پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں قومی حکومت بنانے پر اتفاق

پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں قومی حکومت بنانے پر اتفاق


سینیٹ انتخابات میں بنی گالا کی فلائٹ نے براستہ (Via)کوئٹہ کینٹ، بلاول ہاؤس کا سفر کیا تھا جس کا فائدہ براہ راست پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹ کیلئے ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار(اوراب منتخب ڈپٹی چیئرمین) سلیم مانڈوی والا اور ان کے باس آصف علی زرداری کو ہوا۔پاکستان پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کے تعاون سے ناممکن کو ممکن بناکر دکھا دیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے بعض حلقے تو کہتے ہیں کہ صادق سنجرانی بھی ہمارے ہی امیدوار ہیں، وہ اور ان کے بڑے بھائی رازق سنجرانی2008ء سے 2013ء تک پاکستان پیپلزپارٹی کی وفاق اور صوبوں کی حکومتوں کا کسی نہ کسی صورت حصہ رہے ہیں، یہ تو تحریک انصاف نے انقلابی نعرے کی بدنامی سے بچنے کیلئے ہمیں مجبور کیا تھا ورنہ صادق سنجرانی بھی ”تیر“ کے نشان کے امیدوار تھے۔ واضح رہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے بڑے بھائی رازق سنجرانی کا نام نیب کے میگا اسکینڈل میں ملوث ملزمان کی فہرست میں 12ویں نمبر پر ہے جن کے خلاف ابھی تک سینڈک کاپر گولڈ پروجیکٹ کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور ممکن ہے جلد ہی ان تحقیقات کی رفتار بڑھادی جائے۔

بات ہورہی ہے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے ہرآنے والے دن میں مضبوط ہوتے انتخابی اتحاد کی جی ہاں محبتوں کا یہ سلسلہ ابھی رُکا نہیں ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (PIA)میں سوداکار یونین(سی بی اے) کے حال ہی میں ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف کی لیبر یونین ”انصاف فرنٹ“نے پاکستان پیپلزپارٹی کی لیبر یونین ”پیپلزیونٹی“ کی حمایت کی اور انصاف فرنٹ کے کارکنان نے بھرپورطریقے سے ووٹنگ میں حصہ لیا جس سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی وفاق میں حکومت کے باوجود پیپلزیونٹی کامیاب ہوگئی جبکہ ماضی میں ایسا ہوتا تھا کہ جس پارٹی کی وفاق میں حکومت ہوتی تھی اس کی حمایت یافتہ لیبر یونین پی آئی اے کی سی بی اے بنتی تھی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں پیپلزپارٹی ”تیر“ کے نشان پر الیکشن لڑے گی اور تحریک انصاف ”بلے“ کے نشان پر اور ایک دوسرے کے خلاف بھرپور انتخابی مہم بھی چلے گی لیکن انتخابی نتائج آنے کے بعد دونوں جماعتوں کی قربت بڑھ جائے گی اور جس طرح تحریک انصاف نے سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے سے روکنے کیلئے مسلم لیگ (ن) کے خلاف کسی حد تک بھی جانے کا تہیہ کررکھا تھا اسی طرح مسلم لیگ (ن) کو وفاق میں حکومت بنانے سے روکنے کیلئے تحریک انصاف کسی حد تک بھی جائے گی اور اسی سیاسی نقطہ پر پاکستان پیپلزپارٹی سے اتحاد ہوگا۔

تحریک انصاف کے بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ جو لوگ پاکستان پیپلزپارٹی سے تحریک انصاف میں آرہے ہیں وہ دراصل”مہمان امیدوار“ ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کو مستقبل میں ہر حال میں اتحاد کرنے کی یقین دہانی کیلئے پیپلزپارٹی سے کچھ لوگ مانگے ہیں جو اپنا ووٹ بینک تو رکھتے ہیں لیکن پیپلزپارٹی کی ساکھ برُی طرح خراب ہونے کی وجہ سے جب بھی الیکشن لڑتے ہیں زکوٰۃ کے ریشو کے حساب سے ووٹ لیتے ہیں۔ ”بلے“ کے نشان پر الیکشن لڑنے سے ان امیداروں کی یقینی کامیابی کا دعویٰ تحریک انصاف کی جانب سے کیا جارہا ہے یہی وجہ ہے کہ ذاتی ووٹ رکھنے والوں کو تحریک انصاف ہاتھوں ہاتھ لے رہی ہے حالانکہ ماضی میں تحریک انصاف انہی ذاتی ووٹ والوں (Electables) کو کرپشن کے بادشاہ، قومی خزانے کو لوٹ کے کھاگئے، پارٹی سربراہ کے فرنٹ مین اور نہ جانے کن کن القابات سے یاد کرتی تھی۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو مفاہمتی سیاست کا بادشاہ (King)کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ 27دسمبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی المناک شہادت کے بعد اُس وقت کے حکمران جنرل(ر) پرویز مشرف نے کوشش کی کہ قومی انتخابات میں تاخیر کردی جائے لیکن آصف علی زرداری نے ڈکٹیٹرکی چال کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر منع کردیا اور کہا کہ ”بی بی شہید نے جمہوریت کی خاطر اپنی جان کی قربانی دی ہے اور ہم نے ان کے مشن کو جاری رکھنے کی قسم کھائی ہے ہم کس طرح ایک جمہوری عمل کو روکنے کی حمایت کرسکتے ہیں لہٰذا حکومت فوری طورپر قومی انتخابات کا اعلان کرے۔“جنرل (ر)پرویز مشرف نے جب دیکھا کہ انتخابات تو ہر حال میں کرانا پڑیں گے تو اپنی دانست میں معاملات طے کرنے کی کوشش کی تو آصف زرداری نے بھی خوب حکمت عملی سے کام لیا اور کہا کہ مجھے کسی عہدے کی تمنا نہیں جنرل(ر) پرویز مشرف صدر مملکت رہیں گے اور وزیر اعظم کیلئے پیپلزپارٹی کے کسی جیالے کو آگے لایا جائے گا۔

فروری 2008ء میں انتخابات ہوئے اور پاکستان پیپلزپارٹی کو اتحادیوں کو ساتھ ملاکر واضح اکثریت مل گئی تو پاکستان پیپلزپارٹی نے ملتان سے رکن قومی اسمبلی سید یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم بنوادیا۔آصف زرداری نے میثاق جمہوریت سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو نہ صرف وفاقی حکومت میں شامل کرنے کیلئے راضی کرلیا بلکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو ڈکٹیٹر پرویز مشرف سے حلف لینے پر بھی مجبورکردیا۔ حکومت قائم ہونے اور میاں نواز شریف کا اعتماد حاصل کرنے کے بعد آصف زرداری نے اپنے اگلے اور اہم ہدف پر کام شروع کردیا اور جنرل(ر) پرویز مشرف کو نواز شریف کے ذریعے عہدہ صدارت سے ہٹانے کی مہم شروع کردی ایک وقت آیا کہ پرویز مشرف کو کہا گیاکہ وہ خود استعفیٰ دیں گے یا ان کے مواخذے کی تحریک چلائی جائے۔ جنرل(ر) پرویز مشرف نے ایوان میں حکومت کی عددی اکثریت کو دیکھتے ہوئے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرلیا اور یوں آصف علی زرداری اپنے اس مشن میں کامیاب ہوگئے اور پانچ سال کیلئے صدرمملکت بن گئے۔ 2018ء کے انتخابات کے بعد بھی ایسا ہی کچھ ہونے جارہا ہے اور پاکستان تحریک انصاف ایک مرتبہ پھر آصف علی زرداری کو ایوان صدر تک پہنچائے گی ایسا کہنا ہے پاکستان پیپلزپارٹی کے ذرائع کا۔وہ کہتے ہیں کہ سینیٹ میں جب چیئرمین کا انتخاب ہوگیا تو کیا نعرہ لگا ”ایک زرداری سب پر بھاری“۔ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (PIA) میں سوداکار یونین(سی بی اے)کی کامیابی کے بعد بھی یہی نعرے لگے کیونکہ پیپلزیونٹی کے صدر کی نامزدگی بھی آصف علی زرداری کی جانب سے کی گئی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے ذرائع نے عمران خان کی سیاست کی سائنس کچھ اس طرح بیان کی۔۔۔ لگتا ایسا ہے کہ عمران خان کو ”اوپر“ سے صرف اتنا ہی مینڈیٹ ملا ہے کہ نوازشریف کو سیاست سے آؤٹ کرو اور ہدایت کی گئی ہے کہ اس کیلئے تم نے اپنی عقل سے کم اور ہماری گائیڈ لائن سے زیادہ چلنا ہے ایسااس لئے ہے کہ عمران خان نے”اپنی عقل“استعمال کرتے ہوئے سینیٹ انتخابات سے کچھ روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھاکہ اگر وہ پیپلزپارٹی کو ووٹ دیتے ہیں تو اس کا صاف مطلب ہے کہ ان کی 22سالہ جدوجہدصفر اور نظریہ دفن ہوجاتا ہے لیکن جب ”اوپر“ سے حکم ہوا کہ نہیں آپ نے ہر حال میں پیپلزپارٹی کو ہی ووٹ دینا ہے چاہئے بائیس سالہ جدوجہد صفر ہویا نظریہ دفن ہو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ ”اوپر“ کا حکم کون ٹال سکتا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے مضبوط ہوتے انتخابی رشتے سے نظریاتی کارکن اور عمران خان کی شخصیت سے متاثر ہوکر سندھ سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والی بعض شخصیات کو بہت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے ان شخصیات میں ایک نام سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ ممتاز علی بھٹو کا ہے جنہیں جب معلوم ہوا کہ عمران خان تو بلاول ہاؤس کا ہوگیا ہے اس پر ممتاز بھٹو نے بہت مایوسی کا اظہار کیا اور قومی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (فنکشل) کے ساتھ اتحاد کرنے کے بارے میں صلاح و مشورے شروع کردیئے ہیں۔ عمران خان کی پاکستان پیپلزپارٹی سے محبت اور ووٹ دینے کے رشتے سے سابق وزیر اعلیٰ سندھ لیاقت علی جتوئی بھی بہت مایوس ہیں وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ہم نے عمران خان کو بتایا تھا کہ پیپلزپارٹی سے کسی صورت”کونسلر“ کے الیکشن کا بھی اتحاد نہیں کرنا لیکن عمران خان نے ہمیں دھوکا دیا ہے ہم نے عمران خان کو شمولیت سے قبل ہی بتایا تھا کہ ہمارا اور پیپلزپارٹی کا سیاسی معاملہ آگ اور پانی والا ہے جس طرح آگ اور پانی نہیں مل سکتے اسی طرح ہم پیپلزپارٹی سے نہیں مل سکتے لیکن لگتا ایسا ہے کہ عمران خان ہرحال میں وزیر اعظم بننے کی ہوس میں کسی حد تک بھی جانے کیلئے تیار ہیں۔پاکستان پیپلزپارٹی کی مخالفت میں تحریک انصاف میں شامل ہونے والے سندھ سے کئی لیڈران ہیں جنہیں اپنے سیاسی مستقبل کی فکر لاحق ہوچکی ہے لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں ”دل“ نہیں ہوتا اسی لئے سیاست کو ”بے رحم“ کہا جاتا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ حالیہ دنوں میں آصف علی زرداری کی منظر سے غائب ہونے کی دو حکمت عملیاں ہیں نمبر ایک تحریک انصاف کی ساکھ خراب نہ ہواس لئے بلاول کو سامنے رکھا جائے گا اور ظاہر کیا جائے گا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا اصل”چہرہ“ بلاول بھٹو ہیں۔ نمبر دو آصف علی زرداری سندھ سے ہر حال میں اکثریت کے حصول کیلئے بڑی جوڑتوڑ میں مصرف ہیں اور ساتھ ساتھ ان کے اہم ترین ساتھیوں کے خلاف نیب کے کیسز کھلنے اور چلنے کی رفتار تیز ہونے والی ہے اس سے بچنے اور باحفاظت نکلنے کی حکمت عملی پر بھی کام جاری ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کی اس سیاسی حکمت عملی سے عمران خان کا مطالبہ بھی پورا ہوجاتا ہے کہ تحریک انصاف آصف زرداری کی پیپلزپارٹی سے کسی صورت اتحاد نہیں کرے گی بلاول کی پیپلزپارٹی سے کرلے گی۔

کے الیکٹرک کی ذیادتیاں

ہم یہ نہیں کہتے کہ چیف جسٹس آف پاکستان وہ انصاف کرتے ہیں جو انہیں پسند ہے (Selective Justice) اور نہ ہی یہ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس نے اپنے لئے کوئی ریڈزون بنارکھے ہیں جیسے کراچی الیکٹرک، بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے، فضائیہ، بحریہ، ائیرپورٹ سیکورٹی فورس کی کمرشل ہاسنگ اسکیمز یا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ماتحت ایسے ادارے جہاں سروسز کے لوگ خدمات انجام دیتے ہیں یا سروسز سے وابستہ حاضر اور ریٹائرڈ افسران کے ماتحت چلنے والے نیم سرکاری ادارے ہیں کہ ان کی جانب کسی صورت نہیں جانا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں 70سالوں میں جمہوری تسلسل ہی نہیں رہا جس کی وجہ سے ریاست کے معاملات چلانے والے ملازمین (BUREAUCRACY) کو اپنے پنجے گاڑھنے اور ہر آنے والے حکمران کو کرپشن کے راستے دکھانے اور خود بھی جم کر کرپشن کرنے کے مواقع ملتے رہے اس کی تازہ مثال بلوچستان کے سیکریٹری فنانس کی ہے جس کے گھر سے 65کروڑ روپے کیش، ڈالراور لاکھوں روپے کا سونا اور بانڈز ملے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نوکر شاہی (BUREAUCRACY) کس طرح ہمارے پیارے وطن پاکستان کو معاشی لحاظ سے کھوکھلا کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ بجلی کے اداروں کی مانیٹرنگ اور ان کے احتساب کا خود مختار ادارہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA)ہے جس نے چند روز قبل ہی تحقیقات کی ہیں کہ کراچی میں غیر اعلانیہ اور اضافی لوڈشیڈنگ کی مکمل ذمہ دار کے الیکٹرک ہے۔ گیس کی بندش یا کمی کے دوران بجلی کی طلب کو پورا کرنے کیلئے کے الیکٹرک کے پاس مکمل نظام موجود ہے لیکن چونکہ وہ نظام فرنس آئل (Furnice Oil) پر چلتا ہے اس لئے کے الیکٹرک نے صارفین کی تکالیف کو سمجھنے کی بجائے پیسوں کی بچت کے چکر میں کورنگی اور بن قاسم کے پلانٹ نہیں چلائے۔ نیپرا ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہیں اور شوکاز نوٹس جاری کرتے ہیں لیکن کے الیکٹرک مہنگے ترین وکیل کو عدالت میں کھڑا کرکے اسٹے لے لیتی ہے جس پر کارروائی کو آگے بڑھانا ناممکن ہوجاتا ہے۔

نیپرا ذرائع نے بتایا ہے کہ کے الیکٹرک کیلئے عدالت نے اب تک درجنوں اسٹے دیئے ہوئے ہیں۔کے الیکٹرک کے صارفین نے چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار سے اپیل کی ہے کہ آپ نے جس طرح ہائیکورٹ سے ازخود نوٹس لینے کا اختیار واپس لے لیا ہے اسی طرح ہائیکورٹ کے اس اختیار کو بھی محدود کردیا جائے کہ عوامی اور اجتماعی مفاد کے کسی معاملے پر اسٹے نہیں دیا جائے کیونکہ اگر ہائیکورٹس لاکھوں اور کروڑوں روپے فیس لینے والے وکیل سے متاثر ہوکر ایک ہی ادارے کے حق میں اسٹے دیتی رہیں گی تو ملکی نظام کس طرح چلے گا اور عام آدمی جس کیلئے جناب جسٹس میاں ثاقب نثارنے اپنے گھر والوں تک سے ایک سال کی چھٹی لی ہوئی ہے اس کی بھلائی کیلئے کام کس طرح ہوگا؟ کراچی کے مظلوم، پسے ہوئے اور کے الیکٹرک سے لُٹے ہوئے عوام نے پرزور اپیل کی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثاربجلی کی، پیدوار، تقسیم اور دیگر تمام معاملات پر ازخود نوٹس لیں۔کراچی کے عوام کے ساتھ اس معاملے میں کیا کیا مظالم ہوئے ہیں اس بارے میں کچھ تفصیل پیش خدمت ہے۔سابقہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (KESC) میں خدمات انجام دینے والے انجینئر مسٹر انیل ممتاز نے کے الیکٹرک کے حوالے سے حیرت انگیز انکشافات کئے ہیں جن کی تفصیل کا چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار کے پاس پہنچنا ضروری ہے تاکہ ازخود نوٹس پر بہتر انداز سے کارروائی ہو۔کراچی والوں کے ساتھ ظلم تو یہ بھی ہوا کہ جن سیاسی جماعتوں کو اہل کراچی ووٹ دیتے تھے انہیں سیاسی جماعتوں نے کے الیکٹرک کے ہاتھ مضبوط کئے اور صارفین کا عرصہ حیات تنگ کرنے کا موقع فراہم کیا۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم نے تو یہ الزام عائد کیا ہے کہ کے الیکٹرک کو اتنا طاقتور بنانے میں پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم برابر کے شریک ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے جب کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (KESC) کو فروخت کیا تو ایم کیوایم ان کی اتحادی تھی اور سندھ میں پیپلزپارٹی نے کوئی احتجاج نہیں کیا بلکہ اقتدار میں آنے کے بعد کے الیکٹرک سے سازباز کرلی، حافظ نعیم کہتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں نے انفرادی فائدے حاصل کرنے کیلئے کراچی کی ڈیڑھ کروڑ سے زائد کی آبادی کابیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے آج نہ پانی ہے نہ بجلی ہے۔

کے الیکٹرک،سابق ایم ڈی فرینک شمٹ سے منسوب باتیں اور انیل ممتاز کے انکشافات۔

سابقہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (KESC)میں خدمات انجام دینے والے انجینئر مسٹر انیل ممتاز کہتے ہیں کہ کراچی کے عوام کے ساتھ اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا کہ کے الیکٹرک کراچی کے عوام کے نام پر 650میگا واٹ بجلی مفت میں حاصل کررہی ہے اور سابقہ حکومت کے کئی سال تک تو گیارہ سو میگا واٹ سے زائد بجلی لی جاتی رہی سرکاری فائلوں میں نام کراچی کے عوام کا لکھا جاتا اور دوسری جانب کراچی کے صارفین کو بجلی چور ظاہر کرکے اربوں روپے اضافی اینٹھ لئے گئے۔ انیل ممتاز کہتے ہیں کہ سابقہ کے ای ایس کے منیجنگ ڈائریکٹر فرینک شمٹ سے منسوب ہونے والی باتیں سن کر حیران ہوں کہ شمٹ سے غیر ضروری باتیں جوڑ کر کے الیکٹرک عوام پر ڈھائے جانے والے اپنے مظالم پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔سپریم کورٹ، ہائیکورٹ، نیپرا اور کراچی سے باہر کے لوگوں کو حقائق سے گمراہ کرنے کیلئے اپنی دکان چمکاتی ہے جبکہ اصل میں ہوا یوں تھا کہ فرینک شمٹ نے المونیم کنڈکٹر (Conductor Aluminium)کو جب پہلی بار KESCL میں اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا تو شمٹ اور ان کی بیوی جو کہ اکثر راتوں میں سائٹ انسپکشن پرجاتے تھے، دونوں میاں بیوی کے ہاتوں کے طوطے اُڑ گئے تھے جو کہ المونیم کنڈکٹر کے تباہ کن اثرات کو جانتے تھے اور شدید دباو میں تھے دوسری جانب SIEMENS) PAKISTAN (بھی مبینہ طور پر اس سازش کو خود سپورٹ کررہی تھی جس کے فرینک شمٹ(کے ای ایس سی کے ایم ڈی ہوتے ہوئے) اس وقت تکنیکی ملازم تھے یعنی فرینک شمٹ اصل میں سیمنز کے ملازم تھے اور سیمنز کی دونمبری جس میں کاٹھ کباڑ کو Cosmetic سرجری کر کے KESCL میں کھپانا بھی شامل تھا، لیکن جرمن ہونے کے ناتے کچھ اقدار اور ایماندری کی تربیت ان کے خون میں شامل ہونے کی وجہ سے ایک دن ایسا بھی آیا کہ فرینک شمٹ کے ضمیر نے دونمبریاں کرنے پر مسلسل ملامت کرنا شروع کردیا جو فرینک شمٹ سے برداشت نہ ہوسکا اور وہ خاموشی سے استعفیٰ دے کر اپنے ملک سدھار گیا لیکن جاتے جاتے پاکستان کو نقصان بھی دے گیاکہ اس سازشی صورت حال سے پاکستان کے عوام کو آگاہ نہیں کیا جس کے خزانے سے بہرحال وہ تنخواہ تکنیکی طورپر لیتاتھا۔ اس حوالے سے ہمارے ذمہ دار ادارے خاموش بیٹھیں ہیں چیف جسٹس آف پاکستان ان سے پوچھیں کہ وہ کیوں خاموش بیٹھے رہے۔یہ بات بھی زیر نظر رہے کہ مارچ، اپریل 2018 کی شدید غیرقانونی لوڈشیڈنگ کی اصل وجہ HUBCO پاور پلانٹ کا بند ہونا ہے جس کو ملک کی تمام ایجنسیاں، تمام میڈیا، تمام سیاسی جماتیں، تمام این جی اوز، تاجر تنظیمیں کیوں چھپا رہی ہیں یہ عوام کو اب ضرور سوچنا پڑے گا۔ مورخہ 17 اپریل 2018ء کی بات ہے کہ روزنامہ ”اوصاف“ کراچی کی جانب سے منعقدہ سیمینار میں جب سوئی سدرن گیس کے ترجمان مسٹر شہباز سے میں نے (انیل ممتاز نے) یہ سوال پوچھا کہ ذرا یہ بتائیں کہ یہ بات تکنیکی لحاظ سے سمجھ میں آتی ہے کہ سردیوں میں گیس سکڑ کر بھاری ہونے کی وجہ سے ترسیل میں مشکلات پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے سوئی گیس کمپنی سردیوں میں لوڈشیڈنگ کرتی ہے یا کرسکنے کا بہانہ بھی بنا سکتی ہے لیکن گرمیوں میں جب کہ گیس پھیل چکی ہوتی ہے اور ترسیل کے نظام میں دوڑ بھاگ کیلئے انتہائی موزوں یا IDEAL ہوتی ہے تو ایسی کون سی تکنیکی وجہ ہے کہ آپ K- الیکٹرک کوگیس کی سپلائی کم دے رہے ہیں تو موصوف کوئی تکنیکی جواب دے کر مطمئن کرنے کی بجائے آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ محکمہ سوئی گیس کے ترجمان کی یہ غیر تسلی بخش بات تاجر اتحاد کے عتیق میر،بلدیہ وسطی کے چیئرمین ریحان ہاشمی، اوصاف کراچی کے چیف رپورٹر فرید عالم، محترمہ یاسمین طحہٰ، متحدہ کے ایم این اے وقار حسین شاہ، کراچی چیمبر آف کامرس کے عتیق الرحمن و دیگر مقررین نے بھی سنا اور ششدرہ رہے گئے اور جب انیل ممتاز نے سوئی گیس کے ترجمان شہبازسے دوسرا سوال پوچھا کہ آپ جانتے ہوں کہ کے الیکٹرک کا دوسرا بڑا یونٹ بن قاسم -2 ہے جس میں تین یونٹ لگے ہیں جو کہ گیس پر چلتے ہیں تو شہباز صاحب فرمانے لگے “جی ہاں ” اور پھر جب انیل ممتاز نے پوچھا کہ بتائیں کہمحکمہ سوئی گیس نے تین یونٹ پر پانچ میٹر کیسے لگا دیئے تو موصوف یک دم گھبرا گئے۔سوئی گیس کے آفیشل ترجمان فرمانے لگے کہ مجھے معلوم نہیں ہے جس کو سنتے ہی پورا ہال سناٹے میں آگیا، جی ہاں تمام لوگ سناٹے میں آگئے کچھ مزید سوالات کرنے تھے لیکن منتظمین آڑے آگئے۔ ماہنامہ ”القانون“ اسلام آباد کے نمائندے نے جب انیل ممتاز سے سوال کیا کہ یہ باتیں تو اور لوگ بھی کررہے ہیں تو انیل ممتاز نے بتایا کہ انکشافات کا پنڈورہ باکس کھولنے والا پاکستان کا وہ گم نام شہری میں (انیل ممتاز) ہی ہوں کیونکہ میں تو گھر کا آدمی ہوں لیکن جب دیکھا کہ اس ادارے کے ذمہ داران عوامی جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں ایسے میں میں ان کا حصہ بن کر جرم میں برابر کا شریک ہوجاؤں گا اسی لئے میں نے اپنی زندگی داؤ پر لگاکر قوم کو حقائق سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا مجھے بعض اوقات اس بات پر افسوس ہوتا ہے کہ لوگ میرے انکشافات کو فیس بک پیج سے کاپی پیسٹ کر کے اور میرا نام ہٹا کر اپنے مفادات کی دکان چمکاتے ہیں۔ کاپی پیسٹ کرنے والوں کی دھوکہ دہی اور کم علمی کی انتہا دیکھیں کہ کاپی پیسٹ کرتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ یہ تمام اعداوشمار پہلے ہی پبلک ہوچکے ہیں، انیل ممتاز کی اْن میں سے اکثر پوسٹیں چار سے پانچ سال پرانی ہو چکی ہیں اور اب ان میں K -الیکٹرک کی جانب سے مزید جدید بدعنوانیوں کا اضافہ ہونے کی وجہ سے کجھ تبدیلیاں آچکی ہیں جو کہ کافی حدتک انیل ممتاز کو معلوم ہوتی ہیں اور ان کو انیل ممتاز دستاویزی ثبوتوں کے ہمراہ متعلقہ اداروں کے ساتھ بروقت شیئر بھی کرچکے ہیں۔فرینک شمٹ ایک جرمن الیکٹریکل انجینئر تھا جو پرویز مشرف دور میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا چیئرمین بنایا گیا تھا بجلی چوری روکنے کے لئے اسکو ٹاسک دیاگیا کہ دیکھا جائے کہ کون کون بجلی چوری میں ملوث ہے۔فرینک شمٹ نے چھ ماہ تک پوری کراچی اور اسکے مضافات کے سروے کراکر ایک رپورٹ وفاقی حکومت کو بھیجوائی کہ حکومتی ادارے پچاس فیصد بجلی خود چوری کرتے ہیں، چالیس فیصد بجلی صنعت کار چوری کر تے ہیں اور دس فیصد بجلی چوری میں کچی آبادیاں اور مڈل کلاس کے صارفین ملوث ہیں۔ فرینک شمٹ کی اس رپورٹ پر وفاقی حکومت کی جانب سے احکامات آئے کہ سرکاری محکموں، صنعت کاروں اور امیر بجلی چوروں کو چھوڑ کر ابتداء کچی آبادیوں اور مڈل کلاس صارفین سے کی جائے جس پر فرینک شمٹ نے کارروائی کرنے سے معذرت کرلی کہ پہلے بڑے بجلی چوروں کو پکڑا جانا چاہئے غریبوں سے آغاز کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہم کس طرح پہلے 50% یا 40%بجلی چوری کرنے والوں کو چھوڑ کر 10%بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں۔ مسٹر انیل ممتاز بتاتے ہیں کہ جب فرینک شمٹ پر کارروائی کیلئے دباؤ بڑھنا شروع ہوگیا تو ایک روز اچانک مسٹر فرینک شمٹ نے اپنا سامان سمیٹا اور اپنے ملک جرمنی روانہ ہوگئے۔ فرینک شمٹ بھی وہ شخص تھا جس نے المونیم کنڈکٹر (Conductor Aluminium)کو بجلی صارفین کے لئے موت قرار دیا تھا لیکن چونکہ فرینک شمٹ تو جاچکے ہیں اب ان کے نام کو استعمال کیا جارہا ہے المونیم کنڈکٹر کو فروغ دینے۔ مسٹر انیل ممتاز کہتے ہیں کہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار ڈھائی کروڑ عوام کے تکالیف اور مشکلات کے حل کیلئے اس معاملے پر ازخود نوٹس لیں میں اپنی خدمات پیش کرنے کیلئے حاضر ہوں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔

پاکستان میں انتخابی سیاست کا آغاز

پاکستان میں انتخابی جمہوریت کے تسلسل کے اگلے مرحلے کو طے کرنے کیلئے نگراں حکومت کی آمد آمد ہے، قومی انتخابات برائے سال 2018ء کیلئے انتخابی مہم کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا مہم بھی شروع کردی ہے جہاں ایک جانب وفاق اور صوبوں میں حکومت کرنے والی سیاسی جماعتوں،پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی، تحریک انصاف نے اپنی کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں کو سوشل میڈیا پر وائر کرنا شروع کردیا ہے وہیں سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کی کردار کشی کی مہم بھی زور پکڑتی جارہی ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا اظہار رائے کا وہ فورم ہے جس پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں جس سے بعض اوقات بہت سے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ مادر پدر آزاد سوشل میڈیا پر وہ وہ باتیں سامنے آرہی ہیں کہ الامان الحفیظ۔۔

کراچی میں 2013ء سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کی اتحادی جماعت رہنے والی ایم کیوایم نے پاکستان پیپلزپارٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے نہ صرف18ویں آئینی ترمیم کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچائے بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے خلاف کام کیا ہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ18ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد جس طرح وفاق سے کئی وزارتیں صوبوں کو منتقل ہوئیں اسی طرح صوبائی اختیارات کی منتقلی ڈویژن اور ضلع کی سطح پر کرنے کی ضرورت تھی لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی میں عددی اکثریت کا فائدہ اٹھا کر ڈویژن اور ضلع کی سطح پر اختیارات منتقل کرنے کی بجائے جو اختیارات ڈکٹیٹر کے دور میں ضلعی حکومتوں کے پاس تھے وہ بھی صوبائی حکومت کو منتقل کردیئے گئے جس سے بلدیاتی نظام حکومت کا توازن بری طرح بگڑ گیا اور نقصان صرف اور صرف عوام کا ہوا۔ ایم کیو ایم کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی جو ایک عوامی اور جمہوری پارٹی ہونے کی دعویدار ہے اس کی جانب ایسے اقدامات کئے گئے کہ بدترین آمریت میں بھی ایسا نہیں ہواتھا۔ جنرل پرویز مشرف نے ڈکٹیٹر ہونے کے باوجودضلعی نظام حکومت کو مضبوط کیا تاکہ عام آدمی کے مسائل حل ہوسکیں۔ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کا نظام ایک ڈکٹیٹر کا ہی متعارف کروایا ہوا ہے جس میں مرکز اور صوبے کے کئی اختیارات ضلعی حکومتوں کو منتقل کئے گئے اور جس طرح دنیا بھر میں ضلعی حکومتیں بااختیار ہوتی ہیں کم و بیش وہی اختیارات پرویز مشرف دور کے ناظمین کے پاس رہے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے سندھ اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچرا اٹھانے کا محکمہ جو کہ ضلعی سطح پر ہونا چاہئے تاکہ ضلع کو صاف ستھرا رکھا جائے اور انتظامی معاملات کو آسانی سے چلایا جائے ڈویژنل سطح سے اٹھا کر صوبائی سطح پر پہنچادیا جس کا نام سندھ سالڈویسٹ مینجمنٹ بورڈ(SSWMB) رکھا گیاجس سے سب سے زیادہ نقصا ن کراچی کے عوام کو ہورہا ہے اس وقت کراچی کچرے کا ڈھیر بنا ہوا ہے اور اس محکمے میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی کرپشن کی شکایات آنا شروع ہوگئیں،اسی طرح کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ(KWSB) کو بھی نام تبدیل کئے بغیر ہی سندھ حکومت کے زیر اہتمام چلایا جارہا ہے ایم کیوایم کے لوگوں کا الزام ہے کہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے واٹر ہائیڈرنٹ مافیا کی سرپرستی کرنے کیلئے اس محکمے کو اپنی تحویل میں لیا ہوا ہے، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (KBCA)جو اپنے قیام سے ہی ڈویژنل سطح پر کام کررہا تھا صوبائی تحویل میں دے دیا گیا اور اس کا نیا نام سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)رکھ دیا گیا اس اقدام سے عوام کو تو کوئی فائدہ نہیں ہوا البتہ لینڈ مافیا اور کرپٹ افسران راتوں رات ارب پتی بن گئے، آج کرپشن اور رشوت خوری کا یہ عالم ہے کہ گلی محلے میں تعمیر ہونے والے مکانات کا نقشہ منظور کرنے کیلئے بھی لاکھوں روپے رشوت طلب کی جاتی ہے۔ کراچی کے عوام کی اکثریت چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس میاں ثاقب نثار سے اپیل کررہی ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے فارمولے پر ایماندارانہ عمل کرانے کیلئے کردار ادا کریں۔ سابق ڈائریکٹر جنرل رینجرز سندھ لفٹینیٹ جنرل بلال اکبر نے اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی عدالت میں کراچی بے امنی کیس کے دوران ایک مفصل رپورٹ جمع کرائی تھی کہ کراچی میں زمینوں کے گھپلوں کے ذریعے 230ارب روپے کی کرپشن کی جاتی ہے اور کسی حد تک اس کرپشن کا تعلق دہشت گردی سے بھی ہے اس ساری صورتحال میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے وزیر اعظم نوازشریف کو راضی کیا کہ تمام سیاسی مجبوریوں کو بالائے طاق رکھ کر کراچی میں آپریشن کیا جائے حکومت کے لئے آپریشن کا آغاز کرنا ناممکن ہوتا اگر سپریم کورٹ واضح احکامات نہ دیتی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو مجبور کردیا کہ کراچی کو ہرحال میں پرامن شہر بنایا جائے۔ 2013ء کے کراچی اور 2018ء کے کراچی میں بہت فرق ہے آج کے پرُامن کراچی میں سیاسی جماعتوں کو آزادانہ سیاست کرنے کی اجازت ہے مخالفین ایک دوسرے کی جان کے دشمن نہیں بلکہ سیاست کرنے کیلئے ہر ایک کے پاس مواقع موجود ہیں۔ پاکستان میں نگراں حکومت کے قیام سے قبل ہی انتخابی سیاست اور انتخابی مہم کا آغاز ہوچکا ہے اور ہر سیاسی جماعت قومی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ نشستوں کے حصول کیلئے ہم خیال جماعتوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا حمایت کے معاملات کررہی ہے۔ سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی سے بھرپورمقابلہ کرنے کیلئے مختلف اتحاد بن رہے ہیں۔ ایم کیوایم سے علیحدگی اختیار کرکے اپنی جماعت(پاک سرزمین پارٹی) بنانے والے سابق میئرکراچی مصطفی کمال اور سابق ڈپٹی کنوینر رابطہ کمیٹی انیس قائم خانی نے کراچی میں اپنا نیٹ ورک باقی جماعتوں کی نسبت کافی حد تک مضبوط کرلیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاک سرزمین پارٹی اس مرتبہ سندھ کے دیہی اور شہری علاقوں کیلئے پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی دعویٰ کررہے ہیں کہ سندھ کا آئندہ وزیر اعلیٰ پاک سرزمین پارٹی کا ہوگادونوں رہنمادعویٰ کررہے ہیں کہ سندھ کے شہری علاقوں کی تمام نشستیں پاک سرزمین پارٹی آسانی سے جیت لے گی جبکہ دیہی سندھ کی نشستوں پر فنکشنل لیگ اور اس کی اتحادی جماعتیں کامیابی حاصل کرسکتی ہیں۔ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کراچی پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اور کراچی میں ترقیاتی کاموں میں مصروف عمل ہے، پیپلزپارٹی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عام انتخابات میں پیپلزپارٹی سندھ کے شہری علاقوں خصوصاً کراچی سے بڑی تعداد میں نشستیں نکالے گی اس سلسلے میں معلوم ہوا ہے کہ کراچی کے شہری علاقوں سے پاکستان پیپلزپارٹی اپنے اُردو بولنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کو ٹکٹ دے گی۔ کراچی کی سیاست میں ایک نئی تبدیلی کی بھی توقع کی جارہی ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے ایک ہفتے کے دوران کراچی کے دو دورے کئے ہیں اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ یاامیدوار کی حمایت کیلئے ایم کیو ایم پاکستان، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کراچی سمیت پورے سندھ سے قومی اسمبلی کی دس نشستیں نکالنے میں کامیاب ہوجائے گی اور صوبائی اسمبلی کی کم وبیش 40نشستیں حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، انتخابات کے سال میں اسی طرح کے دعوے کئے جاتے ہیں ہر جماعت یہی دعویٰ کررہی ہے کہ وہ تمام نشستیں حاصل کرلے۔ پاکستان تحریک انصاف نے ایم کیوایم کے سابق رہنما اور اینکرپرسن عامر لیاقت حسین کی تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر چیئرمین عمران خان کی موجودگی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ کراچی کی تمام نشستیں تحریک انصاف جیت جائے گی۔ ایم کیوایم پاکستان (پی آئی بی) کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک میڈیا ٹاک میں غصہ میں کہہ دیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان دعویٰ کررہے ہیں کہ ملک بھر میں شفاف الیکشن کرائیں گے جبکہ انہیں انتخابات کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں ہے وہ اس معاملے پر ازخود نوٹس لیں میں انہیں بتاؤں گا کہ انتخابات کے نام پر کیا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ عام انتخابات 2018ء وقت پر ہوں گے اس حوالے وفاقی حکومت، وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر ایک صفحہ پر ہیں اور اب نگراں سیٹ اپ کیلئے موزوں افراد کے نام بھی حتمی ہونے جارہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں