نان و نفقہ عورت کا بنیادی حق

نان و نفقہ عورت کا بنیادی حق


نان و نفقہ عورت کا بنیادی حق ہے۔ ایک عورت جب شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھر آتی ہے تو پھر اسکی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنا، اسے محفوظ رکھنا شوہر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ عدالت کے مطابق ”نان و نفقہ“ کا مطلب ہے کہ زندگی کی ضروریات کو پورا کرنا۔شوہر کے ذمہ وہ تمام اخراجات ہیں جو ذہنی اور جسمانی صحت کیلئے ضروری ہیں۔ عدالت کے مطابق بچے کی ولادت کے اخراجات بھی جسمانی اور ذہنی صحت میں شامل ہیں۔ عام طور پر بچوں کی پیدائش خصوصاً پہلے بچے کی پیدائش پر عورت کے والدین ہی اخراجات اٹھاتے ہیں۔ عورت اپنے خاوندسے یہ اخراجات وصول کرنے کی حقدار ہے۔ہمارے معاشرے میں بیوی پر عموماً صرف تب خرچ کیا جاتا ہے جب وہ شوہر کے گھر رہ رہی ہوتی ہے اور اس معاملے میں بھی ذیادہ تر شوہرخرچہ ایسے دیتے ہیں کہ بیوی کی برداشت کی حد ختم ہو جاتی ہے۔ عدالتوں میں ذیادہ تر مقدمات نان و نفقہ نہ ادا کرنے پر تنسیخ نکاح کے آتے ہیں اور یا پھر عورتیں نان و نفقہ کا دعویٰ دائر کرتی ہیں کہ انکے شوہر انکو اور انکے بچوں کو خرچ نہیں دیتے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نان و نفقہ کتنا ہونا چاہئے؟ کیونکہ ہر زمانے میں چیزوں کی قیمتیں بڑھتی رہتی ہیں۔ نان و نفقہ کے واجب ہونے کے سلسلہ میں سورۃ طلاق میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:
”کشادہ دست پر اسکی وسعت کے مطابق اور تنگ دست پر اسکی قدرت کے مطابق نفقہ ہے“۔ (سورۃ طلاق)

نکاح کے بعد جب بیوی شوہر کے ساتھ رہ رہی ہو تو شوہر پر لازم ہوتا ہے کہ وہ بیوی بچوں کا ذمہ اٹھائے اور خرچہ ادا کرے اور اگر شوہر ایسا نہیں کرتا تو بیوی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ عدالت کے ذریعے سے دعویٰ دائر کرکے اپنا حق وصول کرے اور اگر بچے ہیں تو انکا بھی خرچہ وصول کرے۔ مسلم عائلی قوانین 1961 ء کی دفعہ 9 کے مطابق اگر خاوند بیوی کو نفقہ کی ادائیگی میں غفلت کرے یا مناسب نفقہ ادا نہ کرے تو بیوی نفقہ کی وصولی کیلئے اپنے علاقے کی یونین کونسل میں درخواست دے سکتی ہے۔2015 میں عائلی قوانین میں ترامیم کی گئیں۔ پہلے عورت صرف اپنا خرچہ یونین کونسل سے طلب کر سکتی تھی مگر اب وہ اپنے خرچے کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کا خرچہ بھی اپنے علاقے کی یونین کونسل کے ذریعے شوہر سے وصول کر سکتی ہے۔ یہ ایک بہترین ترمیم ہے کیونکہ اس سے عورت بغیر کسی وکیل کے اور عدالتوں میں جائے بغیر اپنے گھر کے پاس موجود یونین کونسل نان و نفقہ کے لئے درخواست دے کر کاروائی کروا سکتی ہے۔

جب ایک عورت عدالت میں جاکر نان و نفقہ کا مقدمہ کرے تو عموماً شوہر حضرات دعویٰ حقوق اعادہ زن اشوئی کا دعویٰ کر دیتے ہیں جس میں وہ اپنی بیوی کو واپس گھر میں بسانے کا کہتے ہیں جبکہ عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ اگر کوئی عورت خود خوشی سے گھر چھوڑ کر نہیں گئی تو اس کا حق ہے کہ وہ خرچہ وصول کرے پھر چاہے وہ جہاں بھی رہے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگر عورت خود کما رہی ہو تو شوہر یہ بہانہ نہیں بنا سکتا کہ چوں کہ بیوی کما رہی ہے اسلئے بیوی نان و نفقہ طلب نہیں کر سکتی۔ بیوی کی کمائی پر شوہر حقدار نہیں ہوتا اسے ہر حال مین اپنی بیوی بچوں کو نان و نفقہ ادا کرنا ہوگا۔ اگر بیوی خود اپنی مرضی سے شوہر کا گھر چھوڑ چکی ہو تو پھر وہ خرچہ طلب نہیں کر سکتی۔ ایسے مقدمات جب عدالت کے سامنے آتے ہیں تو پھر شہادتوں کے ذریعے سے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ بیوی نے گھر مرضی سے نہیں چھوڑا اور شوہر نے اسے نکالا ہے۔ ہمارے معاشرے میں نکاح نامہ میں نان ونفقہ سے متعلق بہت سی شرائط عائد کی جاتی ہیں جن میں سے ماہانہ خرچہ، ناراضگی کی صورت میں ملنے والا خرچہ اور دیگر پیسوں سے متعلق تفصیلات درج ہوتی ہیں مگر ان پر عمل در آمد نہیں ہوتا اور شاید ہی کسی جگہ نکاح نامہ کے مطابق لکھا ہوا نان و نفقہ ادا ہوتا ہو۔

شادی کے بعد ذیادہ تر لڑائی جھگڑے خرچوں پر ہی ہوتے ہیں۔ایک عورت جسکا شوہر اسکو اور اسکے بچوں کو نان و نفقہ ادا نہ کررہا ہو تو وہ عورت سابقہ مدت کے 6 سالوں تک کا خرچہ وصول کر سکتی ہے اور اس وقت تک شوہر سے خرچہ لینے کی حقدار ہے جب تک اسے طلاق نہیں ہوتی اور طلاق کے بعد بھی عدت کی مدت کا خرچہ شوہر ہی کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ بچے جب تک خود کفیل نہیں ہو جاتے وہ والد سے خرچہ وصول کر سکتے ہیں اور بیٹی اس وقت تک خرچہ وصول کر سکتی ہے جب تک کہ اسکی شادی نہ ہو جائے پھر چاہے وہ ساری زندگی شادی نہ کرے۔ بعض اوقات میاں بیوی میں طلاق کے بعد شوہر بیوی سے کاغذات پر لکھوا لیتا ہے کہ وہ بچے رکھ سکتی ہے اور اس کے بدلے وہ بچوں کے خرچے کو معاف کردے۔ اس ضمن میں واضح کردوں کہ ماں کی طرف سے کیا گیاکوئی بھی معاہدہ بچوں کو نان و نفقہ کے حق سے محروم نہیں کرتا۔ ماں یا کوئی بھی دوسرا سرپرست بچے کو اس کے باپ سے نفقہ وصول کرنے کے حق سے محروم نہیں کر سکتا۔ بچے چاہے باپ کے ساتھ رہیں یا الگ رہ رہے ہوں ان کا قدرتی سر پرست انکا والد ہی ہوگا اور وہی انکا خرچہ اٹھانے کا ذمہ دار ہے۔قانون میں واضح ہے کہ یہ بالکل ضروری نہیں کہ بیوی شوہر کے ساتھ رہ رہی ہو تب ہی وہ خاوند سے نفقہ وصول کرے۔ اگر بیوی کو حق مہر ادا نہ کیا گیا ہو اور وہ گھر چھوڑ کر الگ رہ رہی ہو تو عدالت خاوند کو پابند کرتی ہے کہ وہ بیوی کو حق مہر ادا کرے اور جب تک حق مہر ادا نہ کردے بیوی کو نان و نفقہ ادا کرے۔

عدالتوں میں جب مقدمے آتے ہیں تو دیکھا گیا ہے کہ نان و نفقہ سے بچنے کیلئے خاوند بہانہ بناتے ہیں کہ ان کے معاشی حالات درست نہیں اس وجہ سے وہ نان ونفقہ ادا نہیں کر سکتے جبکہ عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں واضح کردیا ہے کہ باپ چاہے جتنا مرضی غریب ہو پھر بھی بچوں کو خرچہ نان ونفقہ ادا کرنے کا پابند ہے اور نابالغ نہ صرف تاریخ پیدائش سے نان و نفقہ کا حقدار ہوجاتا ہے بلکہ اس کی پیدائش کے اخراجات بھی والد کے ذمہ ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں بس اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ بچے کی ولادت کے وقت ہسپتال کی رسیدات موجود ہوں کیونکہ وہ ایک مضبوط شہادت کے طور پر عدالت میں پیش کی جا سکتی ہیں۔جب بچوں کا خرچہ نان و نفقہ عدالت جاری کرتی ہے تو پھر اس میں سالانہ اضافے کو بھی شامل کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑتھی ہوئی ضرورتوں کے پیش نظر خرچہ میں بھی اضافہ کیا جاتا ہے۔ عدالت کے نزدیک سب سے اولین بچے کا مفاد ہوتا ہے اگر والد اس قابل نہ ہو کہ بچوں کو خرچہ دے سکے تو بچوں کا دادا ذمہ دار ہوگا کہ وہ اپنے پوتے پوتیوں کی دیکھ بھال کرے۔

خرچہ نان و نفقہ طے کرتے ہوئے عدالت شوہر کی معاشی حالت کو بھی سامنے رکھتی ہے۔2012 میں لاہور کی عدالت میں ایک مقدمے میں عدالت نے کہا کہ چونکہ مدعا علیہ کے بچے اعلیٰ انگریزی اسکول میں زیر تعلیم ہیں لہذا نا کا خرچہ نان و نفقہ مقرر کرتے ہوئے اس بات کو مدنظر رکھا جائے کہ مدعا علیہ کی مالی حیثیت اچھی ہے۔ (2012 PLD Lahore 420)

2014 میں عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ نان و نفقہ مقرر کرتے ہوئے شوہر کی معاشی حالت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اگر شوہر عدالت میں یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ وہ معاشی طور پر مضبوط نہیں اوربیوی ثابت کردے کہ بچوں کا والد اچھا خاصا کما لیتا ہے تو پھر عدالت اول تو فوری طور پر دوران مقدمہ ہی عبوری نان و نفقہ جاری کردیتی ہے اور جب تک مقدمہ کا حتمی فیصلہ جاری نہیں ہو جاتا والد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ خرچہ ادا کرے۔ بیوی جب تک شوہر کا نام استعمال کررہی ہوتی ہے خرچہ کی حقدار ہوتی ہے۔ یہ قانون ہے جو کہ عورتوں اور بچوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اب جب عورتوں کو آگاہی حاصل ہوگی تب ہی وہ اپنا اور اپنے بچوں کا حق وصول کر سکیں گی۔ اسلئے باعلم رہیں اور اپنی اور دوسروں کی مدد کریں۔

نان و نفقہ کے حوالے سے کچھ اہم عدالتی نظائرکچھ یوں ہیں:

٭ نان و نفقہ6 سال کی مدت تک کا طلب کیا جا سکتا ہے۔ (2017 CLCN 26 Peshawar H.C)

٭ ٹرائل کورٹ کی جانب سے نابالغ بچی کا نان و نفقہ مقرر کردیا گیا تھا جس کے متعلق دعویٰ میں کوئی بات نہیں کی گئی اس وجہ سے اس کو نہیں چھیڑا گیا۔ ایپلٹ کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نابالغ بچی بلوغت کے حصول تک نان و نفقہ وصول کرنے کی حقدار ہے درست نہیں کیونکہ بیٹی ہونے کے ناطے سے وہ بچی اپنی شادی تک نان و نفقہ وصول کرنے کی حقدار ہے۔ اس وجہ سے نابالغ بچی کے نان و نفقہ کے معاملے کو بمطابق حالات ڈھال دیا گیا۔ (2017 CLC 35 Quetta H.C)

٭ بیوی سابقہ مدت کے آٹھ سال کی بجائے 6 سال تک کا نفقہ شوہر سے لینے کی حقدار ہوتی ہے۔ (2017 CLCN 26 Peshawar)

٭ ایپلٹ کورٹ نے 10 فیصد کی بجائے 15 فیصد سالانہ اجافہ نابالغ بچی کے نان و نفقہ میں کیا جو کہ چیزوں کی بڑھتی ہوئی قیمت اور روپے کی گھٹتی بڑھتی قدروقیمت کو مد نظر رکھتے ہوئے تھا۔ (2017 CLCN 16 Lahore H.C)

٭ دعویٰ حقوق اعادہ زن آشوئی غیر موثر ہوگئی کیونکہ مدعی نے مدعا علیہ کو طلاق دے دی تھی۔ بیان کردہ ڈگری نان و نفقہ کیلئے بہترین تھی، زیر اعتراض فیصلہ اور ڈگری دونوں کا ریکارڈ اور شہادت سے پوری مطابقت تھی۔ آئینی درخواست ان حالات میں جزوی طور پر منظور کر لی گئی۔ CLC 180 Lahore H.C) Mst naveeda Kausar Vs Mauzzam Khan)

٭ ثالثی کونسل نے بیوی کو نان و نفقہ جاری کیا۔ خاوند نے اسسٹنٹ کولیکٹر (Asistant Collector) کو نظر ثانی کی درخواست دائر کی جو کہ مسترد کر دی گئی۔ جواز: مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کی دفعہ(2)9 کے تحت نظر ثانی کی میعاد 30 دن ہے خاوند نے بعد از میعاد نظر ثانی درخواست کی اور تاخیر کی وجوہات کی وضاحت بھی نہیں کی۔ اسسٹنٹ کولیکٹر نے جائز طور پر نظر ثانی کی درخواست رد کی۔ ثالثی کونسل کی کاروائی شوہر کے علم میں تھی مگر اس نے پھر بھی مدت میعاد میں نظر ثانی دائر نہیں کی۔ آئینی درخواست مسترد کردی گئی۔ (2015 MLD 905 Lahore H.C)

٭ بچے یا بیوی کا خرچہ باپ کے خلاف ڈگری ہونے کی صورت میں Execution کے دوران عدالت دادا کی جائیداد میں منسلک کر سکتی ہے، چاہے دعویٰ میں دادا فریق ہو یا نہ ہو۔ (PLD 2012 Lah P 148)

اپنا تبصرہ بھیجیں