نابالغ بچے اور باپ بطور گارڈین

نابالغ بچے اور باپ بطور گارڈین


معاشرتی بگاڑ کا اثر گھر اور خاندان پر بھی بہت بری طرح پڑا ہے جس سے طلاق کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے جسکا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ بچے ماں اور باپ کے درمیان شٹل کاک بن کر رہ جاتے ہیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق بچے کی مناسب اور متوازن پرورش کیلئے ماں باپ دونوں کا پیار اور شفقت ہونا بہت ضروری ہے۔ورنہ بچے کی شخصیت ادھوری رہ جائے گی۔ والدین میں علیحدگی کے بعد انکے درمیان طلاق نان و نفقہ، حق مہر، جہیز اور جائیداد وغیرہ کے مقدمات کے ساتھ ساتھ نابالغ بچوں کی تحویل کو بھی والدین اپنی اناء کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں جسکا نقصان بہر حال بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ عدالتوں میں نابالغ بچوں کی ذات اور جائیداد کے معاملات پر گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 ء کے تحت کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔
جو شخص فی الواقع حد بلوغ کو پہنچ گیا ہو وہ شرعاً بالغ تصور کیا جاتا ہے اور اگر لڑکے یا لڑکی کے بالغ ہونے سے متعلق معلوم نہ ہو تو احناف اور شیعہ دونوں کے نزدیک 15 سال کی عمر پر بالغ ہونے کا قیاس کر لیا جاتا ہے۔ شرعاً بالغ ہونے پر ہر شخص اپنی ذات اور جائیداد سے متعلق تمام معاملات طے کرنے کا مجاز ہے مگر بر صگیر پاک و ہند میں بلوغت ایکٹ 1875 ء اور گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 ء نافذ ہونے سے شرعی قانون بلوغ عملی طور پر نافذ العمل نہ رہا اور قانون شریعت کی رو سے جو اختیار ات ایک بالغ کو حاصل تھے ان پر پابندی عائد کردی گئی اور اگر عمر بلوغ سے قبل نابالغ کا ولی عدالت نے مقرر کیا ہو یا نابالغ کی جائیداد کورٹ آف وارڈز کی نگرانی میں دیدی گئی ہو تو بلوغ کی عمر 21 سال قرار پائے گی۔
بچے کی تحویل کا حق بنیادی طور پر والدین کو حاصل ہوتا ہے۔ قانون اس بچے کیلئے جو بہت چھوٹا ہو ایک عرصہ متعین کرتا ہے جسکے دوران اسکی خوراک وغیرہ کا اسکی ماں کو خیال رکھنا ہوتا ہے۔جب وہ اپنی خوراک خود کھانے پینے کے قابل ہو جاتا ہے اور اسے اس سلسلے میں ماں کی مدد کی ضرورت نہیں رہتی تو حضانت کا یہ عرصہ ختم ہو جاتا ہے۔لڑکے کی صورت میں یہ عمر 7 سال مقرر ہے اور لڑکی کی صورت میں سن بلوغ تک مدت مقرر ہے۔ شیعہ قانون کے مطابق ماں کو اپنے لڑکے کی حضانت کا حق 2 سال تک رہتا ہے اور لڑکی کی صورت میں 7 سال کی عمر تک۔ جب بچوں کی عمر اس حد تک ہوجائے تو انکی حضانت باپ کو منتقل ہو جاتی ہے۔ اگر بچہ کے اس عمر تک پہنچنے سے قبل ماں فوت ہو جائے تو باپ تحویل کا حقدار ہوتا ہے اگر ماں باپ دونوں فوت ہو جائیں تو حضانت دادا کو مل جاتی ہے۔ شافعی قانون میں ماں کو لڑکی کی حضانت کا حق اسکی شادی تک حاصل رہتا ہے۔

عارضی تحویل

دفعہ12 کے مطابق عدالت یہ ہدایت کرنے کی مجاز ہوگی کہ وہ شخص جس کی تحویل میں کوئی نابالغ ہے اسکو اس مقام اور ایسے وقت پر اس شخص کے روبرو جسے وہ مقرر کرے یا پیش کرے یا پیش کرائے اور مجاز ہوگی کہ نابالغ کی ذات یا جائیداد کی عارضی تحویل اور حفاظت کیلئے ایسا حکم صادر کرے جو وہ مناسب سمجھے۔

بیک و قت مختلف عدالتوں میں کاروائی۔ دفعہ14

1۔ اگر کسی نابالغ کیلئے ولی کی تقرری یا قرار دینے کیلئے کاروائیاں ایک سے زیادہ عدالتوں میں کی جائیں تو ان میں سے ہر عدالت پر لازم ہوگا کہ جب انہیں دیگر عدالتوں میں کاروائی سے آگاہ کیا جائے تو اپنے روبرو کاروائی روک دیں۔
2۔ اگر دونوں یا سب عدالتیں ایک ہی عدالت عالیہ کے ماتحت ہوں تو وہ اس معاملے کی رپورٹ عدالت عالیہ کو کردیں گی اور عدالت عالیہ یہ فیصلہ کرے گی کہ ان عدالتوں میں سے کس میں نابالغ کے ولی کی تقرری یا قرار دینے کی کاروائی کی جائے گی۔
3۔ کسی دیگر صورت میں جہاں ضمنی دفعہ 1 کے تحت کاروائی روک دی گئی ہو تو عدالت اس معاملہ کی رپورٹ اپنی اپنی صوبائی حکومتوں کو کریں گی اور ایسے احکام سے رہنمائی حاصل کریں گی جو انہیں موصول ہوں۔

امور جن پر عدالت ولی مقرر کرتے ہوئے غور کرے گی

1۔ نابالغ کا ولی مقرر کرتے وقت یا قرار دیتے وقت عدالت بہ پابندی احکام دفعہ ہذا اس قانون کی مطابقت میں جنکا نابالغ تابع ہے اور جو حالات کے مطابق نابالغ کے مفاد میں ہوں راہنمائی حاصل کرے گی۔
2۔ یہ جانچتے ہوئے کہ نابالغ کے مفاد میں کیا ہے عدالت پر لازم ہوگا کہ وہ نابالغ کی عمر جنس اور قد سب کا مجوزہ ولی کا چال چلن، اہلیت اور اسکی نابالغ سے رشتہ کی قربت کا، متوفی ماں یا باپ کی خواہشات کا،اگر کوئی ہوں اور مجوزہ ولی کے نابالغ سے یا اسکی جائیداد سے کسی موجودہ تعلق یا سابقہ تعلقات کا خیال رکھے۔
3۔ اگر نابالغ کی عمر اتنی کافی ہو کہ وہ ذی فہم ترجیح وضع کر سکتا ہو تو عدالت اس ترجیح پر غور کرنے کی مجاز ہوگی۔
4۔ ان والدین کے مابین جو یورپین برٹش باشندے ہوں نابالغ کی ذات کے ولی بننے کے مخالفانہ دعویدار ہوں تو والدین میں سے کوئی بھی بطور حق اسکا حقدار نہ ہوگا لیکن دیگر امور برابر ہونے کی بناء پر اگر نابالغ کمسن نر بچہ ہو یا کوئی مادہ بچہ ہو تو ماں کو دے دیا جائے گا اور اگر نابالغ اتنی عمر کا لڑکا ہو کہ اسکی تعلیم ضروری ہو اور محنت، کاروبارکی تربیت درکار ہو تو باپ ہو۔
5۔ عدالت کسی شخص کو اسکی مرضی کے خلاف ولی مقرر نہ کرے گی یا قرار دے گی۔

ولی کا وارڈ کی حضانت کا استحقاق۔ دفعہ25

1۔ اگر کوئی وارڈ اسکی ذات لے ولی کی تحویل سے چلا جائے یا نکال لیا جائے تو عدالت اگر اسکی رائے میں یہ وارڈکے مفاد میں ہے کہ وہ اپنے ولی کی تحویل میں لوٹ جائے مجاز ہوگی کہ اسکی واپسی کا حکم صادر کرے اور حکم کے نفاذ کی غرض سے وارڈ کو گرفتار کراسکتی ہے اور ولی کی تحویل میں دلا سکتی ہے۔
2۔ وارڈ کی گرفتاری کی غرض کیلئے عدالت مجاز ہوگی کہ وہ اختیار استعمال کرے جو کسی مجسٹریٹ درجہ اول کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 100 کے ذریعے عطا کیا گیا ہے۔
3۔ اپنی ولی کی مرضی کے خلاف کسی وارڈ کا ایسے شخص کے ساتھ رہائش رکھنا جو اسکا ولی نہ ہو ولدیت کو از خود ختم نہیں کردیتا۔
لفظ ولی جیسا کہ اسے اس ایکٹ میں استعمال کیا گیا ہے کا مطلب نہایت وسیع ہے اور اسکا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں ہے کہ جو عدالت نے مقرر کیا یا قرار دیا ہو۔ کوئی شخص جو نابالغ کی ذات کا نگہبان ہو اسکا ولی ہے ایسے شخص کی تحویل میں نابالغ ہو یا نہ ہو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
(PLD 1959 Lah 205) (PLD 1968 Kar 774)
کوئی وجہ ایسی نہیں کہ اس دفعہ میں ولی کے لفظ کے معنی اس سے زیادہ ہوں کہ وہ شخص جو تحویل کا حقدار ہے۔لہذا ایک ماں جو حقیقت میں ایک نابالغ کی تحویل رکھتی ہے اس دفعہ کے تحت درخواست گزارنے کی حقدار ہے۔یہی صورت ہوگی اگر نابالغ کو اسکا باپ نابالغ کی ماں کی تحویل سے نکال کر لے جائے جو کہ خود بھی ولی ہے اگر اسکی کوئی اور تعبیر کی جائے تو ماں کو اس ایکٹ کے تحت کوئی داد رسی نہ مل سکے گی۔
(PLD 1956 Kar 397) (Air 1950 Mad 320)
تحویل یا حضانت کیلئے حقیقی یا جسمانی ہونا لازمی نہیں ہے۔ تحویل تعبیری بھی ہو سکتی ہے۔ حضانت سے نکال لینا اس صورت میں بھی ہوگا جب ماں جسکی حقیقی تحویل میں بچے ہوں اپنے شوہر کا گھر چھوڑ دے اور اسے بچے لے جانے سے روک دیا جائے یا جب اسے گھر سے نکال دیا جائے اور بچے وہیں رہ جائیں جہاں وہ ہیں۔
(PLD 1959 Lah 205)
جب بچوں کی ماں کا چال چلن ٹھیک نہ ہو اور نابالغ بچوں کو باپ کی تھویل سے نکال کر ساتھ لے جاتی ہے تو دفعہ25 کا اطلاق ہوتا ہے اور اس دفعہ کے تحت باپ درخواست گزار سکتا ہے کہ اسے بچوں کی تحویل واپس دلائی جائے۔
(Air 1940 All 329)
دفعہ ہذا کے تحت درخواسے گزارنے کا حق ولی کو حاصل ہے یعنی وہ شخص جو نابالغ کی ذات یا جائیداد یا دونوں کا ولی ہو دفعہ ہذا کے تحت درخواست گزارنے کیلئے درخواست دہندہ کے تحت ایکٹ ہذا ولی مقرر ہونا ضروری نہیں ہے۔ عدالت از خود یا جب زبانی یا تھریری طور پر اس بارے میں تحریک کی جائے اس شخص کے خلاف کاروائی کر سکتی ہے جس نے وارڈ کو ولی کی تحوہل سے نکالا ہو کوئی حقیقی سرپرست بھی اس دفعہ کے تحت درخواست گزار سکتا ہے۔
(Air 1946 Cal 272)(PLD 1952 Pesh 77)
ہائی کورٹ مجاز ہوگی کہ ہیبس کاریس کی رٹ کے ذریعے مداخلت کرے لیکن نابالغ کے مفاد کو سب سے افضل رکھا جائے گا۔ہائی کورٹ دفعہ 491 ضابطہ فوجداری کے تحت کاروائی نہیں کرے گی اگر ایکٹ گارڈین کے تحت کاروائی زیادہ مناسب ہو۔ ہائی کورٹ دفعہ 491 کے تحت اس وقت کاروائی کر سکتی ہے جب نابالغ کی صحت یا جان کو کوئی خطرہ لاحق ہو یا اسکا کردار فورہ طور پر متاثر ہو سکتا ہو لیکن جہاں پر نابالغ کو پیش کرنے کا درمیانی حکم غیر ضروری ہو وہاں پر فریقین کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ گارڈین ایکٹ کے تحت کاروائی کریں۔
(Air 1952 MB 54) (Air 1952 Mad 98)
مسلم قانون کے تحت ماں کو اپنے ناجائز بچوں کی تحویل کا حق حاصل ہوگا باپ کو بچے کی تحویل کا حق کسی صورت حاصل نہیں ہوگا۔
(Air 1960 Sc 93)

وارڈ کو عدالت کی حدود سے باہر لے جانے کی سزا۔ دفعہ 44

اگر کسی وارڈ سے،تعلق عدالت کو اپنا اختیار استعمال کرنے سے روکنے کی غرض سے یا ایسی تاثیر رکھنے کیلئے کوئی ولی جو عدالت سے مقرر شدہ ہو دفعہ26 کے احکام کی خلاف ورزی میں بچے کو عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر لے جائے تو وہ بحکم عدالت جرمانہ کی سزا جو ایک ہزار روپے سے زائد نہ ہو یا سول جیل میں قید کی سزا کا جو چھ ماہ کی مدت تک ہو مستوجب ہوگا۔

پرورش اولاد کے لئے عمر کی حد
حضانت یا پرورش اولاد کیلئے مختلف مسالک میں عمر کی حد یوں بیان ہوئی ہے۔

فقہ حنفیہ کے مطابق

حنفیہ کہتے ہیں کہ لڑکے کی پرورش کیلئے معیاد مدت بعض اصحاب نے سات سال اور بعض نے نو سال مقرر کی ہے جبکہ پہلا قول جس میں عمر سات سال مقرر کی گئی ہے اس پر عملدر آمد ہورہا ہے۔لڑکی کے بارے میں دو رائے ہیں ایک یہ ہے کہ معیاد و حضانت لڑکی کے ایام ماہواری آنے تک ہے دوسری رائے یہ ہے کہ جنسی تقاضے کی تحریک ظاہر ہونے تک ہے اس کا وقت نو سال کی عمر مقرر کیا گیا ہے اور انکا کہنا ہے کہ یہی قول کامل عملدرآمد ہے اگر لڑکا اپنی ماں کے زیر تربیت ہے تو باپ کو حق ہے کہ وہ اس عمر کو پہنچنے کے بعد ماں سے واپس لے لے اور جب لڑکا صاحب عقل و شعور ہو جائے تو اسے حق ہے کہ وہ ماں باپ سے علیحدہ ہو جائے اور اس کی پرورش میں نہ رہے۔ہاں اگر اس میں بد اخلاقی پائی جائے تو باپ کو چاہئے کہ اسے اپنے ساتھ رکھے اور اسکی تربیت کرے۔اگر باپ نہ ہو تو اسکے قرابت داروں میں سے کوئی اسے اپنے ساتھ شامل کر لے بشرطیکہ بے ضرر ہونے کی طرف سے اطمینان خاطر ہو۔بالغ اولاد کا خرچ باپ پر عائد نہیں ہوتا ہاں حسن سلوک کے طور پر اس کا خرچ برداشت کر سکتا ہے سوائے اسکے کہ وہ لڑکا طالب علم ہو یعنی اس صورت میں خرچہ دینا ہوگا۔اگر زیر تعلیم اولاد لڑکی اور کنواری ہو تو باپ کے ساتھ رہے گی، اس طرح داد کے پاس بھی رہ سکتی ہے۔ اگر باپ یا دادا نہ ہو اور بھائی ہو تو وہ اسے اپنے پاس رکھے بشرطیکہ اس میں کوئی خرابی نہ ہو یا پھر چچا کے پاس رہے ورنہ پھر کوئی رشتہ دار جو اسکا محرم ہو اس کے ساتھ رہے اگر ایسا کوئی رشتہ دار نہ ہو تو قاضی اسے قابل اعتبار عورت کے حوالے کرے گا۔اگر زیر تربیت لڑکی عمر رسیدہ اور سال خوردہ ہو تو وہ آزاد ہے جہاں چاہے رہ سکتی ہے لیکن اگر وہ کنواری نہ ہو تو باپ کیلئے ضروری نہیں ہے کہ اسے ساتھ رکھے تاہم اگر اسکی طرف سے اطمینان خاطر نہ ہو تو اس حالت میں باپ یا دادا کو چاہئے کہ اپنے ساتھ رکھنے پر اسے مجبور کرے۔ باپ یا دادا نہ ہوں اور بھائی یا چچا ہو تو وہ اسے اپنے پاس رکھے بشرطیکہ اس میں کوئی خرابی نہ ہو اگر اسمیں کوئی برائی ہو تو قاضی کو چاہئے کہ اسے کسی قابل اعتبار عورت کی تحویل میں دے دے۔

فقہ مالکیہ کے مطابق

مالکیہ کہتے ہیں کہ لڑکے کی پرورش کی مدت پیدائش کے وقت سے لیکر اسکے بالغ ہونے تک ہے۔اگر اسکی ماں ہے تو بچے کے جوان ہو جانے تک اسکی پرورش ماں پر واجب ہے۔ اگرچہ بالغ ہونے پر حالت جنون میں ہو اس کے بعد حق حضانت ساقط ہو جائے گا اور جیسے جنون لاحق ہو اسکا نفقہ باپ پر بدستور لازم رہے گا اور لڑکی مدت حضانت اس وقت تک ہے کہ شادی ہو جائے اور خاوند عملاً اس کے ساتھ حق زوجیت ادا کرے۔

فقہ شافعی کے مطابق

شافعی کہتے ہیں کہ بچے کی پرورش کیلئے کوئی مقررہ معیاد نہیں ہے بس بچہ جب اپنے ماں باپ کو پہچاننے لگے اور دونوں میں سے کسی کے ساتھ رہنا پسند کرے تو وہی پرورش کا حقدار ہوگا اور اسی طرح ماں اور دادا میں سے یا ماں اور باپ شریک بہن یا خالہ میں سے کسی کو اختیار کرنے کا حق اسے حاصل ہوگا پھر ان میں سے کسی کو اختیار کرنے کے بعد بھی بچے کو اختیار ہے کہ اس سے ہٹ کر دوسرے کو پسند کرے اور ایسا وہ بار بار بھی کر سکتا ہے اور بیٹی جب باپ کے زیر تربیت رہنا پسند کرے تو باپ کو اختیار ہوگا کہ اسے ماں کے پاس جانے سے روک دے لیکن باپ کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ وہ دستور کے مطابق ماں کو بچے سے نہ ملنے دے لیکن اگر ماں بچے سے تو زیادہ عرصہ تک اس کے پاس نہ ٹھہرے ہاں اگر لڑخی بیمار ہوجائے تو زیادہ بہتر یہ ہے کہ ماں باپ کے گھر پر اسکی تیمار داری کرے بشرطیکہ باپ راضی ہو ورنہ وہ اسکی تیمارداری اپنے گھر پر کر سکتی ہے اور باپ اسکی عیادت کر سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ بہر حال دونوں تنہائی میں نہ ہوں۔اگر لڑکا ماں کے پاس رہنا پسند کرے تو وہ رات کو ماں کے پاس رہ سکتا ہے اور دن کو باپ کے پاس رہا کرے تاکہ باپ اسکو تعلیم دے سکے۔ اگر لڑکی ماں کے ساتھ رہنا اختیار کرے تو وہ ہمہ وقت ماں کے پاس رہے۔ اگر بچہ ماں باپ دونوں کو یکساں پسند کرے تو قرعہ اندازی کرلی جائے اگر بچہ خاموش رہے اور دونوں میں سے کسی کو اختیار نہ کرے تو حق حضانت ماں کو حاصل ہوگا۔

فقہ حنا بلہ کے مطابق

حنابلہ کہتے ہیں کہ لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کی معیاد حضانت سات سال ہے لیکن جب بچہ سات سال کا ہوجائے اور اسکے ماں باپ اس امر پر متفق ہو جائیں کہ بچہ ان میں سے کس کے پاس رہے گا تو یہ درست ہے۔اگر دونوں میں اس امر پر نزاع ہو تو خود بچے کو اختیار دیا جائے کہ جسکی تحویل میں چاہے رہنا اختیار کرے بشرطیکہ وہ اس میں اپنی سہولت نہ جانے کہ فلاں کے پاس رہنے میں موج ہوگی اس کی اصلاح کیلئے اس پر سختی نہ ہوگی اور وہ آزاد ہوگا کہ بڑا ہو کر جو بری راہ چاہے اختیار کرے اگر یہ معلوم ہوجائے کہ لڑکا اس خیال میں ہے تو اسے مجبور کیاجائے گا کہ دونوں میں سے جو زیادہ صالح ہو اس کے پاس رہے۔اگر باپ کے پاس رہنا اختیار کرے تو رات دن اس کے پاس رہا کرے تاہم اسے اپنی ماں سے ملنے کی ممانعت نہ ہوگی۔اگر وہ لڑکا بیمار ہوجائے تو ماں کو حق ہے کہ اپنے گھر پر اسکی تیمارداری کرے لیکن اگر ماں کے پاس رہے تو رات کو ماں کے ساتھ اور دن کو باپ کے ساتھ رہے تاکہ باپ اسے کوئی ہنر یا لکھنا پڑھنا سکھائے۔ییہ بھی ہے کہ اگر لڑکا ایک کو اختیار کرنے کے بعد مڑکر دوسرے کی طرف آنا چاہے تو آسکتا ہے اور یہ اختیار اسے ہمیشہ رہے گا۔ اگر لڑکے نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار نہ کیا یا دونوں ہی کو پسند کیا تو قرعہ ڈال کر فیصلہ کرلیا جائے اور اگر قرعہ نکلنے کے بعد وہ قرعہ کے خلاف دوسرے کو اختیار کرے تو اس کے پاس لوٹا دیا جائے اور لڑکے کو یہ اختیار صرف اسی حالت میں ہے جب کہ ماں باپ کے حق حضانت کا معاملہ ہو اور دونوں اسکی پرورش کے اہل ہوں۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی حق حضانت نہ رکھتا ہو تو بچے کے اہل خاندان پر واجب ہے کہ کوئی اسکی پرورش کرے۔

فقہ جعفریہ کے مطابق

شیعی فقہ کی رو سے ماں کو لڑکے کے متعلق دو سال اور لڑکیوں کے متعلق سات سال کی تکمیل تک حق حضانت حاصل رہتا ہے جب بچے مذکورہ عمر کی حد تک پہنچ جائیں تو باپ کو حق حضانت حاصل ہوتا ہے۔

تحویل نابالغان پر باپ کا حق

پاکستان میں رائج فیملی قوانین کو عملی طور پر عورت کے حق میں خیال کیا جاتا ہے۔ خلع کے معاملہ میں تو فیملی کورٹس ایکٹ میں ترمیم کرکے عدالتوں کو عملی طور پر بے بس کردیا گیا ہے کہ اگر عورت خلع کی بنیاد پر دعویٰ تنسیخ نکاح دائر کرے اور دوران مصالحت عورت بیان قملبند کروائے کہ وہ کسی طور پر آباد نہ ہونا چاہتی ہے تو عدالت ہر صورت تنسیخ نکاح کی ڈگری عورت کے حق میں جاری کرے گی جس سے طلاق کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے۔قبل ازیں دوران سماعت دعویٰ معززین اور خاندان کے با اثر افراد کی مداخلت پر اکثر معاملات میں صلح کی کوشش کامیاب ہو جاتی اور خاندان ٹوٹنے سے بچ جاتے۔ نابالغان کی تحول کے معاملہ میں بھی عدالتوں کا جھکاؤ اکثر ماں کی طرف ہوتا ہے اور ہمیشہ ہی باپ کو قصور وار گردانا جاتا ہے۔عدالتیں مقدمات کی بھرمار اور مخصوص سوچ کی وجہ سے بعض اوقات معاملے کو بطور ”گارڈین جج“کی بجائے سطحی طور پر اور روٹین میں لیتے ہوئے فیصلے صادر کر دیتی ہیں اور بطور گارڈین حاصل شدہ خصوصی اختیارات سے نابالغان کی بہتری کی بجائے انکا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔اگر اعلیٰ عدالتوں کے فیصلہ جات کو دیکھا جائے تو وہ بھی اکثریت میں باپ اور ماں کے مقابلہ میں ماں کے حق میں ہی ملیں گے۔ باپ کو کن حالات میں ماں پر فوقیت دے کر نابالغان باپ کے حوالے کئے جاتے ہیں اس پر صادر شدہ چند اہم فیصلہ جات پیش کئے جاتے ہیں۔
1۔ 2018 Clc 452+2003 Clc 1310 + 2011 SCMR 148
ماں نے دوسری شادی کرلی باپ نے نابالغان کی تحویل کیلئے درخواست دائر کی جو منظور ہوئی۔ماں کی اپیل خارج ہوگئی جس پر رٹ دائر کی گئی کہ نانی ضروری فریق تھی جسکو فریق نہ بنایا گیا تو قرار دیا گیا کہ باپ کی موجودگی میں نابالغان نانی کو نہیں دیئے جا سکتے اور رٹ خارج۔
2۔ 2018 YLR 649
بچے باپ کے پاس تھے جو سات سال سے زائد عمر کے لڑکے کی صورت میں حق فائق ہے۔ بچے پیدائش سے باپ اور سوتیلی ماں کے ساتھ رہ رہے تھے ماں کی درخواست خارج کردی گئی اور قرار دیا گیا کہ ماں کے پاس حضانت نابالغ لڑکے کی صورت میں سات تک کا حق ہے۔

 3۔ 2018 Clc 382 + 2009 SCMR 1243
1993 SCMR 2303
باپ نے نابالغ لڑکے جوکہ نانی کے پاس زیر پرورش تھا کے حصول کیلئے درخواست دائر کی۔ماں نے دوسری شادی کر لی تھی اور نابالغ نانی کے پاس زیر پرورش تھا۔ درخواست منظور، اپیل خارج اور رٹ بھی خارج کردی گئی کہ عدالت نے نابالغ کے مفاد کو مدنظر رکھنا ہے کہ نابالغ کا بہترین مفاد کہاں پر ہے۔ باپ جوکہ 34 سال کی عمر کا ہونے کے باوجود نابالغان کی خاطر دوسری شادی نہ کرے اور بہت اچھی نوکری چھوڑدے تاکہ نابالغان کی اچھی پرورش کرسکے تا نابالغان کا بہترین مفاد باپ کے پاس رہنے میں ہے۔
4۔ 2018 Clc N56
ماں نے دوران سماعت درخواست گارڈین گزاری کہ وہ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران نابالغان کے ماموں جو انگلینڈ میں مقیم ہیں سے ملوانے کیلئے جانا چاہتی ہے۔ باپ نے اعتراض کیا کہ فیصلہ درخواست سے قبل ماں عدالت کے اختیار سماعت سے باہر بچوں کو لے جانا چاہتی ہے۔ درخواست خارج کردی گئی کہ ابھی فریقین کے حقوق کا تعین باقی ہے۔
5۔ 2018 MLD 591 + 2014 SCMR 343
1981 SCMR 200
ماں نے گارڈین جج کو درخواست دی کہ وہ چونکہ دوسری شادی کررہی ہے اسلئے نابالغان کی کسٹڈی باپ کو دی جائے جو خارج کردی گئی۔ رٹ منظور کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ غیر محرم سے شادی پر ماں نابالغہ دختر کی بابت حق حضانت کھو دیتی ہے اور نابالغ جوکہ ساڑھے تیرہ سال کی عمر کا ہے اور باپ جو اچھے مالی وسائل کا مالک ہے ماں کے مقابلے میں بہتر انداز میں نابالغان کی پرورش کر سکتا ہے۔
6۔ 2018 SCMR 590
ماں کی وفات کے بعد بچے نانی کے پاس زیر پرورش تھے۔ باپ نے حصول نابالغان کیلئے درخواست گزاری جو خارج ہوگئی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے تحویل باپ کو ایک ہفتہ کے اندر حوالہ کرنے کا حکم صادر فرمایا اور قرار دیا کہ باپ جو اچھے مالی وسائل کا حامل ہے اور بیرون ملک سے واپس آگیا ہے اور اس نے دوسری شادی بھی نہ کی ہے تو اس صورت میں بچوں کو باپ کی شفقت سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور باپ کے گھر پر بچوں کی دادی بھی دیکھ بھال کیلئے موجود ہے البتہ باپ کو ایک مخصوص وقت تک ہر ہفتہ کے آخر میں نانی سے ملاقات کروانے کا حکم صادر فرمایا۔
7۔ 2017 YLR 2224
باپ نے نابالغ سے ملاقات نہ کروانے پر گارڈین کورٹ میں درخواست گزاری جس نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 100 کے تحت وارنٹ جاری کیا۔ ماں نے حکم کے خلاف اپیل دائر کی اور ہائی کورٹ میں درخواست کی دیگر عدالت میں منتقل کرنے کیلئے رٹ دائر کی جو عدالت عالیہ نے خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ ماں نے براہ راست درخواست ہائی کورٹ میں دائر کرکے عدالت ماتحت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے اگر نیت نیک سے ایسا چاہتی تو ڈسٹرکٹ جج کے پاس درخواست دائر کرتی۔
8۔ 2017 YLR 45 + 2010 MLD 477
PLD 2003 Sc 877
باپ نے نانی کے خلاف درخواست گارڈین دائر کی جو منظور ہوئی جبکہ اپیل میں نابالغہ نانی کو دے دی گئی جس پر باپ نے رٹ دائر کی جو منظور ہوئی قرار دیا گیا بلا شبہ نابالغہ دختر کے معاملہ میں نانی کا حق باپ کے مقابلہ میں فائق ہے لیکن نابالغان کے معاملے میں سب سے اہم بات جسکو مدنظر رکھا جاتا ہے وہ نابالغان کا مفاد ہے۔ باپ نے دوسری شادی نہ کی تھی بچے نیچرل گارڈین سے خوشی اور دکھ بلا جھجک بیان کر سکتے ہیں۔ بچی باپ کو دیتے ہوئے نانی سے ملاقات کا شیڈول طے کیا گیا۔
9۔ 2017 Clc 1747 + 2014 SCMR 1365
باپ نے درخواست گارڈین کورٹ میں دائر کی جس میں عدالت نے مہینے میں دو دفعہ ملاقات کا حکم دیا۔ باپ نے اس حکم کے خلاف اپیل دائر کی جس میں شیڈول تبدیل کرکے گرمیوں، سردیوں اور موسم بہار کی چھٹیوں میں۔ محرم دونوں عیدوں اور بچوں، باپ کی سالگرہ پر بچوں کی باپ کو لازمی تحویل کا حکم صادر ہوا۔ ماں نے رٹ دائر کی کہ دفعہ12 کے حکم کے خلاف اپیل دائر نہ ہو سکتی ہے اور عدالت اپنے حکم کی نظر ثانی بھی نہ کر سکتی ہے۔ رٹ خارج کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ دفعہ12 کا حکم قابل اپیل ہے اور احکامات ماتحت عدالت ہائے میں کوئی بے ضابطگی نہ ہوئی ہے۔
10۔ 2016 MLD 801 + 2002 MLD 202
2004 SCMR 1382
نانی نے نابالغہ کی حضانت کی درخواست دائر کی جو خارج ہوئی، اپیل بھی خارج۔ رٹ میں قرار دیا گیا کہ باپ نابالغان کا قانونی ولی ہے اور حضانت کے معاملہ میں باپ کا حق نانی کے مقابلے میں فائق ہے۔نابالغہ اسکول میں زیر تعلیم ہے اور نابالغہ کا مفاد باپ کے پاس زیر پرورش رہنے میں ہی ہے۔ رٹ خارج کرتے ہوئے قرار دیا گیا کہ ماتحت عدالتوں نے درخواست کا فیصلہ شہادت کے مطابق کیا ہے۔
11۔ 2016 Clc 339
دادا نے نابالغ کی تحویل کی درخواست دائر کی جو خارج ہوگئی۔ نابالغ کی پیدائش باپ کی وفات کے بعد ہوئی تھی۔فریقین شیعہ فقہ سے تھے۔ رٹ منظور کرکے نابالغ کی حضانت دادا کو دے دی گئی اور قرار دیا کہ فیصلہ نابالغ کی پرسنل لاء کے مطابق ہونا چاہئے جو شیعہ فقہ میں دوسال کی عمر کے بعد ماں کا حق حضانت ختم ہو جاتا ہے۔ عدالت ماتحت نے نابالغ کے مفاد کی بابت شہادت ریکارڈ کی تھی اور فیصلہ عدالت ماتحت مفروضہ جات پر مبنی تھا اسے منسوخ کرکے نابالغ دادا کو دے دیا گیا۔
12۔ 2015 Clc 1209
باپ نے نابالغ بچی کی عارضی تحویل کی درخواست دائر کی جس میں سردیوں کی چھٹیوں میں حوالہ والد کئے جانے کا حکم صادر ہوا جبکہ گرمیوں کی چھٹیوں کی باپ کی درخواست خارج کردی گئی۔ عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ باپ اور ماں دونوں ورکنگ پرسن ہیں دونوں کا برابر حق ہے۔ باپ نے دوسری شادی کررکھی تھی جو کہ سوتیلی ماں نے بیان حلفی داخل کیا کہ اسے نابالغہ سے دلی پیار اور محبت ہے اور وہ کسی بھی طور اسے نقصان نہ پہنچائے گی باپ کی رٹ منظور کر لی گئی۔
13۔ PLD 2015 Kar 382 + 2011 PCRLJ 1424
طلا ق کے بعد سوا دو سالہ بچی کی حضانت ماں کے پاس رہی جس سے ملاقات کا باپ کو حق دیا گیا۔ ماں بلا اجازت عدالت نابالغہ کو بیرون ملک لے گئی باپ نے نابالغہ کے اغواء کا مقدمہ درج کروایا اور انٹرپول کے ذریعے ماں کی طلبی کی درخواست گزاری۔ ماں نے FIR کی منسوخی کیلئے عدالت عالیہ میں رٹ گزاری جو منظور ہو گئی اور عدالت نے قرار دیا کہ باپ پہلے ٹرائل کورٹ میں ملاقات کیلئے چارہ کرے اسکے بعد ریڈ اور بلیو وارنٹ کیلئے چارہ جوئی کر سکتا ہے۔
14۔ 2014 Clc 1168 + PLD 2004 Sc 271
باپ کی طرف سے تحویل نابالغان کی درخواست میں باپ کو ملاقات کا حق دیا گیا اور دس دس لاکھ روپے کے دو ضمانت نامہ جات داخل کرنے کی شرط عائد کی گئی جسکو باپ نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائی کورٹ نے قراردیا کہ یہ بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ باپ جب پاکستان ہو تو 72 گھنٹے قبل ماں کو مطلع کرکے نابالغان سے ملاقات کر سکتا ہے اور باپ کو تنبیہ کی گئی کہ اگر اس نے نابالغان کو عدالت کی حدود سے باہر لے جانے کی کوشش کی تو توہین عدالے کے جرم کے ساتھ مستقل طور پر بچوں سے ملاقات کا حق کھو دے گا۔
15۔ 2013 SCRLJ 200 + 1996 MLD 30
1997 MLD 2066
ماں اور باپ کے درمیان گارڈین درخواست میں راضی نامہ ہوگیا اور نابالغان باپ کے حوالے کردیئے گئے۔ ماں نے دوسری شادی کرلی اور بعد ازاں زیر دفعہ491 ضابطہ فوجداری رٹ دائر کی کہ نابالغان کو باپ نے حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے، بر آمد کروایا جائے جو خارج ہوئی جسکے خلاف ہائی کورٹ میں نگرانی دائر کی گئی جو ہائی کورٹ نے خارج کرتے ہوئے قراردیا کہ ماں چونکہ راضی نامہ کے تحت نابالغان باپ کے حوالے کر چکی ہے اسلئے اب وہ ایسی چارہ جوئی نہ کر سکتی ہے۔
16۔ 2013 MLD 1631 + PLD 2003 Sc 877
2009 YLR 222
باپ نے نابالغان کے حصول کیلئے گارڈین کورٹ میں درخواست دائر کی۔ درخواست خارج کرتے ہوئے عارضی تحویل کا شیڈول طے کیا گیا جسکے خلاف ماں نے اپیل دائر کی جو خارج ہوئی اور رٹ بھی خارج کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ ماں کا یہ مؤقف کہ باپ کی دوسری بیوی اور اسکے بچوں کی موجودگی میں نابالغان کو عارضی طور پر حوالہ باپ کیا جانا کسی طور مناسب نہ ہے درست نہ ہے۔ نابالغان کو ماں اور باپ دونوں کے پیار کی ضرورت ہے ماں باپ کی آپس کی نفرت بچوں کے مفاد کے آڑے نہیں آنی چاہئے۔ بچوں کو جس طرح ماں کے پیار کی ضرورت ہے اسی طرح باپ کی شفقت کی بھی ضرورت ہے۔
17۔ 2012 MLD 1687 + 2001 SCMR 2000
PLD 2005 Sc 22
نابالغان باپ کے ساتھ مقامF پر رہائش پذیر اور زیر تعلیم تھے۔ ماں نے مقام R پر حصول نابالغان کیلئے درخواست دائر کی جو کہ خارج کردی گئی۔ باپ نے نابالغان کو مقام R سے چھینا بھی نہیں تھا اس پر ماں کی درخواست عدالت عالیہ نے خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ ماں حصول نابالغان کی خاطر درخواست مقامF پر ہی دائر کر سکتی ہے جہاں نابالغان رہائش پذیر ہیں۔
18۔ 2012 SCMR 609
باپ کی طرف سے تحویل نابالغان اور عدالت کے اختیار سماعت سے باہر نابالغان کو لے جانے کی درخواست اور اپیل خارج ہوگئی عدالت عالیہ نے رٹ بھی خارج کردی اور قرار دیاکہ بچے ماں کے ساتھ باپ کے رہائشی ملک سے بہتر ملک اور ماحول میں رہائش پذیر ہیں اور باپ لمبے عرصہ سے بچوں سے رابطہ میں نہ ہونے کی وجہ سے اجنبی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جسکے خلاف باپ نے سپریم کورٹ میں درخواست حصول اجازت اپیل دائر کی جسکو اپیل میں تبدیل کرکے سپریم کورٹ نے منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ صفحہ مثل سے کسی بھی طور ثابت نہ ہوتا ہے کہ بچے بہتر ماحول میں رہ رہے ہیں اور بچوں سے رابطہ نہ ہونے کہ وجہ ماں کا رویہ ہے۔ باپ مسلسل ملاقات اور تحویل نابالغان کیلئے کوشاں رہا ہے ماں شہادت کیلئے بھی پیش نہ ہوئی ہے۔ تمام فیصلہ جات عدالت ماتحت منسوخ کرکے درخواست گارڈین کا دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم صادرکیا گیا۔

19۔ 1995 Clc 800 + 1991 MLD 745

1993 Clc 2116

قانون کی تشریح کے معاملہ میں عدالتیں قرآن و سنت اور اجماع اور فقہاء کی رائے کو اہمیت دینے کی پابند ہیں۔ فقہ حنبلی کے مطابق نابالغ دختر ہونے کی صورت میں بالغ ہونے تک اور لڑکا ہونے کی صورت میں سات سال تک حضانت کا حق ماں کا ہے۔ سات سال سے زائد عمر کا بچہ باپ کے حوالے کیا جائے گا۔

20۔ 1995 Clc 306

حضانت بچے کا حق ہے نہ کہ والدین کا۔ عدالت کو صرف نابالغ کے مفاد کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا چاہئے۔ نابالغ لڑکی کو تحفظ کی ضرورت ہے نہ صرف نابالغ ہونے پر بلکہ بالغ ہونے پر بھی کم از کم شادی تک۔ جب نابالغہ کی ماں نے دوسری شادی کرلی ہو تو نابالغہ کو باپ اور دادی کے حوالے کیا جانا چاہئے۔

21۔ 1981 SCMR 200

ماں نے طلاق کے وقت رضامندی سے نابالغہ دختر باپ کے حوالے کردی۔ماں نے پانچ سال بعد دوبارہ شادی کرلی اور اس سے بچہ بھی پیدا ہوا جس سے شادی کی گئی وہ نابالغہ کیلئے نا محرم تھا۔ ماں نے نابالغہ کے حصول کیلئے درخواست دائر کی جو خارج ہوگئی اپیل بھی خارج۔ عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ عدالت نے باپ کے حق میں فیصلہ ٹھوس وجوہات کو مدنظر رکھ کر کیا ہے جس میں مداخلت کی ہر گز گنجائش نہیں۔

22۔ PLD 1985 Kar 645 + PLD 1967 Kar 645

عدالت نے بچوں کی عارضی تحویل ماں کو دی اور حکم دیا کہ ہر تاریخ پیشی پر باپ سے ملاقات کیلئے نابالغان کو حاضر کرے۔ماں مقام k چھوڑ کر چلی گئی اور بچوں کو اپنے بہنوئی کے حوالے کردیا جس پر عدالت نے عارضی تحویل کا حکم تبدیل کرکے بچے عارضی طور پر باپ کے حوالے کردیئے جس پر ماں کی رٹ خارج کردی گئی اور قرار دیا کہ عدالت اپنے عارضی تحویل کے حکم کو تبدیل کر سکتی ہے۔

23۔ 1980 Clc 851

نابالغ دختران17 اور12 سال جبکہ بیٹا 13 سال جنہوں نے باپ کے پاس رہنے کی خواہش کا اظہار کیا جو پہلے ہی باپ کے پاس زیر تعلیم تھے ان کو باپ کے پاس رکھنے میں ہی بچوں کا مفاد قرار دیا گیا۔

24۔ 1979 Clc 4 + PLD 1975 Lah 86

فریقین جو شیعہ فقہ سے تعلق رکھتے تھے کا دو سال سے زائد عمر کا بیٹا باپ نے لینے کی درخواست دائر کی۔باپ کا پاکستان میں کوئی ذاتی مکان نہ تھا جبکہ برطانیہ اچھی ملازمت تھی۔بچے نے باپ کے ساتھ رہنے سے انکار کیا قرار دیا گیا کہ بچے کا مفاد باپ کے پاس رہنے میں ہے جو اسے تعلیم کی خاطر برطانیہ لے جانا چاہتا ہے۔

25۔ 1986 Clc 1857 + PLD 1967 kar 569

بچے جو کرسچن جوڑے سے پیدا ہوئے ماں نے بعد میں اسلام قبول کرکے ایک مسلمان سے شادی کرلی تو نابالغان کرسچن باپ کے حوالے کیا جانا مناسب قرار دیا گیا کہ بچوں کے پرسنل لاء کے مطابق تقرری گارڈین کا فیصلہ کیا جائے گا۔ باپ چونکہ کرسچن ہے اور بچوں کیلئے مناسب ہے کہ انکی پرورش باپ کرے اور انہیں اپنے مذہب کے مطابق تعلیم دلوائے۔

26۔ NLR 1984 Civil 273 + 1981 SCMR 201

ماں کی دوسری شادی کے بعد نابالغان کی حضانت کا حق برقرار نہ رہتا ہے۔ جب ماں نابالغان کے غیر محرم شخص سے دوسری شادی کرے تو نابالغان کو باپ کے حوالے کیا جانا درست ہے۔

27۔ NLR 1981 Ac 23

پندرہ سال کی نابالغ دختر کو باپ کے حوالے کیا گیا جسکے خلاف رٹ خارج کرتے ہوئے عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ جب شہادت میں کوئی ایسی بات ثابت نہ ہوئی ہو کہ باپ تحویل نابالغ کیلئے نا اہل ہے تو عدالت ماتحت کے فیصلہ کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔

28۔ NLR 1995 CLJ 167

باپ جسکو مالی طور پر مستحکم ہونے کی ماں پر برتری حاصل ہو اور وہ نابالغ پر جو چھوٹی عمر کا نہ ہے باپ کے حوالے کیا جانا ہی مناسب اور نابالغ کے بہترین مفاد میں ہے تاکہ اسکی بہتر پرورش ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں