پاکستانی خواتین کو حاصل آئینی اور قانونی حقوق

پاکستانی خواتین کو حاصل آئینی اور قانونی حقوق


اکیسویں صدی میں افراد او رقوموں کے ارتقاء کا اندازہ انسانی حقوق کی پذیرائی سے لگایا جا سکتا ہے۔دور حاضر میں ہر شخص اپنے حقوق بلا امتیاز رنگ و نسل حاصل کر سکتا ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین بھی اسلام کے مطابق جنسی تفریق کے بغیر ہر شہری کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔
دنیا کی ترقی میں خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔پاکستان میں بھی خواتین زندگی کے ہر میدان میں بھر پور کوشش کررہی ہیں اورمعاشرے میں سماجی، اقتصادی اور سیاسی انقلاب کیلئے جدوجہد میں مصروف عمل ہیں لیکن دوسری جانب معاشرے میں خواتین کی حالت دن بدن بدتر ہوتی جارہی ہے۔ کہیں جبری شادیاں، عصمت دری، تیزاب اور گیس سے جلانے کے واقعات ہیں تو کہیں غیرت کے نام پر قتل، کاروکاری وغیرہ کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ تنزلی کا شکار ہورہا ہے۔ خواتین کو وراثت سے محروم رکھنا اور نا انصافی عام ہے جسکی بہت بڑی وجہ معاشرے میں ناخواندگی اور اپنے بنیادی حقوق سے نا آگہی ہے۔
آئین پاکستان 1973 کے تحت تمام شہریوں کو بلا امتیاز تمام بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں۔ جن حقوق کے تحفظ کیلئے بہت سے قوانین بنائے گئے ہیں۔ ذیل میں آئین پاکستان میں خواتین کو حاصل آئینی اور قانونی حقوق بیان کئے گئے ہیں۔

1۔ خواتین کو حاصل آئینی حقوق

ہر انسان کو بلا امتیاز ئی حق حاصل ہے کہ وہ اپنی تمام ذہنی اور جسمانی قوتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے مقاصد زندگی کا حصول ممکن بنائے۔آئین پاکستان میں ان تمام حقوق کو بنیادی انسانی حقوق کا درجہ دیا گیا ہے۔ یہ حقوق بلاامتیاز خواتین اور دوسروں کو حاصل ہیں۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر25 کے مطابق قانون کی نظر میں تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں اور محض جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں کیا جا سکتا۔ ان حقوق کی تفصیل درج ذیل ہے۔

تحفظ جان کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 کے تحت ہر فرد کو اپنی جان اور آزادی کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

حراست اور قید سے بچنے کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 10 کے تحت ہر فرد کو غیر قانونی حراست اور قید سے بچاؤ کا حق حاصل ہے۔

جبری مشقت اور غلامی سے تحفظ کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل11 کے تحت ہر شخص کو جبری مشقت اور غلامی سے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

گزشتہ زمانے میں سرزد کئے ہوئے جرم کی سزا سے بچاؤ کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 12 کے تحت کسی بھی شخص کو گزشتہ زمانے کی سرزد کئے گئے جرم کی سزا نہیں دی جا سکتی۔

دوبار سزا سے بچنے کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل13 کے تحت ہر فردکو ایک جرم کی دو دفعہ سزا سے بچاؤ کا حق حاصل ہے۔

عزت نفس کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 14 کے تحت ہر فرد کو عزت نفس اور وقار کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

چلنے پھرنے کی آزادی
آئین پاکستان کے آرٹیکل 15 کے تحت ہر انسان کو بلا امتیاز چلنے پھرنے کی آزادی حاصل ہے۔

پر امن جلسے کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 16 کے تحت ہر فرد کو بلا امتیاز پر امن جلسہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

انجمن سازی کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 17 کے تحت ہر شخص کو انجمن سازی کا حق حاصل ہے۔

تجارت اور ذریعہ معاش کے انتخاب کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 18 کے تحت ہر فرد کو بلا امتیاز کاروبار اور ذریعہ معاش کے انتخاب کا حق حاصل ہے۔

آزادی اظہار رائے اور صحافت کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 19 کے تحت ہر انسان کو آزادی اظہار رائے اور صحافت کا حق حاصل ہے۔

مذہبی آزادی
آئین پاکستان کے آرٹیکل 20 کے تحت ہر انسان کو بلا امتیاز مذہبی آزادی حاصل ہے۔ یہ آرٹیکل اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا ضامن ہے۔

مذہب کے نام پر ذیادتی سے تحفظ کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 21 کے تحت کسی بھی فرد کو مذہب کے نام پر نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ اقلیتوں اور مختلف مذہبی فرقوں کو اسی آرٹیکل کے تحت تحفظ حاصل ہے۔

مذہبی اور تعلیمی اداروں کا تحفظ
آئین پاکستان کے آرٹیکل 22 کے تحت مذہبی اور تعلیمی اداروں کو تحفظ حاصل ہے۔

جائیداد رکھنے کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 23 کے تحت ہر شخص کو بلا امتیاز جائیداد رکھنے اور استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

جائیداد کے تحفظ کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 24 کے تحت ہر فرد کی جائیداد کو تحفظ حاصل ہے۔

قانون کی نظر میں برابری کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 25 کے تحت ہر انسان قانون کی نظر میں برابر ہے۔ جنس کی بنیاد پر کسی شخص سے کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔

عوامی جگہوں تک رسائی کا حق
آئین پاکستان کے آرٹیکل 26 کے تحت ہر شخص کو برابری کی بنیاد پر عوامی جگہوں تک رسائی کا حق حاصل ہے۔

روزگار کے مواقع
آئین پاکستان کے آرٹیکل 27 کے تحت ہر فرد کو بلا امتیاز جنس، نسل، مذہب اور ذات کے روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔

بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ
آئین پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت اگر کسی فرد کے بنیادی انسانی حقوق غصب ہوں تو وہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر سکتا ہے۔

2۔ خواتین کو حاصل قانونی حقوق

قانونی حقوق کی تین اقسام ہیں۔
۱۔ فوجداری قوانین کے تحت خواتین کو حاصل حقوق۔
۲۔ عائلی قوانین کے تحت خواتین کو حاصل حقوق۔
۳۔ دیوانی قوانین کے تحت خواتین کو حاصل حقوق۔

۱۔ فوجداری قوانین کے تحت خواتین کو حاصل حقوق۔
تعزیرات پاکستان 1860 ء

) تعزیرات پاکستان 1860 ء کی دفعہ 310 کے تحت خواتین کو بدل صلح میں دینا منع ہے اور 310-A کے تحت اگر کوئی شخص کسی خاتون کو بدل صلح میں دے گا تو ایسا کرنے والے کو کم ازکم 3 سال اور زیاد ہ سے زیادہ 7 سال تک سزا دی جائے گی اور جرمانے کی سزا بھی جو پانچ لاکھ روپے تک ہو سکتا ہے۔
) دفعہ332 کے تحت اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو ضرر پہنچائے یا زخمی کرے یا اسکے جسم کے کسی حصے کا اتلاف کرے یا اسکو بگاڑ دے یا اسکی اصل شکل تبدیل کردے یا اسکو ناکارہ کردے تو اسکو جرح کہتے ہیں۔
) دفعہ336-A کے تحت اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کسی دوسرے کو آگ سے یا کسی اور جلنے والی چیز سے، کسی ایسڈ(کوئی بھی ایسا کیمیکل جو انسانی جسم کر جلادے)یا زہر سے زخمی کرتا ہے تو یہ بھی جرح کی تعریف میں آئے گا۔
) دفعہ336-B میں دفعہ 332 اور336-A کے تحت جرح سرزد کرنے کی سزا بیان کی گئی ہے جو کہ عمر قید یا 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہے۔ اسکے علاوہ ایسا شخص جو کہ جرح کرنے کا مرتکب ہو گا وہ زخمی کے علاج معالجے اور نقصان کو بھی برداشت کرے گا۔
) تعزیرات پاکستان کی دفعہ354 میں ایسے شخص کیلئے 2 سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے جو کسی عورت کی عزت و ناموس کو پامال کرنے کے لئے اس پر حملہ کرتا ہے۔
) اگر وہ اس حملے میں اسے سرعام عریاں کردے تو 354-A کے تحت ایسے شخص کیلئے سزائے موت یا عمر قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
) دفعہ365-B کے تحت ایسے شخص کیلئے عمر قید اور جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے جو کسی خاتون کا زنا بالجبر یا زبردستی شادی کرنے کیلئے اغواء کرتا ہے۔
) دفعہ366-A کے تحت اگر کوئی شخص کسی نابالغ بچی کو جنسی استحصال کیلئے ایک جگہ سے دوسری جگہ لیکر جاتا ہے تو ایسے شخص کو دس سال تک کی سزائے قید اور جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
) دفعہ366-B کے تحت اگر کوئی شخص کسی نابالغ بچی کو جنسی استحصال کیلئے کسی دوسرے ملک سے لیکر آتا ہے تو ایسے شخص کو دس سال تک کی سزائے قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
) دفعہ367-A کے تحت ایسا شخص جو کسی کو اغواء کرے اسکے لئے 25 سال تک کی سزا اور جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔
) دفعہ371-A کے مطابق اگر کوئی شخص خواتین کو عصمت فروشی کی غرض سے خریدتا، بیچتا یا کرائے پر لیتا یا دیتا ہے تو اسکے لئے25 سال تک کی قید کی سزا رکھی گئی ہے۔
) دفعہ371-B کے مطابق کسی بھی خاتون کو عصمت فروشی کی غرض سے خریدنا یا کرائے پر لینا جرم ہے جسکی سزا25 سال قید اور جرمانے کی سزا ہوگی۔
) دفعہ375 زنا بالجبر کو بیان کرتی ہے۔
) دفعہ376 میں زنا بالجبر کا ارتقاب کرنے والے کیلئے سزائے موت یا 25 سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ اس دفعہ کے تحت اگر کسی خاتون کے ساتھ اجتماعی ذیادتی کی گئی ہو تو اس گروہ کے ہر فرد کیلئے سزائے موت یا 25 سال قید کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
) دفعہ493 کے تحت اگر کوئی شخص کسی عورت سے دھوکہ دہی سے شادی کرتا ہے یا ایسا کرنے میں کسی دوسرے شخص کی مدد کرتا ہے تو اسکے لئے 25 سال تک قید اور جرمانہ تیس ہزار مقرر کیا گیا ہے۔
) دفعہ496-A کے تحت ایسے شخص کیلئے کم از کم 7 سال قید اور جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی ہے جو کسی عورت کو زنا بالجبر کی غرض سے بھلا پھسلا کر لے جاتا ہے یا اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے اسے چھپاتا یا قید کرتا ہے۔
) دفعہ496-B کے تحت اگر کوئی مرد اور عورت زنا بالرضا کے مرتکب ہوں تو انکے لئے پانچ سال تک کی قید اور دس ہزار جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
) دفعہ496-C کے تحت اگر کوئی شخص کسی پر زنا کا جھوٹا الزام لگائے گا یا جھوٹی شہادت دے گا تو اسکے لئے پانچ سال تک قید کی سزا اور دس ہزار جرمانہ کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
2011 ء میں تعزیرات پاکستان میں ایک نئی قانون سازی کی گئی جسکے تحت ایک نیا باب XXA باعنوان ”خواتین کے خلاف جرائم“شامل کیا گیا ہے۔ جسکے تحت درج ذیل دفعات کا اضافہ کیا گیا ہے۔

i۔ عورت کو حق وراثت سے محروم کرنے کی سزا

دفعہ498-A کے تحت ہر وہ شخص جو کسی عورت کو وراثت کے حق سے محروم کرے گا اسکو زیادہ سے زیادہ دس اور کم از کم پانچ سال تک قید کی سزا اور دس لاکھ روپے تک کے جرمانے کی سزا سنائی جائے گی۔

ii۔ زبردستی شادی پر مجبور کرنے کی سزا

دفعہ 498-B کے تحت جو شخص کسی عورت کو زبردستی شادی پر مجبور کرے گا اسکو زیادہ سے زیادہ دس سال قید اور کم از کم تین سال تک کی قید کی سزا اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا سنائی جا ئے گی۔

iii۔ قرآن پاک سے شادی پر مجبور کرنے کی سزا

دفعہ498-C کے تحت جو شخص کسی عورت کو قرآن پاک کے ساتھ شادی پر مجبور کرے گا یا اسکا انتظام کرے گا اسکو زیادہ سے زیادہ سات اور کم از کم تین سال تک قید کی سزا اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جائے گی۔

کام کی جگہ ہراساں کرنے کا قانون

دفعہ509 تعزیرات پاکستان میں ایسے شخص کیلئے ایک سال تک کی قید کی سزا مقرر کی گئی ہے جو کسی عورت کی عزت و ناموس کی توہین کرے، آوازیں لگائے یا کسی چیز کی نمائش کی ذریعے کسی بھی عمل کے ذریعے اسکا تقدس پامال کرے۔
2009 ء میں ”کام کی جگہ ہراساں کرنے کا قانون“ کے تحت اس دفعہ میں ترمیم کی گئی جسکے مطابق اس دفعہ کا اطلاق ملازمت کی جگہ، دفاتر، فیکٹری، کارخانہ وغیرہ پر ہوتا ہے اور سزا میں تین سال اور پانچ لاکھ روپے تک کے جرمانے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت عورتوں کو انکے کام کرنے کی جگہوں پر ہراساں کرنا جرم قرار دیا گیا اور انکو اس سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس قانون کے تحت ہر محکمہ میں ایسا جرم سرزد کرنے والے شخص کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کیلئے مناسب طریقہ کار متعین کیا گیا ہے۔

گھریلو تشدد کے قانون کا بل

گھریلو تشدد کے قانون کا بل بھی پارلیمنٹ میں پیش ہوا جسکے تحت گھریلو تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کو داد رسی مہیا کی گئی ہے۔

ضابطہ فوجداری 1898 ء

) دفعہ52 ضابطہ فوجداری کے تحت اگر کسی بھی عورت کی تلاشی لینا مقصود ہو تو اس مقصد کیلئے خاتون پولیس بلائی جائے گی۔ کسی خاتون ملزمہ کو کوئی مرد ہاتھ نہیں لگائے گا۔
) کاتون ملزمہ کی گرفتاری کی صورت میں اسے مردوں کے تھانے میں نہیں رکھا جائے گا۔ جن علاقوں میں خواتین کیلئے الگ تھانے موجود نہ ہوں وہاں گرفتار شدہ خاتون کو حوالات (جیل) میں بھجوادیا جائے گا۔
) سورج غروب ہونے کے بعد اور سورج طلوع ہونے سے پہلے کسی خاتون ملزمہ کو تھانے میں نہیں رکھا جائے گا۔
) دفعہ497 ضابطہ فوجداری کے تحت خاتون ملزمہ کو خصوصی ضمانت کا حق حاصل ہے۔ اسکا اطلاق دہشت گردی یا ایسے جرائم جن میں سزائے موت یا سزائے عمر قید ہو پر نہیں ہوگا۔
) اگر کوئی شخص حد زنا آرڈیننس 1979 ء کی دفعہ5 کے تحت زنا بالرضا کا ارتکاب کرے تو اسکے خلاف دفعہ203-A کے تحت مجاز عدالت میں استغاثہ دائر کیا جا سکتا ہے۔
) اگر کوئی شخص حد قذف آرڈیننس 1979 ء کی دفعہ7 کے مطابق کسی پاک دامن پر زنا کا الزام لگائے تو ایسی صورت میں اسکے خلاف دفعہ 203-B کے تحت مجاز عدالت میں استغاثہ دائر کیا جا سکتا ہے۔
) اگر کوئی شخص تعزیرات پاکستان کی دفعہ 496-A کے مطابق زنا بالرضا کا ارتکاب کرے تو دفعہ203-C کے تحت اسکے خلاف مجاز عدالت میں استغاثہ دائر کی جا سکتا ہے۔

قیدی خواتین کے حقوق

قیدی خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو کہ قیدی مردوں کو حاصل ہیں بلکہ جیل رولز کے تحت کئی معاملات میں خواتین قیدیوں کو بحیثیت خاتون خصوصی حقوق دیئے گئے ہیں۔ ضابطہ فوجداری اور قیدیوں کے حقوق کے قانون کے تحت قیدی خواتین کو جیل میں ہر طرح کا تحفظ حاصل ہے اور اس طرح سے قیدی خواتین کو انکے مقدمات کی پیروی کرنے، کسی بھی مجاز عدالت میں اپیل کرنے اور قید میں مختلف اوقات میں مختلف طرح کی معافیاں ملنے وغیرہ کے حقوق حاصل ہیں۔

۲۔ عائلی قوانین کے تحت خواتین کے حقوق
مسلم قانون تنسیخ نکاح 1939 ء

دفعہ2 کے تحت درج ذیل صورتوں میں بیوی اپنے نکاح کی تنسیخ کروا سکتی ہے۔
) شوہر چار سال تک غائب رہے۔
) سو سال تک نان و نفقہ ادا نہ کرے۔
) بغیر اجازت کے دوسری شادی کرے۔
) شوہر کو سات سال تک کیلئے قید کی سزا ہو گئی ہو۔
) شوہر نامرد ہو۔
) شوہر دو سال سے مجنون ہو۔
) بیوی خیار بلوغ حاصل کرنے کے بعد بچپن کی شادی کو ختم کرنا چاہے۔
) شوہر بیوی پر ظلم و تشدد کرتا ہو۔
) شوہر بیوی کو غیر اخلاقی زندگی گزارنے پر مجبور کرے۔
) شوہر بیوی کو عبادات اور مذہبی معاملات سے روکے۔
) دو یا دو سے زیادہ بیویوں کی صورت میں غیر امتیازی سلوک کرے۔
) شوہر بیوی پر بد کاری کا الزام لگائے اور بیوی کے انکار پر لعان کی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مسلم فیملی لاء آرڈیننس 1961 ء

مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 ء میں بھی خواتین کو حقوق عطا کئے گئے ہیں۔
) شادی کی رجسٹریشن دفعہ5 کے تحت کرانا ضروری ہے ورنہ خلاف ورزی کی صورت میں تین ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
) اسی قانون کی دفعہ6 کے تحت شوہر اگر بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرتا ہے تو اسکو ایک سال تک کی قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
) مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی دفعہ7 کے تحت طلاق دینے کی صورت میں مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلاق کا نوٹس عورت کو اور متعلقہ یونین کونسل کو بھجوا کر طلاق کی رجسٹریشن کروائے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے ایک سال تک کی قید یا پانچ ہزار روپے تک جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
) اس قانون کی دفعہ8 کے تحت عورت کو طلاق کا حق تفویض کیا جا سکتا ہے اور وہ جب چاہے اپنا یہ حق استعمال کر سکتی ہے۔ نکاح نامے کے کالم نمبر18 میں عورت کو تفویض طلاق کا حق دیا گیا ہے۔
) اس قانون کی دفعہ 9 کے تحت شوہر اپنی بیوی کے نان و نفقہ کا ذمہ دارہے۔ اگر کوئی شخص نان و نفقہ ادا نہیں کرتا تو اس قانون کے تحت بیوی عدالت کے زریعے سابقہ اور حالیہ نا ن و نفقہ لے سکتی ہے۔
) دفعہ10 کے تحت شوہر بیوی کو حق مہر ادا کرنے کا پابند ہے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں بیوی عدالت کے زریعے اپنا حق حاصل کرسکتی ہے۔

عائلی عدالتوں کا قانون 1964 ء

) اس قانون کی دفعہ5 کے شیڈول کے تحت تمام عائلی معاملات تنسیخ نکاح، خلع، حق مہر، نان و نفقہ، بچوں کی حضانت، سامان جہیز اور خواتین کی ذاتی استعمال کی اشیاء کی واپسی یا ادائیگی سے متعلق معاملات عائلی عدالتوں کے دائرہ سماعت میں آتے ہیں۔
) اس قانون کی دفعہ17-A کے تحت عائلی عدالتیں نان و نفقہ کے کیسوں میں جو اب دعویٰ کی دائری کے بعد سے بیوی بچوں کا عبوری خرچہ مقرر کرے گی اور یہ خرچہ ہر ماہ کی 14 تاریخ تک ادا کیا جائے گا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں شوہر/ والد کے دفاع کا حق ختم کردیا جائے گا۔
) دفعہ12-A کے تحت عدالتیں فیملی لاء کیس کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر کریں گی۔

گارڈین اور وارڈز ایکٹ 1890 ء

) والدین کے درمیان علیحدگی کی صورت میں لڑکا سات سال تک اور لڑکی شادی تک والدہ کے ساتھ رہے گی۔ عدالت بچوں کی حضانت کے معاملات کو طے کرتے وقت بچے کی فلاح و بہبود کا خیال رکھے گی کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے یا اسکا، فاد کس کے ساتھ بہتر ہوگا۔ اگر عدالت دیکھے کہ لڑکے کی اچھی تعلیم و تربیت اور اسکی فلاح اسکی ماں بہتر طریقے سے کر سکتی ہے تو عدالت لڑکے کی عمر سات سال تک ہوجانے پر بھی اسکی تحویل اسکی والدہ کو دے سکتی ہے۔
) اگر نابالغ کی عمر لڑکے کی صورت میں سات سال سے کم اور لڑکی کی صورت میں 16 سال سے کم ہو تو عدالت پہلی پیشی پر والدہ کو عبوری حضانت دے گی اور والد کیلئے ملاقات کا وقت مقرر کردے گی۔

بچپن کی شادی کی ممانعت کا قانون 1929 ء

) اس قانون کے تحت 16 سال سے کم عمر لڑکی اور 18 سال سے کم عمر لڑکے کی شادی کرنا منع ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں والد اور نکاح خواں کو سزا دی جائے گی۔

۳۔ دیوانی قوانین کے تحت خواتین کو حاصل حقوق۔
ضابطہ دیوانی 1908 ء

اس قانون کی دفعہ56 کے تحت اگر کسی خاتون کے خلاف مالی معاملات سے متعلق کوئی ڈگری ہو تو اس ڈگری کے اجراء کے لئے اس خاتون کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح ضابطہ دیوانی کے تحت پردہ دار خاتون کو اصالتاً عدالتوں میں حاضر ہونے سے رعایت بھی دی گئی ہے۔

فیکٹریز ایکٹ 1934 ء

) ایسی فیکٹری جہاں 50 سے زائد عورتیں ملازمت کرتی ہوں انکے چھ سال سے کم عمر کے بچوں کے استعمال کے لئے الگ کمرہ مختص کیا جانا ضروری ہے۔
) خواتین ملازمین سے ہفتے میں 48 گھنٹے سے زیادہ ڈیوٹی نہیں لی جا سکتی۔
) چھ دن کے بعد ایک ہفتہ وار چھٹی تنخواہ کے ساتھ دینی ضروری ہے۔
) خواتین ملازمین کو 14 دن سالانہ، 10 دن اتفاقی اور 16 دن بیماری کی صورت میں چھٹیاں دی جائیں گی نیز حکومت کی جانب سے تہوار کی چھٹیاں بھی بمع تنخواہ دی جائیں گی۔
) کسی خاتون ملزمہ یا کم سن بچے سے فیکٹری کی متحرک مشینری کو صاف کرنے، اسے تیل دینے اور اسکے پرزے جوڑنے کا کام نہیں لیا جائے گا۔

جہیز اور بری کے تحائف پر پابندی کا قانون 1976 ء

) دفعہ3 کے تحت دلہن یا دولہا کو والدین کی طرف سے دیئے جانے والے تحائف کی رقم پانچ ہزار روپے سے زیادہ نہ ہوگی۔
) دفعہ6 کے تحت شادی، مہندیم بارات اور ولیمہ پر ہونے والے اخراجات 2500 روپے سے زیادہ نہ ہوں گے۔
) دفعہ9 کے تحت ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ تک کی قید اور جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔
نوٹ: یہ قانون انتہائی غیر مؤثر اور ناقابل عمل ثابت ہوا ہے۔ اس مسئلے پر آج تک کسی پارلیمنٹ کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ مؤثر، کارآمد قانون سازی کر سکیں۔

شادی شدہ خواتین کی جائیداد کا قانون 1874 ء

اس قانون کے تحت شادی شدہ عورت اپنی جائیداد، تنخواہ اور کمائی کی خود مالک ہوگی اور شوہر کا اس پر کوئی حق نہ ہوگا۔

میٹرنٹی سہولیات کا قانون 1958 ء

) اس قانون کے تحت ملازم خواتین سے حمل کے دوران اور بچوں کی پیدائش کے بعد کچھ عرصہ تک کام لینا منع ہے اور ایسی عورتوں کو زچگی کے اخراجات بھی فراہم کئے جائیں گے۔ اس دوران اگر ملازم خاتون انتقال کر جائے تو زچگی کے اخراجات اسکے اہل خانہ کو ادا کئے جائیں گے اورحمل کے دوران کے عرصہ میں ملازم خاتون کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں