محترم چیف جسٹس صاحب، شیخ رشید کا فیصلہ کب ہوگا؟

محترم چیف جسٹس صاحب، شیخ رشید کا فیصلہ کب ہوگا؟


سپریم کورٹ آف پاکستان جو کہ آجکل جوڈیشل ایکٹوزم کے تحت ایک جانب نالیاں، نلکے اور برتن تک چیک کرکے عوام کے بنیادی حقوق کی فراہمی کیلئے شب و روز سر گرداں نظر آتی ہے تو دوسری جانب ملک میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کیلئے بھی کافی زیادہ بیان بازی کرتی نظر آتی ہے۔ انصاف کے اعلیٰ ترین معیار کو قائم رکھتے ہوئے پانامہ اسکینڈل میں ملوث 400 میں سے ایک اہم ملزم نواز شریف کو اقامہ کے تحت نا اہل کرکے پانامہ کیلئے کرپشن کورٹ میں مقدمہ کا سامنا کرنے کا نہ صرف حکم دے چکی ہے بلکہ ٹائم فریم بھی دیا ہے اور باقاعدہ نگرانی بھی کی جارہی ہے۔باقی399 لوگوں کی حد تک ابھی انصاف ہونا باقی ہے۔
دوسری جانب دھڑا دھڑ توہین عدالت کے مقدمات بھی سنے جارہے ہیں۔ جس عدالت کی توہین کا الزام لگتا ہے وہی اسمیں فریق ہونے کے باوجود مقدمہ کی پیروی کرتی ہے۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ عدلیہ کی من حیث ادارہ نہ کوئی توہین کرتا ہے بلکہ فوج اور عدلیہ کو عزت و وقار کے حوالے سے پاکستانی قوم جذباتیت کی حد تک لگاؤ اور احترام کا جذبہ رکھتی ہے۔البتہ بعض جج صاحبان کی جانب سے بعض ناقابل فہم، ناپسندیدہ اور کبھی کبھار غیر ضروری ریمارکس مذکورہ جج صاحب کے بارے میں عوامی رد عمل کے طور پر ناپسندیدہ سمجھے جاتے ہیں اور اگر کوئی ان پر اظہار خیال کرے تو اسکو توہین عدالت کے زمرہ میں ڈال کر راہ راست پر لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔نہال ہاشمی ایک شریف اور عام سا وکیل ہے۔اس نے اپنی اوقات سے بڑھ کر الفاظ ادا کئے، اسکے خلاف توہین عدالت کی کاروائی ہوئی، سزا بھی ہوئی، وہ سب کچھ سہہ گیا کیونکہ اس کا تعلق ن لیگ سے تھا۔اس نے شرافت کا مظاہرہ کیا، معافی بھی مانگی، جیل بھی کاٹی اور خاموشی سے چلا گیا مگر جب فیصل رضا عابدی کو توہین عدالت کا نوٹس دیا گیا تو اس نے اپنا آئینی اور قانونی حق استعمال کرتے ہوئے اعتراضات اٹھادیئے اور اب اس کا کیس سرد خانے کی نظر ہوگیا ہے۔ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق ان کے خلاف کاروائی کیلئے کوئی بنچ مقرر نہیں کیا گیا۔
اسی طرح خواجہ آصف اور شیخ رشید کی نا اہلی کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے۔ خواجہ صاحب سزا وار بھی ہو چکے اور ان کی اپیل پر حکم امتناعی بھی جاری نہیں کیا گیا جبکہ شیخ رشید کا فیصلہ محفوظ کرکے سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔ اگر شیخ رشید کے خلاف کوئی کیس نہیں بنتا تو اسکا فیصلہ کیوں نہیں سنا یا جارہا۔جتنی دیر کی جائیگی، اتنی ہی چہ میگوئیاں ہوں گی، اتنی ہی غیر ضروری صورت حال بنے گی اور اتنی ہی بددلی پھیلے گی۔عوام کی ایک غالب اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ عدلیہ انصاف کی فراہمی میں ایک طرف بہت تیزی دکھا رہی ہے جبکہ دوسری جانب ان کا رویہ خاصا نرم ہے۔ اگر کسی کو لاڈلا کہا جارہا ہے تو اسکی وجوہات موجود ہیں اور اگر ان وجوہات کو دیکھا جائے تو ترازو کے عدم توازن کو بخوبی نوٹ کیا جا سکتا ہے۔ خواجہ آصف کے مقدمہ سے چار یوم قبل عمران خان لاہور میں اپنی تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کرکے اسلام آباد روانہ ہوئے اور روانگی کے وقت انہوں نے خوشخبری سنائی کہ ن لیگ کی ایک بہت بڑی وکٹ گرنے والی ہے۔چونکہ پوری تحریک انصاف کی ایک ہی خواہش ہے کہ میاں نواز شریف کے دست راست اور سینئر لیڈر چوہدری نثار ان کی پارٹی میں آجائیں۔ جو پیپلز پارٹی کے دودرجن سے زائد جیالوں کو اپنے اندر سما کر بھی اپنے مستقبل اور ن لیگ کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے مطمئن نہیں ہے، تو عام لوگوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید چوہدری نثار کے حوالے سے کوئی پیشرفت ہوئی ہے اسلئے عمران خان اپنا پروگرام ملتوی کرکے جارہے ہیں مگر تین چار یوم بعد خواجہ آصف کی نا اہلی کے فیصلے سے معلوم ہوا کہ خان صاحب کو کس وکٹ کے گرنے کی اطلاع دی گئی تھی اور انکا چہرہ کیوں اتنا کھلا ہوا ہوگیا تھا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں نواز شریف کی جانب سے اقامہ ظاہر نہ کرنا تو جرم بن گیا اور اس پر سزا کو یقینا غیر منصفانہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ایک وزیر اعظم یا کسی وزیر کو غلط بیانی نہیں کرنی چاہئے تھی، ہر چند کہ ان پر الزام اور کاروائی اقامہ پر نہیں تھی، نہ ہی اس پر سوال جواب ہوا، نہ صفائی کا اسطرح موقعہ دیا گیا جسطرح خواجہ آصف کو دیا گیا اور نہ ہی وہ زیر بحث تھا۔ اسکے باوجود اسکی بنیاد پر سزاواری کے حوالے سے تنقید نہیں کی جا سکتی کہ یہ عدالت سے زیادہ خود ایک وزیر اعظم کیلئے قابل شرم بات تھی کہ وہ اقامہ رکھتے تھے، مگر اسکو ظاہر نہیں کیا گیا۔ تاہم عمران خان کے مقدمہ میں جعلی این او سی پر آنکھیں بند کر لینا یقینا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ عدلیہ ہر معاملہ پر براہ راست حکم دیتی ہے۔ کسی آئی جی کو، کسی سیکرٹری کو بلانا ہو تو گھنٹوں میں پیش ہونے کا حکم دیتی ہے مگر جب خادم رضوی کی طلبی کی بات ہو تو حکومت سے کہتی ہے کہ اسکو پیش کریں اور اگر عمران خان کی جانب سے جعلسازی کا موقعہ آئے تو تب بھی حکومت سے کہتی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔اگر عدالت جعلی این او سی پر آنکھیں بند کرے، کوئی تحقیق نہ کرے، کوئی کاروائی نہ کرے تو حکومت کی کیا جرأت ہے کہ وہ کوئی کاروائی کرکے سیاسی نقصان اٹھائے۔
القانون عوام کا ترجمان میگزین ہے۔یہ کسی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ملک میں قانون کی حکمرانی اورغیر جانبدارانہ انصاف اوربے دریغ احتساب کیلئے آواز بلند کرتا ہے۔ انصاف کے ایوانوں سے عوام الناس کی جو امیدیں ہیں اسکو انصاف کے ایوانوں تک پہنچانے اور عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات سے عدلیہ کو آگاہ کرنا القانون اپنا فرض سمجھتا ہے۔ عدلیہ پاکستان کا سب سے مقدس اور بالاتر ادارہ ہے۔اسکی عزت و احترام سب پر واجب ہے مگر عدلیہ کے وقار کو برقرار رکھنا اور انصاف کے ترازو کے توازن کو عدم توازن سے ہمکنار نہ کرنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ توہین عدالت اتنا بڑا جرم نہیں جتنا بڑا جرم توہین عدل ہے۔ منصف اللہ کی ایک صفت ہے۔ اس صفت کو اللہ کے احکامات کے مطابق ایمانداری، غیر جانبداری اور بے خوفی سے ادا کرکے ہی اللہ کو راضی رکھا جا سکتا ہے۔ منصفوں کو یہ بات ذہن نشیں کر لینا چاہئے کہ اصل عدالت اوپر ہے اور اوپر کی عدالت میں نہ کوئی لاڈلا ہے اور نہ ہی کوئی نا پسندیدہ، نہ وہ کسی خلائی مخلوق کے تابع ہے اور نہ ہی زمینی خداؤں کے ماتحت۔ وہ جب عدل کرتا ہے تو زمین کانپ جاتی ہے، عرش ہل جاتا ہے۔ اسلئے القانون معزز و محترم عدلیہ سے درخواست کرتا ہے کہ قوم کے ذہنوں میں اٹھنے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کرنا، غیر جانبداری ثابت کرنا اور انصاف ہوتے ہوئے دیکھنا اور دکھانا عدلیہ کی ذمہ داری ہے اور عدلیہ اس ذمہ داری میں کوئی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ عوام عدلیہ کی جانب سے اخباروں اور ٹی وی چینلز پر ہیڈ لائنز میں ان کے ریمارکس سننے سے زیادہ آئین اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے فیصلوں کی منتظر ہے اور یہ فیصلے بروقت ہونے چاہئیں اور بلا امتیاز ہونے چاہئیں تاکہ قوم کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ انصاف بطور انتقام بھی ہو سکتا ہے اور انصاف کے ایوانوں میں کوئی لاڈلا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ عارضی کرسی ہے جو کہ دائمی عزت فراہم کرتی ہے۔اس دائمی عزت کیلئے آنکھوں پر پٹی اور مضبوطی سے ترازو تھام کر توازن برقرار رکھنا بنیادی شرط ہے۔

نعیم الحق کی بدتمیزی

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے ورکرز کی جو تربیت کی ہے اسمیں جو چیز نمایاں نظر آتی ہے کہ لیڈر خود ایک خاندانی نظام کی پیداوار نہیں۔ اقدار سے واقف نہیں اور اخلاقیات کی کوئی اہمیت نہیں رکھتے اسلئے ان کی تربیت یافتہ ٹیم بھی الا ماشاء اللہ انہی کے نقش قدم پر رواں دواں نظر آتی ہے بلکہ کبھی کبھار تو دو قدم آگے بڑھ کر اپنی تربیت کا مظاہرہ کرتی ہے۔ گزشتہ روز ایک ٹی وی پروگرام میں پی ٹی آئی کے سابقہ سیکرٹری اعلانات جو کہ نجی محفلوں میں یہ گلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ دو بار ہسپتال میں زیر علاج رہے اور پارٹی کے کسی لیڈر نے انکی تیمار داری تک نہیں کی۔ انہوں نے دانیال عزیز کو تھپڑ ماردیا۔نعیم الحق کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ سخت بیمار ہیں اور شاید دانیال عزیز کو اسکا علم بھی ہے۔اسکے علاوہ دانیال عزیز ایک بڑے سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہوئے اخلاقیات اور اقدار کا خیال رکھنے والے انسان ہیں۔ وہ اگر جوابی تھپڑ مارتے تو نعیم الحق کے چودہ طبق روشن ہو جاتے مگر انہوں نے صبر کرکے جو اخلاقی تھپڑ پی ٹی آئی کے منہ پر رسید کیا ہے وہ اسکے لئے کافی ہے۔ تحریک انصاف کے سب سے بڑے سپورٹر اور ن لیگ کے خلاف رات دن زہر اگلنے والے سمیع ابراہیم سے بھی یہ حرکت برداشت نہیں ہوئی اور انہوں نے تاسف کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی قیادت نے اس گھٹیا حرکت پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔ انہوں نے باقاعدہ معافی کا مطالبہ بھی کیا۔
پی ٹی آئی کے لیڈر عمران خان جن کو مخالفین الزام خان کہتے ہیں کسی پر بھی کوئی الزام لگا سکتے ہیں، کسی کو چور ڈاکو ڈیزل کہہ سکتے ہیں، 20 ہزار لوگ اکٹھے عزت افزائی کرنا پی ٹی آئی کا خاصہ ہے۔ہر ایک کو چور ڈاکو اور بدمعاش کہنے والے سے اگر کوئی اسکے کردار پر سوال کرے تو وہ اسکو ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں اور اسکے غلام گالی گلوچ شروع کر دیتے ہیں۔ یہ تماشا2011 کے بعد سے شروع ہوا ہے اور اسکا نظارہ سوشل میڈیا پر بھی نظر آتا ہے،اسمبلی میں بھی نظر آتا ہے اور چینلز پر بھی نظر آتا ہے، یہ سیاست کا انتہائی گھناؤنا روپ ہے اور اگر سیاست کا یہ طریقہ جاری رہا تو مستقبل میں نفرتوں کو سمیٹنا بہت مشکل ہوگا۔ عمران خان کو بخوبی علم ہے کہ یہ اسکا آخری الیکشن ہے۔ اگر اس بار کامیاب نہ ہوا تو اگلے ہی ماہ جنوبی محاز ہو یا بڑی بڑی وکٹیں یہ واپس اپنی اپنی کریز میں کھڑی نظر آئیں گی۔وہ اقتدار کے حصول کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے،کبھی انگلی کے پیچھے بھاگتا ہے، کبھی انصاف کا سہارا لیتا ہے، بوٹوں کے تسمے باندھنے کو بھی تیار ہے۔ اسکو اللہ اور عوام پر یقین نہیں ہے اسلئے کبھی اداروں کے پیچھے لگ کر اور کبھی الیکٹیلز کے نام پر دنیا جہاں کے لوٹوں کو اکٹھا کرکے اپنے ہی نعرے اپنے ہی نظرئیے سے انحراف کرتے ہوئے وہ سب کچھ کررہا ہے جسکا الزام وہ دوسروں پر لگاتا تھا۔ اسکی خوش قسمتی یہ ہے کہ اسکے ورکرز جو کہ دوسری پارٹیوں سے آئے ہیں یا جن کی سیاسی تربیت نہیں ہے وہ اسکی راہ میں کھڑے ہونے اور اس کے غلط فیصلوں پر احتجاج کرنے کی بجائے ان کرپٹ لوگوں کو ووٹ دینے کو تیار ہیں اسلئے فوزیہ قصوری جیسے چند نظریاتی لوگ جو کہ پارٹی کا اثاثہ ہیں وہ خیر باد کہہ رہے ہیں یا کہہ چکے ہیں۔فوزیہ قصوری کی خدمات کا صلہ پی ٹی آئی کبھی نہیں دے سکتی۔ مدر آف پی ٹی آئی کا درجہ حاصل کرنے تک فوزیہ قصوری نے عمران خان، شوکت خانم اور پی ٹی آئی کیلئے جو قربانیاں دیں اسکے لئے پی ٹی آئی کو ان کا ممنون ہونا چاہئے تھا مگر جس دن اسنے پارٹی کو خیر باد کہا اسکی شان میں جو قصیدہ گوئی ہوگی وہ دیکھنے لائق ہوگی۔
سیاست خدمت اور برداشت کا نام ہے مگر نعیم الحق جیسے لوگوں کی سیاست بے عزت لوگوں کے ہاتھوں بے عزت کئے جانے کی سیاست ہے۔ ایک بار سپریم کورٹ کے باہر گنڈہ پور کے ساتھ بھی اسی طرح بدتمیزی کامظاہرہ کیا تھا مگر ان کی جانب سے تابڑ توڑ جواب پر نعیم الحق پیچھے ہوگئے تھے۔ کیا یہ انکی سیاست ہے؟ کیا یہ انکا وطیرہ ہے؟ کیا یہ انکی تربیت ہے؟ اس وقت پی ٹی آئی میں سب سے سینئر ممبر ہیں، ان کی خدمات اور پارٹی سے وابستگی بھی بلا شک ہے مگر انکے رویے نے ان کو پارٹی کے اندر سے بھی اپنے مقام سے ہٹا دیا اور ایک نیا بندہ جسکی سیاست اقتدار کے ساتھ ساتھ ہی گردش کرتی ہے وہ ان کے مقام پر فائز ہے۔ یہ نعیم الحق کے بھی سوچنے کی بات ہے، پی ٹی آئی کے بھی اورخصوصاً عمران خان کے بھی کہ وہ کیا میسج دینا چاہتے ہیں، ان کی سیاست کا اصل کیا ہے، خدمت یا گالی۔
یہ بہت ہی افسوسناک امر ہے اور اسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ایسی حرکات سے کچھ پست ذہنیت لوگوں کو طمانیت پہنچ سکتی ہے مگر پاکستان کے عوام کی ایک بڑی تعداد جو کہ اپنی اقدار سے وابستگی پر فخر کرتی ہے انکے لئے ایسی حرکات قابل تشویش ہیں اور ایسے لوگوں کو ووٹ دینا اس کلچر کو پروموٹ کرنے کے مترادف سمجھتی ہیں۔غیر جانبدار ووٹرز کیلئے نعیم الحق نے جو پیغام چھوڑا ہے اسکے اثرات اگلے الیکشن میں نظر آئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں