ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر نکاح کی شرعی حیثیت

ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر نکاح کی شرعی حیثیت


نکاح ایک ایسا مقدس اور مذہبی فریضہ ہے جودو فریقین کو نئے رشتے سے منسلک کر دیتا ہے۔آج کے دور میں جدید ذرائع ابلاغ کی وجہ سے ہر چیز میں جدت کا رنگ نظر آتا ہے۔ اسی کی ایک شکل ٹیلی فون یا انٹر نیٹ پر ویڈیو کال کے ذریعے نکاح ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ٹیلی فون یا انٹرنیٹ کے ذریعے نکاح ہونے کے بعد بہت سے ایسے کیسز رپورٹ ہوئے جن میں فریقین کے ساتھ دھوکہ ہوگیا۔ چونکہ اس میں دھوکہ اور فراڈ بازی کا عنصر بہت ذیادہ استعمال ہو سکتا ہے اسلئے اس مقدس بندھن کو چال بازی کی نظر ہونے سے بچانے کیلئے اس کی شرعی حیثیت کو دیکھتے ہیں۔
نکاح ہونے کی شرائط یعنی شرائط انعقاد نکاح کیلئے تمام فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر ان شرائط میں کوئی ایک شرط بھی پوری ہونے سے رہ جائے تو نکاح باطل قرار پاتا ہے۔ اس کی مثال ایسے بھی ہے کہ جیسے وضو کے لازمی عوامل میں سے ایک بھی عمل رہ جائے تو وضو نہیں ہوتا ایسے ہی ان شرائط نکاح کو پورا کرنا ضروری ہے۔ فقہاء نے درج ذیل شرائط کو شرائط انعقاد قرار دیا ہے۔
1۔ ایک ہی تقریب میں دولہا و دلہن کاا یجاب و قبول۔
2۔ فریقین کے ایجاب و قبول میں مطابقت ہو یعنی جزوی نہ ہوں۔
3۔ دولہے کے ایجاب کے ختم ہونے سے پہلے دلہن کی جانب سے قبول ہو جائے۔
4۔ ایجاب و قبول کے الفاظ ایسے ہوں جن سے نکاح کا اسی وقت ہونا ظاہر ہو۔
اب یہاں ہم جو کہ ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پر نکاح کے حوالے سے بات کررہے ہیں تو اتحاد مجلس بھی ایک ہی محفل یا تقریب میں دونوں دولہا اور دلہن کے ایجاب و قبول پر بات کریں گے۔ٹیلی فون اور دیگر جدید ذرائع مواصلات پر نکاح کے حوالے سے مختلف علماء کے نظریئے اور فتاوجات سامنے آچکے ہیں۔ اب تک اس مسئلے پر دو مختلف نقطہ ہائے نظر اور تفاویٰ سامنے آئے۔

برصغیر پاک و ہند کے علماء کا فتویٰ

برصغیر کے بیشتر علماء کا رحجان یہ ہے کہ ٹیلی فون پر نکاح منعقد نہیں ہوتا یعنی ایسا کرنا جائز نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیلی فون وغیرہ پر نکاح کی صورت میں اتحاد مجلس یعنی دولہا دلہن کی ایک ہی محفل میں ہونے کی شرط پوری نہیں ہوتی۔ دوسری وجہ یہ ہے ٹیلی فون پر نکاح کی صورت میں گواہان فریقین کی بات پورے طور پر نہیں سن سکتے۔اس کیلئے ایک ہی صورت ہے کہ نکاح بذریعہ وکیل یا ولی کے ہو اس سلسلے میں مولانا رحمانی”کتاب الفتاوی“ میں ٹیلی فون کے ذریعے نکاح کے بارے میں لکھتے ہیں:
صرف ٹیلی فون پر ایجاب و قبول کافی نہ ہوگاکیونکہ ایک تو دونوں کی مجلس مختلف ہے اور دوسرا گواہان فریقین کی بات پوری طرح نہیں سن سکیں گے البتہ یہ صورت ممکن ہے کہ ٹیلی فون کے ذریعے کوئی ایک فریق کسی کو نکاح کیلئے وکیل بنادے اور وہ وکیل دو گواہوں کی موجودگی میں بحیثیت وکیل ایجاب و قبول کا فریضہ سر انجام دے مثلاً ہندہ زید کو ٹیلی فون کرے کہ تمہیں اس بات کا وکیل بناتی ہوں کہ تم اپنے آپ سے میرا نکاح کردو اب زید یہ کرے کہ دو گواہوں کی موجودگی میں کہے کہ تم لوگ گواہ رہو کہ میں نے فلاں سے نکاح کرلیا تو نکاح ہو جائے گا البتہ یہ ضروری ہے کہ گواہ اس عورت سے واقف و متصارف ہوں۔

عرب علماء کا نقطہ نظر

عرب علماء کی غالب اکثریت کا مؤقف یہ ہے کہ ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور ویڈیو کانفرنسنگ وغیرہ پر نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔یہ نقطہ نظر معروف فقیہ شیخ مصطفٰی ززقا، ڈاکٹر وہبہ زحیلی، ڈاکٹر ابراہیم ڈبو،ڈاکٹر محمد عقلہ اور شیخ بدران ابو العینیس بدران کا ہے۔ فقہ اکیڈمی جدہ نے بھی اس طورپر کئے گئے نکاح کے جواز کا فتویٰ دیا ہے۔ فقہ اکیڈمی جدہ نے اپنے اجلاس منعقدہ 14 مارچ1990 میں قرار یا تھا۔
جب فریقین کے درمیان نکاح ایک ہی وقت میں منعقد ہو اور وہ دونوں الگ الگ اور دور دور مقامات پر ہوں جیسا کہ ٹیلی فون، موبائل یا وائر لیس کے ذریعے ہوتا ہے تو یہ نکاح دو افراد کا ایک ہی مجلس میں ہونے والا نکاح تصور کیا جائے گا یہ بات واضح ہے کہ ایک ہی مجلس میں ہونے والا نکاح درست ہوتا ہے۔
اس ضمن میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ بعض عرب علماء بالخصوص سعودی عرب کی فتویٰ کونسل علماء کا خیال یہ ہے کہ ٹیلی فون پر نکاح جائز نہیں ان کے نزدیک عدم جواز کی وجہ یہ ہے کہ اس میں دھوکہ دہی، غلط بیانی ممکن ہے جبکہ نکاح جو غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور خاندانی معاملہ ہے انتہائی احتیاط چاہتا ہے اسلئے اس نکاح کا اعتبار نہ ہوگا۔اگر چند باتوں کا خیال رکھا جائے تو ٹیلی فون یا انٹرنیٹ کے ذریعے ہونے والے نکاح کو فاسد یا باطل ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اول تو ٹیلی فون کے ذریعے ہونے والے نکاح میں اس امر کا خیال رکھیں کہ ایجاب و قبول کرنے والے افراد فرضی نہیں بلکہ یقینی طور پر اس نکاح کے ہی دو فریق ہیں اگر کسی بھی قسم کا دھوکہ، سازش ہو تو نکاح درست نہ ہوگا۔
اس امر کو یقینی بنائیں کہ گواہ دونوں فریقین کے ایجاب و قبول سن رہے ہوں اور ان کی آواز کو پہچانتے بھی ہوں۔جہاں تک اتحاد مجلس کے مسئلہ کا تعلق ہے تو مجلس جگہ کے لحاظ سے بھی ایک ہو سکتی ہے اور وقت کے لحاظ سے بھی ایک ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر وہبہ زحیلی نے اس مسئلے پر تفصیلی بحث کی ہے۔ اتحاد مکان اتحاد زمان میں سے کوئی ایک صورت ہو تو مجلس عقد ایک ہی شمار ہوگی۔ حنفی فقہاء کے نزدیک خط کے ذریعے ایجاب و قبول جائز ہے تو اس صورت پر بھی اعتراض نہیں ہو سکتا۔
مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کے تحت ہر نکاح جو اسلامی قانون کے تحت وقوع پذیر ہوگا وہ مندرجہ بالا قانون کی دفعہ5 کے تحت رجسٹرڈ ہوگا۔ لاہور کی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ ایسا نکاح جو مسلم فیملی لاء آرڈیننس 1961 کے تحت رجسٹرڈ ہوا ہو اس کے مستند ہونے پر عائلی عدالت کے سامنے سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ ہاں اگر ایسا نکاح فراڈ یا دھوکہ دہی سے سر انجام دیا گیا ہو تو اس کیلئے ہرجانہ موجود ہے۔
(PLD 2000 Lah 355)
اگر فون یا انٹرنیٹ پر نکاح ہوتا ہے تو نکاح نامہ کو جلد از جلد دولہن کے گھر کے قریب کے یونین کونسل میں رجسٹرڈ کروا لینا چاہئے۔ اگر رجسٹریشن نہ ہو تو نکاح باطل نہیں ہوگا مگر چونکہ یہ جرم ہے اس وجہ سے قانون کی گرفت ہو سکتی ہے اور پیچیدگیاں اور مسائل پیدا ہو سکتے ہیں لہذا فوراً ہی قریبی یونین کونسل سے رجسٹرڈ کروالینا چاہئے۔
اب نادرا کے تحت کمپیوٹرائزڈ نکاح نامے جاری کئے جاتے ہیں بہتر ہے کہ اپنے نکاح نامہ کو پہلے ہی کمپیوٹرائزڈ کروالیں تاکہ بعد کی پیچیدگیوں اور مسائل سے بچ سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں