اگر قصاص کا نفاذ ممکن نہ ہو تو متبادل صورت دیت، ارش اورضمان کی سزائیں نافذ کی جاتی ہیں جسمیں ظالم کا مال مظلوم یا مظلوم کے خاندان کو بطور سزا دلوا کر انکی داد رسی کی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں جسمانی اور مالی سزاؤں کے بدلے قید کی سزا دی جاتی ہے جو اپنے اثرات و نتائج کے اعتبار سے غیر موزوں ہے کیونکہ یہ سزا نہ صرف مجرم کو بلکہ اسکے تمام خاندان اور معاشرے کو بھی ملتی ہے اور اس کا بار معاشرے اور حکومت کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر کسی شخص کو جیل میں ڈال دیا جائے تو اس صورت میں جن لوگوں کا وہ کفیل ہوتا ہے وہ اسکی کفالت اور اس کے دست شفقت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک فرد کی غلطی کا خمیازہ پورے خاندان کو بھگتنا پڑتا ہے۔نیز جو ٹیکس عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا چاہئے وہ مجرموں کی حفاظت اور اسکی کفالت پر خرچ ہوتا ہے۔ تادیب و تنبیہ (وارننگ)کے بعد ہر معاشرہ یہی چاہتا ہے کہ مجرم کی اصلاح ہو جائے۔ اسکے لئے سب سے زیادہ مؤثر کوئی چیز اگر ہو سکتی ہے تو وہ اچھی صحبت (Company) ہے لیکن تماشہ یہ ہے کہ اس سزا کے زریعے سے مجرم کو معاشرے، خاندان اور خود اسکے اہل خانہ سے اور اصلاح کی ہر دعوت اور خیر کی ہر تحریک سے الگ کرکے برسوں مجرموں ہی کی صحبت میں رکھنے کا اسطرح اہتمام کیا جاتا ہے کہ اسمیں اگر سدھرنے کی کوئی خواہش ہو بھی تو وہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جاتی ہے۔ وہ اس سارے عرصے میں جرم کی دنیا میں جیتا ہے، جرم کی باتیں سنتا ہے، جرم ہی کے نقطہ نظر سے ہر چیز کو دیکھتا ہے اور جرم ہی کی محرکات کو عمل اور اقدام کیلئے ایک زندہ محرک کی حیثیت سے شب و روز اپنے سامنے پاتا ہے۔ عموماً جب ایسا شخص رہا ہو کر جیل سے باہر آتا ہے تو وہ جرم کی دنیا سے زیادہ روشناس ہو چکا ہوتا ہے۔
سزائے قید اپنے اندر بہت سی خرابیاں رکھتی ہے۔ اسلئے شریعت نے قید کی سزا کے علاوہ دیگرتعزیری سزائیں بھی رکھی ہیں جن میں گھر میں نظر بند کرنا اورجلا وطن کرنا، کوڑے مارنا بھی شامل ہے۔ اس صورت میں سزا یافتہ شخص اپنے اہل وعیال کو اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے۔فقہا کرام کی اکثریت سزا ئے قید کو بطور تعزیر نافذ کرنے کے حق میں ہے۔ سب سے پہلے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بعض جرائم پر قید کی سزا بطور تعزیر دی ہے۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں پہلا قید خانہ تعمیر کیا گیا تھا اور آپ نے بھی قید کی سزا دی ہے لیکن طویل مدت کیلئے قید کی سزاؤں کا اس دور میں کوئی تصور نہ تھا۔ اسلامی تعلیمات نے قید کی سزا کو بنیادی سزا قرار نہیں دیا ہے بلکہ قصاص، دیت، ارش،ضمان اور جسمانی سزاؤں جن میں کوڑے مارنا، جلاوطن کرنا جیسی سزائیں شامل ہیں ان کو بنیادی سزا قرار دیا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ جسمانی سزائیں ظالمانہ اور وحشیانہ ہیں۔ انسانی نفسیات یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر معاملہ میں فائدہ اور نقصان کا موازنہ کرتا ہے اور نقصان کا پہلو غالب ہو تو گریز کرتا ہے۔ چنانچہ انسان ارتکاب جرم میں بھی اس پہلو کو پیش نظر رکھتا ہے کہ اگر اسکو فائدہ کی امید زیادہ اور نقصان کی کم ہو تو وہ یہ جرم کر گزرے گا اور اگر اس جرم کی سزا شدید ہوگی تو وہ اس جرم کے ارتکاب سے دور رہے گا۔ شریعت نے انسانی نفسیات کو مد نظر رکھ کر سزائیں مقرر کی ہیں۔ کوڑوں کی سزا کی خصوصیت یہ ہے کہ اسکا رخ مجرم کی مادی حساسیت کی طرف ہوتا ہے جس چیز سے مجرم زیادہ ڈرتے ہیں وہ جسمانی اذیت ہے اسلئے انکو خوفزدہ کرنے کیلئے اس نفسیات سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ یہ تصور کہ یہ سزا احترام انسانیت کے منافی ہے ایک بے بنیاد بات ہے۔ جب مجرم نے اپنا احترام خود ملحوظ نہیں رکھا تو اسکے احترام کو دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ نیز ایک یا دو اشخاص کو شدید جسمانی اذیت پہنچا کر لاکھوں اشخاص کو اخلاقی اور معاشرتی نقصان سے بچا لینا اس سے بہتر ہے کہ مجرم کو تکلیف سے بچا کر پوری قوم کو ایسے نقصانات میں مبتلا کردیا جائے جو آنے والی بے گناہ نسلوں پر بھی اثر انداز ہوتے رہیں۔
اسی طرح جو لوگ اسلامی سزا کو وحشیانہ قرار دیتے ہیں وہ دراصل معقولات کے بجائے محسوسات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ جو نقصان ایک فرد پر مرتب ہوتا ہے وہ چونکہ محدود شکل میں محسوس طور پر انکے سامنے آتا ہے اسلئے وہ اسے ایک امر عظیم سمجھتے ہیں۔ اسکے برخلاف وہ اس نقصان کی اہمیت کا اعتراف نہیں کرتے جو وسیع پیمانے پر پورے معاشرے اور آئندہ نسلوں پر مرتب ہوتا ہے۔
اسلامی شریعت نے کوڑوں کی سزا دینے کا ایک پورا ضابطہ بنایا ہے جس کے تحت کوڑوں کی سزا پر عملدرآمد کیا جاتا ہے جو درج ذیل ہے۔

کوڑوں کی سزا کے اجراء کا شرعی ضابطہ کار
1۔ کوڑا اوسط درجے کا ہو۔
2۔ نہ بہت موٹا اورسخت ہو اور نہ بہت پتلا اور نرم ہو۔
3۔ مار بھی اوسط درجے کی ہونی چاہئے۔ کوڑا مارنے والا اسطرح مارے کہ اسکی بغل نہ کھلے (یعنی کوڑے مارنے میں اتنی سختی نہ ہو)۔
4۔ ضرب زخم ڈال دینے والی نہ ہو۔
5۔ ایک ہی جگہ نہیں مارنا چاہئے۔ منہ اور شرمگاہ کے علاوہ پورے جسم پر مار کو پھیلا دینا چاہئے۔
6۔ مرد کو کھڑا کرکے اور عورت کو بٹھا کر مارنا چاہئے۔
7۔ سخت سردی اور سخت گرمی کے وقت مارنا ممنوع ہے نیز موسم سرما میں گرم وقت میں اور موسم گرما میں ٹھنڈے وقت میں مارنے کا حکم ہے۔
8۔ باندھ کر مارنے کی اجازت نہیں ہے الایہ کہ مجرم بھاگنے کی کوشش کرے۔
9۔ کوڑے قسطوں میں بھی مارے جا سکتے ہیں۔
10۔ کوڑے مارنے کا کام جلادوں سے نہیں لینا چاہئے بلکہ صاحب علم و بصیرت آدمیوں کو یہ خدمت سر انجام دینی چاہئے جو جانتے ہوں کہ شریعت کا تقاضا پورا کرنے کیلئے کس طرح مارنا مناسب ہے۔
11۔ اگر مجرم مریض ہو اور اسکی صحت یاب ہونے کی امید نہ ہو یا بہت بوڑھا ہو تو اسے سو شاخوں والی ایک ٹہنی یا سوتیلیوں والا ایک جھاڑو لے کر صرف ایک دفعہ مارنا چاہئے۔اگر حاملہ عورت ہو تو وضع حمل کے بعد نفاذ کا زمانہ گزر جانے کا انتظار کرنا ہوگا۔
12۔ اگر زنا گواہیوں سے ثابت ہو تو گواہ کوڑے مارنے کی ابتداء کریں گے اور اقرار کی بنیاد پر سزا دی جارہی ہو تو قاضی خود ابتداء کرے گا۔
(تفہیم القرآن ازابو الاعلی مودودی جلد سوم صفحہ نمبر341)

اسی طرح دی جانے والی کوڑوں کی سزا کا موازنہ قید کی سزا سے کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہمارے ملک میں رائج قوانین میں قید کی سزا بنیادی سزا ہے جبکہ شریعت میں سزائے قید ایک ثانوی سزا ہے۔ ہر صاحب بصیرت یہ بات با آسانی جان سکتا ہے کہ قید کی سزا جرائم کی بیج کنی میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ جیلیں قیدیوں سے اٹی پڑی ہیں، گنجائش سے کہیں زیادہ افراد جیلوں میں اپنے اہل و عیال سے دور قید کی زندگی بسر کررہے ہیں اور انکے بال بچوں اور خاندان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ہوتا اور وہ الگ ناکردہ گناہوں کی سزا اپنے سر پرست سے محرومی کی صورت میں بھگت رہے ہوتے ہیں۔
آج کے دور میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ قید کی سزا کی جگہ قصاص و دیت کی طرح بہت سے جرائم میں کوڑوں کی سزا کو نافذ کرکے جیلوں سے قیدیوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے اور اسطرح دیگر اسلامی سزاؤں کو رواج دیا جائے تاکہ سزائے قید کی وجہ سے جو معاشی اور معاشرتی خرابیاں سامنے آتی ہیں ان کا تدارک ہو سکے۔ نیز سزائے قید کا از سر نو جائزہ لے کر سزائے قید کو کم سے کم کرنے اور جسمانی سزاؤں کو رواج دینے کی اشد ضرورت ہے۔ پچھلے دنوں قصور میں معصوم بچی زینب کے ساتھ سفاک درندے نے جس سفاکیت کا مظاہرہ کیا اس معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کرکے اسے مار ڈالا اور کوڑے کچرے پر اسکی لاش پھینک دی۔ اس دلدوز واقع نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور پورا ملک ایک زبان تھا کہ اس ظالم درندے کو سر عام چوک چوراہے پر پھانسی دی جائے، اسے بے دردی سے مارا جائے لہذا وقت کی ضرورت ہے کہ معاشرے سے اس قسم کے سنگین جرائم کے خاتمے کیلئے فوری اور فی الوقت سزائیں دی جائیں۔ اسلامی قوانین بہت واضح ہیں بات صرف ان پر عمل کرنے کی ہے۔

موقعہ واردات سے عدم موجودگی (عذر غیر موجودگی)
Plea of Alibi

جب ملزم یہ عذر اختیار کرتا ہے کہ وہ وقوعہ کے وقت جائے وقوعہ سے غیر حاضر تھا اور اس کا وقوعہ پر حاضر ہونا نا ممکن تھا تو اسے عذر غیر موجودگی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ملزمان صفائی میں یہ عذر اختیار کرتے ہیں مگر دیکھنے میں یہ عذر جتنا سہل اور آسان نظر آتا ہے حقیقت میں اس کے برعکس ہے۔ اسکا ثابت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ملزم کی طرف سے ایسا عذر اگر حقائق پر مبنی ہے اور وہ زبانی یا دستاویزی شہادت کے ذریعے یہ ثابت کر دیتا ہے کہ وہ واقعی
بو وقت وقوعہ جائے وقوعہ پر موجود نہ تھا بلکہ اتنی دور موجود تھا کہ جہاں وہ جرم کے ارتکاب کے بعد فوراً نہیں پہنچ سکتا تھا تو وہ ایسی شہادت پیش کرکے اپنا دفاع کامیابی سے کر سکتا ہے۔ یہ اس کی صفائی میں ایک مضبوط شہادت ہوگی۔عذر غیر موجودگی کی صورت میں استغاثہ کا فرض ہوتا ہے کہ وہ ٹھوس شہادتوں کے ساتھ جرم کو اس حد تک ثابت کرے کہ شک و شبہ کی بالکل گنجائش نہ رہے۔ استغاثہ کی جانب سے محض یہ کہہ دینا کہ ملزم کا عذر غیر موجودگی جھوٹ پر مبنی ہے، ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے کیلئے ناکافی ہے۔ کیونکہ اگر ملزم اپنا عذر غیر موجودگی ثابت نہ کر سکے مگر عدالت کے ذہن میں معقول شبہ پیدا کردے تو استغاثہ کو عدالت کا یہ شبہ رفع کرنا ہوگا ورنہ یہی قرار پائے گا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف استغاثہ ثابت کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ اسکافائدہ ملزم کو ملے گا اور اسے رہا کردیا جائے گا۔ عدالت اس سارے معاملے کو نہایت باریک بینی سے دیکھتی ہے۔ جائے وقوعہ سے عدم موجودگی کا عذر آرٹیکل121 قانون شہادت 1984 ء کے تحت آتا ہے جہاں عام اصول کے برعکس بار ثبوت استغاثہ سے ملزم کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ملزم کا ایسا مؤقف استثنائی صورتوں میں آتا ہے۔
مثال کے طور پر:
الف پر ب کے قتل کا الزام ہے۔ الف مؤقف اختیار کرتا ہے کہ بوقت وقوعہ وہ جائے وقوعہ سے چار سو میل دور ایک جرگے میں موجود تھا۔ یہاں وہ جرگے میں شامل لوگوں کو اپنے حق میں بطور گواہ پیش کر سکتا ہے کہ وہ واقعی جرگہ میں موجود تھا اور وقوعہ کے بعد وہاں پہنچنا ممکن نہ تھا۔جائے وقوعہ سے عدم موجودگی کے عذر کو ثابت کرنے کیلئے مضبوط شہادت درکار ہوتی ہے۔ ایسے ملزمان جو مشترکہ نیت مجرمانہ کے تحت جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور ان میں سے چند یا ایک جائے وقوعہ پر پروگرام کے مطابق موجود نہیں ہوتے حالانکہ وہ جرم کے ارتکاب میں شامل ہوتے ہیں۔ وہ بھی ایسا عذر اختیار کرتے ہیں لیکن اگر یہاں مشترکہ نیت مجرمانہ ثابت ہو جائے تو پھر جائے وقوعہ سے عدم موجودگی کا عذر کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ عدالت عذر عدم موجودگی کے ثبوت میں پیش کی جانے والی شہادت کو نہایت باریک بینی سے دیکھتی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ ملزم کے دوست اور رشتہ دار ملزم کے عذر عدم موجودگی کے حق میں شہادت دینے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔
# آرٹیکل121 قانون شہادت کے تحت اگر کوئی ملزم مخصوص عذر اختیار کرتا ہے تو اسے ثابت کرنے کا بوجھ ملزم پر منتقل ہو جاتا ہے۔ (PLD 2011 Lahore 84)

اپنا تبصرہ بھیجیں