کوئٹہ دورہ

کوئٹہ دورہ


بارہ سال بعد بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ جانے کا اتفاق ہوا۔ یو این او ڈی سی(UNODC) پاکستان نے کوئٹہ پولیس اور ایف آئی اے کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی، میڈیا اور طلبہ کے لئے انسانی تجارت کے موضوع پر آگاہی کے لئے دو روزہ پروگرام ترتیب دیا تھا، جسمیں یو این او ڈی سی کی جانب سے احسن گیلانی اور ایف آئی اے کی جانب سے جواں سال ڈپٹی ڈائریکٹر جواد صاحب نے باترتیب بین الاقوامی اور قومی تناظر میں انسانی تجارت کے مضمرات اور اقدامات کے حوالے سے آگاہی دی۔مجھے سول سوسائٹی کی جانب سے اس اہم موضوع پر اپنے خیالات کے لئے موقع دیا گیا۔
ہم جب14 مئی کو کوئٹہ ایئر پورٹ پر اُترے تو مجھے بالکل وہی حالات نظر آئے جو آج سے بارہ سال پہلے میں نے دیکھے بھی تھے اور اُن پر تبصرہ بھی لکھا تھا، جو میرے بلوچ قارئین نے بہت پسند بھی کیا تھا۔تاہم جب لاؤنچ سے باہر نکل کر ہوٹل سرینا تک پہنچے تو اکثر مقامات پر ڈیولپمنٹ کے آثار نظر آئے۔ایئر پورٹ پر تعمیرات سے لیکر شہر تک تعمیرات ہوتی دیکھیں، جس سے خوشی ہوئی۔سرینا ہوٹل شہر کا واحد ہوٹل ہے جو کہ سارے شہر کا بلکہ سارے صوبے کا بوجھ اُ ٹھائے ہوئے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہر میں اور کوئی مناسب ہوٹل موجود نہیں ہے اور اگر ہے تو سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، اسلئے سرینا کی چاندی ہے، اس کے ہال ھمہ وقت بُک ہوتے ہیں اور ہر وقت کوئی نہ کوئی پروگرام چل رہا ہوتا ہے۔ ہماری فلائٹ کا ٹائم 3:40 تھا اور 4:50 پر پہنچناتھا،مگر حسب معمول پی آئی اے کی لا جواب سروس نے ہمیں ایک گھنٹہ لیٹ پہنچایا۔ 6:30 بجے تک ہم ہوٹل پہنچ سکے جو کہ ایئر پورٹ سے زیادہ مسافت پر نہیں ہے۔
کوئٹہ کے جہاز میں سفر کرتے ہوئے میری سفرِ ایران کی ایک یاد تازہ کردی،دو سال قبل جب ایران جانے کے لئے دبئی ایئر پورٹ پر بیٹھا تھاتو بہت ہی ماڈرن حسین و جمیل خواتین ہمارے ساتھ جہاز میں سوار ہوئیں،ان کے بھڑکتے کپڑوں سے چھلکتے جسم اور چھلکتے جسموں سے پھیلتی خوشبوؤں کے احساس نے ہی پورے جہاز کو معطر کر رکھا تھا،سارا سفر خوشگوار احساس کے ساتھ گزرا لیکن جب ایران ایئر پورٹ پر اُترے تو وہ تمام خواتین برقعہ پوش حالت میں تھیں اور ان کا سارا حسن و جمال باپردہ اور با حیا ہو چکا تھا، نہ انکا چہرہ، نہ حسن و جمال اور نہ ہی جدید ترین لباس نظر آئے، دوسری نظر ڈالنے کی بس حسرت ہی رہ گئی۔کچھ اسی طرح کی ملتی جلتی صورت حال کوئٹہ کہ فلائٹ میں بھی نظر آئی،جہاز میں دو بہت ہی خوبصورت خواتین غیرت ایمانی کو للکارنے والے لباس میں شامل سفر ہوئیں، جب ہم ایئر پورٹ سے باہر نکلے تو دیکھا دونوں سرینا کی وین میں براجمان ہو چکی تھیں، ہم اپنے ہمسفروں کی مزید ہمسفری پر شاداں و فرحاں جب وین کے قریب پہنچے تو دونوں خوبصورت خواتین سفید چادروں میں ڈھکی محترمائیں بن چکی تھیں،ہم ابھی ان کو دیکھ کر اپنی آنکھوں پر یقین ہی کررہے تھے کہ یہ وہی ہیں تو اتنے میں انکے موبائل پر گھنٹی بجی اور وہ دونوں اُتر کر ایک کار میں بیٹھ گئیں اور پھر ایسی اوجھل ہوئیں کہ پھر نظر ہی نہیں آئیں۔
ہم اپنے کمروں میں سامان رکھ کر اور فریش ہوکر پہلے انتظامات اور اس کے بعد اگلے دن کی تیاری میں لگ گئے۔ رات کا کھانا کھانے کے بعد ہم نے باہر لان میں واک کی اور تھوڑی گپ شپ کی۔دوسرے دن احسن گیلانی صاحب نے بتایا کہ ہم نے رات 2.7 کلو میٹر واک کی، میں نے کہا بھئی ہم تو پارکنگ اور لان میں ھلکی پھلکی واک کررہے تھے، آپ کو کیسے علم ہوا، تو انہوں نے میری کم علمی پر مسکرا کر جواب دیاکہ یہ اب کوئی مشکل نہیں، غالباً انہوں نے اپنے موبائل پر کوئی ایپلکیشن لوڈ کر رکھی تھی تاہم زیادہ نہ میں نے پوچھا اور نہ انہوں نے بتایا۔
اگلا دن ہمارا ٹریننگ میں گزرا۔ایف آئی اے اور پولیس افسران کے ایک محدود گروپ کے لئے ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا تھا۔احسن گیلانی نے یو این او ڈی سی کے دائرہ کار اور انسانی تجارت کے لئے بین الاقوامی سطح پر خدمات کے حوالے سے آگاہی فراہم کی۔بین الاقوامی قوانین، انسانی تجارت اور سمگلنگ میں فرق اور دوسرے متعلقہ امور اور پاکستان کی ذمہ داریوں کے بارے میں سیر حاصل معلومات فراہم کیں۔
جواد صاحب ایف آئی اے کوئٹہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں، انہوں نے حکومت پاکستان کے اقدامات کے ساتھ ساتھ اعدادو شمار کے ساتھ حاضرین کو ادارے کی کامیابیوں سے آگاہ کیا،چونکہ انسانی تجارت کی بیخ کنی کا بیڑہ ایف آئی اے کو سونپا گیا ہے اسلئے ایف آئی اے سب سے ذمہ دار ادارہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان 909 کلو میٹر اور 1024 کلو میٹر افغانستان کے ساتھ بارڈر بلوچستان کی حدود میں ہے، جہاں پر صرف تیرہ ایف آئی اے افسران متعین ہیں۔60% انسانی تجارت کا راستہ بلوچستان ہے مگر اتنی بڑی سرحد کی نگرانی ناممکن ہونے کی وجہ سے اسکو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے، تاہم کم ترین اسٹاف کے باوجود سال2016 ؁ ء میں 8512 افراد کو انسانی تجارت کا لقمہ بننے سے روکا گیا اور ایران کی جانب سے 29075 لوگوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ اس بین الاقوامی ادارے کی معاونت سے اسٹاف کی ٹریننگ اور بارڈر پر موثر نظام کے لئے ان کی مدد سے آئندہ سال ہم مزید بہتر رزلٹ دیں گے۔ تاہم افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا نہایت ضروری ہے۔
میں نے اپنے سیشن میں انسانی تجارت کے قانون مجریہ2002 میں موجود خامیوں، اندرون ملک انسانی تجارت کو قانون میں شامل نہ کرنے اور پولیس کا دائرہ کار نہ ہونے کی وجہ سے مسائل کے ساتھ پاکستان پینل کوڈ میں شامل دفعات جوکہ اندرونی انسانی تجارت کا احاطہ کر سکتی ہیں کے بارے میں آگاہی فراہم کی۔
شام کو کوئٹہ میں بہت ہی زبردست بارش تھی اسلئے باہر نکلنا ممکن نہ تھا، چنانچہ لابی میں بیٹھ کر ہی خوبصورت موسم انجوائے کرتے رہے اور قدرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہوئے۔

  اگلے دن سول سوسائٹی، میڈیا اور طلبہ پر مشتمل ایک بڑا گروپ تھا جسمیں تقریباً55 لوگ شامل تھے۔اسی ترتیب سے اسی بیانئے کے ساتھ ہم سب نے آگاہی فراہم کی۔ میں نے انسانی تجارت کے قانون کے رولز مجریہ 2004 میں انسانی تجارت میں سول سوسائٹی کے کردار کے بارے میں آگاہی فراہم کی۔
شام کو ایک دیرینہ دوست احمد صاحب جو کہ کوئٹہ کی معروف شخصیت ہیں، آپ ایک بڑی این جی او National Capacity Building Program (NCBP)Pakistanکے سرپرست ہونے کے علاوہ پاکستان ٹیلیویژن پر کرنٹ افیئرز پر پروگرام بھی کرتے ہیں۔کوئٹہ کی جانی مانی شخصیت نہایت ملنسار اور قدر دان انسان ہیں۔ وہ نہایت ہی کمال مہر بانی کے ساتھ اپنے ہمراہ کوئٹہ شہر کی سیر کرانے لے گئے۔کوئٹہ ایک تاریخی شہر ہے۔ روایت پسند اور مضبوط ثقافتی پس منظر کا حامل کوئٹہ تجارت کا مرکز بھی ہے۔ یہاں کے لوگ خوش اخلاق مہمان نواز اور نہایت ہی محبت کرنے والے لوگ ہیں۔عزت و احترام کے ساتھ پیش آنا اور ادب و احترام ان کا شیوہ ہے،، کسی دکان میں جائیں، وہ آپ کو سلام بھی کریں گے، ہاتھ بھی ملائیں گے اور چائے پانی کا بھی پوچھیں گے۔احمد صاحب کی شناسائی کی وجہ سے ہمیں زیادہ محبت ملی۔
داؤد سنٹر میں ایک دکان پرخریداری کرتے ہوئے کچھ دیر ہوگئی، دکان میں رش بھی تھا اور اسٹاف بھی کم تھا اسلئے وہ مصروف تھے اور چائے پانی کا نہیں پوچھا، تو احمد صاحب نے ازراہ تفنن دکاندار سے پوچھ لیا کہ آپ چائے پئیں گے،میں منگوالوں، دکاندار شرمندگی سے معذرت کرنے لگا اور فوراً ہمارے لئے چائے منگوائی۔کوئٹہ شہر کی خوبصورتی، ترقی کی طرف روانگی اور چہل پہل دیکھ کر رشک آیا کہ ہماری قوم جو کہ کتنے مسائل کا شکار ہے، کوئٹہ بلکہ پورا بلوچستان کس قدر دہشت گردی کا شکار ہے،مگر اس کے باوجود اس بہادر قوم کے چہروں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی کو ئی پریشانی۔یوں تو پورا پاکستان بد امنی اور دہشت گردی کا شکار ہے، مگر بلو چستان کے حالات زیادہ خراب ہیں۔بلوچستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ یہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، جس پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔اگر بلوچستان کو مسلسل نظر انداز نہ کیا جاتا اور بلوچستان کے عوام کو احساس محرومی سے دوچار نہ کیا جاتا تو وہاں کا امن و امان انسانی اور قدرتی وسائل پاکستان کی مجموعی اقتصادی ترقی کے لئے بہت بڑا سہارا ہوتے۔مگر ہمارے حکمرانوں کی کوتاہ اندیشی اور بلوچ قیادت کے ذاتی مفادات تک محدود کردار نے اس عظیم خطے کو ہر لحاظ سے پسماندہ کردیا ہے، یہاں کے عوام کو راء اور ملک دشمن قوتوں نے اپنی آماجگاہ بنا رکھا ہے،جو اپنی مذموم کاروائیوں سے اہا لیان بلوچستان کو تختہ مشق بنائے ہوئے ہیں۔کوئی طبقہ، کوئی فرقہ اور کوئی علاقہ ان کی دسترس سے باہر نہیں۔سب سے خوفناک واقعہ وکلاء کے ساتھ درپیش آیا،انکوائریاں بھی ہوئیں، ذمہ داران کا تعین بھی ہوا،مگر کوئی کاروائی نہیں ہوئی،اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سب سے متحرک طبقہ بھی ابھی تک انصاف حاصل نہیں کرسکا،تو باقی عوام کی کیا حالت ہوگی۔لوگ مررہے ہیں، جل رہے ہیں،خاک ہورہے ہیں مگر کسی کی کان پر جونک تک نہیں رینگ رہی۔ آج بھی ملک میں سی پیک کے نام پر جس ترقی اور خوشحالی کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے وہ بھی بلوچستان ہی کے شہر گوادر کے مرہون منت ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ گوادر کے صدقے سب سے بڑا حصہ بلوچستان کے عوام کو ملتا اور وہ اس کے فوائد حاصؒ کرتے، مگر وہی نظر انداز ہو رہے ہیں۔اسمیں کچھ قصور بلوچ حکومت اور قیادت کا بھی ہے،جو ایک وزارت کے آرزو مند ہوتے ہیں۔ اس کے عوض کہیں بھی انگوٹھا لگانے سے دریغ نہیں کرتے۔
جناح روڈ پر گاڑیوں کی تعداد دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ کوئٹہ شہر بھی ملک کے دوسرے شہروں کی طرح بے ہنگم ٹریفک کا شکار ہے۔انتظامیہ اگر ون وے نظام متعارف کرائے، پارکنگ کے مناسب انتظام کئے جائیں، غیر قانونی تجاوزات کے خلاف عمل اس وقت جاری تھا،مگر یہ اقدامات عارضی طور پر کئے جاتے ہیں اسکا کوئی مستقل انتظام کیا جائے، تو بہتر ہو جائیگا۔
سرینا ہوٹل میں بلوچستان بار کونسل کے زیر اہتمام پورے بلوچستان کی بار ایسوسی ایشنز کا کوئی فنکشن تھا، جسمیں گورنر بلوچستان مدعو تھے۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اپنی سرگرمی کی وجہ سے ساتھ والے ہال میں اس فنکشن کو اٹینڈ نہ کر سکا۔کوئٹہ بار کے صدر کمال کاکڑصاحب سے ملنے کے لئے گیا، مگر وہ موجود نہیں تھے جبکہ بار کونسل کے عہدیداران سے ملاقات ہوئی اور ان سے درخواست کی کہ اگر وہ چاہیں تو رپورٹ بھیج سکتے ہیں، انہوں نے گرم جوشی سے وعدہ تو کیا، باقی ان کی مرضی۔
آخر میں کوئٹہ کے معصوم میئر کی تصویر شیئر کرتا ہوں جو میرے دوست احمد صاحب نے مجھے دی۔میئر کوئٹہ صاحب بمعہ ایک دو وزراء صاحبان گندگی کے ڈھیر پر کھڑے ہوکر فیتہ کاٹ رہے ہیں۔ اگر یہ فیتہ صفائی کے لئے کاٹ رہے ہیں تو یہ ان کے بنیادی فرائض میں شامل ہے کہ وہ صفائی رکھیں اور اگر دو سال تک میئر صاحب کے اقتدار میں رہنے کے باوجود اس قدر گندگی موجود ہے تو یہ فیتہ نہیں ارباب اختیار کی ناک کٹنے کی بات ہے۔ہاں البتہ اگر یہ فیتہ اسلئے کاٹا جارہا ہے کہ گندگی کا ڈھیر قائم کیا گیا ہے تو پھر لائق تحسین ہے۔
فیتہ کاٹنے کی بیماری ہمارے حکمران طبقہ میں اسقدر سرایت کرگئی ہے کہ بنی گالہ میں قوم کے پیسوں سے کورنگ نالہ پر ایک پُل زیر تعمیر ہے۔ اِس پُل کے آغاز پر ایک چبوترہ بنایا گیا جسکا افتتاح وزیر اسلام آباد طارق فضل چوہدری نے کیا۔اسی کے ساتھ ایک اور چبوترہ پہلے سے بنایا گیا ہے، تختی بھی لگا کر اس کو ڈھانپ دیا گیا ہے تاکہ جب وہ پُل مکمل ہو تو وزیر اسلام آباد دوبارہ افتتاح کریں۔طارق فضل چوہدری صاحب کے لئے عرض ہے کہ ان کے حلقے کے عوام اس دن کا انتظار کررہے ہیں جب وہ ووٹ مانگنے ان کے پاس آئیں گے اور وہ ان کو مسترد کریں گے۔ یہ راستہ عمران خان کے گھر کا راستہ بھی ہے وہ اس پر آتے جاتے ہیں، دن میں دو بار آتے جاتے طارق فضل چوہدری کا نام پڑھ کر وہ دل میں کیا کہتے ہوں گے، مجھے تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں