مجھے کچھ کہنا ہے

مجھے کچھ کہنا ہے


پاکستان تو گزشتہ 70 سالوں سے انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور اپنی اٹھاون سالہ زندگی میں کبھی یہ خوشخبری نصیب نہیں ہوئی کہ پاکستان اب مشکل حالات سے باہر ہے۔آجکل پاکستان کی عدلیہ بہت مشکل حالات کا شکار ہے۔ یہ مشکلات 2002 سے مختلف ہیں۔ 2002 میں جب پرویز مشرف صاحب نے پی سی او جس کا مطلب یہ ہے کہ آئین کی بجائے ڈکٹیٹر کی ذاتی وفاداری کا حلف اٹھانے کا حکم دیا اور ہمارے فاضل جج صاحبان نے ملازمت بچانے کیلئے سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے فوراً حلف اٹھا کر عدلیہ کو مشکل حالات سے نکالا تھا اور 2007 میں جب دوبارہ پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو برطرف کرنے کی ہمت کی اور ان کے برادر جج صاحبان نے ان کی جگہ سنبھالی، لیکن وکلاء تحریک جس کو عوامی پذیرائی نصیب ہوئی، اس عوامی تحریک کے بعد جسٹس ڈوگر کی مدت ملازمت مکمل ہونے پر دوبارہ افتخار چوہدری صاحب اور ان کے ساتھی جج جواب شیر قرار دے دیئے گئے ہیں، بحال ہوئے۔ ہر دو مشکلات کے برعکس اب جن حالات سے عدلیہ گزر رہی ہے وہ ان دونوں مشکل صورتوں سے مختلف ہے۔ آج کی عدلیہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار صاحب کی سربراہی میں جسقدر مشکل حالات میں ہے، شاید ہی کبھی ہو۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عدلیہ کی جانب سے ا س مختصر عرصہ میں اتنی وضاحتیں آچکی ہیں، جتنی شاید پچھلی کئی دھائیوں میں نہیں آئیں۔ پہلی بار محترم چیف جسٹس کو قسم کھا کر یقین دلانا پڑا کہ ان کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں، حالانکہ ان کو قسم کھانے کی کوئی ضرورت نہیں، قوم سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ فاضل چیف جسٹس صاحب کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی پارٹی بنائیں یا جو پارٹی چاہیں اسمیں شامل ہوں۔ مگر ایک سیاسی پارٹی کی طرف ان کا جھکاؤ اور میڈیا پر ان کے بارے میں جس رائے کا اظہار ہورہا ہے اور جس طرح سوشل میڈیا پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت کو ایک سیاسی پارٹی کے ہیڈ آفس کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اس کے جواب میں فاضل چیف جسٹس نے قسم کھا کر تردید نہیں بلکہ تقویت پہنچائی ہے۔ کیونکہ اگر کسی جج کے کوئی عزائم نہیں، اگر کوئی جج اپنے مستقبل کی راہ ہموار نہیں کررہا تو اسکو کسی کی نہ پرواہ کی ضرورت ہے اور نہ قسمیں کھا کر صفائی کی ضرورت ہے۔ قاضی کا عہدہ ایک ایسا عظیم المرتبت عہدہ ہے کہ جہاں سے نکلے ہوئے فیصلے تو اثر رکھتے ہیں مگر صفائیاں اور قسمیں اس اثر کو زائل کرتے ہیں۔

اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ انصاف کا ادارہ انصاف کی فراہمی، ادارے کی درستگی اور اپنی استعداد کو بہتر اور مؤثر بنانے کی بجائے سیاسی امور میں ذیادہ الجھا ہوا ہے اور جتنا ذیادہ الجھ رہا ہے، اتنا ذیادہ مشکلات کا بھی شکار ہوتا جارہا ہے، اتنی ذیادہ وضاحتیں دینی پڑرہی ہیں۔ جسٹس ریٹائرڈ دوست محمد خان کے حوالے سے پختونخواہ کے وکلاء میں غلط فہمیاں موجود ہیں۔ فاضل چیف جسٹس کا پشاور میں وکلاء سے معذرت کا اظہار بذات خود ایک افسوسناک امر ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں بھی وکلاء صاحبان مطمئن نہیں ہیں بلکہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ سوائے ایک سیاسی پارٹی کے کوئی بھی طبقہ عدل و انصاف کے موجودہ حالات سے مطمئن نہیں۔ اس واحد مطمئن سیاسی پارٹی کے سربراہ کی جانب سے بار بار عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کے اعلانات غلط فہمیوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں کیونکہ اسی موصوف نے پانامہ کیس میں یہ کہا تھا کہ پانامہ کیس بنچ کے سربراہ نے انہیں درخواست دائر کرنے کا کہا تھا جس پر انکی جواب طلبی کی بجائے ایک وضاحت جاری کی گئی جسمیں ان کے الفاظ پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

وکلاء ایک کے علاوہ باقی سیاسی پارٹیوں اور عوام کے ایک وسیع طبقہ کے علاوہ خود عدلیہ سے تعلق رکھنے والے دو معزز جج صاحبان نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرکے اس مجموعی سوچ کو تقویت پہنچائی ہے، جو اس وقت عدلیہ کے بارے میں عمومی طور پر پائی جاتی ہے۔ دونوں محترم سیشن جج صاحبان کی علمیت، قابلیت اور سچائی پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ جناب ترین صاحب اکثر رفدہ کی حالت میں پائے جاتے ہیں، ان کے کردار پر آج تک کسی نے انگلی نہیں اٹھائی۔ عظیم آفریدی صاحب عدلیہ کا ایک اثاثہ ہیں، ان دونوں نے جو درخواست دی ہے اس میں ان کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں ہے۔ انہوں نے عدلیہ کی ساکھ اور وسیع تر مفاد کیلئے یہ جرأتمندانہ قدم اٹھایا ہے۔ ان کے ریفرنس کے بعد ان کے ساتھ انصاف نے جو انصاف کیا ہے وہ اپنی جگہ ایک انصاف ہے۔

اصولاً عدلیہ کو اپنے ماتحت جج صاحبان کی جانب سے دائر کئے جانے والے ریفرنس پر ذیادہ توجہ دینی چاہئے تھی تاکہ اپنی صفوں کو مضبوط بنایا جائے۔ ماتحت عدالتوں میں باکردار جج صاحبان کی کوئی کمی نہیں، جو اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کی بجائے نوکری کی قربانی دے سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں اس ریفرنس کو ذیادہ اہمیت دینی چاہئے مگر نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ان دونوں جج صاحبان کو فوری طور پر انتقامی کاروائی کا سامنا کرنا پڑا اور ان کو معطل کردیا گیا۔ اگر ناولوں اور شعرو شاعری کے فیصلے کرنے والے فاضل جج صاحبان اسلامی اقدار اور قاضی کے بارے فرمودات دیکھ لیں تو انکو فیصلہ کرنے میں کوئی عذر پیش نہیں آئے گا۔ ایک اور بات جو بڑے تواتر سے دیکھی جارہی ہے کہ خصوصی طور پر چیف جسٹس صاحب غصے کاا ظہارکرتے ہیں، غصے کی حالت میں کیا انصاف ہو سکتا ہے؟ اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، لیکن جس طرح توہین عدالت کی اس پر خاموش رہنا انتہائی نا انصافی ہوگی۔ چیف صاحب کے بارے میں فیصل رضا عابدی کے ریمارکس نامناسب ضرور ہیں مگر خادم رضوی کی طرح ہر گز نہیں۔ اگر فیصل رضا عابدی کے چیف جسٹس کے بارے میں ریمارکس ان کے بقول توہین آمیز تھے، تو وہ خود اسمیں پارٹی ہوگئے۔ ان کو یہ کیس کسی اور جج صاحب کو بھیجنا چاہئے تھا تاکہ وہ اسکی شنوائی کرتے، مگر انہوں نے اپنے خلاف ریمارکس پر از خود نوٹس لیکر انہیں ھنگامی طور پر طلب کیا اور پیش نہیں ہوئے تو برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔ کیا یہ اسلامی اقدار اور عدالتی معیار کے مطابق ہے یا نہیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب سینئر جج ہیں اور چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی صورت میں وہ جوڈیشل کونسل کے سربراہ ہیں۔ ان کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے عہدے، فرض اور انصاف کے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے جج صاحبان کی جانب سے دائر کردہ ریفرنس پر کاروائی کریں اور جج صاحبان کے خلاف کی گئی کاروائی کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیکر ان کی عزت و تکریم کو یقینی بنائیں۔ اگر دائر کردہ ریفرنس غلط ثابت ہوں، بد نیتی پر مشتمل ہوں یا دائرہ اختیار سے تجاوز قرار پائیں، تب اگر کاروائی کی جائے تو مناسب ہوگا۔ محض حق کی آواز بلند کرنے پر زبان بندی اور سزا پانامہ میں اقامہ پر سزا کا تسلسل ہے، جس نے پوری قوم کو تقسیم کردیا ہے۔ امید ہے محترم فاضل جج صاحبان انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اندرونی احتساب پر بھی توجہ دیں گے اور انصاف کے مندر کو مندر ہی رہنے دیں گے، انصاف کا شمشان گھاٹ نہیں بنائیں گے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا ریفرنس

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی ایک دبنگ جج ہیں۔ ان کی تربیت اور خاندانی بیک گراؤنڈ کی بدولت وہ بعض اوقات ایسے کمنٹس یا فیصلے کرتے ہیں جو ہضم نہیں ہوتے اور ایسی صورت میں ان پر تنقید کے نشتر بھی چلائے جاتے ہیں، نوٹس بھی ملتے ہیں اور ایک عدد ریفرنس کا بھی سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے ریفرنس میں جو مؤقف اختیار کیا ہے وہ ریفرنس داخل کرنے والوں سے لیکر ریفرنس سننے والوں تک سے برداشت نہیں ہورہا۔ دوسرے اداروں کو گھنٹوں اور منٹوں کا نوٹس دینے والے سال سے یہ فیصلہ نہیں کرپارہے ہیں کہ جناب جسٹس شوکت عزیز کے کھلی عدالت میں سماعت کے مؤقف کو تسلیم کرلیا جائے، یا مسترد کردیا جائے۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے فاضل ممبر جج صاحبان عدالت عظمیٰ میں بیٹھ کر حکومتی اور ریاستی اداروں پر سخت تنقید کرتے ہیں کہ وہ کام نہیں کرتے اور ان کی سرزنش بھی کرتے ہیں، احکامات بھی جاری کرتے ہیں اور آجکل تو چھاپے تک ماررہے ہیں اور یہ سارا کام ایک صوبے اور اس صوبے میں قائم حکومت کے خلاف ہورہا ہے جبکہ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنے گھر کو درست کریں اور اگر ہیڈ لائنز کا شوق ہے تو پھر تمام ملک میں یکساں کاروائی کریں۔

بہر حال جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف ریفرنس نے عدلیہ اور اسکے احتسابی عمل کا پول کھول کر رکھ دیا ہے اور جو عدلیہ لاکھوں زیر التواء مقدمات کو نظر انداز کرکے دوسروں پر احتسابی تلوار تھامے انصاف نافذ کررہی ہے، وہ عدلیہ اپنے اندر ایک ریفرنس کی سماعت کھلی عدالت میں کرنے کا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ اگر جسٹس شوکت عزیز صدیقی الزامات سے خائف ہوتے تو کبھی ایسی درخواست نہ کرتے، مگر ان کی جرأت اس امر کا اظہار ہے کہ ان کے خلاف جو ریفرنس داخل ہے، وہ غلط ہے اور چاہتے ہیں کہ اسکی کھلی عدالت میں سماعت ہو، یہ نہ کوئی غیر آئینی اور نہ ہی کوئی غیر قانونی تقاضا ہے۔ اگر متاثرہ فریق خود چاہتا ہے کہ اس کے خلاف کھلی عدالت میں کاروائی ہو تو انصاف کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا فیصلہ کیا جاتا اور اگر کہیں یہ خدشہ ہے کہ اس سے کسی کی بدنامی یا کوئی راز افشاء غیر مناسب ہوگا، تو درخواست مسترد کرکے اصل ریفرنس کی سماعت کی جاتی۔ لیکن ایسا نہیں ہے، ان کے سر پر تلوار لٹکا کر فیصلہ کو غیر ضروری طوالت دی جارہی ہے جو کہ عدلیہ کے اپنے مفاد میں بھی نہیں ہے کیونکہ عدلیہ کی طرف سے بار بار اس امر کا اظہار کیا جاتا ہے کہ عدلیہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے آسمان گرے یا زمین پھٹے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ جسٹس صدیقی کے ریفرنس پر نہ تو زمین پھٹنے کا اندیشہ ہے اور نہ آسمان گرنے کی توقع ہے، البتہ عدلیہ کے اندر کی خامیاں سامنے آنے اور معیار افشاء ضرور ہو سکتا ہے، جو کہ عدلیہ کے وقار کو مزید بلند کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ مسئلہ صرف جسٹس شوکت صدیقی صاحب تک محدود نہیں ہے بلکہ کچھ دیگر فاضل جج صاحبان کے متعلق بھی ریفرنس زیر التواء ہیں اور بڑے عرصے سے ہیں۔ یہ عدلیہ کے ازخود تیز بروقت اور منصفانہ کردار کے عزم کے منافی ہے کہ ایک سیاسی لیڈر کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر مقدمہ سنا جائے، اسکا مقدمہ دیگر عدالت کو بھیجا جائے تو معیار بھی مقرر کی جائے اور ایک مانیٹر بھی بٹھا دیا جائے لیکن بات جب اپنے گھر کی آئے تو لٹکا دیا جائے۔ عوام کافی باشعور ہو چکی ہے، عوام کی نظریں اگر عدالتی فیصلوں پر لگی ہیں تو عدالتوں کے اندرون بھی عیاں ہوتے جارہے ہیں۔ عدالت انصاف دیں نہیں انصاف کریں اور جب انصاف کریں گی تو عوام کا اعتماد بڑھے گا۔ احتساب ہر پاکستانی کی خواہش ہے اور احتسابی عمل کو ہمیشہ پذیرائی ملی ہے۔ فوج کی قدر اسلئے ذیادہ کی جاتی ہے کہ فوج کا خود احتسابی کا مؤثر نظام موجود ہے اور اس احتساب کے مظاہرے نہ صرف کئے جاتے ہیں بلکہ عوام کو بتائے بھی جاتے ہیں جبکہ عدلیہ کے احتساب کا ریکارڈ کوئی ذیادہ خو ش کن نہیں ہے۔یہ ادارہ صرف دوسروں کے احتساب کو انصاف سمجھتا ہے اور اپنے احتساب کو توہین سمجھتا ہے اور کوئی ایسا مطالبہ اسلئے نہیں کرتا کیونکہ اس کو توہین کے دائرہ کار میں لائے جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اسلئے عدلیہ کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے خود احتسابی کے عمل کو تیز، شفاف اور قابل عمل بنائیں تاکہ نہ وہ خود توہین کے مرتکب ہوں اور نہ کوئی۔

خواجہ آصف کی نا اہلی

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف بھی اقامہ کی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے نا اہل ہوگئے۔ خواجہ آصف کی نا اہلی کنفرم تھی کیونکہ انہوں نے اپنے اقامہ کے بارے میں الیکشن کمیشن کو مطلع نہیں کیا تھا، چنانچہ انکے سیاسی حریف پی ٹی آئی کے عثمان ڈار نے ان کی نا اہلی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت عالیہ نے سپریم کورٹ میں نواز شریف کی اقامہ پر نا اہلی کے تناظر میں خواجہ آصف صاحب کو بھی نا اہل قرار دے دیا۔ خواجہ آصف کو اپنی نا اہلی کا یقین تھا، اسلئے انہوں نے اپیل کے حق کے استعمال کرنے کا اعلان کردیا تھا، ان کی اپیل ہوگی اور جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اپنی جگہ پر، مگر خواجہ آصف کی سیاسی حیثیت کو اس فیصلے سے شدید نقصان پہنچے گا اور سیالکوٹ سے ہمیشہ کامیاب ہونے والے خواجہ آصف کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے اور اب ان کیلئے اگر عدالت عظمیٰ ریلیف دے بھی دے تو بھی کامیابی ممکن نہیں ہے۔

خواجہ آصف اور نوازشریف کے مقدمات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ نواز شریف کے خلاف عدالت عظمیٰ کی فرمائش پر عمران خان نے درخواست انکی بددیانتی کے خلاف دائر کی تھی۔ بددیانتی کا تعین کرنے کیلئے اسکی تفتیش ضروری تھی۔ ان پر نہ تو اقامے کا الزام تھا، نہ دوران سماعت کبھی اس موضوع پر کوئی بحث کوئی شہادت یا کوئی جرح ہوئی۔ اقامہ سرے سے موضوع مقدمہ ہی نہیں تھا۔ عدالت نے میاں صاحب کے خلاف کرپشن کا مقدمہ اینٹی کرپشن کورٹ بھیجا تاکہ میاں صاحب کو مکمل دفاع کا حق مل سکے، مگر ان کو اقامہ اور تنخواہ میں نا ہل قرار دے دیا گیا۔ اسکی بنیاد بھی یہی تھی کہ میاں صاحب نے متعلقہ اداروں سے یہ حقیقت چھپائی جبکہ قانوناً ان کو اپنے تمام اثاثے اور معلومات فراہم کرنی چاہئے تھیں۔ جبکہ خواجہ آصف کے خلاف مقدمہ ہی اقامہ تھا اور خواجہ آصف نے اقامہ کی تائید بھی کی جسکی بنیاد پر ان کو نا اہل کردیا گیا۔

کسی بھی قانونی یا آئینی خلاف ورزی پر کسی بھی منصفانہ قانونی کاروائی پر کوئی بھی اعتراض نہیں کرتا۔ خواجہ آصف پر جو الزام تھا اسی کے تحت کاروائی ہوئی، ان کو صفائی کا پورا موقع دیا گیا اور اس کے بعد ان کے خلاف جو فیصلہ ہوا، کسی بھی قانون یا سیاسی حلقے سے اس کے خلاف کوئی رد عمل نظر نہیں آیا، اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایک تو مقدمہ کی سماعت کے دوران فریقین اور وکلاء کو پورا موقع دیا گیا اور دوسرا کوئی غیر ضروری کمنٹ اخباروں اور ٹی وی کی ہیڈ لائن نہیں بنا۔ ایک قانونی معاملے کو قانون کے تناظر میں دیکھا اور پرکھا گیا اور اسی تناظر میں فیصلہ ہوا، اسلئے اسکے خلاف کسی بھی تنقید، جانبداری یا سیاسی وار قرار نہیں دیا گیا جو کہ نہایت ہی خوش آئند امر ہے اور ملک کی ترقی اور کامیابی کیلئے اسی طرح منصفانہ اور غیر جانبدارانہ کردار کی ضرورت ہے۔

دوسری طرف وزیر داخلہ کی جانب سے چیف جسٹس کے ریمارکس کو ملک بھر میں پذیرائی ملی کیونکہ خواہ چیف جسٹس ہو، کوئی جج ہو، وہ اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے کسی کی عدم موجودگی میں کوئی ریمارکس نہیں دے سکتا۔ چیف جسٹس نے خود تسلیم کیا ہے کہ ان کی ایکٹوازم سے وکلاء اور میڈیا ناخوش ہیں، اس ناخوشی کی وجہ یہ ہے کہ عدالت ہو یا کوئی فرد ہو، دوسروں کی عزت کرکے ہی اپنی عزت کرا سکتا ہے، اگر کوئی عزت نہیں کرے گا، تو وہی ہوگا جو آج ہر تیسرے شخص کو توہین کی کاروائی یا دھمکیاں دے کر کیا جائے گا۔ وکلاء ہوں، میڈیا ہو یا عام پاکستانی سب اپنے اداروں کو مضبوط اور فعل دیکھنے کے ساتھ ساتھ ان سے عدل اور توازن کی

امید رکھتے ہیں، اگر ترازو کسی طرف جھکتا ہوا نظر آئے تو بے چینی پھیلنا فطری عمل ہے۔ ایک سیاسی پارٹی کی طرف سے چیف صاحب کی تعریفیں اور ساتھ کھڑا ہونے کا عزم وکلاء اور عوام میں غلط فہمیاں پھیلا رہا ہے۔

یہ عدالتی تاریخ میں ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے کہ ایک وزیر ایک چیف جسٹس کو عزت اور توہین کے معنی سمجھا رہا ہے اور بلا شبہ یہ اعزاز چیف جسٹس آف پاکستان کو جاتا ہے، جنہوں نے عدلیہ کو اس مقام تک پہنچایا کہ وکلاء برادری وزیر داخلہ کے بیان کی تائید کے قابل ہے اور نہ ہی تردید اور مذمت کے۔ یہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں