پی ٹی آئی کی فتح

پی ٹی آئی کی فتح


جولائی 2018 کے انتخابات میں قوم نے نئے پاکستان کے نعرے کو پذیرائی بخشتے ہوئے پی ٹی آئی کو واضح اکثریت سے کامیابی دی ہے جو کہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ یہ جمہوری عمل کا کامیاب تسلسل ہے۔ 2002 کے بعد یہ چوتھی حکومت ہے جو اپنی آئینی مدت پوری کرتے ہوئے باقاعدہ انتخابات کے ذریعے قائم ہورہی ہے جو کہ ووٹ کے ذریعے بتدریج سول اتھارٹی کے قیام کی طرف رواں دواں خوش آئند امرہے اور اگر ہم مہذب جمہوری معاشروں پر ایک نظر ڈالیں تو ایک چیز بڑی واضح نظر آتی ہے کہ دنیا کے ممالک کی ترقی میں مسلسل جمہوری عمل کا بنیادی عمل دخل ہے۔ عوام مسلسل جمہوری عمل سے گزر کر ہی اسقدر بااختیار ہوئے کہ انکو اچھے برے کی تمیز کا علم ہوا اور مسلسل جمہوری عمل سے ان کا شعور بلند ہوا جسکی وجہ سے آج وہ ایک مہذب معاشرے کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔بدقسمتی سے پاکستان روز اول سے سیاسی و فوجی طالع آزماؤں کی تجربہ گاہ بنا رہا۔ اختیارات کا حصول اور اقتدار کی ہوس نے اس قوم کو اسکے بنیادی حق سے محروم رکھ کر ان میں جمہوری سوچ پنپنے ہی نہیں دی۔ موجودہ الیکشن اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام میں شعور پیدا ہونا شروع ہوا ہے اور اگر انتخابات کا یہ تسلسل جاری رہا تو انشاء اللہ کچھ ہی عرصہ بعد ہم بھی مہذب اور جمہوری اقوام کی صف میں کھڑے نظر آئیں گے۔

پاکستان میں جمہوریت کو کبھی چلنے نہیں دیا گیا۔ 70 سال کے عرصہ میں نصف عرصہ ڈکٹیٹرز نے گزارا اور باقی نصف عرصہ ”ماٹی کے پتلے“ بیٹھے تھے۔ ہر چند کہ پچھلی تین حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کر چکی ہیں مگر تینوں بار وزرائے اعظم کو اپنی آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی جسکی وجہ سے ترقی کے عمل میں بھی تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔

آج جبکہ ملک میں نئی حکومت قائم ہو چکی ہے اور عمران خان وزیر اعظم پاکستان کے منصب پر براجمان ہورہے ہیں، ان کیلئے یہ عہدہ دو وجوہات پر کانٹوں کا سیج ہوگا۔ ایک تو انہوں نے جو رویہ بطور اپوزیشن رکھا تھا اب وہی رویہ ان کو برداشت کرنا پڑے گا، انہی حالات کا ان کو سامنا کرنا پڑے گا اور دوسری وجہ ان کے بلند بانگ دعوے جن کی وجہ سے قوم میں بہت زیادہ امید پیدا ہوگئی ہے اور قوم ان کو ایک لیڈر یا وزیر اعظم سے زیادہ ایک مسیحا کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ملک کے مجموعی سیاسی و معاشی حالات اس قابل نہیں ہیں کہ تمام وعدوں پر فوری طور پر عمل ہو سکے، جس سے نا امیدی پھیل سکتی ہے۔کنٹینرز پر کھڑے ہو کر خوش کن تقاریر کرنا، گالی گلوچ کرنا اور تنقید کرنا بہت آسان مگر جب تخت پر بٹھا دیا جائے تو حالات مختلف ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر پی ٹی آئی نے یہ مہم چلائی کہ نواز شریف انڈیا کا پروردہ ہے، اس کے خلاف پی ٹی آئی کو ووٹ دیں اور کامیابی کے بعد عمران خان نے سب سے پہلے انڈیا کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا بلکہ نواز شریف سے دو قدم آگے بڑھ کر تجارت کرنے کا عندیہ بھی دے دیا جو کہ ایک بہت ہی اچھا اور مثبت قدم ہے مگر اس بنیادی سوچ کے مخالف ہے جو عام پی ٹی آئی ورکرز کی بھارت کے خلاف نفرت پر مشتمل ہے۔ ابھی حکومت بننی ہے، چلنی ہے اور اس نے پرفارم کرنا ہے، اسلئے کوئی پیشنگوئی نہیں کی جا سکتی، لیکن اسد عمر کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے جسمیں اس نے کہا تھا کہ عمران خان Strategic بندہ نہیں ہے۔ عمران خان کے کاندھوں پر جو ذمہ داری عائد ہوئی ہے اس کیلئے یا تو کسی سٹریٹجک بندے یا پھر Strategic ٹیم کی ضرورت ہوگی جو قوم کو مطمئن کر سکے۔ دوسری بات کہ نواز شریف پر قرضوں کے بوجھ تلے دبائے جانے کے الزام اور عمران خان کے آتے ہی ڈالروں کی پیشگوئیوں کے عین وسط میں اسد عمر کی جانب سے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بیان نے بھی کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑا۔

القانون پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کو اس شاندار کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتے ہوئے امید رکھتا ہے کہ پاکستان کے عوام کی امنگوں پر پورا اترنے کیلئے عمران خان وہ سب کچھ کریں گے جس کا انہوں نے قوم سے وعدہ کیا اور عوام کو جس تبدیلی کی نوید سنائی گئی ہے، وہ تبدیل شدہ پاکستان بنانے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے حکومت کی ہر اچھی کاوش میں القانون اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔
اللہ پاک پاکستان کا حامی و ناصر ہو، آمین۔

 اب کیا ہوگا؟

اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے بعد 25 جولائی کے انتخابات کے نتیجے میں چوتھی مسلسل جمہوری حکومت کے قیام کیلئے پاکستان تحریک انصاف واضح اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوگئی ہے۔جس کے نتیجے میں عمران خان وزیر اعظم پاکستان کے طور پر اگلے 5 سال کیلئے اپنی آئینی مدت کا آغاز کریں گے۔ انتخابات میں پی ٹی آئی کی نشستیں 109 اور پی پی پی + ن لیگ اور ایم ایم اے کو 117 نشستیں حاصل ہوئیں۔ اگر اپوزیشن جماعتیں اتحاد کرتیں، جسکی عمومی طور پر توقع بھی کی جارہی تھی تو بہت آسانی سے حکومت بنا لیتی۔ مگر اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی کی جانب سے حکومت سازی کا حق پی ٹی آئی کو دینے اور اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے فیصلے کے بعد ن لیگ کی تائید نے ایم ایم اے کی خواہشات کو دفنا کر پی ٹی آئی کو مکمل آزادی کے ساتھ حکومت سازی کا موقع فراہم کیا ہے۔

پی ٹی آئی آزاد اراکین اور دوسری سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ملکر حکومت بنائے گی، مگر اس کیلئے پی ٹی آئی نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے اس پر سنجیدہ حلقوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے نا اہل سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین جس بے دردی سے آزادانہ خریدو فروخت کرکے مویشی منڈی کا تاثر دے رہے ہیں اس سے پارٹی اور نئی حکومت کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ عمومی طور پر بھی ایسی وارداتوں کا اثر منفی ہوتا ہے جسکا ثبوت چھانگا مانگا کی شکل میں آج بھی نوازشریف کی ذات کے ساتھ منسلک ہے۔ اسمیں کوئی شک و شبہ نہیں کہ حکومت سازی کیلئے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور خود عمران خان نے انتخابی مہم کے درمیان کرک میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران یہ کہا تھا کہ آزاد امیدوار بکاؤ مال ہوتے ہیں، یہ کامیابی کے بعد اپنی قیمت لگواتے ہیں اور فروخت ہوتے ہیں۔ ان کی بات حرف بہ حرف سچ ہوئی ہے مگر صورتحال ایسی بن گئی ہے کہ خود ان کو ہی یہ سارے مویشی خریدنے کی ضرورت پڑ گئی ہے اور اسکے لئے جس بیوپاری کا انتخاب کیا ہے وہ اپنی انہی صلاحیتوں کی وجہ سے سپریم کورٹ سے نا اہل بھی ہو چکا ہے۔ اب نا اہل شخص تمام ملک سے آزاد امیدواروں کی بولی لگا کر اور ان کو پی ٹی آئی کی ٹوکری میں ڈال کر جس خواب کو شرمندہ تعبیر کررہا ہے اس سے حکومت کے بننے سے قبل ہی حکومت کی ساکھ متاثر ہوگئی ہے اور عمران خان کے دست راست جاوید میاں داد کو رو رو کر اپنی بے بسی کا اظہار کرنا پڑ گیا ہے۔

اگر پی ٹی آئی کی قیادت جس کو نہ صرف اکثریت ملی بلکہ اسکی اکثریت کو تسلیم بھی کرلیا گیا اور جب یہ تاثر بن ہی گیا کہ اگلی حکومت پی ٹی آئی ہی کی ہے تو اسمیں نا اہل ترین فیکٹر کو استعمال نہ کیا جاتا تو شاید بہت بہتر تھا۔ آزاد امیدواران خود ہی حکومت کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں، وہ آہی جاتے اور حکومت سازی میں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑتا، مگر پی ٹی آئی کی قیادت کی جاب سے جلد بازی میں مویشی منڈی قائم کرکے جانوروں کی خریدو فروخت کے ذریعے اقتدار کی سیڑھی پر چڑھنا خود اسکی اپنی ساکھ کو متاثر کر گیا۔

پاکستان تحریک انصاف کا نعرہ تبدیلی تھا۔ عمران خان نے بارہا اس امر کا اظہار کیا کہ وہ سٹیٹس کو کے خلاف اور وفا داریاں تبدیل کرنے والے لوگوں کی روایتی سیا ست کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے نئی قیادت کے ذریعے تبدیلی لائیں گے۔ انہوں نے فوج اور خفیہ ایجنسیوں کو ہمیشہ نشانے پر رکھا جو اقتدار کی رسہ کشی اور حکومت سازی میں بیک ڈور اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی اس تاویل کو بھر پور پذیرائی ملی اور عوام کی اکثریت نے تبدیلی کے سہانے خواب دیکھتے ہوئے ان کو ووٹ دیا اور کامیاب بھی کیا، مگر الیکشن سے قبل عمران خان نے اپنی 22 سالہ جدوجہد اور بہت واضح مؤقف کو ایک طرف رکھتے ہوئے الیکٹبلز کو پارٹی میں شامل کرکے اور اپنے پرانے نظریاتی ورکرز پر ترجیح دیتے ہوئے وفاداریاں تبدیل کرنے والے لوٹوں کو ٹکٹ دیئے جسکی وجہ سے ایک بڑی تعداد میں مخلص ورکرز کو مایوسی ہوئی۔ میڈیا، فوج اور عدلیہ کی بھرپور معاونت اور راستے کے سارے کانٹے صاف کئے جانے کے بعد ان کو جیتنے کیلئے کھلا میدان دیا گیا مگر حنیف عباسی کے اندھیرے میں دیئے گئے فیصلے اور بلاول کی انتہائی سنجیدہ اور بردبار انتخابی مہم نے کافی فرق ڈالا اور پی ٹی آئی کی اکثریت کے باوجود مناسب اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے بھی اس روایتی چھانگا مانگا سیاست پر مجبور ہوگئی جس پر وہ ہمیشہ سے تنقید کرتی رہی ہے۔

حکومت سازی کے بعد عمران خان کے سامنے کئی چیلنجز ہیں۔ سب سے پہلا چیلنج تو نواز شریف کا مقدمہ ہے، نوازشریف اور مریم کی جیل میں موجودگی اسکے اعصاب پر اس طرح سوار رہے گی جس طرح نواز شریف کے اعصاب پر پرویز مشرف کی رہی۔ عدالتی فیصلے میں ان کو کرپشن کے الزامات سے بری کئے جانے کے بعد ان کو جو سزا دی گئی ہے وہ قانونی نہیں بلکہ سرا سر سیاسی سزا ہے اور اس کا علم سب کو ہے۔ اگر انصاف کے ترازو سے بوٹوں کا بوجھ نکال دیا جائے تو یہی عدالتیں ان کو بری کریں گی۔ نواز شریف کو راستے سے ہٹانے کا مقصد پورا ہوگیا ہے مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اسکی پارٹی کا وجود ختم نہیں کیا جا سکا اور سینیٹ میں انکی اکثریت موجود ہے۔ان حالات میں نواز شریف کا مقدمہ اور قید یقینا حکومت کیلئے ایک چیلنج ہوگا۔ عمران خان کی جانب سے نواز شریف کی علالت پر کوئی الزام تراشی کی بجائے صحت یابی کی دعا گو سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ذمہ داری اور غیر ذمہ داری میں کتنا فرق ہوتا ہے۔

دوسرا بڑا چیلنج معیشت ہے۔ پی ٹی آئی ورکرز اور لیڈوروں کے بقول عمران خان کی کامیابی کے بعد پاکستان میں ڈالروں کی ایسی بارش ہوگی کہ پاکستان کے پاس ڈالر سنبھالنے کی جگہ نہیں رہے گی۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ بیرون ملک پاکستانیوں میں عمران خان انتہائی مقبول ہیں، ان کی ذات پر اعتماد بھی کیا جاتا ہے اور انکو ایک مسیحا کے روپ میں دیکھا جاتا ہے۔ عمران خان نے اگر بیرون ملک پاکستا نیوں سے اپیل کی تو بلا شبہ بہت پیسہ آئے گا، مگر ملک اور قومیں ڈونیشنز پر نہیں چلتیں، اچھی پالیسیوں سے چلتی ہیں۔ عمران خان نے خزانہ کیلئے جس شخصیت کا انتخاب کیا ہے اسکا کوئی تجربہ نہیں ہے وہ صرف کنٹینر کا بادشاہ ہے۔حکومت میں آنے سے قبل ہی آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا اعلان کرکے یہ بتا دیا ہے کہ اسکی ہوم ورکنگ نہیں ہے اور وہ روایتی طور پر ہی مسائل سے نبرد آزما ہوگا۔

تیسرا بڑا چیلنج وہ قوتیں ہیں جو عمران خان کو مسند اقتدار پر براجمان کرنے میں کلیدی کردار کی حامل ہیں۔ یہ قوتیں طاقتور اور فیصلہ کن قوتیں ہیں۔ عمران خان کو ان قوتوں کے سامنے سرنگوں ہو کر رہنا پڑے گا اور خود کو وزیر اعظم پاکستان سمجھنے کی غلطی کرنے سے باز رہنا ہوگا۔ یہ قوتین بتدریج واضح ہوتی جارہی ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام تر اختلافات کے باوجود انکی سر پرستی کے بغیر ایک نوزائیدہ جمہوریت کبھی بھی پنپ نہیں سکتی۔ ایک ایسا ملک جہاں اقتدار کیلئے ایمان فروخت کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کیا جاتا ہو وہاں پر کچھ مقتدر قوتوں کا ہونا ضروری ہے اور یہ قوتیں مسلسل انتخابات اور تسلسل کے ساتھ جمہوری عمل سے از خود آہستہ آہستہ پس پردہ چلی جائیں گی، مگر اسکے لئے سیاسی رہنماؤں کو مضبوطی کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گااور دوسری اہم بات کہ سیاستدانوں کوایک دوسرے کو نیچا دکھانے، الزامات لگانے اور انگلی کے اشاروں پر ناچنے سے اجتناب کرنا پڑے گا۔ فوج ایک ادارہ ہے، وہ صرف اسلئے ممتاز مقام کا حامل ہے کہ وہاں ڈسپلن ہے، اتفاق ہے اور سب سے بڑھ کر ایک دوسرے کی عزت اور مقام کا احترام ہے جسکا سیاستدانوں میں کوئی تصور نہیں ہے۔

چوتھا بڑا اور سب سے اہم چیلنج عوام کی توقعات ہیں۔عمران خان نے گزشتہ چار سال سے عوام کے اندر اسقدر منفی سوچ پیدا کی ہے کہ اب عوام کی سوچ کا پیمانہ ہی منفیانہ اور جارحانہ ہوگیا ہے۔ قوم میں یہ شعور اب خود عمران خان کیلئے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ بھارت سے تعلقات، مودی کیساتھ یاری، کلبھوشن کو سزا، کرپشن کے خلاف مؤثر اقدامات اور ریاست مدینہ کے مطابق بہترین طرز حکمرانی کے بارے میں اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے عمران خان کو بہت ہی دلیرانہ اورجارحانہ طور پر امور مملکت چلانے ہوں گے، ورنہ پی ٹی آئی کے ورکرز کا سوشل میڈیا پر بڑا واضح سٹینڈ دیکھنے کو ملا ہے کہ ہم نے اپنا کام کردیا، اب آپ کو اپنا کام کرنا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ اگر میدوں پر پورے نہیں اترے تو پھر وہی کچھ ہوگا جو آپ نے ہی سکھا یا ہے۔ یہ حکومت کیلئے سب سے گراں چیلنج اسلئے ہے کہ عوام کو مطمئن کرنے والے حالات فی الحال نظر نہیں آرہے ہیں اور ذرا سی مایوسی حکومت کیلئے بہت کٹھن ثابت ہو سکتی ہے، خصوصاً اتنی مضبوط اور مؤثر اپوزیشن اور بلاول کی بطور رکن پارلیمنٹ کامیابی کے بعد اسمبلی میں موجودگی،اسکی تربیت اور اسکا اپنی ذات پر کنٹرول اور فہم و فراست سب چیزیں مل کر ایک مضبوط مؤقف کے ساتھ اپوزیشن حکومت کیلئے مسائل پیدا کرتی رہے گی، ہر چند کہ اپوزیشن نے واضح طور پر عمرانی طرز سیاست سے انکار کرتے ہوئے گلی کوچے دھرنے اور لعنتیں بھیجنے والی سیاست کی بجائے اسمبلی کے فلور پر سیاست کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن اگر حکومت پرفارم نہ کرسکی تو خود اسکی اپنی تربیت یافتہ فوج اسکے لتے لینے کیلئے میدان میں ہوگی۔

مسائل تو بے تحاشہ ہیں، داخلی بھی خارجی بھی، امن و امان اور معیشت کے علاوہ عوام کی سہولیات، بنیادی حقوق کا تحفظ، انصاف، قانون کی عملداری، کرپشن کا خاتمہ وغیرہ وغیرہ، مگر ایک چیلنج ایسا ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور وہ چیلنج ہے CAPACITY کا چیلنج۔ عمران خان نے تمام زندگی آزادی اور کسی حد تک آوارگی کیساتھ گزاری ہے۔ اس نے کبھی کسی چیز کو سیریس نہیں لیا، اسکو گزشتہ انتخابات میں پختونخواہ کی حکومت ملی تو وہ کبھی حکومتی معاملات میں اسطرح شامل نہیں ہوا جس سے اسکو حکومتی امورسے آگاہی ہوتی، اسکی افتاد طبع کی بدولت اس سے یہ امید بھی نہیں کی جا سکتی کہ وہ کبھی سنجیدگی سے معاملات پر توجہ دیں گے۔ ان کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ وہ دوسروں کی باتوں پر زیادہ یقین کرتے ہیں، ان کی تیسری بڑی خامی یہ ہے کہ وہ بقول اسد عمر نان سٹریٹجک ہیں جسکی وجہ سے بڑی آسانی سے ان کو استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہی کچھ ان کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ اب جبکہ وہ حکومت میں آگئے ہیں، ان کے شانوں پر جو ذمہ داری عائد ہوگئی ہے اسکے لئے اسکے کندھے اتنے توانا نہیں ہیں کہ یہ سارا بوجھ برداشت کریں، اسلئے اس کو ترین اینڈ کو پر بھروسہ کرنا پڑے گا اور جو بھی شخص کروڑوں اربوں کی انوسٹمنٹ کررہا ہے وہ سود سمیت واپس لے گا۔ میڈیا کا منہ بند کردیا گیا ہے، سوشل میڈیا یکطرفہ ہے، ادارے فی الحال پشت پناہی میں لگے ہیں مگر یہ سب کچھ ہنی مون پیریڈ ہے۔ 100 دن کا ایک ایسا ناقابل عمل پلان دے کر عمران خان نے جو آغاز کیا ہے اس پر 100 دن بعد ہی رد عمل شروع ہو جائے گا اور خدشہ یہ ہے کہ جب میڈیا کی طنابیں کھول دی جائیں گی، جب انصاف کے ترازو سے اضافی بوجھ اتر جائے گا، جب قوم کی آنکھیں کھل جائیں گی پھر قوم کو نظر آئے گا کہ حقیقت کیا ہے، اسکا مطلب یہ نہیں کہ یہ حکومت یقینا ناکامیاب ہوگی، کوئی پتہ نہیں کہ یہ واقعی تبدیلی کا جھونکا ثابت ہو، ضروری نہیں کی نان سٹریٹجک ہمیشہ نان سٹریٹیجک ہی رہے، بعض اوقات اللہ تعالیٰ نان سٹریٹجک لوگوں کو سٹریٹجک لوگوں سے زیادہ شعور دیتا ہے اور اگر عمران خان نے واقعی اخلاص سے عوام کی خدمت کرنے کی ٹھان لی تو اللہ کی نصرت بھی شامل ہوگی اور عوام کی محبت بھی۔ بس اس کیلئے عمران خان کو صرف ایک چیز سے دور رہنا ہوگا، خو شامدیوں اور مطلب پرستوں سے۔

ہم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک موجودہ حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے کی توفیق دے، تبدیلی لانے کی توفیق عطا فرمائے، پاکستان آزاد خود مختار ریاست کے طور پر اپنا وجود تسلیم کرانے کی پوزیشن میں ہو، عوام خوشحال اور ملک ترقی پر گامزن ہو، انصاف ہو، قانون کی حکمرانی ہو اور بنیادی حقوق کا تحفظ، ہم ساتھ کھڑے ہوں گے۔ انشاء اللہ۔

میں کیوں نا امید ہوں۔

تبدیلی کے خوش کن نعروں پر یقین نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آج سے ٹھیک چالیس برس قبل پاکستان میں نظام مصطفی کے نام پر اٹھنے والے طوفان نے تمام قوم کو بالکل اسی طرح سحر میں مبتلا کردیا تھا، جس طرح آج قوم تبدیلی کے سحر میں مبتلا ہے۔ پاکستان کے سب سے ذہین اور متحرک وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ذات کو مسخ کرکے ایک ایسی پرکشش صبح کی نوید سنائی گئی کہ پوری قوم اٹھ کھڑی ہوئی۔ 1977 ء میں فیس بک بھی نہیں تھا، سوشل میڈیا بھی نہیں تھا کہ بیڈ روم سے انقلاب کے پیغامات نشر ہوتے بلکہ قوم میدان جنگ میں اتری، میڈیا موجود نہیں تھا، اخبارات پر پابندیاں لگ گئیں، نوائے وقت مزاحمتی قوتوں کے ترجمان کے طور پر سامنے آیا، جو خبریں ہٹادی جاتی ہیں وہ جگہ خالی رہتی تھی، پتہ لگتا تھا کہ ایجنسیوں نے یہاں سے خبر ہٹوائی ہے۔ اس دور میں جبکہ میں ابھی فرسٹ ایئر کا طالب علم تھا میں بھی میدان میں کودا اور میری موجودگی نے نوجوانوں کو مزید متوجہ کیا۔ ہم روزانہ زر گراں بازار کوہاٹ کے چوک میں اکٹھے ہوتے، جلسے جلوس کرتے، نعرے لگاتے، مار کھاتے، کچھ بھاگ جاتے، کچھ پکڑے جاتے، یہ سلسلہ جاری رہا، جتنا ظلم زیادہ ہوا اتنی تحریک میں جان پڑتی رہی اور ہمارے جذبے بڑھتے رہے۔

ہمیں قطعاً علم نہیں تھا کہ بھٹو نے کیا کیا ہے اور ہم جو کچھ کررہے ہیں وہ کیوں کررہے ہیں۔ہمارے ذہن میں یہ بٹھایا گیا کہ بھٹو اس ملک کا دشمن ہے اور اس قوم کی بقاء نظام مصطفی میں ہے، چنانچہ ہم کفر سے اسلام کی اس دوڑ میں بھاگم بھاگ شامل ہوئے اور بھر پور شامل ہوئے۔ اسی دوران ایک دن پولیس کے ہتھے چڑھ گئے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔وہاں ہمارے ساتھ کچھ فوجی جوان بھی تھے، ہمیں بتایا گیا کہ یہ وہ جوان ہیں جنہوں نے جلوس پر فائرنگ سے انکار کرکے وردیاں واپس کردی ہیں اور حکم عدولی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اس دور میں جماعت اسلامی کے نظم و ضبط کو دیکھا کہ ان فوجیوں کیلئے مرکز سے احکامات آئے کہ ان کا خیال رکھا جائے اور مقامی تنظیم باقاعدگی سے ان کی ضروریات کا خیال رکھتی تھی۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہمیں پھانسی گھاٹ میں رکھا گیا تھا، یہ جیل کے اندر ایک کمپاؤنڈ تھا، اس کے اندر قطار میں کچھ کمرے تھے، ان کمروں کو سرشام بند کرنے کے بعد کمپاؤنڈ کا دروازہ بھی بند کردیا جاتا تھا اور ہم سیاسی قیدی پھر اپنا وقت تاش کھیل کر گزارتے تھے۔ ہمارے ساتھ ایک پاگل قیدی بند تھا جو ساری رات شور کرتا تھا اور ہم کہتے تھے کہ بھٹو صاحب آپ کو بھی اللہ یہ دن دکھائے۔
احتجاج اس حد تک پھیلے کہ صرف ہمارے گھر سے چھ لوگ گرفتار ہوئے، جیلوں میں جگہ ختم ہوگئی تھی، پورا ملک قید خانہ بن گیا تھا، پتہ کسی کو نہیں تھا بس بھٹو مردہ باد اور نظام مصطفی۔ کیونکہ ہمارے ذہنوں میں بھٹو کے خلاف نفرت بھر دی گئی تھی اور ہم دیوانہ وار تبدیلی کیلئے جان جوکھوں میں ڈال چکے تھے، نہ پولیس کا خوف، نہ جیل کا ڈر، بس ایک ہی نعرہ تھا نظام مصطفی، ایک ہی خواب تھا، تبدیلی، ایک ہی وجہ تھی نفرت جو کہ مارے ذہنوں میں بھردی گئی تھی۔ اپنے سر میں نو ٹانکے لگوانے اور تقریباً 3 ماہ جیل گزارنے کے باوجود انتہائی شاد تھا، جب ضیاء الحق نے ہمیں رہائی دی۔ جس دن بھٹو گرفتار ہوا اور مارشل لاء لگا، قوم نے جس خوشی کا اظہار کیا وہ تقریباً اسی طرح تھا جس کا مظاہرہ 26 جولائی کو دیکھنے کو ملا، لوگوں نے بھنگڑے ڈالے،مٹھائیاں بانٹیں کہ بھٹو گیا، اب نظام مصطفی آئے گا، اب تبدیلی آئے گی ، اب مساوات ہوگی، انصاف ہوگا، ترقی ہوگی، خوشحالی ہوگی اور ہم ایک مضبوط اور مستحکم قوم ہوں گے۔

مگر۔۔۔۔ مگر افسوس کہ یہ سب کچھ جھوٹ تھا، وقت نے ثابت کیا کہ یہ سب ایک سازش تھی۔ بھٹو اس ملک کو ترقی دینا چاہتا تھا، اسکو مضبوط کرنا چاہتا تھا، اسکو ایٹمی اور دفاعی پروگرام پر نشان عبرت بنایا گیا، اسکو اسکے ہی ملک میں ذلیل کرایا گیا اور ایک ایسی فضاء بنائی گئی کہ قوم نے خود ہی تماشا بنا دیا۔ دنیا کی تاریخ کی پہلی اور آخری اسلامی سربراہی کانفرنس پہلے آئین کے خالق اور نہ جانے کون کون سی خدمات کے خالق کو ہماری طرح عقل و شعور سے فارغ لوگوں کے ہاتھوں عبرت ناک سلوک سے گزارا گیا اور پھر اسکو پھانسی کے پھندے پر لٹکا کر ہمیں آمروں، ظالموں، نا اہلوں، بدعنوانوں اوربد کرداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔

کئی دھائیاں گزر گئیں، نہ نظام مصطفی آیا، نہ کوئی تبدیلی آئی اور نہ ہی کوئی ترقی ہوئی۔ آج جب میں حالات کی طرف دیکھتا ہوں، اپنے نوجوانوں کی طرف دیکھتا ہوں، ان کی آنکھوں میں جلتے امیدوں کے چراغوں کو دیکھتا ہوں، ان کی توقعات کو دیکھتا ہوں تو میرا دل لرز جاتا ہے، مجھے 1977 یاد آجاتا ہے، اپنی عمر، اپنی جوانی، اپنے خواب اور اپنے خوابوں کو چکنا چور ہوتے دیکھنا یاد آتا ہے۔

ہماری اور آج کی نسل میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ ہماری تربیت ہوئی تھی، ہم کو سیاست اور ذاتیات میں فرق معلوم تھا، ہمیں جلد ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوگیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی صبح راولپنڈی صدر میں جو سناٹا تھا وہ آج بھی مجھے یاد ہے،لوگوں کا کرب دیکھا، لوگوں کی پشیمانی دیکھی اور حقیقت یہ ہے کہ یہ افسوس اور احساس پشیمانی ہمیشہ میری ذات کا حصہ رہی اور ہمیشہ اس پر افسوس کرتا رہا کہ میں کیوں ایک ایسی تحریک کا حصہ بنا جو کہ قومی اور بین الاقوامی سازش تھی اور ایک منصوبے کے تحت ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ کر ہمیں اندھیروں میں جھونک دیا گیا۔آج بھی سپریم کورٹ میں وہ مقدمہ چل رہا ہے جس میں ایجنسیوں کی مداخلت، پیسوں کا استعمال اور سیاستدانوں کی شرمناک خریدوفروخت شامل ہے۔فیصلہ تو جو بھی ہوگا مگر یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ ہر تبدیلی کی لہر کے پیچھے مخصوص قوتیں ہوتی ہیں، جو اپنے مقاصد کیلئے فضا بنا کر اپنے مہروں کو لاتی ہیں۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے، البتہ جس طرح انتخابات کا سلسلہ چل رہا ہے اگر یہ سلسلہ قائم رہا تو ہو سکتا ہے اگلے4/5 انتخابات کے بعد عوام کو شعور آجائے، ہم تو اس وقت زندہ نہیں ہوں گے مگر ہم امید رکھتے ہیں کہ آج کی نسل ہماری عمر کو پہنچے گی تو شاید وہ دیکھ بھی لیں اور حصہ بھی ڈالیں۔ المیہ یہ ہے کہ آج کے نوجوان سوشل میڈیا کی پیداوار اور بزعم خود انٹلکچول ہیں، ان کا سیاسی شعور نہ ہونے کے برابر ہے، ان کو ہماری طرح مولانا مفتی محمو د خان عبدالغفار خان، خان عبدالولی خان، مولانا عبداللہ درخواستی جیسے عمائدین کی محفل میں اٹھنے بیٹھنے اور سیکھنے کا موقعہ نہیں ملا، ان کی تربیت کسی سیاسی محفل میں نہیں ہوئی، اسلئے ان کی سوچ اور سوچ کا اظہار مختلف ہے۔

آج کا نوجوان بھی کسی Logic کو تسلیم نہیں کرتا۔اس سے یہ پوچھیں کہ نواز شریف کیسے چور ہے، جبکہ عدالت نے اسکو کرپشن کے الزام سے بری کیا ہے تو وہ جواب میں ایسی بونگی مارے گا کہ آپ کو لاجواب کردے گا۔ ہمارے وقت میں صرف ہم نوجوان بونگیاں مارتے تھے بڑے بزرگ کبھی اخلاقیات سے گری بات نہیں کرتے تھے۔ اب تو نوجوان پھر بھی کوئی اخلاقی مظاہرہ کریں گے، بڑے بزرگ پڑھے لکھے لوگ زیادہ بد اخلاقی کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ معاشرہ بتدریج زوال کی طرف رواں دواں ہے کیونکہ جو تربیت کرنے والے عناصر ہیں وہ خود ہی بے ترتیبی کا شکار ہیں۔

آج تبدیلی کا دور شروع ہوا ہے۔ تبدیلی کی ابتداء ہی لوٹوں سے شروع ہو کر بدترین ہارس ٹریڈنگ کے ساتھ تکمیل کی طرف رواں دواں ہے۔ یہ تبدیلی کے خواب کی دھجیاں اس وقت بکھر سکتی ہیں جب قوم کے نوجوانوں کو یہ پتہ چلے گا کہ نہ نوازشریف چور تھا اور نہ عمران خان تبدیلی لایا، یہ سب ضرورت تھاکیونکہ نوازشریف نعروں وعدوں سے ہٹ کر عملی طور پر ملک کو ترقی کی طرف لے جانا چاہتا تھا اور ہمیں کوئی ترقی یافتہ دیکھنا نہیں چاہتا۔

میں قوم کی نا امیدیوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ میں نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کیا کہ میں اس دھوکے سے عملی طور پر گزر چکا ہوں، بھگت چکا ہوں اسلئے میں کسی خوش کن نعرے سے نہ متاثر ہوں، نہ کوئی امید وابستہ کی ہے اور میری دعا ہوگی کہ میرا جو تجربہ ہے وہ آج کے نوجوان کا نہ ہو۔ اللہ پاک میرے نوجوانوں کی آنکھوں میں جلتے دیپ اسی طرح روشن رکھے اور وہ میری طرح کبھی نا امید نہ ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں